رات کے تقریباً ساڑھے دس بج چکے تھے۔ ہم نے دعوت کھا کر اپنے رشتے دار میزبان سے اجازت لی اور گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ گھر تقریباً آدھے گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ بارش بہت تیز برس رہی تھی، گرمیوں کی بارش اکثر تیز ہوا کرتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح گاڑی والد صاحب ڈرائیو کر رہے تھے اور میں ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ہمارے علاقے میں رواج سا ہے کہ گاڑی بڑے ہی چلاتے ہیں، ہاں جب بڑے بہت بڑے (بوڑھے ) ہوجائیں تو پھر وہ یہ سیٹ چھوڑ دیتے ہیں۔


میں بھی بہت عرصے بعد گھر چھٹیوں پر گیا ہوا تھا۔ والد صاحب بھی بہت عرصے بعد رات کے اس وقت سفر کر رہے تھے کہ پاکستان میں اور خصوصاً ہمارے علاقے میں جہاں ہر طرف فوج تھی اب امن کی وہ حالت نہیں تھی جو کبھی ہوا کرتی تھی ، اس لیے ہم علاقے کے رات کے وقت کے سکیورٹی انتظامات سے مکمل واقف نہیں تھے۔ اوپر سے تیز موسلا دھار بارش کہ صحیح سے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں والد صاحب نے ایک عارضی سی چیک پوسٹ کو کراس کیا، جس کی سڑک پر کوئی نشانی وغیرہ موجود نہیں تھی ؛ بس ایک فوجی اہلکار سڑک کے کنارے کھڑا تھا ۔ فوجی اہلکار نے ٹارچ سے لائٹ ماری اور والد صاحب نے گاڑی فوراً روک دی ۔ گیئر شافٹ کو ریورس (reverse) ،میں ڈالا اور پیچھے ہونے لگے ۔اہلکارکے قریب جاکر گاڑی روک دی۔ گاڑی چیک پوسٹ کوئی دس قدم بھی آگے نہیں گئی تھی کہ واپس ہوگئی۔
یہاں سے پاک فوج کے ساتھ ایک سول پاکستانی اور ایک فوجی پاکستانی کا معاملہ شروع ہوتا ہے۔ ڈیوٹی پر مامور اہلکار لانس نائیک رینک کا تھا۔ اس نے ڈرائیور سیٹ کی طرف آکر والد صاحب کو ایسے تیز آواز میں ڈانٹنا شروع کردیا جیسا کہ فوج میں کوئی سینئر اپنے جونیئر کو ڈانٹتا ہے۔ مجھے آج بھی اس فوجی کے الفاظ صحیح طرح یاد ہیں۔ سب سے پہلے اس نے چیخ کر کہا:
’’اندھے ہو کیا؟
نظر نہیں آرہا تمہیں کہ یہ چیک پوسٹ ہے؟
اتار کے کان پکڑ واؤ ں تمہیں؟‘‘
والد صاحب نے جواب دیا :
’’بھائی بارش ہے نظر نہیں آیا اور یہاں کون سی ایسی نشانی ہے کہ یہ چیک پوسٹ معلوم ہو؟ اور تو اور جب آپ نے لائٹ آن کی ، ٹارچ ماری تو ہم رکے اور حاضر ہوگئے۔‘‘
نائیک صاحب کو جب سویلین کی طرف سے جواب ملا تو وہ اور آگ بگولہ ہوگئے۔ کہنے لگے:
’’غلطی اور اوپر سے reasoning (حجت بازی) بھی کر رہے ہو……وہ بھی ایک فوجی کے ساتھ…… تمہاری یہ اوقات……‘‘
مجھے والد صاحب نے بہت پہلے سے منع کر رکھا تھا کہ اپنا سروس کارڈ، سروس کے علاقوں سے باہر کبھی کسی کو نہیں دکھانا اور سروس علاقے سے سروس یونیفارم میں بھی نہیں نکلنا، حالات ٹھیک نہیں ۔ بہرحال یہ معاملہ میرے لیے اتنا سنگین تھا کہ مجھ سے رہا نہیں گیا اور کسی بھی پاکستانی ، کسی بھی مسلمان کے سامنے اس کے والد کے ساتھ ایسا سلوک ،ایسا رویہ رکھا جائے، اس کی اولاد کیسے برداشت کر سکتی ہے؟
میں نے اہلکار کو اپنی طرف بلایا۔ سروس کارڈ دکھایا اور اپنا تعارف کروایا۔ بس یہاں سے دوسری قسم کا رویہ شروع ہو گیا۔ لانس نائیک نے زوردار سیلوٹ جھاڑا اور:
’’سر ! Sorry۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ سروس پرسنیل(Service Personnel) ہیں…… آپ پ پ پپ……سر آپ جاسکتے ہیں……میں نے تھوڑا ڈانٹا بھی ……‘‘
آخر ہم بھی ان ہی میں سے تھے ، تو میں بھی برس پڑا:
’’تمہیں تمیز نہیں ہے بڑوں سے کیسے بات کرتے ہیں؟‘‘
لیکن والد صاحب نے جلدی سے درمیان میں آکر اس کی جان بخشی کرادی اور ہم گھر کی طرف چل دیے۔ ایک گاڑی میں دو پاکستانیوں کے ساتھ دو مختلف رویے ۔ خیر اس وقت میں نے اس طرف اتنا دھیان نہیں دیا، ظاہر سی بات ہے کون اس بات سے خوش نہیں ہوتا کہ اس کو privilege دیا جائے۔
لیکن ان دو پاکستانیوں کے ساتھ کیا گیا الگ ا الگ سلوک تب میری سمجھ میں آیا جب ایک کرنل صاحب کی اہلیہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر مشہور ہوئی ۔ خبر ملی کہ ایک لیفٹیننٹ کرنل کی بیوی نے ہزارہ ایکسپریس وے پر ایک سی پیک کے پولیس اہلکار اور سابقہ نائب صوبیدار کی کسی روڈ بیرئیر پر بہت بے عزتی کی ہے اور یہ سب کچھ اس نے اس لیے کیا کہ اس کے مطابق وہ کرنل کی بیوی ہے۔ جی ہاں لیفٹیننٹ کرنل فاروق ایف ایف کی بیوی۔ جس پولیس اہلکار کی بے عزتی ہورہی ہے وہ کچھ نہیں کر رہا، یہاں تک کہ جب کرنل کی اہلیہ یہ سب کچھ ( بیرئیر ہٹانا وغیرہ) کر رہی ہوتی ہے تب (اتفاق سے)دیانت دار پولیس اہلکار کہتا ہے میں آپ کو ہاتھ نہیں لگا سکتا آپ غیر محرم ہیں جبکہ دوسری طرف کرنل صاحب کی بیوی گالیاں دینے تک سے گریز نہیں کرتی ۔خاتون ِ کرنل یہ سب کچھ کر کے نکل جاتی ہے صحیح سلامت اور دوسری طرف عوام کی گاڑیوں کی لائن لگی ہے اس انتظار میں کہ کب ایکسپریس وےپر ان بلڈی سویلینز( فوج کے مطابق) کو اجازت ملے گی اور یہ جائیں گے۔ ایکسپریس وے ، پولیس اہلکار اور کرنل کی بیوی کا یہ واقعہ پڑھنے کے بعد آئیے ایک اور پاکستانی خاتون کا حال ایک اورہائی وے پر پولیس والوں کے ساتھ ملاحظہ کرتے ہیں۔
ساہیوال کا علاقہ ۔ ہائی وے پر گاڑی کھڑی ہے۔ آگے دو مرد گولیاں لگنے کی وجہ سے خون میں رنگے ہوئے اس دنیا سے کوچ کرگئے ہیں۔ پچھلی سیٹ پر ایک خاتون جس کو پتہ نہیں کیوں کچھ بہادر پولیس والوں نے اپنی گولیوں کا نشانہ بنا کر انتہائی بے دردی کے ساتھ شہید کیا ہے۔
یہ عام شہری نہتے ہیں، غیر مسلح ہیں، پاکستان کے وسط میں ہیں ، بھاگیں گے بھی تو کہاں ؟ نہ انہیں روکا، نہ انہیں پوچھا، نہ ہی معصوم بچوں اور خاتون کا خیال رکھا……بس گولیوں کی بوچھاڑ ! کیوں ؟ وہاں بھی ایک خاتو ن تھی ، لیکن یہ رویہ کیوں ؟اس لیے کیونکہ یہ دوسرا پاکستان ہے۔
ایک پاکستان ان کا ہے جس میں صفائی اور سہولیات سے آراستہ جدید قسم کے رہائشی علاقے ہیں، اچھے سٹینڈرڈ کے سکول و کالج ہیں، یونیور سٹیاں اور معیاری ہسپتال ہیں، اچھی سڑکیں اور پختہ گلیاں ہیں، ہوائی جہاز اور ریل گاڑی کے واؤچرز ہیں، جم خانوں کی فری ممبر شپیں ہیں، مکان ہیں ، پلاٹ ہیں، اچھا کیرئیر اور روشن مستقبل ہے، پنشن ہے اور سب سے بڑھ کر دوسرے پاکستان والوں پر حاکمیت ، فوقیت اور برتری ہے۔ یہاں تک کہ اس پاکستان میں کوئی قانون کی دھجیا ں اڑا دے تو بھی مسئلہ نہیں ہے (کرنل کی اہلیہ ہی کو دیکھ لیجیے اور یہ بھی کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے )، یہاں تک کہ آئین سے بھی کوئی غداری کرے ، اس پر ثابت ہوجائے ، اسے سزا بھی سنا دی جائے تب بھی وہ محفوظ ہے، کسی مائی کے لال میں جرأت نہیں کہ مشرف کا بال بھی بیکا کر سکے۔ اسے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ پہلے پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔
جہاں تک دوسرے پاکستان کی بات ہے تو وہ میں کیا بیان کروں بس دوسرے پاکستان کے شہریوں کو خود ہی احساس کرنا چاہیے کہ ان کا کیا حال ہے ۔ وہ اگر اس ملک کے لیے ایٹم بم بھی بنادیں تب بھی بے چارے غدّار کہلائیں گے اور پابندی کی زندگی گزاریں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر پاکستانی اس حالت سے نکلنے کے لیے سنجیدگی سے غور و فکر کرے اور اس عظیم مقصد کی طرف قدم اٹھا نے کا فیصلہ کرے جس کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا یعنی پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ ہاں یہ مقصد کہ ہمارے ملک میں اسی ایک اللہ کا نظام ہوگا نہ کہ کسی اور ’’الٰہ‘‘ کا۔ اگر یہ نظام آئے گا تو پھر تاریخ گواہ ہے کہ خلیفۃ المسلمین سیدنا عمر ؓ سے بھری مسجد میں ، خطبے کے دوران پوچھا جاتا ہے کہ ہم سب کو تو ایک چادر ملی ہے آپ کے تن پر دوسری چادر کس کی ہے؟
پھر امیر المومنین عمر ثالث بت شکن ملا عمر کی والدہ بھی قندھار کے ایک ہسپتال میں قطار میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔پھر امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ کا بیٹا باقی عوام سے پہلے دین و ملت کی آزادی کے لیے شہید ہوتا ہے۔
فیصلہ کیجیے کہ آپ کو کیسا اور کون سا پاکستان چاہیے؟







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



