نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تزکیہ و احسان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | گیارہویں قسط

by شاہ حکیم محمد اختر
in تزکیہ و احسان, جولائی 2020
0

فصلِ سوم

126۔ عَنْ جَابِرٍ اَنَّہٗ غَزَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَہٗ فَاَدْرَکَتْھُمُ الْقَائِلَۃُ فِیْ وَادٍ کَثِیْرِ الْعِضَاہِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ یَسْتَظِلُّوْنَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَۃٍ فَعَلَّقَ بِھَا سَیْفَہٗ وَنِمْنَا نَوْمَۃً فَاِذَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْنَا وَاِذَا عِنْدَہٗ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: اِنَّ ھٰذَا اِخْتَرَطَ عَلَیَّ سَیْفِیْ وَاَنَا نَائِمٌ فَاسْتَیْقَظْتُ وَھُوَ فِیْ یَدِہٖ صَلْتًا قَالَ: مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّیْ؟ فَقُلْتُ: اَللہُ! ثَلٰثًا وَّلَمْ یُعَاقِبْہُ وَجَلَسَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔ وَفِیْ رِوَایَۃِ اَبِیْ بَکْرِ نِ الْاِسْمَاعِیْلِیِّ فِیْ صَحِیْحِہٖ فَقَالَ: مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّیْ؟ قَالَ اَللہُ! فَسَقَطَ السَّیْفَ مِنْ یَّدِہٖ فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ السَّیْفَ فَقَالَ: مَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّیْ؟ فَقَالَ: کُنْ خَیْرَ اٰخِذٍ فَقَالَ: تَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللہِ قَالَ: لَا! وَلٰکِنِّیْ اُعَاھِدُکَ عَلٰی اَنْ لَّا اُقَاتِلَکَ وَلَا اَکُوْنَ مَعَ قَوْمٍ یُّقَاتِلُوْنَکَ فَخَلّٰی سَبِیْلَہٗ فَاَتٰی اَصْحَابَہٗ فَقَالَ جِئْتُکُمْ مِّنْ عِنْدِ خَیْرِ النَّاسِ۔ ھٰکَذَا فِیْ کِتَابِ الْحُمَیْدِیْ وَفِی الرِّیَاضِ

ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی جانب جہاد کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس ہوئے تو وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ واپس ہوئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دوپہر ایک جنگل میں ہوئی جس میں کیکر کے درخت زیادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اتر گئے، صحابہ رضی اللہ عنہم بھی سائے کی تلاش میں ( ادھر ادھر ) درختوں کے نیچے متفرق ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اس کی ٹہنی میں لٹکادی اور ہم تھوڑی دیر کے لیے سو گئے۔ ناگہاں ہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو پکار رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی ( بدوکافر ) موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے جمع ہونے پر فرمایا: اس دیہاتی نے مجھ پر تلوار کھینچی اس حال میں کہ میں سو رہا تھا۔ میں جاگ گیا اور دیکھا کہ ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں ہے اور وہ مجھ سے کہہ رہا تھا: اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا: اللہ بچائے گا؛ تین مرتبہ یہی الفاظ فرمائے اور اس اعرابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی سزا نہ دی اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔ اور ابوبکر اسماعیلی نے جو روایت اپنی صحیح میں درج کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں کہ اعرابی نے تلوار ہاتھ میں لے کر کہا: اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ بچائے گا۔یہ سن کر اعرابی کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار کو اٹھالیا اور فرمایا: اب تجھ کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا؟ اعرابی نے کہا:آپ بہترین پکڑنے والے ہیں (یعنی مہربانی کیجیے اور معاف کردیجیے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ دیہاتی نے کہا: میں مسلمان نہیں ہوتا لیکن آپ سے اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ نہ تو آپ سے لڑوں گا اور نہ اس قوم کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑے گی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کو چھوڑ دیا وہ دیہاتی اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا : میں تمہارے پاس ایک بہترین شخص کے پاس سے ہو کر آیا ہوں۔

127۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنِّیْ لَاَعْلَمُ اٰیَۃً لَّوْ اَخَذَ النَّاسُ بِھَا لَکَفَتْہُمْ: وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارَمِیُّ

ترجمہ: حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ کو ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اگر لوگ اس پر عمل کریں تو وہی ان کو کافی ہے ( اور وہ آیت یہ ہے ) وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا، وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے اللہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کا راستہ پیدا کردیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو خیال اور گمان تک نہیں ہوتا۔

تشریح:یعنی متقی بندے کو حق تعالیٰ شانہٗ ہر غم سے خلاصی دیتے ہیں اور بے رنج وتردّد ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں جہاں سے گمان بھی نہ ہو؛ اور تقویٰ حاصل ہوتا ہے کسی متقی بندے کی صحبت اور اس کی تربیت سے، لہٰذا اللہ والوں کی صحبت کا اہتمام نہایت ضروری سمجھنا چاہیے کیوں کہ مقدمہ ضروری کا ضروری ہوتا ہے۔

128۔ وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ اَقْرَاَنِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّیْ اَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاوٗدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ

ترجمہ: حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ آیت سکھائی کہ میں رزق دینے والا اور طاقت ور اور متین ہوں۔

تشریح:یہ قرأتِ شاذہ ہے،اورقرأتِ مشہورہ یہ ہے:اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ حاصل یہ ہے کہ بندے کو صرف اپنے قوی متین رزاق مولیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

129۔ وَعَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ اَخَوَانِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَکَانَ اَحَدُھُمَا یَاْتِی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْاٰخَرُ یَحْتَرِفُ فَشَکَا الْمُحْتَرِفُ اَخَاہُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہٖ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دو بھائی تھے ۔ ایک ان میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا اور دوسرا کچھ پیشہ کرتا تھا۔ پیشہ ور بھائی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے بھائی کی شکایت کی ( کہ یہ کچھ کام کاج نہیں کرتا پس اس کے خرچ کا بوجھ بھی مجھ ہی پر پڑتا ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید تجھ کو اسی کی برکت سے رزق دیا جاتا ہے۔

تشریح:اس حدیث شریف سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دین سیکھنے کے لیے دنیا کا شغل اور تدبیرِکسب معاش کا ترک جائز ہے بشرطیکہ اہل وعیال نہ رکھتا ہو اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرکے اپنے کو ذلیل نہ کرتا ہو؛ یعنی متوکل ہو اور کسی کا حقِ واجب ضائع نہ کرتا ہو۔ اور یہ بات بھی اس حدیث سے ثابت ہوئی کہ اپنے رشتہ داروں اور بےکسوں کی خبر گیری اور ان پر خرچ کرنے سے روزی میں برکت ہوتی ہے۔

130۔ وَعَنْ عَمْرِو ابْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ قَلْبَ ابْنِ اٰدَمَ بِکُلِّ وَادٍ شُعْبَۃٌ فَمَنْ اَتْبَعَ قَلْبَہُ الشُّعَبَ کُلَّھَا لَمْ یُبَالِ اللہُ بِاَیِّ وَادٍ اَھْلَکَہٗ وَمَنْ تَوَکَّلَ عَلَی اللہِ کَفَاہُ الشُّعَبَ۔ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ

ترجمہ:حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کا دل ہر جنگل میں ایک شاخ ہے ( یعنی اس کو ہر طرح کی فکریں ہیں) پس جس شخص نے اپنے دل کو ساری شاخوں کی طرف متوجہ رکھا ( یعنی ہر قسم کی فکروں میں مشغول ومنہمک رہا) اللہ تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا خواہ کسی جنگل میں اس کو ہلاک کردے، اورجس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اللہ تعالیٰ اس کے تمام کاموں کو درست کردیتا ہے۔

تشریح:اس حدیث پرعمل کرنے والوں کی زندگی نہایت پُر سکون ہوتی ہے۔ حضرت حکیم الاُمت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اولیاء اللہ کے قلوب میں جو چین اور اطمینان ہے سلاطین کو خواب میں بھی میسر نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ دولت عطا فرمائیں ،آمین۔

131۔وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عَبِیْدِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمُ الْمَطَرَ بِاللَّیْلِ وَاَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّھَارِ وَلَمْ اُسْمِعْھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا رب بزرگ وبرتر فرماتا ہے کہ اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو مینہ برساؤں جب کہ وہ سوتے ہوں اور دن کو آفتاب نکالوں (تاکہ وہ اپنے اُمورِ معاش میں مشغول ہوں )اور بادل کے گرجنے کی آواز ان کو نہ سناؤں (تاکہ نہ ڈریں اور نہ گھبراویں )۔

132۔وَعَنْہُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ عَلٰی اَھْلِہٖ فَلَمَّا رَاٰی مَا بِھِمْ مِّنَ الْحَاجَۃِ خَرَجَ اِلَی الْبَرِیَّۃِ فَلَمَّا رَاَتِ امْرَاَتُہٗ قَامَتْ اِلَی الرَّحٰی فَوَضَعَتْھَا وَاِلَی التَّنُّوْرِ فَسَجَّرَتْہُ ثُمَّ قَالَتْ: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنَا فَنَظَرَتْ فَاِذَا الْجَفْنَۃُ قَدِ امْتَلَاَتْ قَالَ: وَذَھَبَتْ اِلَی التَّنُّوْرِ فَوَجَدَتْہُ مُمْتَلِئًا قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ قَالَ: اَصَبْتُمْ بَعْدِیْ شَیْئًا قَالَتِ امْرَاَتُہٗ: نَعَمْ! مِّنْ رَّبِّنَا وَقَامَ اِلَی الرَّحٰی فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَمَا اِنَّہٗ لَوْ لَمْ یَرْفَعْھَا لَمْ تَزَلْ تَدُوْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے اہل وعیال کے پاس آیا۔ جب اس نے ان کی حاجت وفقر وفاقہ کو دیکھا تو جنگل کی طرف چلا گیا۔ جب عورت نے دیکھا ( کہ اس کے شوہر کے پاس کچھ نہیں ہے اور وہ شرم کی وجہ سے باہر چلا گیا ہے ) تو وہ اٹھی اور چکی پر پہنچی اور اس کو صاف کیا پھر تنور کی طرف گئی اور اس کو گرم کیا اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی: اے اللہ! ہم کو رزق عطا فرما۔ پھر ا س نے دیکھا کہ اچانک چکی کا گرانڈ آٹے سے بھرا ہوا ہے۔ پھر وہ تنور کی طرف گئی تو دیکھا اس میں روٹیاں بھری ہوئی ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ اتنے میں اس کا شوہر آگیا اور کہا: کیا تم کو میرے جانے کے بعد کہیں سے کھانے کا سامان مل گیا؟ عورت نے کہا کہ ہاں! ہمارے پروردگار کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ پس اس شخص کو تعجب ہوا اور چکی کے پاس کھڑا ہوا اور اس کا پاٹ اٹھایا تاکہ اس کا اثر دیکھے۔ اس واقعے کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ شخص چکی کا پاٹ نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گردش کرتی رہتی اور اس سے آٹا نکلتا رہتا۔

تشریح:یہ انعام صبر وتوکل کی برکت سے عطا ہوا تھا اور یہ واقعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا ہے ، اگلی اُمت کا نہیں۔

133۔ وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ الرِّزْقَ لَیَطْلُبُ الْعَبْدَ کَمَا یَطْلُبُہٗ اَجَلُہٗ۔ رَوَاہُ اَبُوْ نُعَیْمٍ فِی الْحِلْیَۃِ

ترجمہ: حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رزق بندے کو اسی طرح ڈھونڈتا ہے جس طرح اس کی موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ تشریح: یعنی جس طرح موت یقینی ہے اور بدون تلاش اپنے وقت پر آجاتی ہے اسی طرح رزق بھی یقینی ہے اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ رزق بندے کو ڈھونڈ لیتا ہے بلکہ موت سے زیادہ رزق اپنی رفتار میں تیز ہے کیوں کہ موت نہیں آتی جب تک کہ بندہ اپنا رزق تمام کا تمام نہیں کھالیتا۔پس رزق کے لیے اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد کرنا چاہیے اور مضطرب اور پریشان نہ ہونا چاہیے۔ متوسط درجے میں تدبیر اختیار کرنا کافی ہے کہ حقِ عبودیت ادا ہوتا ہے تدابیر اختیار کرنے سے ۔ مگر اس طلب میں اجمال ہو، کاوش واضطراب نہ ہو

رو توکل کن بگرداں پا و دست
رزق تو برتو ز تو عاشق ترست

134۔وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْکِیْ نَبِیًّا مِّنَ الْاَنْبِیَاءِ ضَرَبَہٗ قَوْمُہٗ فَاَدْمَوْہُ وَھُوَ یَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَّجْھِہٖ وَیَقُوْلُ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِیْ فَاِنَّہُمْ لَایَعْلَمُوْنَ۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ

ترجمہ:حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ گویا میں اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کا واقعہ بیان فرمارہے ہیں جس کو اس کی قوم نے مارا اور لہولہان کردیا۔ وہ نبی اپنے چہرے سے خون پونچھتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا: اے اللہ ! تو میری قوم کو بخش دے کہ وہ میری حقیقت سے واقف نہیں ہے۔

تشریح:اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہ جہل کےساتھ کم تر ہے بہ نسبت گناہ علم کے ساتھ۔ پس منقول ہے: وَیْلٌ لِّلْجَاھِلِ مَرَّۃً وَوَیْلٌ لِّلْعَالِمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ جاہل کے واسطے ایک بار افسوس ہے اس کے بُرے عمل پر اور عالم کے واسطے سات بار افسوس ہے اس کے بُرے عمل پر۔

علامہ شیخ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس حدیث میں حضرت نوح علیہ السلام مراد ہوں۔ روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کو اس قدر مارتی تھی کہ خون آلود ہوجاتے اور مدتوں زمین پر پڑے رہتے پھر اٹھتے اور دعوت دیتے اللہ کی طرف۔ اور بعضوں نے کہا ہے کہ اس حدیث میں خود حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذاتِ گرامی کو مراد لیا ہے، اور یہ ظاہر تر ہے کیوں کہ یہ روایت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے دن روایت کی گئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خون آلود تھے۔

135۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ یُّرِدِ اللہُ بِہٖ خَیْرًا یُّصِبْ مِنْہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اس شخص کو مصیبت میں مبتلا کردیتے ہیں۔

تشریح:مصائب سے گناہ معاف ہو کر درجات بلند ہوتے ہیں اور غفلت دور ہوتی ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھ جاتا ہے۔

ریا اور سُمعہ کا بیان

ریا کہتے ہیں اپنی عبادتوں سے مخلوق کے دل میں عزت ومرتبہ طلب کرنے کو، اور ریا بدون نیت کے خود بخود نہیں چپک جاتی جیسا کہ اکثر سالکین وسوسۂ ریا کو ریا سمجھ کر پریشان رہتے ہیں۔ اخلاص کی نیت ہو یہی کافی ہے۔بزرگوں نے فرمایا ہے کہ جس عبادت میں ریا کا خوف ہو اس کو کثرت سے کرے پھر وہ عادت اور عادت سے عبادت بن جاتی ہے۔ حضرت خواجہ مجذوب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

وہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن
پہلے عادت پھر عبادت بن گئی

علما نے لکھا ہے اگر تعریف کسی سے سنے اور اس سے خوش ہو تو یہ علامت وجودِ ریا کی ہے لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی ستّاری یاد کرکے خوش ہوا کہ اس کریم ذات نے میرے عیوب وسیئات کو مخلوق سے پوشیدہ رکھا اور حسنِ ظن ڈالا اپنی مخلوق میں اور ظاہر فرمایا ہمارے حسنات وطاعات کو اور شکر بجالایا تو یہ ریا نہیں بلکہ یہ فضل ولطفِ حق پر سرورِ تشکر ہے یعنی شکر احساناتِ الہٰیہ سے ہے۔ ضروری ہے کہ ہر عبادت کے شروع میں بھی ریا سے بچے اور درمیان میں بھی اور بعد عمل کے بھی۔

حضرت حکیم الاُمت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے دو حج کیے تھے۔ کوئی مہمان آیا، اس نے نوکر سے کہا کہ اس مہمان کو اس صراحی سے پانی پلا جس کو دوسرے حج میں خریدا تھا۔ فرمایا کہ اس شخص نے ایک جملے سے دو حج کا ثواب ضائع کردیا۔ حق تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں ،آمین۔

فصلِ اوّل

136۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللہَ لَایَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِکُمْ وَاَمْوَالِکُمْ وَلٰکِنْ یَّنْظُرُ اِلٰی قُلُوْبِکُمْ وَاَعْمَالِکُمْ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ۔

تشریح: پس صورتِ ظاہری اور مال سے زیادہ قلوب کی اور اعمال کی اصلاح میں لگنا چاہیے۔

137۔ وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللہُ تَعَالٰی: اَنَا اَغْنَی الشُّرَکَاءِ عَنِ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا اَشْرَکَ فِیْہِ مَعِیَ غَیْرِیْ تَرَکْتُہٗ وَشِرْکَہٗ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ فَاَنَا مِنْہُ بَرِیْءٌ ھُوَ لِلَّذِیْ عَمِلَہٗ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے: میں شرکا کے شرک سے بے زارہوں (یعنی جس طرح اور شرکا شرکت پر راضی ہیں اس طرح میں راضی نہیں بلکہ میں شرکت سے بےزار ہوں )۔ جو شخص کوئی کام ( عبادت ) کرے جس میں میرے ساتھ دوسرے کو شریک کرے، میں اس کو اور اس کے شرک، دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں اس شخص سے بے زار ہوں۔ وہ شخص یا اس کا عمل اسی شخص کے لیے ہے جس کے لیے اس نے عمل کیا ہے۔

تشریح:ظاہر اس کا یہی ہے کہ ریا کی آمیزش اعمال کے ثواب کو ضائع کردیتی ہے لیکن علمانے کہا ہے کہ جس ریا میں ثواب کی مطلق نیت نہ ہو یا ریا کا قصد غالب ہو اس وقت ثواب بالکل ضائع ہوتا ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ عنوان ریا سے منع کرنے کے لیے بطور تخویف استعمال کیا گیا ہو تاکہ بندہ طاعات میں ریا سے احتیاط کرنے میں خوفزدہ رہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

138۔ وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللہُ بِہٖ وَمَنْ یُّرَایِٔ یُرَایِٔ اللہُ بِہٖ۔ مَتَّفَقٌ عَلَیْہِ

ترجمہ:حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے کرے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کو مشہور کرے گا ( اور قیامت کے روز رسوا کرے گا ) اور جو شخص کوئی عمل دکھانے کے لیے کرے اللہ اس کو ریا کاروں کی سزا دکھائے گا۔

تشریح:ریا کاروں کی سزا یہ ہے کہ دنیا میں اس کے اعمال کو لوگ جان لیں گے لیکن آخرت کے ثواب سے اس کو محروم کردیا جاوے گا جس سے قیامت کے دن اسے بڑی حسرت ہوگی۔

139۔وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَرَأَیْتَ الرَّجُلَ یَعْمَلُ الْعَمَلَ مِنَ الْخَیْرِ وَیَحْمَدُہُ النَّاسُ عَلَیْہِ، وَفِیْ رِوَایَۃٍ وَّیُحِبُّہُ النَّاسُ عَلَیْہِ قَالَ: تِلْکَ عَاجِلُ بُشْرَی الْمُؤْمِنِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

ترجمہ:حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اس شخص کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے جو نیک کام کرتا ہے اور لوگ اس کے کاموں کی تعریف کرتے ہیں، اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں ( کیا اس کے اعمالِ خیر کا ثواب قائم رہتا ہے یا باطل ہوجاتا ہے ) آپ نے فرمایا یہ ( تعریف کرنا ) مومن کے لیے فوری خوش خبری ہے ( اور اصل خوش خبری آخرت میں ہے)۔

تشریح:یعنی جب اخلاص کے ساتھ صرف رضائے الٰہی کے لیے طاعات کیں اور پھر مخلوق بھی ایسے نیک بندوں کی تعریف کرتی ہے تو یہ مقبولیت اور محبوبیت اور تعریف اس کے لیے حق تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں نقد انعام ہے اور نقد بشارت ہے، اور آخرت میں ثواب اور درجہ سو وہ الگ ملے گا۔

فصلِ دوم

140۔وَعَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَانَتْ نِیَّتُہٗ طَلَبَ الْاٰخِرَۃِ جَعَلَ اللہُ غِنَاہُ فِیْ قَلْبِہٖ وَجَمَعَ لَہٗ شَمْلَہٗ وَاَتَتْہُ الدُّنْیَا وَھِیَ رَاغِمَۃٌ وَّمَنَ کَانَتْ نِیَّتُہٗ طَلَبَ الدُّنْیَا جَعَلَ اللہُ الْفَقْرَ بَیْنَ عَیْنَیْہِ وَشَتَّتَ عَلَیْہِ اَمْرَہٗ وَلَا یَاْتِیْہِ مِنْھَا اِلَّا مَا کُتِبَ لَہٗ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالدَّارَمِیُّ عَنْ اَبَانَ عَنْ زَیْدِ ابْنِ ثَابِتٍ

ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نیت ( اعمالِ خیر سے ) آخرت کی طلب ہو، اللہ تعالیٰ اس کو غنائے قلبی عطا فرماتا ہے ( یعنی اس کو مخلوق سے بے پروا کردیتا ہے ) اور اس کی پریشانیوں کو جمع کرکے اطمینانِ خاطر بخشتا ہے، دنیا اس کے پاس آتی ہے اور وہ دنیا کو ذلیل وخوار سمجھتا ہے،اور جس شخص کی نیت (اعمال میں ) دنیا کا حاصل کرنا ہو، اللہ تعالیٰ افلاس کو اس کی آنکھوں کے سامنے کردیتا ہے (یعنی فقر وافلاس اس کو محسوس ہونے لگتا ہے ) اور اس کے کاموں میں انتشار اور پریشانی پیدا کرتا ہے اور دنیا اس کو صرف اس قدر ملتی ہے جتنا کہ اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہے۔

تشریح:یعنی جو آخرت کو مطلوب اور مقصود بناوے گا حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو قلبی جمعیت اور سکون عطا ہوتا ہے اور اس کے لیے رزق کو آسان فرمادیتے ہیں، اور اگر آخرت کو پسِ پشت ڈالا اور دنیا کو مقدم اور مطلوب ومقصود بنایا تو اس کو قلبی پریشانی اور سرگردانی رہتی ہے اور رزق وہی ملتا ہے جو اس کی تقدیر میں ہے، محض ہوس وطمع سے تقدیر سے زیادہ نہیں ملا کرتا۔

141۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللہِ! بَیْنَا اَنَا فِیْ بَیْتِیْ فِیْ مُصَلَّایَ اِذْ دَخَلَ عَلَیَّ رَجُلٌ فَاَعْجَبَنِیَ الْحَالُ الَّتِیْ رَاٰنِیْ عَلَیْھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: رَحِمَکَ اللہُ یَا اَبَا ھُرَیْرَۃَ! لَکَ اَجْرَانِ، اَجْرُ السِّرِّ وَاَجْرُ الْعَلَانِیَۃِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں اپنے گھر میں ا پنے مصلے پر نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور یہ دیکھ کر مجھ کو خوشی ہوئی کہ اس شخص نے مجھ کو نماز پڑھتے دیکھا (یعنی میراخوش ہونا ریا کاری تو نہیں)۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ابوہریرہ ! خدا تجھ پررحم فرمائے تجھ کو دو اجر ملیں گے: ایک تو خفیہ طور پر نماز پڑھنے کا اور دوسرا اجر نمازِ ظاہر کا۔

تشریح:ظاہراً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خوشی اس سبب سے تھی کہ دیکھنے والے کو بھی عمل کا شوق پیدا ہوگا مَنْ سَنَّ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہٗ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَاکہ ثواب اس کے عمل کا ہم کو بھی ملے گا۔

ترجمہ حدیث مَنْ سَنَّ سُنَّۃً. الخ کا یہ ہے کہ جو شخص جاری کرے کوئی نیک طریقہ اس کے لیے ثواب اس طریقہ کا ہوگا اور جو اس پر عمل کرے گا اس کا ثواب بھی اس کو ملے گا۔ یا اس نعمت پر خوشی ہوئی کہ حق تعالیٰ نے اچھی حالت کو مخلوق پر ظاہر فرمایا اور بُرائیوں کی پردہ پوشی فرمائی ۔ یا خوشی اس بات پر ہوئی کہ نماز جیسی اہم عبادت کو ایک مسلمان نے دیکھا جو اس پر گواہ ہوا اور اس کی روایت سے ایک گروہ مسلمانوں کا گواہ ہوگا اور یہ معنیٰ انسب ہیں سرو علانیہ معنیٰ کے ساتھ ۔ واللہ اعلم بالاحوال

142۔وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَخْرُجُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ یَّخْتِلُوْنَ الدُّنْیَا بِالدِّیْنِ یَلْبَسُوْنَ لِلنَّاسِ جُلُوْدَ الضَّاْنِ مِنَ اللِّیْنِ اَلْسِنَتُھُمْ اَحْلٰی مِنَ السُّکَّرِ وَقُلُوْبُھُمْ قُلُوْبُ الذِّیَابِ یَقُوْلُ اللہُ: اَبِیْ یَغْتَرُّوْنَ اَمْ عَلَیَّ یَجْتَرءُوْنَ؟ فَبِیْ حَلَفْتُ لَاَبْعَثَنَّ عَلٰی اُولٰئِکَ مِنْھُمْ فِتْنَۃً تَدَعُ الْحَلِیْمَ فِیْھِمْ حَیْرَانَ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو دین کے ذریعے دنیاداروں کو دھوکہ دیں گے ( یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ)لوگوں کو دکھانے کے لیے دنبوں کے چمڑے کے کپڑے پہنیں گے ( یعنی موٹے کپڑے مثل کمبل وغیرہ کے تاکہ لوگ ان کو عابد و زاہد اور تارکِ دنیا سمجھیں)،ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں اور نرم ہوں گی، یعنی ان کی باتیں خوشگوار لذیذ اور نرم ہوں گی لیکن ان کے دل بھیڑیوں کے سے دل ہوں گے ( یعنی سخت اور بے رحم )، اللہ تعالیٰ اس کی نسبت فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ کو دھوکا دیتے ہیں یا میرے ڈھیل دے دینے کے سبب سےمغرور ہوگئے ہیں؟میں اپنی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان پر ان ہی میں سے بلا وفتنہ کو مسلط کروں گا ( یعنی ان پرایسے حکام اور امرا یا اشخاص کو مقرر کروں گا جو ان کو مصائب وآفات میں مبتلا کردیں گے ) ایسی بلا اور فتنہ کہ عقل مند ودانا اشخاص اس کے دفع کرنے سے عاجز وحیران ہوں گے۔

تشریح:اس حدیث شریف سے خصوصی عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ جب کوئی نیک کام کریں مثلاً مدرسہ ،مسجد بنوانا ، وعظ کہنا وغیرہ تو خالص نیت رضائے الٰہی کا قلب میں استحضار کریں۔

اور بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اعمال میں بدون صحبتِ اہل اللہ کے اخلاص نہیں پیدا ہوتا لہٰذا ہر شخص کو صحبتِ بزرگانِ دین کا اہتمام کرنا چاہیے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

مسلمان خواتین سے مطلوب کردار

Next Post

شوقِ وطن | چوتھا اور آخری حصہ

Related Posts

تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | چوتھی قسط

25 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | تیسری قسط

1 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | دوسری قسط

8 مارچ 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پہلی قسط

15 فروری 2026
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | گیارہویں اور آخری قسط

20 جنوری 2026
Next Post

شوقِ وطن | چوتھا اور آخری حصہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version