تقسیمِ ہند کے بعد پاکستانی اسٹیبلشمنٹ خواہ سویلین بیوروکریسی ہو یا ملٹری؛ ایک لبرل، ماڈریٹ اور جدید حلیہ رکھتی تھی۔ جلد ہی ملک کی حکومت سازی و امورِ خارجہ کی پالیسی لیول کا کام و اختیار سویلین بیوروکریسی سے ملٹری کی طرف کلیتاً منتقل ہو گیا۔اس زمانے کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے مشہور چہروں مہروں میں ایوب خان و یحییٰ خان شامل ہیں۔ اسی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا تسلسل بھٹو تھا۔ لیکن اسٹیبلشمنٹ کو ’لا الٰہ الا اللّٰہ ‘ کی خاطر قربانیاں دے کر ملک بنانے والے مسلمان عوام اور ان عوام کے علما و قائدین سے ایک مسلسل ’خطرہ‘ تھا۔
ماڈرن و لبرل اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے افقِ اقتدار پر چھانے والے بھٹو 1 نے اولاً حصول اور ثانیاً دوامِ اقتدار کے لیے اپنی سیاست میں کچھ منافقانہ اقدامات شامل کیے۔ ’اسلام ہمارا مذہب، جمہوریت ہمارا طرزِ حکمرانی اور اشتراکیت ہمارا نظامِ معیشت‘ کا نعرہ لگا کر بھٹو اقتدار میں پہنچا اور پھر ۷۳ء کے آئین میں بعض نام نہاد اسلامی شقیں، مرزائیوں کو کافر قرار دینا وغیرہ جیسے اقدامات نے اس نئے سٹیج کو کچھ کچھ مذہبی پہناوا عطا کر دیا۔بھٹو کو ہٹانے کے لیے نظامِ مصطفیٰ تحریک کو استعمال کیا گیا اور ’درود و سلام‘ اور ’آخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین‘ سے مرصع تقریروں اور ’شوریٰ کریسی‘ کے عناوین سے مسجع ایک نئے چہرے نے ایوانِ اقتدار کو رونق بخشی۔ ضیاء الحق نے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر بہت سے ایسے اقدامات کیے جن سے اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ ’اسلامی‘ نظر آنے لگا۔
یہ تاریخ ہے اور یہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ نیک لوگوں کی تاریخ بھی ایک سی ہوتی ہے اور بَد لوگوں کی تاریخ بھی ایک سی۔
پرویز مشرف اقتدار پر قابض ہوتا ہے۔ دین داری کو دقیانوسیت، پتھر کے زمانے کی نشانیاں کہا جاتا ہے، ماڈرن ازم و لبرل ازم پروان چڑھتا ہے۔ کہیں میراتھن ریسیں ہیں، کہیں حقوقِ نسواں کے نام پر زِنا بل اور سب سے بڑھ کر امریکہ کی غلامی میں ایسا کھپنا کہ امریکہ کی شروع کردہ ’وار آن ٹیرر‘ کو اپنی ہی جنگ بنا لینا اور پھر اس میں ’فرنٹ لائن اتحادی‘ کا ’تمغہ‘ اپنے سینے پر سجا لیا جاتا ہے۔
قریباً بیس سال امریکہ افغانستان میں مار کھاتا ہے، ایک معاہدے کے نتیجے میں فرار ہوتا ہے۔ آج دنیا کی dynamics (حرکیات) بدل رہی ہیں۔ اب ’وار آن ٹیرر‘ یعنی ’وار آن اسلام‘ کا ’فیشن‘ نہیں ہے۔ اب مفادات امریکہ سے شاید وابستہ رہنا مشکل ہو جائیں کہ دنیا کے مشرق میں ایک نئی طاقت جلوہ گر ہو رہی ہے اور ملک کے مشرق میں امارتِ اسلامیہ افغانستان پھر سے قائم ہو رہی ہے۔ ایسے میں وہی چہرہ دوبارہ چاہیے جیسا ضیاء الحق کے زمانے میں لوگوں کو چلانے کے لیے مطلوب تھا۔
۲۵ جون ۲۰۲۰ء کو ، ایوانِ زیریں میں خطاب کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنی تقریر میں محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن رحمۃ اللّٰہ علیہ کا ذکر کیا اور اس ذکر کے ساتھ کہا کہ ’……اسامہ بن لادن کو شہید کیا گیا……‘۔ سوال یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کو کس نے شہید کیا؟ شیخ کی شہادت سے چند ماہ قبل جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی امریکی بحری بیڑے ’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘ میں ملاقات ہوتی ہے اور اپریل ۲۰۱۱ء میں ’اہم ملاقات‘ کے لیے جنرل پاشا کابل میں موجود امریکی و افغان فوج کے عہدہ داروں سے ملنے کے لیے جاتا ہے۔ ۲ مئی کی رات کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکُول کے پاس، ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن میں شیخ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کارروائی کرتے ہیں۔ یہ امریکی کمانڈوز کئی سو کلومیٹر کا پاکستانی فضائی حدود میں فاصلہ ہیلی کاپٹروں میں طے کر کے آتے ہیں۔ اس کارروائی سے کئی گھنٹے قبل ایبٹ آباد کے مخصوص علاقوں کو’پاک‘ فوج کی جانب سے سِیل کر دیا جاتا ہے۔ ایبٹ آباد آپریشن ہوتا ہے، شیخ اسامہ اس میں اپنے بیٹے اور ساتھیوں سمیت شہید کیے جاتے ہیں اور امریکی صدر اوبامہ افواجِ پاکستان و حکومتِ پاکستان کی اس آپریشن کی سہولت کاری کی کاوشوں پر شکریہ ادا کرتا ہے۔ خود عمران خان نے ابھی پچھلے سال اپنے دورۂ امریکہ کے دوران، واشنگٹن میں ’فاکس نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری اعلیٰ انٹیلی جنس ایجنسی نے سی آئی اے کو انٹیلی جنس (مخبری) دی جس کے نتیجے میں ’’اسامہ بن لادن‘‘ پکڑا گیا (ٹریس ہوا)‘۔ معروف پاکستانی صحافی ’طلعت حسین‘ کے مطابق پہلی بار پاکستانی ایجنسیوں نے اسامہ بن لادن کے رابطہ کاری نظام کا سراغ لگایا اور امریکیوں کے حوالے کیا (بعداً اسی سراغ کے ذریعے امریکی شیخ اسامہ بن لادنؒ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے)۔ الغرض یہ ساری کارروائی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو شاملِ حال کرتے ہوئے کی گئی۔
آج شیخ اسامہ کو شہید کروانے کے لیے سہولت کاری کرنے والی اسٹیبلشمنٹ ہی کا ’سلیکٹڈ‘ عمران خان انہِی شیخ اسامہ کو شہید کہہ دیتا ہے۔ یہ ہر گز بھی ’سلپ آف ٹنگ‘ 2نہیں بلکہ ’ پالیسی شفٹ‘ 3ہے۔ جیسے ماضی میں ماڈرن ازم و لبرل ازم کے بعد ’اہلِ دین‘ کو ’رام‘ کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا اسلوب، حلیہ اور چہرہ ’ضیاء الحق‘ کی صورت میں سامنے آیا تھا آج بھی اسی طرح کا ایک چہرہ تراشا جا رہا ہے۔
ہم اپنے ان اہلِ دین کے جذبات کی قدر کرتے ہیں جو شیخ اسامہ کی محبت کے سبب عمران خان کی اس بات کو اہلِ دین کے جذبات کی نمائندگی کہہ رہے ہیں۔ لیکن! ان مذکورہ اہلِ دین سے لے کر مجموعی طور پر پاکستان کے تمام اہلِ دین کو فقط شیخ اسامہ کو ’شہید‘ کہہ دینے کے سبب، اسٹیبلشمنٹ کی اس ’نئی‘ طرز میں بہتی ’پرانی‘ رو میں بہہ نہیں جانا چاہیے۔
کیسی عجیب بات ہے کہ جب آج سے آٹھ برس پہلے ایک مرحوم دینی رہنما نے امریکہ کی جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کے بارے میں کہا تھا کہ ’ان کا بھی وہی حکم ہے جو امریکی فوجیوں اور افغان فوجیوں کا ہے‘ تو اس پر شور برپا ہو گیا تھا اور افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے ’آئی ایس پی آر‘ نے کہا تھا کہ اس بیان سے افواجِ پاکستان کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور یہ بیان افواجِ پاکستان کی قربانیوں پر پانی پھیرنے کی طرح ہے اور دینی رہنما اس پر معافی مانگیں۔ جبکہ آج اسی اسٹیبلشمنٹ اور انہی افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے (جو سب مل کر شیخ اسامہ کے ’قتل‘ میں ملوث رہے) بالکل خاموش ہیں بلکہ انہی کا سابقہ ’ڈی جی ؍ ترجمان‘ عمران خان کا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ہے۔ آدھی کابینہ انہی ریٹائرڈ و حاضر سروس فوجیوں سے بھری پڑی ہے ۔ وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے سے پہلے جو عمران خان ایک دن میں آئی ایس آئی کے ایک بریگیڈئیر سے دس دس مرتبہ ’ہاٹ لائن‘ پر رابطے میں رہتا تھا4، وہ آج وزیرِ اعظم بننے کے بعد منہ سے کوئی حرف نکالتا ہے تو اسی اسٹیبلشمنٹ کی اجازت و ایما پر نکالتا ہے ورنہ اگر بات میں کچھ اونچ نِیچ ہو جائے تو آرمی چیف براہِ راست مداخلت کرنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتا۔5
یہ بات ہمارے پاکستان کےاہلِ دین ہی کے لیے ہے کہ ’سالکِ راہ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ‘۔ پھر وہی دین داری کا ایک ’میک اپ‘ ریاست اور ریاستی پالیسی کے بد نما اور داغ دار چہرے پر ملا جا رہا ہے، ایسے میں تمام اہلِ دین پر لازم ہے کہ وہ ان حقیقی عوامل کا ادراک کریں جو ’پاکستان‘ کو ’اسلامی‘ بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور پاکستان کے اہلِ دین پر بدرجۂ اتم لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے اس بات کو سمجھیں کہ ’پاکستان میں شریعت نافذ نہیں بلکہ انگریز کی کالی کتابوں اور کالے نظریات پر مبنی جمہوری نظام بلکہ بدترین آمریت اور چنگیزیت نافذ ہے جس کا اسلام سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں‘۔ اہلِ دین کے لیے اس بات کا ادراک لازم ہے کہ وہ موجودہ حکمرانوں کی شرعی حیثیت جانیں (کہ یہ آقائے نامدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے دین کے بجائے نظامِ باطل مسلط کرنے والے ہیں) اور اس جائزے کے بعد ان کے کسی ’اخلاقی اسلامی‘ فعل اور کسی’سچے شہید‘ کو ’شہید‘ قرار دے دینے والے قول پر فیصلہ کریں کہ ہم نے ان وردی و بے وردی والے حکمرانوں اور اس برپا نظام کا ساتھ دینا ہے، ان کے افعال و اقوال کو سراہنا ہے یا اسی نظامِ باطل اور اس کے جاری کرنے والے حکمرانوں کے خلاف علم بلند کرنا ہے۔
یہاں پاکستان میں موجود اہلِ دین کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اہلِ دین کا ایک طبقہ تو وہ ہے جس کا پہلے ذکر گزرا لیکن ان کے علاوہ ایک کثیر التعداد طبقہ وہ بھی ہے جو اس نظام اور اس کے حکمرانوں کی حقیقت کو سمجھتا ہے ۔ نہ صرف سمجھتا ہے بلکہ اس نظام کے خلاف بہر محاذ ڈٹا بھی ہوا ہے ۔ یہ داعیان و مجاہدین پاکستان میں کئی دہائیوں اور خاص کر پچھلی ڈیڑھ دہائی میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ نفاذِ شریعت کی راہ میں محنتیں کھپاتے ہوئے پیش کر چکے ہیں ،جیلوں میں موجود ’معلوم‘ اہالیانِ دین اور خفیہ عقوبت خانوں میں پڑے ڈھائی لاکھ سے زائد ’نا معلوم‘ اہالیانِ دین اس درختِ جد و جہد کی شاخیں ہیں۔ پھر ان پر مستزاد لاکھوں علما، طلبہ، مجاہدین، اساتذہ، مفکرین، دانشوروں اور دیگر طبقاتِ زندگی سے وابستہ حضرات ایسے ہیں جو اس وقت اس نظامِ باطل کے خلاف آگہی پھیلانے، اللّٰہ کی شریعت کے ذاتی و اجتماعی زندگی میں نفاذ اور نظامِ باطل کو گرانے کے لیے تیاری اور قوت جمع کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔
’سلپ آف ٹنگ‘ ہو یا ’پالیسی شفٹ‘ …ہر دو صورتوں میں ہمارے اہلِ دین کے اول الذکر حضرات کے لیے ہوشیار و بیدار ہونا لازم ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نظام اور اس کو جاری کرنے والوں کے خلاف اسلامی و شرعی بنیادوں پر دعوت دی جائے اور موجودہ نظام کو گرانے ،اس کی اکھاڑ پچھاڑ اوربعداً شریعت کو نافذ کرنے کے لیے فکری، علمی، سیاسی اور عسکری تیاری ہو اور قوت جمع کی جائے۔ ہر گزرتی گھڑی کے ساتھ ہم قیامت سے قریب ہوتے جا رہے ہیں اور قربِ قیامت میں کثرتِ رُوَیبضہ و دجاجلہ ہو گی6۔ اس زمانے میں دجل بھی زیادہ ہو گا، محاوروں میں نہیں حقیقتاً سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کہا جائے گا، جنت کو جہنم اور جہنم کو جنت کہا جائے گا۔ ایسے دجل کے زمانے میں ہمارے ان مذکورہ اہلِ دین کی ذمہ داری حد درجہ بڑھ جاتی ہے اور یہاں اس ذمہ داری سے ہماری ہر سطح و معاملے میں دین کی اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بیان کردہ اور صحابۂ کرام رضوان اللّٰہ علیہم والی ’تعبیر‘ پر عمل ہے!
یوں تو برِّ صغیر کے تمام ہی کلمہ گوؤں پر نفاذِ دین کی محنت لازم ہے لیکن اہلِ پاکستان پر یہ زیادہ لازم و واجب ہے کہ انہوں نے آج سے ستّر سال پہلے اس اعلان کے ساتھ یہ نیا ملک بنایا تھا کہ ’ہم یہاں اسلام نافذ کریں گے‘ اور نفاذِ اسلام کے ساتھ یہ قرضِ مسلمانی بھی لازم آتا ہے کہ پورے برِّ صغیر کو حقیقی اسلام کا گہوارہ بنایا جائے اور اہالیانِ برِّ صغیر، کشمیر تا گجرات اور آسام تا برما ، سب ہی مظلومین کے لیے اسلام کے گھنیرے سائے کو پھیلا دیا جائے۔وہ غزوۂ ہند ہم ’لا الٰہ الا اللّٰہ ‘ پڑھنے والوں اور ’محمد رسول اللّٰہ ‘ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے عشق کا دم بھرنے والوں پر واجب ہے ، جس کے نتیجے میں سندھ و ہند کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑا جائے گا اور پھر یہی غزوہ لڑنے والوں کا ایک لشکر یہیں برِّ صغیر سے روانہ ہو کر شام و ایلیا 7کا رخ کرے گا اور شام میں سیّدنا مسیح عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کو پائے گا۔ ان غازیوں کے لیے اللّٰہ کی رضا، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معیت، جنت کی بشارتیں اور جہنم سے آزادی کے پروانے ہیں!
أللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
1 درجنوں تاریخی کتب و دستاویزات اس بات پر گواہ ہیں کہ سنہ ۷۰ء میں اسٹیبلشمنٹ یہ فیصلہ کر چکی تھی کہ وہ ’جمہوریت‘ کو کچلتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان کا ساتھ دینے کے بجائے ذوالفقار علی بھٹو کی حمایت کرے گی اور سنہ ۷۱ء میں یہ عملاً ساری دنیا نے دیکھ بھی لیا۔
2 Slip of tongue (زبان پھسلنا)
3 Policy Shift(پالیسی کی تبدیلی)
4 نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دور میں آئی بی (انٹیلی جنس بیورو؛ جو ایک سویلین انٹیلی جنس ادارہ ہے )نے عمران خان کی ’کال ہسٹری‘ جمع کی جس میں ظاہر ہوا کہ عمران خان آئی ایس آئی کے ایک حاضر سروس بریگیڈئیر سے یومیہ بنیادوں پر رابطہ رکھتا ہے اور چھوٹے چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے معاملات تک سب کچھ ہی ’ڈسکس‘ کرتا ہے۔اس رپورٹ میں مختصر چند سیکنڈ کی کالوں سے لے کر پچاس منٹ دورانیے تک کی یومیہ اوسطاً چھ سے دس کالوں کا ذکر ہے۔ نیز یہ ایک ’ہاٹ لائن‘ خصوصی نمبر تھا اور یہ دو عدد موبائل فونز کا pair (جوڑا) تھا، جس میں ایک فون ہر وقت بریگیڈئیر کے پاس اور دوسرا عمران خان کے پاس ہوتا۔ ذرائع کے مطابق یہ ’کال ہسٹری‘ نواز شریف نے ۲۰۱۶ء میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے ایک اجلاس میں راحیل شریف کو پیش کی۔ باقی عمران خان کی پارٹی (تحریکِ انصاف)بنانے کے لیے ’احمد شجاع پاشا‘ کی خدمات کا راز چند ماہ قبل ’چودھری پرویز الٰہی‘، آبپارہ والوں ہی کے کہنے پر افشا کر چکا ہے۔
5 اس کی ایک مثال ابھی کورونا کا مسئلہ ہے جہاں عمران خان نے لاک ڈاؤن نہ نافذ کرنے کا اعلان کیا جبکہ باجوہ نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا اور کروایا!
6 رُوَیبضہ: حدیث شریف کے مطابق وہ جاہل آدمی جو امورِ عامہ میں رائے دیں گے، دجاجلہ: دجال کی جمع۔
7 بیت المقدس یا یروشلم کا قدیم نام۔








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



