امیرِمحترم،صاحبِ سیف و قلم،شیخ ایمن الظواہری نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب فرسان تحت رایۃ النبی میں بہت سی قیمتی ایمانی و عسکری نصیحتوں پر مشتمل اس تاریخی ہدایت نامے کے منتخب حصے نقل کیے، جو ستمبر کی مبارک کارروائی سے پچھلی رات کو کارروائی میں شریک فدائی ساتھیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ استاد احمد فاروق نے اس ہدایت نامے کا ترجمہ کیا تھا جو اس سے قبل بھی مجلّے میں نشر ہو چکا ہے، یہ ترجمہ قارئین کے استفادے کے لیے دوبارہ نشر کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)
اس ہدایت نامے کا ہر ہر لفظ ایمان کو جلا بخشتاہے اور دلوں کا زنگ دھو ڈالنے کا ذریعہ ہے۔ جس بندۂ خدا نے بھی یہ تحریر لکھی ہے، ایسی غیر معمولی ایمانی کیفیات میں ڈوب کر لکھی ہے جس کو سمجھنا بھی ہم جیسے زنگ آلود قلوب والوں کے لیے سہل نہیں۔ اس تحریر کو پڑھنے سے اس بات کا فیصلہ بھی بآسانی کیا جا سکتا ہے کہ گیارہ ستمبر کا معرکہ نعوذ باللہ یہود کی سازش تھی یا کچھ اولیاء اللہ کی غیرتِ ایمانی سے لبریز جہد جسے محض توفیقِ الہٰی نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا؟ اس تحریرکو پڑھنے سے یہ سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے کہ فدائی کارروائیوں میں شریک بھائی کیسے عالی ایمان اور پاکیزہ کیفیات کے حامل، توحید کی حقیقت کا ادراک رکھنے والے اور رب کی معیّت سے لطف اندوز ہونے والے مجاہدین ہوتے ہیں۔ فدائی حملوں کے خلاف فتاویٰ دینے والے سرکاری مولوی صاحبان بھی کچھ لمحے توقف کر کے اس تحریر کو پڑھ لیں شاید کہ انہیں احساس ہو جائے کہ وہ ایمان کی کیسی بلندیوں پر فائز ان عجیب بندگانِ خدا پر زبان کھولنے کی جرات کرتے ہیں!
یہ ہدایا ت شہیدی کارروائیوں پر روانہ ہونے والے ہر بھائی کی خدمت میں بندہء فقیر کی جانب سے ایک چھوٹا سا تحفہ ہے جو رب کی جنتوں کی جانب سفر کے آخری مراحل میں اس کے لیے زادِ راہ بھی ثابت ہو گا اور ان شاء اللہ اس کے قدم جمانے کا ذریعہ بھی بنے گا اس تحفے کے بدلے مجھے اپنے فدائی بھائیوں سے کچھ نہیں درکارسوائے دل کی گہرائی سے نکلی دعاؤں کے جو میری مغفرت کا باعث بھی بن جائیں۔ آئیے اب دل کی آنکھوں سے اس ہدایت نامے کو پڑھیے اللہ ہمار ے قلوب کو بھی ایمان سے لبریز کر دے، شہادت کا شوق دل میں جگا دے اور خاتمہ بالخیر نصیب فرما دے!
احمد فاروق
پہلا مرحلہ
- موت پر بیعت کریں اور اپنے دل میں اس بیعت کی تجدید کرتے رہیں۔
- کارروائی کے منصوبے کو ہر پہلو سے اچھی طرح سمجھ لیں اور دشمن کی جانب سے رد عمل اور مزاحمت کی توقع بھی رکھیں۔
- سورۃ توبہ و انفال کو پڑھیں اور ان کے معانی پر غور و تدبر کریں۔ اور بالخصوص اس بات پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے شہداکے لیے کیسی دائمی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں۔
- اس رات میں اپنے آپ کو یاد دہانی کراتے رہیں کہ آپ نے اس کارروائی کے تمام مراحل کے دوران سمع و طاعت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے کیونکہ عنقریب آپ ایسے فیصلہ کن مراحل کا سامنا کرنے لگے ہیں جن میں سو فیصد سمع و طاعت لازم ہے۔ پس اپنے آپ کو امیر کی بات سننے اور ماننے کے لیے تیار کریں اور اس اہم فریضے کی ادائیگی کا جذبہ خود میں بیدار کریں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَأَطِیعُواْ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْہَبَ رِیحُکُمْ وَاصْبِرُواْ إِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِینَ(سورۃ الأنفال:۴۶)
’’اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ (متفرق اور کمزور ہو کر)بزدل ہو جاؤ گے اور (دشمنوں کے سامنے) تمہاری ہوا (یعنی قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
- قیام اللیل کا اہتمام کریں اور خوب گڑگڑا کر گریہ و زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مدد و تمکین مانگیں، فتحِ مبین مانگیں، کاموں میں آسانی طلب کریں اور یہ دعا کریں کہ اللہ ہم پہ پردے ڈالے رکھے۔
- کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اور جان لیں کہ بہترین ذکر قرآن کی تلاوت ہے۔ میرے علم کی حد تک اس بات پر علماء کا اجماع ہے اور ہمارے لیے تو بس یہی بات بہت ہے کہ یہ زمین و آسمان کے خالق کا کلام ہے، وہ خالق جس سے ملاقات کے لیے آپ رواں دواں ہیں۔
- اپنے دل کو صاف کر لیں ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک کرلیں اور دنیا نامی کسی بھی چیز کو بھول جائیں بھلا دیں! کھیل کا وقت گزر گیا وہ وعدہ جو برحق تھا آن پہنچا ہم نے زندگی کے کتنے ہی اوقات ضائع کر دیے، کیوں نہ اب یہ چند لمحات اللہ کا قرب پانے اور اس کی اطاعت کرنے میں ہی صرف کریں؟
- پورے شرحِ صدر کے ساتھ اس کام کی طرف بڑھیں کیونکہ اب آپ کے اور آپ کے اگلے نکاح کے درمیان محض چند لمحات کا فاصلہ ہے۔ ایک پاکیزہ و دل پسند زندگی کا آغاز ہوا چاہتا ہے، ہمیشہ کی نعمتیں اور انبیاء ،صدیقین، شہدا اور صالحین کی صحبت سامنے ہی کھڑی ہے اور یقیناً ان سے بہتر ساتھی و رفیق کوئی نہیں۔ہم اللہ سے اس کے اس فضل کا سوال کرتے ہیں۔ پس آپ اچھے امور سے نیک شگون لیں کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر کام میں نیک شگون لینا پسند فرماتے تھے۔
- پھر یہ بات بھی اچھی طرح ذہن میں جما لیجیے کہ اگر آپ کسی آزمائش میں مبتلا ہو گئے تو آپ کیا کریں گے؟ کیسے ثابت قدم رہیں گے؟ اور کیسے اللہ کی طرف رجوع کریں گے؟ جان لیجیے! کہ جو کچھ آپ کو پہنچا ہے آپ اس سے بچ نہیں سکتے تھے اور جس سے بچ گئے وہ کبھی پہنچنے والا نہیں تھا اور یہ یقین رکھیے کہ آزمائش اللہ کی طرف سے ہی ہوتی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کے گناہوں کو مٹائے۔ پھر یہ یقین بھی رکھیے کہ یہ بس چند لمحات ہیں، پھر اس تکلیف نے اللہ کے اذن سے چھٹ جانا ہے۔ پس خوش بخت ہے وہ جو اللہ تعالیٰ کے یہاں اجرِ عظیم کا مستحق بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذِینَ جَاہَدُوا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِینَ(سورۃ آل عمران:۱۴۲)
’’کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔‘‘
- اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی یاد رکھیے :
وَلَقَدْ کُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَأَیْتُمُوہُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ(سورۃ آل عمران:۱۴۳)
’’اور تم تو موت کے سامنے آنے سے پہلے (راہ حق میں)مرنے کی تمنا کر رہے تھے سو (وہ اب تمہارے سامنے آ گئی اور) تم نے اس کو (کھلی آنکھوں)دیکھ لیا۔‘‘
اور یہ فرمان بھی کہ:
کَم مِّن فِئَۃٍ قَلِیلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیرَۃً بِإِذْنِ اللّہِ (سورۃ البقرۃ:۲۴۹)
’’بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔‘‘
اور یہ مبارک فرمان بھی کہ:
إِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَإِن یَخْذُلْکُمْ فَمَن ذَا الَّذِی یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہِ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکِّلِ الْمُؤْمِنُونَ(سورۃ آل عمران:۱۶۰)
’’اگراللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمہیں چھوڑ دے، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘
- اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو مسنون دعاؤں کی پابندی کی یاددہانی کرواتے رہیں اور ان دعاؤں کے معانی پر غور و فکر کا اہتمام کریں۔ (یعنی صبح و شام کے اذکار، کسی نئے شہر میں داخل ہونے کے اذکار، کسی نئی جگہ پر اترنے کے اذکار، دشمن سے ٹکراؤ کے وقت کے اذکار وغیرہ۔)
- دم کرنے کا اہتمام کریں۔ (اپنے آپ پر، اپنے سامان پر، اپنے کپڑوں پر، اپنی چھری پر، اپنے آلات پر، اپنے شناختی کارڈ پر، اپنے پاسپورٹ اور ویزا پر اور اپنے تمام دستاویزات پر۔)
- روانگی سے قبل اپنے اسلحے کو اچھی طرح دیکھ لیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: ’’تم میں سے جو شخص ذبح کرنے لگے وہ اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحے کو راحت پہنچائے۔‘‘
- اپنا لباس اچھی طرح کس لیں کیونکہ یہ ہمارے صالح اسلاف کا طریقہ ہے۔ (اللہ ان سے راضی ہو۔) وہ معرکے سے قبل اپنا لباس اچھی طرح کس لیتے تھے۔
- صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھیں اور اس کے اجر پہ غور و فکر بھی کریں۔ اس کے بعد اذکار کا اہتمام کریں اور اپنے کمرے سے باہر نکلیں تو وضو ہی کی حالت میں
دوسرا مرحلہ
جب ٹیکسی آپ کو ائیر پورٹ تک لے جارہی ہو تو گاڑی میں کثرت سے اللہ کا ذکر کریں۔ (سواری کی دعا، نئے علاقے کی دعا، نئی جگہ کی دعا اور دیگر اذکار۔)
جب آپ ایئر پورٹ پر پہنچ جائیں اور ٹیکسی سے اتریں تو نئی جگہ اترنے کی دعا پڑھیں اور اس کے بعد بھی جہاں جہاں جائیں وہاں یہ دعا پڑھنے کا اہتمام کریں۔ مسکرائیے اورمطمئن ہو جائیے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کے ساتھ ہے اور ملائکہ آپ کی حفاظت کر رہے ہیں بغیر اس کے کہ آپ کو اس کا شعور ہو۔ پھر یہ دعا پڑھیے: ’’اللّٰہُ اَعزُّ مِن خَلقِہِ جَمِیعاً‘‘ اور یہ دعا ’’اللّٰھُمَّ اکْفِنِیھِم بِمَا شِئتَ‘‘ اور یہ دعا ’’اللّٰھُمَّ اِنّا نَدْرَاُ بِکَ فِی نُحُورِھِم وَنَعُوذُبِکَ مِنْ شُرُورِھِم‘‘ اور یہ دعا ’’اَللّٰھُمَّ اجْعَل لَّنَا مِن بَیْنِ اَیْدِیھِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِھِم سَدًّا فَاَغْشَیْنَاُِم فَھُمْ لَا یُبْصِرُون‘‘ اور یہ ذکر بھی پڑھیں ’’حَسبُنا اللہُ وَنِعمَ الْوَکِیل‘‘۔ اور اسے پڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ذہن میں رکھیں :
الَّذِینَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَکُمْ فَاخْشَوْہُمْ فَزَادَہُمْ إِیمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ(سورۃ آل عمران: ۱۷۳)
’’جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے۔‘‘
پس یہ ذکر پڑھ لینے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ آپ کے کام آپ کی کسی قسم کی قوت اور طاقت کے بغیر ہی کس طرح سے آسان ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کے جو بندے یہ ذکر کہہ دیں اللہ ان کو یہ تین چیزیں دیں گے:
- وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔
- انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
- وہ اللہ کی رضا والے رستے پہ چلیں گے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَانقَلَبُواْ بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْھُمْ سُوء ٌ وَاتَّبَعُواْ رِضْوَانَ اللّہِ وَاللّہُ ذُو فَضْلٍ عَظِیمٍ(سورۃ آل عمران:۱۷۴)
’’سو اس (ایمان و یقین اور صدق و اخلاص) کے نتیجے میں وہ اللہ (کی طرف)سے ملنے والی بڑی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس لوٹے، اس حال میں کہ کسی (تکلیف اور) برائی نے ان کو چھوا تک نہیں، اور انہیں اللہ کی رضا کی پیروی کا شرف بھی حاصل ہوگیا، اور اللہ بڑا ہی فضل فرمانے والا (اور نوازنے والا) ہے۔‘‘
یاد رکھیے! دشمن کی مشینیں، ان کے حفاظتی دروازے اور ان کی ٹیکنالوجی یہ سب کی سب اللہ کے اذن کے بغیر نہ نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ اسی لیے اہلِ ایمان ان سے خوف نہیں کھاتے۔ ان چیزوں سے خوف تو صرف شیطان کے ساتھی کھاتے ہیں جو درحقیقت شیطان سے ڈرتے ہیں اور اللہ ہی ہمیں شیطان کا ساتھی بننے سے اپنی پناہ میں رکھے!
یاد رکھیے! خوف ایک عظیم عبادت ہے اور یہ عبادت اللہ ہی کے لیے خالص ہونی چاہیے کیونکہ وہی اس کا اصل مستحق ہے۔ مذکورہ بالا آیات کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّمَا ذَلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاء ہُ(سورۃ آل عمران:۱۷۵)
’’(اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ)وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے تمہیں ڈرا رہا تھا۔‘‘
شیطان کے اولیادرحقیقت مغربی تہذیب کے گرویدہ وہ لوگ ہیں جن کے سینوں میں اس گندی تہذیب کی محبت و عظمت انڈیل دی گئی ہے اور جن کے دل و دماغ پر اس تہذیب کے کمزور و بے حقیقت ساز و سامان کا خوف چھا چکا ہے۔ اللہ رب العزت تو یہ فرماتے ہیں کہ:
فَلاَ تَخَافُوہُمْ وَخَافُونِ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ(سورۃ آل عمران:۱۷۵)
’’سو (آئندہ)تم ان سے ذرا بھی نہ ڈرنا اور ہم سے ڈرتے رہنا اگر تم (واقعی)مومن ہو۔‘‘
پس ذہن نشین کر لیجیے کہ خوف ایک عظیم عبادت ہے اور اللہ کے اولیاء اور اس کے مومن بندے اپنے واحد اور احد رب کے سوا جس کے ہاتھ میں ہر شے کے خزانے ہیں، کسی کو اس عبادت کا مستحق نہیں سمجھتے۔ اہلِ ایمان اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی تمام چالیں ناکام فرما دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
ذَلِکُمْ وَأَنَّ اللّہَ مُوہِنُ کَیْدِ الْکَافِرِینَ(سورۃ الأنفال:۱۸)
’’یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔‘‘
اسی طرح آپ پر لازم ہے کہ آپ اس عظیم ذکر کا اہتمام کریں جس کا شمار افضل ترین اذکار میں ہوتا ہے، یعنی لا الہ الا اللہ ۔ لیکن اس بات کا بھی پورا اہتمام کریں کہ آپ پر نگاہ رکھنے والے کسی بھی شخص کو یہ محسوس نہ ہو کہ آپ ذکر کرنے میں مصروف ہیں۔اس ذکر کی فضیلت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے واضح ہوتی ہے کہ جس نے دل کے یقین کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
نیز اس کی فضیلت سمجھنے کے لیے یہ جاننا بھی کافی ہے کہ یہ ایک جملہ،عقیدۂ توحید کا خلاصہ ہے، وہ توحید جس کی دعوت کو بلند کرنے اور جس کے جھنڈے تلے قتال کرنے کے لیے آپ اپنے گھروں سے نکلے ہیں، وہ توحید جس کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اور آپ کی اتباع کرنے والوں نے جہاد کیا اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
اور ہاں اس بات کا بھی اہتمام کیجیے کہ آپ پر پریشانی یا اعصابی تناؤ کے اثرات نظر نہ آئیں، شاداں و فرحاں رہیں، شرحِ صدر اور اطمینانِ قلب کے ساتھ ہر قدم اٹھائیں کیونکہ آپ ایک ایسے کام میں مصروف ہیں جو اللہ کو محبوب ہے اور اللہ کی رضا پانے کا ذریعہ ہے اور اسی لیے اللہ سے امید ہے کہ یہ وہ مبارک دن ہے جس کی شام آپ جنت میں حور عین کے ساتھ کریں گے۔
اے نوجوان! موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراؤ کیونکہ تم ہمیشہ باقی رہنے والی جنت کی طرف بڑھ رہے ہو!
تیسرا مرحلہ
جب آپ ہوائی جہاز پر سوار ہوں تو اپنا پہلا قدم رکھتے وقت جہاز میں عملاً داخل ہونے سے قبل اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں اور ذہن میں یہ بات تازہ کر لیں کہ آپ جہاد فی سبیل اللہ کے ایک معرکے میں داخل ہو رہے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس سب سے بہتر ہے۔
جب آپ جہاز کے اندر چلے جائیں اور اپنی کرسی پر بیٹھ جائیں تو وہاں بیٹھ کر بھی اذکار کریں اور وہ معروف دعائیں جن کا ہم نے پہلے ذکر کیا ، اہتمام سے پڑھیں۔
پھر جب جہاز آہستہ آہستہ چلنے کا آغاز کرے تو آپ سفر کی دعا پڑھیں کیونکہ آپ کا اپنے مالک کی طرف سفر شروع ہو چکا ہے اور کیا ہی کہنے اس مبارک سفر کے!
پھر جب جہاز اڑان بھرے اور اپنی پرواز شروع کر دے تو آپ سمجھ لیں کہ اب صفوں کے ٹکرانے کا وقت آ گیا ہے۔ پس اللہ کی کتاب میں مذکور یہ دعا پڑھیں:
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ(سورۃ البقرۃ:۲۵۰)
’’اے ہمارے رب! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گر وہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔‘‘
اور اس آیت ِ مبارکہ میں مذکور دعا بھی لبوں پر جاری رکھیں:
وَمَا کَانَ قَوْلَھُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِی أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ(سورۃ آل عمران: ۱۴۷)
’’اُن کی دعا بس یہ تھی کہ اے ہمارے رب، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اُسے معاف کر دے، ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔‘‘
نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھلائی ہوئی یہ دعا بھی پڑھیں کہ :
اَللّٰھُمَّ مُنزِلَ الْکِتَاب، مُجْرِیَ السَّحَاب، ھَازِمِ الْاَحْزَاب، اھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْھِم، اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُم۔
’’اے اللہ! اے کتاب کو نازل کرنے والے، بادلوں کو چلانے والے، لشکروں کو شکست دینے والے، ان کو شکست دے اور ہمیں ان پر فتح دے۔ اے اللہ ان کو شکست دے اور ان کو ہلا مار۔‘‘
اس موقع پر اپنے لیے اور اپنے سب ساتھیوں کے لیے فتح، نصرت اور تمکین کی دعا کریں۔ یہ دعا کریں کہ آپ کے نشانے ٹھیک ہدف پر بیٹھیں اور دشمن کو نہایت کاری ضرب لگے اور اللہ سے ایسی شہادت طلب کریں کہ وقتِ شہادت آپ آگے بڑھ رہے ہوں، پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہ ہوں اور صبر کے ساتھ اجر کی نیت لیے شہادت کی طرف لپک رہے ہوں۔
اس کے بعد آپ میں سے ہر ایک کارروائی میں اپنا اپنا کردار سنبھالنے کے لیے تیار ہو جائے اور اس کردار کو ایسے عمدہ طریقے سے ادا کرنے کا عزم کرے کہ اللہ آپ سے راضی ہو جائیں۔
اس موقع پر آپ زور سے اپنے دانت پیسیں جیسا کہ ہمارے اسلاف معرکے کے آغاز سے عین قبل کیا کرتے تھے۔ پھر جب لڑائی کا آغاز ہو تو مردوں والی ضرب لگائیں۔ ان ابطال کی طرح آگے بڑھیں جو دنیا کی طرف واپس پلٹنا نہ چاہتے ہوں اور تکبیر بلند کریں کیونکہ تکبیر سے کافروں کے دلوں پر رعب پڑ جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر عمل کریں:
فَاضْرِبُواْ فَوْقَ الأَعْنَاقِ وَاضْرِبُواْ مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ(سورۃ الأنفال:۱۲)
پس تم (کس کس کر)ضربیں لگاؤ ان کی گردنوں پر، اور کاٹ ڈالو ان کے پور پور (اور جوڑ جوڑ)کو۔
جب آپ ذبح کریں تو جس کافر کو بھی قتل کریں اس کا مال اٹھا لیں کیونکہ یہ محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ ہاں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ مقتول کا مال سلب کرنا آپ کو دشمن کی خیانت یا اس کے کسی حملے سے غافل نہ کردے ۔
اور اپنی ذات کے لیے انتقام نہ لیں بلکہ اپنی ہر ضرب اور ہر ہر قدم اللہ ہی کے لیے خالص کر لیں۔ پھر کافروں کو قید کرنے کی سنت پر عمل کریں اور انہیں قید بھی کریں اور قتل بھی کریں جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد ہے:
مَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَن یَکُونَ لَہُ أَسْرَی حَتَّی یُثْخِنَ فِی الأَرْضِ تُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّہُ یُرِیدُ الآخِرَۃَ وَاللّہُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ (سورۃ الأنفال: ۶۷)
’’کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔‘‘
غنیمت لینا ہرگز نہ بھولیں، چاہے پانی پلانے کا ایک کپ ہی کیوں نہ ہوجس میں موقع ملنے پر آپ خود بھی پانی پئیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی پانی پلائیں۔
پھر جب وعدۂ برحق کا وقت آ پہنچے اور وہ لمحہ آ جائے جس کا انتظار تھا تو اپنی قمیض پھاڑ کر اس فی سبیل اللہ موت کے استقبال میں سینہ کھول دیں اور زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھیں۔ اور اگر آپ کے بس میں ہو کہ ہدف سے ٹکرانے سے چند لمحے قبل آپ نماز شروع کر دیں اور آپ کا خاتمہ اسی حالت میں ہوتو کیا ہی کہنے! اور کم از کم اتنا اہتمام تو ضرور کریں کہ آپ کے آخری کلمات لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہوں۔
اور اس کے بعد ان شاء اللہ ،اللہ کی رحمت کے سائے میں جنتِ فردوس میں ملاقات ہو گی!
٭٭٭٭٭












