ذیل میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز تالیف ’شوقِ وطن‘ نذرِ قارئین ہے۔ اس تحریر میں حضرت تھانویؒ نے انسان کو اس کے اصلی وطن یعنی آخرت کا شوق دلایا ہے۔جیسا کہ اس تالیف کے شروع میں حضرت تھانویؒ نے خود فرمایا ہے کہ یہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں تحریر فرمائی جب بعض علاقوں میں طاعون تیزی سے پھیل رہا تھا اور مسلمانوں میں بھی موت کا خوف عام تھا۔ اس وقت (۲۰۲۰ء میں)جب اس تالیف کو قسط وار مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں شائع کیا جا رہا ہے تو پوری دنیا کو طاعون ہی کی مثل ایک نئی وبا ’کورونا وائرس‘ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایسے میں اس تالیف کو دوبارہ شائع کرنا اور عوام و خواص میں اس کی ترویج ایک صائب اقدام معلوم ہوتا ہے۔ حضرت تھانوی کے خلیفۂ خاص حضرت حکیم مصطفیٰ بجنوری رحمہ اللہ نے اس کتاب کی تسہیل فرمائی تھی اور ذیل میں تسہیل ہی پیشِ خدمت ہے۔اللہ جلّ جلالہ سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس تحریر کو پڑھنے، سمجھنے اور اس کے ذریعے اپنے اصلی وطن یعنی آخرت کی تیاری کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین! (ادارہ)
اہل جنت سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ راضی رہیں گے:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کو پکاریں گے کہ اے اہل جنت! وہ عرض کریں گے کہ ہم حاضر ہیں اور خدمت گزار ہیں اور خیر سب کی سب آپ کے ہاتھوں میں ہے (یعنی کیا ارشاد ہے؟) فرما ویں گے کہ تم راضی بھی ہو گئے؟ عرض کریں گے کہ اے رب راضی کیوں نہ ہوتے حالانکہ آپ نے ہم کو ایسی ایسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو آج کسی کو عطا نہیں فرمائیں ۔ ارشاد ہو گا کہ میں تم کو اس سے بھی بڑھ کر ایک چیز دوں؟ عرض کریں گے اے رب! اس سے افضل کیا چیز ہو گی؟ ارشاد ہو گا کہ میں تم پر ہمیشہ اپنی رضامندی مبذول رکھوں گا اور اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہوں گا۔(مشکوٰۃ)
جنت سونے چاندی کی اینٹوں سے بنی ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! جنت کی عمارت کیسی ہے؟ فرمایا: ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی اور گارا اس کا مشک خالص ہے اور کنکریاں اس کی موتی اور یاقوت ہیں اور مٹی اس کی زعفران ہے۔(مشکوٰۃ، ترمذی)
جنت کے درختوں کے تنے سونے کے ہوں گے:
اور نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جنت میں کوئی درخت ایسا نہیں ہے جس کا تنا سونے کا نہ ہو۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
جنت میں ہر قسم کی چیزیں ملیں گی:
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا جنت میں گھوڑے بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو جنت میں لے جاوے تو جب تیرا جی چاہے گاکہ یاقوتِ سرخ کے گھوڑے پر تجھ کو سوار کیا جاوے جو تجھ کو جہاں جہاں تیرا جی چاہے لیے پھرے تب ہی ایسا ہو جاوے گا اور اسی حدیث میں ہے کہ اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرے تو تجھ کو ہر قسم کی چیزیں ملیں گے جو کچھ تیرا جی چاہے اور جس سے تیری آنکھوں کو لذت ہو۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
ادنیٰ جنتی کے لیے انعامات:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ادنیٰ اہل جنت کا ایسا ہو گا جس کے اسّی (۸۰)ہزار خادم اور بہتّر (۷۲)بیبیاں ہوں گی اور اس کے لیے ایک قبہ موتی اور زبرجد اور یاقوت کا اتنا بڑا کھڑا کیا جاوے گا جیسا جابیہ سے صنعاء کا فاصلہ ہے اور انھی اسناد سے یہ حدیث ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اہل جنت پر تاج ہوں گے کہ ادنیٰ موتی ان کا مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کو روشن کر سکتا ہے۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
جنت میں دودھ اور شہد کے دریا ہوں گے:
حکیم بن معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جنت میں ایک دریا پانی کا اور ایک شہد کا اور ایک دودھ کا اور ایک شراب کا ہو گا۔ پھر ان دریاؤں سے آگے نہریں نکل نکل کر چلی ہیں ۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
جنت کی حوریں :
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جنت میں ایک جگہ ہو گی جہاں حوریں جمع ہو کر بلند آواز سے، جس کے مثل خلائق نے نہ سنا، یہ گائیں گی: نحن الخالدات……الخ، یعنی ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہ ہوں گی اور ہم آرام سے رہنے والی ہیں کبھی سختی نہ جھیلیں گی اور ہم راضی رہیں گی کبھی ناراض نہ ہوں گی، اس شخص کے لیے بڑی خوشحالی ہے کہ وہ ہمارا ہو اور ہم اس کی ہوں ۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
جنت میں اللہ تعالیٰ کی خوب زیارت نصیب ہو گی:
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے کہ تم اپنے رب کو کھلم کھلا دیکھو گے اور ایک روایت میں ہے کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے لیلۃ البدر میں چاند کو دیکھا اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جیسا اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں ایک دوسرے کو زحمت نہیں ہوتی (جیسا شاہانِ دنیا کی سواری دیکھنے میں ہوتی ہے)۔(مشکوٰۃ)
جنت میں اللہ تعالیٰ کی زیارت سب سے زیادہ محبوب ہو گی:
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جنت والے…… جنت میں جاویں گے، اللہ تعالیٰ فرماویں گے تم کچھ اور زیادہ چاہتے ہو کہ تم کو دوں؟ وہ عرض کریں گے: کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کیا، کیا آپ نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کیا اور دوزخ سے نجات نہیں دی؟ آپؐ فرماتے ہیں کہ پس پردہ اٹھا دیا جاوے گا، پس اللہ تعالیٰ کا جمال باکمال دیکھیں گے اور کوئی چیز ان کو ایسی عطا نہ ہوئی تھی جو اپنے رب کی طرف نظر کرنے سے زیادہ محبوب ہو۔(مسلم و مشکوٰۃ)
جنت میں ادنیٰ اور اعلیٰ شخص کے لیے نعمتیں :
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اہل جنت میں سب سے ادنیٰ درجے کا وہ شخص ہو گا جس کو اپنے باغ اور بیبیاں اور سامان نعمت اور خدمت گار اور اسباب مسرت ایک ہزار برس کی مسافت تک نظر آویں گے اور سب سے زیادہ معزز وہ شخص ہو گا جو حق تعالیٰ کے دیدار سے صبح و شام مشرف ہو گا۔(ترمذی و مشکوٰۃ)
جنت میں حق تعالیٰ کی زیارت:
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں مشغول ہوں گے دفعتاً ان کے روبرو ایک نور بلند ہو گا تو دیکھتے کیا ہیں کہ اوپر سے حق تعالیٰ کا ظہور ہوا اور ارشاد ہو گا: السلام علیکم یا اہل الجنۃاور اس آیت کی بھی تفسیر ہے سلامٌ قولاً من رب رحیم پس حق تعالیٰ اہل جنت کو اور اہل جنت حق تعالیٰ کو دیکھیں گے اور جب تک ادھر دیکھتے رہیں گے کسی نعمت کی طرف التفات نہ کریں گی یہاں تک کہ ان سے پردے میں ہو جائے گا اور نور (جو اس کا اثر ہے) باقی رہ جاوے گا۔(ابن ماجہ و مشکوٰۃ)
فائدہ :ذرا ان حدیثوں کے مضامین میں غور کیاجاوے ایسی بے غل و غش اور ابدی نعمتیں دنیا میں کسی سلطان ہفت اقلیم کو بھی میسر نہیں ۔
تتمہ
ناظرین کو یاد ہو گا گیارہویں باب میں برزخ کی نعمتیں ذکر کی گئی تھیں، اس پر ایک شبہہ ہوتا تھا اور اس بارہویں باب میں قیامت کی نعمتیں ذکر کی گئی ہیں، اس پر بھی ویسا ہی شبہہ ہوتا تھا جیسا کہ گیارہویں باب پر ہوتا تھا۔ وہ شبہہ یہ ہے کہ جنت کی نعمتیں سن کر شوق جب پیدا ہو سکتا ہے جبکہ دوزخ کے عذابوں کی خبر نہ ہو اور دوزخ کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی خبر معلوم ہونے کے بعد تو سب حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور آخرت کے نام سے ڈر معلوم ہوتا ہے اور بجائے آخرت کے شوق پیدا ہونے کے دنیا ہی میں رہنا غنیمت معلوم ہوتا ہے کیونکہ جب تک دنیا میں ہے ان عذابوں سے نجات ہے اور اہل عقل کا قول بھی ہے کہ تکلیف کا دفع کرنا آرام کے حاصل کرنے سے زیادہ ضروری ہے، یہاں کے شبہہ کے بھی ویسے ہی دو جواب ہیں جیسے گیارہویں باب کے شبہہ کے تھے۔
اول یہ کہ دوزخ سے بچنا اختیاری ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ جن اعمال کی وجہ سے دوزخ کا عذاب لازم آتا ہے وہ سب اختیاری ہیں؛ ان سے بچیں، دوزخ کی مصیبتوں سے بچے رہیں گے۔
دوسرے یہ کہ باوجود ان تکلیفوں کے یہ یقین کہ ہم کو ایک دن ضرور ان سے نجات ملے گی، زخم پر مرہم کا کام دے گا۔ بخلاف دنیا کے کہ یہاں کی نعمتیں کیسی ہی ہوں لیکن آخرت کی تکلیفوں کا خیال ان سب کو مکدر کر دیتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مومن کے لیے آخرت کی تکلیفوں کی حالت بھی دنیا کی نعمتوں کی حالت سے اچھی ہے کیونکہ وہاں کی تکلیفوں کے ساتھ جنت کا یقین لگا ہوا ہے اور دنیا کی نعمتوں کے ساتھ آخرت کا خطرہ ہے جو سب نعمتوں کو مٹی کرنے والا ہے۔
اور تیسرا جواب اس شبہہ کا ایک اور بھی ہے جو گیارہویں باب میں مذکور ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ بعض گناہ گاروں کے لیے کسی کی شفاعت یا محض فضل خداوندی سے آخرت کے عذاب کا بالکل نہ ہونا یا تھوڑی مدت کے بعد موقوف ہو جانا بھی ہو گا۔ اس دوسرے اور تیسرے جواب کے لیے ثبوت کی ضرورت ہے چنانچہ اس کے ثبوت میں چند روایتیں لکھی جاتی ہیں ۔
جہنمی جہنم میں ہمیشہ رہیں گے جبکہ گناہ گار مسلمان ایک نہ ایک دن جہنم سے نجات پا لیں گے:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اہل دوزخ میں جو کہ حقیقتاً اہل دوزخ ہیں (یعنی کافر) وہ اس میں نہ مریں گے نہ جئیں گے۔ لیکن بعضے آدمیوں کو تم میں سے (یعنی مسلمان میں سے) ان کے گناہوں کے سبب دوزخ کا اثر پہنچے گا پھر اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص طور کی موت دے دے گا یہاں تک کہ جب وہ بالکل کوئلہ ہو جاویں گے تو اللہ تعالیٰ (شفاعت کرنے والوں کو ان کی) شفاعت کرنے کی اجازت دے دے گا (بعض نے کہا کہ ایک مدت تک سزا پا کر بالکل مر جاویں گے بعض نے کہا ہے کہ قلت احساس کی بنا پر مردے کے ساتھ تشبیہ دی گئی)۔(مسلم)
مسلمان جہنم سے نکل کر پاک صاف ہو کر جنت میں چلے جائیں گے:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ مسلمان دوزخ سے رہائی پا کر جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روکے جائیں گے اور دنیا میں جو ایک کے حقوق دوسرے کے ذمہ تھے ان کا عوض معاوضہ ہو گا یہاں تک کہ جب بالکل پاک صاف ہو جاویں گے تو دخول جنت کے لیے اجازت مل جائے گی۔(بخاری و مشکوٰۃ)
پل صراط سے گزرنے کا بیان:
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث طویل میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پل صراط سے گزرنے کا بیان کر کے فرمایا کہ جب مسلمانوں کو دوزخ سے رہائی ہو جاوے گی تو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر کسی کا حق (دنیا میں ) ثابت ہو جاوے تو وہ بھی اتنا اس کے وصول کا تقاضا نہیں کرتا جتنا مسلمان اللہ تعالیٰ سے اپنے ان بھائیوں کے واسطے اصرار کریں گے جو دوزخ میں ہوں گے۔ وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار! یہ لوگ ہمارے ساتھ روزہ رکھتے تھے اور نماز پڑھتے تھے اور حج کرتے تھے ارشاد ہو گا کہ جن کو پہچانتے ہو نکال لو اور ان کے چہروں میں آگ کا ذرا اثر نہ ہو گا سو وہ لوگ بہت سی خلق کو نکالیں گے۔ پھر عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار! جن کی نسبت آپ نے ہم کو فرمایا تھا ان میں سے کوئی دوزخ میں رہا نہیں (یعنی جان پہچان والوں کو سب کو نکال کیا گو دوسرے اہل ایمان موجود ہیں ) ارشاد ہو گا: دوبارہ جاؤ اور جس کے دل میں دینار کے برابر ایمان دیکھو اس کو بھی نکال لو۔ سو بہت سی خلقت کو (اس وقت) نکال لیں گے پھر ارشاد ہو گا کہ اب کی بار پھر جاؤ اور جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان دیکھو اس کو بھی نکال لو، سو بہت سی خلقت کو (اس وقت) نکالیں گے۔ پھر ارشاد ہو گا کہ اب کی بار پھر جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان پاؤ اس کو بھی نکال لو۔ سو بہت سی خلقت کو (اس وقت نکالیں گے) پھر عرض کریں گے کہ ہم نے اس میں کوئی ایمان دار نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ ملائکہ شفاعت کر چکے اور پیغمبر شفاعت کر چکے اور مومنین شفاعت کر چکے اب بجز ارحم الراحمین کے کوئی باقی نہیں رہا پس اللہ تعالیٰ ایک مٹھی دوزخ سے لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جنہوں نے کبھی خیر کی ہی نہ ہو گی اور وہ (جل کر) کوئلہ ہو گئے ہوں گے، پھر ان کو ایک نہر میں ڈال دے گا جو لب جنت پر ہو گی اور اس کا لقب نھرالحیوٰۃ ہے، سو وہ اس طرح اس میں سے (تروتازہ) ہو کر نکلیں گے جیسے سیلاب کے بہائے ہوئے خاک و خاشاک میں دانہ نکل آتا ہے۔ غرض موتی کی طرح (آبدار ہو کر) نکل آویں گے اور ان کی گردن پر خاص نشان ہوں گے۔ اہل جنت کہیں گے: یہ رحمن کے آزاد کیے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر کسی عمل کے جس کو کیا ہو اور بغیر کسی خیر کے جس کو آخرت میں بھیجا ہو جنت میں داخل کیا ہے۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ تمہارے لیے وہ بھی جو تم نے دیکھا اور اس کے ساتھ اس کے برابر اور بھی ۔ (بخاری و مسلم و مشکوٰۃ)
فائدہ:جو لوگ محض رحمت خداوندی سے سب سے اخیر میں دوزخ سے نکالے جائیں گے یہ یقینی بات ہے کہ یہ لوگ کافر نہیں کیونکہ کافر کی بخشش کی شریعت میں بالکل نفی ہے۔ کافر کے لیے ابدالآباد تک جہنم ہی میں رہنا ہے، تو یا تو یہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس پیغمبر کی خبر ہی نہیں پہنچی اس وجہ سے نہ ان کو کافر کہہ سکتے ہیں کہ کفر کی وجہ سے ہمیشہ جہنم میں رہتے نہ ان کو مومن کہہ سکتے ہیں جس طرح نبی کے ماننے والوں کو مومن کہا جاتا ہے کیونکہ نبی کی خبر ان کو پہنچی ہی نہیں جب مومن نہیں ہیں تو جنت میں اور مومنین کے ساتھ نہیں گئے نہ کسی کی شفاعت ان کو پہنچی۔ حدیث مذکور کے الفاظ سے ظاہراً یہی صورت معلوم ہوتی ہے کیونکہ حدیث مذکور کے اس جملہ میں بغیر عمل ’عملوہ ولا خیر قدموہ‘ میں دو لفظ ہیں عمل اور خیر یعنی انہوں نے نہ کوئی عمل کیا ہو گا نہ کوئی بھلائی۔ بھلائی سے ایمان ہی سمجھ میں آتا ہے۔
اب یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب ان کو کسی نبی کی خبر ہی نہیں ہوتی تو بھلے برے سے بالکل بے خبر رہے تو دوزخ میں کیوں بھیجے گئے؟ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ بعضے گناہ نبی کے بتانے پر موقوف نہیں، عقل سے بھی سمجھے جا سکتے ہیں؛ جیسے ظلم وغیرہ۔ وہ ایسے گناہوں میں مبتلا ہوئے ہوں گے اس کی وجہ سے دوزخ میں ڈالے گئے، پھر جب ان سے پاک ہو گئے تو رحمت خداوندی سے دوزخ میں سے نکال لیے گئے اور یا یہ لوگ مومن ہی ہوں گے مگر ایمان ان کا اس قدر کم درجے کا اور ضعیف ہو گا کہ کسی نبی اور ولی کی شناخت میں نہ آئے گا بس حق تعالیٰ ہی کو اس کی اطلاع ہو گی۔ جب کوئی نہ پہچان سکے گا تو حق تعالیٰ ان کو دوزخ سے نکالیں گے۔ اس صورت میں حدیث مذکور کے لفظ ولاخیر سے یہ مراد ہے کہ خیر یعنی ایمان قابل شمار ان میں نہ ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
کتاب کا خلاصہ
یوں سمجھو کہ کتاب ہٰذا ایک نسخہ ہے امراض قلبی کا۔ اب اس کی ترکیب استعمال بیان ہوتی ہے کہ اس کتاب کے پڑھ لینے کے بعد اس کا فائدہ حاصل کرنے کا یعنی آخرت کا شوق پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دن میں یا رات میں کوئی فرصت کا وقت مقرر کر کے کتاب کے سب مضمونوں کو دل میں جمع کر کے خیال ہی کے طور پر سہی یہ سوچا کرے کہ دنیا رنج و تکلیف کا گھر ہے۔ وہ کون سا دن ہو گا کہ وطنِ اصلی یعنی آخرت کی جدائی کی مدت ختم ہو گی اور رحمت کے فرشتے مجھے لینے کو آئیں گے اور موت سے پہلے کچھ بیماری ہوئی ہو گی تو اس سے میرے گناہ معاف ہو جائیں گے اور پاک صاف ہو جاؤں گا۔ پھر دم نکلنے کے وقت فرشتوں سے وہ خوش خبریاں سنوں گا جو کتاب میں لکھی ہیں اور یوں عزت اور آبرو کے ساتھ مجھ کو فرشتے لے جائیں گے پھر قبر میں ایسی ایسی باتیں دیکھوں گا اور بزرگوں کی اور اعزا و اقارب اور دوستوں کی روحوں سے ملاقات ہو گی اوریوں جنت میں سیر کرتا پھروں گا اور اگر کوئی میرا عمل باقیات صالحات کی قسم سے ہو گا یا میرے بعد کسی مسلمان بھائی نے میرے لیے دعا کر دی تو ان کی برکت سے ان نعمتوں میں اور ترقی ہوتی رہے گی پھر قیامت میں اس طرح آرام و آسانی ہو گی۔پھر جنت میں ایسی ایسی ظاہری اور باطنی لذتیں ہوں گی۔
غرض فرصت کے وقت یہ سب باتیں سوچ کر مزے لیا کرے اور اگر عذاب کی خبریں یاد آویں تو خیال کرے کہ اس سے بچنا تو ممکن ہے ایسے کاموں سے بچا رہوں جن پر عذاب ہوتا ہے تو عذاب کیوں ہو گا۔ اس شغل اور خیال باندھنے سے آخرت کا شوق بڑھے گا اور دنیا سے دلچسپی کم ہوتی جائے گی اور بجائے اس کے کہ دنیا سے محبت تھی دنیا سے وحشت اور نفرت ہونے لگے گی اور جو آخرت سے وحشت تھی بجائے اس کے آخرت سے دلچسپی اور محبت پیدا ہونا شروع ہو گی اور یہ شغل اور تصور علاوہ اس نفع کے خود بھی عبادت ہے اور شریعت میں اس کا حکم ہے اور اس کی فضیلت آتی ہے اس کا ثبوت ان حدیثوں سے ہے:
موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم:
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کیا کرو کیونکہ وہ گناہوں سے صاف کرتی ہے اور دنیا سے بے رغبت بناتی ہے۔(شرح الصدور)
رسول اکرم ﷺکا موت کو یاد دلانا:
وضین ابن عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺجب لوگوں کو موت سے غافل دیکھتے تھے تشریف لاتے اور دروازے کے بازو پکڑ کر تین بار پکار کر فرماتے اے لوگو! اے اہل اسلام! موت تمہارے پاس ضروری اور لازم ہو کر آپہنچی۔ موت مع اپنے متعلقات کے آپہنچی۔ موت انبساط اور راحت اور کثرت مبارکہ کے ساتھ آپہنچی اہل جنت کے مقبولانِ رحمٰن کے لیے، جن کی سعی اور رغبت جنت میں تھی۔(بیہقی و شرح الصدور)
موت کو یاد کرنے والے کا درجہ:
شرح الصدورمیں ہے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا شہدا کے ساتھ کوئی اور بھی محشور ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! جو شخص موت کو دن رات میں بیس بار یاد کیا کرے۔
میں کہتا ہوں کہ جو شخص جس طرح میں نے بیان کیا ہے مراقبہ کرے تو اس کایاد کرنا موت کو بیس بار سے زیادہ ہو جائے گا کیونکہ جو روایات محل ہیں مراقبہ کا وہ (بیس سے کہیں ) زیادہ ہیں۔(شرح الصدور)
امید کو اوسط درجہ پر رکھنے کا بیان:
مسلمانوں کو معلوم ہو گا کہ ایمان کا کمال نہ صرف خوف سے ہوتا ہے اور نہ صرف امید سے بلکہ خوف اور امید کے درمیان میں رہنے سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس رسالہ میں تمام مضامین امید ہی امید کے لکھے گئے ہیں، خوف کے مضامین بالکل نہیں لکھے گئے۔ اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ہماری غرض یہ ہے کہ فقط امید ہی رکھنا چاہیے، خوف کو بالکل بھلا دیا جائے بلکہ ہماری غرض ایسے مضامین کے لکھنے سے دنیا سے نفرت دلانا اور آخرت کا شوق پیدا کرنا ہے اور اس غرض کے پورا ہونے میں امید کے مضامین کو زیادہ دخل ہے کیونکہ جب آخرت کا شوق پیدا ہو گا تو نیک کاموں کی خواہ مخواہ ہمت ہو گی اور یہ ہمت ہی اصل غرض ہے۔ عذاب کی خبریں سنانے سے بھی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ خوف کی خبریں اور امید کی خبریں دونوں اصل غرض میں (کہ وہ ہمت اعمال کی دلانا ہے) شریک اور یکساں کی تاکید کرنے والی ہیں (کیونکہ جو غرض خوف کے مضامین سے تھی وہی ان سے ہے) نہ کہ خوف کے مضامین کے خلاف کوئی بات ثابت کرنے والی ہیں۔ تو یہ نہ ہونا چاہیے کہ آدمی خوف کو بالکل بھلا دے (کیونکہ حق تعالیٰ نے کمال ایمان کی علامت یہ فرمائی ہے:
وَالَّذِينَ هُم مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ إِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَيْرُ مَأْمُونٍ
یعنی مومن کامل کی ایک یہ بھی صفت ہے کہ پروردگار کے عذاب سے ڈرتا ہو کیونکہ پروردگار کا عذاب ایسی چیز نہیں جس سے کوئی بے خوف ہو جاوے۔ مصطفیٰ)۔
زیادتیٔ عمر کے متعلق تحقیق:
تیسرے باب کے اخیر میں ایک شبہہ اور اس کا جواب مذکور ہوا ہے (وہ شبہہ یہ تھا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کو حیات پر ترجیح ہے مگر بعض احادیث میں موت کی تمنا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ جو اب یہ تھا کہ اس اعتبار سے حیات کو موت پر ترجیح ہو سکتی ہے کہ زندگی زیادہ ہو گی تو نیکیاں بڑھیں گی یا گناہوں سے توبہ ہو سکے گی، ورنہ ترجیح موت ہی کو ہے کیونکہ موت کے بعد ہی تمام نعمتیں آخرت کی مل سکتی ہیں ) اب یہاں بھی اسی جواب کو ذرا اور صاف طور سے بیان کیا جاتا ہے۔
وہ بیان یہ ہے کہ اگر غور کیا جاوے تو ثابت ہو جاوے گا کہ جن حدیثوں سے زندگی کو ترجیح معلوم ہوتی ہے وہ حدیثیں حقیقت میں ان حدیثوں کی تائید کرتی ہیں جن سے موت کو ترجیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ ان حدیثوں میں خود موجود ہے کہ موت کی تمنا اس واسطے نہیں چاہیے کہ زندگی میں نیکیوں کی زیادتی اور گناہوں سے توبہ ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ زندگی بڑھنے سے موت کی بہتری کی امید ہے۔ اس واسطے زندگانی کا بڑھنا بہتر ہے ورنہ زندگی خود مقصود نہیں۔ توترجیح موت کو ہوئی جیسا کہ تیسرے باب کی حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے نیز اس حدیث سے ثابت ہے جو ہم یہاں لکھتے ہیں:
موت آدمی کے لیے بہتر ہے:
زرعہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا کہ آدمی زندگی کو محبوب رکھتا ہے حالانکہ موت اس کے لیے بہتر ہے۔(شرح الصدور و بیہقی)
بعض اہل شوق کے قصے
ان قصوں کے لکھنے میں یہ فائدہ ہے کہ انسان کی طبعی بات ہے کہ انسان اپنے ہم جنسوں کے حالات سے زیادہ اثر قبول کرتا ہے تو ان قصوں کو آخرت کا شوق پیدا کرنے میں زیادہ اثر ہے۔
انبیاء علیہم السلام نے موت کو پسند فرمایا:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی ایسانبی نہیں جس کو دنیا و آخرت کے رہنے میں اختیار نہ دیا گیا ہو اور آپؐ کو اس مرض میں جس میں آپ کی وفات ہوئی ہے سخت بستگی آواز نے پکڑا، اس وقت میں نے آپؐ کو یہ کہتے سنا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیا اور صدیقین اور شہدا اور صالحین ۔ میں سمجھ گئی کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہو گا۔(مشکوٰۃ)
موت دوست کو دوست سے ملاتی ہے:
مسند احمد میں ہے کہ ملک الموت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تاکہ ان کی روح قبض کریں۔ انہوں نے فرمایا: اے ملک الموت! کیا کسی دوست کو دیکھا کہ اپنے دوست کی روح قبض کرے؟ ملک الموت جناب باری میں حاضر ہوئے، ارشاد ہوا کہ ان سے کہو کہ کیا کسی دوست کو دیکھا ہے کہ اپنے دوست سے ملنا ناپسند کرے؟ انہوں نے (یہ سن کر) فرمایا: تو بس میری روح ابھی قبض کر لے۔(مسند احمد و شرح الصدور)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی دعا:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دعا کی اے اللہ! میری قوت ضعیف ہو گئی اور میری عمر زیادہ ہو گئی اور میری رعیت بہت پھیل گئی، مجھ کو اپنے پاس اٹھا لیجیے اس طور پر کہ نہ میں ضائع کیا جاؤں، نہ تقصیر کروں۔ پس اس مہینے سے آگے نہیں بڑھے۔(شرح الصدور)
ایک عابد کی موت کا واقعہ:
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ تمہارے اس شہر میں ایک عابد تھا۔ وہ مسجد سے نکلا۔ جب رکاب میں پاؤں رکھا تو ملک الموت اس کے پاس آکھڑے ہوئے، اس نے کہا: مرحبا میں تمہارا مشتاق تھا۔ پس انہوں نے اس کی روح قبض کر لی۔(شرح الصدور)
موت کو پسند کرنے کا بیان:
خالد بن معدان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ کوئی جاندار خشکی میں یا دریا میں ایسا نہیں کہ میں موت سے اپنی طرف سے اس کا فدیہ ہونا پسند کروں ۔ اگر موت کوئی نشان ہوتا کہ لوگ دوڑ کر وہاں پہنچ سکتے تو مجھ سے پہلے اس تک کوئی نہ پہنچتا مگر جو زور میں مجھ سے زیادہ ہوتا۔(شرح الصدور)
ابو مسہر سے روایت ہے کہ میں نے ایک شخص کو سعید بن عبدالعزیز تنوخی رحمہ اللہ سے یہ کہتے سنا کہ خدا تم کو تادیر سلامت رکھے، انہوں نے کہا: نہیں! بلکہ اللہ تعالیٰ جلدی مجھ کو اپنی رحمت میں بلا لے۔(شرح الصدور)
عبیدہ بن مہاجر سے روایت ہے کہ اگر کہا جاوے کہ جو شخص اس لکڑی کو چھو لے وہ مر جائے تو میں فوراًکھڑا ہو کر اس کو چھو لوں ۔(شرح الصدور)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک شخص گزرا، انہوں نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا: بازار کا، فرمایا: اگر ممکن ہو کہ قبل واپسی کے میرے لیے موت خرید لو تو ضرور خرید لینا۔
عبداللہ بن ابی زکریا سے روایت ہے وہ فرماتے تھے کہ اگر مجھ کو دو امر کا اختیار دیا جاوے؛ ایک یہ کہ میری سو سال کی عمر ہو طاعت الٰہی میں اور ایک یہ کہ آج ہی کے دن یا اسی گھڑی میری جان قبض کر لی جاوے تو میں اسی کو پسند کروں کہ آج ہی کے دن یا اسی گھڑی میری جان قبض ہو جاوے بوجہ اشتیاق کے خدا کی طرف اور رسول کی طرف اور نیک بندوں کی طرف۔(شرح الصدور و ابو نعیم)
احمد بن ابی الحواری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں نے ابو عبداللہ الباجی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر مجھ کو ایک تو یہ اختیار دیا جاوے کہ مجھ کو تمام دنیا مل جاوے جب سے میں پیدا ہوا ہوں اس طرح پر کہ اس میں حلال طور پر عیش کروں اور پھر قیامت میں کچھ بازپرس بھی نہ ہو اور ایک یہ اختیار دیا جاوے کہ اسی وقت میرا دم نکل جاوے تو میں اسی کو ترجیح دوں کہ میرا دم اسی وقت نکل جاوے، کیا تجھ کو یہ امر مرغوب نہیں کہ اہل طاعت سے جا ملے۔(ابن عساکر و شرح الصدور)
فائدہ:اگر کہا جاوے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ملک الموت آئے تو اگر موت شوق کی چیز ہے تو انہوں نے فرشتے کے ساتھ سختی کیوں فرمائی؟ جواب یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو پہچانا نہیں کیونکہ ایک حدیث میں ہے کہ وہ اس وقت عیاناً (یعنی نظر آرہے تھے)آئے تھے اور صحاح کی اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺاس عالَم میں جبرئیل ﷺکو بصورت اصلی دیکھنے کے متحمل نہیں ہوئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتہ کو اصلی صورت میں کوئی معاینتاً نہیں دیکھ سکتا اس سے معلوم ہوا کہ اس زمانے میں وہ بصورت بشر آتے تھے پس نہ پہچاننا کچھ بھی عجب نہیں پس اس سے شوق موت کی نفی نہیں ہوتی۔ فقط۔



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



