ذرابرِّ صغیر کا جائزہ لیجیے۔برما سے شروع کیجیے، وہاں برمی مسلمانوں کے چھریوں اور خنجروں سے کٹنے کے مناظر دیکھیے، لٹتی عصمتیں، جلتے گھر، یتیم بچے اور بے آسرا، یاس و حسرت کی تصویر وہاں کی عورتیں، بوڑھے اور مرد۔ڈھاکہ میں نیلام ہوتی عزت و غیرتِ اسلام اور ہندوؤں کے ماتحت مسلمانوں کو رام کرتی ’تیسویں‘ بھارتی ریاست دیکھیے، ہندوتوا اور سیکولر ازم کی پرچارک بھارتی مقبوضہ بنگلہ دیشی ریاست۔ دِلی میں مسلمانوں کے لیے برپا ’برما‘، ’بوسنیا‘ اور ’مشرقی تیمور‘ دیکھیے، کورونا وائرس کو مسلم وائرس اور گاؤ کشی کے بدلے مسلم کشی! کشمیر میں پیلٹ گنوں کی نذر ہونے والی نابینا جوانیوں ، دریدہ آنچلوں اور لہو رنگ چناروں کو دیکھیے۔ یہ سب مناظر دیکھنے کے بعد ’مرکزِ یقین‘ کو دیکھیے۔ وہ مرکزِ یقین جس کو مدینۂ ثانی بننا تھا اور جس مدینۂ ثانی نے یہود سے لے کر ہنود تک سب ہی کو لگام ڈالنی تھی اور جس نے اس ظلم کی چکی کے پاٹوں کو پاش پاش کرنا تھا جس میں مشرق و مغرب کے مسلمان پِس رہے ہیں۔
صرف پچھلے ایک ماہ میں پاکستان کے حالات کا جائزہ لیجیے۔ یہاں چند سال کی معصوم کلیوں سے لے کر معصوم کلیوں کی ماؤں تک کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں۔ کراچی کی چار سالہ ’مروہ‘ کو درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد ، قتل کیا گیا، پہچانی نہ جائے اس لیے اینٹیں مار مار کر چہرہ مسخ کیا اور پھر ایک کچرا کنڈی میں اس مسلی ہوئی کلی کو پھینک دیا۔ لاہور کے سگیاں پل سے لے کر لاہور–سیالکوٹ موٹر وے پر امتِ محمد یہ (علیٰ صاحبہا صلاۃ و سلام) کی بیٹیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کی اقتصادی شہ رگ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے۔ باب الاسلام کراچی جو کُل پاکستان کی چالیس فیصد آمدن پیدا کر کے دیتا ہے تباہ و برباد کیا جا چکا ہے۔ دنیا کے ساتویں بڑے شہر میں بجلی کا نظام، سرکاری مواصلاتی نظام، سڑکیں، بلدیہ سب صفر ہے اور طبی نظام تو پہلے ہی نجی ادارے چلا رہے ہیں۔
سیاسی اکھاڑوں میں ’ہڈی‘ پر لڑائی جاری ہے اور یہ سب ’پاک‘ فوج کی زیرِ نگرانی ’پاک‘ فوج کی آشیرباد سے ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں اور جن کو میسر ہے تو ان سے چھیننے کے لیے حکومت میں موجود وردی والوں سے لے کر بے وردی والوں تک سب چوکس ہیں۔ جو ہڈی روٹی ان چوکس لوگوں کے منہ سے گر جاتی ہے تو اس کو عوام میں موجود لٹیرے اٹھا لیتے ہیں۔
نصابِ تعلیم یکساں کیا جا رہا ہے اور اب بقولِ وزیرِ تعلیم جو لوٹ مار پہلے سول بیوروکریسی، فوج و پولیس میں بھرتی ہو کر سکول کالجوں والوں کے لیے روا تھی، اب اہلِ مدارس کے لیے بھی انہی ملازمتوں کے پھندے تیار کیے گئے ہیں۔ نصابِ تعلیم کو یکساں بنانے کا عمل ملک کو ’منافقانہ–سیکولرازم‘ کی طرف لے جانے کی سعی ہے۔
عدالتوں میں ’انصاف‘ بِک رہا ہے، گاڑی چڑھا کر ٹریفک کانسٹیبل کو قتل کرنے والے سابقہ رکنِ صوبائی اسمبلی کو با عزت بری کر دیا گیا ہے۔ شراب و شباب سپلائی کرنے والوں کو بری کیا جا رہا ہے۔
یہ سارے منظر دیکھنے کے بعد ’راہنماؤں‘ کو دیکھیے۔ عمران خان و باجوہ ، بزدار و مراد علی شاہ راہنما نہیں ہیں، یہ تو کھلے راہزن ہیں۔ راہنماؤں کا حال یہ ہے کہ دِہائیوں تک جمہوریت کی غلام گردشوں میں بھٹکنے کے بعد آج بھی لوگوں کو اسی نظام کے اندر سے کسی ’فلاحی‘ اور کسی ’اسلامی‘ ریاستی نظام کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حکومتِ وقت ہی کشمیر کو آزاد کروانے کے لیے جہاد کا ’اعلان‘ کرے گی، کراچی تا خیبر بجلی بھی حکومت دے گی، انصاف بھی انہی عدالتوں کو دینا ہے، بس قانون پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ان کا خیال اب بھی پختہ ہے کہ ملک کو بچانے والے کلیدی اداروں میں ’فوج‘ شامل ہے اور سی سی پی او لاہور جیسے بھتہ خور، راشی اور بدکار افسروں پر مبنی یہ پولیس ہماری ہی پولیس ہے، بس کچھ افسر یہاں سے وہاں اور کچھ ڈی آئی جی بظاہر متشرع قسم کے لگ جائیں تو سب اچھا ہو جائے گا۔
دہائیوں کی بے معنیٰ کوششوں کے بعد بھی قصہ مختصر حل اسی الیکشن، اسی سیاست، انہی اداروں، اسی بیوروکریسی، اسی فوجی نظام، اسی عدالتی نظام، اسی پولیس و تھانہ کلچر اور اسی معاشی و انتظامی نظام میں بتایا اور تلاشا جا رہا ہے۔ آج جس قدر مایوسی اور اندھیرے کا راج ہے، شاید پرویز مشرف، زرداری و کیانی اور نواز شریف و راحیل شریف کے زمانے میں بھی نہ تھا۔ سابقہ ادوار میں عوام کو ایک ٹرک کی بتی سے ہٹا کر دوسری کے پیچھے لگایا جاتا تھا، لیکن آج تو ایک ہی ٹرک ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر اس کی بتی کے پیچھے نہ بھاگے تو’ پاکستان گیا‘!
صداقت و حقیقت بھی یہی ہے کہ اوپر ذکر کیے اداروں، نظاموں اور ٹرک کی بتیوں کا پیچھا کرنے کا صد فی صد نتیجہ ’پاکستان گیا‘ ہی ہو گا۔
ہماری دعوت پاکستان پر ہم ’مجاہدین‘ کو قابض کرنے کی دعوت نہیں۔ ہم تو یہ دعوت دے رہے ہیں کہ نظامِ شریعت کو حاکم بنا لیا جائے اور نظامِ شریعت موجودہ جاری نظام سے کلیتاً مختلف ہے۔ موجودہ نظام اندھیرا جبکہ شریعت اجالا ہے، موجودہ نظام آگ جبکہ شریعت پانی ہے، موجودہ نظام مبنی بر کفر و الحاد ہے اور شریعت خدا و رسولؐ کی اطاعت ہے۔ہماری دعوت وہی دعوت ہے جو ہمارے قائد و راہنما حضرت سید احمد شہیؒد بیان کر گئے ہیں کہ:
’’ اگر اسلامی ملک آزاد ہوجائے اور ریاست وسیاست اور قضا وعدالت میں شرعی قوانین کو مدارِ عمل بنالیا جائے تو میرا مقصد پورا ہوجائے گا۔ خود مالکِ سلطنت بننے کے بجائے مجھے یہ پسند ہے کہ تمام اقطاع میں عادل فرماں رواؤں کی حکمرانی کا سکہ جاری ہوجائے۔‘‘
اور آپ نے کس وضاحت سے مزید فرمایا:
’’ اس ملک (یعنی مغربی ہند) کو مشرکین کی نجاستوں سے پاک اور منافقین کی گندگی سے صاف کرنے کے بعد حکومت وسلطنت کا استحقاق، ریاست اور انتظامِ سلطنت کی استعداد رکھنے والوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وہ احسانِ خداوندی کا شکر بجا لائیں گے اورہر حال میں جہاد کو قائم رکھیں گے اور کبھی اس کو موقوف نہیں کریں گے اور انصاف ومقدمات کے فیصلے میں شرع شریف کے قوانین سے بال بھر بھی تجاوز اور انحراف نہیں کریں گے اور ظلم وفسق سے کلیتاً اجتناب کریں گے۔ اس کے بعد میں اپنے مجاہدین کے ساتھ ہندوستان کا رخ کروں گا تاکہ اس کو شرک اور کفر سے پاک کیا جائے۔ اس لیے کہ میرا مقصود اصلی ہندوستان پر جہاد ہے۔‘‘
پس آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہائیوں کا قرض جو ہر لمحے بحیثیتِ قوم، بحیثیتِ علمائے دین، بحیثیتِ اصحابِ حل و عقد، بحیثیتِ اسلامی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین، اسلامی مفکرین و دانشور، اسلامی صحافی و اساتذۂ عالی قدر، الغرض جس جس حیثیت میں ہم موجود ہیں، تو یہ قرض ہر لمحے ہم پر بڑھتا جا رہا ہے ۔ اللّٰہ کی شریعت کو نافذ کرنے کے لیے، اقامتِ دینُ اللّٰہ کے لیے ہم پر محنتیں کھپانا اور جد و جہد کرنا ہر ہر دقیقے کے ساتھ مزید واجب ہوتا جا رہا ہے۔
اور اگر ہم آج بھی اصلاح کے لیے اسی نظام میں حل ڈھونڈنے کی سعی کرتے رہے تو یہ خسارہ اس خسارے سے زیادہ ہے جو یومیہ پاکستان کی معیشت کو تین سے چار ارب روپے کے درمیان کم از کم ہو رہا ہے1۔ شریعت کی اقامت کے لیے ، شریعت کے بتائے طریقے کے مطابق سعی نہ کرنے کا نقصان یا کسی اور ’فلاحی‘ اور ’خوشحال‘ ریاست کے لیے محنتیں کھپانے کا نقصان دنیا میں ذلت کا سامان ہے ہی، خدانخواستہ آخرت کے خسارے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
أللھم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ، آمین یا ربّ العالمین!
٭٭٭٭٭
1 سوا (1.25)ارب روپے کا یومیہ نقصان تو صرف ’واپڈا‘ کر رہا ہے اور یہ عمران خان نے اپنی حکومت کے دو سال پورے ہونے پر صحافی کامران خان کو انٹرویو میں اقرار کیا ہے، جبکہ ۲۰۱۳ء کے الیکشن سے قبل عمران خان نے صحافی حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ واپڈا ایک ارب روپے یومیہ کا نقصان کر رہاہے۔ یعنی خسارہ اس ’تبدیلی‘ حکومت میں بڑھا ہے، گھٹا نہیں ہے۔ اور دکھ و غم کی بات یہ ہے کہ یہ خسارہ غریب عوام کی جیب سے پورا کیا جائے گا، جس کا عندیہ عمران خان گاہے بگاہے دیتا رہتا ہے، إنا للّٰہ و إنا إلیہ راجعون!








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



