نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home نشریات

عرب صیہونی… فیصل سے بن زاید تک

by ایمن الظواہری
in اکتوبر 2021, نشریات
0

بسم اللہ والحمدلله والصلاة والسلام على رسول الله وآلہ وصحبہ و من والاہ

میرے پیارے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!

آج میں خسیس عرب صیہونیوں کے ایک ٹولے کے شیطانی منصوبے پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

خاص طور پر محمد بن زاید پر… جو مسلم دنیا کے قلب میں صیہونی منصوبے کو تقویت دینا چاہتا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں اس موضوع پر تفصیل سے بات کروں، میں بہادروں کے ایک گروہ کی شہادت پر امت سے تعزیت کرنا چاہتا ہوں، اللہ ان پر رحم کرے، انہیں جنت کے اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور ہمیں ان کے ساتھ اپنی رحمت کے سائے میں دوبارہ اکٹھا فرمائے۔ شہداء کے اس ممتاز گروہ میں بھائی محمد سعید الشمرانی، ابو ہریرہ الصنعانی، ہشام العشماوی، شیخ ابو مصعب عبدالودود، ابو القسام الاردنی اور ابو محمد السوڈانی ہیں۔ اللہ ان پر رحم کرے۔

یہ معزز بھائی، صلیبیوں کی جارحیت اور ان کے کرائے کے سپاہیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اور اپنے دین، اپنی امت، اپنی حرمتوں کا دفاع کرتے ہوئے اس دنیا سے آخرت کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے عمدہ اور قابل رشک مثالیں قائم کیں، ان لوگوں کے لیے راستہ روشن کیا جن کا راستہ جہاد ، بے لوثی اور قربانی ہے۔

اللہ تعالیٰ محمد سعید الشمرانی پر رحم کرے جن کی بنیادی پریشانی اپنی امت کی فکر تھی۔ اپنی بہادری سے انہوں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قائم کردہ روایت کو زندہ کیا۔ اور اس طرح وہ اس زمانے کے (سب سے بڑے) بُت کی قوتوں یعنی صلیب کی فوج میں سرایت کر گئے۔ انہوں نے انہیں اپنے دستیاب ذرائع سے سخت چوٹ لگائی۔ اللہ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے، آمین!

اللہ تعالیٰ رحم کرے ثابت قدم امیر اور نڈر شیر ابو ہریرہ الصنعانی پر جو اپنی غار پر جمے رہے۔ انہوں نے جزیرۃ العرب میں اپنے مجاہد بھائیوں کی رہنمائی کی جنہیں صلیبی امریکی افواج، اماراتی اور سعودی کرائے کی افواج اور صفویوں کی مزدور فوج کی طرف سے جاری جنگ کا سامنا ہے۔ نہ وہ پیچھے ہٹے اور نہ ہی دباؤ کے سامنے جھکے؛ بلکہ انہوں نے جھنڈے کو اونچا رکھا یہاں تک کہ انہوں نے اسے اپنے پاکیزہ خون سے رنگین کرکے اپنے جانشین کو منتقل کردیا۔

میں امت اور اس کے مجاہد بیٹوں کو صابر ہیرو ہشام عشماوی﷫ کی شہادت پر بھی تعزیت پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اور جب ہشام عشماوی کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے ساتھیوں عماد عبدالحمید اور عمر رفاعی سرور﷭ کا ذکر بھی ضرور کرنا چاہیے۔ ثابت قدمی اور بے لوثی کے یہ مشعل بردار ہمیں یہ امید دلاتے ہیں کہ مصر کی ثابت اور صابر سرزمین ایسے دلیر اور جنگجو پیدا کرتی رہتی ہے جو جہاد، دعوت اور بے لوثی، شرافت، عزت اور شان کے جھنڈے نسل در نسل منتقل کرتے رہتے ہیں۔

جہاں تک میرے بھائی، شیخ، مجاہد، دانا امیر، ابو مصعب عبدالودود (کا تعلق) ہے تو وہ مغرب اسلامی میں جہاد کی عظیم شخصیات میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے ساتھیوں عبدالحمید، ابو عبد الکریم اور انس پر رحمت فرمائے۔

میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اُن کو اُن کی قربانیوں پر اجر عظیم دے جو انہوں نے انتہائی آزمائشی حالات میں اپنی امت کی خاطر پیش کیں۔

شیخ ابو مصعب نے مجاہدین کو اکٹھا کرنے، مسلمانوں کی کوششوں کو مربوط کرنے اور انہیں ایک صف میں متحد کرنے کی طرف راہنمائی کی تاکہ معاصر صلیبی جنگ کا مقابلہ کیا جائے۔ شیخ ابو مصعب سخاوت اور بے لوثی کی بھرپور تاریخ رکھتے تھے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی زندگی پر روشنی ڈالیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے قابل تقلید مثال پیش کریں۔ تاہم، میں یہاں ان کے اور ان کے نیک ساتھیوں کے لیے تعزیت اور مغفرت و رحمت کی دعاؤں پر اکتفا کروں گا۔ میں اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں ان کے ساتھ دوبارہ اکٹھا فرمائے۔ شاید اللہ مجھے جہاد میں ان کی خوبیوں اور فوقیت کے ساتھ ساتھ ان کی بے لوثی اور سخاوت پر گفتگو کرنے کا آئندہ موقع دے، ان شاء اللہ۔

میں اللہ تعالیٰ سے اپنے مہربان بھائی ابو القسام الاردنی اور ان کے ساتھی شیخ بلال الصنعانی پر بھی رحمت کی دعا کرتا ہوں۔ ابو القسام کی زندگی ایک ممتاز تاریخ کی حامل تھی جو جہاد، ہجرت،قید اور بے لوثی سے بھری ہوئی تھی۔ وہ ایک مہاجر اور مجاہد تھے جنہوں نے اللہ کی راہ میں جانثاری اور قربانی دینا کبھی نہ چھوڑا۔

وہ جہاد کے درجات میں چڑھتے اور بلند ہوتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنی راہ میں شہادت کا درجہ دیا۔ میں اللہ سے ان کے لیے، ہم سب کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے قبولیت کی دعا کرتا ہوں۔

میں اللہ تعالیٰ سے بھائی شیخ ابو محمد السوڈانی کی شہادت کی قبولیت کے لیے بھی دعاگو ہوں۔

مشرقی افریقہ اور شام میں ان کا جہاد کرنا اور ان کی ہجرت کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کی نیکیوں کے پیمانے میں شامل کرے۔ اللہ ہمیں ان کے ساتھ اور تمام شہداء کے ساتھ اپنی لامحدود رحمت کے سائے میں دوبارہ اکٹھا فرمائے، آمین!

شروع میں، میں امتِ مسلمہ کو (اَلقُدسُ لَن تُھَوَّد) مہم کے کامیاب تسلسل پر مبارکباد دینا چاہوں گا۔ اللہ تعالیٰ جہاد کے بہادر ہیروز کو ان کی بہادری پر اجرِ عظیم عطا فرمائے جس کا مظاہرہ ا نہوں نے ان مبارک کارروائیوں کے دوران مشرقی اور مغربی افریقہ میں جہاد کے خطوط ِ اول پر کیا ہے۔

اللہ کی مدد سے کارروائیوں کا یہ سلسلہ اسرائیل کے حقیر غلاموں کے منصوبے کا سب سے مؤثر جواب ثابت ہوگا۔

اے مسلمانو! اس مہم میں حصہ لو۔ القدس کا بدلہ صیہونی قابضین سے لو اور ان لوگوں سے لو جنہوں نے انہیں سب سے پہلے یہاں قدم جمانے کا موقع دیا اور انہیں مدد فراہم کی۔ میں اس موقع پر مشرقی اور مغربی افریقہ میں اسلام کے خط ِ اول پر اپنے بھائیوں کو اس فتح پر مبارکباد دیتا ہوں جسے میں اللہ کی عطا کردہ بڑی فتوحات میں سے ایک سمجھتا ہوں۔ یعنی: اسلام کی طرف دعوت کے میدان میں کامیابی۔

مجاہدین اور در حقیقت تمام مسلمانوں کا مقصد اللہ کے حکم کے مطابق بنی نوع انسان کی رہنمائی کرنا اور انہیں اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :

يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا ؀ وَّدَاعِيًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَسِرَاجًا مُّنِيْرًا؀

’’ اے نبی ﷺ! بے شک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے ، خوشخبری سنانے والے ہو، اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو‘‘۔ ( سورۃ الاحزاب: 45،46)

اللہ نے ان اطالوی اور فرانسیسی بہنوں کو اسلام کی ہدایت سے نوازا۔ اللہ انہیں بنی نوع انسان کی ہدایت کی تڑپ رکھنے پر اجر عطا فرمائے۔ اس سے قبل القاعدہ بر صغیر میں ہمارے بھائیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے امریکی وارن وائن سٹائن اور اطالوی لو پورٹو کو اسلام کی توفیق عطا فرمائی تھی۔ وہ دونوں قید کے دوران اسلام لائے اور ان کی رہائش گاہ کو امریکی فضائی حملہ میں نشانہ بنایا گیا اور وہ شہید ہوئے۔ بعد میں اوباما نے ڈھٹائی سے کہا کہ جو ہوا اسے اس پر افسوس ہے کیونکہ وہ جائے ہدف پر ان کی موجودگی سے لاعلم تھا۔

میرے مسلمان بھائیو اور مجاہدو! دلالوں کی ایک پوری نسل نے فلسطین پر سودے بازی کی ہے ۔ جب شریف حسین نے دولت ِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی تو اس نے فلسطین کو عثمانیوں سے چھیننے اور بالفور اعلامیہ کی بنیاد پر یہودیوں کے حوالہ کرنے کا سودا کیا۔ جب سائیکس – پیکو معاہدہ کا راز افشا ہوا اور اس کے بعد بالفور اعلامیہ آیا تو شریف حسین کو دھچکا لگا۔ اس پر برطانوی حکومت نے اپنے ایلچی ’ کمانڈر ہوگارٹ‘ کو برطانوی انٹیلی جنس کے قاہرہ دفتر سے بھیجنے کافیصلہ کیا تاکہ اسے مطمئن کیا جا سکے۔ اس نے شریف حسین سے بذات ِ خود ملاقات کی اور میٹنگ میں جو ہوا اس پر ایک تحریر لکھی۔ہوگارٹ نے سائیکس – پیکو معاہدہ کے موضوع پر لکھا کہ شریف حسین نے اسے یقین دلایا کہ وہ جنگ کی ممکنہ صورتحال کی وجہ سے اصلی منصوبے میں کی گئی ثانوی تبدیلیاں قبول کرے گا۔جہاں تک بالفور اعلامیہ کا تعلق ہے ، ہوگارٹ نے لکھا کہ شریف حسین کے جواب نے اعلامیہ کے مضمون کو قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس نے مزید لکھا کہ شریف حسین نے پُرجوش انداز میں اس تجویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ پوری عرب دنیا میں یہودیوں کا خیر مقدم کرے گا۔ در حقیقت اس نے اپنی حکومت کے افسران کو (بالفور اعلامیہ) پر عربوں کے ردعمل کو پُرسکون کرنے کا حکم دے کر انگریزوں سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا ۔ اس کے بعد کے مہینوں میں شریف حسین نے اپنے خلوص کا ٹھوس ثبوت پیش کیا۔ اُس نے مصر میں اپنے اعلیٰ درجہ کے پیروکاروں اور انقلابی قوتوں کی صفوں میں اپنے متبعین کو خطوط بھیجے جن میں انہیں یہ بتایا کہ اُسے برطانوی حکومت کی طرف سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ فلسطین میں یہودی آباد کاری عربوں کی آزادی سے متصادم نہیں ہوگی۔ اُس نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ’برطانیہ عظمیٰ‘ کے وعدوں پر اعتماد کریں ۔ اس نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیروکاروں میں بالفور اعلامیہ سے پائے جانے والے خوف کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کریں ۔اُس نے اِ س طرح کی ہدایات دے کر العقبہ میں فیصل کو ایلچی بھیجا۔ اُس نے (باغیوں کے ) رسمی مجلہ میں ایک مضمون شائع کرنے کی تجویز دی جس میں فلسطینی عربوں کو ان کی مقدس کتابوں اور روایات کے مطابق مہمان نوازی اور رواداری کے احکام یاد دلائے گئے ہوں۔ اس نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ یہودیوں کو اپنے بھائیوں کے طور پر خوش آمدید کہیں اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ تعاون کریں ۔

جہاں تک اس کے بیٹے فیصل بن حسین کا تعلق ہے تو جنوری ۱۹۱۹ء میں اس نے صیہونی تنظیم کے نمائندہ ’حائیم ویز مین‘ کے ساتھ مل کر غداری کا معاہدہ کیا جسے ’فیصل– ویزمین معاہدہ‘ کہا جاتا ہے ۔

اس معاہدہ کے مندرجات پر سرسری نگاہ ڈالنے سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

  • فیصل نے یہودی ریاست کو عرب ریاست کے برابر تسلیم کیا۔درحقیقت اس نے دونوں فریقوں کے درمیان واضح طور پر متعین کردہ حدود کے وجود کو تسلیم کیا۔ لہٰذا انور سادات اور یہودیوں کے درمیان امن معاہدہ کرنے والا یہ پہلا شخص نہیں تھا ۔

  • اس معاہدہ نے فلسطین میں وسیع پیمانہ پر یہودی ہجرت کی حوصلہ افزائی پر زور دیا۔ اس میں بالفور اعلامیہ کو واضح طور پر قبول کرنا بھی تھا ۔ سادہ الفاظ میں فلسطین کو مکمل طور پر فروخت کرنے کے عوض فیصل اپنا تخت انگریزوں سے خریدنا چاہتا تھا۔

دوسرے الفاظ میں اس نے شیطان کے ساتھ ایک عرب سلطنت بنانے کے لیے معاہدہ کیا ۔ اور اس طرح وہ بجا طور پر ایسی سزا کا مستحق تھا جو اس دنیا کی خاطر شیطان کے ساتھ اتحاد کرنے والوں کے لیے ضروری ہے، یعنی دنیا اور آخرت کا نقصان۔

كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ؀

’’ان کی مثال شیطانوں کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا ہے کہ : ’کافر ہوجا‘ پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو کہتا ہے کہ : ’میں تجھ سے بری ہوں، میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے‘۔‘‘ (سورۃ الحشر:16)

جب پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد دولت ِ عثمانیہ کا سقوط ہوا تو اتا ترک کے سیکولر نظام نے اس کی جگہ لے لی۔اس مرحلہ پر خیانت کا نقاب اتر گیا، اسرائیل کو تسلیم کر لیا گیا، ترکی میں صیہونی ریاست کے لیے سفارت خانہ کھولا گیا اور سیکیورٹی اور فوجی معاہدوں کا ایک سلسلہ مکمل ہوا۔ مشترکہ فوجی مشقیں قائم ہوئیں اور وسیع تجارتی تعلقات بھی قائم ہوئے۔ اتاترک کی ریاست نیٹو کی رکن بن گئی اور بعد میں اس نے عراق ، افغانستان اور صومالیہ میں مسلمانوں کے خلاف جارحیت میں حصہ لیا۔ آج تک ترکی کی حکومت کی طرف سے انہی پالیسیوں پر عمل کیا جارہا ہے۔ پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد ایک امن کانفرنس منعقد ہوئی۔ سائیکس – پیکو معاہدہ کی بنیاد پر سابق دولت ِ عثمانیہ کے علاقے فرانس اور برطانیہ کے درمیان تقسیم کیے گئے۔

عبد العزیز آل سعود نے برطانیہ اور فرانس کے درمیان شام ، عراق اور فلسطین کی تقسیم کا خیر مقدم کیا جیسا کہ اس نے بحرین میں برطانوی ایلچی کولکھے گئے اپنے خط میں ذکر کیا تھا ۔ اس نے لکھا:

’’ مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ یہ زمینیں برطانیہ اور اس کے اتحادی فرانس کے کنٹرول میں آگئی ہیں ۔ میں اس لیے یہ کہتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان سرزمینوں میں امن اور سلامتی کی ضمانت کا یہی واحد راستہ ہے۔‘‘

پھر ۱۹۴۸ء کی تباہی آئی ۔ جنگ کے بعد فروری ۱۹۴۹ء میں عارضی جنگ بندی ہوئی جس کے مقدمہ میں یہ واضح کیا گیا کہ یہ دستخط کرنے والے فریقوں کے درمیان ایک مستقل امن معاہدہ ہے۔ بعد ازاں لوزان اجلاس ہوئے جن کا آغاز اقوام ِ متحدہ کے نمائندہ کے فراہم کردہ پروٹوکول سے ہوا۔ جس میں ۱۹۴۷ء کی سرحدوں کی حد بندی کو واضح طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔

پروٹوکول کے متن میں یہ بیان کیا گیا کہ :

’’ اقوام ِ متحدہ کی جانب سے مہاجرین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی املاک کے تحفط اور اس کے ساتھ دیگر مقاصد کے متعلق جنرل اسمبلی کی ۱۱ دسمبر کی قرارداد میں بیان کردہ مقاصد کو فوری طور پر محفوظ بنانے کے لیے اقوام ِ متحدہ کی تشکیل کردہ فلسطینی مصالحتی کمیٹی نے عرب ریاستوں کے وفود اور اسرائیلی وفد کو تجویز دی ہے کہ وہ منسلک دستاویز کو کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد کے طور پر اپنائیں‘‘۔

زیر ِ بحث دستاویز وہ قرارداد تھی جس میں ۱۹۴۷ء میں فلسطین کی تقسیم کے فیصلہ کا اعلان کیا گیا تھا اور نقشے میں علاقوں کی تقسیم کا خاکہ پیش کیا گیا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں لوزان کانفرنس میں عرب ریاستوں کی شرکت کا مطلب یہ تھا کہ فلسطین کو تقسیم کرنے کے فیصلہ کو ’خاموش قبولیت‘ دے دی گئی ہے۔

لوزان کانفرنس کے بعد اسرائیل باضابطہ طور پر اقوام متحدہ کا رکن بن گیا ۔ اس قدم کے ساتھ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک ( بشمول عرب اور مسلم دنیا کی ریاستوں ) نے اسرائیل کو قانونی طور پر تسلیم کیا اور رکن ممالک ہونے کی وجہ سے وہ اس کے پابند ہیں کہ وہ اقوام ِ متحدہ کے اس نئے رکن کی سلامتی اور تقدس کا احترام کریں جیسا کہ اقوام متحدہ کے منشور میں بیان کیا گیا ہے۔

اس طرح عرب اور مسلم دنیا کی ریاستوں کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے بارے میں پھیلائے گئے جھوٹ کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے۔ یہ ریاستیں اقوام ِ متحدہ کے منشور کی پابند ہیں کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں ، اس کی سالمیت اور سلامتی کا احترام کریں اور اسرائیل کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گزار کریں ۔

۱۹۵۵ء میں جمال عبد الناصر نے بندونگ کانفرنس کے انتظامات کے دوران برما کے صدر اونو کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کرتے ہوئے ۱۹۴۷ ء کی تقسیم کو تسلیم کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ اپنے ایک پیغام میں اس نے اس بات کا اظہار کیا کہ اگر اسرائیل ۱۹۴۷ء کی حدود کو تسلیم کرتا ہےاور عملی طور پر اس فیصلہ کی پاسداری کرتا ہے تو وہ اس سربراہ اجلاس میں اسرائیلی شرکت قبول کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ اس فیصلہ میں اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسرائیل کے لیے عالمی برادری کی نشاندہی کی گئی سرحدوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔

۱۹۶۷ء کی تباہی کے بعد اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور اسے سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے پستی کے رجحان نے رفتار پکڑ لی۔

اسی طرح جمال عبد الناصر کی جانب سے اقوام متحدہ کی جاری کردہ نومبر ۱۹۶۷ء کی قرارداد ۲۴۲ کو قبول کرنے کا فیصلہ اور بعد ازاں جون ۱۹۷۰ء میں ’راجرز اقدام‘ کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں فیصلوں کا مطلب اسرائیل کی ۱۹۶۷ء سے پہلے کی حدود کو قبول کرنا اور عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مستقل امن کے لیے جدوجہد کرنے کا پابند ہونا تھا ۔

اسی طرح فلسطین کو آزاد کرانے یا فلسطینیوں کی ان کی سابقہ زمین پر واپسی کو یقینی بنانے کے خیال کا انکار: اسی تناظر میں (محمد حسین) ہیکل نے کہا کہ ناصر ۱۹۶۷ء کی تباہی کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اس کے پاس فلسطینی قوم کے ریاست اور سرحدوں والے وطن کی طرف واپس جانے کے حق کے بارے میں بات کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ لہٰذا اس نے اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۲ کو قبول کرلیااور سوویت یونین کو اسرائیل سمیت کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات کا اختیار اس بنیاد پر سونپ دیا کہ مصر دو شرائط پر معاہدہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے :

  1. اسے قبضہ کے دباؤ میں عرب زمینوں کو ترک کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

  2. جب تک اسرائیل ۱۹۶۷ء میں قبضہ کی گئی عرب زمینوں پر قابض ہے اس وقت تک مصر کو اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا۔

پچھلے مقالہ کی بنیاد پر ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ عبد الناصر نے ۱۹۶۷ء کی شکست سے پہلے درج ذیل باتوں کو قبول کر لیا تھا :

  • عربوں اور یہودیوں کے درمیان فلسطینی زمینوں کی تقسیم ۔

  • ۱۹۶۷ء کی تباہی کے بعد اس نے فلسطین کی آزادی یا پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے خیال کو ترک کر دیا تھا ۔ اس نے اقوام متحدہ کی قرارداد ۲۴۲ کی بنیاد پر امن کو قبول کیاجس (قرارداد) نے اسرائیل کی ۱۹۶۷ء سے پہلے کی حدود کو تسلیم کیا۔

پھر انور سادات آیا جو جدید مصری تاریخ کے سب سے بڑے غداروں میں سے ایک تھا۔اس نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کیا ۔ سب سے پہلے ۱۷ ستمبر ۱۹۷۸ء کو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کیا (جس میں امن معاہدہ اور سیلف–زول ایگریمنٹ شامل تھا)۔ دوسرا ۲۶ مارچ ۱۹۷۹ء کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ (اس کے تمام ضمیموں اور خفیہ شقوں کے ساتھ)۔

سابق وزیر دفاع عبد الغنی الجمسی انور سادات کا فرمانبردار ملازم ہونے کے باوجود ان غداریوں پر خاموش نہ رہ سکا۔

اس طرح مصر ، صلیبیوں کے خلاف اسلام کا سابقہ قلعہ ، غداروں کے ایک گروہ کی وجہ سے معرکہ سے نکل گیا۔ تاہم ، اسلامی ، مجاہد مصر جسے ہم سب جانتے ہیں اس نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ مصر کے مخلص بیٹوں کا ایک مجموعہ آگے بڑھا اور اس نے اس غدار فرعون کو قتل کردیا۔ ہم غداروں اور بیچنے والوں کے فریبی راستے پر بات جاری رکھیں گے۔

سادات کی غداری کے بعد خلیج کی دولت نے ہمیشہ کی طرح پی ایل او کے مختلف عناصر کو برباد اور خراب کرنے میں اپنا مشکوک کردار ادا کرنا شروع کردیا۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جس کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں اور ہم بعد میں اس کی طرف لوٹیں گے۔

تنظیم میں غدار عناصر اور بیچنے والوں نے اپنا زہر پھیلانا شروع کردیا۔ ان لوگوں میں ’ابو مازن‘ وہ سب سے بڑا دلال تھا، جسے حماس نے ’ بڑے بھائی‘ کے نام سے متصف کیا ہے۔ جو مارچ ۱۹۷۷ء میں قومی فلسطینی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ اس فیصلہ میں فلسطینی عوام کے مفادات کے مطابق یہودی طاقتوں سے رابطہ کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ رعایتیں اور سمجھوتے جاری رہے ، یہاں تک کہ ۱۵ نومبر ۱۹۸۸ء کو قومی فلسطینی کونسل الجزائر میں اپنے ہنگامی اجلاس میں غزہ اور مغربی کنارہ میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کیا، جس کا دارالحکومت القدس تھا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں ۲۴۲ اور ۳۳۸ کی اعلانیہ قبولیت کے ساتھ ، اس اعلان میں اسرائیلی ریاست کا خاموش اعتراف شامل تھا۔ ۲۴ اپریل ۱۹۹۶ء کو فلسطینی قومی کونسل نے غزہ میں اپنا ۲۱ واں اجلاس منعقد کیا، جس میں فلسطینی قومی منشور کی ان شقوں کو منسوخ کرنے کے حق میں اکثریت نے ووٹ ڈالے جو پی ایل او اور اسرائیلی ریاست کے باہمی تسلیم کے امکان سے متصادم تھے ۔

خیانتیں اور دھوکہ دہی جاری رہی ۔ فہد اقدام ، پھر عرب امن اقدام ، پھر وادی عربہ، پھر موریطانیہ میں سفارت خانہ ، قطر ، بحرین اور امارات میں وفود اور دفاتر اور آخر میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ قطر۔

اس کے بعد محمد مرسی میدان میں اترے اور اعلان کیا کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کے معاہدوں اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے تمام سابقہ عسکری اور انٹیلی جنس معاہدوں کی پاسداری کرے گی۔ آئیے دو نسلوں کے درمیان حیران کن فرق پر غور کریں ۔

حسن البنا نے فوجی یونٹوں کو فلسطین میں جہاد کرنے کے لیے منظم کیا، پھر دوسری نسل کے رہنما اسرائیل کے ساتھ امن اور ذلت کے معاہدوں پر اپنے عزم کا اعلان کرنے کے لیے منظر عام پر آتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر رنتیسی پر رحم فرمائے جنہوں نے اوسلو معاہدہ کو مسترد کیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ معاہدہ کی روشنی میں تشکیل دی گئی فلسطینی اتھارٹی صرف قبضہ کو فائدہ دینے اور فلسطینی عوام کے خلاف غاصب (اسرائیل) کے ساتھ تعاون کرنے سے متعلق ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر رنتیسی پر رحم کرے جنہوں نے اعلان کیا کہ ہمیں امریکہ کو دہشت سے محصور کرنا ہوگا!

اللہ تعالیٰ شیخ نزار ریان پر رحم کرے جنہوں نے کہا تھا کہ ’حماس‘ اور ’فتح‘ کے درمیان جنگ اسلام اور ارتداد کے درمیان جنگ ہے، اور ’فتح‘ کی قیادت ’امریکہ اور اسرائیل کی پرورش شدہ اور مالی اعانت یافتہ سیکولر ملحدوں کی ہے ، ( جو چاہتی ہے کہ) ہماری سرزمین سے اسلام کو اکھاڑ پھینکیں ‘۔

آخر میں نام نہاد ’صدی کی ڈیل‘ آئی۔ اور پھر کٹھ پتلی ، بونا ، مسلمانوں کی چوری شدہ دولت پر راج کرنے والا کرائے کی ملیشیاؤں کا لیڈر ’بن زاید‘ غداروں کے قافلہ میں شامل ہونے کے لیے میدان میں اترتا ہے۔

پھر تنخواہ دار مزدور آیا: سوڈان کا برہان۔ اور اس کے بعد مراکش کا بادشاہ ، محمد السادس، جس نے صیہونی ریاست کے ساتھ خفیہ تعلقات کی طویل تاریخ کے بعد اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

یہ ایک تکلیف دہ تاریخ تھی… اور ناکامی جاری ہے…

اور جب بھی کوئی غداری کرتا ہے تو وہ اپنے بعد والوں کے لیے بھی ایسا ہی کرنا آسان بنا دیتا ہے۔ اور بہت سے غدار تو دوسرے غداروں پر خود سے زیادہ غدار ہونے کا الزام لگاتے ہیں ۔ اور ان سے یہی توقع کی جاتی ہے اگر اس سے بدتر نہیں۔

تاہم ، اللہ نے اس امت کے لیے ان لوگوں کو بھیجا جو ان کے پیچھے ہٹنے ، رسوائی اورجرائم کو مسترد کرتے ہیں ۔

جہاد کے سرخیل عبداللہ عزام﷫ سامنے آئےاور اعلان کیا کہ اندلس کے سقوط کے بعد سے آج تک امت پر جہاد فرض ِ عین ہے۔

شیخ عمر عبد الرحمٰن﷫ منظر پر ابھرے اور امریکی طیاروں کو گرانے اور امریکی بحری جنگی جہازوں کو ڈبونے کی حوصلہ افزائی کی ۔

پھر اسامہ بن لادن﷫ آئے جنہوں نے اللہ کی قسم کھائی :

’’میں عظمت والے اللہ کی قسم اٹھاتا ہوں جس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا۔ امریکہ اور وہ جو امریکہ میں رہتے ہیں، کبھی بھی امن کا خواب نہیں دیکھیں گے جب تک کہ ہم فلسطین میں ایک حقیقت کے طور پر اس کا تجربہ نہ کر لیں اور جب تک کافروں کی تمام فوجیں حضرت محمد ﷺ کی سرزمین سے باہر نہ نکل جائیں۔اللہ سب سے بڑا ہے اور عزت اسلام ہی کے لیے ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔‘‘

اس کے بعد عبد العزیز رنتیسی ﷫ آئے جنہوں نے امریکہ کو معاشی طور پر، میڈیا اور سیاحت کے شعبوں میں اور ’دہشت‘ کے استعمال سے محصور کرنے کی دعوت دی۔

فلسطین اور باقی دنیا میں میرے مسلمان بھائیو! اگر کوئی فلسطین کاایک انچ بھی ترک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو آپ کو ایسے غدار کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا چاہیے ، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ مزید یہ کہ آپ کو ان لوگوں کا سامنا بھی کرنا چاہیے جو اس طرح کے غداروں کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ : فلسطین کے علماء نے مسجد ِ اقصیٰ میں شوال ۱۳۵۳ ہجری، ۲۶ جنوری ۱۹۳۵ء کو بلائے گئے اجلاس میں ایک تاریخی فتویٰ جاری کیا تھا۔ اس فتویٰ میں یہودیوں کو زمین بیچنا واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ فتویٰ میں بیان کیا گیا ہے :

’’عراق، مصر ، ہندوستان ، مراکش ، شام ، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کے مفیان کرام اور مسلم علماء کی جانب سے جاری کردہ فتاویٰ پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کو زمین کی فروخت کے حرام ہونے پر اجماع ہے، اس طرح کے معاہدہ میں ہر قسم کی دلالی (آڑھت) ، ثالثی یا کسی بھی شکل و صورت میں سہولت کاری حرام ہے اور اس طرح کے معاہدہ کو قبول کرنا یا اس کے بارے میں خاموش رہنا حرام ہے ۔

مذکورہ بالا کی بنیاد پر اگر کوئی فلسطینی اس طرح کے معاہدہ میں شامل ہوگا یا اس میں حصہ لے گا تو اس کے عمل کو دانستہ ارادہ پر مبنی اور اس کے نتائج سے پوری طرح آگاہی کے ساتھ انجام دینے سے تعبیر کیا جائے گا۔ اس لیے ایسا کرنے کو حلال جاننا کفر اور ارتداد ہے ، جیسا کہ القدس کے مفتی اور اعلیٰ اسلامی کونسل کے سربراہ عزت مآب سید امین الحسینی کے فتویٰ میں بیان کیا گیا ہے۔

مذکورہ بالا احکام کا جائزہ لینے اور غور و خوض کے بعد اور ان فتاویٰ میں مذکور احکام کی بنیاد پر، ہم نےاس حکم پر اتفاق کیا ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کو زمین کی فروخت میں فروخت کنندہ ، دلال ، ثالث اور سہولت کار (کا حکم ذیل ہے) :

 

  1. ایک ایجنٹ اور محارب جو مسلمانوں کو ان کی سرزمین سے نکالنا چاہتا ہے۔

  2. ایک مانع جو مسجدوں میں اللہ کا نام لینے سے روکتا ہے اور اس میں فساد چاہتا ہے ۔

  3. یہودیوں کا اتحادی ، مسلمانوں کے خلاف ان کی مدد اور معاونت کرنے کی وجہ سے ۔

  4. ایک ضرر رساں شخص جو اللہ ، اس کے رسول ﷺ اور ایمان والوں کو تکلیف دیتا ہے۔

  5. اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا غدار اور سپرد کردہ امانت میں خیانت کرنے والا۔

 

ان وجوہات، نتائج، اقوال ، احکام و فتاویٰ کی بنیاد پر جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ، یہ معلوم ہونا چاہیے کہ فلسطین میں یہودیوں کو زمین بیچنے والے کا حکم ، خواہ وہ براہ ِ راست زمین فروخت کرے یا بالواسطہ، نیز دلال ، سہولت کار اور اس طرح کے جرم میں کسی بھی شکل میں معاون، یہ دیکھتے ہوئےکہ وہ اپنے عمل کے مذکورہ بالا نتائج جانتا ہے ، درج ذیل ہے:

ایسے لوگوں کے لیے دعا (نماز ِ جنازہ) کرنا یا ان کی تدفین کے لیے مسلمانوں کے طریقہ پر جنازہ کا انتظام کرنا ممنوع ہے۔ انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہیں معاشرتی طور پر بے دخل کیا جانا چاہیے، ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور ان کی تحقیر کرنی چاہیے۔ ایسے شخص کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھنا ممنوع ہے چاہے وہ کسی کا باپ، بیٹا ، بھائی یا شوہر ہی کیوں نہ ہو۔

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ؀

’’اے ایمان والو! اگر تمہارے باپ ، بھائی کفر کو ایمان کے مقابلہ میں ترجیح دیں تو ان کو اپنا سرپرست (اولیاء، مددگار) نہ بناؤ، اور جو لوگ ان کو سرپرست (ولی، مددگار) بنائیں گے وہ ظالم ہوں گے۔‘‘

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ؀

’’(اے پیغمبر ﷺ ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے ، تمہارے بھائی ، تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے، اور وہ کاروبار جس میں نقصان ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے اور رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں ، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے ، اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا‘‘۔ (سورۃ التوبہ :23-24)

مزید برآں ، ان کے اعمال کے بارے میں خاموش رہنا یا ان کے اعمال کو قبول کرنا قطعی حرام ہے۔‘‘

اگر زمین کی فروخت حرام ہے کیونکہ یہ فلسطین کو یہودی بنانے کا سبب ہے تو فلسطین کے یہودیائے جانے کو قبول کرنے والوں اور فلسطینی سرزمین پر یہودی ملکیت کو تسلیم کرنے والوں کا کیا حکم ہوگا؟

فلسطین میں رہنے والے اور دنیا بھر کے مسلمانو! اس فتویٰ کے ساتھ ہر اس شخص کا سامنا کرو جو فلسطین کی سرزمین کے ایک انچ پر بھی سمجھوتہ کرتا ہے یا سمجھوتہ کو جائز قرار دیتا ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔

میرے مسلمان بھائیو! ہمیں ان غداروں کی خیانت اور غفلت پر حیران نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمیں جذباتی رد عمل ، مظاہروں اور جوشیلی تقریروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہے ۔ یہ ایک صلیبی جنگ ہے جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے اور اسرائیل اس صلیبی جنگ کا ایک اہم ترین ہتھیار ہے ۔ اسرائیل عالم اسلام کے دل میں نصب جوہری ہتھیاروں سے لیس ایک صلیبی قلعہ ہے۔ یہ امریکہ کا بنایا ہوا قلعہ ہے ، ماضی میں صلیبیوں کے (فلسطین میں ) بنائے گئے قلعوں کی طرح۔

یہ ہمارے اور ان کے درمیان تنازع کی حقیقت ہے ۔ ہمیں اس تنازعہ میں شامل ہونےکے لیے پوری طرح تیار رہنا چاہیے۔ اور ہمارے پاس اس صلیبی مہم کا مقابلہ کرنے کی زبرست صلاحیت موجود ہے ۔ ماضی میں ہماری امت نے صلیبی حملوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جو منگولوں کی یلغار کے ساتھ وارد ہوئیں تھیں ۔ امت نے مسلم سیاست میں تمام کمزوریوں اور بد عنوانیوں کے باوجود ان کا مقابلہ کیا اور غالب آنے میں کامیاب رہی۔ پھر دولت ِ عثمانیہ آئی جس نے پانچ صدیوں تک مسلم علاقوں کی حفاظت کی اور نئی سرزمینوں کو فتح کیا۔ غرناطہ کے سقوط سے پچاس سال قبل دولت ِ عثمانیہ نے قسطنطنیہ کو ، جو کبھی آرتھوڈوکس عیسائیت کا دارالحکومت تھا، اسلام کے دائرہ میں توحید کے جھنڈے کے نیچے لایا۔ اور ہمیں ان اُنیس مجاہدین ، اسلام کے شیروں کو نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے امریکہ کے دل میں چھرا گھونپا۔ ایک ایسا زخم جو امریکہ نے پہلے کبھی نہ چکھا تھا… اور آج وہ بیس سال کی جنگ کے بعد خستہ اور شکست خوردہ حالت میں افغانستان سے نکل رہا ہے ۔ عظمت اور تعریف صرف اللہ ہی کی ہے۔

لہٰذا ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو ہار مانتے، ڈرتے ہیں اور ہتھیار ڈالنے ، ذلت اور سر تسلیم خم کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔

میرے مسلمان بھائیو! ہمیں اس خبیث جنگ کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس محاذ آرائی میں ہمارا بنیادی ہتھیار آگاہی اور واقفیت ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہمارا دشمن کون ہےاور ہمارا دوست کون ہے۔

اللہ رب العزت فرماتا ہے:

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْيَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓى اَوْلِيَاۗءَ ۘبَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ؀

’’ اے ایمان والو! یہودیوں اور نصرانیوں کو اولیاء (یار و مددگار) نہ بناؤ۔ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار و مددگار ہیں۔ اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا۔ یقیناً اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔ (سورۃ المائدہ: 51)

ہمیں ایک امت کی حیثیت سے متحد ہو کر متعدد محاذوں پر جنگ لڑنی ہوگی۔ چنانچہ فلسطین کشمیر ہے، کشمیر گروزنی ہے، گروزنی ادلب ہے، ادلب کاشغر ہے اور کاشغر وزیرستان ہے۔

ہم ایک امت ہیں ، ایک جنگ لڑ رہے ہیں ، لیکن متعدد محاذوں پر۔

ہمیں کلمہ ٔ توحید کے گرد متحد ہونا چاہیے ۔ ہمیں اس حقیقت کا یقین ہونا چاہیے کہ عقائد پر یا اللہ کی حاکمیت پر سودے بازی ، اور سیکولر قوانین اور آئین کے ذریعے اپنا کام کرنے سے ہی تباہی ہوتی ہے۔ اور زندہ مثالیں موجود ہیں کہ سب دیکھ سکیں اور غور کر یں۔ ہمیں امت کو جہاد کے محاذوں پر لوٹانا ہوگا اور اسے ہتھیاروں اور عسکری قوت کا استعمال سکھانا ہوگا۔ وہ تمام کوششیں جو پیچھے ہٹنے اور ہتھیار ڈالنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں … درباری علماء ، میرینز اور سینٹکام کے مفتیوں کے جھوٹ … ان سب کا ایک مقصد ہے کہ امت ہتھیاروں کا استعمال ترک کر دے۔

لہٰذا ہمیں صلیبی اتحاد اور اس کے صیہونی اتحادیوں کے خلاف یہ لڑائی ہر سطح پر لڑنی ہوگی، عقائد، افکار، تعلیم، سیاست اور جنگ میں ۔ہمیں متحد ہونا ہوگا اور صفوں کو جوڑنا ہوگا۔ ہماری صفوں کو منتشر کرنے ، دراڑیں ڈالنے اور عہد اور حلف کو توڑنے کی ہر کوشش جرم ہے۔اور جو شخص اس طرح کے کاموں میں ملوث ہوتا ہے وہ مجرم ہے، چاہے وہ بغدادی ہو یا اس کے پیروکار جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خلیفہ تھا یا اس معاملہ میں کوئی اور ہو۔

صلیبی دشمن کو جو چیز خوفزدہ کرتی ہے وہ مراکش سے کاشغر تک مجاہدین کی ہم آہنگی ، اتحاد اور اتفاق ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن صفوں اور اتحاد کے اس امتزاج میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مثلاً جنگ، بمباری، رشوت، لوگوں کو خریدنا ، دھوکہ دینا، لبھانا وغیرہ۔

ہمیں صبر سے کام لینے کی عادت ڈالنی چاہیے ۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس صلیبی حملے کی پسپائی کے لیے لگاتار کئی نسلوں کی کوششیں درکار ہیں، ہر جگہ دشمن کو تھکا دینے کی محنت درکار ہے۔ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دشمن کو تھکا دینے کے لیے زبردست وسائل کی ضرورت نہیں ہے۔ جدید نظریات، سادہ آلات اور ایک ایسی جنگ چھیڑنے سے ، جس میں پوری دنیا میدان ِ جنگ ہے، اسے موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔

موجودہ مرحلہ کا تقاضا ہے کہ ہم دشمن کو اتنا تھکا دیں کہ وہ معاشی اور عسکری خون بہنے کی وجہ سے چیخ و پکار اور آہ و بکا کرنے لگے۔ اسی تناظر میں (یہ سمجھنا ضروری ہے کہ) دشمن ہم سے میدان میں کارروائیوں کی توقع کرتا ہے لیکن یہاں میدان سے باہر کارروائیوں کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے، یعنی دشمن کی سرزمین پر اور دشمن کی صفوں کے پیچھے کی کارروائیاں۔اس سلسلہ میں نمایاں ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے (روسیوں کے خلاف شام میں ) ’تل السمن‘ کا آپریشن۔ یہ کاروائی دشمن کے فوجی محاصرہ کو توڑنے کی ایک عملی مثال تھی۔ معمولی مسائل اور اختلافات کو نظر انداز کرکے اور ترجیحات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے (دیکھا جائے تو) اس آپریشن نے قطب نما کو صحیح سمت میں موڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ اس آپریشن کے شہداء کو قبول فرمائے اور ان تمام لوگوں کو اجر ِ عظیم عطا فرمائےجنہوں نے اس کارروائی میں مدد کی ۔ اللہ تعالیٰ شام اور دیگر جگہوں پر ہمارے مسلمان بھائیوں اور مجاہدین کو اپنے متحدہ دشمن کے خلاف اس مشترکہ جنگ میں اپنی امت کے ساتھ متحد ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

’اَلْقُدْسُ لَنْ تُهَوَّد‘ مہم کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے خلاف ہونے والے دشمنوں کو ایک واضح پیغام پہنچایا جائے ۔ چونکہ تم نے القدس کے گرد و نواح میں اپنی فاروَرڈ بیس بنائی ہے ، لہٰذا تم اپنی اس حماقت کی قیمت ادا کرتے رہو گے۔

میرے معزز بھائیو! صیہونی – صلیبی دشمن چاہتا ہے کہ ہمارا جہاد ایک ’مقید جہاد‘ ہو جو اس کی خواہشات کے مطابق جگہ اور وقت کی جہتوں میں محدود ہو۔ یہ بالکل وہی ہے جو انہوں نے فلسطین میں حاصل کیا ہے۔ مغربی کنارہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی براہ ِ راست نگرانی میں ہے۔ غزہ محصور ہے۔ ہر بار جب غزہ مزاحمت پیش کرتا ہے تو دشمن گنجان آبادی والے شہری علاقوں پر شدید بمباری کر کے انتقامی کارروائی کرتا ہے ۔ اس طرح دشمن فلسطین میں جہادی مزاحمت پر قابو پانا چاہتا ہے ۔ دشمن ’وقت‘ کے عنصر پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عارضی جمود قابل ِ قبول اور مستقل ہوجاتا ہے۔

فلسطینی زمین بیچنے والے اور غدار ’بڑے بھائی‘ ، ’بھائی‘ وزیر ، ’بھائی‘ محمد محلان ، اور ‘بھائی‘ ابلیس بن شیطان بن جاتے ہیں ۔ لہٰذا اس سلسلہ کو توڑنا ہوگا اور جنگ کو اس حصار سے آگے لے جانا ہوگا۔ جس طرح وہ ہم سے لڑنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے اکٹھے ہوئے ہیں ، ہمیں بھی انہیں ہر جگہ سخت مارنا ہوگا۔

پس اے نڈر اور آزاد مسلمان مجاہد! دنیا بھر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ (اس مہم میں ) شریک ہو، تاکہ ہم یہ دکھا سکیں کہ القدس کبھی یہودیوں کا نہیں ہو سکتا، باذن اللہ!

کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟اے اللہ گواہ رہنا!

وآخرُ دعوانا أن الحمدُ للہِ ربِ العالمین۔ و صلی اللہُ علی سیدِنا محمدٍ و آلِہ و صحبہ وسلم

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

٭٭٭٭٭

Previous Post

امریکہ… تم نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا!

Next Post

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | پہلی قسط

Related Posts

فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ
نشریات

فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ

15 فروری 2026
امت مسلمہ بالخصوص اہل صومالیہ کے نام پیغام
نشریات

امت مسلمہ بالخصوص اہل صومالیہ کے نام پیغام

20 جنوری 2026
نشریات

ارضِ پاکستان پر بھارتی جارحیت کی بابت

25 مئی 2025
نشریات

حال میں پاکستان میں علمائے کرام کی شہادتیں

31 مارچ 2025
علیکم بالشام

وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللَّهِ!

14 مارچ 2025
نشریات

مولانا حامد الحق حقانی ﷬کا سانحۂ شہادت

14 مارچ 2025
Next Post

مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | پہلی قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version