بچپن جہادِ کشمیر کے ترانے سنتے، گنگناتے، پڑھتے، گاتے گزرا۔ ماں کو دیکھا تو پایا کہ ’مہر‘ میں ملنے والا سونا، انہوں نے جہادِ کشمیر کے لیے وقف کر دیا، ان کے ہر ہفتے کے کتنے ہی روز دروسِ قرآن و حدیث اور ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں کو مجاہدوں کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بنانے کے وعظ میں صرف ہوتے۔ والدِ ماجد کبھی معسکرات کے دورے کرتے، کبھی مجاہدین کے لیے اعانتیں جمع کرتے، کسی ’لاؤڈ سپیکروں سے ’’سجی‘‘سوزوکی‘پر چڑھ کر شہر شہر، قریہ قریہ چکر کاٹتے اور اعلانات کرتے (جنہیں سن کر ایک بار میرے دادا نے امی سے کہا کہ ’بیٹی اس مانگنے والے کو میرا کپڑوں کا ایک جوڑا دے دو‘، دادا ابا کو معلوم نہ تھا کہ ’مانگنے والا‘ ان کا اپنا ہی فرزند ہے)، کبھی کسی ’چوکِ شہیداں‘ پر تقریریں کرتے، جہادِ کشمیر کے لیے تحریضی و دعوتی مضمون لکھتے، اپنے موٹر سائیکل کی ٹنکی پر بٹھا کر مجھے دعوتی و جہادی جلسوں میں لے جاتے، ابھی شاید رینگنے (کرالنگ) کے قابل بھی نہ تھا کہ ایک کھلونا بندوق لا کر اپنے ’مجاہد‘ بیٹے کو دی۔
جہادِ کشمیر ہماری زندگی تھا، یہ ہمارا عشق بھی تھا، جنون بھی، یہی رومانس تھا، یہ بچپن کا کھیل تھا، یہ لڑکپن کا مشغلہ اور یہ جوانی کا عزم ہے، الحمدللہ!
ضلع باغ آزاد کشمیر کی پہاڑیوں میں ہم بچے آدھے ’ہندو فوجی‘ بن جاتے اور آدھے ’مجاہد‘۔ جنگل سے اٹھائی لکڑی سے بندوقیں بناتے، پھر ’ہندو فوجیوں‘ پر دھاوا بولتے اور اللہ کی نصرت سے غالب آ جاتے۔ ہماری نفرت کی اوج کا نام’ہندو فوجی‘ تھا۔ ہم کسی حقیقی ’مجاہد‘ کو دیکھتے تو یوں دیکھتے گویا کسی ’صحابی‘ کو دیکھ رہے ہوں۔ کسی مجاہد سے ملتے تو پوچھتے کہ آپ نے کتنے ہندو مارے ہیں؟ وادی کی کہانیاں پوچھتے؟ وہاں کے چناروں کا، جھیل ڈل کا، پیر پنجال کا، زعفران کے کھیتوں کا، سیب و بادام کے باغوں کا حال پوچھا کرتے۔ ’جموں و کشمیر کے ٹارچر سیلوں‘ کی کہانیاں پڑھتے۔ کبھی ’لہو رنگ پکنک‘ نامی بچوں کے لیے لکھی کہانیوں سے اپنے آپ کو جوڑ کر ’ڈاؤن ٹاؤن سری نگر‘ کے چکر لگاتے تو کبھی اپنے آپ کو ’لال چوک‘ میں کھڑا پاتے۔
فکر یہ ہوتی کہ ہم کب بڑے ہوں گے اور کب پار جائیں گے؟ کب شہادت کی تمنا کشمیر جا کر پوری ہو گی؟!
ہمارے بچپن کے اوائل میں جہادِ افغانستان (ضدِ روس) ختم ہو گیا تھا۔ لیکن وہاں کی کہانیاں ہم سنتے تھے۔ دو ماموں مجاہد تھے، ان سے روسی فوجیوں کی تباہی کی کہانیاں سنتے تھے۔ ’اللہ اکبر‘ نامی ’بم‘ کے استعمال کے قصے سنتے تھے۔ ہم منتظر تھے اور یہ مصرع گنگناتے تھے کہ ’غزنی کے مجاہد جب کشمیر میں آئیں گے…… ‘۔
’کشمیری‘ ہمارے لیے کسی قوم سے نسبت نہ تھی۔ ہم ’کشمیری‘ کو ’مجاہد‘، ’مسلمان‘، ’غیرت مند‘ اور ’بہادر‘ کے مساوی سمجھتے۔ اس لیے ابتدائے بچپن سے ہی نام کے ساتھ لاحقہ ’کشمیری‘ لگا لیا۔ جہادِ کشمیر کے سٹیکر سکول کی کاپیوں پر چسپاں کرتے، بیج سینے پر سجاتے۔
محمد بن قاسم، ٹیپو سلطان، طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر…… یہ سب ہمارے لیے جہادِ کشمیر کے کردار تھے۔ ہم مجاہدوں کی کلاشن کوفوں کو ’مقدس‘ جان کر چھونا اعزاز جانتے۔
اسامہ بن لادن کا نام بھی تبھی سن لیا تھا اور وہ بھی جہادِ کشمیر کے ایک کردار تھے۔ مسجدِ اقصیٰ روتی ہے، امتِ مسلم سوتی ہے کا نعرہ بھی لگاتے اور دل میں یہی خیال آتا کہ مسجدِ اقصیٰ بھی سری نگر میں ہی واقع ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کا سنا، آزاد کشمیر کے ایک گاؤں (غالباً بنڈالہ)میں ہندو فوجی گھس آئے، اہلِ قریہ کو قتل کیا اور دیواروں پر لکھ گئے ’خون کا بدلہ خون‘، یہ بھارتیوں کا لکھا نعرہ ہم نے یاد کر لیا اور زندگی کے شعاروں میں سے ایک شعار بنا لیا اور لڑکپن میں قسم کھائی کہ ہندوؤں سے بدلہ لینا ہے۔ فلسطین سے بھی ہمیں ویسی ہی محبت تھی جیسی کشمیر سے۔ بچپن اور لڑکپن میں ہم کسی القاعدہ کو نہ جانتے تھے، ’عالمی جہاد‘ کا نام نہ سنا تھا لیکن فطرتِ مسلمانی اور ماں باپ کی سادہ و فطری دینی تربیت اور محبتِ جہاد نے ہمیں ’عالمی جہاد‘ سے جوڑ دیا تھا۔
پھر ہم بڑے ہو گئے۔ یہ سب بڑے ہونے کے زمانے کو ’فاسٹ فارورڈ (Fast Forward)‘ کر دیجیے۔ پرسوں اپنی چند سالہ بیٹی کو ’میری امّی اجازت دیں، مجھے کشمیر جانا ہے‘ گاتے دیکھا۔ دل پر تیر آ لگا۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے اور لب پر یہ مصرع آگیا:
؏اے کاشمیر تیری جنت میں آئیں گے اک دن!
وہ جہادِ کشمیر، جس میں عملاً ، باقاعدہ وادی میں اتر کر شامل ہونے سے ہمیں امریکی غلاموں نے اورکارگل کے بھگوڑوں نے روک رکھا ہے، اس ’آزاد جہاد‘ کو کرنے کے لیے ہماری اگلی نسلیں اور نسلوں میں بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی تیار ہو گئی ہیں۔ یہ اسلام کی عظمت کا زمانہ ہے!
یہ ملتِ احمدِ مرسل ہے، اک شوقِ شہادت کی وارث
اس گھر نے ہمیشہ بیٹوں کو مقتل کے لیے تیار کیا!
یہ میری کہانی نہیں، امتِ مسلمہ کے ہر گھر کی کہانی ہے۔ جہادِ کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ…… دادا، بیٹے اور پوتے…… تین نسلیں اس جہاد میں ہم دیکھ رہے ہیں اور یہ تینوں نسلیں زیادہ دور نہیں جب آنکھوں سے غزوۂ ہند کے نتیجے میں یہاں کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑا، وقت کے محمودؒ و بن قاسمؒ کے پیروں میں گرتا، ’بھلی کرو مہاراج‘ کہتا دیکھیں گی،ان شا ء اللہ!







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



