ساتھی کا مائن پرچڑھنا
ابھی طالبان کو گئے گھنٹہ ہی ہوا ہوگا امیر صاحب بھاگتے ہوئے آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ساتھی تلاشی کے دوران مائن پر چڑھ گیا ہے، جلدی کریں اس کو اٹھانے کےلیے بندے چاہییں اور وہ اپنے ساتھ کچھ ساتھی لے کر چلے گئے۔ تھوڑی دیر بعد مخابرہ پر پیغام ملا کہ زخمی کو اٹھانا مشکل ہے چارپائی بھجوائیں، امیر صاحب نے مجھے ایک اور مقامی طالب کو چار پائی دے کر بھیج دیا ۔ ہم جونہی چارپائی لے کر نالے میں پہنچے باقی ساتھ زخمی کو لے کر آچکے تھے۔ ابھی ہم چارپائی لے کر پہنچے ہی تھے کہ امریکی ہیلی کاپٹرآگئے۔ طالبان نے زخمی ساتھی کو ایک طرف کیا اور ادھر ادھر بکھر گئے۔ عجیب پریشانی بن چکی تھی۔ سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کیا جائے کیونکہ ایک زخمی کی وجہ سے کئی لوگوں کے شہید ہونے کا خطرہ تھا، خیر تھوڑی دیر ہیلی کاپٹر گھومنے کے بعد چلے گئے ۔ اس کے جانے کے بعد ہم نے زخمی کو چارپائی پر ڈالا اور چل پڑے۔ تھوڑا سا آگے لے کر زخمی کو گئے ہوں گے کہ ہیلی کاپٹر پھر آگئے۔ شاید ان کو مخابرے کے ذریعے سے پتا چل چکا تھا کہ ان کا ساتھی زخمی ہوگیا ہے۔ اس لیے ہسپتال تک اس کی رسائی مشکل بنارہے تھے۔ الحمد للہ، تھوڑی دیر بعد ہیلی کاپٹر چلےگئے۔ رات بھی صحیح ٹھنڈی تھی اور چارپائی کو لے جانے کی جگہ بالکل بھی نہیں تھی ہم بحالت مجبوری ٹھنڈے یخ پانی میں چل رہے تھے۔ کبھی زخمی کی چارپائی رکھتے کبھی اٹھاتے ۔ ہم بھی تھک چکے تھے اور بےچارے زخمی کی درد سے بری حالت تھی ۔اس کا پاؤں تقریبًا اڑچکا تھا ، پچھلے مورچے والوں کو مخابرہ پر اطلاع بھیجی کہ ہمارے ساتھ زخمی ہے اس کو آگے وصول کر لو۔ تھوڑاہم آگے گئے توکچھ دیر بعد دیگر طالبان آگئے۔ نے زخمی ان کے حوالے کردیا وہ اس کو آگے لے کر چلے گئے اور ہم واپس دوبارہ مرکز آگئے۔ تھوڑی دیر بعد پتاچلا کہ ایک اور طالب مائن پر چڑھ گیا ہے اس کو بھی طالبان بڑی مشکل سےلےکر گئے۔
داعشیوں کی بدبختی
جس چیز کا خطرہ تھاوہی ہوا ۔ جنگ میں یہ تکفیری ٹولہ کہیں تک بھی جاسکتا ہے ۔ انہوں نے گھروں سے نکلتے ہوئے پورے گھروں کو بارود سے بھرا کوئی چیز ایسی نہیں ہوگی جس میں انہوں نے بارود نہ بھرا ہو۔ پریشر ککر، پانی کے کین، کیتلیاں، غرض باورچی خانے میں میں رکھا ہر ایک برتن بارود سے بھراہواتھا ۔ آخر میں اس کا کنکشن کمرے میں رکھی بیٹری سے جوڑا ہوا تھا۔ یہ تو اللہ نے بچایا کہ طالبان تلاشی کے دوران بچ گئے کہ طالبان جاکے پہلے کنکشن کاٹتے تھے پھر داخل ہوتے ۔ ان بدبختوں نے بدبختی کی انتہاکردی۔ رب کے گھر کو بھی معاف نہیں کیا۔ امارت کے انتہائی اہم عسکری مسئول ابو یوسف (ادریس مولوی صاحب) مسجد کے اندر داخل ہوئے تو مسجد میں لائٹ کا بٹن جونہی آن کیا تو وہ مائن کے کنکشن سے جڑا ہوا تھا۔ وہ اور ان کے ساتھ کچھ ساتھ ادھر ہی شہید ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
امارت کے ذمہ دار کا شہید ہونا
امریکی ہر ممکن کوشش کررہے تھے کہ داعش کی پسپائی کو روکا جائے ۔ اس کےلیے وہ اقدام بھی کررہے تھے۔ ابھی ہم رات کو زخمی چھوڑ کر واپس آئے تو یہ اطلاع ملی کہ وزیروتنگی کی طرف آتے ہوئے راستے میں غزنی صوبے کے ضلع قرہ باغ کے کماندان خالد مولوی صاحب پر ڈرون حملہ ہوا جس میں وہ شہید ہوگئے۔
وزیرتنگی کا فتح ہونا
رات کو کچھ علاقہ کلیئر ہوگیا۔ یہ رات کو تعارض (اقدامی حملے)سے آنے والے مجاہدین نے بتایا کہ صرف اس کا آخری کونا بچ گیا ہے وہ بھی کلیئر ہوجائے گا ۔ ہماری باری ختم ہوگئی، ہم اب دوبارہ شام کو مرکزآگئے ۔ ہم ابھی مرکز میں پہنچے ہی تھے کہ شام کو خبر آگئی کہ وزیروتنگی (یعنی وزیرو گھاٹی)مکمل فتح ہوگئی ہے ۔
رات کی تلاشی میں ساتھی انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اپنے ذمہ دار کو مخابرے پر بتایا کہ عورتیں اور بچے خچروں پر سامان لاد رہے ہیں۔ تو کماندان نے کہا ان سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ان کو جانے دو جہاں جاتے ہیں۔ وزیروتنگی میں ایک جگہ طالبان تلاشی کے دوران گھر میں گھسے تو وہاں ایک عورت اور دو بچے ملے۔ عورت سے جب پوچھا گیا تو وہ کشمیر سے آئی ہوئی تھی۔ اس کا شوہر اس کو چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ جب وہ طالبان کے پاس آئی تو طالبان نے اس کو کہا کہ جہاں آپ جانا چاہتی ہیں ہم آپ کو چھوڑ دیں گے۔ لیکن وہ کھانا بھی نہیں کھاتی تھی، شاید اسکو صدمہ (shock)پہنچا تھا۔ صرف دوائیوں پر اکتفا کرتی تھی ۔ بیچاری تیسرے دن فوت ہوگئی۔ باقی اس کے بچے بچ گئے۔ طالبان ان کو کشمیر میں ان کے لواحقین تک چھوڑنے کےلیے ان کے رشتہ داروں سے کشمیر میں رابطے کی کوشش کررہے تھے ۔
داعشیوں کا تسلیم ہونا
ابھی ہم وزیروتنگی سے پہنچے ہی تھے کہ شام کو ریڈیو پر خبر سنی کہ کئی داعشی تسلیم ہوگئے ہیں۔ ان میں ایک سو بتیس بچے، اسّی مرد اورکئی خواتین بھی شامل تھیں۔ ایک داعشی جنگجو ’لیمر‘ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ان تسلیم ہونے والوں میں تقریباً تمام وسطی ایشیائی ریاستوں کے باشندے ہیں۔ بھارت، پاکستان اور کشمیر کے باشندے بھی شامل ہیں ۔ ان میں ایک برطانوی ڈاکٹر بھی شامل ہے۔
تورابورا کی طرف طالبان کی روانگی
بچ جانے والے داعشی اب بھاگ کر تورابورا میں اکٹھے ہوچکے تھے۔ طالبان کے قطعے اب تورابورا کی طرف جانے کے لیے امر کے منتظر تھے۔ ایک دن بعد امر آگیا تورابورا کی طرف روانگی ہے ۔ ہماری تشکیل اور قطعے کے کچھ ساتھی جن میں ہمارا ساتھی حاجی الیاس بھی تھا، تورابورا کی طرف روانہ ہوگئے ۔ لیکن داعشیوں کے قدم بالکل بھی نہیں جم سکے۔ تورابورا سے بھی یہ جلدی نکل گئے۔ تورا بورا کے بعد داعشی اغض تنگی میں چلے گئے۔ اغض تنگی دو دن کی شدید لڑائی کے بعد فتح ہوگئی۔ اب داعشی بالکل سرحد کے ساتھ والے کوہِ سفید والے پہاڑی سلسلے میں پھنس چکے تھے اور طالبان ان کا تعاقب جاری رکھے ہوئے تھے ۔
امریکہ اور ملی فوج کی آخری کوشش
جیسا کہ امریکہ کوشش کررہا تھا کہ داعش کی پسپائی کو روکا جائے اس کے لیے انہوں نے آخری کوشش کے طور پر اپناآخری حربہ استعمال کیا۔ داعش سے چھینے گئے علاقوں میں ملی فوج اپنے ٹینک لے کر آگئی تاکہ طالبان کی داعش والے محاذ سے توجہ ہٹائی جائے۔ لیکن اللہ نے ان کی چال ان پر الٹا دی ، وہ اپنا کانوائے لے کر آئے لیکن طالبان نے پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی۔ انہوں نے ان کو راستے میں گھیر لیا۔ کچھ ٹینک اڑادیے اور باقی سب نے بھاگنے میں عافیت جانی ۔
عوام کی خوشی
’اللہ کا بے انتہا شکر ہے کہ اللہ نے ان ظالموں سے ہماری جان چھڑائی ورنہ تو ہم یہاں سے بھاگنے کی سوچ رہے تھے‘، یہ الفاظ ایک مقامی کے تھے جو طالبان کے ہاتھوں داعش کے خاتمے پر خوش تھا ۔
روانگی
تورا بورا گئے ہوئے ساتھی واپس آچکے تھے اور ہماری تشکیل کا وقت بھی مکمل ہوچکا تھا۔ ہماری جگہ پر تبادلے والے ساتھی بھی آچکے تھے۔ تبادلے والے ساتھی پہنچنے کے کچھ دن بعد ہماری واپسی ہوگئی۔ یوں اس تشکیل کا حسین یادوں کے ساتھ خاتمہ ہوگیا۔ جب ہم واپس پہنچے تو چند دن بعد خبر سنی کہ پورے ننگرہار صوبے سے اس بدبخت گروہ کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اجر کو ضائع نہ فرمائے اور ہمیں امت مسلمہ کےلیے راحت بنائے، آمین !



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



