نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home تزکیہ و احسان

مسلمان خواتین سے مطلوب کردار

by ام عمار
in تزکیہ و احسان, جولائی 2020
0

اللہ رب العزت نے ہر دور میں جہاں امت مسلمہ میں ایسے رجال پیدا فرمائے ہیں جو اللہ رب العزت کے دین پر عمل کے ساتھ ساتھ اس کی دعوت عام کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں اور اس کے نفاذ کی کوششیں بھی کرتے ہیں، وہیں رب تعالیٰ نے امت کی خواتین کو بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالنے سے سے محروم نہیں فرمایا۔ امت مسلمہ کی کئی خواتین ایسی ہیں جو گھروں اور معاشروں کے ناموافق حالات کے باوجود اپنے دلوں میں نفاذِ دین و شریعت کی تڑپ رکھتی ہیں اور اس تڑپ کو اپنی نسلوں کے دلوں میں اتارنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔

آج میری مخاطب ایسی ہی میری وہ عزیز و محترم مسلمان بہنیں ہیں کہ عفت اور حیا جن کا شعار ہے اور جو اپنے اور اپنی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کرنا چاہتی ہیں۔ وہ خواتین کہ جن کی اصل پونجی ان کا وہ ایمان ہے جو ان کے سینوں میں محفوظ ہے اور جس کی حفاظت و تقویت انھیں اپنی جان و مال سے بڑھ کر محبوب ہے۔ ایسی تمام بہنیں جو اللہ کے دین کو اپنی اور اپنی نسلوں کی زندگیوں میں اور اپنے گھروں میں نافذدیکھنا چاہتی ہیں، اور جن کی آرزو ہے کہ اللہ کی شریعت دنیا بھر میں غالب ہوجائے مگر اس عظیم مہم میں حصہ ڈالنے کے لیے رہنمائی نہیں پاتیں کہ یا تو دینی کتابوں تک ان کی رسائی ممکن نہیں اور یا وہ ان سے کما حقہ استفادہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں۔ ایسی تمام بہنوں سے ہماری عرض یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے دین کو آسان اور عام فہم بنایا ہے اور اس پر عمل ہر مسلمان کی استطاعت میں رکھا ہے، لہٰذا اگر آپ کی تڑپ سچی ہے اور آپ کے دل میں اللہ کےدین کے اپنی اور اپنی اولاد کی زندگیوں میں نفاذ کی چاہت اور لگن موجود ہے تو اللہ کی کتاب اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ میں آپ کے لیے اور ہمارے لیے بھرپور رہنمائی موجود ہے۔

آج ہمیں معاشرے میں جابجا عورتوں اور مردوں کی برابری کا واویلا سنائی دیتا ہے اور حصولِ دنیا کی دوڑ میں دونوں ہی ایک دوسرے کوپچھاڑنے کی فکر میں غلطاں نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر انسان اپنی آنکھوں سے حرص وہوس اور خواہشاتِ نفس کی پٹی اتار کر حقیقت کی معرفت چاہے تو حق یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ہی مرد و زن ہر دو کو تخلیق فرمایا اور خود ہی معاشرتی زندگی میں ان کے لیے علیحدہ علیحدہ دائرۂ عمل تجویز فرمایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی بھی ترغیب دی ہے اور باہمی مسابقت کے لیے میادین کاا نتخاب بھی انسانوں کی اپنی چاہت و خواہش کے حوالے نہیں کیا بلکہ بذاتِ خود فرمایا۔ بگاڑ وہیں پیدا ہوا کہ جہاں انسان نے ہوائے نفس کو اپنا الٰہ بنایا اور اللہ کے واضح احکام کو پس پشت ڈال کر زندگی کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں سنبھال لی۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں بھی خواتین کے اندر مسابقت کا جذبہ موجود تھا اور یہ جذبہ ہی انسان کو بہتر سے بہتر عمل پر اکساتا ہے ۔ اُس دور کی مسلمان خواتین جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی زندگیوں کا دن رات مشاہدہ کرتی تھیں اور ان سب کو نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت کرتا دیکھتی تھیں، ان کے دل میں بھی ان حضرات سے سبقت لے جانے کا داعیہ پیدا ہوتا تھا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کن میادین میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مقابلہ کرنا اور ان پر سبقت لے جانا چاہتی تھیں۔

ایک مرتبہ بعض صحابیات اکٹھی ہوئیں اور انھوں نے غور و فکر کے بعد اپنے میں سے حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجنے کے لیے منتخب کیا۔ پس حضرت اسماء بنت یزید انصاریہ جو بڑی متدین اور سمجھ دار خاتون تھیں، حضورِ اقدس ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یارسولَ اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان؛ میں مسلمان عورتوں کی طرف سے بطور نمائندہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں، بے شک اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مردو عورت ہر دو کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمایا ہے؛ چنانچہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی، مگر ہم عورتیں پردہ نشیں ہیں، گھروں میں رہنا ہوتا ہے، ہم حتی الوسع اپنے مردوں کی ہر خواہش پوری کرتی ہیں، ان کی اولاد کی پرورش وپرداخت ہمارے ذمے ہوتی ہے، اور اِن سب باتوں کے باوجود مرد بہت سے ثواب کے کاموں میں ہم سے بڑھے رہتے ہیں: جمعہ میں شریک ہوتے ہیں، جماعت کی نمازوں میں شریک ہوتے ہیں، بیماروں کی عیادت کرتے ہیں، جنازوں میں شرکت کرتے ہیں، حج پر حج کرتے رہتے ہیں، اور اِس سب سے بڑھ کر جہاد کرتے رہتے ہیں، اور جب وہ حج کے لیے یاعمرے کے لیے یاجہاد کے لیے جاتے ہیں توہم عورتیں اُن کے مالوں کی حفاظت کرتی ہیں، اُن کی اولادکوپالتی ہیں، تو کیا ہم بھی کسی طرح اجر وثواب میں مردوں کی ہمسر ہوسکتی ہیں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء کی بصیرت افروز تقریر سن کر صحابہ کی جانب رخ فرمایا اور ان سے دریافت فرمایا: ”اسماء سے پہلے تم نے دین سے متعلق کسی عورت سے اتنا عمدہ سوال سنا ہے؟“ صحابہ نے نفی میں جواب دیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء سے فرمایا کہ ”جاؤ اور ان عورتوں سے کہہ دو کہ انَّ حُسْنَ تَبَعُّلِ احْداکُنَّ لِزَوْجِھَا، وَطَلَبِھا لِمَرْضَاتِہ، وَاِتِّبَاعِھَا لِمُوافَقَتِہ، یَعْدِلُ کلَّ مَا ذَکَرْتِ لِلرِّجَالِ“۔ ’’عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنا اور اُس کی خوشنودی کو ڈھونڈنا اور اُس کی چاہت پر عمل کرنا،اِن سب چیزوں کے ثواب کے برابر ہے جن کا تم نے مردوں کے لیے ذکر کیا‘‘۔

مذکورہ بالا حدیث کے ذریعے اللہ رب العزت نے قیامت تک آنے والی تمام خواتین کے لیے مسابقت کے میادین کی نشاندہی فرمائی اور انھیں خوش خبری عطا فرمائی کہ وہ کس طرح سے گھر بیٹھے اللہ کی رضا کے حصول اور اجر و ثواب میں اپنا بھرپور حصہ وصول کرسکتی ہیں۔

گھروں میں رہنے والی باحیا خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو گھروں اور گھرکے کاموں میں اس قدر مشغول کر رکھا ہے کہ اس کے سوا کسی دوسری طرف، حتیٰ کہ فرائض و واجبات کی طرف توجہ کرنا بھی ہمیں محال معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگیوں اور اپنے گھروں میں اور بالآخر دنیا میں دین و شریعت کا نفاذ چاہتی ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے ایمان پر، اپنے نفس پر محنت کرنا ہوگی اور اپنا تعلق باللہ مضبوط کرنا ہوگا اور پھر اپنی اولاد کے دلوں میں ایمان اور تعلق باللہ کو راسخ کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

میری پیاری بہنو!

حدیث شریف میں آتا ہے کہ ہر گناہ کی جڑ دنیا کی محبت ہے۔ جس دل میں دنیا اور اسبابِ دنیا کی محبت گھر کرجائے اس میں کیوں کر اللہ رب العزت کی محبت گھر کرسکتی ہے؟ اللہ رب العزت ہر قسم کے شرک سے بے زار ہے۔ وہ اپنی محبت اسی کو عطا فرماتا ہے جو اس کے لیے اپنے دل کو ہر قسم کی محبت سے پاک کر کے پیش کرتا ہے۔ دنیا کی محبت کے نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اچھا کھانا اچھا پہننا تو چھوڑ دے مگر دل دنیا کی ہر چیز کی طرف کھنچتا ہو، بلکہ دنیا کی محبت دل سے نکالنے کا یہ معنی ہے کہ دنیا کی حقارت دل میں محسوس ہوتی ہو اور دنیوی مال کے ہونے یا نہ ہونے سے انسان کو کوئی فرق نہ پڑے۔ خواتین کا دل عموماً رنگ برنگی خواہشات میں الجھا رہتا ہے اور یہ خواہشات اور دنیوی ساز و سامان کی رغبت ہی ہوتی ہے جو خواتین کو بخیل بنا دیتی ہے اور وہ نفلی صدقات تو ایک طرف صدقاتِ واجبہ سے بھی کنی کتراتی ہیں۔ یہی دنیا کی محبت عورت کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کو جہاد سے باز رکھے۔ وہ یہ تو گوارا کرلیتی ہے کہ اس کا شوہر دنیا کمانے کے لیے دس دس سال گھر سے بلکہ ملک سے باہر گزارے مگر یہ گوارا نہیں کرتی کہ اس کا شوہر یا بیٹا دس دن کے لیے بھی میادینِ جہاد کی طرف حصولِ تربیت کے لیے جائے۔ پس نفس کی اصلاح تب تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ دنیا کی محبت کھرچ کر دل سے نہ نکال دی جائے۔ اپنے آپ کو بتدریج ضروریات کی حد تک محدود کرنا اور استطاعت میں موجود ہر چیز کے حصول کی خواہش نہ کرنا اور موجود پہ قناعت کرنا ان شاء اللہ دل سے دنیا کی محبت نکالنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ہر شخص کے لیے ضرورت کا معیار الگ ہے، مگر درحقیقت ’ضرورت‘ کی فہرست میں بہت کم سامانِ دنیا آتا ہے۔ پس سامانِ دنیا کی چاہت اور اس کے حصول کی کوشش کو کم سے کم درجے پر لانے کی سعی حبّ دنیا کو دل سے نکالنے کا موجب بن سکتی ہے۔ قناعت اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول بہت سی دعاؤں میں قناعت اور موجود مال میں برکت کی دعائیں شامل ہیں۔ یہ قناعت ہی ہے جو حرص و ہوس کی بھڑکتی آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے اور دلوں کے سکون اور یکسوئی کا باعث ہے۔ گھر کی عورت اگر قانع ہو اور خود کو ضروریات کی حد تک محدود رکھنے والی ہو تو گھر کے مرد گھر والوں کی دنیاوی ضروریات پوری کرنے کے بعد بہتر طریقے سے اللہ کے دین کی دعوت اور اس کے نفاذ کے لیے جہاد اور نصرتِ جہاد کی جانب متوجہ ہوسکیں گے اور ان کے اس سب عمل کا اجر گھر بیٹھے اس عورت کی جھولی میں پڑتا رہے گا جس نے انھیں اس فرض کی ادائیگی کے لیے ذہنی یکسوئی فراہم کی ۔

تعلق باللہ کے قیام اور مضبوطی کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتلایا ہے۔ وہی نماز کہ جس پر پورے دن میں ہم سب سے کم وقت صَرف کرتی ہیں اور یہی وہ کام ہے کہ جسے ہم سب سے آخری وقت میں سب سے ’پھُرتی‘ سے انجام دیتی ہیں۔ حالانکہ یہ نماز ہی ہے جو مسلمان کو برائیوں اور گناہوں سے باز رکھتی ہے اور اسے نیکی کی رغبت اور تقویت عطا کرتی ہے۔ آئیے نماز کے سلسلے میں مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کا اسوہ ملاحظہ کرتے ہیں۔ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپنے والد صاحب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’ہم لوگوں کی عادت تھی کہ اکثر جب کوئی اہم کام سامنے ہوتا تو یہ جملہ کہہ دیتے تھے کہ ’ذرا نماز سے فارغ ہوجائیں تو پھر وہ کام کریں گے‘۔ ایک روز حضرت والد صاحبؒ نے یہ جملہ سنا تو فرمایا: ’ارے بھائی! نماز فارغ ہونے کی چیز نہیں ہے، اس سے فراغت حاصل کرنے کی فکر نہیں چاہیے بلکہ دوسرے کاموں سے فارغ ہوکر نماز کی طرف متوجہ ہونا چاہیے‘۔اس کے بعد آپ نے قرآن کریم کی اسی آیت کی طرف متوجہ فرمایا جو ہم شب و روز پڑھتے رہتے ہیں لیکن اس کی حقیقت کی طرف کبھی دھیان نہیں ہوتا، فرمایا کہ قرآن کریم نے حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ:

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ ۝ وَاِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۝ (سورۃ انشراح: ۷، ۸)

’’پس جب تم فارغ ہوجاؤ تو (اللہ کی عبادت میں) تھکو، اور اپنے پروردگار کی طرف رغبت کا اظہار کرو۔‘‘

فرمایا کہ اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب ہورہا ہے کہ آپ دوسرے کاموں سے فارغ ہوکر عبادتِ الٰہی میں اپنے آپ کو تھکائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مقصودِ اصلی یہ عبادت ہے اور اس سے جلد از جلد فارغ ہوکر دوسرے کاموں میں لگنے کی نیت ٹھیک نہیں، اس کے بجائے نیت یہ ہونی چاہیے کہ دوسرے کاموں سے جلد از جلد فارغ ہوکر نماز اور عبادت کی طرف متوجہ ہوں۔‘‘

پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خواتین کاموں کے دوران بمشکل نماز کے لیے وقت نکالنے کی بجائے، نمازوں کے درمیانی وقفوں میں اپنے کام انجام دیں اور اپنے روزمرہ کاموں کی منصوبہ بندی اس طریقے سے کریں کہ تمام فرض نمازیں فرصت اور تسلی سے ادا کرسکیں ۔

نماز کے بعد دوسری چیز جو ہمیں اللہ رب العزت کی پہچان کرواتی ہے اور ظاہر ہے کہ تعلق تو پہچان ہی سے مضبوط ہوتا ہے، وہ اللہ رب العزت کی کتاب یعنی قرآن کریم ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت اپنی جگہ مطلوب ہے اور اجر و ثواب کا باعث ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں البتہ ہماری زندگیوں کو قرآن کے مطابق ڈھالنے والی چیز فہمِ قرآن اور فہمِ دین ہے۔ لہٰذا روزانہ تلاوت قرآن کا اہتمام تو اپنی جگہ ضروری ہے، خواہ چند رکوع ہی تلاوت کیے جائیں مگر ساتھ ہی ساتھ قرآن پاک کا مدعا سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کا التزام بھی نہایت ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے مدارس سے فارغ التحصیل ہونا ضروری نہیں بلکہ بڑے بڑے علمائے کرام کے بے شمار مواعظ نہایت آسان فہم زبان میں کتابی شکل میں موجود ہیں، ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے؛ نیز اس سے بھی آسان تر اور مؤثر تفسیرِ قرآن، تفسیرِ حدیث شریف اور اصلاحِ اعمال واخلاق پر مبنی اہلِ حق علمائے کرام کے دروس، جو صوتی شکل میں موجودہیں ، کو پابندی کے ساتھ سننا اور ان پر عمل کرنا ہے جو گھر بھر کی اصلاح میں بہت مفید و معاون ثابت ہوسکتا ہے نیز قرآن و حدیث کو سمجھنے سے ہی ہمارے دلوں میں دین کی محبت ، نفاذِ دین و شریعت کی حقیقی تڑپ اور اس کے لیے قربانی کا جذبہ پیدا ہوسکتا ہےاور اس سلسلے میں خاطر خواہ رہنمائی بھی ہمیں یہیں سے مل سکتی ہے ۔

حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔پس زبان و قلب کی حفاظت ایمان کی حفاظت و تقویت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ یہ انسان کی زبان ہی ہے جو اسے جنت الفردوس کے عالی شان محلات میں بھی پہنچا سکتی ہے اور خدانخواستہ جہنم کے گڑھے میں بھی گرا سکتی ہے۔ نیز زبان تو میٹھی ہو مگر نیت میں فساد ہو تو نیک عمل بھی قابل قبول نہیں۔ بعض اخلاقی برائیاں ایسی ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کے رگ و پے میں اس طرح سے سرایت کرجاتی ہیں کہ وہ انسان کی فطرتِ ثانیہ کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں اور یوں ان کے برائی بلکہ گناہ ہونے کا احساس تک انسان کے اندر سے ختم ہوجاتا ہے۔ جب برائی کا احساس ہی نہیں ہوتا تو اس کی اصلاح کی فکر بھی نہیں ہوتی۔ پس ان برائیوں کی اصلاح کی جانب توجہ اور ان کی اصلاح کی مسلسل کوشش بھی اپنی اور اپنی اولاد کی دنیا و آخرت سنوارنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ ذیل میں چند چیدہ چیدہ منکرات کا ذکر ان شاء اللہ فائدے سے خالی نہ ہوگا۔

ان برائیوں میں سے گناہ کا درجہ رکھنے والی ایک بہت بڑی برائی جھوٹ ہے۔ جھوٹ ہمارے گھروں میں اس قدر عام ہوچکا ہے کہ اس کی قباحت ہی دلوں سے نکل کر رہ گئی ہے۔ حالانکہ جیسے کوئی مسلمان شراب اور خنزیر کو ہاتھ لگانے کا تصور تک نہیں کرسکتا، ان کے حرام ہونے کی وجہ سے، اسی طرح اسے جھوٹ سے بھی بچنا چاہیے کہ یہ بھی اتنا ہی حرام ہے۔ ہم خواتین کو شعوری، پھر کہتی ہوں کہ شعوری طور پر اپنی زبانوں کو جھوٹ سے بچانے اور سچ کا التزام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ذرا ذرا سی بے کار باتوں پر جھوٹ، بچوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے جھوٹ، شوہر کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے جھوٹ، اپنا تاثر خراب ہونے سے بچانے کے لیے جھوٹ…… غرض ایسی ایسی ناکارہ باتوں میں جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے کہ اگر انسان خود ان پر غور کرنے بیٹھے تو معلوم ہو کہ اس سے بچنا کتنا آسان تھا اور اس میں مبتلا ہوکر ہم نے کس قدر اپنے رب کی ناراضی مول لی ہے۔ پھر اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ غیر محسوس طریقے سے یہ جھوٹ بچوں کے اندر بھی اترتا چلا جاتا ہے اور گھر کی سطح سے یہ بات معاشرے اور پھر قوم کی سطح تک پھیل جاتی ہے۔

دوسری بہت بڑی برائی جو ہمارے گھروں میں عام ہے اور الّا ماشاءاللہ ہی کوئی مرد و زن اس سے محفوظ ہے، نیز خواتین بالخصوص اس برائی میں مبتلا نظر آتی ہیں، وہ غیبت ہے۔ جہاں دو چار خواتین اکٹھی ہوئی نہیں اور خاندان، برادری، پڑوسی، رشتہ دار کسی کی عزت باقی نہیں چھوڑی۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں حکماً اس برائی سے منع فرمایا ہے اور اس کی قباحت اس تشبیہ سے ہی معلوم ہوجاتی ہے جو اللہ رب العزت نے اس برائی کے لیے بیان فرمائی ہے، یعنی غیبت کرنا ایسے ہے جیسے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا۔ ذرا چشمِ تصور سے اس تشبیہ کو حقیقت ہوتے دیکھیے تو! اسی سلسلے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ذکر بھی مفید ہوگا ان شاءاللہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دو عورتوں نے روزہ رکھا۔ دونوں کی حالت غیر ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا۔ پھر پیغام آیا کہ وہ تو گویا فوت ہی ہوا چاہتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں سے کہا جائے کہ ایک پیالے میں قے کریں۔ جب ان خواتین نے قے کی تو اس میں کچے گوشت کے ٹکڑے نکلے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (مفہوم ہے) کہ ان دونوں نے اللہ کی حلال کردہ چیزوں سے تو روزہ رکھا اور اللہ کی حرام کردہ چیز (اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی عزت) سے افطار کیا۔ علما اس برائی کی اصلاح کے لیے فرماتے ہیں کہ انسان پہلے اپنے آپ کو زبان کی حفاظت میں اس انتہا تک لے جائے کہ کسی کا ذکرِ خیر تک نہ کرے، یعنی کسی اور سے متعلق کوئی بات ہی نہ کرے، خواہ وہ بات اچھی ہی کیوں نہ ہو۔ جب ایک مرتبہ لوگوں سے متعلق باتیں کرنے کی عادت قابو میں آجائے تو پھر آہستہ آہستہ لوگوں کا ذکرِ خیر تو ضرورتاً کیا کرے مگر غیبت سے مکمل پرہیز کرے۔

حسد ایک ایسی برائی ہے کہ جس کے بارے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے کہ جس طرح کہ آگ خشک لکڑی کو۔ ہمارے نامۂ اعمال میں روزانہ نیکیاں لکھی ہی کتنی جاتی ہیں کہ انھیں بھی جلا کر راکھ کردینے کا ہم اہتمام کریں!! دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی نے پانچ چھ سو روپے کی بھی کوئی چیز خرید لی، اور وہ چیز ایسی بھی نہیں ہے کہ جو نایاب ہو، مگر دیکھنے والے نے دل میں اتنا حسد محسوس کیا کہ دوسرے کو بھی وہ نعمت نصیب نہ ہوسکی اور اپنے اعمال بھی ضائع ہوئے۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ کسی کے پاس نعمت دیکھتے ہی اسے برکت کی دعا دی جائے اور اگر دل میں کوئی برا خیال آئے بھی تو فوراً اپنے لیے اور دوسرے کے لیے استغفار کرے اور اُس کے لیے نعمتوں کے دوام اوراپنے لیے قناعت کی دعا کرے۔ نیز ہر انسان خود اپنے دل میں آنے والے خیالات اور جذبات سے واقف ہوتا ہے، لہٰذا کسی اور پر داروغہ بننے کی بجائے اپنے اپنے اعمال اور اخلاق کی اصلاح پر ہم سب توجہ دینے والے بنیں۔

خیال اور گمان کی بنیاد پر دوسروں کے متعلق طے کرلینا کہ فلاں تو میرے حق میں مخلص ہوہی نہیں سکتی اور اس نے جو فلاں کام کیا وہ دراصل مجھے جلانے اور سڑانے ہی کے لیے کیا اور جو اس نے فلاں اور فلاں کی خدمت کی وہ بھی اپنے نمبر بنانے اور مجھے کم تر دکھانے ہی کے لیے کی…… بدگمانی ہے۔ مفروضوں کی بنیاد پر کسی کے متعلق کچھ طے کرلینا اور پھر اسی بنیاد پر دوسرے سے تعامل کرنا اتنی خطرناک بات ہے جو گھروں میں فساد کی جڑ ہے اور زندگی کو جہنم بنا دیتی ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ظن اور گمان سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اکثر گمان گناہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ پس اپنے آپ کو، اپنے دلوں اور ذہنوں کو ہم بدگمانی سے پاک رکھیں بلکہ دوسروں سے متعلق ہمیشہ حسنِ ظن رکھیں، اس طرح نہ صرف ہماری اپنی زندگی پرسکون گزرے گی بلکہ ہم دوسروں کو بھی سکون اور راحت دینے کا باعث بنیں گے۔ اگر دل کسی کے رویے سے بہت ہی پریشان ہو تو پیار محبت کے ساتھ دوسرے سے اس کے فعل کی وضاحت طلب کرلی جائے تاکہ دل و ذہن صاف ہوجائیں۔ گھروں کی سطح پر اس برائی کی اصلاح ہی معاشرے اور پھر جہاد کی صفوں میں اس کی اصلاح کا باعث بنے گی۔ یہ بنیادی طور پر ماں کی تربیت ہی ہوتی ہے کہ جو کسی شخص کو سراپا خیر بھی بنا سکتی ہے اور فتنہ گر بھی۔ اگر ماں حسن ظن رکھنے والی ہوگی تو اس کی اولاد میں بھی اس صفت کے موجود ہونے کے زیادہ امکانات ہیں ، لیکن اگر ماں نے ہی اولاد کے دلوں میں شک اور بدگمانی کے بیج بوئے ہوں گے تو آگے چل کر اولاد کے لیے ان کی اصلاح کے ساتھ ساتھ کسی بھی اجتماعیت اور بالخصوص جہادی اجتماعیت کا حصہ بننا بھی مشکل ہوگا۔

چغلی کھانا، یعنی اِدھر کی جھوٹی سچی باتیں اُدھر پہنچانا بھی بہت عام ہے اور عموماً چغل خوری اور تجسس لازم و ملزوم ہی ہوتے ہیں۔ پہلے دوسروں کی ٹوہ لگائی جائے، بہانے بہانے سے، تانک جھانک سے، بچوں سے سوال کرکر کے دوسروں کے معاملات کی خبر رکھنے کی کوشش کی جائے اور پھر اس میں اپنی طرف سے جھوٹی باتیں بھی شامل کرکے کسی تیسرے کو بھڑکایا جائے۔ حد تو یہ ہے کہ بچوں کو بھی بڑے معصومانہ طریقے سے سوالات کے ذریعے (کہ فلاں کہاں ہے، فلاں کیا کررہا تھا، فلاں نے فلاں سے کیا کہا، فلاں کس کے ساتھ بیٹھا تھا وغیرہ کہ بچے عموماً آزادانہ ایک دوسرے کے کمروں میں اور قریب کے گھروں میں آتے جاتے ہیں اور ان کے سامنے گفتگو اور تعامل میں احتیاط کم کی جاتی ہے، اس طرح انھیں) اس کام میں استعمال کیا جاتا ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ تو چھوٹے ہیں، انھیں کیا سمجھ آئے گی۔ حالانکہ بچے بہت سمجھ دار ہوتے ہیں اور تھوڑے ہی عرصے میں یہ سب کھیل سمجھ جاتے ہیں اور پھر اپنی جانب سے جھوٹ گھڑ گھڑ کر اور چغلیاں کرکر کے گھروں میں لڑائیاں اور فساد کرواتے پھرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ اور قرآن پاک کا صریح حکم ہے ولا تجسسّوا، تجسس نہ کرو۔ پس جو مسلمان عورت جنت میں جانے کی خواہاں ہے اسے ان برائیوں سے لازماً اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنی اولاد کو بھی اس سے بچانا چاہیے۔

پھر اگلی یہ بات کہ جس جس برائی کی قباحت کو آپ خود جان لیں اور سمجھ لیں، اس کو عاجزی اور تواضع کے ساتھ، اپنی علمی کم مائیگی کے احساس کے ساتھ قریبی رشتہ داروں تک پہنچانا اور سہیلیوں اور رشتہ داروں میں سے بھی پہلے ان تک جن کے ساتھ دل کا گہرا تعلق ہو اپنی بات پہنچانا اور اجتماعی طور پر اصلاحِ اخلاق کی کوشش کرنا۔ انفرادی کوشش اپنی جگہ اہم ہے اور اجتماعی کوششوں کے فوائد سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ دوسروں تک بات پہنچانے میں ایک بات ضرور ملحوظ رکھنی چاہیے کہ آپ کا کام محض محبت، دل سوزی اور عاجزی کے ساتھ پیغام پہنچانا اور ہمدردی سے قائل کرنے کی کوشش کرنا ہے، نہ کہ لٹھ اٹھا کر داروغہ بن کر لوگوں کےپیچھے پڑجانا کہ یہ اصلاح کی بجائے محض دوسرے میں ضد اور چڑ پیدا کرنے والا اور نصیحت کے اثر کو سراسر زائل کردینے والا عمل ہے۔

پھر یہ بات کہ اپنی اولاد کے دلوں میں شروع سے ہی منکرات کی نفرت ڈالنا اور نیکیوں سے محبت پیدا کرنا۔ ان کے سچ بولنے ، نیکی کی طرف رغبت کرنے، زبان کی حفاظت کی کوشش کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی ہو اور کبھی کبھار کوئی چھوٹا موٹا انعام بھی انھیں دیا جائے، جبکہ مذکورہ بالا اور دیگر اخلاقی برائیوں پر ان کی زبردست پکڑ ہو۔ بچے زبانی تبلیغ سے زیادہ آپ کے عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر خدانخواستہ بچوں میں جھوٹ، چغلی، تجسس وغیرہ کی برائیاں جڑ پکڑ جائیں تو پھر ان کی اصلاح بہت مشکل ہوجاتی ہے۔ بچوں کی تربیت محض یہ مدنظر رکھتے ہوئے نہ کی جائے کہ یہ کل کو اچھے سعادت مند ’کماؤ پوت‘ بن جائیں بلکہ اس نقطۂ نظر سے ان کی تربیت کی جائے کہ یہ اچھے مسلمان بنیں اور ان کے اعمال اور اخلاق ایسے ہوں جو نہ صرف ان کی اپنی دنیا و آخرت کے سدھارنے میں معاون ہوں بلکہ یہ امت مسلمہ کے لیے بھی نافع بنیں اور جہادی صفوں میں ان کی شرکت اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے والی ہو نہ کہ افتراق و انتشار و فساد کو۔ نیز بچوں کی تربیت میں اور اپنی اور دیگر اہل خاندان کی اصلاح کے سلسلے میں اللہ رب العزت سے خصوصی دعائیں کرنے کا اہتمام ساتھ ساتھ ہو کہ اللہ کی مدد اور رحمت کے سوا کوئی خیر کا کام ممکن نہیں۔

اور سب سے آخر میں یہ کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کے ساتھ ساتھ کثرت سے استغفار اور صدقے کا اہتمام کرنا۔ کثرت کا معنی یہ نہیں ہے کہ ایک دن میں چند مرتبہ بے توجہی کے ساتھ استغفار پڑھنا کافی ہوجائے؛ رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں ایک ایک مجلس میں ستّر ستّر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ وہ اللہ کے نبی ہیں اور اس کے باوجود اس قدر استغفار کا اہتمام، تو ہم گناہ گاروں کو اس سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنی مرتبہ استغفار کا اہتمام تو کرنا ہی چاہیے۔ نیز نفلی صدقات پر دوام کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ صدقہ چاہے چھوٹا ہو، مثلاً کسی پڑوسی کو اپنے پکائے ہوئے کھانے میں سے کچھ بھجوا دیا، کسی کی کوئی چھوٹی سی ضرورت پوری کردی، کسی کی خدمت کی نیت سے اس کا کوئی کام کردیا یا اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کوشاں افراد کے لیے اللہ کے دیے ہوئے اموال میں سے کچھ دیا وغیرہ، مگر اس میں نیت کی درستی ضروری اور لازم ہے کہ صدقہ خالص اللہ کے لیے ہو اور اس میں ریا نہ ہو اور اس کی تشہیر نہ کی جائے۔

غرض مطلوب یہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون کا دائرۂ عمل فقط اعمال و اخلاق کی اصلاح تک محدود نہ رہےبلکہ وہ اپنی اولاد اور حسب استطاعت دیگر خواتین میں بھی ایمان، اخلاق اور جہاد کی روح پھونکنے والی ہو۔ آج ہمارے معاشرے کے اندر بہت سی وہ خواتین نظر آتی ہیں جن سے اللہ رب العزت نے خواتین ہی کی تعلیم و تربیت اور اصلاح کے دائرے میں اپنے دین کی بھرپور خدمت لی اور ان کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر کئی گھرانے اللہ کے دین سے جڑگئے اور مائیں سدھریں تو انھوں نے اپنے بیٹوں کو بھی دین و شریعت کی سربلندی اور جہاد کے لیے تیار کیا۔ جہادی صفیں ماؤں کی گودوں ہی سے بننا شروع ہوتی ہیں۔ مجاہدین کا پہلا مدرسہ ماں کی کوکھ اور اس کی گود ہی ہوتی ہے ۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عفت اور حیا کے ساتھ، شریعت کی پابندی اور اس کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے دین کی دعوت عام کریں اور یہ دعوت فقط نماز روزہ اور دیگر فرائض کی حد تک محدود نہ ہو بلکہ یہ خواتین کے اندر جہادی شعور بیدار بھی کرے تاکہ معاشرے کو وہ گھرانے مل سکیں جن کی سوچ و فکر جہادی ہو، جو محض گھر کی سطح پر نہیں بلکہ امت کی سطح پر سوچنے اور فکر کرنے والے ہوں، جن کی سعی و جہد کا واحد مقصد پیٹ بھرنا نہ ہو بلکہ ان کی تڑپ مظلومینِ امت کے مسائل حل کرنے اور انھیں شریعت الٰہی کے قیام سے راحت پہنچانے کی ہو ۔ شریعت کا نفاذ محض چند سرفروشوں کی قربانیوں سے ممکن نہیں ، اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان عورت اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کو جہاد کی نصرت کے لیے تیار کرے۔ آپ اپنے گھروں میں رہتے ہوئے جہاد اور اہل جہاد کی ما ل و اسباب کے ذریعے مدد کرسکتی ہیں، ان کو پناہ دینے ، ان کی حمایت ، اپنے شوہروں اور بیٹوں کو ان میں شامل کرکے مجاہدینِ اسلام کی تعداد میں اضافے کے ذریعے اور دعاؤں کے ذریعے ان کی مدد کرسکتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ خاتونِ خانہ بے کس اور مجبور ہے اور وہ جہاد اور اہل جہاد کے لیے کچھ نہیں کرسکتی۔ وہی تو ہے جو سوچ و فکر کو ڈھالنے والی ہے اور وہی ہے جو حوصلہ دینے والی اور اٹھا کر کھڑا کرنے والی ہے اور وہی ہے جو بھاگتے قدموں کو واپس میدانِ جنگ کی جانب لوٹانے والی ہے۔ پس اے ماؤں، بہنو، بیٹیو! اپنا کردار پہچانیے، اپنی قوت کا ادراک کیجیے اور اللہ کے دین پر عمل، اس کی دعوت اور شریعتِ الٰہی کے نفاذ کی کوششوں میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیے۔

اپنے گھروں اور اولاد کی اصلاح کے لیے یہ چند نکات تھے جو ذہن میں آئے۔ گھر کی عورت کی نیکی اور صالحیت کا اثر بہت دور رس ہوتا ہے۔ اگر سربراہِ خانہ نیک اور صالح ہے تو صالح عورت اس کی صالحیت کی تقویت کا باعث بنتی ہے اور اس کے لیے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے دین و اخلاق کی حفاظت، جہاد کی نصرت اور اس میں شرکت آسان تر ہوجاتی ہے۔ اور اگر خدانخواستہ سربراہِ خانہ دین سے دور ہو تو عورت کی نیکی اور صالحیت، تعلق باللہ اور حکمت اسے دین سے جوڑنےاور دین دار بنانے میں معاون ہوسکتی ہے۔ پس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان عورت اپنے کردار کو سمجھے، وہ کردار جو اللہ رب العزت کو اس سے مطلوب ہے۔ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی خواتین پر مبنی ہے۔ خواتین اگر اپنی اور اپنے گھر والوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھا لیں تو اللہ رب العزت کی رحمت سے امت مسلمہ کا ہر گھرانہ مثالی بن سکتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی شریعت سے محبت اور اس پر عمل کی تڑپ اوراس کے قیام کے لیے جہاد کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب کو خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنائے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو محبت اور دردمندی کے ساتھ روکنے والا بنائے، آمین ۔

سبحانک اللّٰھم وبحمدک نشھد أن لا إلہ إلّا أنت نستغفرک ونتوب إلیک

Previous Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزاہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | جولائی ۲۰۲۰

Next Post

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | گیارہویں قسط

Related Posts

تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | چوتھی قسط

25 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | تیسری قسط

1 مئی 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | دوسری قسط

8 مارچ 2026
تزکیہ و احسان

اللہ سے حسنِ ظن | پہلی قسط

15 فروری 2026
اصلاحِ معاشرہ | چھٹی قسط
تزکیہ و احسان

اصلاحِ معاشرہ | گیارہویں اور آخری قسط

20 جنوری 2026
Next Post

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں دنیا کی حقیقت | گیارہویں قسط

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version