نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home رودادِ قفس

عقوبت خانوں سے براہِ راست | دوسری قسط (آخری)

by محمد جمال
in اکتوبر 2020, رودادِ قفس
0

اس کے بعد ایک دوسرے سے کہا چلو اسے ہسپتال لے چلتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوا کہ شاید ہسپتال میں کچھ زخم تو مندمل ہوں گے۔ لیکن ظالم مجھے تفتیش کے ایک اور مقام پر لے گئے۔ یہاں پوچھ گچھ اور گالم گلوچ اور مار پیٹ کے بعدمجھ سے کہا کہ کل رات ہم نے تمہارے ایک ساتھی کو گرفتار کیاہے، وہ تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ میں نے صاف انکار کر دیا کہ میراکوئی ایسا ساتھی نہیں ۔درحقیقت میں ان کی ہر بات کو جھوٹ سمجھتاکیونکہ ان کی نناوے فیصد باتیں جھوٹی ہی ہوتی تھیں۔لیکن اس بار معاملہ کچھ اور ہی تھا۔ سچ مچ میرے ساتھی ہی کو میرے سامنے لایا گیا۔اس کو میرے سامنے بٹھایا گیا۔ آنکھوں کے علاوہ میرے سارے چہرے کو بھی اس کے سامنے کھولا گیا۔ اس نے پہلے صرف یہی کہا کہ میں نے اس شخص کو پہلے کہیں دیکھا ہے لیکن جب اس کو بے تحاشا مارا گیا تو اس نے کہا کہ یہ شخص میرے ساتھ فلاں تنظیم کے فلاں مرکز میں اکٹھارہتا تھا اور یہ کہ اِس کے کچھ ساتھی بھی اس کے ساتھ تھے۔ اس نے ان ساتھیوں کے نام بھی لیےاورکہا کہ اس نے مجھے فلاں کے کہنے پر وزیرستان بھیجا تھا۔ اس دوران وہ رونے بھی لگا اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں نے مجھے تباہ و برباد کیا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ میں تمہیں نہیں جانتا، تم کون ہو جو مجھ پر جھوٹی گواہی دے کر مجھے اور میرے یتیم بہن بھائیوں کو برباد کرنا چاہتے ہو،ان یتیموں کا تو دوسرا والی بھی نہیں۔ گواہ کو جاننے سے انکارکرنے پر اللہ کے دشمن مجھے بے تحاشا مارنے لگے، کیونکہ ان بدبختوں کا آخری حربہ بھی ناکام ہونے والا تھا اس وقت ’’ فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ ‘‘کی سی کیفیت سے یہ لوگ دو چار ہو گئے تھے اس لیے باری باری مار پیٹ اور گالیوں سے میری تواضع کرتے رہے۔

جب مایوس ہو گئے تو ایک بار پھر مجھے اپنے سیل میں لے جا کر ہاتھ پاؤں زنجیروں میں جکڑ دیے۔ اور تین دن رات اسی حالت میں کھڑا کیا۔ میرے ہاتھ پاؤں بلکہ سارا بدن سوج گیا۔ تیسرے دن عشاء کے وقت میرے ہاتھ جو کہ اوپر لٹکا دیے گئے تھے کھولے گئے اور مجھے آرام کرنے کی اجازت مل گئی۔

میرے جسم کا کوئی حصہ ظالموں کی ضربوں سے محفوظ نہیں رہا تھا ،مسلسل کھڑے رہنے سے پاؤں میں ورم آگیا تھا۔ آسانی سے اٹھنا بیٹھنا بھی محال تھا۔تین دن رات تک میں نے نماز تک کھڑے کھڑے پڑھی تھی۔ہاتھ اوپر بندھے ہونے کی وجہ سے رکوع تو ممکن ہی نہ تھا البتہ سلاخوں سے پیشانی لگاکرسجدہ کرتا۔لیکن اب ہاتھ کھلے دیکھ کردل ہی دل میں خوش ہورہا تھا اور اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ میں نے تو چونکہ کسی چیزکا اعتراف نہ کرکے دشمن کو شکست دی ہے اس لیے مجھے عن قریب رہا کیا جائے گا۔میں اس بات سے بے خبر تھا کہ اس سے بھی خطرناک عقوبت خانے میں وحشی درندوں کی ایک پوری کھیپ میرے تن بدن میں آگ لگانے کے لیے ادھارکھائے بیٹھی ہے!

طویل اورکٹھن سفر کے بعدہمیں ایک ماڈرن اور پرسہولت لیکن خطرناک کال کوٹھری میں منتقل کردیا گیا۔اچھا اور معیاری کھانا۔گرمی میں ائر کنڈیشنڈ ماحول اورصفائی کا بہترین انتظام تھا،لیکن انتظامیہ کے سب کارندے، کیا افسر اورکیا چپراسی جانوروں سے بدتر تھے۔بدترین اخلاق،گالم گلوچ اور بات بات پر قیدیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کرمارنا پیٹنا اس جیل کے روزانہ معمولات میں سے تھا۔بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ اس سے پہلے والے عقوبت خانے ایم آئی اور دوسری ایجنسیوں کے تھے جبکہ یہ جیل ان تمام ایجنسیوں کی سردار اورسی آئی اے کی براہ راست تابع، ادنی ٰ امریکی غلام اور اجرتی قاتل آئی ایس آئی کے زیر اہتما م تھا۔اس شان وشوکت کے باوجودقیدیوں کی حالت زار ناقابل بیان تھی۔اس جیل میں چپل وغیرہ کا کوئی تصور نہ تھا۔پندرہ دن بعد کپڑے ملتے وہ بھی پھٹے پرانے۔باتھ روم میں پانچ منٹ سے زیادہ وقت لینے کی اجازت نہ تھی۔ایک سیل میں دو دو تین تین قیدی ہوتے لیکن ان کو آپس میں بات کرنے کی اجازت نہیں تھی۔یہاں تک کہ تلاوت تک اونچی آواز میں کرنے پر پابندی تھی۔

عصر سے کچھ پہلے تک تو اللہ کے کرم سے کوائف لکھوانے اورتصاویر کھنچوانے میں وقت گزرا۔اس کے بعدتفتیش کا جان لیوامرحلہ شروع ہوا۔تفتیش کرنے والے افسر اتنے بد بخت اور بد اخلاق ہوتے تھے کہ ان کا قتل کرنا آسان تھا لیکن ان سےبات کرنا مشکل تھا۔مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق انہی بدبختوں سے ایک بار پھر آمناسامنا ہو رہا تھا۔آج پہلی فرصت میں مجھےقلم کاغذتھماکر حکم دیا گیا کہ جتنی جہادی تنظیموں میں کام کیا ہے ان کی تفصیل لکھو۔یہ تفصیل لکھنے کے لیے مجھے ایک انتہائی روشن کمرے میں لے جاکر تالا لگایا۔میں بمشکل دوصفحے لکھ سکا اور افسر کے بدبخت ہر کارے ہر دس منٹ بعد ’’کاغذتو نہیں چاہیے؟‘‘کا مکروہ نعرہ لگا کر زخموں پر نمک چھڑکتے۔یہاں میں نے اندازے سے عصر،مغرب اور عشاءکی نماز یں پڑھیں کہ وقت معلوم ہی نہیں تھا اور دن رات کی بھی کوئی خبر نہ تھی۔ آخر کارمیرے دو صفحے کی تحریر افسر کو پیش کی گئی ،خوش قسمتی سے اسے دیر ہورہی تھی اس لیے آج دوبارہ میری پیشی نہیں ہوئی اورمجھے بغیر کسی مزید کارروائی کے سیل بھیج دیا گیا یہاں آکر پتہ چل کہ ابھی تو مغرب کا وقت بھی داخل نہیں ہوا۔

رات کو سیل میں موجود دوسرے قیدی بھائیوں سے تعارف ہوا اور ان پر تفتیش کے دوران ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے تھے اس کی تفصیل سن کر میرے بھی اوسان خطا ہوگئے ۔بہرحال رات کٹ گئی۔صبح ہوتے ہی قیدیوں کی تفتیش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔فراعنۂ عصر بیٹھے قیدیوں کی تفتیش کررہے تھے۔مجھے بھی ہاتھ باندھ کر اور پٹی ٹوپی پہنا کر ایک فرعون کے سامنے پیش کیا گیا ۔اللہ کے دشمن نے مجھے دیکھتے ہی میری لکھی ہوئی دو صفحے کی تحریر گندی گالیوں سمیت میرے منہ پر دے ماری اور کہا ،’’یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے،یہاں میں نے بڑے بڑے کمانڈروں کو زیر کیا ہے تم کیا چیز ہو مجھے دھوکہ دینے والے‘‘۔ گھنٹی بجائی تو مارپیٹ کے ماہرین دومسٹنڈے مخصوص ڈنڈوں سمیت آدھمکے۔ مارنے کا حکم ملتے ہی وہ مجھے بے دردی سے مارنے لگے۔پہلی جیلوں میں مار پیٹ کی وجہ سے میرے اعضا مزید سختی برداشت کرنے سے قاصر تھے لیکن پھر بھی ان کو کوئی معلومات نہیں دیں، بحمد اللہ۔اب غصے کی وجہ سے اللہ کے دشمنوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔گالم گلوچ کے بعد ان مسٹنڈوں کو رخصت کیا گیا اور دوسرے افسروں کو بلاکران کے ذریعے مجھ سے منت سماجت کی گئی کہ یہ صاحب تو بڑے سخت ہیں پھر بھی تجھ سے اتنی رعایت کی اس لیے تمہاری خیر اسی میں ہے کہ سچ سچ بتاکر جلد ازجلد گلو خلاصی کرلو۔لیکن میں نہ ماننے کی پرانی ریت پر قائم رہا۔

ایک بارپھر خطرے کی گھنٹی بجائی گئی اور دیوہیکل مسٹنڈے ڈنڈے ہاتھ میں لیے نمودار ہوگئے۔ ان جابروں کو مجھے الٹا لٹکاکر مارنے کا حکم دیا گیا۔ایک بانس کے دونوں سرے کرسی اورمیز پر اوپر رکھ کر بانس کے درمیان میں مجھے لٹکایا گیا۔دھمکی پر دھمکیاں دی گئیں کہ مرنا چاہتے ہو یا سچ بولوگے۔میں نے کہا سچ بولتا ہوں ۔پوچھنے لگا کن کن ’’دہشت گردوں‘‘کا ساتھ دیا ہے۔ حیران ہوا کیا بولوں؟ میں چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہوگیا تھا کہ میری رانوں پر ہر طرف سے کاری ضربوں کی بوچھاڑ ہونے لگی۔مجھے پھر بھی اللہ نے استقامت دی۔تو اللہ کے دشمن پریشان ہوئے اور کچھ دیر بعد تفتیش کا ایک ایسا مرحلہ شروع ہوا جس کا سامنا میرے بس سے باہر تھا۔

اب باری باری گواہ آتے رہے اورمیرے خلاف گواہی دیتے رہے۔کوئی کہتا میں نےاس کومیران شاہ کے فلاں ہوٹل میں دیکھا ہے اور کوئی کہتا میں وانا کے فلاں مرکز میں مجاہدین کے ساتھ تھا ۔گواہ رخصت ہوئے تو پھر میری شامت آگئی۔بے تحاشا مارپیٹ شروع ہوئی ،گالیاں اس پر مستزاد تھیں۔آخر کار میں نے مجبور ہوکر چاروناچار اعتراف کیا کہ ہاں میں مجاہدین کا ساتھی تھا فلاں مجاہد کو ہوٹل میں اور فلاں کو فلاں کوٹھی میں پناہ دی تھی۔بس اب ان کی تسلی ہوگئی ۔میرے ہاتھ پاؤں کھول کر مجھے کھڑا کردیا گیا لیکن میں کھڑا ہونے کے قابل نہیں تھا، لڑکھڑا کر گرنے لگا تو گندی گالیاں دے کہا کہ تم ڈرامہ بازیاں کرتے ہو۔اب مجھے کرسی پر بٹھاکرنمک ملا پانی پلایا گیا اور آئندہ کے لیے اسی طرح سچ بولنے کی نصیحت کرکے سیل بھیج دیا گیا۔سیل پہنچ کر مغرب ہوچکی تھی ۔

مغرب پڑھی تو اپنے سیل میں اوردوسرے سیلوں میں موجودساتھی تسلی دینے لگے۔مجھے قریبی سیل میں موجود اس ساتھی کی حوصلہ افزائی کے میٹھے بول اب بھی یاد ہیں ۔انہوں نے فرمایا:

’’بھائی غم نہ کرو یہ اللہ کا دین ہے کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔شکر کرو ہمیں ہمارے رب نے ان نفوس قدسیہ کے مشابہ ہونے کی سعادت بخشی ہے جنہوں نے اللہ کے دین کی خاطر مار پیٹ اور ذلیل ہونے کا سامنا کیا لیکن اللہ کے دین کو نہیں چھوڑا۔ہم بھی اللہ کے دین کی نصرت کرتے رہیں گے، ان شاء اللہ!‘‘

دوسرے سیل سے آواز آئی :

’’بھائی جان ڈٹے رہنا۔ان اذیتوں سے ہمیں دین پر استقامت نصیب ہوگی۔ صحابہ کو اسی لیے یہ دین اپنی جان ومال سے زیادہ عزیز تھا کہ انہوں نے اس کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے رہیں گے، ان شاء اللہ!‘‘

رات کو نماز بیٹھ کر پڑھی۔جسم کا ہرعضو چیخ چیخ کرفریاد کررہا تھا کہ اتنے میں قیدیوں کی محفل سجی ۔ترانوں پہ ترانے شروع ہو گئے۔ایسا دکھائی دے رہا تھا گویا جیل نہیں مجاہدین کا کوئی مرکز ہے۔یہاں تو بات کرنے کی بھی اجازت نہ تھی لیکن عشاء کے بعد بعض اوقات جیل کے اعلیٰ حکام (ادنیٰ صلیبی غلام)غائب ہونے کی وجہ سے عام عملہ ٹی وی کے گرد بیٹھ کر قیدیوں کو بھول جاتا۔اس وقت سے فائدہ اٹھاکرقیدیوں کوکبھی کبھارمحفل سجانے کا موقع ملتا۔آج میری خوش قسمتی تھی کیونکہ اس محفل کی وجہ سے میں اپنے سارے دکھ اور غم بھو ل گیا تھا۔ایک نظم کے بول اس طرح تھے ……

نبی ؐ کے صحابہؓ کے رستے پہ چل کے دلوں کا سکوں ہم نے حاصل کیا ہے
لگا ہے نشہ جب سے جنت کا ہم کو،اچاٹ اپنا جی اس جہاں سے ہوا ہے

یہ نظم ختم ہوئی تو ساتھی ایک قاری صاحب کی منت سماجت کرنے لگے کہ یار آج ضرور وہ کانٹوں والی نظم پڑھیں۔قاری صاحب نے راضی ہوکر نظم شروع کی ۔اس نظم نے تو گویا میرے زخموں سے چور بدن کے لیے مرہم کا کام دیا۔نظم کا’طرح‘اس طرح تھا……

راہ وفا میں ہر سو کانٹے،دھوپ زیادہ سائے کم
لیکن اس پر چلنے والے خوش ہی رہے پچھتائے کم

اس کے بعد ایک انجنیئر صاحب بغیر کسی منت سماجت کے اس طرح گنگنانے لگے……

نشیب دنیا کے اے اسیرو! فراز تم کو بلا رہا ہے
ہیں جنتیں منتظر تمہاری محاذ تم کو بلا رہا ہے

اس نظم کےدل میں اتر جانے والے چندا شعار یہ بھی تھے،

دلیل کیا مجھ سے مانگتے ہو نبی ؐ کی امت کا حال دیکھو
قدم گھروں سے نکالنے کا جواز تم کو بلا رہا ہے
اذان ہی دے کے سو نہ جانا ابھی فلسطین تک ہے جانا
تمہارے مالک کا عفو بندہ نواز تم کو بلا رہا ہے

یہ محفل رات گئے تک جاری رہتی اگر بدبخت فوجی ’سب اچھا‘ کی آواز نہ لگاتا۔ الحمد للہ رات بڑے آرام سے کٹ گئی۔

صبح تفتیش کا خطرہ تھا لیکن شکر ہے کہ ایک ہفتے تک کوئی تفتیش نہیں ہوئی۔بس کھاتے پیتے،تلاوت کرتے اور ایک دوسرے سے گپ شپ میں وقت گزارتے۔گپ شپ بھی ماشاء اللہ بڑی خیر کا باعث ہوتی۔اکثر ساتھیوں نے محاذ پر وقت گزارا تھا۔محاذکے بِیتےدنوں کی کہانیاں بڑی دلچسپ اور سبق آموز ہوا کرتی تھیں۔ یہاں چھوٹے بڑے سب اکٹھے ہوگئے تھے۔ ہم جیسے چھوٹوں کو تو اللہ نے ان اولیا سے استفادے کا ایک نادر موقع عطا فرمایا تھا۔ان اولیا نےتو جیل کو بالکل مدرسہ بنا رکھا تھا۔میں نے خودجیل ہی میں تجوید مکمل کی۔جیل سے پہلے میرے لیے ’ق‘ اور ’ک‘ میں فرق کرنا مشکل تھا اوراب ما شا ءاللہ ’ر‘ کے باریک اور پُر پڑھنے کا بھی ماہر ہوگیا تھا۔ ان اولیا کے ساتھ میری معیت کے بارے میں مجھے گرفتاری سے چند دن پہلے اشارہ مل گیا تھا۔ہوا یوں کہ ایک دن کام پر جاکرابھی میں نے ایک گاہک بھی فارغ نہیں کیا تھا کہ ایک قاری صاحب دکان پر آئے اور کہا کہ ’’بھائی جان!آج رات میں نے خواب دیکھا کہ آپ بڑے بڑے اولیا کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ پس اب اللہ نے اس خواب کی تعبیر کے مطابق جیل کی صورت میں مجھے اولیا کی صحبت نصیب فرمائی تھی۔ الغرض جیل ہمارے لیے ایک تربیت گا ہ کاکام دے رہی تھی۔

تفتیش تو ختم ہوگئی ۔نسبتاً آسانی ہوگئی لیکن ہمارا آرام سے جیل کاٹنا ان بدبختوں کو ایک آنکھ نہ بھاتا۔قیدیوں کو بات بات پر تنگ کرنا ظالموں کا معمول تھا۔اور جب کسی نئے بندے کو گرفتار کرتے توقیدیوں کو باری باری تفتیش کے مقام پر لے جاتے اورگرفتار شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے۔جان پہچان سے انکار کرنے والوں کو مارتے پیٹتے اور گالیاں دے کر واپس سیل بھجوا دیتے۔قیدیوں کو تنگ کرنے کا ایک بہانہ ’ہفتہ وارتلاشی‘ تھی۔اس دوران قیدیوں کو ہاتھ اٹھا نے کا حکم دے کر دیوار کے ساتھ کھڑاکردیتے،آنکھیں پہلے ہی پٹی ٹوپی سے ڈھانپ دیتے۔تلاشی کے دوران قیدیوں کی شرم گاہوں تک پر ہاتھ پھیرتے حالانکہ اس تلاشی کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی کیونکہ قیدیوں کو تو اپنی مرضی سے چلنے پھرنے کی اجازت بھی نہیں تھی اور تفتیش کے لیے بھی انہی کی نگرانی میں چھپے منہ آناجانا ہوتا لیکن یہ سب صرف اپنے بغض اور کینہ پروری کی خاطر کرتے۔

اس کے بعد مجھے کئی بار الٹا لٹکایا گیا تھا اس مقصد کے لیے کہ میں ان کو مزید معلومات دوں لیکن ایک تو میرے پاس مزید معلومات تھیں ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ اب میں دوسرے قیدی بھائیوں کی طرح چھوٹی موٹی سزائیں سہنے کا عادی ہوگیا تھا۔گویا اب ہم پر غالؔب کا یہ شعر صادق آنے لگا تھا ……

رنج سے خوگر ہُوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

آخر کارچند سال گزارنے کے بعد اللہ نے ہماری آزمائش آسان کردی ۔میں ابھی چاشت کی نماز کی تیاری کررہا تھا کہ مجھے ادنی ٰ امریکی غلاموں کے سامنے پیش کیا گیا۔یہ دوتین بدبخت افسر تھے۔ پہلے مجھے ہدایات دی گئیں کہ آئندہ کے لیے ان لوگوں سے دور رہنا اور کوئی خود سے آپ کے پاس آئے تو اس فون نمبر پر ہمیں مطلع کرنا۔یہ ہدایت بھی کی کہ جیل میں جو کچھ دیکھا سنا ہے اس کا ذکر کسی کے سامنے نہ کرنا۔میں نے دل میں کہا ’’کسی سے کہنے کا کیا فائدہ ،تم تو ویسے بھی گولی کے سوا کوئی زبان نہیں جانتے‘‘۔پھر میرے ہاتھ باندھ کر اور ٹوپی پہناکر گاڑی میں بٹھایا گیا اور چند کلو میٹر طے کرنے کے بعد ایک سڑک کے کنارے بے یارومددگار چھوڑدیا گیا۔ ہوش وحواس بحال ہونے کے بعد میں نے ایک شخص سے مسجد کا راستہ معلوم کیا وہاں جاکر دو رکعت نفل پڑھے اور ہاتھ اٹھائے تو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اپنے کریم اور مہربان رب کا شکر ادا کروں ۔بس اپنے رب کے سامنے روتا رہا اور روتے ہوئے بے اختیا رقرآن پاک کی یہ دعا میری زبان پر جاری ہوگئی:

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ!

گھر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی طرح میرا بھی سب کچھ اللہ کا دیا دوگنا ہو چکا تھا ۔

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

٭٭٭٭٭

Previous Post

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 5

Next Post

انجنیئر محمد ارسلان علی بیگ شہیدؒ

Related Posts

اداریہ

بس شریعت! شریعت! پکارو بھی اب

18 اکتوبر 2020
تزکیہ و احسان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | چودہویں قسط(آخری)

18 اکتوبر 2020
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اکتوبر ۲۰۲۰

18 اکتوبر 2020
حلقۂ مجاہد

قبولیتِ جِہاد کی شرائِط | ۱

18 اکتوبر 2020
نشریات

صدی کا بہترین سودا…یا…صدیوں سے جاری صلیبی جنگ؟! | پہلی قسط

18 اکتوبر 2020
نشریات

کون ہے جو ابنِ زاید سے نمٹے…… کہ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت پہنچائی ہے!

18 اکتوبر 2020
Next Post

انجنیئر محمد ارسلان علی بیگ شہیدؒ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version