نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: ۱۳

by بنتِ طبیب
in ناول و افسانے, فروری 2022
0

شریعہ بارڈر کراس کرتے ہی نور کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہی شاہراہیں جہاں بے پردہ عورتیں بن سنور کر گھوم رہی ہوتی تھیں، میوزک کی آواز ہر وقت سنائی دیتی تھی…… اب وہاں کوئی عورت پردے کے بغیر نظر نہیں آ رہی تھی، مردوں کی داڑھیاں تھیں، دکانوں میں یا تو جہادی ترانے لگے ہوئے تھے یا دروس، ٹریفگ لائٹس پر کوئی مانگنے والا نظر نہیں آرہا تھا۔

شہر کراس کرنے کے بعد گاڑی مضافاتی علاقے کی طرف بڑھ گئی۔ عبادہ نے گاڑی ایک خوبصورت سے گھر کے سامنے روک دی اور نور کو اندر بھیج دیا۔ گھر کی خواتین نے اس کا پُرتپاک استقبال کیا۔ اور جب نور نے بتایا کہ وہ مجاہد کی بیوی ہے تو وہ باقاعدہ اس کے ہاتھ چومنے لگیں۔ اس کے پوچھنے پر ان میں سے ایک خاتون نے مجاہدین کی تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دیے۔

’’خدایا!…… ان مجاہدین نے تو ہماری زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں!…… میں ان کا شکریہ کس طرح ادا کروں؟…… ہماری زندگیوں میں اسلام آگیا…… جس سے ہماری آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا بھی سنور گئی!……‘‘، وہ خاتون مسکرا مسکرا کر نور کو ساری بات بتا رہی تھیں۔ نور حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ وہ دلی طور پر مجاہدین سے مرعوب ہورہی تھی۔

’’اور؟‘‘ اس نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’انہوں نے ہر جگہ اعلان کروا دیا ہے کہ نمازیں ہر علاقے میں ہر وقت ادا کی جائیں،منشیات کا خاتمہ ہوگیا، جوے کا خاتمہ کردیا …… غرض کیا کچھ بتاؤں جو ان لوگوں نے ہم پر احسان کیے ہیں؟…… چوری، ڈاکہ، فحاشی و عریانی، قتل صرف ایک دو حدود نافذ ہونے کے بعد ہی ختم ہوگئے!…… اور دیکھیں ناں میڈیکل کے شعبے کے بارے میں کیا ہدایات ہیں؟‘‘ وہ خاتون جوش و خروش سے بتا رہی تھیں۔ ’’عورتوں کو ہدایت ہے کہ علاج و معالجہ کے لیے صرف عورتوں کے پاس جائیں، اگر کسی مرد معالج کی ضرورت پڑے تو اپنے کسی قریبی رشتہ دار کے ساتھ جائیں…… مریضہ کے طبّی معائنے کے دوران مریضہ اور معالج دونوں شرعی حجاب پہنے رہیں…… بیمار خواتین کی انتظارگاہیں محفوظ اور باپردہ ہوں…… رات کے ہسپتال کے جن کمروں میں عورتیں ہوں، ان میں کوئی مرد ڈاکٹر بلائے بغیر داخل نہیں ہوسکتا…… ڈاکٹر مرد اور خواتین کے مل بیٹھنے اور باہم گفتگو کی اجازت نہیں…… اگر کسی مسئلہ پر تبادلہ خیال کرنا ہو تو حجاب کے ساتھ کیا جائے…… خاتون ڈاکٹر اور نرسیں مردوں کے وارڈ میں نہیں جاسکتیں…… مقررہ وقت پر نمازیں ادا ہوں گی…… غرض ہر طرف خوشی، امن و امان ہے…… ہم سے زکوٰۃ لے کر غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں…… عصر کے بعد روزانہ مسجد میں دروس کے حلقہ جات منعقد کیے جاتے ہیں…… سالوں کے پھنسے ہوئے مقدمات انصاف کے مطابق حل ہوگئے ہیں!‘‘ ان خاتون کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’کیا مجاہدین خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں؟‘‘ نور نے عرصے سے سنا ہوا اعتراض پوچھا۔

’’بالکل بھی نہیں!…… جو اسکول تو پہلے سے صرف لڑکیوں کے لیے تھے، وہ تو ابھی بھی کھلے ہیں البتہ جن میں مخلوط تعلیم تھی، وہ بند کر دیے گئے ہیں اور ہم سے اپیل کی ہے کہ بس کچھ عرصہ انتظار کریں، ہم مکمل نظام تعلیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں لڑکیوں اور لڑکوں کو شرعی نقطہ نظر سے تعلیم دی جائے گی!‘‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’’میں نے جب تک مجاہدین کو نہیں دیکھا تھا اور مغربی میڈیا کی وجہ سے میں بھی انہیں دہشت گرد، ظالم اور وحشی درندہ سمجھتی تھی!…… مگر جب میں نے ان کو قریب سے دیکھا…… نور بیٹا! میں کیا بتاؤں آپ کو؟‘‘ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’میں امت کو کیسے بتاؤں کہ وہ ان ہیرے موتی جیسے مجاہدین کو نظرانداز کررہی ہے جو اپنی امت کے غم میں گھلے جارہے ہیں۔ ان کی دعائیں صرف اپنی امت کے لیے ہیں!…… ان کے روزوشب اپنی امت کی سربلندی کی کوشش میں گزرتے ہیں…… نور بیٹا! یہ مجاہد اپنی امت کی سربلندی کی خاطر اپنی جانیں تک قربان کر رہے ہیں، مگر…… ہائے افسوس!…… امت میں سے کسی کو بھی احساس نہیں!‘‘ انہوں نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

کچھ دیر میں گھر والے کھانا لگانے لگے۔ اس کے لیے کافی اہتمام کیا گیا تھا۔ مغرب کی اذانیں ہوئیں اور ان سب نے روزہ کھول لیا۔

٭٭٭٭٭

ایک ہفتہ شریعہ بارڈر کے پار گزار کر عبادہ اور نور کی واپسی کا سفر شروع تھا۔ عید میں صرف دو دن باقی تھے اور وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہ رہے تھے۔ عبادہ نے راستے میں بازار سے امینہ خالہ اور جویریہ کے لیے عید کے تحفے لے لیے۔ نور بھی بے چینی سے گھر پہنچنے اور جویریہ کو پورے سفر کی روداد سنانے کا شدت سے انتظار کر رہی تھی۔

’’عبادہ!‘‘ نور بور ہونے لگی تھی۔ ’’ایک بات تو بتائیں؟‘‘

’’ہوں پوچھو!‘‘

’’جب خلافت قائم ہو جائے یا شریعت نافذ ہوجائے تو علاقے کے امیر کا کیا کام ہوتا ہے؟‘‘

’’تم سوال بہت اچھے کرتی ہو!‘‘ عبادہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ ’’دیکھو!…… سب سے پہلے تو یہ بات سمجھ لو کہ خلافت قائم کرنے کے بہت سے مقاصد ہیں، جن کے مطابق خلیفہ عمل کرے گا…… خلافت قائم کرنے کا سب سے پہلا مقصد ہے: اللہ کا نظام اللہ کی زمین پر قائم کرنا۔ خلافت و حکومت مقصود اصلی نہیں بلکہ اصل مقصد کے لیے وسیلہ اور ذریعہ ہے…… اور مقصد اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا ہے…… حکومت الٰہی سے مقصود ہر اچھے کام کو عام کرنا اور ہر برے کام کا شریعت کی روشنی میں خاتمہ کرنا، اللہ کے دین کی سربلندی اور شروفساد کی بیخ کنی کرنا ہے۔ اسی مقصد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ سورۃ الحج کی آیت ۴۱ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔﴾‘‘ عبادہ سانس لینے کے لیے رکا۔ نور کی نظریں سامنے وِنڈ سکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے ایک اچٹتی سی نگاہ گزرتے مناظر پر ڈالی۔ درخت، پودے، سڑک، پتھر، سب کچھ بہت تیزی سے دوڑ رہا تھا۔

’’شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تمام اسلامی حکومتوں کا اصل مقصد اور بنیادی ہدف امر بالمعروف یعنی اچھائیوں کا حکم اور منکرات سے منع کرنا ہے…… بس ان حکومتوں پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے دین کی اصلاح کریں، جس کے بغیر مخلوقِ خدا واضح خسارے اور کھلے نقصان اور بڑی تباہی میں جا گرے گی۔ ایسی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ دین کی روشنی میں وہ لوگوں کی دنیا کی بھی اصلاح کریں…… ابنِ ہمام فرماتے ہیں کہ خلافت کا سب سے پہلا مقصد اقامت دین ہے۔ شریعت کو قائم کرنا کہ تمام عبادات، طاعات قائم ہوجائیں، سنت زندہ ہوجائے اور بدعات کا قلع قمع ہوجائے، تاکہ لوگ اللہ کی عبادت پر زیادہ اکٹھے ہوجائیں…… حفاظت دین کی مختلف شکلیں ہوتی ہیں:

نمبر ۱: دعوت و تبلیغ…… یہ دو طریقوں پر ہوتی ہے۔ اول زبان کے ذریعے اور دوم تلوار کے ذریعے۔

نمبر ۲: حفاظت دین کی دوسری صورت اپنی مملکت میں شبہات و بدعات اور باطل نظریات کا مقابلہ کریں۔

نمبر ۳: تیسرا یہ کہ مرکز اور اسلامی سرحدات کی حفاظت…… یہاں ایک بات سمجھ لو کہ یہاں سرحدات سے مراد یہ نام نہاد تقسیم پر قائم ممالک کی سرحدات نہیں بلکہ تمام مسلمان دنیا کی سرحدات کی حفاظت امیر المؤمنین کے ذمے ہے۔

نمبر ۴: حفاظت دین کی چوتھی صورت احکامِ اسلام اور حدود و قصاص کا نفاذ ہے…… چنانچہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ مسلم حکمران پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی حدود کو نافذ کرے اور اس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ واجب چھوڑنے اور حرام کا ارتکاب کرنے پر عوام الناس کو شرعی سزائیں دی جائیں گی!…… مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث ہے کہ ’’زمین میں ایک حد نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے‘‘…… یعنی چالیس دن کی نافع بارش سے اقتصادی طور پر ملک کو اتنا فائدہ نہیں پہنچ سکتا جتنا کہ ایک حد نافذ کرنے سے ملک کو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے فائدہ پہنچتا ہے…… خلافت کا پانچواں مقصد……‘‘ گاڑی کا انجن اچانک آوازیں نکالتا بند ہوگیا۔ عبادہ نے فوراً گاڑی سائڈ پر کی اور نیچے اتر گیا۔

’’کیا ہوا ہے؟‘‘ نور نے پریشانی سے کھڑکی سے سر باہر نکالا۔

’’کچھ نہیں! شاید گاڑی گرم ہوگئی ہے……‘‘ اس نے گاڑی میں سے پانی کی بوتل نکالی، بونَٹ اٹھا کر اس میں راڈ ٹکائی اور پانی انجن میں بنی جگہ میں انڈیل دیا۔ پھر واپس گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ تیسری دفعہ کی کوشش میں گاڑی چل پڑی۔

’’الحمدللہ! میں تو سمجھا تھا کہ لمبا مسئلہ ہوگا!‘‘ عبادہ سٹیرنگ پر ہاتھ جماتے ہوئے بولا۔ گاڑی پھر رواں دواں ہوگئی۔ جھنگ آنے میں دس کلومیٹر رہتے تھے۔ جھنگ کے نام پر نظر پڑتے ہی نور کو زور کا جھٹکا لگا۔

’’اُف! خدایا! پہلے کیوں خیال نہ آیا؟‘‘ وہ یک دم آگے ہو کر بیٹھ گئی۔ عبادہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا، گاڑی ذرا ڈگمگائی۔

’’کیا ہوا؟‘‘

’’جھنگ میں بسام بھائی کی دکان ہے!…… عبادہ! پلیز مجھے لے چلیں!…… پلیز! پلیز! پلیز!‘‘ وہ بری طرح مچلنے لگی۔

’’اچھا اچھا ٹھیک ہے!‘‘ عبادہ ہنس کر بولا۔

’’عبادہ آپ جلدی بات مکمل کریں!‘‘ نور اب بے چین سی ہوگئی تھی۔

’’پکی بات ہے بولوں؟‘‘ عبادہ نے ترچھی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔

’’جی بولیں بولیں!‘‘

’’اچھا تو پھر سنو!…… خلافت کا پانچواں مقصد قیام عدل اور دفع ظلم ہے…… چھٹا مقصد عوام و خواص کو متحد رکھنا ہے…… اب آؤ ساتویں مقصد کی طرف…… ساتواں مقصد یہ ہے کہ خلیفہ کا لوگوں کی دینی حالت کے ساتھ ساتھ ان کی دنیا کی بھی فکر کرنا۔ کیونکہ انسان کو اس دنیا میں جتنا رہنا ہے اتنا تو وہ کھانے پینے کا محتاج ہے اور اگر اس کا انتظام نہ ہو تو انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کیسے کرے گا…… اس لیے خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ زمین کی آبادکاری کا انتظام کرے، راستوں، سڑکوں، پلوں اور پانی کا انتظام، محکمہ زراعت اور محکمہ صنعت کو فعال بنائے، آب پاشی اور آب رسانی کی طرف توجہ دے…… تاکہ زمین آباد ہوجائے، صنعتیں فعال ہوجائیں اور لوگ سکون کی زندگی گزار سکیں۔ اگر علاقے میں گیس اور بجلی ہے تو اس کو پہنچانے کا انتظام کرے اور ان چیزوں کو سمجھنے کے لیے جن ماہرین کی ضرورت پڑتی ہے، ان ماہرین کا انتظام کرے۔ فقہاء نے ان کو واجب کے درجے میں شمار کیا ہے……

……علامہ شامیؒ فرماتے ہیں: جن صنعتوں کے مسلمان محتاج ہیں، ان کا قائم کرنا فرضِ کفایہ ہے یعنی یہ کہ اگر خلیفہ وقت اور عام مسلمانوں نے ضروری صنعتوں اور کارخانوں کو ترک کردیا تو سب گناہ گار ہوں گے……

……علامہ ابنِ قیمؒ فرماتے ہیں: خلیفہ کی ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ جن صنعتوں کے محتاج ہیں، ان کو قائم کرے…… مثلاً محکمہ زراعت، کپڑوں کے کارخانے اور تعمیراتی منصوبے۔ پس خلیفہ پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو یعنی تاجروں کو معاوضے دے کر مجبور کرے کہ وہ صنعتیں لگائیں کیونکہ یہ تمام مسلمانوں کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شوافع و حنابلہ کے فقہائے کرام نے کہا ہے کہ ان صنعتوں اور کارخانوں کا فن سیکھنا فرض کفایہ ہے(فریق حکمیہ)…… اب بس آخری بات…… امام غزالیؒ نے بھی لکھا ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ معاشرے میں ہر فن کے اپنے ماہرین ہوں تاکہ مسلمان غیر مسلم اقوام کے محتاج نہ ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کے اپنے ڈاکٹر، انجینئر، صنعت کار، تجار ہوں…… الغرض ہر چھوٹے بڑے پیشے کے ماہرین موجود ہوں۔ کیونکہ یہ دین کامل اور مکمل ہے، کسی اور کا محتاج نہیں!…… زمین کی آباد کاری میں راستوں، سڑکوں، کھیتی باڑی اور آب پاشی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے……‘‘

’’اوہ جھنگ!‘‘ نور کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

جھنگ: ایک کلومیٹر!

نور سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ہاتھ پیروں پر کپکپی طاری ہوگئی۔

’’تمہیں معلوم ہے کہ بسام بھائی کی دکان کون سی ہے؟‘‘ عبادہ اِدھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے بولا۔

’’جی! جی! مجھے معلوم ہے! جی ٹی روڈ پر ہی ہے القریش کے نام سے……‘‘ نور کی اچانک بولتی بند ہوگئی اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ عبادہ نے بھی اس کی نظروں کے مرکز کی جانب دیکھنا چاہا۔ ایک دکان پر ’القریش‘ کا بڑا سا بورڈ لگا ہوا تھا۔

’’وہ رہی! وہ رہی! اوہ! الحمدللہ! یا اللہ تیرا شکر!‘‘ نور خوشی سے بے قابو ہونے لگی۔ خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ عبادہ نے گاڑی فوراً اس طرف کو موڑ لی اور ’القریش‘ کے سامنے گاڑی روک کر نیچے اترا۔ نور اس سے پہلے ہی اتر چکی تھی۔ وہ دونوں ’القریش‘ کی طرف بڑھ گئے۔ مگر قریب پہنچنے پر فوراً ہی ٹھنڈے پڑ گئے۔ دکان کا شٹر گرا ہوا تھا۔

’’السلام علیکم!بھائی صاحب! ……بسام صاحب کہاں گئے ہیں؟‘‘ عبادہ نے ساتھ والے دکاندار سے پوچھا۔

’’وہ جی …… اپنی شادی کے سلسلے میں دکان بند کر کے چلے گئے ہیں جی!‘‘

’’ان کی فیملی اب کہاں ہے!‘‘ نور بھی آگے کو بڑھی۔ اس شخص نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’جی؟ یہ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘ وہ مشکوک نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔

’’ہم پچھلے دس ماہ سے ان کو ڈھونڈ رہے ہیں…… میں ان کی کزن ہوں!‘‘ نور نے بے تاب ہو کر کہا۔

’’جی! …… میں کیسے یقین کروں جی؟ مجبور ہوں جی!وہ حالات تو آپ کو پتہ ہی ہیں جی!…… آج کل کیسے لوگ بہانے سے پوچھ کرجاسوسیاں کروا دیتے ہیں جی! آپ ایسا کریں اپنا نام، پتہ اور نمبر دے دیں! میں ان کو بتا دوں کا جی!‘‘

عبادہ نے جیب سے کاغذ اور قلم نکالا۔

’’میرا نام عبادہ ہے!…… یہ میری اہلیہ نور الہدیٰ قریشی بنت احمد قریشی ہیں……بسام صاحب کی تایا زاد بہن ہیں…… آج کل ہم ہری پور میں رہ رہے ہیں…… یہ میرا ایڈریس اور گھر کا نمبر ہے…… موبائل نہیں رکھتا…… اتنا کافی ہے یا کچھ اور؟‘‘ عبادہ اپنے مخصوص انداز سے مسکرایا۔

’’نہیں جی ! کافی ہے!‘‘ اس نے کہہ کر اس کا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا۔ ’’آپ مجاہد ہیں؟‘‘

عبادہ کے سر اثبات میں ہلانے پر اس نے بے ساختہ اس کا ہاتھ چوم لیا۔

’’اللہ آپ لوگوں کو بہت اجر دے!َ……جی آپ لوگوں نے ہی ہمارا ساتھ دیا جب سب ہمارا ساتھ چھوڑ گئے!…… آپ لوگوں کی وجہ سے ہماری زندگیاں بدل گئی ہیں!‘‘ اس کی آنکھوں میں فرطِ محبت سے آنسو آ گئے۔

عبادہ نے بھی مسکرا کر اس کا ہاتھ چوما پھر واپس مڑ گیا۔نور بھی واپس مڑ گئی۔

دکاندار گاڑی کے نکلنے کا انتظار کرتا رہا۔آخر جب گاڑی نظروں سے اوجھل ہو گئی تو اس نے اپنا موبائل نکالا اور نمبر ڈائل کرنے لگا۔تین بیلوں کے بعد کسی نے فون اٹھا لیا۔

’’وعلیکم السلام! جی بسام بھائی! آپ کی کزن شاید مل گئی ہے جی!‘‘

٭٭٭٭٭

ابو بکر نہا کر نکلا تو ایک بھائی کو اپنا منتظر پایا۔ہاتھوں میں کپڑے اٹھائے وہ اس کے نکلنے کا انتظار کر رہا تھا۔

’’محمد بھائی! خالد بھائی ناراض ہو رہے ہیں کہ جلدی کریں۔ عید تک یہ کام ہو جانا چاہیے!‘‘ وہ بھائی کہہ کر خاموش ہو گیا۔’’اور ذرا جلدی سے نکلیں!…… میں نے بھی نہانا ہے!‘‘ وہ ہنس کر بولا۔

’’اچھا جی!…… جو حکم عمر بھائی!‘‘ ابو بکر نے مسکرا کر سر کو ذرا سا خم دیا اور دروازے کی چوکھٹ سے ہٹ گیا۔

آج وہ زکوٰة کی رقوم اور جانور تقسیم کرنے جا رہے تھے۔ عید میں چھ دن باقی تھے اور امیر صاحب چاہتے تھے کہ عید پر سب غریبوں کے پا س بھی رقم موجود ہو۔

آدھے گھنٹے میں سب تیار تھے۔ ابوبکر آج بہت تازہ دم لگ رہا تھا۔ ہلکے سے براؤن سادہ سی شلوار قمیص کے اوپر کالی واسکٹ پہنی ہوئی تھی۔ کندھے پر کلاشن کوف لٹکائے ہوئے، اس نے ٹوپی سر پر رکھ کر کالا عمامہ باندھ لیا۔ جیب سے عطر کی بوتل نکالی اور آخری بار اچھی طرح سے اپنے کپڑوں پر عطر مل دیا۔ کمرے میں عطر کی تیز خوشبو پھیل گئی۔

٭٭٭٭٭

کچی بستی میں داخل ہونے کے بعد پہلا گھر ابوبکر کے حصے میں آیا تھا۔ دو بکریاں ہاتھ میں پکڑے، وہ دو ساتھی گھر میں داخل ہو گئے۔ جانور گھر والوں کے حوالے کیے۔ دو سو ڈالر ہاتھ میں تھمائے اور سلام کر کے واپس مڑ گئے۔

’’اللہ تم کو جنت نصیب کرے! ہماری عید سنوار دی! اللہ تعالیٰ تم لوگوں کی دنیا سنوار دے!‘‘ گھر کی خاتون ٹھیٹ سرائیکی میں ان کو دعائیں دے رہی تھیں۔بوڑھے بزرگ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور بچے خوشی خوشی جانوروں کو دیکھ رہے تھے۔

ابوبکر باہر نکلا تو ساتھی دس گھروں میں کام مکمل کر چکے تھے۔ ابوبکر ایک اور گھر میں خوشیاں تقسیم کرنے داخل ہو گیا۔ آدھے گھنٹے میں ایک محلے سے فارغ ہوئے۔

زکوٰة تقسیم کرتے، ایک شہر سے دوسرے شہر میں خوشیاں بکھیرتے عید آ گئی۔ عید بھی انہوں نے کچی بستی کے غریبوں کے ساتھی منائی تھی۔ یہ اس کی زندگی کی سب سے اچھی عید تھی۔ عید کے پانچویں دن جب وہ اپنے باقی ساتھیوں کے ساتھ گھر پہنچا تو رات کے نو بج رہے تھے۔ باقی سب بھائی عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سو گئے۔البتہ ابو بکر جاگتا رہا۔ کچھ دیر تلاوت کی، نوافل پڑھے اور پھر لیٹ کر کچھ دیر ذکر کرتا رہا۔پھر لیپ ٹاپ کھول کر بے مقصد کَرسَر(cursor) گھمانے لگا۔ اچانک اس کی نظر انٹرنیٹ کے سگنلز پر پڑی۔ اس کو انٹرنیٹ پر اپنا کوئی کام یاد آ گیا۔ اس نے خبروں کا صفحہ کھولا اور خبریں پڑھنے لگا۔ مجاہدین نےراولپنڈی میں ایک خفیہ جیل توڑ کر اپنے ۲۰۰ ساتھی چھڑوا لیے تھے۔ ابوبکر نے اللہ کا شکر ادا کیا اور پھرکام سے فارغ ہو کر نجانے کس خیال کے تحت اپنا فیس بک اکاونٹ کھول لیا۔ ۱۷ کا ہندسہ سکرین میں سب سے اوپرنظر آرہا تھا۔ ۱۷ میسیجز!…… وہ چونکا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

مؤمنہ، منال، ماہم، موحد چچا اور بسام بھائی کے بیس کے قریب میسیجز آئے ہوئے تھے۔

ابوبکر کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ اس نے جلدی سے فیس بک چیٹ کھول لی۔

’’ابوبکر! کہاں ہو؟‘‘ بسام قریشی (پانچ منٹ پہلے)

’’ابوبکر بھائی! نور کا میسیج دیکھا ہے؟ آپ کہاں ہیں؟‘‘ مؤمنہ (دو دن پہلے)

’’ابوبکر! جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘

’’ابوبکر! ہم پریشان ہیں!‘‘ موحد چچا (۳ دن پہلے)

’’ابوبکر!؟‘‘

ابوبکر کی انگلیاں فوراً حرکت کرنے لگیں۔

’’میں ذرا کام سے نکلا ہوں! گھر پہنچ کر فون کروں گا! نمبر بتائیں‘‘ اسی لمحے جواب آ گیا۔

’’کہاں ہو؟‘‘

’’کیسے ہو؟‘‘

’’نور کہاں ہے؟‘‘

’’خیریت سے ہو؟‘‘

’’موبائل ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں رہے تھے، سب ضائع ہو گئے تھے…… ابھی کچھ دن پہلے ہی نئے خریدے ہیں!‘‘

’’فون نمبر:0350–6291131‘‘

’’ٹھیک ہے، پرسوں گھر جاؤں گا! والسلام!‘‘

اس کے بعد اس نے انٹرنیٹ بند کیا اور لیپ ٹاپ سکرین فولڈ کر کے وہیں آنکھیں موندھ کر لیٹ گیا۔دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی۔بہت بے ربط سا دھڑک رہا تھا۔ چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ پھیل گئی۔ یک دم وہ اٹھ بیٹھا۔

’’میں اپنے رب کا شکر تو ادا کر لوں!‘‘ اس نے سوچا، اور مصلیٰ بچھا کر نماز کی نیت باندھ لی۔

٭٭٭٭٭

فون کی گھنٹی اونچی آواز سے بج رہی تھی۔ نور فوراً فون کی جانب لپکی۔ مگر امینہ خالہ پہلے ہی فون اٹھا چکی تھیں اور کسی سے مسکرا مسکرا کر بات کر رہی تھیں۔ اس کو دیکھ کر انہوں نے فون اس کی طرف بڑھا دیا۔

’’السلام علیکم؟‘‘ نور نے حیرت سے فون میں کہا،مگر دوسری طرف سے جواب کے بجائے کچھ لوگوں کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیں۔

’یا اللہ خیر!‘

’’نور!نور!‘‘ اچانک شناسا سی نسوانی آواز کانوں سے ٹکرائی۔ وہ چیخ رہی تھی۔ نور نے فون کان سے دور کیا۔

’’جی؟‘‘

’’نور!نور!تم؟ ‘‘وہ لڑکی اب قہقہے لگانے لگی تھی۔ اتنے میں اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے جھڑک کر فون اپنے ہاتھ میں لیا ہو۔

’’السلام علیکم!نوربیٹا! مؤمنہ کا تو دماغ ہی الٹ گیا ہے…… جلدی بولو! ہم لوگ ہری پور پہنچ گئے ہیں! گھر کہاں ہے؟‘‘ اس مرتبہ اس کو آواز پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ فون پر موحد چچا تھے۔چیخنے کی باری اب نور کی تھی۔ وہ فون چھوڑ کر چیخے ہی گئی۔فون نیچے جا گرا اور موحد چچا سنو سنو ہی کرتے رہ گئے۔امینہ خالہ بے ساختہ ہنس پڑیں۔

’’عبادہ!آکر اپنی بیوی کو سنبھالو!‘‘ وہ مسکرا کر بولیں۔

عبادہ بھی اس کی چیخ کی آواز سن کر آ گیا تھا اور سیڑھیوں پر کھڑا نور کو آپے سے باہر ہوتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ آخر خود ہی آگے بڑھا اور فون اٹھا لیا۔ نور اب امینہ خالہ کے گلے لگ کر رو رہی تھی۔

’’السلام علیکم! جی! جی! میں عبادہ بول رہا ہوں! ایڈریس ہے……‘‘

گھر کا راستہ سمجھا کر اس نے فون رکھ دیا۔ نور نے فوراً ہاتھ منہ دھویا۔ سر پر اچھی طرح سے سکارف لپیٹ لیا اور چادر ہاتھ میں لے لی۔

اچانک فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ نور نے لپک کر اٹھا لیا۔ دوسری طرف ابوبکر تھا۔

’’وعلیکم السلام! نور بوجھو تو کیا ہوا؟‘‘ وہ چہک کر بولا۔

’’موحد چچا مل گئے!‘‘

’’کیا؟ تمہیں کیسے معلوم؟‘‘

’’ایسے کہ…… اِس وقت وہ ہمارے گھر پہنچنے والے ہیں!‘‘ اتنے میں باہر کی گھنٹی بجی۔ ’’لو!وہ آ بھی گئے! بعد میں بات کریں گے!‘‘

وہ فون رکھ کر باہر کو لپکی۔

عبادہ سب کو بیٹھک میں بٹھا چکا تھا۔ نور نے چادر لپیٹ لی۔

’’بسام بھائی نہیں آئے…… صرف سکارف لے لو!‘‘

اس کے کہنے پر نور نے چادر اتار دی اور صرف سکارف لے لیا۔

بیٹھک کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو سب ہی اس سے ملنے کو بڑھے۔ جس کے نتیجے میں اس کو زور کا دھکا لگا اور وہ لڑکھڑا گئی۔

’’نور……!‘‘ مؤمنہ اور منال چلائیں، اور ساتھ ہی اس سے لپٹ کر رونے لگیں۔ نور کی آنکھوں میں بھی نمی آئی۔ان دونوں سے مل کر وہ عائشہ چچی سے لپٹ گئی۔ پھر موحد چچا نے بھی روتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔نور نے موحد چچا کو اس سے پہلے کبھی روتے ہوئےنہیں دیکھا تھا۔ تائی جان اور ماہم بھی اس سے ملنے کے لیےآئی ہوئی تھیں۔لائبہ بھی آئی ہوئی تھی۔ سب سے مل کر نور صوفے پر بیٹھ گئی۔ اچانک باہر کا دروازہ کھلا اور عبادہ کے ساتھ مصعب کمرے میں داخل ہوا۔مؤمنہ ، منال اور لائبہ نے فوراً چہرے ڈھک لیے۔نور خاموشی سے بیٹھی رہی۔

(خوشی کی شدت سے شاید میری آنکھوں کی بینائی متاثر ہو گئی ہے!)

’’نور؟‘‘ مصعب کے تو ہونٹ بھی ہلے تھے۔

’’نور!مصعب سے ملو!‘‘ عبادہ دھیرے سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔

(اف! الوژن اس حد تک بڑھ گئی ہے…… اوہ نہیں! شاید یہ سچ ہی ہو)

وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور مصعب کی طرف بڑھی ۔پھر اس کے بازو کو چھوا۔

(یہ تو کافی اصل لگتا ہے!)

پھر اس نے عجیب حرکت کی، اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ لی۔ آہ! ہلکی سی سسکی نکلی اور وہ چیخ کر مصعب سے لپٹ گئی۔

’’یہ خواب نہیں ہے!‘‘مصعب نے بھی ہنستے ہوئے اس کو سینے سے لگا لیا۔نور نے آنکھیں مضبوطی سے بھینچ لیں۔ مگر آنسو بند آنکھوں سے بھی راستہ تلاش کر کے بہنے لگے۔مصعب کی آنکھیں بھی چھلکنے کو بے تاب تھیں۔

تھوڑی دیر میں سب کے حواس بحال ہوئےتو سب نے اپنے اپنے حصے کی کہانی سنائی۔

’’اف خدایا! اگر ہم صرف ایک دن اور ٹھہر جاتے، تمہارے انتظار میں…… مگر اصل میں ہم سمجھے تھے کہ تم گرفتار ہو گئی ہو۔ اس لیے خوفزدہ ہو کر ہم نے اگلے دن پہنچتے ہی شفٹنگ کر لی۔ ہم جھنگ میں شفٹ ہو گئے ہیں! کچھ دن پہلے اس دکاندار نے فون کیا تو مؤمنہ نے ایسے ہی فیس بک کھولا تو تمہارا میسیج نظر آیا۔ہم فوراً سمجھ گئے کہ تم ہمیں ہی ڈھونڈ رہی ہو…… عید کے تیسرے دن بسام کی شادی تھی اس لیے ہم جلدی نہ آ سکے!‘‘ عائشہ چچی نے تفصیل سنا دی۔

’’تم کیسے آ گئے؟‘‘ نور مصعب کی طرف متوجہ ہوئی۔

’’تم نے کچھ دن پہلے کی خبریں نہیں سنیں؟…… مجھے مجاہدین نے چھڑوا لیا، ہماری جیل پر حملہ کر کے ہمیں چھڑوا لیا!‘‘ مصعب مسکرا کر بولا۔ ’’مگر شاید تم نے نوٹ نہیں کیا۔ قید کے دوران میری آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔‘‘ نورنے بے اختیار اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا۔ اس کی ایک آنکھ واقعی بے نور تھی۔

اب نور کی کہانی کی بار ی تھی۔ جب وہ سنا کر خاموش ہوئی تو سب بے ساختہ مسکرا دیے۔

’’نور! تم اب شادی شدہ ہو!‘‘ مؤمنہ خوشی سے چہکی۔

’’ہم نے بسام کی لائبہ سے شادی کر دی ہےاور علی کی بھی منال سے نسبت طے کر دی ہے!‘‘ عائشہ چچی نے بتایا ’’ عبادہ بیٹے! کچھ دن کے لیے ہمیں اپنی بیٹی کو لے جانے دو…… اور ابو بکر آئے تو ہمارا ایڈریس دے دینا۔‘‘

’’ضرور!ضرور! بے شک لے جائیں!‘‘ عبادہ نے نور کو اشارہ کیا۔ وہ فوراً اپنے کمرے کی طرف گئی۔ عبادہ بھی مسکراتا ہوا اس کے پیچھے آ گیا۔

’’آج میں بہت خوش ہوں! شاید زندگی میں اس سے زیادہ خوش کبھی نہ ہوا ہوں گا!‘‘ عبادہ مسکرا رہا تھا۔ اس کا چہرہ واقعی کھلا ہوا تھا۔ نور نے بے یقینی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’اوہ بھئی…… بیگم صاحبہ! سمجھا کرو ناں!…… آپ کی خوشی میری خوشی…… میں نے تمہیں ہمیشہ روتے دیکھا ہے۔ تمہیں خوش دیکھنا میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی……بلکہ ابھی بھی ہے!‘‘ وہ مسکرا کر خلوص سے کہہ رہا تھا۔

’’عبادہ!‘‘ نور اور کچھ نہ بول سکی۔ بس صرف اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ اللہ تعالیٰ نے اتنا کرم فرمایا تھا۔ وہ سب سے پہلے اس کا شکر ادا کرنا چاہتی تھی۔

٭٭٭٭٭

نور ایک ماہ کے لیے موحد چچا کے گھر چلی گئی ۔ اس کا یہ ایک ماہ بڑا اچھا گزرا۔ابوبکر بھی آ کر مل گیا تھا۔ارمغان حیرت انگیز طور پر نور کی عبادہ سے شادی پر کچھ نہ بولا۔

ایک ماہ بعد نور واپس آ گئی۔ مصعب، ابوبکر اور علی بھی ان کے محلے میں ہی ایک گھر میں آ گئے تھے۔ مصعب کچھ دنوں سے اس کے گھر آیا ہوا تھا۔گھر میں ہل چل سی تھی اور مصعب اور عبادہ کافی پریشان دکھائی دے رہے تھے مگر نور کو کچھ بتانے سے بالکل انکاری تھے۔ نور نے ہر چند چاہا کہ عبادہ اپنی پریشانی کی وجہ اگل دے مگر وہ ہر دفعہ کنی کترا جاتا۔ آخر نور نے بھی تنگ آ کر کوشش چھوڑ دی۔

٭٭٭٭٭

’’بھائی!‘‘ نور کمرے میں داخل ہوئی۔

’’السلام علیکم!‘‘ مصعب اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

’’وعلیکم السلام!‘‘ نور اس کے قریب آ کر بیٹھ گئی۔’’بھائی ! ایک بات بتاؤ گے؟‘‘

’’ہوں؟‘‘

’’بھائی!کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ اس نے جانچتی ہوئی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا ’’عبادہ بہت پریشان ہے……مجھے کچھ بتا بھی نہیں رہا……تم بتاؤ گے؟‘‘

مصعب سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

’’کیوں؟ تمہیں کیسے لگتا ہے؟‘‘

’’جب سے تم لوگ آئے ہو، وہ بہت پریشان ہے!‘‘ نور بولی۔

مصعب اس کی بات سن کر سوچ میں پڑ گیا۔

’’وہ ……اصل میں تم نے فون پر اپنا ایڈریس اور نام وغیرہ بتایا تھا ناں…… اس وجہ سے اس کو خطرہ ہے کہ ایجنسی والوں کو تمہارے گھر کا پتہ نہ لگ گیا ہو!‘‘ وہ دھیرے سے بولا۔

’’یہ بات تو عبادہ نے مجھے بھی بتائی ہے مگر کچھ ہے جو تم سب لوگ مجھ سے چھپا رہے ہو!‘‘ نور اس کی کہانی سے متاثر ہوئے بغیر بولی ’’بھائی ! پلیز بتا دو ناں!‘‘

مصعب خاموش ہو گیا اورپاس پڑی کتاب اٹھا کر اس کی ورق گردانی کرنے لگا۔ جس کا واضح مطلب تھا کہ وہ بات ٹالنا چاہ رہا ہے۔

’’اچھا بھائی! ایک اور بات!‘‘ نور نے موضوع بدلنا چاہا، ’’شادی کرو گے؟‘‘

مصعب کو ویسا ہی جھٹکا لگا جیسا اس کو چھاپے والے دن نور کی بات سن کر لگا تھا۔

’’نور! آج کل ایسے حالات نہیں ہیں!‘‘ مصعب ذرا درشتگی سے بولا۔ نور نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

’’کیوں نہیں ہے؟بھائی! ثواب کمانے میں حالات کی کیا قید؟‘‘

مصعب نے منہ بنا کر اس کی جانب دیکھا۔

’’کس سے شادی کر کے مجھے ثواب ملے گا؟‘‘

’’جویریہ سے!‘‘ نور زور دے کر بولی۔ مصعب ایک سیکنڈ کو بالکل خاموش ہو گیا۔

’’نور؟……‘‘ وہ اس سے زیادہ کچھ نہ بول پایا۔

’’بھائی!…… خود ہی سوچو! اس کو کون سہارا دینے پر تیار ہو گا وہ بھی اس حالت میں…… تم لوگ دنیا میں انقلاب انقلاب کی بات کرتے ہو……اپنی زندگیوں میں بھی تو ہم نے انقلاب لانا ہے ناں!‘‘ نور آگے ہو کر بیٹھ گئی۔

مصعب گہری سوچ میں جا چکا تھا۔

’’بھائی!……‘‘

’’ٹھیک ہے نور! میں کر لوں گا شادی!‘‘ مصعب اچانک تیز لہجے میں بولا ’’مگر ابھی مجھے تنگ نہیں کرو…… میں کتاب پڑھنا چاہ رہا ہوں۔‘‘

وہ بہانہ بنا رہا تھا کہ اس نے کتاب پڑھنی ہے، مگر نور اچھی طرح جانتی تھی کہ عبادہ اور مصعب دونوں کے بگڑے ہوئے موڈوں کی کوئی وجہ ضرور تھی۔

وہ دھیرے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور کمرے سے نکل گئی۔ مصعب کتاب کا گتا ذرا ترچھا کیے اس کو کمرے سے جاتا دیکھتا رہا۔

٭٭٭٭٭

گھر خوشیوں سے بھر گیا تھا۔ ہر طرف تتلیاں اتر آئیں تھیں۔ سب خاندان والے نور کے کمرے میں تھے۔نور بستر میں تھی اور امینہ خالہ اس کو یخنی پلا رہی تھیں۔ عائشہ چچی بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھی تھیں۔ ایک طرف مؤمنہ، منال اور مسفرہ ہنستی مسکراتی اس ننھے سے وجود پر جھکی ہوئی تھیں۔ اور اس کو بے تحاشہ پیار کر رہی تھیں۔

’’کیسی ہے؟‘‘ جویریہ نے حسرت سے پوچھا۔

’’بہت پیاری ہے!‘‘ مؤمنہ کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔

’’اوہ!آپا!‘‘ اچانک مسفرہ کی چہچہاتی آواز سنائی دی ’’اس نے آنکھیں کھول لیں! اس نے آنکھیں کھولی ہیں!‘‘

نور سب کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ جویریہ پر نظر پڑتے ہی اس کا دل بیٹھ گیا۔ وہ معصوم اپنی اکلوتی اور پہلی بھتیجی کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتی تھی۔

’’بچیو!لڑکوں نے اندر آنا ہےتم لوگ باہر چلی جاؤ!‘‘ عائشہ چچی کمر ے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں تو وہ سب اٹھ کھڑی ہوئیں۔ منال نے جویریہ کو سہارا دیا اور کمرے سے باہر لے گئی۔

عبادہ، مصعب اور ابوبکر چمکتے ہوئے چہروں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔ اور تینوں اس ننھے سے وجو د پر جھک گئے۔ عبادہ نے ننھے وجود کو امینہ خالہ کے ہاتھ سے احتیاط سے اپنی گود میں لے لیا۔وہ بہت پیاری تھی، آنکھیں بند کیے اور مٹھیاں بھینچے ہوئے۔ اس نے بے ساختہ اس کی ننھی ننھی مٹھیوں کو چوم لیا۔

’’تم نے اٹھانی ہے؟‘‘ عبادہ نے مصعب کی طرف دیکھا۔ اس سے جھجکتے ہوئے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

’’کوئی نام سوچا ہے؟‘‘ امینہ خالہ نے عبادہ کی طرف دیکھا تو اس نے نور کی طرف دیکھا۔

’’خالہ آپ بتائیں؟‘‘ نور نے امینہ خالہ کی طرف دیکھا۔

’’نہیں بچو! تم لوگ بتاؤ!‘‘

’’مریم کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘ عبادہ نے سب کی جانب دیکھا۔ سب نے خوشی کا اظہار کیا۔

’’ہاں مریم تو بہت پیارا نام ہے!‘‘ امینہ خالہ نے مسکرا کر جواب دیا۔

’’پھر ان شاء اللہ مریم ہی رکھ لیتے ہیں!‘‘

سب ہی بے انتہاخوش تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کو اپنی رحمتوں سے ڈھک لیا تھا۔

٭٭٭٭٭

’’نور! لائٹ بند کر دو! مجھے نیند آ رہی ہے!‘‘ عبادہ نے انکھیں بند کرتے ہوئے کہا۔

’’بس ایک منٹ اس کو کپڑے پہنا کر آتی ہوں!‘‘

عبادہ آنکھیں بند کر کے کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

’’عبادہ! مریم کی آنکھیں میری اماں سے ملتی ہیں ناں!‘‘ نور نے محبت سے مریم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔وہ ہلکی ہلکی کلکاریاں مار رہی تھی۔

’’ہوں!‘‘

’’اور ہونٹ تو بالکل جویریہ جیسے ہیں!‘‘ وہ بولے جا رہی تھی۔ ’’اور پتہ نہیں بال کیسے ہوں گے۔……ابھی تو نکلے ہی نہیں ہیں!‘‘

’’ہوں!‘‘

’’عبادہ!آپ سن تو نہیں رہے!‘‘

’’سن رہا ہوں!…… تمہاری آنکھیں بالکل اپنی اماں کی طرح ہیں!‘‘ وہ کروٹ بدلے بغیر بولا۔

’’نہیں! میں تو مریم کی آنکھوں کی بات کر رہی ہوں!……‘‘ نور منہ بنا کر بولی۔ ’’عبادہ ! آپ بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کو ٹینشن کیا ہے؟‘‘

’’نور! تم نے کیا کرنا ہے جان کر؟‘‘ عباد ہ برہم ہو کر بولا۔

’’مجھے پریشانی ہوتی ہے!آپ بھی پریشان ہیں اور مصعب بھی پریشان ہے! اور بتانے پر کوئی بھی تیار نہیں!‘‘

نور مزید خفگی سے بولی۔

’’نور! ہر بات تم کو نہیں بتا سکتے!‘‘ عبادہ اچانک غصے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’’اب دوبارہ مجھے تنگ مت کرنا!‘‘

’’عبادہ!صرف اتنا تو بتا دیں کہ کس قسم کی ٹینشن ہے؟‘‘ نور پر اس کے غصے کا ذرا اثر نہ ہوا۔ عبادہ نے گھور کر اس کی جانب دیکھا۔

’’تم کیوں اتنا پیچھے پڑ گئی ہو؟…… تمہارے لیے لا علمی ہی میں بہتری ہے!‘‘ وہ چڑ کر بولا۔ ’’بار بار مت پوچھو!‘‘

عبادہ دوبارہ کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ نور نے منہ پھلا لیا۔ اچانک مریم رو پڑی تو اس کو اٹھا کر کندھے سے لگا لیا۔

’’ہم شفٹ ہو رہے ہیں!‘‘

’’کیوں؟‘‘ مریم چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ وہ اس کو لے کر ٹہلنے لگی۔

’’پھر کیوں!‘‘

’’ہاں ناں! کیوں شفٹ ہونا ہے اورکب؟‘‘

’’بس تین دن میں شفٹ ہونا ہے!…… اور تمہیں اتنا شوق ہو رہا ہے ناں میری ٹینشن سننے کا تو سنو!‘‘ اچانک عبادہ دوبارہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ بہت سخت تھا۔ نور نے حیرت سے اس کےچہرے کی طرف دیکھا۔وہ بے پرواہ سی مسکراہٹ نہ جانے اتنے دنوں سے کہاں غائب ہو گئی تھی۔

’’امریکی تم پر یا جویریہ پر ہاتھ ڈالنا چاہتے ہیں!‘‘ عبادہ کی بات اس کے لیے دھماکے سے کم نہ تھی۔خوف کی ایک لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔’’اور فون پر تمہاری موحد چچا سے بات کرنے کی وجہ سےاب ان کو اندازہ بھی ہو گیا ہو گا کہ تم کدھر ہو!……وہ تمہیں گرفتار کر کے مجھ تک پہنچنا چاہتے ہیں…… کیونکہ میں تو کہیں بھی بھاگ جاؤں گا مگر تم لوگوں کو کہیں لے جانا ایک مشکل کام ہے!…… اب پلیز مجھ سے یہ مت پوچھنا کہ کیسے پتہ چلا……!‘‘

وہ یہ کہہ کر دوبارہ لیٹ گیا مگر آنکھیں بند نہ کیں اور بغور نور کے چہرے کے بدلتے ہوئے زاویوں کو دیکھنے لگا۔مریم رو رو کر بے حال ہو رہی تھی مگر نور ٹہلنا بھول کر شل ہوتے اعصاب کے ساتھ کھڑی تھی۔

’’اس کو تو چپ کراؤ!‘‘ وہ دھیرے سے مسکرایا تو وہ مرے مرے قدموں سے پھر ٹہلنے لگی۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

سلطانئ جمہور | قسط نمبر: ۱۷

Next Post

بھارتی مسلمانوں کے سروں پر رقصاں موت

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | ساتویں قسط

12 اگست 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

14 جولائی 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پانچویں قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پانچویں قسط

9 جون 2025
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چوتھی قسط

27 مئی 2025
Next Post

بھارتی مسلمانوں کے سروں پر رقصاں موت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

اکتوبر ۲۰۲۵ء

اکتوبر 2025ء

by ادارہ
4 نومبر 2025

Read more

تازہ مطبوعات

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2025 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version