ألحمد للہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین ولا عدوان إلا علی الظالمین،
والصلاۃ والسلام علی النبي الأمین نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.
أما بعد!
میرے مسلمان بھائیو!
آج میں اس واقعے پر بات کرنا چاہتا ہوں جس کا متحدہ عرب امارات کی حکومت اور اس کے ولی عہد محمد بن زاید کے ہاتھوں پیش آنا کسی طور بھی غیر متوقع نہ تھا…… وہ محمد بن زاید جو آج خوشی خوشی دشمنانِ دین کی صف کا حصہ بن گیا ہے اور کسی بھی ایسے کام سے دریغ نہیں کرتا جو اس کے یہودی ونصرانی دوستوں کے مفاد سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ واقعہ جس پر میں بات کرنا چاہتا ہوں، وہ محمد بن زاید کی طرف سے فلسطین پر غاصب یہودیوں کے ساتھ امن کے معاہدے کا اعلان ہے۔ اس کی یہ حرکت اس کے سابقہ خسیس مواقف سے کچھ مختلف نہیں، اور نہ ہی اس کے یہودیوں کے ساتھ تعلقات کسی پر مخفی تھے۔ یہ واقعہ تو بس ان تعلقات کی علی الاعلان تشہیر ہے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی کتاب میں اس قسم کی حرکتوں سے باخبر کردیا تھا اور ایسے خائنین کے اپنے دوستوں یہود ونصاریٰ سے متعلق رجحانات بھی واضح کردیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ (سورۃ المائدۃ: ۵۱-۵۲)
’’اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ۔ یہ تو ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو کوئی ان سے دوستی کرے گا، تو وہ انہی میں شمار ہوگا۔بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ پس (اے نبیﷺ!) آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے، وہ ان یہود ونصاریٰ کے پیچھے دوڑے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں حالات کی گردش کا خوف ہے۔ پس شاید کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مسلمانوں کو فتح دے دیں، یا کوئی دوسرا فیصلہ فرمادیں تو یہ لوگ اپنے کیے پر سخت پچھتاویں گے۔‘‘
اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ہمیں ایسے لوگوں کے بارے میں خبردار کردیا تھا جو اس قسم کے افعال کے مرتکب ہوتے ہیں ،اور دین، اخلاق، مروت، حیا…… کسی چیز کا لحاظ نہیں کرتے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’لوگوں کے پاس سابقہ انبیا علیہم السلام کی جو باتیں پہنچی ہیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ جب تم حیا چھوڑ دو تو پھر جو جی میں آئے کرو۔‘‘(بخاری)
عرب امارات کے حکمرانوں کی طرف سے یہ حرکت خود خطے کے دیگر حکمرانوں کے لیے ایک تمہید ہے، جن میں سرِ فہرست آلِ سعود کے حکام اور ان کا ولی عہد محمد بن سلمان ہے۔ بہت جلد دیکھنے والے دیکھ لیں گے۔
اور ہم نے عرب امارات کی اس حرکت پر مصر، بحرین اور ایسے ہی دیگر ممالک کی مبارکباد اور حمایت کے پیغامات بھی دیکھے ہیں اور سوڈانی حکومت تو حالات کی نزاکت کو دیکھ رہی ہے اور بس موقع کی تلاش میں ہے (کہ وہ بھی اس اقدام میں حصہ ڈالے)۔
امارات اسرائیل کے اس معاہدے پر ہم بھی کچھ نکات سامنے رکھنا چاہتے ہیں:
پہلی بات جو انتہائی عجیب ہے، وہ یہ ہے کہ اس معاہدے کو اللہ کے نبی سیدنا ابراہیم (علیہ الصلاۃ والسلام وعلی نبینا محمد) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، اس زعم پر کہ وہ تینوں ادیان (اسلام، یہودیت اور عیسائیت) کے بڑے ہیں، اور تاکہ دنیا کو یہ دھوکہ دیا جاسکے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہود ونصاریٰ سے بھی تعلق تھا۔ اللہ کی قسم! یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر ایک کھلا جھوٹ اور بہتان ہے۔ اللہ کی کتاب کی رو سے یہ زعم خود انہی پر پلٹتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيّاً وَلاَ نَصْرَانِيّاً وَلَكِن كَانَ حَنِيفاً مُّسْلِماً وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَاللّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ (سورۃ آلِ عمران: ۶۷-۶۸)
’’ابراہیم (علیہ السلام) نہ ہی یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی، بلکہ اللہ کے لیے یکسو اور مسلمان تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزمانﷺ) ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ان (آخری نبی ﷺ) پر ایمان لائے، اور اللہ مومنین کا کارساز ہے۔‘‘
اور اگر آج یہ نبی (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) خود موجود ہوتے تو وہ سب سے پہلے مسلمانوں پر مسلط ان کافر حکام اور ان کے دوستوں سےاللہ کے حضور برأت کرتے۔ یہ کیسے نہ ہوتا جبکہ وہ ولاء وبراء کے امام ہیں، جن کی اتباع کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور جن کے اسوے پر چلنے کی تاکید کی گئی ہے۔ میرے رب نے فرمایا:
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَاء مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَداً حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ (سورۃ الممتحنہ: ۴)
’’تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے انکاری ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔‘‘
دوسری بات جو تمسخر آمیز ہے، وہ اس معاہدے کو ’’اتفاق سلام‘‘ یعنی ’امن وسلامتی کے معاہدے‘ سے موسوم کیا جانا ہے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ پہلے کب امارات کی ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ تھی، جو اب یہ امن پر اتفاق کر رہے ہیں؟ اور کیا دنیا میں کسی نے دیکھا ہے کہ یہ ریاستیں فلسطین کی حمایت میں کھڑی ہوئی ہوں، سوائے اس کے کہ حقیقت سے خالی مذمتی بیانات دیے جاتے رہے!!
اور یہ تو لوگوں کی عقلوں کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہیں جب یہ کہتے ہیں کہ وہ اس معاہدے سے یہود کے فلسطینی علاقوں پر مزید قبضے کو روکنا چاہتے ہیں، حالانکہ اس بات کی نفی یہودی خود کر رہے ہیں، جیسا کہ ان کے وزیرِ اعظم ’بنیامین نیتن یاہو‘ نے کہا۔1
جہاں تک دیگر مسلم ممالک کے رسمی مواقف اور حکومتی ردِ عمل کا تعلق ہے تو یہ بھی کوئی غیر متوقع نہ تھے، گویا کان پر جوں تک نہ رینگی۔ یہاں تک کہ سفارتی سطح پر بھی کوئی ہلچل نہ ہوئی۔ نہ ہی کسی نے امارات کے سفیر کو ملک بدر کیا، نہ سفارت خانے بند کیے اور نہ ہی کسی نے امارات سے تعلق قطع کیا۔ عادتاً بس مذمتی بیانات جاری کیے گئے۔
محمدبن زاید کو ان مواقف کاپہلے سے علم تھا اور وہ جانتا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مواقف بھی بدل جائیں گے، نہیں تو وہ جو امدادی رقم ادا کرتا ہے، اس کی بدولت بدل جائیں گے۔
سبحان اللہ! دیکھیے کہ کیسا بڑا فرق ہے ان مواقف میں۔ جس وقت انور سادات نے کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ کیا تھا تو تمام عرب ریاستوں نے ۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۹ء تک مصر سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ حالانکہ مصر نے تو باضابطہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کی تھی، اور دونوں نے ایک دوسرے سے نقصان اٹھایا تھا۔ اور عراق نے بغداد میں ۲ نومبر ۱۹۷۸ء کو عرب ریاستوں کی سربراہی کانفرنس بلائی جس میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو رد کیا گیا، جامعہ عربیہ کے مرکز کو مصر سے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اور اس سے مصر کی رکنیت کو ختم کر دیا گیا۔ اس کانفرنس میں دسیوں عرب ریاستیں شامل ہوئیں جنہوں نے ’پی ایل او‘ کی حمایت کی تھی۔ اور اس کانفرنس کو ’جبھۃ الرفض‘ (انکاری محاذ) کا نام دیا گیا تھا۔ اسی طرح ۲۰ نومبر ۱۹۷۹ء کو تیونس سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں مصر سے قطع تعلق کو جاری رکھنے کی قرار داد منظور کی گئی تھی۔ مزید خود مصر کے اندر شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا، یہاں تک کہ حکومتی حلقوں میں بھی مخالفت ہوئی۔ اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ محمد ابراہیم کامل نے استعفیٰ دے دیا تھا اور اسے ’مذبحۃ التنازلات‘ (پسپائی کی گھاٹی) کا نام دیا تھا۔یہی نہیں، بلکہ یہی معاہدہ ۶ اکتوبر ۱۹۸۱ء کو عسکری کارروائی میں پانچ نوجوانانِ اسلام کے ہاتھوں ’انور سادات‘ کے قتل کا سبب بنا، وہ نوجوان جنہوں نے فلسطین اور رسول اللہﷺ کے مقامِ اسریٰ بیت المقدس کی غیرت وناموس میں یہ کام کیا۔ یہ نوجوانان خالد اسلامبولی، عطا طائل، الشیخ محمد عبد السلام، عبد الحمید عبد السلام اور حسین عباس رحمہم اللہ تھے، اور یہ اکثر مصری فوج کے افسران تھے۔
جہاں تک ان مسلمانوں کا تعلق ہے جنہوں نے محمد بن زاید کے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے، تو اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو روشن کردے، ان کے اس کام پر انہیں بہترین بدلہ دے، اور بہترین اجر دے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ خود امارات کے مسلمان بھی اس حرکت کے مخالف ہیں، اور اس مجرم محمد بن زایدکی سیاسیات سے سخت متنفر ہیں۔ اور ہم منتظر ہیں کہ ان سے وہی اقدام دیکھیں جو اقدام خالد اسلامبولی اور ان کے ساتھیوں نے کیا تھا۔
پس اے نوجوانانِ اسلام! دین کی نصرت کے لیے اٹھیے، اور اپنے مقدسات کے دفاع کے لیے اٹھیے جس پر یہود ونصاریٰ اور ان کے آلۂ کار مسلط ہیں، اور اکابر مجرمین کی ٹارگٹ کلنگ کی سنت کو زندہ کیجیے جسے رسول اللہﷺ کے اصحاب نے آپﷺ کی تائید سے قائم کیا تھا! جیسا کہ محمد بن مسلمہؓ اور آپ کے ساتھیوں نے کعب بن اشرف یہودی کو قتل کیا تھا، اور عبداللہ بن عتیکؓ اور آپ کے ساتھیوں نے اللہ کے دشمن سلام بن ابی الحقیق کو قتل کیا تھا، اور عبداللہ بن انیس نے اکیلے اللہ کے دشمن خالد بن سفیان ہذلی کو قتل کیا تھا۔
اور اس دور میں ہم نے کئی مثالیں دیکھیں، جیسا کہ خالد اسلامبولی اور آپ کے ساتھیوں نے کیا۔ پس کون ہے جو بن زاید اور ابن سلمان کے لیے کھڑا ہوجائے کیونکہ انہوں نے اللہ، اس کے رسولﷺ اور مومنوں کو اذیت دی ہے، اور دین کے تمام مقدسات کو پامال کیا ہے، اور ہماری اعلیٰ اقدار پر بٹہ لگایا ہے۔
پس اے نوجوانانِ اسلام! کون ہے جو ان سے بدلہ لینے کے لیے اٹھے؟؟؟
اے ہمارے اللہ! اسلام کو باعزت کردے، اور مسلمانوں کی مدد فرما، ان مجرم حکام اور جو کوئی ان کی مدد کرے، انہیں تباہ وبرباد کردے۔
اے قوی وعزیز! ہمیں فلسطین کی مدد اور اسے آزاد کرنے، اور ہر مقبوضہ مسلم سرزمین کو یہودی غاصبین، امریکی مجرمین اور تمام دشمنانِ دین سے آزاد کرنے کی توفیق دے، اے انتقام لینے والے عظیم اللہ!
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین.
والصلاۃ والسلام علی نبینا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین.
1 اور اسی موقف کی تائید بعداً خود عرب امارات کے وزیرِ خارجہ اور نائب وزیر خارجہ نے بھی کر دی ۔(ادارہ)




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



