نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

ایل جی ایس واقعات…… علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی!

by ام عمار
in پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!, اگست 2020
0

حال ہی میں لاہور کے نجی سکول کے اساتذہ اور عملے کی جانب سے طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے جو واقعات سامنے آئے ہیں وہ یقیناً کسی بھی مسلمان کا سر شرم سے جھکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ بہنیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، لہٰذا ان کا دکھ درد بھی سانجھا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں بھی اس قسم کے واقعات پر بہت دکھ اور تکلیف پہنچی ہے اور ہم بھی تہہ دل سے اس قسم کے واقعات کا سدّباب چاہتے ہیں۔ مگر کیا محض دکھ، تکلیف، ہمدردی اور چند افراد کا نوکری سے نکال دیے جانا ہی اس مسئلے کا حل ہے؟ کیا محض چند افراد کی فکر و عمل کی گمراہی ان واقعات کا واحد محرک ہے؟ کیا سکول کی انتظامیہ اور والدین کلیتاً بری الذمہ ہیں؟ کیا خود طالبات پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ ہمارا پاکستانی معاشرہ جس ڈگر پر جارہا ہے ، کیا اس سانچے کی تبدیلی کی بھی فکر ہونی چاہیے؟ حکومت، میڈیا، والدین، اساتذہ، علمائے دین اور طلبہ و طالبات ان سب کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ ایک غور طلب موضوع ہے۔ آئیے ان واقعات اور انھی جیسے چند دیگر واقعات کی روشنی میں ان کی وجوہات، اصلاح اور ان کے سدّباب کے لیے اپنے کرنے کےکاموں کی جانب کچھ توجہ دیتے ہیں۔

سب سے پہلے تو اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ہم حصولِ علم اور تعلیم و تعلّم کے خلاف ہرگز نہیں ہیں کہ ہمارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو اسی علم کی بنا پر تو مسجود ملائک بنایا گیا۔ اللہ رب العزت نے اپنے تمام انبیا کو اہل دنیا کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے ہی کے لیے مبعوث فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناصرف اپنے صحابہ کو کتاب و حکمت کی تعلیم دی بلکہ انھیں دیگر علوم کے سیکھنے پر تحریض بھی دی اور بعض مواقع پر ضرورت اور بعض مخصوص صحابہ کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے انھیں دیگر علوم سیکھنے کا حکم بھی فرمایا، جیسا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا۔ لہٰذا ہم، جو اپنے رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کی دعوت لے کر اٹھے ہیں تاکہ اپنے رب کو راضی کرسکیں اور اس کی زمین پر اسی کا عطا کردہ نظام نافذ کرسکیں، کیوں کر علم اور تعلیم کی مخالفت کرسکتے ہیں؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ علم وہ ہونا چاہیے کہ جسے اللہ اور اس کے رسول نے علمِ نافع کہا، ایسا علم جو انسان کو اپنے رب سے بے گانہ نہ کردے بلکہ اس کی معرفت عطا کرے، ایسا علم جو فقط دنیا کمانے اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے کا ذریعہ نہ ہو بلکہ وہ دنیا و آخرت کے سنوارنے اور دائمی فوز و فلاح کے حصول کا ذریعہ بنے۔

دورِ حاضر میں عصری تعلیمی ادارے جس نہج پر چل رہے ہیں اور ان سے جو پراڈکٹ برآمد ہورہی ہے، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے دین سے نابلد بلکہ بے زار، مغربیت سے مرعوب اور اسی کے رنگ میں رنگی مادر پدر آزاد یہ مخلوق کم از کم وہ نہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے۔ مذکورہ سکول ان اداروں میں سے ہے کہ جن میں قوم کا اَپر مڈل، اَپر و ایلیٹ طبقہ ہی اپنے بچوں کو بھیجنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ کئی شہروں میں اس کی شاخیں ہیں اور بعض شاخوں کے حوالے سے تو یہ تک مشہور ہے کہ ان میں قدامت پسند گھرانے ہی اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سکول میں عمومی طور پر مخلوط تعلیمی نظام نہیں ہے مگر طرفہ تماشا یہ کہ یہ واقعات لاہور شہر میں موجود اس سکول کی محض طالبات کے لیے مخصوص شاخوں کے حوالے سے ہی سامنے آئے ہیں اور مذکورہ شاخوں کی شہرت بہرحال ویسی ہی ہے جس قسم کی خبریں ان کے بارے میں میڈیا پر اب سامنے آئی ہیں۔ کم و بیش یہی حال تمام جدید تعلیمی اداروں کا ہے۔ یہاں ضمناً یہ بھی عرض کرنا چاہوں گی کہ نجی تعلیمی اداروں میں طالبات کے لیے تو پھر بھی علیحدہ شاخوں کا اہتمام کیا جاتا ہے مگر طلبہ کے لیے یہ انتظام تقریباً ناپید ہے۔ گویا طلبہ کو تو نہ نگاہ کی حفاظت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اختلاطِ مردو زن سے انھیں کوئی خطرہ۔ اور یہی حال پروفیشنل تعلیمی اداروں کا بھی ہے۔

یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کے معیار کا اندازہ معاشرے میں اس ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کے مقام سے لگایا جاتا ہے۔ مذکورہ سکول سے فارغ التحصیل ’نامور‘ طلبہ و طالبات کی فہرست میں بیشتربھانڈ میراثیوں (جنھیں عرف عام میں ایکٹرز، ایکٹریسز اور سنگر کہا جاتا ہے) کی ہے اور بلاشبہ یہ سکول ’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘ کے مصداق ان پر فخر بھی کرتا ہے۔

بہرحال، اس موضوع پر بات کرتے ہوئے سب سے پہلے تو یہ مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اہل دین اور اسلام پسند مسلمانوں کو چھوڑتے ہوئے باقی قوم کا بیشتر حصہ پاکستان کو اسی ڈگر پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے جس کی مثال اس قسم کے فحش واقعات ہیں۔ عورت کی شتر بے مہاری، مردو زن کے اختلاط کی آزادی، جیسے چاہو جیو والا طرز زندگی…… کیا اس قسم کے واقعات کے سوا بھی کچھ نتائج برآمد کرسکتا ہے؟ ان واقعات میں بھی دراصل جس بات کا شورشرابا ہے وہ یہ ہے کہ طالبات کی مرضی اور رضامندی کے خلاف مقدماتِ زنا کا ارتکاب کیا گیا۔ اگر یہی عمل طالبات کی اپنی رضامندی سے ہوتا، اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اکثر اوقات ایسے واقعات دوطرفہ رضامندی کی بنا پر ہی ظہورپذیر ہوتے ہیں، اور بعد ازاں کسی خفگی اور ناراضگی، پسند ناپسند کا معیار بدل جانے، بہتر سے بہتر کی تلاش میں ’تو نہیں اور سہی‘ یا ’حد سے گزر جانے کے اندیشے کے تحت‘ ان کی بازگشت سنائی دینا شروع ہوتی ہے۔ پھر ایسے موضوعات پر دین پسند طبقے کی جانب سے اگر آواز اٹھائی جاتی ہے تو اسے عورت کی آزادی پر قدغن تصور کیا جاتا ہے اور پورے ملک میں اس کے خلاف ایسا واویلا ہوتا ہے کہ اہل دین کو سرچھپانے تک کی جگہ نہیں ملتی۔ آزادیٔ نسواں کے علم برداروں کے یہاں اگر چودہ پندرہ سال کی لڑکی کی شادی اس کے والدین اپنی مرضی سے کردیں تو وہ تو ’حرام‘ ہے، مگر اسی عمر کی لڑکی اگر زنا بالرضا یا مقدمات زنا میں ملوث ہو تو نا صرف یہ کہ اس کی پکڑ نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے پوری پوری (غیر) اخلاقی اور قانونی حمایت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

یہ واقعات طالبات کی مرضی سے رونما ہوئے یا اس کے خلاف، ہر دو صورت میں سب سے پہلی ذمہ داری طالبات کے والدین پر عائد ہوتی ہے؛ بلکہ بقول وفاقی وزیر تعلیم کہ ہمیں تو لڑکوں کے تعلیمی اداروں سے بھی اسی قسم کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں، لہٰذا طلبہ و طالبات کے والدین پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ دیکھیے جب بھی کسی لڑکے یا لڑکی کے ساتھ کوئی فحش اور نازیبا حرکت کی جاتی ہے تو یقیناً بچے کی ذہنی حالت اس سے متاثر ہوتی ہے۔ پھر اگر ایسا عمل بار بار دہرایا جارہا ہو تو یہ ہو نہیں سکتا کہ اس طالب یا طالبہ کی ذہنی یکسوئی متاثر ہونے کی وجہ سے اس کا تعلیمی گراف اور اس کا معاشرتی رویہ یعنی لوگوں کے ساتھ گھلنا ملنا اور اس کا اعتماد متاثر نہ ہو۔ والدین اگر اپنے بچوں کی شخصیت اور ان کے روزمرہ امور کا بغور مشاہدہ کرنے والے ہوں اور انھیں شیر کی آنکھ سے دیکھنے والے ہوں تو اس قسم کی تبدیلی کبھی بھی ان سے چھپی نہیں رہ سکتی۔ والدین کی ذمہ داری صرف اتنی تو نہیں ہے کہ وہ لاکھوں روپیہ خرچ کرکے اپنی اولاد کو ان اداروں کے حوالے کردیں اور خود بے نیاز ہوجائیں۔ جب آپ نے بچے کو ایسے ادارے میں بھیجا جہاں ہر قسم کی غلاظت دیکھنے، سننے اور اس میں عملاً شریک ہونے کی کھلی اجازت ہے، جب آپ نے اسے انٹرنیٹ تک کھلی اور بلا روک ٹوک رسائی دے دی، جب آپ کویہ نہیں معلوم کہ آپ کا بچہ یا بچی کس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے اور اس کے دوست، سہیلیاں اور اساتذہ کس قسم کے ہیں تو اس کے بعد جب آپ کو اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے بچوں اور ان کے سکولوں اور اساتذہ کے بارے میں ایسی خبریں ملیں تو حیران اور پریشان ہونے اور کسی اور کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرانے کا بھی آپ کو حق نہیں پہنچتا۔

پھر اگلی بات یہ کہ مذکورہ اشخاص کئی سال سے اس قسم کی حرکتوں کا ارتکاب کررہے تھے، لہٰذا یہ بات بعید از قیاس ہے کہ سکول کی انتظامیہ ان افراد کے غلیظ کردار اور ان کی نازیبا حرکتوں سے کسی نہ کسی درجے میں واقف نہ ہو۔ بالخصوص تب جبکہ طالبات کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے سکول کی انتظامیہ کو متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر ان کی ایک نہ سنی گئی۔ پاکستان کے نجی تعلیمی ادارے جتنی بھاری بھرکم فیسیں وصول کرتے ہیں تو کیا اس کے بعد ان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ا پنے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور دیگر عملے کے اخلاق و کردار اور افعال کی جانچ پڑتال اور محاسبے کا بھی کوئی مؤثر نظام وضع کریں؟ میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو کی طرح جب آپ کے ادارے کے طلبہ و طالبات تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کریں تو سارا کریڈ ٹ آپ سمیٹ لے جائیں اور جب کوئی سکینڈل سامنے آئے تو اسے طلبہ و طالبات کی ذمہ داری قرار دے کر اس سے بری الذمہ ہوجائیں!!! شرعی نقطۂ نظر کو ایک طرف بھی رکھ دیجیےتو کیا اخلاقاً بھی ان تعلیمی اداروں کے مالکان اور انتظامیہ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟ پھر یہ بات ذہن میں رہے کہ پاکستان کے بیشتر ایلیٹ سکولوں کے مالکان وہی یا ان کے متعلقین ہی ہیں جنھیں ہم حکومتی ایوانوں میں گردش کرتا پاتے ہیں۔ گویا اگر یہ کہا جائے کہ ریاستی سرپرستی میں ہی اس قسم کے گھناؤنے واقعات رونما ہورہے ہیں تو کچھ غلط بھی نہ ہوگا۔

والدین اور سکول کی انتظامیہ اگر ان واقعات کے ذمہ دار ہیں تو طالبات کو بھی اس ذمہ داری سے کلیتاً بری قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تیرہ، چودہ، پندرہ سال کی بچیاں بالغ ہوتی ہیں اور اپنا اچھا برا کم از کم اس حد تک ضرور جانتی ہیں کہ مہذب اور فحش لباس و حرکات میں فرق کرسکیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ سوچ بہت حد تک پختہ ہوچکی ہے کہ عورت چاہے جس حلیے میں بھی گھر سے باہر نکلے، مرد اسے تب تک نظر اٹھا کر نہ دیکھے جب تک وہ خود نہ چاہے۔ یونیفارم پہننے والی طالبات کے سفید یونیفارم صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کی عملی مثال ہیں تو بعض اداروں میں او اور اے لیولز کی طالبات کے لیے تو یونیفارم کی پابندی بھی نہیں ہے۔ لہٰذا جب طالبات ایسے چست، باریک اور نامکمل لباس پہنیں گی اور مرد اساتذہ اور عملے کے سامنے بھی اعتماد کے نام پر اپنی شوخیوں، شرارتوں کا اظہار کریں گی اور پھر سوشل میڈیا پر ہر ایک کے ساتھ بےباک تعلق رکھیں گی تو پھر وہی ہوگا جوہورہا ہے۔ کوئی عورت کتنی ہی لادین کیوں نہ ہو، اللہ رب العزت نے اس کے اندر حیا پیوست کر رکھی ہے۔ بہت سی بے پردہ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا بظاہر دین سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا مگر ان کے لباس اور اندازِ نشست و برخاست میں تہذیب اور شائستگی نمایاں ہوتی ہے اور اسی بنا پر صنف مخالف کا کوئی فرد ان کی طرف دیکھنے تک کی جرأت نہیں کرسکتا۔ یہ کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایسی بے پردگی کی حمایت کرتے ہیں، بلکہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کا وجود ہی حیا سے عبارت ہے، الّا یہ کہ وہ خود اسے کچل ڈالے۔

مذکورہ واقعات میں اساتذہ کی جانب سے طالبات کے خلاف یہ رویہ سامنے آیا، جب کہ تقریباً دو ڈھائی ماہ قبل سوشل میڈیا پر طلبہ و طالبات کی جانب سے اساتذہ کے خلاف میمز 1سامنے آئیں جن میں سے بعض خواتین اساتذہ کی انتہائی ذاتی اور نازیبا تصاویر پر مبنی تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ نہ اساتذہ کے دل و ذہن میں یہ ہے کہ وہ کس پیشے سے وابستہ ہیں، فقط پیسے بنانا اور وقت گزاری کرنا ان کا مقصد ہے اور نہ ہی طلبہ و طالبات حصولِ تعلیم کا مقصد اپنی دنیا و آخرت کی اصلاح سمجھتے ہیں۔ طرفین ایک دوسرے کے اس طرح مدمقابل ہیں گویا ہر دو کا مقام برابر ہے۔ پس اساتذہ اگر پستیوں میں گرے نظر آتے ہیں تو طلبہ و طالبات بھی ان سے پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔ پس یہ جیسے کو تیسا والی بات ہے۔ جیسا ہمارا نظام تعلیم ہے، ویسے ہی تعلیمی ادارے اور ویسے ہی اس میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے والے اور ویسے ہی طلبہ و طالبات۔ جس طرح جمہوریت کے شجر خبیثہ سے صرف شر اور فساد کا کڑوا پھل ہی پیدا ہوسکتا ہے اسی طرح جدید طرز تعلیم سے بھی الحاد اور لادینیت، فحاشی و عریانی کے سوا کیا برآمد ہوسکتا ہے؟

پھر یہ مسائل محض فحش کاری تک ہی محدود نہیں ہیں۔ بالخصوص اس سکول اور بالعموم جدید تعلیمی اداروں کی اگر بات کی جائے، الّا ماشاءاللہ، تو طلبہ و طالبات، خصوصاً طالبات کا نشے کا عادی بن جانا بھی یہاں عام ہے۔ اسی سکول سے اے لیولز کرنے والی ایک طالبہ نے آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا کہ ایل جی ایس گرلز سکول کیمپس کے کامن روم میں اے لیولز کی ہم دو طالبات نماز ادا کررہی تھیں کہ دورانِ نماز ہمیں دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور ساتھ ہی پورے کمرے میں سگریٹ کی شدید بدبو پھیل گئی۔ نماز مکمل کرنے کے بعد پلٹ کر جو دیکھا تو اسی سکول کی تین طالبات بیٹھی ہوئی تھیں، جن میں سے ایک علانیہ سگریٹ پی رہی تھی اور دوسری(کسی نشے کے زیر اثر) تقریباً مدہوش تھی اور گری جاتی تھی۔ طالبات کا سرعام سموکنگ کرنا اور اسی مدہوش حالت میں کلاسز اٹینڈ کرنا کیا اساتذہ اور سکول کی انتظامیہ سے پوشیدہ رہ سکتا ہے؟ اور جب یہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا تو کیا اس قسم کی حرکات اور نشہ آور اشیا کے استعمال پر کسی قسم کے محاسبے کا بھی کوئی نظام ہے؟

ایک طرف تو فحاشی، عریانی اور نشے کی لعنت اور دوسری طرف یہی وہ سکول ہے کہ جب ایک باپردہ خاتون اس سکول میں نوکری کی غرض سے اور باپردہ بچیاں داخلے کے لیے گئیں تو سکول انتظامیہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم پردے والی طالبات اور سٹاف کو اپنے سکول میں جگہ نہیں دیتے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں عوام کی اکثریت الحمدللہ مسلمان ہے، شعائرِ دین سے دشمنی اور دین بےزاری کی اس سے واضح مثال اور کیا ہوگی؟ نیز یہی وہ سکول ہے کہ جہاں چند سال قبل comparative religion پڑھائے جانے کی باتیں بھی سننے کو ملیں۔ ایک طرف آپ اس سکول کی شہرت اور اس میں رونما ہونے والے ان واقعات کو دیکھیں، دوسری جانب دین اور شعائر دین سے ان کی بےزاری ملاحظہ کریں اور تیسری طرف ادیان کا تقابلی مطالعہ پڑھائے جانے کی بات سنیں تو دو جمع دو کا جو واضح نتیجہ نکلتا نظر آتا ہے وہ الحاد پرستی کی ترویج کے سوا اور کچھ نہیں2۔ پھر جیسے ہم نے ذکر کیا کہ اگر بعض شہروں میں موجود اس سکول کی شاخوں کی اخلاقی شہرت اچھی بھی ہے تو بھی نظریے کے لحاظ سے تو سکول کی تمام شاخیں ایک ہی ڈگر پر گامزن ہوں گی۔ لہٰذا قدامت پسند مسلمانوں کے بچے بھی ان سکولوں میں جاکر وہی کچھ سیکھیں گے جو سیکولر اور لادین ذہنیت رکھنے والوں کی اولادیں سیکھیں گی۔ شراب کی بوتل پر زم زم کا لیبل لگادینے سے شراب کی حقیقت تو نہیں بدل جاتی۔

معاملہ خواہ معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کا ہو یا ریپ کے واقعات ، صنفِ نازک کے ساتھ پیش آنے والے نازیبا واقعات ہوں یا لڑکوں کے ساتھ دست درازی…… پوری دنیا میں اس قسم کے واقعات کو اتنی کوریج دی جاتی ہے اور اس قسم کے واقعات کے سدباب کے نام پر ان کی ہر پہلو سے اتنی ترویج کی جاتی ہے (#Me too مہم اس کی ایک مثال ہے) کہ مزید کئی افراد اس تشہیر کے ذریعے ان برائیوں میں ملوث ہونے کی ترغیب سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ بھلا بتائیے تو کہ اشاعتِ فحش اور کس چڑیا کا نام ہے کہ جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہےاور جس کے مرتکب کے لیے ذلیل کردینے والے عذاب کی وعید سنائی ہے؛ اور حقیقت یہ ہے کہ جو اس دنیا میں اللہ کے بندوں کو ذلیل کرتا ہے اس کے لیے ذلیل کردینے والا رسوا کن عذاب ہی مناسب ہے۔

کورونا کی وبا کی وجہ سےلوگوں کی مصروفیات محدود ہوگئی ہیں تو اب ساری قوم وقت گزاری کے لیے انٹرنیٹ پر چڑھی بیٹھی ہے اور بحیثیت مجموعی ہماری قوم کا مزاج تعمیری اور تحقیقی مصروفیات میں مشغول ہونے کا ہے نہیں لہٰذا اب یا تو گھر بھر کی لمحہ لمحہ کی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرنا رہ جاتا ہے یا لاف وگزاف کرنا اور اسے پھیلانا۔ محض ایل جی ایس اور فاسٹ یونیورسٹی ہی کی مثال لی جائے تو خبر آنے کی دیر تھی کہ وہ لوگ جنھیں نہ ان واقعات سے کوئی سروکار ہے اور نہ انھیں اس کی خبر تھی، انٹرنیٹ پر فقط بیٹھ ہی اس لیے رہے ہیں کہ متعلقہ افراد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کریں اور ان کی تشہیر کے ’کارِ خیر‘ میں اپنا حصہ بھی ڈالیں۔

پھر ایک تو وہ لوگ ہیں جو محض لذت اور چسکے کے لیے ان خبروں کی ٹوہ میں لگے ہیں اور دوسرا ایک طبقہ وہ بھی ہے جس کا انٹرنیٹ استعمال کرنے کا واحد مقصد ہی اشاعتِ فحش ہے۔ متعلقہ افراد کا ڈیٹا اور ان کی تصاویر اکٹھی کرنا اور پھر اسے مزید فحش طریقے سے سوشل میڈیا پر پھیلانا اور پہلے سے ہراسگی کا شکار ہونے والوں کو مزید ہراساں اور بلیک میل کرنا ہی ان کا کام ہے۔ پھر کل کو خدانخواستہ اگر انھی متعلقہ افراد میں سے کسی کے ان واقعات کی تشہیر سے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کرنے کی خبر آگئی تو پھر تو بارہ مسالے کی چاٹ مکمل ہوجائے گی اور ایک اور چٹخارے دار موضوع ہاتھ آجائے گا؛ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون۔

یہ تو ان واقعات کے مختلف پہلوؤں کا مختصر سا جائزہ تھا، اصل بات یہ ہے کہ ان کے سدباب اور ان کی اصلاح کے لیے کیا کیا جائے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے اپنے دین اسلام سے اپنا حقیقی تعلق جوڑیں؛ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اٰمِنُوْا3؛ اور جس ایمان اور جس اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اسے حقیقت میں اپنا کردکھائیں۔ اور اسلام کی حقیقت اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کےسوا کچھ نہیں۔ اس دین کو دانتوں سے تھامیں گے تو دنیا و آخرت میں فلاح پائیں گے، بصورتِ دیگر یہ تو ہوسکتا ہے کہ اِس دنیا میں جزوی کامیابی کبھی نہ کبھی کسی درجے میں حاصل ہوہی جائے مگر ابدی فلاح کا حصول بہرحال ناممکن ہی رہے گا۔

اپنے گھروں کے ماحول کو آزاد اور بے باک بنانے کی بجائے اسے اسلام کے ماتحت تہذیب، حیا، اخلاق اور شائستگی کو فروغ دینے والا بنائیں۔ ٹی وی، انٹرنیٹ، اخبارات و رسائل اور اشتہارات کی لعنت نے فحاشی اور عریانی کو اس قدر عام کر دیا ہے اور (ارادتاً یا بلا ارادہ) فحاشی دیکھ دیکھ کر آنکھیں اس کی اتنی عادی ہوگئی ہیں کہ دل و ذہن سے برائی و اچھائی کا فرق ہی مٹتا جارہا ہے، یہاں تک کہ محرم رشتوں کی نگاہیں بھی حیا سے عاری ہوتی جارہی ہیں۔ نتیجتاً دین دار گھرانوں تک میں ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں کہ جہاں نہایت محترم و مقدس سمجھے جانے والے محرم رشتہ دار اپنی ہی بچیوں اور بچوں کی حرمت پامال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہم عصری تعلیم کی ضرورت سے انکار ہرگز نہیں کرتے مگر نظامِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے مروجہ ماحول کی تائید و حمایت بہرحال نہیں کرتے۔ پس اپنے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دلوائیں مگر اس سے پہلے انھیں دین اور حیا کے زیور سے آراستہ کردیں اور ان کے لیے ایسے اداروں کا انتخاب کریں جہاں کا ماحول مخلوط اور مادر پدر آزاد نہ ہواور جہاں سکول کے مالکان اور انتظامیہ اور اساتذہ کسی نہ کسی درجے میں اللہ کے دین پر کاربند ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا ادارہ خوب تر کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو، مگر وہ آپ کے بچے کے دین کی حفاظت کے سلسلے میں شاید زیادہ معاون ثابت ہو۔

نیز والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کے افعال پر، ان کے دوستوں اور سہیلیوں سے ان کے تعلقات پر، انٹرنیٹ پر ان کی مصروفیات پر، ان کی گفتگوؤں کے موضوعات پر، ان کی دل چسپیوں پر اور ان کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ اگر آپ کا بچہ یا بچی نشہ کررہا ہے یا غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے تو آپ کو اس کی گفتگو اور اس کے طور طریقو ں میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔ اس تبدیلی کو نظر انداز نہ کیجیے بلکہ اس کے اسباب تلاش کیجیے۔ نیزاپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیجیے کہ وہ کسی بھی نامناسب واقعے یا بات کا تذکرہ بروقت آپ سے کرسکیں۔

اپنے بچوں کو وقت دیجیے، ان کی بات ان سنی نہ کیجیے بلکہ ان سے باتیں کیجیے اور سنیے کہ وہ کس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور کس طرح کے قصے سناتے ہیں۔ اپنے آپ کو اپنے رب اور قرآن سے جوڑیے، اسلامی تعلیمات سے جوڑیے، ایسے حق پرست حلقوں سے اپنے آپ کو جوڑیے جو آپ کو اپنے رب سے قریب تر کردیں، خود کو ایسی کمیونٹی کا حصہ بنانے کی کوشش کیجیے جو اصلاح کی ان کوششوں میں آپ کا ہاتھ قوی کرنے والی بن جائے۔ اپنے اندر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کیجیے اور اسے اپنی اولاد کے اندر تک اتاریے۔

جن والدین کے بچے ابھی چھوٹے ہیں ان کے ہاتھ میں بہت کچھ ابھی باقی ہے، البتہ جن کے بچے بالغ ہوچکے ہیں انھیں بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ رب العزت کا در ہر ایک کے لیے کھلا ہے، پس محبت اور دل سوزی کے ساتھ ایسے وقت میں نصیحت کہ جب دل نرم ہوا نظر آئے، تعمیری مصروفیات میں انھیں غیر محسوس طریقے سے شامل کرنا، معاشرتی میل جول اور انٹرنیٹ کے استعمال پر کسی نہ کسی درجے میں پابندی اور محاسبہ اور اللہ رب العزت کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا، وہ نکات ہیں کہ جن پر توجہ دینے سے اصلاح کی امید ہے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو، خواہ خواتین ہوں یا مرد، اور ہماری نسلوں کو باحیا اور متقی بنادے اور ہمیں مکمل طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھلنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین۔

سبحانک اللّٰھم وبحمدک نشھد أن لا إلہ إلا أنت نستغفرک ونتوب إلیک!

٭٭٭٭٭


1 memes: وہ پوسٹرز جن میں کسی ایشو یا شخص کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور عموماً ان پوسٹرز کو پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

2 یہ ادیان کا تقابلی مطالعہ بھی میٹرک–انٹر ؍ او–اے لیولز کے طلبہ و طالبات کو پڑھایا جا رہا ہے ، حالانکہ دینِ جدیدیت کے علم بردار غامدی کے بھی بقول بارہ سال(یعنی انٹر لیول تک) تک بچے کو تخصص والے علوم پڑھانا درست نہیں۔

3 سورۃ النساء: ۱۳۶؛ ترجمہ: ’’اے ایمان والو! ایمان لاؤ‘‘……

Previous Post

جنگ، جھوٹ اور ہیش ٹیگز

Next Post

دو پاکستان

Related Posts

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
استعماری تہذیب کے پھندے
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

استعماری تہذیب کے پھندے

1 مئی 2026
گستاخیوں (Blasphemy)  کا بڑھتا رجحان
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

گستاخیوں (Blasphemy) کا بڑھتا رجحان

8 مارچ 2026
نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران

8 مارچ 2026
پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل

15 فروری 2026
پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں

15 فروری 2026
Next Post

دو پاکستان

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version