نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پشتون حقوق

جائزہ و حل

by داؤد غوری
in پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!, اگست 2020
0

ویسے تو مجھے ریڈیو سننے کا زیادہ شوق نہیں لیکن کیا کریں، حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ ریڈیو سنے بغیر چارہ نہیں ……تقریباً پانچ چھ ماہ کی بھاگ دوڑ کے بعد کچھ عرصہ آرام کرنے کا موقع ملا تو ریڈیو خریدنے کی سُوجھی۔ بازار گیا اور چینی ساخت کاایک عدد ریڈیو خرید ڈالا۔ اب اس پر بی بی سی اردو ڈھونڈنے بیٹھا تو ہاتھ تھک گئے ……اور کان پک گئے۔ اسی چکر میں اپنے ریڈیو کو براکہہ بیٹھا اور ایک اور ریڈیو خرید ڈالا۔ لیکن نتیجہ پھر بے سود!

ایسے میں ایک مخلص نے بتایا کہ ’’بی بی سی اردو، اپنی ریڈیو سروس اب فقط ایف ایم پر چلاتا ہے‘‘۔

اب وائس آف امریکہ اردو سننے کا ’آپشن‘ میرے لیے ’بعید از قبول‘تھا۔ کیونکہ مذکورہ ادارے کی سروس اتنی ’’شاندار‘‘ہوتی ہے کہ سننے کے بعد گریوینیٹ کی گولی کھالینا بہتر ہوتا ہے1۔ چلیں خیر’’بے چارے‘‘وائس آف امریکہ کو ’’آڑے ہاتھوں لینا‘‘کسی اور موقع پر (ان شاء اللہ)۔

اب جب یہ سب کچھ ہوگیا تو بندے کے پاس اس کے سوا کوئی ’چوائس‘ نہ بچی کہ وہ بغیر کسی دوسرے ’آپشن‘ کے فوراً پشتو میں خبریں سننا شروع کردے۔ پہلے تو ریڈیو کی پشتو اپنے دماغ کے تین اعشاریہ سات ملی میٹر دائیں بائیں سے گزر جاتی تھی لیکن جیسے ہی سمجھ آنے لگی تو ہوش ٹھکانے آگئے۔ جی ! مجھے خطرے کی بو محسوس ہونے لگی۔

دراصل پشتو ریڈیو کے معروف سرخیل یہ پانچ سٹیشنز ہیں: 1. بی بی سی پشتو، 2. آزادی ریڈیو، 3. آشنا ریڈیو، 4. مشال ریڈیو، 5. ڈیوا ریڈیو۔

اول الذکر تین سٹیشنز افغانستان جبکہ باقی دو پاکستان کے لیے مخصوص ہیں ۔

دنیا کے ہر میڈیاچینل کی دعوت کے کچھ ’مستقل موضوعات‘ ہوتے ہیں۔ ان موضوعات کو ایک سمجھ دار انسان کسی بھی میڈیا چینل کی چند پیشکشوں کا مشاہدہ کرکے جان جاتا ہے۔ہم مجاہدین کے میڈیا چینلز (اعلام) کے بھی کچھ مستقل موضوعات ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ادارہ السحاب کے کچھ ’مستقل موضوعات ‘ یوں ہیں:

  • اللہ، اس کے دین اور اس کی توحید کی طرف بلانا

  • رسول اللہ ﷺ سے محبت کو اجاگر کرنا

  • فریضۂ جہاد کی ادائیگی کے لیے بلانا

  • ناموسِ رسالت کی حفاظت کی خاطر تن من دھن قربان کرنے کے لیے بلانا

  • یہود، امریکہ اور بھارت کی امتِ مسلمہ کے خلاف سازشوں اور مظالم کو آشکارا کر نا

  • عالمی نظامِ کفر، اقوام متحدہ، جمہوریت، کفری قوانین اور اس قبیل کی دیگر خرافات کا بطلان واضح کرنا

  • امت کو خلافت کی اہمیت سمجھانا اور اسے قائم کرنے کے لیے بلانا

  • شریعتِ اسلامیہ کے محاسن(عمدہ باتیں) واضح کرنا

  • عالمی کفر کے زرخرید غلاموں (مسلم ملکوں پر مسلط حکمرانوں اور افواج) کی حقیقت امت کو دکھانا

  • مجاہدین کے حالات سے امت کو باخبر رکھنا (جیسے کارروائیاں، شہدا، روز مرہ کے حالات وغیرہ کی خبریں دینا)

اسی طرح اگر میں پاکستانی میڈیا میں بی بی سی اردو ، وائس آف امریکہ اور بیشتر میڈیا چینلز کی بات کروں تو ان کے موضوعات یہ ہیں:

  • وحی ، قرآن ، حدیث، علمِ دین ،علما، مدارس اور ہمارے بنیادی اسلامی عقائد میں شکوک وشبہات پیدا کرنااور ان کو تضحیک کا نشانہ بنانا

  • عالمی نظام کفر کی ترجمانی ، اس کو مضبوط کرنا، پاکستان میں ریاستی اداروں کی ’رِٹ‘ کو (سیکولر مقاصد کے لیے)مضبوط کرنا

  • عورت کی آزادی کے نام پر فحاشی کے پھیلاؤ کے لیے راہ ہموار کرنا

  • عالمی نظام کفرسےبرسرپیکار مجاہدین ’’دہشت گردوں‘‘کے خلاف پراپیگنڈا کرنا

  • مسلم ممالک میں رہنے والے کافروں اور گمراہ فرقوں کو مضبوط کرنا اور ان کی پشت پناہی کرنا

شاید ان میڈیا چینلز کے کچھ اور بھی مستقل موضوعات ہوں لیکن ان تمام سے بندے کی فی الحال بحث نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں نے جب پشتو ریڈیو سٹیشنز سننا شروع کیے تو ان کا ’ایک اور مستقل موضوع ‘بندے کے سامنے آیا، جو میرے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھا۔ و ہ یہ کہ:

’پاکستان ، اس کی حکومت، فوج ،آئی ایس آئی، پاکستانی دینی طبقے اور حتیٰ کہ پاکستانی عوام کے خلاف پراپیگنڈا کرنا۔‘

اس پراپیگنڈے کا اگر سادہ سے الفاظ میں خلاصہ پیش کیا جائے تو وہ یہ ہے:

’’پاکستانی قوم خصوصاًپنجابی انتہائی مکار قوم ہے۔ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی اسی پنجابیت کی عکاس ہے۔ یہ اتنے مکار ہیں کہ اپنے آقاؤں، برطانیہ اور امریکہ کو یہ بہت بڑے بڑے دھوکے دے چکے ہیں۔ اسلام سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں اصلاً تو یہ سیکولر ہیں، مگر اپنی شرانگیزیوں کے لیے یہ مولویوں ،مدرسوں اور جہادی تنظیموں کو بھی پالتے ہیں۔ یہ پشتونوں اور افغانوں کی ازل سے دشمن چلی آرہی ہے۔ افغانستان اور پشتونوں کی سالمیت پاکستان کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ روس کے خلاف اسی پاکستان نے پشتون معاشرے میں انارکی پیدا کرکے یہاں کے امن کو خراب کیا۔ پھر جب افغانستان میں امن آنے لگا تو انہوں نے جہادی گروپوں کو آپس میں لڑوانا شروع کردیا۔ اس طرح پاکستان نے اپنے مخالف جہادی گروپوں کو کمزور کردیا۔اس کے بعد یہ اپنے غلاموں یعنی افغان طالبان کو مضبوط کر کے افغانستان پر حکمرانی کرنے لگا۔ امریکہ دراصل ہم افغانوں کو پاکستان کے ظلم اور تسلط سے آزادی دلوانے کے لیے افغانستان آیا ہے۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ افغانستان میں تھوڑی بہت جنگ تو ہونی تھی۔ لیکن پاکستان کی شرانگیزی یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ امریکہ کو جنگ کرنے کے لیے آسانیاں فراہم کرتا ہے اور طالبان کو بھی اسلحہ اور پیسہ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ طول پکڑتی ہے۔اس طرح افغانستان مزید سے مزید تباہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں بسنے والے پشتون بالخصوص قبائل نے قریب سے پاکستان کے ظلم کا نظارہ کیا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس کی پاداش میں ان پشتونوں کے خلاف آپریشنز اور قتلِ عام کا بازار گرم ہے۔‘‘

پشتو ریڈیو سٹیشنز سے صبح و شام اس ’فلسفے‘ کی دہائی کو سن کر ( جس کے بارے میں جب بعد میں مَیں نے افغان اور پشتون عوام سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طرز تو گزشتہ اٹھارہ سال سے جاری ہے!‘) میرے سادہ سے ذہن میں یہ سوالات ابھرے:

  1. اردو کے کسی بھی رسمی میڈیا چینل میں اس قسم کی ذرا سی بات پر ’بندے اٹھا لیے جاتے ہیں‘۔ جبکہ معاملہ یہاں کیوں برعکس ہے؟

  2. ’بی بی سی اردو ‘اور ’وائس آف امریکہ اردو‘ کی باگ ڈور ’ڈائریکٹ‘ برطانیہ اور امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ ان کی فوج کی حمایت کرنا روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ لیکن اگر کبھی ان چینلز سے پاکستانی فوج کے خلاف کوئی بات نشر ہوجاتی ہے تو وہ بھی مکھی کی ہلکی سی بِھن بِھن کے برابر ہی ہوتی ہے۔ جبکہ درج بالا پشتو کے تمام ریڈیو سٹیشنز کی باگ ڈور بھی امریکہ اور برطانیہ ہی کے ہاتھوں میں ہے۔وہ پاکستان اور اس کی فوج کے خلاف کیسے اور کیوں بولتے ہیں؟ حتیٰ کہ عمومی کالرز سے پاکستان کے خلاف گالیاں سنوانے سے بھی نہیں چوکتے!؟

  3. بالآخر بے چاری پاکستانی حکومت بھی تو افغان حکومت کی طرح امریکہ اور برطانیہ کی ’’ٹھیٹھ اتحادی‘‘ ہے۔ تو اس بے چاری کو سوتیلا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

  4. جب پشتو سٹیشنز میں کام کرنے والے صحافیوں کی بھی ایک عظیم تعداد پاکستان ہی میں رہتی ہے ( مثلاً اسلام آباد، کراچی، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں) تو وہ پاکستان میں رہتے ہوئے اتنی آزادی سے پاکستان کے خلاف کیسے بول لیتے ہیں؟

  5. ایک ہی صحافی جب اردو سٹیشنز سے پاکستان کے حوالے سے بات کرتا ہے ، اور جب وہی صحافی پشتو سٹیشنز سے بات کر تا ہے……تو ان دونوں ’ٹونز‘ میں زمین و آسمان کا فرق کیوں آجاتا ہے؟ ( مثال کے طور پر داؤد اعظمی اورخدائے نور ناصر نامی صحافیوں ہی کو لے لیجیے)

جس طرح یہ سوال سادہ سے ہیں اسی طرح ان کا جواب بھی سیدھا سادہ سا ہے ، اور وہ ہے؛’’یہ امریکہ کی پالیسی ہے‘‘۔اس پالیسی کے جو کفر کو بڑے بڑے فوائد ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

  1. افغانستان میں کٹھ پتلی حکومت اور افغان ملی فوج کے وجود کا جواز پیدا کیا جائے۔ جیسے ماضی میں شاہی ہندی فوج کی دو دھڑوں میں تقسیم کے بعد دونوں کو آپس میں مخالف دکھا کر پاکستانی عوام کے لیے پاکستانی فوج اور ہندوستانی عوام کے لیے بھارتی فوج کے وجود کا جواز پیدا کیا گیا(کچھ کچھ مخالفت ہے اور باقی دکھائی جاتی ہے) ۔ اس طرح جب ملی افغان فوج سے پوچھا جاتا ہے کہ تم طالبان کے خلاف کفر کی مدد کیوں کرتے ہو؟ یہ تو مسلمان ہیں، ان کی شرعی حکومت کے خلاف کیوں جنگ کرتے ہو؟ تو ان کا جواب بالعموم یہی ہوتا ہے کہ ’’ہماری جنگ پاکستان سے ہے، چونکہ طالبان پاکستان کے ایجنٹ ہیں اور یہ ہمارے ملک کو پاکستان کے قبضے میں دینے کے لیے جنگ کر رہے ہیں اس لیے ہم ان سے برسرپیکار ہیں‘‘۔ اور امریکہ کے نکل جانے کے بعد بھی اسی فلسفے کو دلیل بنا کر ایک عرصے تک طالبان کے مقابل ایک فوج کو کھڑا رکھا جا سکتا ہے۔اس طرح امریکہ اپنے ہی دو بغل بچوں کو آپس میں دشمن ظاہر کر کے اسلام اور جہاد کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔

  2. پشتون علیحدگی پسند تحریک شروع کروا کر پاکستان کو مزید توڑا جاسکے۔ تاکہ ’’تقسیم کرو اور راج کرو‘‘ (Divide and Rule) پر پوری طرح عمل ہوسکے۔ جیسا کہ عالمِ کفر کی سندھی، بلوچ، گلگت بلتستان، کشمیری اور مہاجر قوم کے نام پر علیحدگی پسندوں سے ہمدردی کی صورت میں واضح ہے۔

  3. پاکستان اور قبائلی عوام کے ذہنوں پر اس فلسفے کی بھرمار کر کے یہاں موجود ’شرعی جہادی بیداری‘ کو ’قومی لسانی جنگ‘میں تبدیل کیا جاسکے۔اس صورت میں ایک اہم خطے یعنی پاکستان میں جہاد کی جڑیں کھوکھلی کر دی جائیں۔

جہاں تک بات ہے افغانستان کی تو اس سارے فلسفے اور خطرےسے نمٹنے کے لیے نجات دہندہ کے طور پر امریکہ اور عالمِ کفر نے افغان حکومت اور ملی فوج کو کھڑا کیا۔ مگر پاکستان کے معاملے میں یہاں یہ ’یہود کی روحانی اولاد‘ پاکستانی مجاہدین اور طالبان کو حل اور نجات دہندہ کے طور پر نہیں پیش کرتے ( حالانکہ پاکستانی مجاہدین ایک عرصے سے پاکستانی فوج اور حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں)۔ کیونکہ مجاہدین کے خلاف زہر اگلنا تو ان کے ’’مستقل موضوعات‘‘ میں شامل ہے۔تو اس سب کے لیے انہوں نے کیا کیا؟اس کا مختصر سا جواب ہے؛ ’’انتظار‘‘۔

لیکن کس چیز کا انتظار ؟

اصل میں اس چیز کا انتظار کہ جب تک پاکستان میں مجاہدین مضبوط تھے تو یہ ریڈیو سٹیشنز اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہے ( یا بالفاظ دیگر ’سٹیج تیار کرتے رہے‘)کہ ’’پشتون قوم ہر جانب سے پِس رہی ہے ۔ ایک طرف پنجاب کی فوج اس کو پیس رہی ہے دوسری طرف ’’ملا اور طالب‘‘ بھی اس کام میں فوج سے کم نہیں۔‘‘

لیکن جیسے ہی پاکستانی مجاہدین پر آزمائش کے کڑے سال شروع ہوئے(جس کا اعتراف کرنے میں ہمیں کسی قسم کی جھجک نہیں ہونی چاہیے) جس کے سبب وہ پاکستانی عوام کے سامنے منظر سے غائب ہوئےتوان ’ نامرادوں‘ کے’’ انتظار‘‘ کی گھڑیاں ختم ہوئیں۔

راہِ راست، راہ نجات، ضربِ عضب اور رد الفساد……!اتنے ظالمانہ آپریشنز کے باوجود اگر وہ کسی کو حل کے طور پیش نہ کرتے تو ان کے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا۔پاکستانی قوم بالخصوص قبائلی عوام لاوے کی مانند پھٹ پڑتی !

ایسے میں کچھ قبائلی نوجوان اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پر نکل آئے۔ چونکہ ان نوجوانوں کا مطالبہ محض ’قومیت‘ کی بنا پر تھا، اس لیے پشتو کے میڈیا اداروں نے اس تحریک اور اس کی قیادت کی بھرپور حمایت شروع کردی ۔ پندرہ سولہ سال ان اداروں نے جو محنت کی تھی، اب اس کے ثمرات سمیٹنے کے لیے انھیں ’عملی آپشن‘ مل گیا تھا۔

اب حال یہ ہے کہ پشتون قومیت کا نعرہ لگانے والے نوجوانوں کے حق میں سارا پشتو میڈیا یک زبان ہو کر بولتا ہے۔ دنیا کے ہر معاملے پر یہ میڈیا ادارے کچھ نہ کچھ تنقید تو کرتے نظر آتے ہیں…… نہیں ملتی تو پی ٹی ایم پر ایک نقد سننے کو نہیں ملتی۔

ایک انتہائی اہم بات میں عرض کردوں کہ جب ہم کسی شخصیت یا تحریک کا تجزیہ کرتے ہیں تو بعض ’ناداں ‘ ہماری کسی بات کو دلیل بنا کرمخالفت میں آگے بڑھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ کوئی تکفیر تک معاملہ پہنچا دیتا ہے، اور کوئی اس سے بھی آگے۔ حالانکہ نہ یہ ہمارا مطمحِ نظر ہوتا ہے اور نہ مقصود۔ ہم تو یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ عالمی غنڈے ان مظلوم نوجوانوں کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں اور اس کے ذریعے کون کون سے فوائد سمیٹنا چاہتے ہیں اور کیا کیا مقاصد پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا پر اس تحریک کی زور و شور سے تشہیر کر کے ان ’’عالمی بدمعاشوں‘‘ کے درج ذیل مقاصد پورے ہو رہے ہیں:

  1. پاکستانی عوام بالخصوص پشتون قبائل میں جو لاوا پاکستانی حکمرانوں اور افواج کے خلاف ابلنے والا تھا، اسے دینی رخ سے ہٹا کر لادینی رخ پر ڈالنا، دینی نعرے کی جگہ قومیت کے نعرے پر ہی سب لوگوں کو جمع کرنا، کیونکہ جب کوئی تحریک دینی نعروں پر کھڑی ہوجاتی ہے تو وہ عالمی غنڈوں کے لیے خطرہ ہوتی ہے، جبکہ قومیت کی تحریک کو یہ عالمی غنڈے اپنے کھینچے ہوئے دائروں میں بآسانی بند کرکے اپنی مرضی کے تابع کرلیتے ہیں۔ جہاد کے جذبے سے سرشار وہ قبائلی عوام جن کے ہیرو کچھ عرصہ قبل تک حاجی میرزا علی خان (ایپی فقیر)، ملا پائندہ، سر تور فقیر، نیک محمد وزیر، بیت اللہ محسود، عبد اللہ محسود اور مفتی ولی الرحمن رحمۃ اللہ علیہم اجمعین جیسے مجاہدین تھے کہ جن کی اللہ سے محبت اور اس کے دشمنوں سے دشمنی پر ان کی زندگی شاہد ہے، ان کے مقابل ایسے لوگوں کو ان قبائلی عوام کا رہبر و رہنما بنا دیا گیا کہ جن کی دین و جہاد سے وابستگی کی سِرے سے کوئی تاریخ نہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں دو ہفتے گزارنے اور دو چار مرتبہ فلائٹس ’’کینسل‘‘ ہوجانے سے زیادہ ان کی ’قربانی‘‘ بھی کچھ نہیں۔

  2. خطۂ قبائل سے تعلق رکھنے والے وہ مجاہدین جو ایک عرصے سے اللہ اور اس کے دین کی خاطر قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں ، ڈرون حملوں میں اپنے جسموں کے چیتھڑے اڑوا رہے ہیں، آئی ایس آئی کے جیل خانوں میں ڈرل مشینوں سے اپنے بدن میں سوراخ کروا رہے ہیں جن کی دین اور جہاد کے راستے ہیں ہجرتوں، دربدریوں اور لاپتہ ہونے کی داستان رقم ہے، ان کی جدو جہد اورقربانیوں کے ثمرات بٹورنے کے لیے میدان میں اب کوئی اور موجود ہے۔

  3. اس سے قبل قبائلی عوام کا جو بھی قومی مسئلہ ہوا کرتا تھااُس کی نمائندگی مجاہدین کیا کرتے تھے، لیکن اب یہ ’سٹیرنگ‘ دوسرے ہاتھوں میں ہے۔

  4. بہت سے نوجوان جو ایک عرصے سے جہاد کرتے چلے آرہے تھے ان کو اس پُر امن طریقے سے جدو جہد کرنے کا جھانسہ دے کر سرنڈر کروایا گیا۔

  5. ریڈیو نشریات کے اندر اس موضوع کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے مجاہدین کو یہ راہ سجھانے کی کوشش کی گئی کہ وہ بھی اگر کفر اور عصبیت کی قائم کرد ہ اصطلاحات میں بات کریں گے، اور ان کو اپنی دعوت و مقاصد میں جگہ دیں گےتو وہ بھی جمِ غفیر کو اپنی طرف کھینچ سکیں گے اور ان کی منزل ’قریب تر‘ ہوجائے گی۔

اس لیے ہم…… مجاہدین کو، پشتون قوم کو اور مجموعی طور پر ظالم پاکستانی فوج اور حکومت کے ظلم سہتے پاکستانی عوام سے کہتے ہیں کہ پاکستان کے جملہ مسائل کا حل اس سہ نکاتی ایجنڈے میں ہے:

  1. اپنے آپ کو اللہ کے آگے سرینڈر کردیا جائے، ہر معاملے میں دینِ اسلام کو میزان بنایا جائے، اور اسی سے پوچھا جائے کہ کیا حق ہے اور کیا ظلم ہے؟ اور مظلوم کے پاس ظلم کے رفع کا راستہ کیا ہے؟

  2. امریکہ سمیت تمام عالمی غنڈوں اور ان کے عالمی نظام کی بالادستی سے اپنے ملک کو بچایا جائے، اور ان کے آلۂ کاروں کو ملک بدر کردیا جائے۔

  3. اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو نافذ کیا جائے۔

یہ تینوں نکات ایک دوسرے سے مربوط ہیں ، کسی ایک کو بھی اگر ہم نظر انداز کریں گےتو ہم اپنے آپ کو دھوکہ دینے سے زیادہ کچھ نہ کر پائیں گے۔

اس لیے سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ ہم (بحیثیتِ طبقۂ مجاہدین) اس خطرے سے آگاہ رہیں۔ ’پشتون تحفظ‘ یا کوئی اور نام یہ ہمارے جہاد کو مضبوط کرنے یا ہماری منزل کے قریب آنے کی نشانی نہیں۔ قیامِ پاکستان کی مثال کو دیکھ لیجیے۔ دین سے مضبوطی سے چمٹے ہوئے جس طبقے نے تقریباً ڈیڑھ صدی تک بالاکوٹ سے دہلی تک اپنے خون کی ندیاں بہائیں…… ہجرتیں دیکھیں…… سولہ ہزار علما جس مقصد کی خاطر ایک شہرِ دہلی میں تختۂ دار پر لٹکا دیے گئے…… جس مقصد کے لیےجیلیں بھر دی گئیں…… اور جب انقلاب کا وقت آیا تو اس ساری قربانی کے ثمرات کوئی دوسرا لوٹ لےگیا؟ دراصل اُن علما اور اہلِ دین طبقے کا مسئلہ ’حقیقی مسئلہ‘ تھا، اُن کا’کاز‘ ایک وزن رکھتا تھا۔ لیکن انگریز کو گوارا نہیں تھا کہ اہلِ دین طبقے کا مقصد حاصل ہوسکے (یعنی لا الٰہ الا اللہ کی حکومت قائم ہو)۔ اس کی خاطر انگریز نے اپنے ہی رنگ میں رنگا ہوا ایک ٹولہ کھڑا کیاجس نے بظاہر اسی اہلِ دین طبقے سے ’ملتی جلتی‘باتیں کیں۔ اور یوں سارے مجمع اور قوم کو ان سیاست دانوں کی چکنی چپڑی باتیں کسی اور کے کھاتے لے گئیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

’’لا یلدغ المؤمنُ من جُحْر مَّرتَین.‘‘ یعنی ’’مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا‘‘۔(مسندِ احمد)

یاد رکھیے کہ عالمِ اسلام کے ہر محاذ کے لیے کفر کے پاس فی الحال سب سے کار آمد پالیسی یہی ہےکہ وہاں کے مجاہدین کو ’عالمی جہاد‘ سے کاٹ کر ’علاقائی جہاد‘ تک محدود کیا جائے۔پھر ان کے خلاف کسی مقامی فوج کو کھڑا کر کے پوری دنیا میں سکون سے حکومت جاری رکھی جائے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ اللہ اور شریعت کی خاطر جہاد کے نظریے کو مٹا کرملک وقوم کی آزادی کے لیے مخصوص کردیا جائے۔ یوں ان مجاہدین سے ’’کچھ لو اور دو‘‘ کر کے ان کو حریت پسند یا Freedom Fighters کے عنوان سے عالمی قوانین کے تحت ’ایڈجسٹ‘ کیا جاسکے۔ ایسی صورت میں وہی گروہ جس نے اللہ کے دین کی خاطر جہاد شروع کیا تھا، وہ عالمی کفر کے منصوبوں میں رکاوٹ نہیں بلکہ ممد و معاون ثابت ہو جاتا ہے۔

پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ!

اے پاکستان میں دعوت و جہاد کے میدانوں میں برسر پیکار میرے محبوب مجاہد بھائیو!

اس موقع پر دشمن کی جانب سے آپ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کی جائیں گی۔ کبھی آپ میں اہلِ غلو کو داخل کروا کر، اور کبھی ’اہل التنازل‘ کو،کبھی مسلکی تعصبات میں الجھا کر اور کبھی قومی تعصبات میں، کبھی باطل نظریات والے گروہوں کو بظاہر ’فتح‘ دلوا کر، دشمن آپ کو دوسرے اور تیسرے راستے اپنانے پر مجبور کرے گا ۔

ہم مجاہدین کے کرنے کے کام یہ ہیں کہ راہِ دعوت و جہاد سے مضبوطی سے چمٹے رہیں۔اپنے جہاد کو اللہ کے لیے خالص رکھیں۔ پاکستان کے جہاد میں درآنے والی غلطیوں کا ازالہ کریں۔ اللہ ہی کی طرف رجوع اور توبہ کریں۔ اللہ کی مدد اور نصرت آپ کے قدم چومے گی۔ واعبد ربك حتیٰ یأتیك الیقین!

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین

وصلی اللہ علی النبی محمد وعلیٰ آلہ و صحبہ أجمعین


1 گریوینیٹ ابکائی روکنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Previous Post

کیا ہم پاکستان کے دشمن ہیں؟

Next Post

خیالات کا ماہنامچہ | اگست ۲۰۲۰ء

Related Posts

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
استعماری تہذیب کے پھندے
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

استعماری تہذیب کے پھندے

1 مئی 2026
گستاخیوں (Blasphemy)  کا بڑھتا رجحان
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

گستاخیوں (Blasphemy) کا بڑھتا رجحان

8 مارچ 2026
نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

نوآبادیاتی دور کی روایات پر کاربند کمشنر اور سول سروس افسران

8 مارچ 2026
پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان کی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت: نسل کشی کا انتظامی تسلسل

15 فروری 2026
پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاکستان امریکہ تعلقات تاریخ کے آئینے میں

15 فروری 2026
Next Post

خیالات کا ماہنامچہ | اگست ۲۰۲۰ء

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version