اس تحریر میں کچھ ایسے واقعات ہیں جو مجھے کبھی نہیں بھولتے ان میں سے کچھ تو میرے ساتھ پیش آئے یعنی میں نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کچھ دوسروں سے سنے۔ یہ واقعات کسی خاص موضوع سے تعلق نہیں رکھتے؛ ان میں مجاہدین کے ایثار، بہادری، تقویٰ وغیرہ کے واقعات ہیں، کچھ انصار کے مہاجر مجاہدین کے ساتھ محبت کے قصے ہیں اور کچھ کافروں کے مظالم کی داستانیں بھی۔ بس ملے جلے واقعات ہیں ، اللہ سے دعا ہے کے وہ اس تحریر کو اپنے حضور قبول فرما لے، آمین۔ (ابرار احمد)
سیف اللہ بنگلہ دیشی کی ارضِ جہاد کی جانب ہجرت اور شہادت کا سفر
یہاں جس شہید بھائی کی ارض جہاد کی طرف ہجرت کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے ، وہ شہید بھائی نے راقم کو خود سنایا۔ اس واقعے کو بیان کرنے کے بعد وہ تشکیل پر روانہ ہو گئے اور تشکیل کے ساتویں روز امریکی فوج سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ بنگلہ دیش سے ارض جہاد کی طرف ہجرت کا واقعہ انہوں نے کچھ اس طرح بیان کیا :
میں امریکہ میں پیدا ہوا ، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ میرے والد امریکی حکومت میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے ، مگر جب میرے والد نے دیکھا کہ ان کی اولاد جوان ہو چکی ہے تو انہوں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایک مسلمان گھرانہ کفار کے ماحول میں رہے، جہاں ہر جگہ لادینیت، عریانی اور فحاشی کا دور دورہ ہو۔ میرے والد کلمۂ لا الہ الااللہ کو بچانے کی خاطر واپس اپنے ملک بنگلہ دیش منتقل ہو گئے۔ یہاں آنے کے بعد تعلیم کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میرے کچھ دوست بھی بن گئے؛ انہی میں سے ایک دوست اکثر مجھے نماز کےلیے بھی لے جایا کرتا۔ نماز کے بعد ہم اکثر تعلیم (مجلسِ درس)میں بیٹھتے۔ یوں میں نماز باقاعدگی سے پڑھنے لگا ۔ ساتھ ساتھ میں نے کراٹے کی کلاسز میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ محنت اور شوق سے میں کراٹے سیکھتا تھا ۔ وہاں میرے کچھ نئے دوست بنے جو مجھے دنیا میں مسلمانوں کی مظلومیت اور حالت زار کے متعلق بھی بتاتے کہ ہر جگہ مسلمان پِس رہے ہیں، قبلۂ اول مسجد اقصی یہودیوں کے قبضہ میں ہے، نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے……۔ الغرض یہ سمجھایا کہ آج پوری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے۔ اللہ نے مجھ پر رحم کا معاملہ فرمایا اور آہستہ آہستہ یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی۔ اب میں ہر وقت مظلوم امتِ مسلمہ کے بارے میں سوچ کر اور وہاں کے نام نہاد مسلمان حکمرانوں کی بےغیرتی پر کڑھتا رہتا۔ آخر کار میں نے بہت سوچ بچار کے بعد جہاد کی سرزمین کی طرف ہجرت کا پختہ ارادہ کرلیا اور اس کی تیاری شروع کر دی۔ میں ہر وقت یہ سوچتا رہتا کہ میں کسی طرح مجاہدین اسلام سے جا ملوں۔ اسی اثنا میں یمن کے مجاہدین کے پاس جانے کی ترتیب بنی جس کے لیے میں ملائیشیا چلا گیا اور وہاں ایک یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ ساتھ ساتھ کوشش بھی جاری رکھی ۔ کچھ ماہ بعد یمن جانے کی ترتیب بوجوہ ترک کرنی پڑی۔ یقیناً اس میں اللہ کی طرف سے خیر ہو گی ۔
اب میں نے انٹرنیٹ کے ذریعے مجاہدین سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، کیونکہ میرا اپنے ملک کے ساتھیوں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ بذریعہ انٹرنیٹ کچھ معلومات ملیں اور اس میں چند ماہ کا عرصہ گزر گیا۔ یہ ایک ترتیب تھی جس کے مطابق میں نے ایک سیّاح کا کَوَر بنایا اور چین کی طرف سفر کیا اور وہاں سے گھومتا ہوا ایک جگہ سے پاکستانی سرحد میں داخل ہوا اور وہاں سے لاہور پہنچ گیا۔ اب مجھے ہوٹل پہنچ کر کچھ معلومات لینی تھیں کیونکہ میرا کسی سے رابطہ نہیں تھا۔ بس یہ معلوم تھا کہ پاکستان میں ایک علاقہ وزیرستان ہے جہاں مجاہدین ہوتے ہیں۔ ہوٹل جانے کےلیے میں رکشہ میں سوار ہوا اور ڈرائیور سے کہا کے فلاں ہوٹل لے چلو۔ میں چونکہ سیّاح کے کور میں تھا اس لیے میں نے تھری پیس سوٹ پہنا تھا اور سگریٹ کی ڈبی میرے ہاتھ میں تھی تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ سفر کے دوران ڈرائیور نے مجھ سے کہا کہ آپ تو مسلمان ہیں اور آپ جہاں جا رہے ہیں وہاں اکثر غیر مسلم ہوتے ہیں، آپ کو کھانے پینے میں مشکل ہو گی، اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو کسی دوسرے اچھے ہوٹل لے چلوں جہاں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
میں نے تھوڑا سوچ کر اثبات میں جواب دیا۔ کافی دیر بعد ڈرائیور نے ایک بار پھر خاموشی کو توڑا اور اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سگریٹ تو ٹھیک چیز نہیں ہے، نشہ آور چیز ہے۔ اس کا بھی میرے پاس ہاں کے علاوہ کوئی جواب نہیں تھا۔ سفر جاری رہا۔ میں نے سوچا کہ ڈرائیور پکا مسلمان اور ایمان دار لگتا ہے کیونکہ پہلی بات اس نے عقیدۂ الولاءوالبراء کے حوالے سے کی اور دوسری بات امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی تھی۔ میں نے سوچا کیوں نہ اس کو سب کچھ بتا دوں کہ میرا پاکستان آنے کا اصل مقصد کیا ہے؟! ابھی میں اس سوچ میں تھا کہ ڈرائیورنے مجھ سے کہا کہ ہوٹل آگیا ہے تو میں نے اس سے کہا کہ اکٹھے کھانا کھاتے ہیں اور مجھے تم سے ایک کام بھی ہے۔ کھانے کے دوران میں نے اسے سب کچھ بتا دیا اور کہا بس مجھے کسی طرح جہاد کی سرزمین پر پہنچا دو ۔ ابھی میں نے بات مکمل بھی نہیں کی تھی کہ وہ رونے لگا، اس نے مجھ سے کہا کہ پہلے میرے گھر چلتے ہیں وہاں تفصیل سے بات کریں گے۔ گھر پہنچ کر اس نے مجھے شلوار قمیض پہننے کو دی اور مجھے تھوڑی دور ایک دکان پر لے گیا اور اس دکان دار کو کچھ سمجھا یا۔ دکان دار کے پاس میں تین راتیں رکا ۔ چوتھے دن ڈرائیور آگیا اس نے مجھے اگلے سفر کی تفصیلات بتائیں ۔
رکشہ ڈرائیور نے بہت بڑی قربانی دی تھی۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور چار بیٹیاں تھیں اور وہ خود اکیلا کمانے والا تھا۔ جو دن میں کماتا اس سے رات میں بچوں کا راشن لاتا۔ مگر وہ اب رکشہ دو سے تین دن کےلیے گھرچھوڑ کر آیا تھا کیونکہ وہ مجھے جہاد کی سرزمین وزیرستان بھجوانے کے لیے میرے ساتھ سفر پر روانہ ہو رہا تھا اور وہ فقط رضائے الٰہی کے حصول کےلیے سب کر رہا تھا۔ اس میں اس کا کوئی ذاتی فائدہ نہ تھا بلکہ الٹااس کو نقصان ہو سکتا تھا مگر وہ خطرہ مول لے کر صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مجھےلے کر روانہ ہوا ۔ ایک دن کا سفر طے کر کے ہم دوسرے شہر پہنچے جہاں اس نے مجھے ایک مولوی صاحب سے ملوایا اور پوری تفصیل بتائی۔ جب مولوی صاحب کو سب بتا چکا تو مجھ سے الوداعی ملاقات کر کے دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔ یہ مولوی صاحب مجھے اگلے دن عصر کے وقت لے کر سفر پر روانہ ہوئے اور ہم نے رات دس بجے تک گاڑی پہ سفر کیا اور اس کے بعد پیدل کا سفر شروع ہوا۔ بقول مولوی صاحب دوگھنٹے بعد پاکستانی فوج کی پوسٹ ہے جس کو ہم تھوڑا سائیڈ سے عبور کریں گے۔ یہ راستہ انتہائی خراب تھا۔ زمین پتھریلی اور جھاڑی دار تھی۔ خراب راستے کے باعث میرے جوتے بھی پھٹ گئے اور میں ننگے پاؤں سفر کرتا رہا۔ نوکیلے پتھر اور جھاڑیوں کی وجہ سے میرے پاؤں خون آلود ہو چکے تھے مگر دل میں ایک جذبہ تھا کہ کسی طرح مجاہدین تک پہنچ جاؤں اس لیے مجھے کوئی غم نہیں تھا !
تقریباً فجر کے قریب ہم وانا پہنچے۔ یہ دسمبرکا مہینہ اور سال ۲۰۱۱ء تھا ۔ وہاں میں ملا نذیر شہیدؒ کے ساتھیوں کے پاس پہنچا۔ وہاں پر چند دن گزرے تھے کہ انہوں نے مجھے میران شاہ بھیج دیا۔ یہاں مجاہدین نے میری جانچ پڑتال کے بعد، جو کہ ضروری تھی، مجھے میرے ساتھیوں کے پاس، جو بنگلہ دیش کے ساتھیوں سے رابطے میں تھے ، پہنچا دیا ۔
سیف اللہ بنگلہ دیشی بھائی نے یہ واقعہ مجھے شمالی وزیرستان کے ایک مرکز میں اس وقت سنایا جب وہ کماندان طارق بنگالی بھائی (شہید سہیل بھائی) کی طرف سے تشکیل پر جانے کے امر کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ یہ ۲۰۱۳ء کی گرمیوں کے دن تھے جب واقعہ سنانے کے بعد مخابرے کے نمبر پر ان کو طارق بھائی ؒکی طرف سے کہا گیا کہ تشکیل تیار ہے آپ گھنٹے تک دتہ خیل (جو افغان بارڈر سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے) پہنچ جائیں۔ یہ سنتے ہی سیف اللہ بھائی پرجوش انداز میں اٹھے اور انتہائی خوشی سے سب سے گلے ملنے لگے اور بندوق اور جعبہ سینے پر سجا کر رخصت ہو گئے۔ مجھ سے جب وہ مل رہے تھے تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ملاقات آخری ہو گی اور پھر اس دنیا میں یہ معصوم سا چہرہ میں کبھی نہ دیکھ پاؤں گا ۔
سیف اللہ بھائی کی تشکیل کا ساتواں روز ہو گا کہ جب امارت اسلامیہ افغانستان کے مجاہدین نے امریکہ اور ان کی اتحادی افواج پر بڑے حملے کا ارادہ کیا۔ یہ امریکی کیمپ افغانستان کے صوبے پکتیکا میں تھا۔ سیکڑوں مجاہدین حملہ آور ہونے کےلیے مختلف گروپوں میں روانہ ہوئے۔ سیف اللہ بھائی چند ساتھیوں کے ساتھ تعارضی (دھاوا بولنے والے)گروپ میں تھے اور ان کے پاس راکٹ لانچر تھا۔ قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ سفر کے دوران ہم نے بہت کوشش کی کہ ہم ان سے راکٹ لانچر لے لیں کیونکہ سفر بہت تھکا دینے والا تھا ، اونچے اونچے پہاڑ تھے۔ مگر سیف اللہ بھائی ؒ اپنے بندوق جعبے سمیت راکٹ لانچر جس کے ساتھ پانچ گولے بھی تھے سارا سفر چلتے رہے(یہ کافی زیادہ وزن ہوتا ہے اور یہ سب اٹھا کے کسی کارروائی میں جانا جب آپ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی اٹھانے والا نہ ہو بہت مشکل کام ہے ) اور صرف یہ کہا کہ میں اپنا اجرو ثواب ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ رات کے وقت مجاہدین حملے کی جگہ پہنچ گئے اور رات تین بجے کے قریب جنگ شروع ہو گئی۔ ابتدائی پندرہ منٹ میں ہی دو دفاعی مورچے فتح ہو گئے۔ سیف اللہ بھائی اور دیگر ساتھی آگے دیگر دفاعی مورچوں کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اسی اثنا امیر صاحب کی طرف سے امر آیا کے مجاہدین دشمن کی پوسٹ سے دور ہٹ کر پہاڑوں میں محفوظ جگہ پر پناہ لے لیں کیو نکہ امریکی طیارے قریب آگئے ہیں۔ عموماًایسا ہی ہوتا ہےکہ جب امریکی زمینی طور پر مجاہدین کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو وہ فضائی سہارا لیتے ہیں اور اندھا دھند بمباری کرتے ہیں۔ ایسا یہاں پر بھی ہوا۔ مجاہدین ابھی نکل نہیں پائے تھے کہ بمباری شروع ہو گئی جو صبح تک جاری رہی۔ اس بمباری میں دیگر بہت سے مجاہدین کے ساتھ سیف اللہ بھائی ؒ بھی اپنے رب سے جا ملے ۔
وہ شہادت کہ جس کی خاطر وہ کئی ممالک کا سفر طے کر کے آئے تھے، آخر ان کو مل ہی گئی اور ان کا یہ کٹھن سفر ایک پر تعیش اور راحتوں والی منزل پر تمام ہوا، ان شاء اللہ!
[اس کہانی میں بیان کردہ ’ارضِ جہاد کی طرف سفر‘ کو ’اصول‘ نہ سمجھا جائے، سیف اللہ بنگلہ دیشی بھائیؒ کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا کہ انہوں نے ایک رکشہ ڈرائیور کو اپنی ساری کہانی سنا ڈالی اور اس نے ان کے لیے ترتیب بھی بنا دی تو یہ ایک استثنائی صورت ہے اور اللہ کی رحمتِ خصوصی ہے۔ اصلاً مطلوب یہ ہے کہ خوب احتیاط کی جائے اور مستند روابطِ جہاد سے جڑا جائے۔ (ادارہ)]



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



