نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home میدانِ کارزار سے……

صفا و مروہ

سچی کہانی

by نسیبہ امِ حفص
in میدانِ کارزار سے……, اگست 2020
0

وہ بے حد اضطراب میں تھی ۔

وجہ شاید بچوں کی بیماری تھی، بالخصوص علی کی جو اس کا بڑا بیٹا تھا ۔لیکن بچے تو بیمار ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ جب پہلی دفعہ علی بیمار ہوا تھا تو وہ صرف تین ماہ کا تھا ۔بیماری کیا تھی بس موسم بدلنے کی وجہ سے تھوڑا نزلہ زکام ہوا تھا جو کہ علاج و دوائی کے بعد فوراً ہی ٹھیک ہو گیا تھا ۔

لیکن اب اس کے اضطراب کی وجہ کچھ اور بھی تھی۔

وجہ صرف بچوں کی بیماری ہی نہیں بلکہ وہ حالات بھی تھے جن سے وہ سب گزر رہے تھے…… اپنے وطن سے دور ،اپنے خون کے رشتوں سے دور ،مہربان اور مشفق ساس سسر سے دور، پردیس میں ایک انصار کے گھر ،دربدر۔ یہ دربدری تو ہے ہی اس راہ کا حصہ، لیکن یہ سب کچھ بھی اُتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنے گزشتہ تین ماہ میں پیش آنے والے حالات تھے۔ وہ تین مہینے پیچھے پہنچ گئی۔

وہ لوگ جس علاقے میں رہائش پذیر تھے، تین ماہ پہلے ان کو علم ہوا کہ ان کی موجودگی کی اطلاع دشمن تک پہنچ چکی ہے۔ فضا کے بدلتے رنگ، یعنی ڈرون کے روز بروز بڑھتے چکر بھی ان کے خدشات کی تصدیق کر رہے تھے، لیکن اللہ کی مرضی یہی تھی کہ ان کو آزمائش سے گزار کر کندن کر دے کیونکہ جب ان کو اس بات کا اندازہ ہوا کہ دشمن ان کی تاک میں ہے تب تک برف باری کا موسم، بلکہ برف باری کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ اس قدر بے حساب برف پڑی کہ مقامی لوگ تک حیران تھے ۔برف کی زیادتی کے ساتھ ساتھ اس کا دورانیہ بھی بے حد طویل ہو گیا تھا ۔وہ مہینہ کہ جس میں مقامی لوگوں کے مطابق ’’ہمارے جانور اس مہینے میں پہاڑوں میں چرنے جاتے ہیں‘‘، اس میں دو ڈھائی فٹ برف پڑی تھی ۔ایسے موسم میں گاڑی یا موٹر سائیکل تو درکنار، پندرہ منٹ پیدل چلنا بھی محال تھا، وہ بھی تین چھوٹے بچوں کے ساتھ……

’’اماں‘‘ علی درد سے کراہ رہا تھا۔ پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے، میرے ساتھ باہر چلیں۔ وہ بچے کو رفع حاجت کے لیے باہر لے آئی۔ آج بھی بیماری میں بالکل فرق نہیں آیا تھا ۔علی کو خونی پیچش ہو رہی تھی ۔آج چوتھا دن تھا۔ اس نے کھانا پینا سب کچھ چھوڑ رکھا تھا ۔ہر وقت نڈھال سا پڑا رہتا تھا ۔اپنی اور باقی بچوں کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ شدید سردی اور پے درپے سفروں نے سب ہی کو بیمار کر ڈالا تھا لیکن علی کی بیماری کی وجہ سے وہ سب کچھ بھلائے بیٹھی تھی۔ وہ رات کو دو تین دفعہ درد سے چیخ کر اٹھتا تھا اور رفع حاجت کے لیے ماں کو بھی ساتھ جانا پڑتا تھا۔

جب شروع میں علی کی طبیعت خراب ہوئی تو اس نے ہمیشہ کی طرح وہ چند دوائیاں جن کا کہ اسے علم تھا کہ وہ ایسی صورتِ حال میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں، دے ڈالیں۔ اڑتالیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی جب کوئی فرق نہیں پڑا تو اس نےمجبوراً انجکشن دیے۔ لیکن انجکشن کے چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کچھ افاقہ نہ ہوا۔ یہاں اکثر سیلف میڈیکشن ہی کرنی پڑتی ہے کیونکہ اول تو یہاں ہر جگہ ڈاکٹر تک رسائی ممکن ہی نہیں ہوتی ہے دوسرا یہاں کے ڈاکٹروں کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہوتا اس لیے خود ہی اندازہ کرکے دوائیوں سے کام چلانا پڑتا تھا۔ ابھی پھر سے خون سے بھری اجابت دیکھ کر اسے شدید مایوسی نے آگھیرا تھا ۔

اس نے یکایک خود کو انتہائی بے بس پایا ۔ جب سے ان کے گھر پر فضا خراب ہوئی تھی یعنی ڈرون کے سائے منڈلانے شروع ہوئے تھے،اس نے خود کو قرآن سے جوڑ لیا تھا۔ قرآن کے ترجمہ و تفسیر سے بنیادی واقفیت تو تھی ہی مگر وہی جیسے اکثریت کا حال ہوتا ہے کہ کبھی قرآن سے دوری تو کبھی اچھا تعلق۔تو پچھلے کچھ دنوں سے اس نے قرآن کو مضبوطی سے تھام لیا تھا ۔

ویسے بھی ڈرون کی شدت اور آس پاس پڑتے چھاپوں کی اطلاعات کے بعد دل جیسے بالکل اچاٹ سا ہو گیا تھا ۔بھوک ختم ،بچوں کی پڑھائی ختم کہ کیا پتا کس وقت نکلنا پڑ جائے۔ اس گھر سے ایک دم وحشت ٹپکنے لگی تھی ۔ایسے میں اگر قرآن کا سہارا نہ ہوتا تو اس کے اعصاب کب کے جواب دے چکے ہوتے ۔

اس گھر سے، جہاں ڈرون نے ان کا پیچھا پکڑ لیا تھا، نکلنا بھی ایک معجزہ معلوم ہوتا تھا ۔ڈرون کی مستقل آواز اعصاب تھکائے دیتی تھی ۔اس کو یاد تھا کہ اگر کبھی بچپن میں بھی گھر کی بجلی چلی جاتی تھی تو مچھروں کے کاٹنے سے زیادہ ان کی بھنبھناہٹ اذیت دیتی تھی۔

چھاپے سے دو دن پہلے مغرب کے کچھ دیر کے بعد ڈرون کی آواز جیسے ہی تھمی تھی وہ دو لوگ گویا فرشتہ بن کر ان کی مدد کو آن پہنچے تھے۔’’آپ نکلیں جلدی سے ۔ابھی ڈرون نہیں ہے اور باہر مکمل اندھیرا ہے، اگر کوئی اس وقت زمینی جاسوسی بھی کر رہا ہوگا تو اس کو علم نہیں ہو پائے گا‘‘۔

جب سے زیادہ حالات خراب ہوئے تھے بچوں کو وہ عصر سے ہی گرم کپڑے پہنا کر تیار کر دیتی تھی تاکہ اگر یکایک نکلنا پڑے تو مشکل نہ ہو ۔ضروری سامان کی دو بوریاں بنا لی تھیں کیونکہ سردیوں کی وجہ سے بچوں کے لیے زیادہ کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔

’’سامان کیسے جائے گا‘‘؟اس نے شوہر سے پوچھا ۔’’ابھی نکلنے کی فکر کرو۔ صرف انتہائی ضروری وہ چیزیں لے لو جنہیں تم ہاتھ میں اٹھا سکتی ہو……ہمیں پیدل جانا ہے‘‘۔وہ چونکی ضرور تھی لیکن زیادہ حیران نہیں ہوئی کیونکہ باہر جس قدر برف پڑی تھی اس میں گاڑی کا چلنا محال تھا ۔

سامان کی بوریاں وہیں چھوڑیں اور بچوں کو جلدی جلدی ڈبل کپڑے پہنا دیے ۔ہاتھ کے بیگ میں صرف چھوٹے حمزہ کے کپڑے ،کچھ ڈائپر اور دوائیاں رکھ لی تھیں ۔بالکل چپ چاپ وہ گھر سے باہر نکل آئے ۔پہلی دفعہ اپنے وطن کو چھوڑ کر ہجرت کرنے سے لے کر نجانے کتنی مرتبہ ’’ وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ‘‘1سے گزرنا پڑا تھا،جس میں نہ آگے کا کوئی ٹھکانہ پتہ ہوتا تھا اور نہ واپسی کی کوئی امید ہوتی تھی ۔لیکن پھر بھی ہر دفعہ اس طرح گھر چھوڑنے پر ذرا سی کسک تو ہوتی ہی تھی کیونکہ سینے میں دھڑکتا دل بہر حال انسانی تھا اور جذبات پر حد درجہ قابو آجانے کے باوجود دل پتھر تو نہیں ہوا تھا ۔

گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے اپنے شوہر کی سرگوشی میں کی گئی ہدایت سنی تھی، ’’کوشش کرنا بچے راستے میں بالکل آواز نہ نکالیں اور ٹارچ بالکل مت جلانا ،حمزہ کو تم اٹھانا، میں سارہ کو لے لیتا ہوں ۔اور وہ جو خوراک کی تھیلی ہے وہ میں پکڑ لوں گا ‘‘۔

علی پیدل چل سکتا تھا ۔ایک تھیلی میں کچھ ضروری کھانے پینے کی چیزیں تھیں، وہ شوہر کو پکڑائیں ۔یوں سرد تاریکی میں یہ خاموش سفر شروع ہوا۔وہ ایک گھنٹے تک پیدل چلتے رہے۔ برف کہیں کم کہیں زیادہ تھی مگر اس کا احساس جیسے ختم ہو گیا تھا ۔آج پتا چلا کہ جان بچانے کے لیے انسان کیسے بھاگتا ہے ۔ایک ہاتھ میں دس ماہ کا بچہ اور دوسرے میں ایک چھوٹا بیگ اٹھائے جب وہ انصار کے گھر تک پہنچے تو اس کے ہاتھ شل ہو چکے تھے۔ علی چپ چاپ آکر بیٹھ گیا تھا البتہ سارہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی، ’’اماں میرے ہاتھ سردی سے برف ہو گئے ہیں‘‘۔ سارہ کے رونے کی آواز سے وہ خیالات کی دنیا سے باہر آئی۔ بچوں کو سلایا ۔آج صبح انصار کی لڑکی نے اسے تسلی دی تھی کہ اگر شام تک علی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی تو وہ ضرور ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا انتظام کر دیں گے۔’تاسو خفا نہ شی‘ (تم پریشان نہ ہو)اس لڑکی نے مسکرا کر تسلی دی ۔

کبھی کبھی حیرت بھی ہوتی تھی۔ نیچے (اپنے وطن میں) جب کبھی بچے بیمار ہوتے تھے تو ہر طرح کی تدابیر اختیار کی جاتی تھیں؛ ڈاکٹر ،دوائیاں ،ٹیسٹ ……، رشتہ دار فون کر کر کے پوچھتے تھے، خیریت معلوم کرتے تھے، پھر بھی پریشانی میں سب کے سامنے رونا آ ہی جاتا تھا۔ مگر اب تو لگتا تھا کہ آنسو تو گرنا ہی بھول گئے تھے، اب تو بس پریشانی میں نیند اور بھوک دونوں ہی اڑ جاتی تھیں ۔

ایک دم ہی تنہائی کا احساس بڑھنے لگا ۔پشتو بول بول کر تھک چکی تھی۔ بہت دل چاہتا تھا کہ کوئی ہم زبان مل جائے جس سے ساری باتیں کر لیں۔ یہ غرمہ یعنی دن کےگیارہ بجے کا وقت تھا۔ یہ انصار کے آرام کا وقت ہوتا ہے۔ بچے تو ویسے ہی سوئے پڑے تھے، بیماری کے باعث نڈھال جو تھے، اس نے اپنا مصحف اٹھایا جو پچھلے سال سے اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا، اب بھی وہ اپنے ساتھ لانا نہ بھولی تھی ۔

اس نے تلاوت شروع کی……

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ۝ (سورۃ البقرة: ١٥٤)

’’ اور جولوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو ،وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا شعور نہیں ۔‘‘

اے کاش! میں شہید ہی ہو جاتی۔ بچوں سمیت ہم سب ہی شہید ہو جاتے !!

اس نے آرزو کی تھی ۔شہدا کو ملنے والے انعامات اس کی نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔ سارے دکھ ،تکلیفیں ختم……

وَلَنَبْلُوَنَّكُم ……

’’ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور……‘‘

تو محترمہ شہادت ایسے ہی نہیں مل جاتی ۔مقبولیت ایسے ہی نہیں مل جاتی۔ آزمائشوں کے سلسلے سے گزرنا پڑتا ہے……

قرآن نے اسے سمجھانا شروع کر دیا تھا ۔یہی تو اعجاز ہے اس کتاب کا کہ ہر طرح کے حالات میں روشنی اور ہدایت دیتی ہے ۔

بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ……

’’(کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے……‘‘

اور بے اختیار خوف کی وہ بہت ساری راتیں اسے یاد آگئیں جب ڈرون ساری ساری رات ان کے گھر کے اوپر چکر لگاتا رہتا تھا ۔بعض دفعہ اس کی گھوں گھوں دماغ کو جھنجھنا کے رکھ دیتی تھی۔ایسی ہی ایک رات ان کے گھر کے قریب کہیں چھاپہ پڑا تھا ۔ساری رات ڈرون بہت نچلی پرواز کرتا رہا ۔ دشمن سے دفاع کی خاطر مرد اپنا اسلحہ لیے پہاڑی غاروں کا رخ کر چکے تھے، لیکن وہ عورت ان یخ بستہ برفیلی راتوں میں تین ننھے بچوں کے ساتھ کہاں جاتی؟ …… جب بھی ڈرون نچلی پرواز کرتا تو اسے لگتا کہ ابھی کوئی بم پھینک کر دروازہ توڑے گا اور کافر اس کے بچوں کو وہیں بےیارو مددگار چھوڑ کر اسے گرفتار کر کے لے جائیں گے۔ اسے جھرجھری سی آجاتی ۔اسی خوف نے ،اسی ڈرون نے اس رات اس کے اندر موت، آخرت ،حشر اور قبر کے خوف کو پوری طرح بیدار کر دیا ۔شاید اس نے اپنی پوری زندگی میں موت اور آخرت کو اتنا یاد نہیں کیا ہوگا جتنااس رات اور اس کے بعد آنے والی راتوں میں کیا تھا ۔ إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ……2، اب سمجھ میں آیا تھا ۔

اور وہ چھاپے کی رات…… ! وہ اپنے گھر سے نکل کر کہیں پناہ لینے میں کامیاب تو ہو گئے تھے لیکن اس کے پورے دو دن بعد دشمن نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا ۔بچے تو حسب معمول جلد ہی سو گئے تھے لیکن اسے نیند نہیں آر ہی تھی ۔پھر ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے ڈرون کی کریہہ آواز کو ہیلی کاپٹروں اور جیٹ کی بھیانک آوازوں نے ڈھانپ لیا۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان سب آوازوں نے مل کر ایک بھیانک ماحول بنا ڈالا ۔

جیسے ہی ہیلی کاپٹروں کی آواز فضا میں چھائی، وہ جائے نماز پر کھڑی ہو گئی۔ دل میں تسلی تو تھی کہ ہم دشمن کی پہنچ سے دور ہیں لیکن دشمن کا خوف بہرحال اثر رکھتا ہے۔

فَأَوْجَسَ فِي نَفْسِهِ خِيفَةً مُّوسَىٰ۝ (سورۃ طہٰ: ٦٧)

’’ اس پر موسیٰ کو اپنے دل میں کچھ خوف محسوس ہوا……‘‘

وہ نماز، وہ خوف کی نمازبھی شاید ایسی تھی جو اپنی پوری زندگی میں اس رات نصیب ہوئی تھی اور اس پر مستزاد اردگرد ہونے والے دھماکوں کی آوازیں ……

وہ پڑھتی رہی ،چپ چاپ بے آواز آنسو بہاتی رہی ۔قرآن نے اس کا جمود توڑ دیا تھا ۔

وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ……

’’ (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے……‘‘

چھاپے میں کئی چیزیں چوری ہو گئی تھیں……

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ۝ (سورۃ البقرة: ١٥٥)

’’ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوش خبری سنا دو۔‘‘

اس نے پھر اپنا جائزہ لیا ۔ چھاپے میں گم ہو جانے والی چیزوں کا ملال دل سے جاتا ہی نہ تھا۔ اس سے آگے کی آزمائشوں کی تاب نہ تھی، اس لیے اس حد تک ہی آزمایا تھا۔ ہم تو ویسے بھی اپنے رب سے ہمہ پہلو عافیت ہی کے طلب گار ہیں۔ صرف آزمائش سے گزرنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ اس پر صبر بھی لازم ہے، ورنہ کچھ اجر نہیں ہے، سب کچھ بےکار ہے ۔ صبر شرط ہے آزمائش میں سرخروئی کے لیے ……

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ3

ہمیشہ کی طرح وہ اسی طرح گزرنے لگی کہ یہ مناسک حج کی آیات ہیں ۔ہم ان آیات کو ہمیشہ حج و قربانی سے ہی کیوں وابستہ کرتے ہیں؟ یکایک اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا اور روشنی پھیل گئی۔ اس روشنی میں اسے حضرت ہاجرہ نظر آئیں……

حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ جا رہی ہیں ۔گود میں ننھا سا بچہ ہے۔ چلتے چلتے ویران بیابان آگیا۔ دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا ہے ۔بالآخر پوچھ بیٹھتی ہیں کہ آپ ہمیں کہاں چھوڑے جا رہے ہیں ؟جب تسلی بخش جواب نہیں ملتا تو صرف اتنا پوچھتی ہیں کہ کیا آپ ہمیں اللہ کے حکم سے یہاں چھوڑے جا رہے ہیں؟جواب اثبات میں ملنے پر پورے یقین سے کہتی ہیں کہ ’’ اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا‘‘۔ ابراہیم ؑ چھوڑ کر چلے گئے۔ چند کھجوروں اور پانی کی ایک چھاگل کے ساتھ ۔تنہائی، ویرانہ،نہ آدم نہ آدم زاد…… وہ چند کھجوریں اور ذرا سا پانی کتنا ساتھ دیتے ؟

وہ سوچنے لگی اور اس کا دل کانپ گیا ۔اس ویرانے میں ہاجرہ اس بچے کے ساتھ کیسے رہی ہوں گی کہ جہاں مرد بھی تنہا رہنا گوارا نہ کرے؟

اس نے اپنے ارد گرد دیکھا اور ڈھیروں شکر ادا کیا کہ میں تنہا نہیں ہوں ۔ہم زبان نہیں تو کیا انسان تو موجود ہیں !!

اسماعیل ؑ بھوک اور پیاس سے رو پڑتے ہیں۔ادھر ہجرت کی زندگی میں کئی مواقع ایسے آئے تھے جب شوہر کی غیر موجودگی میں پانی بھر بھر کر لانا پڑتا تھا اور وہ ایک اچھا خاصا مشقت طلب کام لگتا تھا ۔اور اگر سرے سے پانی ہی نہ ہو تو ؟؟؟

اسماعیل بلک رہے ہیں اور ہاجرہ پانی کی تلاش میں ہیں کہ جس کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا ہے ۔صفا سے مروہ…… مروہ سے صفا…… پھر صفا سے مروہ…… ہمت نہیں ہارتیں، کوشش نہیں چھوڑتیں، بالآخر اللہ تعالیٰ آزمائش ختم کر کے اسماعیل ؑ کی ایڑیوں تلے پانی کا چشمہ جاری کر دیتے ہیں ۔حضرت ہاجرہ ؑ کتنی خوش ہوئی ہوں گی ؟!

وہ چشم تصور سے دیکھنے لگی۔ ہجرت سے پہلے بھی اور بعد میں بھی یہ آیات پڑھی تھیں۔ ہاجرہ اور ابراہیم علیہ السلام کا قصہ سنا بھی تھا اور پڑھا بھی تھا مگر ایسے سمجھ میں نہ آیا تھا ۔

؏سمجھنا خود کو نہ کم تر،تمہیں امت کی مائیں ہو

یا اللہ !!! اس راہ میں ایسا حوصلہ…… ایسا صبر ……اور ایسا یقین درکار ہے!! شاید اسی لیے آزمائشوں کے ذکر کے بعد صفا و مروہ کا ذکر آیا ہے۔ جتنی کڑی آزمائش،اس سے گزرنے پر اتنی ہی زیادہ قبولیت…… سعیٔ صفا و مروہ کے بغیر حج نامکمل ہے۔

صفا و مروہ استعارہ ہے ہر ایک مہاجرہ عورت کے لیے ۔ہر عورت کے لیے جو اس رستے میں نکلتی ہے کہ اسے تنہائی اور اولاد کی آزمائش سے گزرنا پڑے گا ۔

وہ اپنی تکلیف و پریشانی یکسر بھول گئی کہ ’’اللہ مجھے ضائع نہیں کرے گا‘‘۔

اس جملے نے اس کا دل بالکل ہلکا کر دیا ۔اورحضرت ہاجرہ کا کردار اس کی نگاہوں کے سامنے جھلملانے لگا۔


1 سورۃ آل عمران: ۱۹۵؛ …فَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَاُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَاُوْذُوْا فِيْ سَبِيْلِيْ وَقٰتَلُوْا وَقُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْھُمْ سَيِّاٰتِھِمْ وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ؁ ترجمہ: ’’سو جنہوں نے ہجرت کی اور جو اپنے گھروں سے نکال دیے گئے اور جنہیں میری راہ میں ایذائیں پہنچائی گئیں اور جنہوں نے (میری راہ میں) جنگ کی اور جانیں بھی دے دیں میں لازماً ان سے ان کی برائیوں کو دور کر دوں گا اور لازماً داخل کروں گا انہیں ان باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور یہ بدلہ ہوگا اللہ کے پاس سے اور بہترین بدلہ تو اللہ ہی کے پاس ہے ‘‘۔

2 سورۃ الاحزاب: ١٠؛ ترجمہ: ’’یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آگئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے ‘‘۔

3 سورۃ البقرۃ: ۱۵۸؛ ترجمہ: ’’بےشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں‘‘…

Previous Post

داعش کے خلاف جنگ کی روداد | پانچویں قسط(آخری)

Next Post

یومِ ’آزادی‘؟!

Related Posts

چند یادیں | اگست 2023
میدانِ کارزار سے……

چند یادیں | اگست 2023

31 اگست 2023
کاش کوئی یہ میرے ماں باپ کو پہنچا دے!
میدانِ کارزار سے……

کاش کوئی یہ میرے ماں باپ کو پہنچا دے!

31 اگست 2023
میدانِ کارزار سے……

ہمیں رکنا نہیں آتا……

9 فروری 2023
میدانِ کارزار سے……

تیغوں کے سائے میں ’یہ‘ پل کر جواں ہوئے ہیں…… | دوسرا حصہ

31 دسمبر 2022
میدانِ کارزار سے……

ماما کور تہ به کلہ رازې؟

26 نومبر 2022
میدانِ کارزار سے……

چند یادیں | مئی تا جولائی 2022

31 جولائی 2022
Next Post

یومِ ’آزادی‘؟!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version