لَوْ لَا الْمَشَقَّۃ……
سربلندی و سرفرازی حاصل کرنے کے جذبات سینے میں موجزن ہونا اورعالی مقامات پانے، آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے خواب دیکھناانسانی طبیعت کا جزو ہے۔ انسان بیش تر جان داروں کے برعکس دو ٹانگوں پر چلتا ہے ،سیدھا کھڑا ہوتا ہے۔ علما لکھتے ہیں کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس کی طبیعت و فطرت بلندیوں کی طرف مائل ہے، جب کہ چار یا زائد ٹانگوں پر چلنے والے، زمین کی طرف جھکے ہوئے جانور ، چوپائے اور حشرات، بس اسی دنیا ، اسی زمین اور اس کی حقیر لذتوں کی طرف مائل رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ انسان اگر اپنی فطرت کے برخلاف ، اپنے مقصدِ تخلیق کو بھلاتے ہوئے ، زمین سے چپک کر رہنے اور اثَّاقَلتُم اِلَی الاَرض کا مصداق بننے کا فیصلہ کر لے ، تو وہ اَسفَلَ السَّافِلِین (نیچوں سے بھی نیچ)اور کَالاَنعَامِ بَل ھُم اَضَل (جانوروں سے بھی بدتر) بن جاتا ہے۔ ہاں، جو انسان اپنی فطرت پر قائم رہے اور بلندیوں کی طرف پرواز کرنے کا خواہاں ہو، اسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بلندیوں تک کاسفر قربانیوں، سختیوں اور مشقتوں سے پر ہے۔
ہم یہاں ان بلندیوں کا ذکر نہیں کر رہے جنہیں دجالی میڈیا اور امریکی نیو ورلڈ آرڈرکے مختلف اداروں نے مصنوعی طور پر بلندیاں بنا کر پیش کیا ہے، حالانکہ وہ حقیقت میں محض پستیاں، ذلت، ضلالت اورگراوٹیں ہیں۔ہم یہاں کرکٹ کے کھلاڑیوں،سیاست کے مداریوں، ملت فروش جرنیلوں،ضمیر فروش صحافیوں،فلمی اداکاروں، رقص و موسیقی کے ماہر وں،ماڈلنگ کی قبیح صنعت کے ستاروں،مسلمان عورت کو گھر سے باہر نکالنے کی مہمات کی سرغنہ فاحشاؤں اورعصرِ حاضر کی ملالاؤں کا ذکر نہیں کر رہے کہ ان مقامات تک گرنے کے لیے کوئی قربانی نہیں درکار ہوتی، سوائے ایک قربانی کے ،اپنی انسانیت کی قربانی کے۔ یہ ایک قربانی دینے کے بعد جہاں تک گرنا چاہو، گرتے جاؤ ،مغرب کی جاہلی حیوانی تہذیب کے پرستاروں کی نگاہ میں اتنا ہی بلند قرار پاؤ گے!
ہم تو حقیقی بلندیوں کی با ت کر رہے ہیں۔ وہ بلندیاں جو آخرت میں رب کی رضا ،جنت کے عالی مقامات اور اونچے درجات دلوا دیں اور دنیا میں انسانی تہذیب کا دھاراخیر وبھلائی کی طرف پھیرنے، اسے حقیقی علم و تہذیب کی روشنی سے روشناس کرنے اور انسانی تاریخ پر ان مٹ مثبت نقوش چھوڑنے کا ذریعہ ہوں۔ یہ بلند مقامات یقیناً قربانی و مشقت کے بغیر ملنا محال ہیں۔ عربی کے ایک شعر کا مصرعہ ہے:
لَو لَا المَشَقَّۃ سَادَ النَّاسُ کُلُّھُم!
’’اگر مشقت نہ لگتی، تو سب انسان ہی سرداری وسیادت پالیتے!‘‘
جی ہاں! سرداری پانے، انسانیت کی امامت کا مستحق بننے، اللہ کی خلافتِ ارضی کا منصب سنبھالنے،آنے والی نسلوں تک اپنا ذکرِ خیر باقی رکھنے ، قربِ الٰہی کے اعلیٰ ترین مقامات پانے اور جنتِ فردوس کے وسط میں ،جوارِ رب میں گھر لینے کے لیے مشقتیں جھیلنی پڑتی ہیں۔ آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
’’أَلَا إِنَّ سِلْعَۃَ اللَّہِ غَالِیَۃٌ، أَلَا إِنَّ سِلْعَۃَ اللَّہِ الْجَنَّۃُ .‘‘1
’’جان لو !اللہ کا سامان بہت مہنگا ہے، جان لو کہ اللہ کا سامان جنت ہے۔‘‘
جان لیجیے!کہ اللہ جل شانہ جو سامان اپنے بندوں کے سامنے بیچنے کے لیے پیش کر رہے ہیں ، اس کی قیمت بہت زیادہ ہے یہی قیمت بیان کرتے ہوئے تو سورۂ توبہ میں کہا گیا:
’’اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے، وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پھر قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے ہیں۔‘‘
سبحان اللہ!کیسا مشکل ، مگر عمدہ سودا ہے!اورجس کے لیے اللہ یہ سودا آسان کر دیں، اسے یہ سودا چھوڑنے، یہ عہد توڑنے ہی میں ہلاکت نظر آتی ہے۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ،عصرِ حاضر کی اس مبارک جہادی تحریک ہی کی مثال لے لیں کہ جس نے عالمی صلیبی صہیونی مشرک اتحاد کو اللہ کی تو فیق سے ناکوں چنے چبوائے ہیں اور امتِ مسلمہ پر آنے والی اس بدترین یلغار کے آگے نصرتِ الٰہی سے بند باندھا ہے۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والے وہ روشن ستارے جن کا نام ِ نامی ان شاء اللہ اب انسانی تاریخ کا ان مٹ جز بن چکا ہے اور جن کے احسانات سے مسلمانوں ہی نہیں ، کافروں کی بھی آنے والی نسلیں کبھی سبک دوش نہیں ہو سکیں گی ……ان میں سے ہر ایک نے اپنے سینے پر ایسے زخم سجا رکھے ہیں ،جو ان شاء اللہ روزِ محشر وہ تمغے ہوں گے جو انہیں باقی انسانیت سے ممتاز کریں گے۔
امیرِ مجاہدین، امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی مثال لیں تو آپ نے روسی ریچھ کے خلاف جہاد میں اپنی ایک آنکھ کی قربانی دی، اپنے سگے بھائی کو اللہ کے رستے میں پیش کیا ……جو طالبان کے عہدِ امارت میں قندھار میں دشمن کے ایک حملے میں شہید ہوئے، آپ کے متعدد قریبی رشتہ داروں نے جامِ شہادت نوش کیا، آپ کے اہل و عیال اور رشتہ داروں پر طرح طرح کی آزمائشیں وتکالیف آئیں، افغانستان پر صلیبی یلغار کا آغاز آپ ہی کی رہائش گاہ پر بم باری سے کیا گیا ۔
شہیدِ ملت شیخ اسامہ بن لادن رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھیے تو آپ ؒ نے پہلے اپنے محبوب وطن ، ارضِ حرمین سے ہجرت کی،ناز و نعم کی زندگی کو ترک کر کے جہاد و رباط کی کٹھن راہ کو اختیار کیا، سارا مال اللہ کی راہ میں لٹا دیا،سقوطِ امارت کے بعد اپنی اولاد اور گھر والوں سے سالوں پر محیط دوری برداشت کی، عجیب ضبطِ نفس و صبر کے ساتھ ساری دنیا سے کٹ کر چار دیواری کے اندر ایک پوری دہائی گزاری ، آپ کی ایک اہلیہ اور کچھ بچے ایران میں قید ہوئے، گھر کے کچھ افراد دنیا کے دیگر حصوں میں بکھر گئے، پورا خاندان منتشر ہو گیا، ایک بیٹا ڈرون حملے میں شہید ہوا، ایک بیٹی ہجرت کی راہوں میں فوت ہوئی، داماد بھی کچھ عرصے بعد شہید ہو گیا، پھر اس تاب ناک کہانی کا انجام بھی ایسا ہی ہوا اور آپ ؒنے اپنے ایک بیٹے سمیت شہادت کا جام نوش کیا، آپؒ کی دو اہلیہ اور نواسے نواسیاں قید ہوئے اور یوں قربانی کی ایک ایسی عجیب داستان رقم کر کے محسنِ امت، رب کے پاس جا پہنچا۔
شیخ اسامہ رحمہ اللہ کے جانشین، شیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے مصر کے سب سے عالی نسب ، معزز اور غنی خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھنے کے باوجود تکالیف و خطرات سے پر یہ راہ چنی۔ آپ نے اپنی جوانی میں مصر کی ظالمانہ جیلوں میں طویل قید کاٹی، پھر ہجرت کی راہوں میں افغانستان، سوڈان، داغستان سمیت کتنی ہی جگہوں پر در بدر پھرے، آپ کی اہلیہ اور بچے افغانستان پر امریکی حملے کے آغاز میں امریکی بم باری سے شہید ہوئے،آپ کے سگے بھائی انجینئرمحمد الظواہری مصر میں قریباً ۱۷سال جیل میں قید رہے اور حال ہی میں رہا ئی پائی، آپ خود قبائلی علاقہ جات میں امریکی ڈرون حملے میں بال بال بچے، اور گزشتہ تیس سال سے عالمی کفر اور اس کے مقامی آلۂ کاروں کے نشانے پر ہیں اور بار ہا اللہ جل شانہ نے آپ کو دشمن کے چنگل سے بچایا ہے۔ آپ نے شیخ ابو مصعب زرقاویؒ کے نام اپنے ایک خط میں اپنی اہلیہ اور بچوں کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا :
’’میرے محبوب بھائی!آپ کے نام یہ سطور لکھنے والا خود بھی امریکی وحشت و بربریت کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔ امریکی طیاروں کی بم باری کے نتیجے میں میری اہلیہ کی چھاتی پر کنکریٹ کی چھت آکر گری اور وہ بندیٔ خدا مدد کے لیے پکارتی رہی کہ کوئی اس کی چھاتی سے کنکریٹ کی سلیں ہٹا دے ، اور یونہی کراہتے کراہتے اس نے اپنی آخری سانسیں لیں، اللہ کی رحمت ہو اس پر اور اللہ اسے اپنے ہاں شہدامیں قبول فرمائے۔ اسی طرح میری چھوٹی بچی کے دماغ کی رگیں بھی ملبہ گرنے سے پھٹ گئیں اور وہ پورا دن تکلیف میں تڑپنے کے بعد شہید ہوئی۔ آج تک مجھے یہ نہیں معلوم کہ میری اہلیہ، میرے بیٹے اور میری بیٹی کی قبر کہاں ہے، یا ان تین دیگر خاندانوں کی قبریں کہاں ہیں جو ان کے ساتھ شہید ہوئے اور کنکریٹ کی چھتوں تلے کچلے گئے، اللہ کی رحمت ہو ان سب پر اور مسلمانوں کے تمام شہداپر۔ بلکہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کو کسی نے ملبے تلے سے نکالا بھی یا وہ آج تک اسی تلے دفن ہیں؟‘‘
سرزمینِ خراسان میں القاعدہ کے مسئولِ عام، شیخ سعید(مصطفی ابو یزید) مصری رحمہ اللہ نے ہجر ت کی پُرصعوبت اور طویل زندگی کاٹنے کے بعد، بالآخر اپنے بیش تر خاندان کو اللہ کی راہ میں ایسا کٹوایا کہ شیخ اسامہ رحمہ اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی کہ یہ شخص ہمارے دفاع میں اپنی جان اور اہل و عیال قربان کر گیا!آپ نے نہ صرف خود امریکی ڈرون طیاروں کی بم باری میں جامِ شہادت نوش کیا، بلکہ آپ کے ساتھ آپ کی اہلیہ اور متعدد بیٹے بیٹیاں بھی شہید ہو گئے۔ یہی نہیں، بلکہ آپ کی شہادت کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ کے دو نوجوان بیٹے بھی یکے بعد دیگرے جامِ شہادت نوش کر گئے اور یوں تقریباً بیش تر خاندان ہی سنتِ اسماعیلی زندہ کر کے رب کے دربار میں جا پہنچا۔
استاد المجاہدین، بارود اور کیمیائی مواد کے ماہر، شیخ ابو خباب رحمہ اللہ ہجرت و جہاد کی زندگی میں کئی دہائیاں گزارنے اور کئی بار روسی اور پھر امریکی حملوں میں بچنے کے بعد، بالآخر ساٹھ سال سے زائد عمر میں، جب آپ شوگر، ہائی بلڈ پریشر، گھٹنوں اور کمر کی تکلیف سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھے، دشمن کے حملے میں شہید ہوئے، اور اس حال میں کہ آپ کا ایک معصوم سا ، ۱۲، ۱۳ سالہ بیٹا، اس سے بھی کم سن نواسہ اور آپ کا داماد ساتھ شہید ہوئے، جب کہ آپ کی اہلیہ شدید زخمی ہوئیں۔نیز شہادت کے وقت آپ کی پہلی اہلیہ اور آپ کا بڑا بیٹا بھی طویل عرصے سے دشمن کی قید میں تھے۔
پرویز مشرف پر حملے کے ایک اہم منصوبہ ساز، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں ترتیب دینے والے عبقری عسکری ذہن، شیخ ابو حمزہ ربیعہ رحمہ اللہ پر بھی دشمن نے دو بار ڈرون حملے کیے۔ پہلے حملے میں آپ کی اہلیہ اور تمام بچے شہید ہو گئے جب کہ دوسری بار آپ اپنے ایک نہایت محبوب دوست اور قریبی ساتھی سمیت جامِ شہادت نوش کر گئے۔
مصر سے تعلق رکھنے والے بزرگ مجاہد اور عسکری ماہر،شیخ عبدالرحمان بی ایم رحمہ اللہ نے بھی نہ صرف خود شہادت کو گلے لگایا بلکہ آپ کے بعد آپ کے تین جوان بیٹے اور تین داماد بھی یکےبعد دیگرے اس راہ میں شہید ہوئے ……یہاں تک کہ آپ کے خاندان میں صرف بیوہ خواتین اور یتیم بچیاں باقی رہ گئیں، اللہ کی لاکھوں رحمتیں ہوں ان سب پر۔
شیخ ابو عکاشہ العراقی رحمہ اللہ نے بھی اپنا خاندان اس راہ میں کٹوایا اور نہ صرف خود شہادت پائی بلکہ صلیبی ڈرون طیاروں نے آپ کے تینوں بیٹوں کو بھی چن چن کر الگ الگ حملوں میں نشانہ بنایا اور یوں آپ کے گھر میں بھی صرف خواتین ہی باقی رہ گئیں۔اللہ ان سے راضی ہو!
خطیب المجاہدین،القاعدہ کی مرکزی شرعی کمیٹی کے ذمہ دار، حق گو عالمِ دین، شیخ ابو یحییٰ اللیبی رحمۃ اللہ علیہ اس حال میں شہید ہوئے کہ چودہ سال سے وہ اپنی اہلیہ اور اپنے بچوں سے جدا تھے، اور آپ کے بیٹے یحییٰ نے تو آپ کو ہوش کے عالم میں سوائے آپ کے ویڈیو بیانات کے، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شہادت سے کچھ دن قبل آپ کو گھر والوں سے رابطے کی کوئی صورت میسر آئی اور آپ انہیں ارضِ ہجرت کی طرف بلانے کا ارادہ کرنے لگے، لیکن اس سے قبل کہ ایسی کوئی ترتیب بن پاتی، آپ کو شہادت کا بلاوا آگیا۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ آپ اس سے قبل امریکی فوج کی قید میں چار کٹھن سال کاٹ چکے تھے اور میدانِ جہاد میں بھی آپ کو نشانہ بنا کر کم از تین بار ڈرون حملے کیے گئے جن میں آپ زخمی بھی ہوئے مگر اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا۔
عبقری قائد ، حکیم ،منصوبہ ساز اوربے مثل فقیہ شیخ عطیۃ اللہ اللیبی رحمہ اللہ نے اپنی اہلیہ اور بچوں کی نگاہوں کے عین سامنے، گھر کے صحن میں شہادت پائی اور آپ کے جسم کے ٹکڑے بکھر گئے۔ اس سے قبل بھی آپ ایک ڈرون حملے میں بال بال بچے جب کہ آپ کا ڈرائیور اور محافظ شہیدہوئے۔ نیزآپ کی زندگی ہی میں ایک اور ڈرون حملے میں آپ کا ایک بیٹا شہید اور ایک بیٹا زخمی بھی ہوا۔
یہ محض چند مثالیں ہیں ان قائدینِ ملت کی جنہیں اللہ نے آخرت سے قبل دنیا میں بھی عالی مقامات سے نوازا ، ان کا ذکر بلند کیا، اہلِ ایمان کے سینوں میں ان کی محبت انڈیلی، اہلِ کفر و ارتداد پر ان کی دھاک بٹھائی اور ان کی کوششوں اور مساعی میں عجب برکت ڈالی ،ان شاء اللہ ان کا اصل مقام و مرتبہ روزِ قیامت عیاں ہو گا جب اللہ کے اذن سے یہ نور کے منبروں پر اور رحمتِ رب کے سائے میں ہوں گے، احسبھم کذلک واللہ حسیبھم۔
یہ مثالیں تو ہم نے محض بطور نمونہ ذکر کی ہیں، ورنہ اس کاروانِ ایمان و عزیمت کے عوام و خواص کی قربانیوں کا احاطہ کرنا کسی کے بس میں نہیں، سوائے اس ربِ علیم و خبیر کے جو اپنے بندوں کا ہر ہر عمل گن گن کر رکھتا ہے اور کوئی ذرہ برابر نیکی بھی جس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ یہ سارا قافلہ اور بالخصوص اس کے قائدین کی صفیں ایسی قربانیوں کی داستانوں سے بھری ہوئی ہیں۔اس قافلے کے راہیوں میں سے ہر دوسرا فرد یا تو کسی شہید کا باپ ہے، یا کسی شہید کا بھائی ، یا کسی شہید کا بیٹا۔ اس قافلے کے بیش ترقائدین جیلوں اور عقوبت خانوں کے ایمانی مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں اور سالوں ان مدارسِ یوسف علیہ السلام میں رب کی معرفت کے اسباق حاصل کرتے رہے ہیں۔ان میں سے بہت سوں کے جسموں پر آپ کو ویسے ہی نشان ملیں گے جیسے نشان بلال حبشی اور خباب بن الارت رضی اللہ عنہما کی پشت پر تھے۔ اس قافلے کے قائدین میں، خواہ وہ عرب ہوں یا ترک، ازبک ہوں یا ترکستانی، پشتون ہوں یا پنجابی وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کا ہاتھ اللہ کی راہ میں قربان ہوا، وہ بھی جن کی ٹانگ ان سے قبل جنت جا پہنچی، وہ بھی جن کی آنکھ اللہ نے قبول فرمائی، وہ بھی جن کا جسم مارٹر کے گولوں یا ڈرون کے پارچوں یا مرتد سپاہیوں کی گولیوں نے چھلنی کیا اور آج بھی ان کے جسموں پر زخموں کے یہ نشان پیوست ہیں بالکل اسی طرح جیسے حضر ت خالد بن ولیدؓ، حضرت عمرو بن عاصؓ اورحضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کے جسم تیر و تلوار کے نشانوں سے سجے ہوتے تھے۔
میرے عزیزو! یہ ہے وہ مشقت بھری راہ جس سے گزر کر عظمت و بلندی ملتی ہے……عالی مقامات نصیب ہوتے ہیں ……اللہ کا قرب اور اس کا دیدار عطا ہوتا ہے۔ یہ ہیں مردوں کے کرنے کے کام!بھلا ایک ٹائر بلند کر کے سڑک پر موٹر سائیکل چلا لینا، بازاروں اور پارکوں میں پرائی خواتین کے تعاقب میں کامیاب ہو جانا،حیا سے عاری عورتوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر ماڈلنگ کر لینا،مخلوط محفلوں میں رقص میں سبقت لے جانا،تالیاں پیٹتے لاکھوں تماشائیوں کے سامنے ایک گیند کو سٹیڈیم سے باہر اٹھا پھینکنا، جسم پر ٹیٹو اور رنگا رنگ نقش و نگار چھید کروا لینا،ملٹی نیشنل کمپنی میں کسی کافر گورے کو سَر سَر کہتے اس کا نوکر بن کر نوکری لینا، سرکاری دفاتر یا کفریہ نظام کی محافظ فوج میں اعلیٰ افسران کی چاپلوسی و خوشامدکر کے گریڈ بڑھوا لینا، پروموشن کروا لینا ……ان میں سے کون سا کام مسلمان مرد کے شایانِ شان ہے؟ ان میں سے کونسی چیز ایسی ہے جو فخر کے قابل ہے؟ اس میں کیا بلندی؟ کیسی عزت؟ اعزاز کی کون سی بات ہے؟ کیا واقعی مسلمان انہی حقیر امور میں، انہی پستیوں میں گرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کے لیے دنیا میں بھیجا گیا ہے؟ اگر مردوں والا دل رکھتے ہو تو جہاد کے میدانوں کا رخ کرو اگر محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور ابو بکر و عمر، عثمان و علی، خالد و ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم کے پیرو کار ہو تو اسلام کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کے لیے جنگ کے محاذوں میں اترو اپنے سے کئی گنا بڑے اور قوی دشمن سے اللہ کے سہارے اور بس اللہ کے سہارے ٹکرا کر دکھاؤ! یہاں قسمت آزماؤ! شاید کہ عظمتیں پا جاؤ!
یقیناسچ کہا، جس نے کہا:لَو لَا المَشَقَّۃ سَادَ النَّاسُ کُلُّھُم!
اور یقیناًسب سے سچی با ت تو میرے رب کی ہے، جس کا فرمان ہے:
لَوْ کَانَ عَرَضًا قَرِیبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لَاتَّبَعُوکَ وَلَکِنْ بَعُدَتْ عَلَیْہِمُ الشُّقَّۃُ وَسَیَحْلِفُونَ بِاللَّہِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَکُمْ یُہْلِکُونَ أَنْفُسَہُمْ وَاللَّہُ یَعْلَمُ إِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (سورۃ التوبۃ:۴۲)
’’اگر مال غنیمت سہل اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو یہ تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے لیکن ان کو بہت دور لگا یہ کھٹن راستہ (تو عذر کرنے لگے)۔ اور اب تو یہ اللہ کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم میں قوت اور طاقت ہوتی تو ہم یقیناً آپ کے ساتھ نکلتے، یہ اپنی جانوں کو خود ہی ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اوران کے جھوٹا ہونے کا اصل علم اللہ کو ہے۔‘‘
٭٭٭٭٭
1 سنن الترمذی، کِتَاب صِفَۃِ الْقِیَامَۃِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،بَاب مَا جَاء َ فِی صِفَۃِ أَوَانِی الْحَوْضِ






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



