غزوۂ حمراء الاسد (۳)
حقیقی نجات
جب مصائب کی گھنگورگھٹائیں چھا جائیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بے بس بیٹھے رہنے سے نجات نہیں ملتی، بلکہ یہ طرزِ عمل تو الٹا ہلاکت، ذلت اور غلامی کی طرف لے جاتا ہے، ایسے میں نجات صبر کے ساتھ ڈٹ جانے میں ہوتی ہے، انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے صبر و ثبات کے نتائج بیان کرتے ہوئے باری تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
فَاٰتٰىھُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِـنِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۴۸)
’’پس اللہ نے انہیں دنیاکا بدلہ اور آخرت کا اچھا بدلہ عطا کیا اور اللہ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘
اور اصحابِ محمد رضوان اللہ علیھم اجمعین کے صبر وتوکل کے نتیجے کو بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْھُمْ سُوْۗءٌ ۙ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ (سورۃ آل عمران: ۱۷۴)
’’یہ لوگ اللہ کی نعمت اور فضل لے کر اس طرح واپس آئے کہ انہیں ذرا بھی گزند نہیں پہنچی اور وہ اللہ کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور اللہ فضلِ عظیم کا مالک ہے۔‘‘
’’انہیں نجات مل گئی [کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا] اللہ کی رضا انہیں حاصل ہوگئی، اللہ کی رضا اور نجات کے ساتھ ان کی واپسی ہوئی، اور اس کی بنیادی وجہ اللہ کے فضل وکرم کو قرار دیا کہ وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، مسلمانوں کے کردار کو سراہنے کے باوجود اس نعمت کا اصل سبب اللہ کی رحمت کو قرار دیا، یہ ایک بنیادی [عقیدہ اور ] اصول ہےجو ہر نعمت کے حصول میں کار فرما ہے [یعنی بندے کے حسنِ عمل کے باوجود ہر نعمت کا اصل سبب اللہ کی رحمت ہے] خود نیکی کی توفیق ملنا بھی تو فضلِ الٰہی ہی ہے۔ ‘‘1فی ظلال القرآن
بات سے بات نکلتی ہے تو اس آیت سے ایک بشارت یاد آئی اور بشارت دینا سنانا اچھی بات ہے۔ امارت اسلامیہ کے سقوط کے تھوڑے عرصے بعد کسی نے مجھے بتایا کہ اس نے خواب میں شیخ اسامہ حفظہ اللہ کو دیکھا کہ ان کے ایک طرف سازوسامان سے بھرا ہوا ٹرک ہے جسے عبد الفتاح نامی شخص چلا رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ٹرک الٹ گیا اور شیخ اسامہ اس کے نیچے دب گئے، لیکن وہ اس کے نیچے سے صحیح سالم نکل آئے، انہیں کوئی گزند نہیں پہنچی۔ اس خواب میں پہلی بشارت ڈرائیور کا نام عبد الفتاح ہے جو مجاہدین کی فتح پر دلالت کرتا ہے، سامان سے بھرے ہوئے ٹرک کا شیخ پر الٹ جانے اور بغیر نقصان کے نکل آنے کی تعبیر وہی ہے جو اس آیت میں ہے [یعنی اللہ کی رحمت سے مشکلات سے صحیح سالم نکل آنا اور مزید نعمتیں مل جانا] اور شیخ مجاہدین کی نمائندہ شخصیت اور خود بھی ان میں شامل ہیں [لہذا اس بشارت کا مصداق طبقہ مجاہدین ہے] واللہ اعلم۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں، شیخ کو اور تمام بھائیوں کو محفوظ رکھے۔ آمین2ہم نے شیخ رحمہ اللہ کے الفاظ کو بحالہ رکھا ہے، بعد میں فاضل مولف شیخ منصور شامی اور شیخ اسامہ دونوں حضرات یکے بعد دیگرے خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔
مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاتا
مدینہ منورہ لوٹنے سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے ابو عَزّہ جمحی مشرک کو گرفتار کیا، یہ جنگِ بدر میں بھی قید ہوا تھا اور اس کی غربت اور بیٹیوں کی کثرت کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اسے بغیر فدیہ لیے احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا تھا، اس شرط پر کہ وہ آپﷺ کے خلاف کسی کا ساتھ نہیں دے گا، لیکن اس نے بد عہدی کی اور اپنے اشعار سے لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکایااور اُحُد کی جنگ میں خود بھی نکلا، سو جب یہ دوبارہ گرفتار ہوا تو پھر وہی عذر پیش کیا: اے محمد ﷺ! مجھے معاف کردیں، مجھ پر احسان کریں، میری بیٹیوں کی خاطر مجھے بخش دیں، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ دوبارہ یہ کام نہیں کروں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: تو مکہ میں اپنے گالوں پر ہاتھ پھیرکر [یعنی اکڑتے ہوئے] یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میں نے محمد کو دو مرتبہ دھوکا دیا ہے، مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زبیر یا حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنھما کو حکم دیا تو انہوں نے اس کی گردن اڑا دی۔
’مومن ایک سوراخ یا بِل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘ اس فرمانِ نبوی کی تشریح میں امام خطابی کہتے ہیں:
’’یہ فرمان خبر کے صیغے کے ساتھ وارد ہوا ہے، لیکن اس میں ایک حکم دیا جارہا ہے، یعنی مومن کو چوکنا و محتاط رہنا چاہیے کہ غفلت میں مارا نہ جائے اور ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاتا رہے۔ ‘‘
ابو عبید اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایک طریقے میں ناکام ہونے کے بعد دوبارہ اسی طریقے اور وسیلے کو اختیار کرے۔3فتح الباری:ج ۱۷، ص ۳۲۱
ہمارا دین ہمارے لیے غفلت کا شکار بننے اور بار بار دھوکے میں آنے کو ناپسند کرتا ہے، ہم پر لازم ہے کہ بیدار و محتاط رہیں، جب مومن ایک بار کسی سوراخ سے ڈس لیا جائے تو انتہائی غفلت بلکہ کم عقلی و حماقت ہے کہ وہ اپنا ہاتھ دوبارہ ڈسوانے کے لیے اسی سوراخ میں ڈالے۔
اور بظاہر اس اصول کا تعلق ان مبہم امور سے ہے جن کا اندازہ خود آزمائے بغیر نہیں لگایا جاسکتا، تو پہلی مرتبہ عذر دیا جاتا ہے، لیکن ابہام دور ہوجانے کے بعددوبارہ وہی کام کرنا قابل ِمذمت ہے۔ البتہ جہاں دھوکا واضح ہو وہاں انسان کا پہلی مرتبہ دھوکاکھانا بھی قابلِ ملامت ہے، اس صورت میں دھوکے کا شکار ہونا پہلی مبہم صورت میں دوسری مرتبہ دھوکا کھانے جیسا ہے۔ واللہ اعلم
اس حدیث کا یہ مطلب بھی نہیں ہر انسان بذاتِ خود تجربہ کرے [اپنا اپنا پہیہ خود ایجاد کرے] دیگر مسلمانوں کے تجربوں کو خاطر میں نہ لائے، بلکہ خود تجربہ کرکے نتیجہ قائم کرے، ایسی احمقانہ بات کوئی عقل مند نہیں کرسکتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کئی لوگوں کا عمل یہی ہوتا ہے۔
اگر کوئی شخص لوگوں کو دیکھے کہ وہ ایک راہ پر چل رہے ہیں اور ہلاک ہورہے ہیں، نقصان اٹھا رہے ہیں، پھر وہ اسی رستے پر چلنے کے لیے مصر ہو تو اسے احمق و بدنصیب ہی کہا جا سکتا ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت پکڑ لے اور بدنصیب وہ ہے جو خود اپنی حالت سے نصیحت پکڑے۔
پھر جب دوسری مرتبہ ڈسا جانا قابل مذمت ہے تو جو ایک ہی سوراخ سے بار بار ڈسے جاتے ہیں [بلکہ خود کو ڈسواتے ہیں] ان کی بابت کیا رائے ہے؟ حتیٰ کہ سانپ بھی انہی کو ڈستے ڈستے اکتا جاتا ہے، لیکن یہ ’حضرات‘ اس کا بِل کھود کر زبردستی اپنے ہاتھ ڈسوانے کے لیے اس کے جبڑوں کے بیچ رکھ دیتے ہیں۔
شاید آپ کو لگے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے! کوئی بھی خود کوعاقل کہلوانے والا کیسے اتنی بڑی حماقت کرسکتا ہے؟ لیکن آپ اپنے سر کی آنکھوں سے ان اسلامی جماعتوں کو بطورِ حقیقی مثال دیکھ سکتے ہیں جو شرکِ حاکمیت کی علمبردار پارلیمنٹ میں شرکت اور جمہوری راستے کو اسلامی حکومت کے قیام کا وسیلہ سمجھتے ہیں، اس کے سائے میں پناہ لیتے ہیں مگر اس سے وہ اپنے مقصد سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس سراب کی حقیقت کو سمجھ جانے کے باوجود بھی اس کےپیچھے لگ کر خود کو ہلکان کرتے ہیں، اس سراب سے سیراب ہونے کی امید رکھتے ہیں! روکنے کے باوجود اس عبث فعل کو جاری رکھتے ہیں، ایک مرتبہ نہیں، بارہا یہ تماشا دہرایا جاتا ہے اور کسی ایک جگہ نہیں بلکہ متعدد جگہ، بڑے اس جمہوری کھیل تماشے میں بوڑھے ہوگئے اور بچے اس کو دیکھتے ہوئے پروان چڑھے، لیکن یہ جماعتیں آج بھی اسی روش پر قائم اور اس کی داعی ہیں۔
حالانکہ اس کام کی حقیقت اور نتیجہ شرعی طور پر اور عقلی طور پر بھی بہت واضح ہے، بھلا کبھی بھیڑیے سے مانگ کر بھیڑ کو اس کا حق ملا ہے؟ مان لیتے ہیں کہ جمہوریت کا معاملہ اتنا واضح نہیں، لیکن اس سے اہلِ دین کم ازکم ایک بار تو ڈسے جا چکے ہیں، تو پھر اس زہرِ ہلاہل کو آبِ حیات سمجھ کر اور سمجھا کر کیوں نوشِ جان کیے جارہے ہیں؟ یا تو احساس وشعور سے عاری ہوچکے ہیں یا پھر خود اس تماشے کا ایک جزوِ لاینفک بن گئے ہیں۔ [اعاذنا اللہ وایاھم]، حماقت و بے عقلی کے سوا ہر روگ قابلِ علاج ہے۔
خفیہ آنکھیں
اس غزوے میں ایک یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ اُحُد سے مشرکین کے جانے کے کے بعد معاویہ بن مغیرہ بن ابو العاص اپنے چچازاد بھائی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ نے رسول اللہﷺ سے اس کے حق میں امان طلب کی، رسول اللہ ﷺ نے اس شرط پر اسے امان دی کہ اگر تین دن کے بعد وہ وہاں پایا گیا تو قتل کردیا جائے گا، جب اسلامی لشکر مدینہ منورہ سے کفار کے تعاقب میں نکلا تو یہ وہاں تین دن سے زیادہ ٹھہرا رہا اور قریش کے لیے جاسوسی کرتا رہا، جب اسلامی لشکر لوٹا تو یہ مدینے سے بھاگ نکلا، رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما کو حکم دیا تو ان دو حضرات اس کا پیچھا کرکے اسے قتل کرڈالا۔
کوئی کافر اپنی کافر برادری کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کرے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، تعجب تو اس پر ہے کہ خود مسلمان کہنے والے اور اسلامی حلیے والے کئی لوگ اس خسیس پیشے کو اپنائے ہوئے ہیں، بلاشبہ ان کا جرم کفار سے زیادہ سخت ہے جس کی انہیں بدترین سزاملنی چاہیے۔
امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے:
من اطلع فی بیت قوم بغیر اذنھم فقد حل لھم ان یفقئوا عینہ۔
’’جو شخص کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے تو اس قوم کے لیے اس شخص کی آنکھ پھوڑ دینا جائز ہے۔ ‘‘4صحیح مسلم ، ج ۱۱، ص ۱۱۵
صاحبِ خانہ کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں جھانکنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اسے روکنے کے لیے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دینا جائز ہوجاتا ہے، گو اس کے نتیجے میں جھانکنے والا مر بھی سکتا ہے اور اس کی کوئی دیت بھی نہ ہوگی اور نہ قصاص لازم ہوگا، حالانکہ عین ممکن ہے کہ گھر میں صرف مرد ہو اور اس کے پاس کوئی ایسی چیز بھی نہ ہو جسے وہ چھپانا چاہتا ہو۔
تو اس شخص کا قتل کیوں کر نہ جائز ہوگا جو جاسوسی کرکے امت مسلمہ کی کمزوریاں اور راز جمع کرتا ہے؟
جب شریعت نے بطورِ شہوت یا یونہی بلامقصد جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑنا جائز قرار دیا ہے تو اس شخص کا کیا حکم ہوگا جو کافر دشمن کی خاطر امت کی جاسوسی کرے اور امت کی شکست اور اس کے قائدین اور منتخب لوگوں کے قتل کا سبب بنے؟
دروازے کی درزوں سے دیکھنے والے کا یہ حکم ہے تو دوازے توڑ کر رازوں کو فاش کرنے والے اور قتل و بربادی کاسبب بننے والے کا حکم کیا ہوگا؟
جب محض دیکھنے والے کا یہ حکم ہے گو اس کا دیکھنا لغزش اور غلطی کی بنا پر بھی ہوسکتا ہے تو اس کا حکم کتنا سخت ہوگا جس کی امت کے خلاف جاسوسی ایک ایسا منظم اور مسلسل عسکری کام ہو جس پر کفار اپنی وردی والی فوج کے خرچ سے بھی زیادہ خرچ کرتے ہیں؟
جس کی حالت یہ ہوجائے تو پھر اس کی آنکھ پھوڑدینا کافی نہیں، بلکہ یہ خیانت کار آنکھیں جس سر میں پیوست ہیں اس کا اڑا دینا از بس ضروری ہے، تاکہ اس جیسے دوسرے لوگ اس خسیس پیشے کے نزدیک جانے کا بھی نہ سوچیں۔
فوج کے لیے جاسوس ایسا ہی ہے جیسے جسم کے لیے آنکھیں، جاسوس کے بغیر فوج اندھی ہوتی ہے، سو ان آنکھوں کو پھوڑنا لازم ہے، اور جیسے یہ ہم پر کوئی رحم کھائے بغیر لڑتے ہیں ان پر بھی کسی قسم کا رحم کھائے اور درگزر کیے بغیر، ایک سخت جنگ مسلط کرنا لازم ہے۔
چند ٹکوں کی خاطر اپنا دین بیچنے والے یہ جاسوس خواہ کتنی احتیاط اور چالاکی سے کام لیں، لیکن اہلِ اسلام و اہلِ جہاد کے پاکیزہ خون کے بدلے کمائے ڈالروں کو اپنی خرمستیوں میں خرچنے سےپہلے ہی (ان شاء اللہ) مجاہدین کے خنجر ان تک آ پہنچیں گے، سو جو اس خنجر کی دھار کا مزہ چکھنا چاہے تو وہی جاسوس بننے کا حوصلہ کرے، کیونکہ اس کا پول لامحالہ کھل کر رہے گا، کیونکہ ان کی جنگ غیب جاننے والے اللہ کے ساتھ ہے جو آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھید سب سے واقف ہے، سو اگر وہ ہمارے خلاف چال چل رہے ہیں تو ہمارا مددگار اللہ ہے جو ان کی چال کو انہی پر الٹ دے گا اور اپنے دام میں وہ خود آجائیں گے، وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔
رأيت الله أكبر كل شيء
محاولة و أكثرهم جنودا
’’میرا عقیدہ ہے کہ سب پر حاوی ہے اللہ کا ارادہ اور اس کا لشکر ہے سب سے زیادہ‘‘
ان جاسوسوں کی نقاب کشائی کی بابت اللہ جل جلالہ نے ہمیں اپنی قدرت کے وہ عجائبات دکھائے ہیں کہ اس یقین سے سینے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں کہ اس دین کی حفاظت اور اپنے مومن بندوں کا دفاع اللہ خود کررہا ہے۔
[یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لازم نہیں کہ ہر وہ شخص جو ظاہراً مسلمان ہو اور اس پر کوئی جاسوسی کا الزام عائد کردے اس کا قتل جائز ہوجاتا ہے، بلکہ اس کے لیے شرعی ثبوت کا پایا جانا اور قاضی کا فیصلہ کرنا ضروری ہے، اس کے بعد ہی اسے جاسوس قرار دیا جاسکتا ہے اور جاسوس کو بھی بہر صورت قتل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے جرم کی نوعیت کے اعتبار سے قاضی فیصلہ کرے گا۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری محسوس ہوئی کہ اس باب میں حضرات مجاہدین افراط وتفریط کا شکار ہیں، کچھ کے نزدیک کلمہ گو جاسوس5[اگربدونِ قتل کے کوئی تدبیر اس کی فہمایش کے لیے کار گر نہ ہو تو اسے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ، یہ اس صورت میں ہے کہ پکڑا جانے والا جاسوس مسلمان ہو۔ (فتاوی حقانیہ جلد ۵ ، صفحہ ۳۰۱)] کو کسی صورت قتل کرنا جائز نہیں اور بعض کے نزدیک ہر جاسوس واجب القتل ہے۔ سو واضح رہے کہ احکامِ شرع کا مدار لفظِ جاسوس پر نہیں، بلکہ اس فعل پر ہے جسے وہ جاسوس سرانجام دے رہا ہے، جیسے ہر چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جاتے، بلکہ ہاتھ کاٹنے کی اپنی شرائط ہیں، ایسے ہی جاسوس کے قتل کی بھی شرائط ہیں۔ واللہ اعلم ]
سننِ ترمذی میں حضرت نافع رحمہ اللہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں:رسول اللہﷺ منبر پر چڑھے اور بآوازِ بلند فرمایا:اے وہ گروہ جو زبان سے اسلام لایا ہے، ایمان ابھی اس کے دل تک نہیں پہنچا! مسلمانوں کو تم ایذا نہ دو، نہ انہیں عار دلاؤ، اور نہ ان کے عیبوں کے پیچھے پڑو، کیونکہ جو اپنے (مسلمان) بھائی کے عیب کے پیچھے پڑتا ہے تو اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑتا ہے، اور جس کے عیب کے پیچھے اللہ پڑے تو وہ اس کو رسوا کرکے چھوڑتا ہے خواہ وہ اپنے کجاوے کے اندر (چھپ کر ) بیٹھا ہو۔
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں:ابنِ عمر رضی اللہ عنھما نے ایک دن بیت اللہ یا خانہ کعبہ کو دیکھ کر فرمایا: تو کتنا عظمت والا ہے اور تیری آبرو کتنی زیادہ ہے! مومن کی آبرو اللہ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے۔
سو جب کسی مسلمان کے عیب اور راز ڈھونڈنے والے کو اللہ رسوا کرتے ہیں تو پھر اس کو کس قدر رسوا کریں گے جو امت کے رازوں اور کمزوریوں کے پیچھے پڑ کر کفار کے نظام کو غالب اور اللہ کے نظام کو مغلوب کرنا چاہتا ہے؟
خوف کا اصل سبب
اس معرکے میں اللہ نے کئی لوگوں کے دل میں کفار کے رعب و ہیبت طاری ہونے کی اصل وجہ کو بھی آشکار کردیا۔
’’شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں کو خوف ورعب کا سرچشمہ بنا کر دِکھاتا ہے، ان کے گرد قوت و ہیبت کا ہالہ کھینچتا ہے…… سو اہلِ ایمان کو شیطان کے اس مکر کی بابت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، انہیں چاہیے کہ شیطان کی اس کوشش کو ناکام بنائیں، اس کے اِن دوستوں سے خوف نہ کھائیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ سے ڈریں، جو تنہا قوت والا، سب پر غالب اور ہر چیز پر قادر ہے، اسی سے ڈرنا چاہیے۔
اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّيْطٰنُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاۗءَهٗ فَلَا تَخَافُوْھُمْ وَخَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۷۵)
’’بے شک یہ شیطان ہے جو (تم کو) اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، سو تم ان سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ ‘‘
بلاشبہ شیطان ہی اپنے دوستوں کو بڑھا چڑھا کر دکھاتا ہے، انہیں قدرت و قوت کا وہمی جامہ پہناتا ہے اور لوگوں کے دل میں ڈالتا ہے کہ یہ بڑی طاقت والے ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ میں ہے…… تاکہ اپنے ان دوستوں کے ذریعے اپنا اُلّو سیدھا کرےاور زمین میں شر وفساد پھیلائے، لوگ اس کے دوستوں کے تابعدار بن جائیں، کوئی مخالف آواز بلند نہ ہو سکے، کوئی ان پر اعتراض کرنے اور انہیں اس شر وفساد سے روکنے کا سوچ بھی منہ سکے۔
باطل کو پھُلا پھُلا کر بڑا دکھانے میں شیطان کا بڑا فائدہ ہے، شر کو ایسا قوی، قادر، غالب اور مخالفین کی سرکوبی کرنے والا دکھاتا ہے جس کے آگے نہ کوئی ٹِک سکتا ہے اور نہ کوئی اس پر غالب آسکتا ہے…… باطل کو اس طرح دِکھانے میں شیطان کا بڑا فائدہ ہے، اس خوف و دہشت کے سائے اور پکڑ دھکڑ کے ہالے میں ہی شیطان کے دوست وہ افعالِ بد انجام دے پاتے ہیں جس سے شیطان خوش ہوتا ہے! نیکی کو برائی اور برائی کو نیکی بنا کر پیش کرتے ہیں، فساد، باطل افکار اور گمراہی کو پھیلاتے ہیں، حق، ہدایت اور انصاف کی آواز کو دباتے ہیں، خود کو زمین میں معبود بنا کر پیش کرتے ہیں، شر کی حفاظت اور خیرکا قلع قمع کرتے ہیں…… کسی میں ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کہ ان سے اقتدار چھین کر انہیں چلتا کریں، جس باطل کو یہ پھیلا رہے ہوتے ہیں اس کی برائی بیان کرنے اور جس حق کو مٹارہے ہوتے ہیں اسے کھول کر بیان کرنے کا کسی میں یارا نہیں رہتا۔
شیطان دغاباز، مکار اور چالباز ہے، اپنے دوستوں کی آڑ لے کر اپنا کام نکلواتا ہے، انہی کے سینے میں اپنے دوستوں کا خوف ڈال پاتا ہے جو اس کے وسوسوں سے بچنے کی خاطر خواہ احتیاط نہیں کرتے…… اس مقام پر اللہ جل جلالہ نے شیطان کے مکر و فریب کے سارے پردے چاک کرکے اس کی اوقات بتادی ہے، اہلِ ایمان پر اس کے مکر و وسوسے کی حقیقت کھول دی ہے، تاکہ وہ احتیاط سے کام لیں، شیطان والوں سے ذرا بھی نہ ڈریں، شیطان اور اس کے چیلے چانٹے شتونگڑے بہت کمزور و بےحقیقت ہیں، ان کی اتنی اوقات نہیں کہ اللہ پر ایمان رکھنے والے ان سے ڈریں…… اس ایک قادر ذات سے ڈرنا چاہیے جو نفع ونقصان کی مالک ہے، اور وہ ایک اللہ ہے، مومن جب ڈرتے ہیں تو اسی سے ڈرتے ہیں، وہ اکیلا سب قوت والوں سے بڑھ کر قوت والا ہے، اس کے سامنے دنیاکی کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی، نہ شیطان کی اور نہ اس کے ناتے داروں کی۔‘‘6فی ظلال القرآن
[سو معلوم ہوا کہ ہر وقت بجا و بے جا کفار کی سائنسی ٹیکنالوجی اور مادی برتری کے راگ الاپنے والے درحقیقت خود کو شیطانی پراپیگنڈے کا بِگل اور بھونپو بنا رہے ہیں، خواہ ان کی نیت اچھی ہو کہ مسلمان ان علوم کی اہمیت کو سمجھیں اور انہیں حاصل کریں، لیکن صرف نیت کا اچھا ہونا کافی نہیں، بلکہ طریقۂ کار بھی مفید ہونا چاہیے، تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے ان علوم کے حصول کی جانب رغبت پیدا ہو یا نہ ہو کفار کی برتری کا سکہ بیٹھ جاتا ہے اور یہی مرعوبیت و احساسِ کمتری ہے کہ آج مسلم ملک آزاد ہو کر ذہنی و نفسیاتی طور پر اپنے دشمن کے غلام ہیں۔
تصویر کا اس سے بھیانک ایک اور رُخ یہ ہے کہ تحریکِ جہاد میں بھی ابلیس لعین نے اپنے انسی و جنی پیادوں کے ذریعے اسی حربے سے پھوٹ ڈالی کہ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ امریکہ کا مقابلہ کرسکیں، لہٰذا امریکہ کے خلاف جہاد کے نعرے سے خدانخواستہ جہادی تحریک کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، اور یہ ابلیسی ریشہ دوانی یہیں تک محدود نہیں رہی کہ بعض جہادی مجموعات امریکہ کے خلاف جہاد سے ’توبہ تائب‘ ہوگئے، بلکہ امریکہ مخالف مجاہدین بالخصوص تنظیم القاعدہ کے خلاف پراپیگنڈے شروع کردیے، ان کے منہج کو اور داعش کے منہج کو ایک بتانا شروع کردیا، اس سے وابستہ مجاہدین کو بیعت توڑنے (فک الارتباط) کی دعوت دی گئی، تاکہ وہ بھی ان کی طرح طاغوتِ اکبر کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کا معاہدہ کرسکیں، سو جو کام دشمن نہ کرسکا وہ خود تحریکِ جہاد سے وابستہ کچھ عناصر نے آسان کردیا، آج شام میں جو کچھ ہورہا ہے وہ اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ یہ یہود ونصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کے دین کی پیروی کرلو، سو القاعدہ سے بیعت توڑ کر شام کا جہاد بچانے کا دعویٰ کرنے والے امریکی وسطی کمان کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلیوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں، پھر بھی اگر کوئی ان کے گُن گاتا ہے تو تعجب کی بات نہیں، آج بھی اس دھرتی پر عبد العزیز آل سعود، جنرل ضیاء الحق، قذافی، جمال عبد الناصر اور پرویز بے شرف کے چاہنے والوں کی کمی نہیں۔ ]
اللہ جل شانہ سے دعا ہے کہ ہمیں صرف اور صرف اپنی ذات کی خشیت سے نوازے، ہمارے گناہوں اور تجاوزات کو بخش دے، ہمیں ثابت قدمی دے اور کافروں کے خلاف ہماری مدد کرے۔
والحمد للہ و صلی اللہ علی محمد و آلہ وسلم
٭٭٭٭٭
- 1فی ظلال القرآن
- 2ہم نے شیخ رحمہ اللہ کے الفاظ کو بحالہ رکھا ہے، بعد میں فاضل مولف شیخ منصور شامی اور شیخ اسامہ دونوں حضرات یکے بعد دیگرے خلعتِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔
- 3فتح الباری:ج ۱۷، ص ۳۲۱
- 4صحیح مسلم ، ج ۱۱، ص ۱۱۵
- 5[اگربدونِ قتل کے کوئی تدبیر اس کی فہمایش کے لیے کار گر نہ ہو تو اسے قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ، یہ اس صورت میں ہے کہ پکڑا جانے والا جاسوس مسلمان ہو۔ (فتاوی حقانیہ جلد ۵ ، صفحہ ۳۰۱)]
- 6فی ظلال القرآن












