نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

کیا ہم پاکستان کے دشمن ہیں؟

by قاضی ابو احمد
in پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!, اگست 2020
0

بہت سے لوگ، بشمول بعض ان لوگوں کے جو مجاہدین سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے حامی ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مجاہدین کو پاکستان سے کچھ محبت نہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پاکستان کے وجود سے ہی نفرت ہے اور ہم اسے نیست و نابود کردینا چاہتے ہیں۔

ہم یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہمارے بارے میں یہ خیال بالکل بھی درست نہیں۔ ہم ایسا کچھ نہیں چاہتے۔ اور ہم ایسا چاہ بھی کیسے سکتے ہیں کہ ہم ہی تو اس پاکستان کے حقیقی وارث ہیں۔ وہ سرزمین کہ جسے ہمارے پرکھوں نے حاصل ہی اسلام کے نام پر کیا تھا، اسلام ہی کے نام پر، اسلام ہی کی خاطر قربانیاں دی تھیں اور اسی کی خاطر ہجرت کی، جدائیوں کی، ظلم و ستم کی صعوبتیں اٹھائی تھیں۔

اگر محض زمین کے ٹکڑے کی بات کی جائے تو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر ساری زمین ہی ہماری، ہم مسلمانوں کی ہے کہ اس زمین پر اللہ رب العزت کا دیا ہوا نظامِ شریعت اسی امت مسلمہ نے نافذ کرنا ہے اور اس زمین پر کسی کو سر اٹھا کرجینے کا حق اگر ہے تو صرف اسی کو ہے جو اپنے رب کا حقیقی غلام ہے اور حقیقی معنوں میں اس کی بندگی کرنے والا، سر تسلیم خم کرنے والا مسلم ہے۔

مگر محض زمین کے ٹکڑے کا حصول ہمارا مسئلہ ہی کب رہا ہے؟ بعض زمین زرخیز ہوتی ہے، بعض سیم اور تھور والی، بعض پتھریلی اور بعض ریتلی۔ زمین تو موجود ہو مگر اس میں تھوہر کے سوا کچھ نہ اگتا ہو تو ایسی زمین داری کس کام کی؟ زمین تو حاصل ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ نافع بنے، اپنے مالک کے لیے بھی اور اس زمین پر محنت کرنے والے ہاریوں، کسانوں کے لیے بھی؛ نفع اٹھائیں اس سے انسان بھی اور چوپائے بھی، چرند بھی اور پرند بھی۔ پس یہی مثال زمین کے اس ٹکڑے کی بھی ہے جسے ملک کہا جاتا ہے۔ زمین کا وہ ٹکڑا کہ جسے اسلام کی لہلہاتی فصل کے حصول کے لیے حاصل کیا گیا تھا، اسے حاصل کرتے ہی مقصدِ حصول بھلا دیا اور اس میں حاکمیتِ اسلام کی بجائے حاکمیتِ غیر اللہ کا بیج بو دیا۔ اب خواہ وہ دینی سیاسی جماعتیں ہوں یا اسلام پسند مسلمان عوام، کوئی بھی اگر یہ چاہے (بے شک اخلاصِ نیت کے ساتھ ہی) کہ غیر اللہ کی حاکمیت کا بیج تو زمین میں جوں کا توں برقرار رہے مگر اس سے شاخیں اور پھل پھول اسلام کے ہی پھوٹیں تو یہ اتنا ہی ناممکن ہے جتنا آم کی گٹھلی سے گنے کا پیدا ہونا۔

ہم مجاہدین سرزمینِ پاکستان کے خلاف نہیں ہیں، ہم اس کے درپے نہیں ہیں، بلکہ ہم تو اس کی سالمیت کے خواہاں ہیں، البتہ ہم اس میں قائم نظامِ کفر اور اس نظامِ کفر کی حفاظت اور تقویت پر مامور افراد اور اداروں کے خلاف ہیں۔ ہم اس نظامِ کفر کی بیخ کنی چاہتے ہیں جسے عرف میں نظامِ جمہوریت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہمارا مطالبہ یہ ہےکہ جس نام پر یہ زمین الاٹ ہوئی تھی اسی نام کی عمارت اس زمین پر بنے اور اس عمارت کا انتظام و انصرام اور اس میں رہنے بسنے والوں کا طرزِ زندگی زمین کے مالک کی عین مرضی کا ہو۔ اس عمارت کے محافظین اسی کی حفاظت پر مامور ہوں اور اس کے مالک سے مخلص ہوں ، نہ کہ اس کے دشمنوں سے مخلص اور اُن کی حفاظت پہ مامور۔

گر فقط نماز روزے حج زکوٰۃ کی ادائیگی کی آزادی مطلوب ہوتی، صرف مسلمانوں کی معاشی حالت کی بہتری مقصود ہوتی، معاشرے میں مسلمانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانا محض مطمح نظر ہوتا تو ہندوستان کے ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ رہنا ہی کیا برا تھا!! پھر مطالبہ محض اس بات کا ہوتا کہ زمین یہی رہے گی، نظام یہی کفر کا رہے گا، فقط اتنا مطلوب ہے کہ کسی بھی نظامِ جمہوریت کے تحت بسنے والے دیگر ادیان کے ماننے والوں کو ملنے والی مذہبی آزادیوں کی طرح مسلمانوں کو بھی ہر طرح کی مذہبی آزادی ملنی چاہیے، انھیں بھی ترقی اور روزگار کے حصول کے مساوی مواقع ملنے چاہیے ہیں، انھیں بھی معاشرے کا اول درجے کا شہری سمجھا جانا چاہیے اور بس۔ مگر ایسا نہ تھا۔ برصغیر میں بسنے والے مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا منصب سنبھالنے والوں کے پیش نظر جو کچھ بھی تھا، مگر عام مسلمان کے نزدیک علیحدہ وطن کے حصول کا مقصد فقط ایک تھا کہ وہاں اسلام کا نظام نافذ ہوگا، وہ نظام جو اللہ رب العزت نے اپنے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نافذ کروا کر دکھایا اور جسے خلفائے راشدین نے تقویت و ترقی دی اور جس کے خواب امت مسلمہ کا فرد فرد دیکھتا ہے۔

ہم نے پاکستان حاصل کیا اور دعویٰ کیا کہ ہم اسے اسلام کا قلعہ بنائیں گے۔ مگر ہم نے اس کے قیام کے پہلے دن سے اسلام کو پس پشت ڈالا اور وطنیت کے بت کو گلے لگایا، گویا

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، جن کے نام پر یہ وطن حاصل کیا تھا، انھوں نے تو نفسِ زمین سے محبت کرنا نہیں سکھایا تھا، بلکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کے برخلاف نہ صرف اپنے محبوب وطن، بلکہ ایسی سرزمین سے جس میں اللہ رب العزت کا گھر ہے سے اللہ ہی کی خاطر ہجرت کرکے دکھائی اور پھر دوبارہ کبھی بھی اس کو مسکن بنانے کا نہ سوچا۔ ہم نے اپنے نبی کا اسوہ چھوڑ دیا۔ ہم اس زمین سے چمٹ کر رہ گئے اور اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے روگردانی کی اور یہ سمجھا کہ یوں یہ زمین بھی ہماری رہے گی، دنیا بھی ہم سے راضی رہے گی اور دنیا میں ترقی کے دروازے بھی ہمارے لیے وا ہوجائیں گے۔ ہم پر تو تہمت ہے کہ ہمیں پاکستان سے محبت نہیں، مگر اس سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں نے کیا کیا؟ دعوے تو کیے زمین سےمحبت کے مگر عملاً کیا کیا اور کیا ہوا ؟ ہوا یہ کہ قیامِ پاکستان کے محض چوبیس سال بعد ہی پاکستان دولخت کردیاگیا۔ زمین سے یہ کیسی محبت تھی جس نے زمین کو دوٹکڑے کرنا گوارا کرلیا؟ اپنے وطنی بھائیوں سے یہ کیسی محبت تھی کہ جس نے اپنے ہی بھائیوں کے گلے کاٹنے پرمجبور کیا؟ محبت تو وہ ہوتی ہے کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ، کفر پر قائم اپنےسگے اسیر بھائی بارے اپنے ساتھی صحابی سے کہتے ہیں کہ اسے ذرا کس کر باندھنا، اس کی ماں بہت مال دار ہے، اس کا اچھا فدیہ دے گی۔ اور محبت تو وہ ہوتی ہے کہ جو ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اپنے سگے باپ ابو سفیان (جو اس وقت مسلمان نہ ہوئے تھے) کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر بیٹھنے نہیں دیتی، اور محبت تو وہ ہوتی ہے جو بلال حبشی، صہیب رومی اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو ایک ہی صف میں ایک ہی جھنڈے تلے لاکھڑا کرتی ہے اور محبت وہ ہوتی ہے جو حجاز تا عراق تمام کی تمام زمین کو ایک امیرالمومنین کے تحت اس طرح جوڑ دیتی ہے کہ مکہ میں بسنے والے کا دل شام میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے تڑپتا ہے اور خراسان میں بسنے والے فلسطین کے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر جان کی بازی لگادینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ اور ایسا جب ہوتا ہے جب مملکت کی زمینی سرحدوں کی حفاظت سے پہلے اس کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی جائے۔ نظریہ ایک ہو تو گورے کالے کا فرق کوئی معنی نہیں رکھتا، مشرقی اور مغربی پاکستان میں بسنے والے ایک ہوتے ہیں، فقط مسلم ان کی پہچان ہوتی ہے، لیکن جب آپ نے پہلے ہی قدم پر نظریے کو بالائے طاق رکھ چھوڑا تو پھر جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیسے ہوسکتی تھی؟ لہٰذا وہ بھی پامال ہوکررہیں۔

پھر باقی بچ جانے والے پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو کیا ملا؟ افسوس تو اس بات کا ہے کہ عام مسلمان کو تو یہاں وہ تک بھی نہ مل سکا جو کسی بھی ملک کے شہری کا بنیادی حق ہے۔ آج قیامِ پاکستان کو ستّر سال سے زائد گزر چکے ہیں اور حال یہ ہے کہ یہاں کے مسلمان روٹی پانی تک کو ترس گئے ہیں۔ بے روزگاری ہے تو وہ ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے اور یوں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بھی۔ صحت کی سہولیات یا ناپید ہیں یا عوام کی استطاعت سے باہر۔ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ متوسط طبقہ کے لیے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنا تک مشکل ہوگیا ہے۔ ملک میں گندم کی بھرپور پیداوار کے باوجود عام شہری کے لیے آٹا یا ناپید ہے یا نہایت مہنگا ہے۔ آٹا، چینی، دالیں، چاول، سبزی، گھی…… یہ سب تو بنیادی ضروریات ہیں اور یہی عام شہری کی استطاعت سے باہر ہیں؛ دودھ، پھل، گوشت، مرغی کی تو بات ہی کیا۔ مسلمانوں کی اپنی زمین پر غیر تو مراعات یافتہ ہیں (ان کے تو ایک ایک گردوارے پر مسلمان عوام کے خون پسینے سے کشید کیے اربوں روپے قربان ہیں اور ابھی اسلام آباد میں ہندوؤں کے مندر کی تعمیرکے لیے دس کروڑ کی گرانٹ) جب کہ دوسری طرف مسلمان ہی اس پاکستان میں سب سے دبا اور پسا ہوا طبقہ ہیں، اور وہی ہیں کہ جن کی مساجد و مدارس کے درپے ہر آنے والی حکومت ہے۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی مذہبی آزادی بھی محض فرض عبادات کی ادائیگی تک ہی محدود رہ گئی ہے۔ اس میں بھی دیگر اور جمعے کے اجتماعات میں لاؤڈ اسپیکر پر بیان کی ممانعت ہے، سفرِ حج کے کرائے اس قدر زیادہ ہیں کہ عام مسلمان کی پہنچ سے باہر ہیں، جہاد کی بات کرنا اور مجاہدین کی نصرت و معاونت حرام ہے، امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر پکڑ ہے…… ہاں اسلام کے نام پر اگر کسی چیز کو سرکاری سطح پر ترویج دی جارہی ہے تو وہ گلیمر سے بھرپور ترکی ڈرامے ہیں اور مسلمان عوام اتنے سادہ ہیں کہ ان کی حسّ مسلمانیت کی تسکین کے لیے فقط اتنا ہی کافی ہے کہ سرکاری ٹی وی پر ’اسلامی‘ ڈرامہ نشر کیا جارہا ہے۔

پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی بات کی جائے یا بالعموم دنیا بھر میں بسنے والے اہلِ اسلام کی، ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ ہم مسلمانوں پر باقاعدہ بے حسی اور جمود کا غلبہ ہے۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہم اور ہمارے متعلقین، ہمارے بیوی بچے ایک آرام دہ، پرآسائش زندگی گزاریں، اچھی تعلیم، بہترین روزگار، صحت کی بہترین سہولیات تک ہماری بلا رکاوٹ رسائی ہواور ہمارا ملک ترقی پذیر کی فہرست سے نکل کر ترقی یافتہ کی فہرست میں شامل ہوجائے مگر اس پورے منصوبہ میں اسلام کہیں بھی نہیں ہے، حتیٰ کہ ہمارےبعض اہلِ دین کے قائدین بھی بس ’خوشحال پاکستان‘ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ٹرک کی اس بتی کے پیچھے پوری قوم کو بھگارہےہیں۔ اسلام کو ہم نے دل و ذہن کے کسی تاریک گوشے میں سلا دیا ہے۔ اپنی تاریخ سے ہم واقف نہیں، قرآن و حدیث کا علم ہم حاصل نہیں کرتے ، اہل حق علما سے تعلق ہم جوڑتے نہیں، کیوں؟ محض اس وجہ سے کہ کہیں ہمارے اندر سویا ہوا مسلمان جاگ نہ اٹھے اور اگر وہ کہیں جاگ گیا تو وہ کب ہمیں اپنی موجودہ زندگی پر مطمئن رہنے دے گا؟ وہ تو اٹھ کھڑا ہونے کی بات کرے گا، وہ تو دین کے نفاذ کی بات کرے گا، وہ تو تعمیر سے پہلے تخریب کے مراحل سے گزرنے کی تحریض دے گا اور وہ بہرحال ہماری موجودہ زندگی کے پرسکون دریا میں تلاطم پیدا کردے گا۔ نفس ہے تو وہ یہ سجھاتا ہے کہ تم اپنے دین کے نفاذ کے لیے اٹھے بھی تو کیا کرلوگے ؟ محض تمہارا نکلنا کیا فائدہ دے گا؟ تمہاری اپنی اور تمہارے گھر والوں کی زندگی تو مزید مشکلات میں گھر جائے گی مگر کیا تمھیں اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں کے سامنے شریعت کی سربلندی اور نفاذِ شریعت کے ثمرات کا اپنا خواب سچ ہوتا دکھائی دے گا؟ کیا تم وہ امن اور مساوات پاسکو گے جو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور کا خاصہ تھا؟ یقیناً اس منزل تک پہنچنے کے لیے بہت وقت لگے گا، لہٰذا تم یوں کرو کہ اپنی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کی کوشش کرو اور بس۔ اس سے زیادہ سوچنا تمہارا کام نہیں۔ حالانکہ بقول اقبالؒ

تو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
امتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کا

سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسلام کے اولین مخاطبین، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی اگر یہی سب کچھ سوچا ہوتا اور نفس کے انھی تقاضوں پر عمل کیا ہوتا تو اسلام مکی دور سے بھی آگے نہ چلا ہوتا۔ مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو، قرآن کی تعلیمات کو دانتوں سے تھاما اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس رستے میں حمزہ بن عبدالمطلب بھی ہیں اور مصعب بن عمیر بھی، ابو عبیدہ بن جراح بھی اور معاذ بن جبل بھی، جعفر بن ابی طالب بھی ہیں اور سعد بن معاذ بھی…… رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ۔ پھرکیا یہ رستہ محض خون کی قربانی دے کر طے کیا گیا اور مزید کسی قسم کی قربانی اس رستے نے نہیں مانگی؟ نہیں! بلکہ اس رستے میں شعب ابی طالب بھی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا گھیراؤ بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی قیمت بھی لگتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں سے لہولہان بھی کیا جاتا ہے، عین میدانِ جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی بھی ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک سر پر اونٹ کی اوجھڑی بھی رکھی جاتی ہے ، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی جھوٹی خبر پر کی جانے والی موت پر بیعت بھی ہےتو عین پکی فصلوں کے موسم میں غزوۂ تبوک بھی اور پھر احزاب کے حملوں سے دفاع کے لیے فاقوں کی حالت میں خندق کھودنا بھی…… یہ رستہ تو ہے ہی ایسا کہ اللہ کے حکم پر انسان کے تن من دھن یعنی جان، نفسانی خواہشات، محبت کے رشتوں، گھر بار اور مال سب کی قربانی مانگتا ہے، تب کہیں جا کر وہ منزل آتی ہے کہ جہاں ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک تنہا سفر کرتا ہے اور اسے ایک اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوتا۔ لیکن ہم میں سے ہر شخص اگر خودغرض بن جائے اور اجتماعی مقاصد کی خاطر سوچنا چھوڑ دے تو پھر

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں محفل انجم بھی نہیں

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اور آپ اپنے اپنے ذاتی مفادات پس پشت ڈالتے ہوئے اپنی امت کی فلاح کا سوچیں۔ ہم یہ تو سوچیں کہ ہم نے پاکستان حاصل کرنے کے بعد اس کا جو حشر کیا تو اس کے بعد ہندوستان میں بسنے والے مسلمان کس طرح یہ حوصلہ کریں گے کہ وہ اپنے دین کی خاطر اٹھ کھڑے ہوں؟ آج ہم ان کی حالتِ زار پر ترس کھاتے ہیں مگر محض ترس کھانا اور ہمدردی کے چند بول انھیں کیا فائدہ دے سکتے ہیں؟ ہاں اگر آج ہم اپنی نظریاتی سرحدوں کی مضبوطی پر توجہ دیں، اپنے گھروں کو، اپنے معاشرے کو، اپنے ملک کو اسلام کا قلعہ بنانے کی کوشش کریں تو ہم ہندوستان میں بسنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ کا کردار ادا کرسکتے ہیں، ہم انھیں ان کی موجودہ حالتِ کسمپرسی سے باہر نکالنے میں اور اسلام کے لیے ان کی جدوجہد میں ان کے معاون و مددگار بن سکتے ہیں اور انھیں یہ سمجھا سکتے ہیں کہ یہ اسلام ہی ہے جس کی وجہ سے مسلمان کی عزت ہے، گر اسلام کو چھوڑا تو نہ مسلماں باقی رہے گا اور نہ ہی اس کی عزت۔

اسی طرح کشمیر میں بسنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی ہمارا یہی پیغام ہے کہ آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی نے مسلمانوں کو ہمیشہ ذلیل و خوار ہی کیا ہے۔ آپ آج اپنی آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ضروری ہے کہ آپ کا فہم درست ہو، آپ یہ جان لیں کہ محض زمین کی آزادی تب تک آپ کے لیے بارآور نہیں ہوسکتی جب تک اس کی پشت پر ایک مضبوط نظریہ، اسلام کا، توحید کا نظریہ نہ ہو۔ امارت اسلامیہ افغانستان کی مثال آج ہم سب کےسامنے ہے۔ محض توحید کی قوت اور شریعت کی برکات کے سہارے بلند کیے گئے عَلَمِ جہاد کے ذریعے اللہ رب العزت نے انھیں ایسی عزت اور عظمت سے نوازا ہے کہ کفر کے ایوان انگشت بدنداں اور لرزہ براندام ہیں۔

پس پاکستان کی سرزمین سے ہمیں محبت ہے، اور اسی محبت کی وجہ سے ہم اس سرزمین میں بنیادوں تک پیوست نظامِ کفر کے ناسور کو جڑ سے اکھیڑنا چاہتے ہیں۔ ہم اس سرزمین کو حقیقتاً اسلام کا قلعہ دیکھنا چاہتے ہیں؛ ایسا قلعہ کہ امت مسلمہ کے ہر فرد کے لیے جو پناہ گاہ ہو اور پوری امت کے مسلمانوں کے لیے جو مینارۂ نور بنے اور یہیں سے وہ لشکر نکلیں جو ہندوستان کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ان ظالم حکمرانوں کے ظلم و جور سے نجات دلائیں گے۔ پس اے ہمارے دلوں میں بسنے والے ہمارے محبوب اہل پاکستان! اس حقیقت کو پہچانیے کہ ہماری اور آپ کی قوت، شوکت، عزت اور عظمت کا راز توحید میں پنہاں ہے، اللہ رب العزت کے دین، اس کی شریعت پر عمل، اس کی دعوت اور اسی کے لیے جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ گر یہ راز آپ نے اور ہم نے پالیا تو پھر ایک پاکستان کیا، پوری دنیا کی ہرسرزمین ہی ہماری ہے۔

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفویؐ ہے

Previous Post

دو پاکستان

Next Post

پشتون حقوق

Related Posts

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
استعماری تہذیب کے پھندے
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

استعماری تہذیب کے پھندے

1 مئی 2026
گستاخیوں (Blasphemy)  کا بڑھتا رجحان
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

گستاخیوں (Blasphemy) کا بڑھتا رجحان

8 مارچ 2026
نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران

8 مارچ 2026
پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل

15 فروری 2026
پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں

15 فروری 2026
Next Post

پشتون حقوق

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version