بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ
رَب اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِرْلی اَمْرِیْ وَحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی یَفْقَھُوْ قَوْلِیْ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا نام میرمحبّ اللہ ہے اور میرا تعلق وادئ کشمیر سے ہے اور میں آج ،اپنے بھائیوں ،مجاہدین ِ برِّصغیر کی ایک محفل میں مسلمانان برِّ صغیر اور خصوصاً کشمیرکے اہل ایمان کے سامنے کچھ گفتگو کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں……میں نے مشرک ہندوؤں کے زیرِ قبضہ وادیٔ جنت نظیر کے ضلع بڈگام میں آنکھ کھولی اور بچپن سے جوانی اور جوانی سے ہجرت و جہاد تک اپنے آبائی وطن میں ہی رہا۔ بنیادی طور پر دو وجوہات میرے جہاد میں آنے کا باعث بنیں۔ایک اللہ رب العزت کا حکم اور دوسرا بھارتی سفاک فوج اور بے رحم ہندوؤں کی جانب سے کیے جانے والے مظالم۔
اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
اِنْفِرُواْ خِفَافاً وَثِقَالاً وَجَاهِدُواْ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (سورۃ التوبۃ: ۴۱)
’’نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔‘‘
حکمِ الٰہی کے بعد جہاد میں آنے کا دوسرا سبب بھارتی فوج کے مظالم تھے۔ نہتے مظلوموں کے خلاف ظالم بھارتیوں کے ایسے مظالم کہ نہ عزت محفوظ،نہ سفید رِیش بزرگوں کی بزرگی کا لحاظ اور نہ ہی معصوم بچوں کی معصومیت کا احساس ۔ نہ مال محفوظ، نہ جان ۔ غرض ہر طرف مظالم ہی مظالم!
بھارتی فوج کے مظالم کی میری ذاتی یادداشت ۶دسمبر انیس سو بانوے (۱۹۹۲ء)کے دن سے شروع ہوتی ہے ، جب ناپاک ہندوؤں کے ناپاک قدم بابری مسجدکے پاکیزہ گنبدوں پر چڑھے…… بابری مسجد کو شہید کیاگیا……اور اس کے بعد مسلمانوں پر حملہ کر کے ان کا قتل عام ہوا۔
اسی طرح مجھے جہاد کے لیے تیار کرنے والی، تحصیل بیروہ کے آڈیونہ گاؤں کے مسلمان بچوں،خواتین اور بزرگوں کی وہ جلی ہوئی لاشیں ہیں ……جب بھارتی فوج نے دو بستیوں کو آگ لگادی جس میں کئی بچے،خواتین اور سفید ریش بزرگ جل کر شہید ہوگئے اور ہزاروں مسلمان اپنے گھروں سے بے گھر ہوگئے۔
اسی طرح میرے جہاد میں شامل ہونے میں بڈگام کے منظور احمد کی چیخوں کا بھی کردار ہے۔ جب بھارتی ظالم فوج نے اُس کے علاقے کا محاصرہ کیا ۔منظور احمد چند ہی دن پہلے بھارتی جیل سے رہا ہوکے گھر آیا تھا۔ بھارتی فوج نے اس کو دوبارہ اٹھایا اور اپنے ساتھ ایک پہاڑی پر لے جاکر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور جب ان ظالموں کا اس سے دل نہ بھرا تو آگ کا الاؤ تیار کرکے منظور احمد کی ٹانگیں جلادیں۔
بھارتی فوج کے ظلم کی بات کی جائے تو مکہامہ کا عبدالقادر بھی یاد آتا ہے جو رات کو گھر میں سورہا تھا۔ ظالم اور غاصب ہندوفوج نے عبدالقادر کو گھر سےنکالا اور سڑک پر لے جاکر اُس کے سر میں گولیاں مار کر شہید کردیا ۔
وادی میں بھارتی فوج کاعا م لوگوں کو اُٹھانا ، سخت تشدد کرکے شہید کرنا اور خواتین کی عزتوں کو پامال کرنا معمول بن چکا ہے۔ظاہر ہے انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جائے توجانور بھی اپنے دفاع میں حملہ کرتے ہیں۔
ہمیں جہاد میں لانے والی اپنی مظلوم بہنوں کی آہیں ہیں۔ جن کےسروں سے ناپاک ہندو فوجیوں نے اُن کی چادریں کھینچی، جن کے دوپٹوں پر سنگینوں کے وار ہوئے……اُن کی عزتوں کو پامال کیا گیا۔
بہت سے واقعات ہیں جنہوں نے ہمیں بھارتی فوج کے خلاف جہاد کی صف میں کھڑا ہونے کے لیےتیار کیا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ ستمبر ۲۰۰۱ء میں پیش آیا، جب ہمارے علاقے کا بھارتی فوج نے محاصرہ کیا اور کئی نوجوانوں کو اٹھایا جن میں، میں اور میرے دو دوست بھی شامل تھے ، بھارتی فوج نے ہماری قمیصیں اتروائیں اور ڈھال کے طور پر تلاشی کے لیے ہمیں اپنے ساتھ لے گئے،اس دوران کئی نو جوانوں پرتشدد کیا گیا ،خواتین کے پردے کے تقدس کو پامال کیا گیا اوربزرگوں کو مختلف طریقوں سے بے عزت کیا گیا۔ بالآخر مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ مارٹر گولے کے پارچے لگنے سے ایک مجاہد بھائی کی آنکھیں زخمی ہوئیں۔ وہ انتہائی پیاسا تھا۔میرے ایک دوست نے اُس مجاہد بھائی کا سر اپنی گود میں لیا ……وہ زخمی مجاہد پانی مانگ رہا تھا کہ اتنے میں ایک ہندو فوجی آگے بڑھا اوراس مجاہد بھائی کے منہ میں پانی کے بجائے گولیاں اتاردیں ۔ اس طرح اُس دن کمانڈر عبد المجید سمیت ہمارے چار انتہائی محبوب مجاہد بھائی شہید ہوگئے۔ اللہ پاک اُن کی شہادت قبول فرمائے اور اُن کے درجات بلند فرمائےاور ہمیں بھی مقبول ترین شہادت نصیب فرمائے۔آمین !
اس واقعہ کے بعد ہم تینوں دوستوں نے جہاد کی تیاری کے لیے ہجرت کا ارادہ کیا ۔ سات دنوں اور سات راتوں کا طویل وکٹھن سفر، جس میں سخت سردی میں برف پوش پہاڑوں کو عبور کرنا، خوراک کی کمی اور فوج کی پوسٹوں کے درمیان سے گزرنے کی مشکلات تھیں ۔بہرحال یہ تمام مشکلات اللہ نے آسان بنائیں اور اللہ رب العزت کی مدد ونصرت سے ہم ہجرت کرنے میں کامیاب ہوگئے۔لیکن بڑی امیدوں کے ساتھ ہجرت کرنے کے بعد جب جہاد ِکشمیر کو ہم نے قریب سے دیکھا تو ہمیں دُکھ ہوا کہ یہ جہاد بالکل بے اختیار ہے اور اس کا کنٹرول ایسی طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں میں ہے کہ جن کاا صل مطمع نظر بس اپنے مفادات کا تحفظ ہے ۔یہ وہ قوتیں ہیں کہ جو ہماری قربانیوں کو بس اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور جہاد سے ان کی کوئی غرض نہیں ، حالانکہ جہاد فی سبیل اللہ اپنے واضح مقاصد رکھتا ہے، جن میں بنیادی مقصد اللہ رب العزت کے دین کا غلبہ ، شریعت کا نفاذ اور مظلومین کی نصرت ہے … اور یہ وہ مقاصد ہیں کہ اگر جہادی تحریک کسی شریعت سے باغی قوت کے ماتحت ہو اور بس اس کی ہدایات پر عمل کررہی ہو تو یہ کبھی بھی حاصل نہیں ہو سکتے ہیں ۔ جہاد تو ایک دینی فریضہ ہے، اللہ کی عبادت کا ایک طریقہ ہے،جیسا کہ بھائی ریحان خان نے کہا کہ نماز کا اپنا طریقہ اور اپنی شرائط ہیں، ایسے ہی جہاد کی بھی اپنی شرائط ہیں۔ اور جہاد کی بنیادی شرائط میں شریعتِ مطہرہ کی اتباع اور ماتحتی ہے۔ جب ہمارا جہاد شریعت کا پابند ہوتا ہے تب ہی اللہ رب العزت کے دین کا غلبہ، مظلوم مسلمانوں کی جان، مال اورعزتوں کی حفاظت ممکن ہوتی ہے۔
ہمیں واضح نظر آیا کہ ان ایجنسیوں کی ماتحتی کے سبب جہاد کے ثمرات ضائع ہو رہے ہیں۔ لاکھوں شہدا کی قربانیاں رائیگاں جا رہی ہیں اور اپنی پالیسی کے تحت جہاد کو کبھی گرم اور کبھی سرد کر دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ہم مہاجر مجاہدین کو جہاد چھوڑنے اور کاروباروں میں لگنے کا راستہ دکھایا جانے لگا اور کاروبار شروع کرنے کے لیے بنیادی رقوم کی آفر یا بعض کو نوکریوں کی پیشکش کی جانے لگیں۔
وہاں حکومتِ ہند نے بھی جہاد چھوڑ کر واپس آنے والوں کے لیے معافی اور نوکریاں دینے کا اعلان کیا ۔ یوں بعض کشمیری مجاہدین مایوس ہوکر واپس کشمیر چلے گئے۔
ہم تو اس راہ میں فی اللہ آئے تھے۔ ہمارا مقصد تو اعلائے کلمۃ اللہ، غلبہ ٔ دین کے لیے تن من دھن وارنا تھا، اب کیسے ممکن تھا کہ اپنی جان بچانے کے لیے اور مال بنانے کے لیے آرام سے بیٹھ جاتے۔ یہ زمانہ ہمارے لیے نہایت مشکل اور بے چینی کا زمانہ تھا۔
ایسے میں ہم بہت پہلے سے کسی ایسی جماعت کی تلاش میں تھے جو کسی طاغوت کے اوامر کی پابند نہ ہو ، بلکہ شریعت کےما تحت ہو ، اب اس کا تقاضا اور بھی بڑھ گیا تھا کہ جلد از جلد یہاں سے نکلا جائے۔ اللہ رب العزت کی خصوصی مدد اور فضل واحسان سے میرا اور شہید بھائی اشرف ڈار کا جماعت القاعدہ کے ساتھیوں سے رابطہ بن گیا اور ان ساتھیوں نے ہمیں مطالعے کے لیے کچھ کتابیں دیں، جن میں شیخ عبداللہ عزام شہید کی کتاب ’ایمان کےبعد اہم ترین فرض عین‘ ، شیخ احسن عزیز شہید کی کتاب ’اک فرض جسے ہم بھول گئے‘ اور ’جہاد فی سبیل اللہ کے اساسی مقاصد ‘بھی شامل تھیں۔
چونکہ ایک دفعہ ٹھوکر کھاچکے تھے ، لہٰذا ہم مزید اطمینان چاہتے تھے۔اس دوران اللہ پاک سے دعائیں مانگتے رہے اور استخارہ کرتےرہے۔اللہ رب العزت نے ہماری مدد فرمائی۔ میں نے شیخ اسامہ کوخواب میں دیکھا ۔شیخ ایک بلند چوٹی پر بیٹھے تھے میں نے ان کے سامنے یہ سوال رکھا کہ آپ کی جماعت حق پر ہے یا نہیں ؟ تو شیخ نے اپنے سر کے بال مجھے دکھائے جو سفید ہوچکےتھے۔ کہا اگر ہم حق پر نہ ہوتے تو میں اپنے بال اس جہاد میں سفید نہ کرواتا۔اس کے بعد خواب میں شیخ اسامہ نے مجھے وہی کتابیں دیں جو جماعت کے ساتھیوں نے مجھے دی تھیں۔یہ خواب میرے لیے سراسر اللہ رب العزت کی مدد تھی۔ اس خواب سے مجھے الحمدللہ اطمینان ہوا۔ یہ خواب بس اطمینانِ قلب کے لیے اللہ نے دکھایا، ورنہ جہاد کے لیے کیا راستہ اپنایا جائے؟ کن اصولوں کے تحت جہاد کامیاب ہوتا ہے؟ اس کا اصل معیار اللہ کا دین ہے ، شریعت ہے اور جو دعوت ہمیں ملی ، یہ اس لحاظ سے نئی نہیں تھی ، اس کا پیغام ہی یہ تھا کہ ہم اپنے جہاد کو بس شریعت ِ مطہرہ کے پابند کرلیں اور الحمد للہ ہم نے اسی پر لبیک کہا۔
بفضل اللہ آج پورے برِّ صغیر میں ہم دشمنانِ دین کے خلاف صف آرا ہیں اور سید احمد شہید کے اس قافلے کی یہاں برصغیر میں، اس صف بندی کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ بھارت کی ظالم فوج اور اس کے اسلام دشمن حکمرانوں کو لگام ڈالی جائے، ان ظالموں کے خلاف کشمیر و ہند سمیت پوری دنیا میں میدان قتال گرم ہو اور اُس زبان میں انہیں سمجھا دیا جائے کہ جس زبان کو یہ سمجھتے ہیں اور جس زبان کے استعمال کا اللہ ہمیں حکم دیتا ہے،لہٰذا اللہ کے اذن سے ہماری یہ جنگ، یہ مبارک جہاد، اُس وقت تک جاری رہے گا یہاں تک کہ کشمیر آزاد ہو جائے، کشمیر میں شریعتِ الٰہی قائم ہو جائے ،وہاں ہماری ماؤں اور بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوجائیں اور ہندوستان بھر کے مسلمان بھی حقیقی امن ، عزت اور اسلام کے ساتھ زندگی گزارنے لگیں۔
وادیٔ کشمیر میں موجود تمام تنظیموں کے مجاہدین ہمارے بھائی ہیں اور اللہ کے اذن سے وقت دکھا دے گا کہ مسلمانان ِ کشمیر کی نصرت اور یہاں اللہ کے دین ، اس کی شریعت کو حاکم بنانے کے اس سفر میں ہم ہر ہرگھاٹی اور ہرہر موڑ پر ان شاء اللہ اپنے ان بھائیوں کے ساتھ ہوں گے اور ’شریعت یا شہادت ‘ کو اپنا مقصد بنا کر منزل کی طرف قدم بڑھائیں گے ۔ ہمارا راستہ نیا نہیں ، یہ وہی ہے جسے شہید غازی بابا ، کمانڈر الیاس کشمیری، شیخ احسن عزیز،شیخ افضل گورو، برہان مظفر وانی، سبزار احمد بھٹ ، مفتی ہلال، ذاکر موسیٰ ، ریحان خان ، عبد الحمید للہاری، برہان مجید اور…… عمر کشمیری،عمر مختار،داؤد ادریس اور فیاض رحمہم اللہ اور اُن بے شمار شہداء نے اپنے خون سے سینچا ہے کہ جو کشمیر کو شرک و کفر کے تسلط سے آزاد کرنا چاہتے تھے ۔ یہ سب وہ شہداء تھے جنہوں نے اپنے جان کا نذرانہ دے کر اپنی محبوب قوم کے لیےنفاذِ شریعت کے راستے کو واضح کیااور تمام طواغیت سے اعلانِ برأت کرکے اللہ رب العزت کی وحدانیت کا اعلان کیااور شریعت یا شہادت کا نعرہ لگایا ۔
مبارک چُھ تمن موءذنن
یمو دیت نا د توحیدک چمنس منز
آفرین چُھ تمن نو جوانن
یمو سِزراو وتھ جہادچ چمنس منز
ون ییہ ضرور بہار ددمتن ونن
ون لُگ نعرہ خلافتک چمنس منز
سان چھِ سلام تمن سر فروشن
یمو لیوکھ توحید خون سات چمنس منز
یمن دِژ بشارت پانہ نبینﷺ
وجبت لھم الجنہ
مبارک باد کے مستحق ہیں وہ نعرہ بلند کرنے والے
جنہوں نے چمن میں توحید کا نعرہ لگایا
آفرین ہو ان نوجوانوں پر
جنہوں نے جہاد کے راستے کو اپنے خون سے سینچا
اب ضرور بہار آئے گی خزاں رسیدہ درختوں پر
کیونکہ اب چمن میں خلافت کا نعرہ لگا
ان سرفروشوں کو ہمارا سلام ہو
جنہوں نے چمن میں کلمۂ توحید کو اپنے خون سے لکھا
جن کے لیے نبیﷺ کی بشارت ہے
کہ ان کے لیے جنت واجب ہو گئی
میری محبوب قوم! بھارتی فوجیوں کے خلاف آپ کے پتھروں سے جہاد نے ، آپ کے مجاہدین کے ساتھ بھر پور نصرت نے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے حصولِ آزادی کےبودے طریقے کو رد کرنے نے ہمارے سروں کو فخر سے بلندکیا۔ اللہ رب العزت آپ کو حق پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
آپ خوب جانتے ہیں آپ جس جہاد میں مصروفِ عمل ہیں یہ نہ صرف برائے آزادی بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہے۔ آپ شیطانی لشکر کے خلاف رحمانی لشکر ہیں۔
میری اپنی محبوب قوم کے ہر فرد سے گزارش ہے خصوصاً سنگ باز نوجوانوں سے جیسا کہ شہید ذاکر موسیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ جب آپ شیطانی لشکر کے خلاف پتھر اٹھائیں تو آپ کے سامنے یہ مقصد واضح ہو کہ آپ یہ پتھر اعلائے کلمۃاللہ کے لیے مار رہے ہیں ۔تاکہ آپ ،نبیٔ کریم ﷺ کے اس فرمانِ مبارک کے مصداق ٹھہریں:
مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ
’’جس نے اللہ کے کلمے کی سر بلندی کے لیے جہاد کیا پس وہی اللہ کےراستے میں ہے۔‘‘
میری اپنے سنگ باز بھائیوں سےدوسری گزارش یہ ہے کہ جس قدر آپ کو موقع ملے آپ براہِ راست جہاد میں شریک ہوجائیں، پتھروں کو کلاشن کوفوں میں بدل لیجیے،فدائی جیکٹوں اور فدائی گاڑیوں میں بدل دیجیے ، تاکہ آپ یہ مقدس جہاد منظم انداز میں ادا کر سکیں اور گائے کے پجاریوں کو اللہ وحدہ لا شریک کے سپاہیوں کی ضربوں کا مزہ چکھائیں۔
مبارک باد کے مستحق ہیں وہ مجاہدین جنہوں نے اللہ رب العزت پر توکل کرکے شریعت یا شہادت کا نعرہ لگایا ۔ اقوام متحدہ کی کھوکھلی قرادادوں کو رد کرکے ’الجہادُ المسلح ھو الحل‘ کا طریقہ اپنایا۔یقیناً آپ کے اس اقدام نے مومنین کے دلوں کو ٹھنڈک بخشی ۔اللہ رب العزت آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ،آمین ۔
انتہائی محبوب مجاہدین بھائیو! میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اپنے لیے علمائے جہاد کی اطاعت کو لازم جانیے ۔علمائے جہاد کی رہنمائی کے بغیر ایک قدم نہ اٹھائیے ۔جب ہم شریعت کی پیروی میں چلیں گے تو اللہ تعالیٰ ہمارے جہاد میں برکتیں ڈالے گا ۔ہماری نصرت کا سامان پیدا کرے گا ۔پھر ہم نہ صرف کشمیر بلکہ پورےہند اور پورے عالم میں غلبۂ اسلام کی محنت میں حصہ ڈال سکیں گے۔
دوسری درخواست میری اپنے محبوب مجاہدین بھائیوں سےیہ ہے کہ ہم (اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ ) بن جائیں۔کفر کا کلمہ پڑھنے والوں پر قہرِ الٰہی بن کر ٹوٹیں اور اہلِ ایمان کے ساتھ انتہائی نرمی کا سلوک کیجیے۔
اے مسلمانان برِّ صغیر! سیداحمدشہیداور شاہ اسماعیل شہید کا کاروانِ دعوت و عزیمت جو کل رائے بریلی سے چل کر سرحد و کشمیر کی وادیوں اور گڑھیوں میں اترا تھا، وہی قافلۂ سرفروشاں آج ایک بار پھر مجاہدینِ برِّ صغیر کی صورت میں پیر پنجال کی چوٹیوں پر آ پہنچا ہے ۔ آئیے نبیٔ مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک کے مصداق اس غزوۂ ہند کے سپاہی بنیں جس جنگ کے شہدا افضل ترین شہدا ہیں اور جس جنگ کے غازیوں کا مقدر جہنم سے آزادی ہے۔
٭٭٭٭٭




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



