نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

جنگ، جھوٹ اور ہیش ٹیگز

ایک مختصر مطالعاتی جائزہ

by سیلاب خان میر پوری
in پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!, اگست 2020
0

جون ۲۰۲۰ء میں الجزیرہ انگلش پرفلم ڈائریکٹر’ہشام کبیر چیمہ‘ کی ایک دستاویزی فلم ’War, Lies & Hashtags‘نشر ہوئی ۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ فلم تبصروں اور تجزیوں کا موضوع رہی اور روایتی میڈیا پر بھی اس کی کچھ کچھ باز گشت سنائی دی۔1

اس دستاویزی فلم کو ہم ایک مطالعاتی جائزے کے طور پر لیتے ہیں۔ یہ فلم پاکستان میں اس وقت قائم نظام و اندازِ حکومت کی عکاس ہے؛ وہ حکومت جس کا ایک جزو تو ظاہری طور پر سویلین حکومت ہے جس کا چہرہ ’عمران خان‘ ہے ، جبکہ اس کا اصلی رخ وہ ہے جس کے بارے میں معروف ادیب و مزاح نگار ’انور مقصود‘ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

’’جو نظامِ ملکی چلا رہا ہے، وہ باجوہ ہے……

دکھائی بھی جو نہ دے، نظر بھی جو آ رہا ہے……وہ باجوہ ہے!‘‘

یہ فلم بنیادی طور پر فروری ۲۰۱۹ء میں انڈیا کے پاکستان پر کیے گئے فضائی حملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں اور ٹرینڈز کے حوالے سے ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ اس زمانے میں بیشتر خبریں اور ٹرینڈز من گھڑت تھے، بلکہ جھوٹ اور دجل پر قائم تھے اور آج بھی دیگر تمام معاملات میں بھی حکومت و فوج کو اچھا دکھانے کے لیے اسی طرح کے جھوٹ، دھوکے اور یاوا گوئی کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

اس مطالعاتی جائزے میں ہم درج ذیل نقاط کو مخاطب (address) کرنے کی کوشش کریں گے:

  • سوشل میڈیا کا کردار (ٹرولنگ، جھوٹ، جعلی اکاؤنٹس وغیرہ)

  • سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا سیلز

  • تحریکِ انصاف اور فوج کا گٹھ جوڑ

  • روایتی میڈیا میں موجود افراد کی اصلیت

  • قومی مفاد

  • ضعیف الاعتقادی

  • سازشی نظریات

  • فوج کی چمچہ گیری

اس وقت پاکستان میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جس کے بارے میں اس حکومت کا سربراہ عمران خان خودکہہ چکا ہے کہ ’’پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار، حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں‘‘۔ ابھی چند دن قبل جاری کردہ شیخ رشید کا بیان بہت ہی واضح ہے، جس میں اس نے کہا ’’عمران خان وقت کی ضرورت ہے ، پاک فوج، پاک فوج کے ادارے…… جمہوریت کے لیے، سربلندی کے لیے اس سسٹم کے ساتھ کھڑے ہیں‘‘۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں بھلے یہ بات اب دہرائیں یا نہ دہرائیں لیکن یہ حقیقت ہر چڑھتے سورج کے ساتھ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ شاید تاریخ کی بدترین دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت قائم ہوئی، بلکہ شاید دھاندلی کی ضرورت بھی اس بار پیش نہ آئی ، سیدھا سیدھا ’سلیکٹ‘ کر لیا گیا اور ’منتخب ‘ نمائندوں، وزیروں سے لے کر ٹیکنوکریٹ و فوجی وزیروں اور مشیروں تک سب ہی باجوہ ڈاکٹرائن کا حصہ ہیں۔

اس فلم کا مرکزی کردار فرحان وِرک ہے، جو پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہے، سیالکوٹ سے اس کا تعلق ہے اور اس دستاویزی فلم میں سپورٹنگ کیرکٹر اس کی بیوی کا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ رہے ہیں، بلکہ ان کی اپنی اصطلاح میں ان کو ٹرول ؍ troll (لفظی مطلب’ چکر باز‘) یا spammer کہنا زیادہ بہتر ہو گا۔ فرحان وِرک ٹوئٹر پر اپنے ابلاغی مقاصد کے لیے ایک ٹیم رکھتا تھا جس کا نام ’ٹیم آئی کے ‘2 تھا اور اس کی بیوی ’ٹیم گرین‘ کے نام سے کام کرتی تھی۔ بقول ان کے اپنے ان کی ٹیم میں سو سے ڈیڑھ سو فعال سوشل میڈیا کارکنان کام کرتےتھے۔

دینی و شرعی نقطۂ نظر کے سوا دیکھا جائے تو دنیا کے بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق سوشل میڈیا ایک ایسی چیز ہو سکتی تھی جس کا معاشرے پر مثبت اثر پڑتا اور لوگوں تک معلومات زیادہ خالص صورت میں پہنچ پاتیں(کسی درجے میں یہ بات اب بھی درست ہے)۔ لیکن یہ حقیقت اب ہر سطح پر واضح ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا بھی اسی کارپوریٹ دنیا کا اہم حصہ اور محض پراپیگنڈا کا ایک آلہ ہے۔ اس میں سب سے اہم اعتراف ’سوشل میڈیا دیو (social media giant)‘، فیس بک کے مالک ’مارک زکر برگ‘ کا ہے جس نے تقریباً تین سال پہلے فیس بک کے صارفین سے اس بات پر معافی مانگی تھی کہ ’فیس بک پر چلنے والے ٹرینڈز قدرتی نہیں تھے، بلکہ فیس بک انتظامیہ کے خیال میں جن ٹرینڈز کو ٹاپ ٹرینڈز ہونا چاہیے تھا، ان ٹرینڈز یا عنوانات کو ٹاپ ٹرینڈ دکھایا جاتا تھا‘3۔

یہ فلم واضح کرتی ہے کہ ریاستی اداروں، فوج اور حکومت سے لے کر اس فوج کی چمچہ گیری کرنے والوں تک، سب ہی لوگوں کے یہاں ایک نام نہاد ’قومی مفاد‘ ہے، جس کی خاطر ’ظلمت کو ضیا‘، ’صر صر کو صبا‘ اور ’بندے کو خدا‘ کہنا سب جائز ہے۔ جب فروری ۲۰۱۹ء میں انڈین ائیر فورس نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر حملہ کیا تو فرحان ورک یہ ٹرینڈ چلاتا رہا کہ ’ہندوستان نے نہایت بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے (حالانکہ انڈین ائیر فورس کے جہازوں نے تقریباً پاکستانی حدود میں اکیاسی (۸۱) کلومیٹر تک اندر داخل ہو کر بم گرا ئے4) ہماری شجر کاری مہم کو نشانہ بنایا ہے اور یہ صوبہ خیبر پختونخوا کی تحصیل بالاکوٹ پر حملہ نہیں کیا گیا بلکہ بارڈر کے ایک چھوٹے سے گاؤں بالاکوٹ پر بمباری کی گئی ہے‘۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس تھی۔ اس خبر کے علاوہ سیکڑوں اور جھوٹی باتیں ہیں جو اس قسم کے لوگ چلاتے رہے۔یہ شخص اس بات پر فخر کرتا ہے (بالکل جس طرح پاکستانی جرنیل اپنے حلف نامے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت اور پارٹیاں بنانے اور توڑنے پر فخرکرتے ہیں)کہ مجھے troll یا چکر باز سمجھا جاتا ہے۔ یہ شخص سوشل میڈیا پر خبروں اور حالات کو ’قومی مفاد‘ کے تحت ہیر پھیر کر پیش کرنے اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنے کے متعلق کہتا ہے:

’’میرا نظریہ ’قومی مفاد‘ ہے۔ میرا خیال ہے کہ جہاں قومی مفاد سامنے آ جائے تو وہ ہر چیز سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے اور قومی مفاد کے تحفظ میں اگر آپ کوئی ایسی بات کر جاتے ہیں جو کہ ’سچ نہ بھی ہو‘، لیکن لوگوں کو ایک مثبت انداز میں متاثر کرتی ہو تو میں اسے پراپیگنڈا نہیں گردانتا!‘‘

جب کہ پراپیگنڈا کی تو ایک تعریف ہی یہ ہے کہ ’معلومات کا ایسا ہیر پھیر جس سے وہ عوامی رائے پر اثر انداز ہوسکے‘، خواہ مثبت طریقے سے ہو یا منفی طریقے سے۔ دروغ گوئی اور دھوکہ بازی کی انتہا یہ ہے کہ فرحان ورک کو اپنے والد سے بات کرتے دکھایا جاتا ہے جس میں وہ صاحب استفہامیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ واقعی یہ بالاکوٹ کوئی گاؤں ہے؟ اور جواباً فرحان ورک اپنے والد صاحب کو بھی اسی ڈھیٹ پنے کے ساتھ اوپر بیان کردہ بالاکوٹی چورن بیچ دیتا ہے۔

فرحان ورک کی بیوی بھی بالکل اسی طرح کی سوچ رکھتی ہے اور اس کی ٹیم گرین جو ٹرینڈز چلاتی رہی ہے ،جو جو جھوٹ پھیلاتی رہی ہے ، انڈیا کے بارے میں جو پراپیگنڈا کرتی رہی ہے اور پاک فوج کے بارے میں حقیقت کے برعکس بلند و بانگ دعوے سوشل میڈیا پر چلاتی رہی ، یہ اس پر فخر کرتی ہے۔ کہتی ہے:

’’لوگ ہمیںarmy troll سمجھتے ہیں جبکہ ہم نہیں ہیں، مگر ہمارے لیے آرمی کے troll کہلانا بڑے فخر کی بات ہے۔‘‘

پھر اپنے جھوٹ بولنے کے متعلق کہتی ہے:

’’(ہم ہر قسم کے میڈیا پر) اتنا جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ سچ لگنے لگتا ہے……‘‘

آج یہی جھوٹ بولنے، چلانے اور اس پر فخر کرنے والی عورت مین سٹریم میڈیا کا حصہ ہے، دھندا وہی ہے بس سٹیج بدل گیاہے اور یہی پاکستان کے مین سٹریم میڈیا کی حقیقت ہے جو باجوہ ڈاکٹرائن کے مطابق چل رہا ہے۔ باجوہ حکومت میں میڈیا کی آزادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے زمانے میں جن صحافیوں کو آزادیٔ اظہار کی اجازت تھی آج وہ بھی میڈیا پر نہیں آ سکتے؛ طلعت حسین، مطیع اللہ جان، رؤف کلاسرا، نصرت جاوید سے لے کر مبشر لقمان جیسوں کو بھی بات کی اجازت نہیں!

جس طرح ماضی میں جنگوں کے لیےپاک فوج گانے اور ڈرامے بناتی تھی، آج اس کام کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم انتہائی دکھ سے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ سنہ ۴۸ء، ۶۵ء، ۷۱ء اور ۹۹ء کی جنگوں اور نشانِ حیدروں کا جو غوغا ہم سنتے ہیں وہ بس منہ کے فائر ہی ہیں ، کل تک میڈم نور جہاں کے سُر اس فوج کاسرمایہ تھے جبکہ آج نیلم منیر کے رقص، عامر لیاقت کے ڈرامے (خبری بھی اور فلمی بھی)، ڈی جے آئی ایس پی آر کی پرفارمنس اور فرحان ورکوں کے’چکر‘ سے اپنی ہی قوم کو دھوکہ دیا جا رہے ۔

فرحان ورک نے اپنے سوشل میڈیا کیرئیر کا آغاز ’ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب‘ کے ایک جعلی اکاؤنٹ سے کیا۔ اس اکاؤنٹ سے بھی جھوٹ، دھمکیاں اور جعلی سوشل میڈیا ٹرینڈز چلائے جاتے تھے۔ جعلی اکاؤنٹس کا ایسا دھندا تھا کہ فرحان ورک نے اپنی بیوی کو نکاح کے موقع پر تحفے میں ٹوئٹر کا ایک اکاؤنٹ تحفے میں دیا جس پر ’دو لاکھ‘ فالوورز تھے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے جانتے ہیں پاکستان میں ٹوئٹر پر دو لاکھ فالوورز بہت بڑی چیز ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کے استعمال کرنے والوں کی بیشتر تعداد فیس بک سے منسلک ہوتی ہے ۔ پاکستان میں فیس بک و ٹوئٹر کا تناسب ہمارے اندازے کے مطابق ’بیس‘ اور ’دو‘ کا ہے۔

یہی فرحان ورک رسماً بھی تحریکِ انصاف کے اسلام آباد کے ایک سوشل میڈیا سیل کا رکن رہا ہے اور اس سب میں شریک رہا ہے جو کچھ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سیلز اور اکاؤنٹس کی طرف منسوب تھا اور ہے یعنی عریاں زبان، انتہا درجے کی بد اخلاقی، گالم گلوچ اور جعلی طریقے سے مخالفین کے اکاؤنٹس کو رپورٹ کروا کر بلاک کرنا۔ کسی خاص طبقے یا سیاسی مکتب فکر کو اٹھانا یا گرانا ہو، کسی کی عزت اچھالنی ہو یا اسے آسمان کی بلندیوں پر پہنچانا ہو، کسی کو نیک نام اور مخلص اور وفادار ثابت کرنا ہو یا نیک ناموں کی بدنامی اور انہیں ذلیل کرنا مقصود ہو، عوام کی رائے کو کسی خاص طرف مبذول کرانا ہو یا کسی اہم موضوع سے ان کی توجہ ہٹانا، اس سب کے لیے میڈیا سے بہتر کوئی ہتھیار شاید آج موجود نہیں ہے اور متبادل میڈیا (alternate media) بصورتِ سوشل میڈیا اس میں بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔

فرحان ورک صرف ٹوئٹر پر ٹرولنگ، بہتان بازی، سپیمنگ، کذب گوئی وغیرہ نہیں کرتا بلکہ اسی جھوٹ و دھوکے کے ذریعے کمائی کے لیے یوٹیوب کو بھی استعمال کرتا ہے۔ یوٹیوب پر اس کا کام خالصتاً سازشی نظریات (conspiracy theories) پھیلانا ہے اور اس کام کے لیے یہ اپنے لیے رول ماڈل دو مشہور امریکیوں الیکس جونز (Alex Jones) اور سٹیو بینن (Steve Bannon) کو بتاتا ہے۔ الیکس جونز اور سٹیو بینن دونوں مشہورِ زمانہ سازشی نظریاتی یا conspiracy theorists ہیں۔ الیکس جونز اب تک سیکڑوں سازشی نظریات تخلیق کر کے عوام و خواص کو گمراہ کر چکا ہے۔ جبکہ سٹیو بینن کے لیے یہی بات کافی ہے کہ یہ ۲۰۱۶ء میں ٹرمپ کی صدارتی مہم کا سربراہ رہاہے۔ سیاہ کو سفید دکھانے کا ملکہ رکھنے والے سٹیو بینن کی صدارتی مہم میں مہارت اور ٹرمپ کی نتیجتاً کامیابی دیکھتے ہوئے، ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد سٹیو بینن کے لیے ایک نیا عہدہ اور ایک نیا محکمہ وائٹ ہاؤس میں کھولا اور اس کو ’وائٹ ہاؤس کے امورِ حکمتِ عملی کا مرکزی سربراہ (White House Chief Strategist)‘ بنا دیا5۔

سٹیو بینن وغیرہ کا تعلق (بلکہ ٹرمپ کا بھی) امریکی ’آلٹ–رائٹ (Alt-Rights)‘ سے ہے جسے سادہ سا سمجھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ دائیں بازو کے شدت پسند نظریات رکھتے ہیں جن میں ایک نظریہ گورے رنگ کی بنیاد پر افضلیت کا قائل ہونا ہے (White Supremacism)۔ سٹیو بینن کا ذکر کر کے فرحان ورک کہتا ہے کہ :

’’میں (خود) کو پاکستانی آلٹ–رائٹ کہتا ہوں لیکن اس کا امریکی آلٹ–رائٹ سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

پاکستان پر قابض موجودہ پاکستانی آلٹ –رائٹ جس کا دائیں اور بائیں سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ یہاں بلڈی سویلین کا تصور پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں نظریے وغیرہ کے پیچھے جائے بغیر مختصراً یہی سمجھنا کافی ہے کہ پاکستانی فوج جس چیز میں ریاست کی بقا گردانتی ہے اس کے پرچارک فرحان ورک اور ریاستی انٹیلی جنس اداروں کے ’لگائے‘ گئے لوگ ہیں جن کی رسماً تعداد ہمارے ذرائع کے مطابق ایک ہزار سے زائد ہے۔ یہ وہ ملٹری الائنس ہے جو کبھی مذہبی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہوتی ہے اور آج کل عمران خان اس الائنس کا حصہ ہے۔

اسی فلم میں فرحان ورک کو پاک فوج کے حق میں نکالے جانے والی ایک ریلی میں شامل دکھایا جاتا ہے۔ اس ریلی میں شرکت کرنے والی مخلوق ویسی ہی ہے جیسی عمران خان کے جلسوں میں عموماً دکھائی دیتی تھی۔ یہ مخصوص حلیوں اور مخصوص ذہنوں اور ڈرائنگ روم پالیٹکس کے مزاج والی مخلوق ’پاکستان کا مطلب کیا…… لاالٰہ الا اللہ!‘ کے نعرے لگا رہی ہے۔ فرحان ورک کہتا ہے کہ ’یہ سوشل میڈیا وار فیئر کا زمانہ ہے اور میرے خیال میں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ وجود پاک فوج کا ہونا چاہیے‘(اور حقیقتاً یہ ہے بھی)۔ اسی مظاہرے میں وفاقی وزیر عالمگیر خان اور ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقات بھی آن وارد ہوتے ہیں اور حمزہ شفقات اسلام آباد میں دس لاکھ درخت لگانے کے عمران خانی دعوے اور ہدایت کا ٹوئٹر پر پرچار کرنے کا فرحان ورک کو کہتا ہے۔ فرحان ورک جہانگیر ترین اور عثمان ڈار جیسے لوگوں کا سوشل میڈیا کے میدان میں معاون رہا ہے۔

فرحان ورک بھی مذہبی معاملات میں ضعیف الاعتقادی کا مظہر اسی طرح ہے جس طرح افواجِ پاکستان، عمران خان اور باقی حکومت ، سیاست دان و بیوروکریٹ ہیں۔ عجیب بات ہے کہ فرحان ورک کہتا ہے کہ ’بابا بری امام کی طرف سے مجھے خواب میں اشارہ دیا گیا تھا کہ تم سوشل میڈیا کا کام کرو اور جب بھی مجھے اس کام میں کوئی مشکل پیش آتی ہے یا میں ڈپریس محسوس کرتا ہوں تو بری امام کی درگاہ پر حاضری دیتا ہوں‘۔ پھر فرحان ورک بری امام اور ایک اور صاحبِ قبر کے مزار کے سامنے رکوع کی سی ہیئت بنا لیتا ہے اور ایک کی قبر کا بوسہ لیتا ہے جبکہ دوسرے کی قبر کا فرش چومتا ہے۔ یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ پاکستانی حکمرانوں کے اعتقادات کی تاریخ یہی رہی ہے 6، ایوب خان کی توہم پرستی اور عید کے جمعے کے دن ہونے کا چکر معروف ہے؛ بھٹو اور اس کی بیٹی بے نظیر کی مزاروں پر حاضریاں، امام ضامن، پیروں سے جھاڑوئیں مروانا؛ نواز شریف و شہباز شریف کا داتا دربار و دیگر جگہوں پر منتیں ماننا؛ زرداری کے دور میں اسلام آباد میں کالے بکروں کا ناپید ہو جانا اور مستقل ایک جادوگر پیر ایوانِ صدر میں ہی رکھ لینا؛ اور اب کے عمران خان کی جادوگر پیرنی بیوی کے مشاغل، عمران خان کا عقیق پہننا اور بابا فرید کے مزار پر جا کر سجدہ کرنا…… یہ سب اس کی مثالیں ہیں۔ یہ چور اچکوں، ڈاکوؤں، جھوٹوں، نو سربازوں اور فراڈیوں کا ٹولہ عمران خان و باجوہ سے عام درجے کے ’ٹشوپیپر‘ کے طور پر استعمال ہونے والے فرحان ورک اور سیکڑوں اور جوانوں تک ایک ہی کہانی ہے۔

فرحان ورک کا مقصد بھی وہی ہے جو عمران خان کا ہے، جو مقصد ِ اقتدار باجوہ کا ہے ۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ یہ شخص جو خود کو جھوٹا اور دھوکہ باز بیان کرتا ہے اور اس پر کچھ شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتا اپنے مستقبل کے عزائم کے بارے میں کہتا ہے کہ :

’’(چونکہ سوشل میڈیا سے کما حقہ پیسہ کمانا میرے بس میں نہیں لہٰذا) مجھے اب یہی کرنا پڑے گا کہ میں (حکومت کے) تمام منسٹروں (وزیروں)کو انکار کروں (کہ میں ان کی بلامعاوضہ خدمت نہیں کرسکتا) اور اپنے پیشے (ڈاکٹری) سے پیسہ بناؤں اور پھر خود الیکشن لڑوں (اور ملکی سیاست میں آؤں)۔‘‘

اس کی اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس جمہوری سیاست میں شریک پیادے سے سوار اور بادشاہ تک ؛ لوگ کتنے ’صادق‘ اور ’امین‘ ہوتے ہیں اور وہ ’قومی مفاد‘ کے نام پر کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ دجال کے خروج کا زمانہ قریب آلگا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ماقبل تمام انبیائے کرام﷩ نے بھی اپنی اپنی قوم کو اس فتنے سے ڈرایا اور ہم تو وہ ہیں جو اب بالکل آخری دور میں پہنچ چکے ہیں۔ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مفہوم کے مطابق دجال جس کو جہنم دکھلائے گا وہ دراصل جنت اور جسے جنت دکھلائے گا وہ دراصل آگ ہوگی، یہ آج سے پہلے کہاں اتنی وضاحت سے سمجھ آسکتا تھا؟ یہ میڈیا ہمیں جو دکھاتا ہے ہم اسی پر یقین کرتے ہیں، یہ ہمیں جس سمت ہانکتا ہے ہم اسی طرف ہی ہنکائے جاتے ہیں خواہ اہلِ حق علما اور اہل حق مجاہدین ہمیں پکارتے رہ جائیں کہ اے اللہ کے بندو! حق کی طرف آؤ، رب کی فلاح اور اس کی جنت کی طرف آؤ، دائمی کامیابی اور رب کی ابدی رضا کی جانب لپکو!!!

اس فلم کے ڈائریکٹر ہشام چیمہ نے کہا:

’’میرا مقصد فرحان ورک کو ہیرو یا ولن کے طور پر دکھانا نہیں…… بلکہ میں اس کی زندگی کے حقائق لوگوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ لوگ اس بات کا فیصلہ خود کریں (کہ فرحان ورک ہیرو ہے یا ولن؟)۔‘‘

اس فلم پر یہ مختصر مطالعاتی جائزہ موجودہ نظام کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے لکھا اور مرتب کیا گیا ہے۔ فرحان ورک تو محض ایک کردار ہے اور اس نظامِ باطل کی بساط کا ایک چھوٹا سا مہرہ ۔ ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!‘ کا نعرہ لگانے والوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اس نظام اور اس نظام کو چلانے والے فوجی اور سویلین چہروں کی اصلیت پہچانیں ۔ پس ہم پر لازم ہے کہ ہم قرآن کو اپنا دستور ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی اپنا ہادی و رہبر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو اپنا منہج و طریق سمجھیں اور قرآن و حدیث کی حقیقی پیروی کرنے والے اہل حق کی مددو نصرت کریں، ان کے ہاتھ مضبوط کریں، ان کے پشت پناہ بنیں اور یوں امت مسلمہ کی فلاح میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔


1 بنیادی طور پر سوشل میڈیا پر جو بھی زبان استعمال کی جاتی ہے اس میں انگریزی کی آمیزش حد درجہ زیادہ ہے۔ پاکستان میں ’اُردِش‘ استعمال ہوتی ہے تو عالَمِ عرب میں استعمال کی جانے والی زبان ’عَربِش‘ ہے۔ اس لیے اس تحریر میں انگریزی کے متعدد الفاظ و اصطلاحات استعمال کیے گئے ہیں۔ خالص زبان بولنے والے اور اردو دان طبقے کی سہولت کے لیے بعض الفاظ و اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، البتہ بہر صورت ہم اپنی ’اُردش‘ پر معذرت خواہ ہیں۔

2 TeamIK یعنی ٹیم عمران خان۔

3 قدرتی ٹرینڈ اس کو کہتے ہیں جہاں لوگ خود کسی موضوع پر زیادہ بات کر رہے ہوں، جبکہ فیس بک انتظامیہ پیسوں اور حکومتی و انٹیلی جنس مقاصد کے لیے خود سے کسی ایسے موضوع کو ٹاپ ٹرینڈ دکھاتی تھی جو اصلاً ٹرینڈ نہیں کر رہا ہوتا تھا(اور معافی کے بعد اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اب نہیں کرتی)۔

4ہم ہندوستان کے اس حملے پر خوش نہیں ہو رہے، بلکہ ہم ہی تو اصلاً ہندوستان اور اس کے مفادات کے دشمن ہیں اور ہم ہی اس لشکرکے سپاہی ہیں جس نے غزوۂ ہند کی صورت میں ہندوستان کو تاراج کرنا ہے۔ یہاں صرف ایک حقیقت ؍ fact واضح کرنا مقصود ہے، ہاں افواجِ پاکستان کی بے خبری اور کم ہمتی کی بات ہم ضرورت کرتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ ہم ہی پاکستان کے اصل محافظ ہیں جو زمینی سرحداتِ پاکستان سے پہلے نظریاتی سرحداتِ پاکستان (پاکستان کا مطلب کیا…… لا الٰہ الا اللہ!) کی حفاظت کو اہم تر خیال کرتے ہیں۔

5 ٹرمپ اور عمران خان میں بہت کچھ مشترک ہے، جس میں سے ایک اپنے چاپلوسوں اور ٹٹ پونجیوں کوعہدے دینا بلکہ ان کے لیے نئے نئے محکمے بنانا بھی شامل ہے۔ ٹرمپ کے یہاں کی مثال بینن، اس کی بیٹی ایوانکا اور اس کا داماد جیرڈ ہیں، لیکن امریکہ میں پھر بھی کچھ اصول ہیں، ہمارے پاکستان، جس کو بے اصولیوں کا مرکز بنا دیا گیا ہے میں یہ تعداد بیسیوں میں ہے، جس میں چند ناموں میں جہانگیر ترین(گو کہ اس کی گُڈی اتر چکی ہے)، زلفی بخاری، ندیم بابر، ثانیہ نشتر ہیں۔

6 ان کا اسلام کے خلاف جنگ کرنا اور غیر اللہ کے قانون کو نافذ کرنا جیسی کفریاتِ بواح کو بیان کرنے کا یہ مقام نہیں ورنہ اصل امر تو یہی ہے۔

Previous Post

میدانِ بدر سے سری نگر تک…… ایک پکار، ایک جنگ!

Next Post

ایل جی ایس واقعات…… علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی!

Related Posts

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
استعماری تہذیب کے پھندے
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

استعماری تہذیب کے پھندے

1 مئی 2026
گستاخیوں (Blasphemy)  کا بڑھتا رجحان
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

گستاخیوں (Blasphemy) کا بڑھتا رجحان

8 مارچ 2026
نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران

8 مارچ 2026
پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل

15 فروری 2026
پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں

15 فروری 2026
Next Post

ایل جی ایس واقعات…… علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version