کچھ دنوں سے اٹلس فتوحات اسلامی نامی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اگر چہ یہ بطور اٹلس لکھی گئی کتاب ہے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کتاب میں مختصراً تاریخ بھی بیان کی گئی ہے۔ ویسے اردو میں عموماً تاریخ پر لکھی گئی کتابوں کی نسبت اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں واقعات کو اسٹریٹیجیکل بنیاد پر بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں اس کتاب کو پڑھنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایمان کی وجہ سے برتری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی جنگی حکمت عملی بھی انتہائی مضبوط اور دشمنوں کے مقابلے میں برتر رہی ہے۔ یہ بات آج بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں امارت اسلامی افغانستان کو ہی دیکھ لیجیے اس کی کامیابیوں میں اگر چہ ایمان کی ہی فتح واضح ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنگی حکمت عملی میں اگر طالبان کی تحریک کا جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی کہ یہ ان لوگوں کی بنائی ہوئی پالیسی ہے جنہوں نے کسی ملٹری کالج سےتربیت تو نہیں لی مگر بڑے بڑے ملٹری کالجز کے سربراہان کی پالیسی ان کے مقابلے میں انتہائی ناکام ثابت ہوئی ہے۔
طالبان نے امریکہ اور نیٹو کے مقابلے میں گوریلا جنگ کا راستہ اختیار کیا جو کہ ہر دور میں ظالموں اور جابروں کے مقابلے میں نہتوں اور کمزوروں کا بہترین ہتھیار رہا ہے اور یہ دنیا کی کامیاب ترین گوریلا تحریک بن کر سامنے آئی اور کچھ ہی وقت میں امریکہ اور اس کی اتحادی نیٹو اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔ یقیناً آج پوری دنیا کی تحریکوں کو امارت اسلامیہ کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔ امارت اسلامیہ نے جس انداز میں حرب العصابات لڑی، یقیناً اس میں ہر گوریلا تحریک کے لیے بہت سے اسباق موجود ہیں۔ مثلاً آپ ذرا غور کریں، افغانستان کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں امارت کے سپاہی موجود نہ ہوں، اگر ان کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو وہ افغان فورسز سے کم نہیں ہوں گے مگر سبحان اللہ امارت نے کبھی بھی جلد بازی سے کام نہیں لیا اور نہ ہی اسلوب جنگ تبدیل کیا۔ اگر امارت چاہتی تو وہ افغانستان کے کئی شہروں پر قبضہ بھی کر سکتی تھی لیکن امارت نے انتہائی درجہ کے صبر و تحمل سے کام لیا اور خوب جان لیا کہ یہ جنگ جتنی بھی طویل ہو جائے اس سے امارت کی قوت میں مزید اضافہ در اضافہ ہی ہو گا اور دشمن مزید کمزور در کمزور ہی ہوتا جائے گا۔ طالبان اپنی قوت کے باعث اپنے دشمن کے مقابلے میں نظامی جنگ کی طرف بھی پلٹ سکتے تھے یا دوسرے الفاظ میں گوریلا جنگ کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو سکتے تھے مگر انہوں نے ہر گز وہ غلطی نہیں کی جو شام میں مجاہدین نے کی کہ وقت سے پہلے ہی شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور انجام یہ ہوا کہ بالآخر مجاہدین کو مجبوراً ان علاقوں سے پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
آپ کو یاد ہو گا جب شام میں ایک طرف مجاہدین شہروں کو فتح کرتے جا رہے تھے اس وقت حکیم الامت شیخ ایمن نے اس بات پر زور دیا کہ مجاہدین کو چاہیے کہ وہ گوریلا جنگ پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور شہروں پر قبضہ کرنے میں جلدی نہ کریں۔ شاید ایسی قوت کے وقت میں شیخ کی یہ بات سمجھنا مشکل تھا لیکن آج جب اس کا نتیجہ سامنے نظر آ رہا ہے تو شیخ کی اعلیٰ بصیرت کو داد دینی پڑتی ہے۔
ایسے ہی امارت نے ہمیشہ اپنی توجہ اپنے اصل ہدف پر ہی مرکوز رکھی اور دوسرے ابھرنے والے فتنوں کے مقابلے میں انتہائی صبر و تحمل اور حکمت سے کام لیا خصوصاً داعش کے خلاف امارت کی پالیسی کا ہی جائزہ لیجیے؛ امریکہ اور امارت کے دشمنوں نے ہزار ہا کوشش کی کہ کسی طرح داعش کو افغانستان میں مضبوط کیا جائے لیکن آپ دیکھیں گے کہ امارت نے اس معاملہ میں مکمل تحمل سے کام لیا اور بالکل بھی جلد بازی نہیں کی۔ بلکہ سالوں صبر کیا اور اس دوران اصلاح کی کوششیں بھی جاری رہی۔ حتیٰ کہ داعش کا معاملہ ان کے افعال سے خود ہی واضح ہو گیا اور اصلاح کی امید بھی جاتی رہی بلکہ داعشیوں کی سرکشی مزید بڑھتی ہی رہی، تب جا کر امارت نے اس فتنہ کا ایک بار میں افغانستان میں صفایا کر دیا۔
دشمن نے ہزار ہا کوشش کی کہ کسی طرح امارت کے مسئلہ کو خاص پشتون قوم کا قضیہ بنا دیا جائے۔ لیکن امارت نے اس کے مقابلے میں بھی بہترین حکمت عملی اختیار کی اور کچھ ہی عرصہ میں فارسی بان قوم کے اندر ہی امارت کے افراد کی بڑی تعداد میسر آگئی۔ جب یہ فارسی بان طالبان اپنی قوم کے حکومتی لوگوں کے مقابلے میں اسلحہ کے ساتھ دکھائی دیے تو اس قوم پر اصل حقیقت واضح ہو گئی کہ یہ کسی قوم و علاقہ کا قضیہ نہیں ہے بلکہ اصل معاملہ کچھ اور ہے چناچہ کچھ ہی عرصہ میں بعض پشتون ولایتوں کی نسبت بعض فارسی بان ولایتوں میں امارت زیادہ مضبوط ہو گئی۔
افغانستان میں منشیات فروشوں کی ایک اتنی بڑی تعداد تھی کہ اگر ان کو امارت کے خلاف ابھارا جاتا تو شاید ہی امارت افغانستان میں مضبوط ہو سکتی۔ لیکن امارت نے ان کے بارے میں بھی ایسی بہترین پالیسی اختیار کی کہ دشمن کو کسی طرح سے بھی موقع نہیں مل سکا کہ وہ امارت کے خلاف ان لوگوں کو ابھار سکے۔ امارت نے ان لوگوں کو بھی اپنے بہترین ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔حتیٰ کہ جب امارت کو مضبوطی حاصل ہوئی تو منشیات کو ختم کرنا اپنی ترجیحی اہداف میں شامل کیا۔ اور آج حال یہ ہے کہ آپ کو اس سال افغانستان کے کسی علاقہ میں بھی بھنگ (چرس) کی فصل دیکھنے کو نہیں ملے گی۔
افغانستان میں اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد موجود ہے لیکن امارت نے کبھی بھی اپنے آپ کو جانبی لڑایوں میں نہیں پھنسایا۔ بلکہ آپ کو افغانستان میں کہیں بھی شیعہ سنی کا نام سننے کو نہیں ملے گا اور دوسری طرف کہیں بھی شیعہ کی طرف سے تبرّہ جیسی گستاخیاں بھی نہیں ملیں گی۔ اس کہ برعکس پاکستان میں اس مسئلہ کو اتنا اچھالا گیا کہ اصل ہدف کی طرف توجہ ہی نہیں کی گئی اور نتیجتاً شیعہ دعوت روز بہ روز مضبوط ہوتی گئی اور پاکستان میں صحابہ کرام ؓ پر اتنا تبرّہ کیا گیا کہ دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس تحریک کے علماء کو چن چن کر شہید کیا گیا جبکہ اس تحریک نے عوامی مقامات کو ہی نشانا بنایا جس سے دشمن میں اشتعال اور بڑھتا رہا اور شیعہ تحریک مزید مضبوط ہوتی گئی۔
ارض خراسان میں رہنے والے مہاجرین اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ طالبان سفر میں کس قدر صعوبتیں برداشت کرتے ہیں، وہ ہمیشہ کچے راستے استعمال کرتے ہیں۔ جو سفر حقیقت میں صرف تین گھنٹوں کا ہوتا ہے وہ طالبان دنوں میں طے کرتے ہیں لیکن کبھی بھی یہ نہیں بھولتے کہ وہ ایک گوریلا تحریک کے سپاہی ہیں۔
طالبان کی تحریک میں آپ کو یہ وصف بھی ملے گا کہ یہاں ہر کوئی تجربات دہرانے والا نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور سابقہ تجربات کی روشنی میں انہی تجربات کو مزید نکھارتے اور ان میں تجدید لاتے ہیں۔ لیکن جہاں ہر کوئی خود سے مجتہد ہو تو وہاں ترقی نہیں ہو پاتی بلکہ معاملہ ابتدائی چیزوں میں ہی الجھا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں ایک طرف امارت اسلامی اب پورے افغانستان پر حکومت کر رہی ہے تو دوسری طرف شام میں جہاں مجاہدین ایک وقت میں سارا شام فتح کرتے ہوئے دمشق کے دروازوں پر پہنچ چکے تھے، وہیں اب انہیں پورے شام میں سر چھپانے کی جگہ تک ملنا مشکل ہو چلا ہے۔
امارت اسلامی کی فتح اور ان کی دو دہائیوں پر محیط جہادی تحریک اپنے اندر اسباق کا خزانہ لیے ہوئے ہے جو تمام دنیا کی جہادی تحریکوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مجاہدین کو امارت اسلامی کے تجربات سے سبق حاصل کرنے اور اور اپنی تحریکات کو انہی خطوط پر استوار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ امارت اسلامی کو حق پر استقامت عطا فرمائے اور اسے تمام دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے حقیقی سہارا بنا دے۔ آمین
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



