نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 6

by بنتِ طبیب
in ناول و افسانے, نومبر و دسمبر 2020
0

نور سٹیج پر سجی سنوری بیٹھی تھی۔ ہال میں ہر طرف چہل پہل تھی۔ اس کے تمام گھر والے ادھر ادھر دوڑتے پھر رہے تھے۔ اچانک ہال میں شور سا اٹھا اور ارمغان اپنے رشتہ داروں کے جھرمٹ میں ہال میں داخل ہوا۔ اس کو سٹیج پر نور کے برابر رکھی کرسی پر بٹھایا گیا۔ باباجانی اور مصعب اس کے برابر کھڑے تھے۔ ہاجر اور سعد مہمانوں میں گھری اماں کو بمشکل گھسیٹ لائے۔ ارمغان کی امی نے آگے بڑھ کر نور کی انگلی میں انگوٹھی پہنادی کہ اس نے ارمغان کے ہاتھ سے انگوٹھی پہننے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہال مبارک سلامت کے شور سے گونج اتھا۔ نور اچانک ہی ہواؤں میں اڑنے لگی تھی۔ اس کو لگ رہا تھا گویا اس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوں ۔

منگنی کا فنکشن ختم ہوتے ہوتے رات کے دو بج گئے۔ نور کمرے میں داخل ہوئی تو ہاجر پہلے ہی بستر پر دراز آنکھیں کھولے اس کی منتظر تھی۔ اس نے بھی بھاری جوڑا تبدیل کیا اور میک اپ صاف کرکے اپنے بستر پر آگئی۔ ہاجر اپنے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسی کو دیکھ رہی تھی۔

’’خوش ہو؟‘‘ ہاجر نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔

’’ہوں!‘‘ نور دھیرے سے مسکرائی، پھر مشکوک نظروں سے اس کو دیکھنے گی۔ ’’تم رو رہی ہو؟‘‘

’’پتا نہیں!‘‘ اس کی آواز بھرّا گئی اور اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔

نور بے اختیار ہنس دی اور اس کے پاس جاکر اس کو اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ ہاجر بلک بلک کر رونے لگی۔

’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘

’’پتا نہیں!‘‘

اس کو چپ کرا کے وہ واپس اپنے بستر پر آئی اور آنکھیں موند کر لیٹ گئی۔ اس کی زندگی کا ایک نیا اور حسین دور شروع ہوگیا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے زیر لب مسکرادی۔

٭٭٭٭٭

’’فاطمہ! تم سے ایک بات پوچھنی تھی‘‘، نور نے گھاس پر بیٹھتے ہوئے کہا اور بیگ سے عبادہ کی دی ہوئی کتاب نکالی، ’’ذرا اس کا مقدمہ پڑھ کر دیکھنا!‘‘

وہ تو اس کتاب کو بھول ہی چکی تھی کہ کل اپنے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے اس کی نظر اس کتاب پر پڑگئی۔ اس کو پھر سے ایک بھولی بسری بات یاد آگئی جس بارے وہ تحقیق نہ کرپائی تھی۔

نور کی خوش قسمتی تھی کہ فاطمہ اس کے ساتھ یونیورسٹی میں بھی پڑھتی تھی۔ اس لیے اس کو سب سے پہلا خیال اسی کا آیا۔

’’ہوں! کیا پوچھنا چاہتی ہو؟‘‘ فاطمہ نے مقدمہ پڑھ کر سر اٹھایا۔

’’جنگ عظیم اول اور دوم کیوں ہوئی تھیں؟‘‘

’’ہوں! اچھا! …… چلو کوشش کرتی ہوں کہ مختصر اور آسان الفاظ میں بتا سکوں‘‘، وہ دھیرے سے بولی اور کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئی گویا سوچ رہی ہو کہ بات کہاں سے شروع کرے۔

’’اچھا! تو سنو! اس کہانی کا مین کردار خلافتِ عثمانیہ اور اس کے دشمن ہیں اور یہ قریباً قریباً اس کے زوال کی کہانی ہے؛ اس لیے ذرا غور سے سننا کہ یہ موضوع شاید تمہیں خشک لگے‘‘، فاطمہ مسکرا کر بولی۔

’’تم سناؤ! مجھے ویسے بھی ہسٹری (تاریخ) میں کافی انٹرسٹ ہے‘‘، نور دلچسپی لیتے ہوئے بولی۔ اتنے میں ان کی دور اور سہیلیاں صائمہ اور شانزہ بھی قریب آگئیں۔

’’کیا ہورہا ہے گرلز؟‘‘ صائمہ قریب آنے پر بولی۔

’’جنگ عظیم کے حوالے سے بات ہورہی ہے‘‘۔

’’اوہ!…… ویسے کافی خشک موضوع چنا ہے تم لوگوں نے آج‘‘، وہ ہنس کر وہیں بیٹھتے ہوئےبولی، ’’چلو! میں بھی سنتی ہوں‘‘۔

’’خلافت عثمانیہ چھ سو (۶۰۰) سال تک قائم رہی‘‘ ، فاطمہ نے کہنا شروع ہی کیا تھا کہ اس کی بات اچک لی گئی۔

’’یہ تم کیا بتا رہی ہو؟ خلافت اور جنگ عظیم کا آپس میں کیا تعلق ہے؟‘‘ شانزہ اچنبھے سے بولی۔

’’سنو گی تو معلوم ہوگا ناں!‘‘، فاطمہ بات کاٹے جانے پر جزبز ہوتے ہوئے بولی۔

’’اچھا! آگے چلو!‘‘ نور بے قراری سے بولی مبادا پھر کوئی بحث چھڑ جائے۔

’’چھ سو سال تک قائم رہنے والی خلافت میں سینتیس خلفا گزرے۔ آخری خلیفہ کے آنے تک خلافت کافی کمزور پڑچکی تھی اور اس میں بہت سی خرابیاں جنم لے چکی تھیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں دنیا کی محبت نے جڑ پکڑ لی تھی مگر اس سب کے باوجود سلطنت میں شرعی نظام کا بنیادی ڈھانچہ برقرار تھا‘‘، وہ سانس لینے کو رکی اور حاضرین کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے پھر سے گویا ہوئی، ’’دوسری طرف یہود کی یہ حالت تھی کہ اپنی بداعمالیوں کے سبب جب وہ یروشلم سے دوسری مرتبہ جلاوطن کیے گئے تو ان کے مختلف قبائل دنیا میں جہاں سینگ سمایا نکل کھڑے ہوئے‘‘۔

’’یار! اب تم خلافت سے یہود کی تاریخ پر کیسے آگئی؟‘‘ نور حیرت سے بولی۔

’’سنتی جاؤ، سر دھنتی جاؤ!‘‘ فاطمہ مسکرا کر بولی، ’’آخر انھیں ہسپانیہ یعنی سپین میں مسلمانوں کے زیر سایہ پناہ ملی۔ لیکن ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زوال کے ساتھ ہی وہ پھر بے آسرا ہوگئے کہ انھیں مسلمانوں کی وسعت ظرفی کے سوا کوئی پناہ گاہ ملتی بھی تو نہ تھی؛ اور پھر امریکہ دریافت ہو گیا‘‘۔

’’ہائیں! لگتا ہے کہ تم تو آج پوری دنیا کی تاریخ سنا کر چھوڑو گی‘‘، فاطمہ سانس لینے کو رکی ہی تھی کہ شانزہ بول اٹھی۔ فاطمہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور ہولے سے مسکرا دی۔

’’امریکہ کی دریافت سے گویا یہود کی لاٹری ہی نکل آئی۔ نہ صرف انھیں جائے پناہ ملی بلکہ وہ اسے یروشلم کے حصول کی پہلی منزل بھی سمجھتے تھے۔ سنہ ۱۹۰۱ء میں یہودی عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید دوم کے پاس آئے اور ان سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آپ ہمیں فلسطین اور بیت المقدس پر حکومت کرنے دیں تو ہم آپ کو تاحیات ٹیکس دیتے رہیں گے نیز (خلافت عثمانیہ کے مرکز) ترکی کے قرض ادا کرنے اور اس کی معاشی حالت بہتر بنانے میں معاونت کی پیشکش بھی کی…… معلوم ہے کہ سلطان نے کیا جواب دیا؟‘‘

’’ظاہر ہے پیسے ہی لیے ہوں گے ہمارے حکمرانوں کی طرح‘‘، نور ناگواری سے بولی۔ پھر از خود ہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بولی ’’اچھا! تو اس طرح فلسطین یہود کے پاس چلا گیا…… مگر پھر جنگ عظیم کیوں ہوئی؟‘‘

اس کی بات سن کر فاطمہ کو بےاختیار ہنسی آگئی۔ صائمہ اور شانزہ جو آپس میں باتیں کرنے لگی تھیں، اسے ہنستا دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوئیں، جب کہ نور خفت سے فاطمہ کو دیکھ رہی تھی۔

’’کیا ہوا؟ ایسے کیوں ہنس رہی ہو؟‘‘

’’تمہاری جلد بازی پر ہنس رہی ہوں کہ خود ہی نتیجہ اخذ کرلیا۔ اس زمانے میں خلیفہ ذاتی طور پر جتنے بھی گناہ گار ہوں، مگر ان میں مسلم غیرت و حمیت زندہ تھی۔ وہ اہل کفر سے خوف زدہ تھے نہ ہی مرعوب۔ وہ پیسوں کے عوض بکنے والے لوگ نہ تھے۔ بہت سی کمزوریوں کے باوجود اسلام ان کے سینوں میں زندہ تھا۔ وہ ہمارے حکمرانوں کی طرح نہ تھے کہ ایک فون کال پر ہی پورے ملک کے بحر و بر تھالی میں رکھ کر کفار کو پیش کردیں! باوجود اس کے کہ اس وقت ترکی بدترین معاشی حالات سے گزر رہا تھا، سلطان نے کہا ’’تم مجھے دنیا بھر کے خزانے بھی لادو تو میں تمہیں فلسطین کی مٹھی بھر زمین بھی نہ دوں گا۔ …… جس دن خلافت ختم ہوگی تو فلسطین لے لینا! …… یہود نے سلطان کے واضح اور دوٹوک انکار سے جان لیا کہ ان کے لیے فلسطین کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ خلافت ہی ہے۔اس دور میں برطانیہ، روس اور فرانس بھی خلافت عثمانیہ کے خلاف اپنا زور آزما رہے تھے مگر کوئی فریق بھی اپنے اندر اتنی طاقت نہ پاتا تھا کہ وہ اکیلا ہی سلطنت عثمانیہ کو شکست دے سکے‘‘۔

’’اوہ گاڈ!…… کیا کسی زمانے میں مسلمان اتنے سٹرانگ (مضبوط) بھی تھے؟ کاش کہ وہ وقت پھر آجائے!‘‘ نور حسرت بھرے لہجے میں بولی، ’’اچھا! پھر کیا ہوا؟‘‘

’’یہود اور خلافت کے دیگر دشمنوں نے سازشوں اور جنگوں کے ذریعے خلافت کو کمزور کیا، اس کے لیے ان کو مسلمانوں میں سے ہی شریفِ مکہ اور اتاترک جیسے غدار بھی مل گئے۔ اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کو ہمیشہ ان ہی آستین کے سانپوں کی وجہ سے شکست ہوئی ہے‘‘، فاطمہ کے منہ میں کڑواہٹ ہی گھل گئی۔

’’یار! مائنڈ نہ کرنا مگر میں کافی تھک گئی ہوں۔ دماغ سن ہورہا ہے تمہاری تقریر سن سن کر!‘‘ صائمہ نے پہلو بدلتے ہوئے بے زاری سے کہا تو فاطمہ کے چہرے پر تکلیف کی لہر سی گزر گئی۔

’’تم سن رہی ہوتی تو کبھی ایسے نہ کہتی!‘‘ نور تڑخ کر بولی۔ اسے صائمہ کی یوں بلاوجہ مداخلت بہت بری لگی تھی۔

’’مجھے مسلمانوں کے عروج و زوال میں کوئی دلچسپی نہیں!‘‘، اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔

’’ہاں! تمہیں تو صرف شوبز کے عروج و زوال سے غرض ہے‘‘، نور تنک کر بولی تو صائمہ غصے سے پاؤں پٹختی کلاس روم کی طرف چلی گئی۔ بریک کا وقت ختم ہونے میں ابھی پندرہ منٹ باقی تھے۔

’’نور!‘‘ فاطمہ ذرا خفت سے بولی۔

’’چھوڑو اس کو! اس کو تو ویسے ہی فضول بولنے کی عادت ہے…… تم اپنی بات جاری رکھو‘‘، نور بے تابی سے بولی ۔

’’مختصر یہ کہ ان سازشوں کے نتیجے میں عثمانی خلافت پر بھی جمود کے آثار نظر آنے لگے اور ایک سو سال کی سازشوں اور جنگوں کے نتیجے میں دشمن ممالک خلافت کے ماتحت مختلف مسلم علاقوں پر قبضے کرتے چلے گئے۔ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ مگر چونکہ اہل کفر کبھی یکجا نہیں رہ سکتے لہذا جب بھی کوئی ملک خلافت کے کسی بڑے حصے پر قبضہ کرلیتا تو دوسرے ممالک خلافت کا ساتھ دیتے اور قابض ملک کو نکال باہر کرتے، بالآخر جب تمام دشمنوں کے مفادات ایک ہوئے تو جنگ عظیم اول برپا ہوئی اور اس کے نتیجے میں عثمانی خلافت کا سقوط ہوگیا اور امت مسلمہ کا شیرازہ بکھر گیا اور اسلام کی پہلی کڑی یعنی خلافت کی کڑی ٹوٹ گئی!‘‘، نور کو فاطمہ کی آنکھوں میں پانی اترتا محسوس ہوا۔

’’اوہ مائی گاڈ! اِٹ فِنِشڈ آر ٹائم! (اس کے ساتھ ہی ہمارا عروج ختم ہوا!)‘‘ نور شدت غم سے گویا ہوئی۔

’’کیا تم جانتی ہو کہ جنگ عظیم اول میں رائل انڈین آرمی کے پندرہ لاکھ سپاہیوں نے، یعنی برطانیہ کے زیر قبضہ ہندوستان کے مسلم و غیر مسلم فوجیوں نے امت مسلمہ کی خلافت توڑنے کا اعزاز حاصل کیا!‘‘ فاطمہ نے ڈرامائی انداز سے بات ختم کی تو نور شدت کرب سے صرف ’اوہ!‘ ہی کہہ سکی۔

نور ابھی تک اس سانحہ سے اپنی لاعلمی پر اور وہ دونوں ہی امت کے اس نقصان پر رنجیدہ بیٹھی تھیں کہ بریک ختم ہونے کی گھنٹی بج گئی اور ان کو ڈھونڈنے کے لیے آئی شانزہ دونوں کی رونی صورتیں دیکھ کر گھبرا گئی۔

’’کیا ہوا؟ خیر تو ہے؟‘‘

’’نہیں! خیر ہی تو نہیں ہے!‘‘ نور دھیرے سے ہرہلا کربولی، ’’مسلمانوں کا اتنا بڑا نقصان ہوگیا اور ہمیں ابھی تک پتا ہی نہیں!‘‘

شانزہ ان کو عجیب سی نظروں سے دیکھتی اور ’’اچھا! کلاس میں آجاؤ! ‘‘ کہتی واپس لوٹ گئی۔ وہ دونوں بھی بوجھل دل کے ساتھ اٹھیں اور بوجھل قدم اٹھاتے کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔

’آج دنیا کتنی بدلی بدلی لگ رہی تھی!‘

٭٭٭٭٭

’’وہ تو ٹھیک ہے ابوبکر! …… مگر تم اس لیے اتنا ایزیلی (آسانی سے) کرلیتے ہو کہ ……نہیں!…… بھئی تم امریکہ میں جو ہو…… کسی کو کچھ نہیں پتا کہ تم کیا کررہے ہو اور تمہیں ماحول بھی مل گیا ہے‘‘، نور فون کان سے لگائے کچن میں داخل ہوئی۔ ہاجر نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔ ’’ابوبکر! مجھے تو دین کا کچھ علم ہی نہیں! میں کیا کروں؟…… مجھے ان لوگوں کو دیکھ کر رشک آتا ہے جن کو اسلامک ماحول ملتا ہے…… ہوں!…… کیا؟…… مدرسہ؟ ‘‘ نور دبی دبی آواز میں چیخی۔ ہاجر بے دھیانی سے پیالے میں ایگ بیٹر چلانے میں مصروف تھی۔ آج ان کے گھر کچھ مہمان آرہے تھے اور اس وقت وہ تیاریوں میں مصروف تھیں۔

’’ابوبکر! یہ امپاسبل (ناممکن) ہے!…… اماں بابا کبھی اجازت نہیں دیں گے!…… بھئی! تم لڑکے ہو اور لڑکے آزاد ہوتے ہیں اور ویسے بھی ماں باپ کی ساری رسٹریکشنز (پابندیاں) دین پر آکر ایکٹو (فعال) ہوجاتی ہیں!…… نہیں بھئی یہ ممکن نہیں!…… تم خود باباجانی سے بات کرو تو شاید مان جائیں!‘‘ وہ تیز تیز بولتی کیبنٹ سے شیشے کی ڈش نکالنے لگی۔

’’اچھا! ٹھیک ہے، تم بات کرنا! …… آج قاسم انکل اور ان کی فیملی ہماری طرف آرہی ہے!…… ہاں ہاں انھیں بتایا ہے کہ اماں اور باباجانی گھر پر نہیں ہیں…… ہوں!…… ان کا اسلام آباد میں کوئی نہیں ہے اس لیے ہماری طرف آرہے ہیں…… آج ہم بچہ پارٹی ہی ان کے میزبان ہیں!…… اوکے! السلام علیکم!‘‘ نور نے مسکرا کر فون کان سے ہٹایا تو ہاجر ایگ بیٹر بند کرکے اس کی طرف مڑی۔

’’ہاجر! ابھی تک تمہارا کیک نہیں ہوا؟‘‘ وہ اس کے بنائے آمیزے کی طرف دیکھ کر بولی پھر فریج کھول کر پنیر کا ڈبہ باہر نکالا، ’’تمہیں کتنی دیر لگے گی؟ اوون کب فارغ ہوگا میرے لزانیہ کے لیے؟‘‘

’’پہلے تم بتاؤ کہ بھیا کیا کہہ رہا تھا؟‘‘

’’وہ کہہ رہا تھا کہ تم مدرسہ یا پھر کوئی اسلامک سینٹر جوائن کرلو!‘‘، نور قیمے کی تہہ ڈش میں بچھاتے ہوئے بولی۔

’’اف!…… بھیا کو نہیں پتا بابا جانی کا؟…… عبادہ والا معاملہ بھول گئے؟…… اور ہمارے سکارف، عبایا پر یاد نہیں کتنا واویلا کیا تھا!‘‘…… ہاجر اب کیک کا آمیزہ اوون کے اندر رکھ رہی تھی۔

’’ہاں! میں نے اس سے یہی کہا ہے کہ خود بات کرے…… شاید باباجانی مان جائیں…… بیٹوں کی بات اور ہوتی ہے!‘‘ وہ منہ بنا کر بولی اور قیمے کے اوپر پنیر کی تہہ لگانے لگی۔

’’اچھا اگر اجازت مل گئی تو میں بھی جاؤں گی تمہارے ساتھ! ٹھیک ہے؟‘‘

’’اجازت تو ملنے دو!‘‘ نور ہنسی۔ ہاجر جھک کر اوون پر ٹائمر سیٹ کرنے لگی، نور کے ہاتھ بھی تیزی سے چلنے لگے۔ مہمانوں کے پہنچنے میں صرف تین گھنٹے تھے اور کام بہت زیادہ تھے۔

٭٭٭٭٭

’’ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اتنی سی بات پر! …… عقل نام کو نہیں ہے تمہارے اندر!‘‘ باباجانی نے غصے سے نور کی جانب دیکھا تو نوالہ اس کے حلق میں ہی اٹک گیا۔ وہ لوگ اس وقت کھانے کی میز پر بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے کہ دفعتاً بابا کو صبح پیش آنے والا معاملہ یاد آگیا۔

’’مگر باباجانی! میرے لیے تو یہ کوئی چھوٹی بات نہیں……!‘‘ نور نے نوالہ نگلتے ہوئے بمشکل بولنا چاہا مگر باباجانی نے اس کی بات کاٹ دی۔

’’میرے سامنے زیادہ باتیں نہ بناؤ…… مجھے بھی پتا ہے کہ کیا چیز اہم ہے!‘‘ باباجانی درشتگی سے بولے، ’’اصل پردہ انسان کے دل کا ہوتا ہے!‘‘

’’باباجانی! میں کون سا کوئی بہت سخت قسم کا پردہ کررہی ہوں!…… صرف سکارف ہی تو لے رہی ہوں اور اس پر بھی ارمغان کو اعتراض ہے!‘‘ نور بے بسی سے بولی۔

’’مجھے پتا ہے کہ یہ کتنا ’صرف‘ ہوتا ہے‘‘، باباجانی نے ’صرف‘ پر زور دیتے ہوئے کہا ’’ہر جگہ سکارف لے کر پہنچ جاتی ہو!…… شادی ہو یا کوئی فنکشن تمہیں اور ہاجر کو سکارف ہی کی پڑی ہوتی ہے!‘‘

نور نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا مگر اس سے پہلے ہی اماں نے بھی اس کو جھڑک دیا، ’’نور! حالات کی نزاکت بھی کبھی دیکھ لیا کرو!‘‘، وہ بھی غصے میں لگ رہی تھیں۔

’’مگر اماں!‘‘

’’کوئی اگر مگر نہیں! ہم پہلے ہی تم لوگوں کے پردے کی وجہ سے لوگوں کی بہت سے باتیں برداشت کررہے ہیں…… اب تم نیا مسئلہ نہ کھڑا کردینا!‘‘

اماں اور باباجانی حتی الامکان اس پر زور دیتے رہے مگر نور ٹس سے مس نہ ہوئی۔ مصعب اور ہاجر کی حمایت کی وجہ سے بھی اماں بابا وقتی طور پر خاموش ہوگئے تھے۔

’’ہاجر! یہ زیادتی ہے!‘‘ نور تکیے میں منہ چھپائے گھنٹہ بھر سے زاروقطار روئے جارہی تھی۔ ہاجر بھی بوجھل دل لیے خاموش تماشائی بنی اس کو دیکھ رہی تھی۔ ’’بجائے میری طرف داری کرنے کے اماں بابا بھی اس کے طرف دار ہوگئے! …… آخر وہ خود بھی تو یہی چاہتے ہیں ناں کہ میں پھر سے ’ماڈرن‘ ہوجاؤں!‘‘

نور کی منگنی کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ارمغان کا مطالبہ آگیا کہ نور سکارف عبایا اتار کر صرف دوپٹے میں آجائے۔ کچھ عرصہ تو نور اپنے موقف پر ڈٹی رہی ، مگر آخر کب تک۔ ہر طرف سے پڑنے والے شدید دباؤ کے بعد نور کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے اور وہ بادل نخواستہ اس بات پر راضی ہوگئی کہ ارمغان اور اس کی فیملی کے سامنے سکارف نہیں پہنے گی۔

’’ہوں!…… مگر پلیز اب تم یہ رونا تو بند کرو!‘‘ ہاجر بے بسی سے اس کی کمر سہلاتے ہوئے بولی مگر وہ نہ ہلی اور مسلسل روئے گئی۔

’’میں پہلے ہی کب بڑی نیک ہوں!…… ایک اچھا کام کیا اور وہ بھی……!‘‘ اس کی آواز پھر بھرّا گئی۔ ’’ابوبکر صحیح کہتا تھا کہ جب دین پر عمل شروع کروگی تو آزمائش ضرور آئے گی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ سب سے بڑی آزمائش میرے اپنوں ہی کی جانب سے آجائے گی‘‘۔

اس نے اپنا چہرہ اٹھایا تو ہاجر نے اس کی آنکھوں میں تیرتے سرخ ڈوروں اور رو رو کر سوجے چہرے کو دیکھ کر بے اختیار اس کو گلے لگالیا اور بڑی دیر تک پیار سے اس کی کمر تھپتھپاتی رہی گویا اس کو امید دلانا چاہ رہی ہو کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

٭٭٭٭٭

ملک کے حالات تیزی سے تبدیل ہورہے تھے۔ حکومت دعوے کررہی تھی کہ وہ عسکریت پسندوں کا خاتمہ کرچکی ہے جب کہ عسکریت پسند آئے روز نئے سے نئے علاقے فتح کرتے جارہے تھے اور خیبرپختونخوا اور پنجاب کے کافی علاقے ان کے قبضے میں آچکے تھے۔ باقی ملک کے حالات بھی غیر یقینی تھے۔ حکومت اور فوج روز بروز بے بس ہوتی جارہی تھی۔ امریکہ اور بھارت دونوں ہی خطے کے امن کے لیے بہت پریشان تھے۔

ابوبکر بھی روز ہی اپنے والدین کو فون کرکے ملک کے غیر مستحکم حالات کی وجہ سے انھیں کہیں اور چلے جانے کا مشورہ دیتا۔ گھر کے باقی سب بڑے بھی حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور جلد از جلد کچھ کرنے کا سوچ رہے تھے۔

’’تایا جان! آپ جلد فیصلہ کیوں نہیں کرتے؟ پاکستان میں رہ کر اب ہم نے کرنا کیا ہے؟‘‘ بسام بھائی فکرمندی سے کہہ رہے تھے۔

’’بسام! ملک سے باہر جاکر سیٹل ہونا…… وہ بھی ہنگامی بنیادوں پر اور اتنی بڑی فیملی کے ساتھ…… کوئی اتنا آسان بھی نہیں !‘‘ تایا جان سوچتے ہوئے بولے۔

’’بھائی جان! پھر بھی کچھ تو کریں‘‘، باباجانی بھی کافی فکرمند تھے۔

حسب معمول سب ہی تایاجان کے گھر پر جمع تھے اور اس وقت اہم موضوع زیر بحث تھا۔

’’نہیں بھئی! حالات اتنے برے بھی نہیں ہیں!ٹھیک ہوجائے گا سب! …… فکر مت کرو!‘‘

’’بھائی جان! آپ مسئلے کو بہت لائٹ (ہلکا) لے رہے ہیں!‘‘ موحد چچا نے بھی گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے کہا۔

’’ارے بھئی کہا ناں کہ حالات اتنے خراب نہیں ۔ اگر وہ لوگ اسلام آباد تک پہنچ ہی گئے تو ہم بھی دیگر لوگوں کی طرح رہ لیں گے۔ آخر اور لوگ بھی تو ان کے مفتوحہ علاقوں میں رہ ہی رہے ہیں‘‘، تایا جان نے ہنس کر ماحول کی ٹینشن کم کرنا چاہی۔

’’ان کی سختیاں دیکھیں گے ناں جب تو پچھتائیں گے!‘‘ باباجانی چبا چبا کر بولے ’’ان حالات میں زندہ رہنے سے تو مرجانا ہی بہتر ہے…… اتنی پابندیوں کے ساتھ زندگی گزارنے کا کیا مزہ؟‘‘

’’اچھا بھئی! ابھی تو چھوڑو! فکر مت کرو! چلو چل کر کھانا کھاتے ہیں‘‘ تایاجان بات ختم کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ باقی سب بھی ان کے ساتھ اٹھ گئے۔

حالات سے متعلق ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ حالات سنگین تر ہوگئے اور بالآخر امریکہ اور بھارت کو مشترکہ طور پر مداخلت کرنا ہی پڑی۔

٭٭٭٭٭

مصعب ہاتھوں میں اپنا سر تھامے کرسی پر بیٹھا تھا۔ باباجانی اور اماں کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔

’’ اس بات کا کیا ثبوت ہے؟‘‘ باباجانی کی پیشانی پر بل نمودار ہوگئے تھے۔

’’باباجانی! میرے پاس کوئی ثبوت تو نہیں…… ادھر ادھر سے کچھ باتیں سنی ہیں بس اسی وجہ سے مجھے پریشانی لاحق ہوئی‘‘۔

’’دیکھو بیٹا! یہ ادھر ادھر کی باتوں پر مت جایا کرو۔ لوگوں کو جب کسی سے حسد ہوتا ہے تو وہ ایسے ہی شوشے چھوڑتے رہتے ہیں‘‘، باباجانی اس کو سمجھانے لگے۔

’’مگر باباجانی!……‘‘

’’مصعب!‘‘ باباجانی کرختگی سے اس کی بات کاٹ کر بولے، ’’کچھ لوگوں کو اس کا ہمارے گھر رشتہ ہونا اچھا نہیں لگا ہوگا، اسی لیے اس کے بارے میں مشہور کردیا کہ وہ غلط قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہے اور نشہ کرتا ہے وغیرہ …… تمہیں تو پتا ہی ہے کہ اس کی جاب جس قسم کی ہے اس میں ایسی حرکتوں میں ملوث ہونا معمول کی بات ہے‘‘۔

مصعب بے چینی سے پہلو بدلتا رہا۔ اماں بغور اس کو دیکھ رہی تھیں۔

’’احمد! آپ کبھی اس کی بھی سن لیا کریں!…… چھوٹا بچہ تو نہیں ہے، جوان بھائی ہے…… نور کا برا تو نہیں چاہے گا ناں!‘‘ اماں قریباً سرگوشی کے انداز میں بولیں، باباجانی کا منہ بن گیا۔

’’ایک تو تم……! سب بچوں کو بگاڑنے میں تمہارا ہی ہاتھ ہے۔ دیکھا نہیں کیسے باپ کے منہ کو آرہے ہیں…… اور تم ہو کہ مزید شہہ دیے جارہی ہو!‘‘ باباجانی نے اماں کو ڈپٹا تو وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔

’’باباجانی! آپ کسی بھی بات کو سیریس (سنجیدہ) کیوں نہیں لیتے؟‘‘ اب کی بار وہ ذرا غصے میں تھا۔ ’’یہ کوئی چھوٹا معاملہ تو نہیں ہے ، نور کی پوری زندگی کا دارومدار ہے اس فیصلے پر۔ آپ کو چونکہ ارمغان پسند ہے اس لیے آپ اس کی کوئی برائی سننے تک پر تیار نہیں ہیں، مگر باباجانی! کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر……‘‘

’’مصعب! بکواس بند کرو! میری نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تم بدتمیزی پر اتر آئے ہو!‘‘ باباجانی اس کی بات کاٹ کر غصے سے دھاڑے، ’’باپ ہوں میں تمہارا! سمجھے تم! اپنی اوقات میں رہو!‘‘

باباجانی کی ڈانٹ کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا، وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔

٭٭٭٭٭

وہ پہلے دن سے ہی کسی طرح اپنے دل کو ارمغان کے حوالے سے مطمئن نہ کرپارہا تھا۔ یہی وجہ تھی کے اس نے ارمغان کے قریبی دوستوں اور جاننے والوں سے اس کے عادات و اطوار بارے تحقیق کرنے کی کوشش کی ، جس کے نتیجے میں اسے جو کچھ معلوم ہوا وہ کوئی بہت حوصلہ افزانہ تھا۔

اس کے قریبی دوستوں اور کزنز کے مطابق خاندان بھر میں اس کی شہرت بہت اچھی نہ تھی اور دیگر برائیوں کے ساتھ ساتھ وہ نشے کا عادی بھی تھا۔ جب سب کچھ بتانے کے بعد بھی باباجانی کے کان پر جوں تک نہ رینگی تو وہ خود کو ہی مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ شاید باباجانی کی بات ہی درست ہو اور اسے غلط معلومات فراہم کی گئی ہوں۔ وہ دل ہی دل میں دعا کرنے گا کہ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔

٭٭٭٭٭

فون کافی دیر سے بج رہا تھا۔ اَن نون (اجنبی) نمبر ہونے کی وجہ سے نور نے فون نہ اٹھایا۔ آخر کافی دیر بعد اس نے فون ریسیو کرہی لیا۔

’’السلام علیکم!‘‘

’’وعلیکم السلام‘‘ ایک مردانہ آواز گونجی۔

’’کون؟‘‘ نور نے جھجکتے ہوئے دریافت کیا۔

’’ارمغان!‘‘

نور کو ایک دم لگا گویا اس کا سانس ہی رک گیا ہو۔

’’فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھیں؟‘‘

’’وہ……! وہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ کا فون ہے‘‘، نور ہکلا کر بولی تو ارمغان بےساختہ ہنس دیا۔

’’اچھا! اب یاد سے فون میں یہ نمبر محفوظ کرلیں…… بلکہ اگر دل ہی میں محفوظ کرلیں تو زیادہ اچھا ہوگا!‘‘ وہ شاید مسکرایا تھا مگر نور کو اس کی یہ شوخی ایک آنکھ نہ بھائی۔ اس کا منہ بن گیا۔

’’جی اچھا!‘‘ بمشکل اپنی ناگواری چھپا کر اس نے مختصراً کہا۔

’’نور!‘‘

’’جی!‘‘

’’کیا ہماری ملاقات ہوسکتی ہے؟‘‘ وہ دھیرے سے بولا تو نور کا بمشکل بحال ہوتا سانس پھر سے اٹکنے لگا اور وہ بے چینی سے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی۔

’’آپ نے جواب نہیں دیا……… شاید آپ کو آنٹی انکل سے اجازت لینا مشکل لگ رہا ہوگا…… میں ان سے بات کروں؟‘‘

’’نہیں نہیں! بالکل نہیں!‘‘ نور گھبرا کر بولی،’’ پلیز اماں بابا سے کچھ نہ کہیے گا‘‘۔ اس کو معلوم تھا کہ وہ تو بلاچون و چرا اس کی فرمائش پوری کردیں گے۔

’’آپ ان کی ناراضگی سے ڈر رہی ہیں؟ فکر نہ کریں، میں معاملہ سنبھال لوں گا‘‘، وہ پراعتماد لہجے میں بولا۔

’ظاہر سی بات ہے وہ مان ہی جائیں گے……‘ اس کا دل کیا کہ اس کے منہ پر کچھ دے مارے۔

’’اچھا!‘‘ اس نے مختصر جواب پر اکتفا کیا۔

’’نور!‘‘

’’جی!‘‘

’’آپ کافی شرمیلی معلوم ہوتی ہیں۔ پہلے تو بہت کانفیڈنٹ (پراعتماد) تھیں!‘‘

اب کی بار حقیقتاً اس کا دل کیا کہ وہ سامنے ہوتا تو اس کا گلا ہی دبا دیتی، مگر وہ خاموش رہی۔

’’مجھے ویسے بھی کانفیڈنٹ لڑکیاں اچھی لگتی ہیں…… عورت کو مرد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنی آنی چاہیے‘‘، اس کی سوچوں سے بےخبر وہ اپنی ہی کہے گیا۔

’صرف اپنے محرم سے!‘ وہ سوچ کر رہ گئی۔

’’شاید آپ کو آپ کے حجاب نے کافی چینج (تبدیل) کردیا ہے‘‘، وہ اپنی ہی دھن میں کہے جارہا تھا۔

’اف!‘ نور نے دانت پیسے۔

’’آپ کچھ بول کیوں نہیں رہیں؟‘‘ اس کی طویل خاموشی محسوس کرکے وہ بولا۔

’’آپ کو …… آپ کو میرے حجاب پر اعتراض کیوں ہے؟ میں نے اتنے شوق سے سکارف لینا شروع کیا تھا‘‘، نور کے منہ سے بےساختہ نکلا۔ اس نے گھبرا کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا گویا خود بھی حیران ہو کہ یہ اس نے کیا کہہ دیا۔

ارمغان جواباً خاموش ہوگیا پھر کچھ دیر بعد گویا ہوا، ’’دیکھیں نور! اصل پردہ انسان کے دل کا ہوتا ہے۔ اور ویسے بھی اب یہ فیشن پرانا ہوچکا ہے (نعوذ باللہ)۔ آج کل ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اب تو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں کہ مذہب پر عمل کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ اب تو آزادی کا زمانہ ہے‘‘۔

نور کی آنکھوں میں آنسو اترنے لگے۔ اس کو معلوم تھا کہ وہ بالکل غلط کہہ رہا ہے مگر وہ اس کو کوئی جواب نہ دے پائی۔

’’آپ پھر خاموش ہوگئیں؟‘‘

’’اگر یہ آزادی کا زمانہ ہے تو کیا مجھے اتنی بھی آزادی نہیں ہے کہ میں حجاب پہن سکوں؟‘‘ آخر ہمت کرکے اس نے کہہ ہی ڈالا۔

’’بھئی! آپ اتنا پریشان کیوں ہورہی ہیں؟ دیکھیں ناں اسی حجاب کی وجہ سے، عورتوں کی جھجک کی وجہ سے ہم ترقی نہیں کرپارہے۔ یورپین ملکوں میں دیکھیں عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں تو ترقی کی راہیں کیسے ان ملکوں پر وا ہوگئیں‘‘۔

نور کا دماغ کھَولنے لگا۔ وہ چیخ چیخ کر اس کو بتانا چاہتی تھی کہ کیوں وہ اسے ایسی گھٹیا آزادی دلانا چاہتا ہے جس کا نتیجہ جہنم ہے۔

’’اب کافی رات ہوگئی ہے، میں سونا چاہتی ہوں‘‘، وہ بے رخی سے بولی۔

’’آپ اتنا جلدی سوجاتی ہیں؟‘‘ وہ اچنبھے سے بولا، گویا گفتگو جاری رکھنا چاہتا ہو۔

’’جی! کیونکہ میں نے فجر بھی پڑھنی ہوتی ہے‘‘، وہ چاہنے کے باوجود لہجے کی ناگواری نہ چھپا سکی۔ ’’ویسے بھی سنت کے مطابق عشا کے فوراً بعد سوجانا چاہیے، اس لیے خدا حافظ‘‘، اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی اس نے فون بند کردیا اور اپنے چہرے پر بہتے بے آواز آنسو پونچھنے لگی۔

٭٭٭٭٭

’’آپ میرے ساتھ یوں جائیں گی؟‘‘ ارمغان نے چبھتی ہوئی نگاہوں سے اس کے عبایا میں ملبوس سراپے کا جائزہ لیا اور قریب کھڑی اماں کو دیکھا۔ ’’آنٹی! آپ نے تو کہا تھا کہ نور اب عبایا سکارف نہیں پہنتی؟‘‘

’’اماں دانت پیستے ہوئے نور کی طرف دیکھنے لگیں گویا کہہ رہی ہوں کہ اب دو جواب! کیونکہ صبح سے گھر میں اس موضوع پر جنگ عظیم جاری تھی۔ نور نے تھوک نگلا۔

’’دیکھیں ارمغان! اگر آپ نے مجھے ساتھ لے جانا ہے تو یوں ہی لے جائیں ورنہ رہنے دیں‘‘۔

ارمغان خشمگیں نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔

’’میں آپ کو اس حلیے میں تو اپنے فرینڈز سے نہیں ملوا سکتا!‘‘ وہ نفی میں سرہلا کر بولا۔

’’مجھے آپ کے کسی فرینڈ سے ملنا بھی نہیں ہے۔ میں ویسے بھی شدید دباؤ کی وجہ سے آپ کے ساتھ جانے پر تیار ہوئی ہوں‘‘، نور کے اندر نجانے اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی۔ شاید کافی عرصے کا غبار آج نکلنے کو تیار تھا۔

ارمغان کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو حیرت ابھری اور پھر اس نے تیکھے انداز میں اپنی بھنویں اچکائیں۔

’’اوکے! ابھی تو چلیں، مگر…… دس از دی لاسٹ ٹائم (یہ آخری دفعہ ہے)! آئندہ آپ کو ویسے ہی جانا ہوگا جیسے میں کہوں گا‘‘، تنبیہی انداز میں انگلی اٹھا کر وہ دھیمے مگر سرد لہجے میں بولا تو نور سہم گئی۔ یقیناً اس نے زیادہ ہی جرأت سے کام لے لیا تھا۔

’’اور جائیں، کم از کم یہ عبایا اتار کر آئیں‘‘، نور قدم آگے بڑھانے ہی لگی تھی کہ اس کی تحکم بھری آواز کانوں سے ٹکرائی۔

وہ خاموشی سے واپس پلٹ گئی۔ عبایا اتار کر صوفے پر رکھا اور سکارف درست کرتے ہوئے باہر آگئی۔ ارمغان گاڑی میں اس کا انتظار کررہا تھا۔

٭٭٭٭٭

’’آخر تمہاری سمجھ میں کیوں نہیں آتا؟ لے کے تماشا بنا دیا ہمارا!‘‘ باباجانی کا غصہ بے قابو ہوچکا تھا۔ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور پورا جسم غصے کی شدت سے لرز رہا تھا۔ نور مصعب کے قریب بیٹھی خاموشی سے آنسو بہا رہی تھی۔

’’اس بے وقوف کو خاندان کی عزت کا کوئی خیال ہی نہیں!‘‘

ارمغان نے باباجانی سے نور کی شکایت کی تھی کہ اس نے اس کی اِنسلٹ (بے عزتی) کی اور کروائی ہے۔ اس کے دوستوں نے سکارف والی منگیتر دیکھ کر اس کا خوب مذاق اڑایا۔ اوپر سے نور کے ارمغان کے دوستوں کے ساتھ سرد رویے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ وہ کافی ناراض تھا کہ نور نے اس کے فرینڈز سے سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔

باباجانی کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو مصعب کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا۔ وہ بپھر کر اٹھ کھڑا ہوا۔

’’آپ لوگوں نے ہی اسے اتنی ڈھیل دی ہے کہ وہ مزید سے مزید چوڑا ہوتا جارہا ہے‘‘، وہ غصے سے بولا، ’’اس کا رشتہ کیا ہے ابھی نور سے جس کی وجہ سے وہ اتنا حق جما رہا ہے؟ ابھی یہ حالت ہے تو کل کو پتا نہیں کیا کرے گا!‘‘

باباجانی پہلی مرتبہ اپنی مخالفت کے باوجود خاموش ہوگئے، شاید مصعب کی بات ان کے دل کو لگی تھی۔ نور نے سر اٹھا کر باباجانی کی طرف دیکھا، وہ گہری سوچ میں تھے۔ اس کی نگاہ کمرے کے ادھ کھلے دروازے پر پڑی جہاں ہاجر اور سعد چپکے سے کان لگائے بیٹھے تھے۔ اس کے دل میں درد کی ایک لہر سی اٹھی۔ باباجانی نے اس کے پردے کا تماشا بنا کررکھ دیا تھا۔

’’مگر مصعب! ارمغان کا مطالبہ کچھ اتنا بڑا بھی نہ تھا!‘‘ کچھ دیر بعد باباجانی دھیرے سے گویا ہوئے۔

’’باباجانی! کیا نور ساری زندگی اپنی سسرال کے ساتھ ساتھ ارمغان کی سوسائٹی کا بھی منہ دیکھ دیکھ کرچلے گی؟‘‘

’’اس میں کون سی بری بات ہے مصعب؟ ہم سب ہی سوسائٹی کو دیکھتے ہیں!‘‘ باباجانی نے اچنبھے سے اس کی جانب دیکھا۔

’’مگر باباجانی! جب معاشرہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے کھڑا ہوجائے تو پھر مسلمان کسی کو نہیں دیکھتا، صرف اللہ کی سنتا اور مانتا ہے‘‘، آخر نور بھی ہمت مجتمع کرکے بولی۔ ’’مجھے اللہ کی مرضی کے مطابق……‘‘

’’نور! فضول باتیں مت کرو۔ دنیا میں رہنا ہے تو لوگوں کے منہ بھی دیکھنے پڑتے ہیں‘‘، اماں اس بحث میں پہلی مرتبہ شامل ہوتے ہوئے بولیں۔

’’مگر جب اللہ کا حکم آجائے تو پھر کسی کی پروا نہیں……‘‘

’’نور! یہ بات تم کس کو سمجھا سکتی ہو؟ کیا ارمغان کو سمجھا سکتی ہو؟‘‘ چیخ چلّا کر باباجانی کا غصہ ٹھنڈا ہوچکا تھا، وہ نور کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔

’’باباجانی! اگر آپ لوگ میرا ساتھ دیں تو وہ اتنا حق نہیں جما سکتا۔ اصل میں تو آپ لوگ مجھے وِیک (کمزور) کررہے ہیں‘‘، نور نے پرامید نگاہوں سے باباجانی کی طرف دیکھا مگر وہ خاموش رہے۔

’’ ایسے لگتا ہے گویا آپ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ نور ان کے رنگ میں رنگ جائے‘‘، مصعب اچانک بولا تو وہ نظریں چرا گئے۔ نور کے دل میں چھناکا سا ہوا۔ ان کے خاموش جواب نے اس کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو امنڈ آئے مگر یہ پہلے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ تھے۔

’’باباجانی! ماں باپ تو اپنے لوفر لفنگے بیٹوں تک کے ساتھ بھی کھڑے ہوتے ہیں…… وہ تو اپنے بچوں کی خاطر لوگوں کے اور ان کے بیچ ڈھال بن جاتے ہیں…… جب تک میں دین سے بے پروا تھی آپ لوگوں کو کوئی اعتراض نہ تھا…… کبھی آپ میں سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ کیوں کیا‘‘، نور بھرائی ہوئی آواز میں بمشکل بولی، ’’پھر اب دین پر عمل کے معاملے میں آپ لوگوں کے دل اتنے سخت کیوں ہوگئے ہیں؟‘‘

’’بیٹا!…… میں تمہارا باپ ہوں…… تمہارا بھلا ہی چاہوں گا ناں!‘‘ نور کو غمگین دیکھ کر باباجانی بھی دکھی ہوگئے۔ ’’مجھے اندازہ ہے کہ تم لوگ دین کے نام پر بڑھتے بڑھتے شدت پسند ہو جاؤگے اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی جینا حرام کردو گے !‘‘

’’تو یہ بات ہے……!‘‘ مصعب کے چہرے پر بھی تکلیف کے رنگ ابھرے۔ ’’باباجانی! صحابہ کرام کو باہر کے کافروں کی طرف سے تو تکلیفیں پہنچتی تھیں، مگر خاندان کے لوگ تو اپنے کفر پر قائم ہونے کے باوجود اپنوں کا ساتھ دیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شعب ابی طالب میں محصور تھے تو ان کے خاندان کے ہر فرد نے، خواہ کافر ہو یا مسلمان، اظہاریک جہتی کے طور پر تکلیف اٹھائی تھی۔ کیا آپ ہمارا اتنا سا بھی ساتھ نہیں دےسکتے؟‘‘

باباجانی اور اماں کے چہروں پر زلزلے کے آثار نمودار ہوگئے۔ باباجانی نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر مصعب مزید کچھ بھی سنے بغیر مڑا اور ہاجر اور سعد کو سائیڈ پر دھکیلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے وہ تیز قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا دکھائی دے رہا تھا۔

نور کچھ دیر یوں ہی گم سم بے بسی کے عالم میں بیٹھی رہی۔ بالآخر وہ بھی خاموشی سے اماں بابا سے نظریں ملائے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔ ہاجر اور سعد فوراً ایک طرف کو سمٹ گئے۔

’’فریحہ!‘‘ کافی دیر کی خاموشی کے بعد کمرے میں باباجانی کی آواز گونجی، ’’کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیاتھا؟‘‘

اماں جواباً خاموش رہیں، بس ہلکے سے شانے اچکا دیے؛ کمرے میں پھر خاموشی چھا گئی۔

(جاری ہے ، ان شاء اللہ)

Previous Post

سلطانیٔ جمہور | قسط نمبر: 12

Next Post

کچھ یادیں | دسمبر و نومبر 2020

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | تیرہویں قسط

1 مئی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | بارہویں قسط

8 مارچ 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
Next Post

کچھ یادیں | دسمبر و نومبر 2020

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version