دِیے سے دِیا جلتا ہے!ظلمت کے اندھیرے چھٹتے ہیں جب نئی صبح دستک دیتی ہے۔ نجانے اس سفینے کو کس کی نظر لگ گئی ہےکہ اس میں سوار تو موجود ہیں لیکن منزل سے ناآشنا!!! طوفانی ہواؤں کے تھپیڑے انھیں جدھر چاہتے ہیں لے جاتے ہیں، کسی میں طوفان سے ٹکرانے کا یارا نہیں !!! ان کی ہمت و جذبے برف کی طرح ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، خون رگوں میں جم چکا ہے۔ یہ نیّا کبھی ایک بھنور میں ،تو کبھی دوسرے بھنورمیں پھنستی رہتی ہے اور اس کے سوار اسے ہی اپنا مقدر سمجھ کر، بیٹھے اپنی موت کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ موت کے منہ میں جانے والوں پر صرف افسوس کیا جاتا ہے اور بچے رہنے والے اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں!!!
انھیں میں سے کچھ مردِ مجاہد طوفانی لہروں سے ٹکرانے کے لیے سمندر میں کود پڑتے ہیں۔ جو شرک و کفر کے طوفانوں کو چیرتے ہوئے ساحل تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ابطالِ امت یہ پیغام دیتے ہیں کہ اب اُن ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے گا جو میرے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کے لیے کچھ بھی لکھیں گے۔ چاہے اس کے لیے ہمیں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں یا پھر ہمیں تختۂ دار پر ہی کیوں نہ چڑھا دیا جائے۔
جانیں تو یہاں بھی جاتی ہیں، سانسیں تو یہاں بھی ساتھ چھوڑتی ہیں،لہو تو یہاں بھی زمین کو رنگین کرتا ہے، لیکن اس طرف زمین و آسمان پر ایک ہی نعرہ بلند ہوتاہے، ’یہ چہرے کامیاب رہیں!‘۔
آسمان کیوں نہ سروں پر گِر گیا؟ یہ زمین کیوں نہ پھٹ گئی ؟ جب ہمارے پیارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی گئی؟!اللہ رب العزت کی قسم، لعنت ہے ایسے لوگوں پر جو ہندوستان کے کفری آئین کو میرے نبی ﷺ کی عزت سے زیادہ مقدس سمجھتے ہیں۔ لعنت ہے ایسے لوگوں پر جو گستاخِ رسولﷺ کے خلاف اقدام کرنے والوں کے عمل پر تنقید کرتے ہیں۔ عجیب ہیں ایسے لوگ، جو گستاخِ رسولﷺ پر ہاتھ اٹھانے والے کو قبیح سمجھتے ہیں اور یہ کہتے پھرتے ہیں کہ جو بھی ہو ،قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ربِ کعبہ کی قسم!!! اُن آنکھوں میں کیسے بینائی رہ سکتی ہے؟ اُن زبانوں میں کیسے حرکت باقی رہ سکتی ہے؟ جسموں میں خون کا ایک قطرہ بھی کیسے رہ سکتا ہے ؟ دل کیسے دھڑک سکتے ہیں؟ جب میرے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جائے اور ہم ٹھنڈی آہ بھر کر، خاموش بیٹھے رہیں اور اپنی ’ڈیلی روٹین ‘ ڈسٹرب ہونا گوارا نہ کریں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک کہ اس کو اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ ہو۔‘‘ (بخاری و مسلم)
کہنے کو تو یہ واقعہ تقریبا ً دس سال پرانا ہے لیکن اس میں چھپا سبق قیامت تک کےلیے مسلمانوں کو ان کا فرض یاد دلاتا رہے گا ۔
ایک امتحان اور اس کا نتیجہ
نیو مین کالج ، تھوڈوپزا، کیرالا ، مارچ ۲۰۱۰، بی کام (B. Com) ، دوسرے سال کے امتحان کے پرچےمیں سوال نمبر گیارہ (۱۱) پڑھ کر مسلم طلبہ کے اس وقت پاؤں تلے سے زمین نکل گئی جب انھوں نے اپنے محبوب نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ کلمے دیکھے۔ ٹی جے یوسف (ایک عیسائی پروفیسر) نے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کر کے اپنی دینی نفرت اور ہندوستان کے اس اسٹرکچر کی عکاسی کی ہے جہاں نہ دین محفوظ نہ نبیﷺ کی عزت۔ یہ ایسے کلمات تھے جنھیں کوئی بھی نبی ﷺ سے محبت کرنے والا برداشت نہیں کر سکتا۔ مسلمان طلبہ کے لیے عارضی امتحان کا پرچہ ختم ہوچکا تھا اور دائمی امتحان ان کے سامنے تیار تھا۔ اب کیا ہوگا؟ اب کیا کریں گے؟ اس نبیﷺ کے امتی ، جو اپنی امت کے لیے رحمت ہے۔ اب پتہ چلے گی مردانگی!!! گلی ، کوچوں اور محلوں میں تیز رفتار سے موٹرسائیکل اڑانے والے، جِموں میں اپنی باڈی بناکر شیشے کے سامنے گھنٹوں گھنٹوں اپنے جسموں پر ناز کرنے والے، چند ٹکوں کے واسطے دن رات سروس کرنے والے، رات رات بھر آنکھوں میں تیل ڈال کر پڑھنے والے، فیس بک اور سوشل میڈیا پر گھنٹوں مصروف رہنے والے !!! اس امتحان کے پرچے کو کیسے حل کریں گے؟ کیاوہ امتحان سے بھاگ جائیں گے؟ کیا وہ اس امتحان میں ناکام ہو جائیں گے؟ اور ہاں……یہ امتحان دماغ سے زیادہ دل کے جذبات و احساسات سے حل کیا جائے گا۔ یہ ایسا امتحان ہے جس کا پرچہ پہلے ہی لِیک ہو چکا ہے جس کے سوالوں جوابوں کا آپ کو پہلے سے ہی علم ہے ۔ جس کے لیے کسی قلم، سیاہی کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس پرچے کو خون گرا کر حل کیا جائے گا۔ اس کے لیے گھنٹوں گھنٹوں کتابوں میں آنکھوں کو تھکایا نہیں جائےگا۔ بلکہ اپنے رب کے سامنے آنسوؤں سے دامن کو بھگویا جائے گا۔ اس کا نتیجہ کسی ویب سائٹ یا اخبار میں نہیں دیا جائے گا بلکہ اس کے نتیجے کا اعلان ساتوں آسمانوں پر ہوگا۔ اس امتحان میں کامیابی کے بعد آپ کو صرف ایک کاغذ کا سرٹیفیکیٹ یا چند روپے نہیں ملیں گے، بلکہ بہشت کے دروازے انعام کے طور پر کھول دیے جائیں گے۔
دشمنانِ دین و گستاخانِ رسولﷺ نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ مردہ قوم کے دل اپنے نبیﷺ کی محبت میں کیسے دھڑک سکتے ہیں ؟ انسانیت کے دشمن، فحاشی و عریانی کے پجاری، شاید یہ سوچ کر خوش ہوتے ہوں گے کہ مسلمانانِ ہند کے نبیﷺ کی شان میں کتنی ہی گستاخی کرلو، کتنا ہی کچھ بَک لو ؟ کہیں کچھ بھی نہیں ہوگا!!! اگر ہوا تو اتنا کہ کچھ منہ بولے ہمدرد! گلا پھاڑ پھاڑ کر چیخوائیں گے اور پھر مسلمانوں کے جذبات و غصے کو ٹھنڈا کر کے گھروں کو روانہ کر دیں گے۔ لیکن اب تو مودی انتظامیہ نے یہ بچی کھچی کسر بھی پوری کردی ہے، اب احتجاج بھی کریں گے تو آپ لوگوں کو ’دیش دروہی‘ کے لیبل سے نوازا جائے گا۔
لیکن ہوا کیا؟ وہ ……جس کو دیکھنے کے لیے یہ دھرتی ترس گئی تھی، اب تلک مظلوموں و بے بسوں کے خون سے نہانے والی ہندوستان کی سرزمین ایک بدبخت کا خون بہا کر پکار اٹھی !!!
ایک کارروائی، ایک شروعات
۴ جولائی ۲۰۱۰ء۔ ہم آزاد ہیں، ہمیں بولنے کی آزادی ہے ، ہمارے ساتھ ملک کی سب سے طاقت ور ایجنسی و فوج ہے ، ہمارا کون کیا بگاڑ سکتا ہے ۔ لیکن نہیں!!! ایسی سوچ و فکر پر کاری ضرب لگانے کے لیے آٹھ مردِ مومن سر پر کفن باندھ کر تیار ہو چکے تھے۔ ٹی جے یوسف اپنے گھر سے نکلا ہی تھا، وہ اپنی اومنی وین میں سوار تھا کہ آٹھ مسلمانوں نے اسے گھیر لیا، مسلمان نوجوانوں نے بارود کا استعمال کر کے پروفیسر کے ہوش ہرن کر دیے۔ گھبراہٹ میں پروفیسر کو کچھ بھی سمجھ نہ آیا کہ کروں تو کیا کروں، اتنے میں نوجوانوں نے اسے گاڑی سے پکڑ کر باہر کھینچ لیا۔اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پروفیسر سے سوال پوچھے گئے کہ بتا !!!تو نے میرے پیارے نبیﷺ کی شان میں بکواس کیوں کی؟ بتا !!!تو نے کیا سوچا کہ تو یہ سب کر کے بچ جائے گا؟ بتا !!!کیا تو نے ہم ہندوستانی مسلمانوں کو مردہ و بے حس سمجھ رکھا ہے؟ بتا !!!اب تیرا کیا بنے گا؟ پروفیسر ٹی جے یوسف جواب دیتا تو کیا دیتا؟ وہ تو یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آیا وہ ہندوستان میں ہے یا پھر افغانستان میں۔ جس ہاتھ سے پروفیسر نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی ، ان نوجوانوں نے اس ہاتھ ہی کو کاٹ ڈالا۔
اللہ ان نوجوانوں کو ایمان و ہمت سے نوازے، لیکن حق یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے پر اکتفا کرنا سہو تھا، حق سر کاٹنا تھا، حضرتِ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یمن کی ایک گستاخ عورت کے بارے میں جس کے دانت توڑے گئے تھے، گردن توڑنے کا فرمان صادر فرمایا تھا۔
لیکن یہ پہلو بھی روشن ہے کہ راکھ کے ڈھیر میں ایک چنگاری جلی نہیں، دھماکے سے پھٹی!
یہ صرف ایک کارروائی نہیں بلکہ شروعات ہے ۔یہ صرف ایک حملہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، ان لوگوں کے لیے جو دین اور نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ذرا نہیں سوچتے۔
ہندوستانی عدلیہ و انتظامیہ کا متعصب چہرہ
حملے کے بعد پولس و ایجنسیاں ایسے حرکت میں آئیں جیسے یہ حملہ ان پر کیا گیا ہے اور فوراً ہی گرفتاریوں کا دور شروع ہو گیا۔بات نہ کسی سیاسی جماعت کی ہے اور نہ ہی کسی فلاحی تنظیم کی ہے۔بات نبیﷺ کے لیے قربانی کی ہے۔ اس شخص کے ہاتھ کاٹنے کے جرم میں مسلمانوں کو آٹھ سال تک کی سزا اور آٹھ لاکھ (ہندوستانی) روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ جب کہ جس شخص نے یہ کام کیا اس کا کیا کوئی جرم نہیں؟ جولائی ۲۰۱۳ء کو کیرالا کورٹ نے ٹی جے یوسف کو سبھی الزامات سے بری کر دیا ۔ یہ ہے ہندوستان میں عدل و انصاف!
ہم نہ کسی سیاسی جماعت کے پیروکار ہیں اور نہ ہی یہ سمجھتے ہیں کہ شریعت کو جمہوری نظام کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلام کو صحیح طریقے سے پیش نہ کر کے مسلمانوں نے مجرمانہ غلطی کی ہے۔ ہم تو ہر اس مسلمان کی پیٹھ تھپتھپائیں گے جو نبی کی عزت کی خاطر جان نچھاور کر دے۔ ہر وہ مسلمان مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے جو دین کے لیے مر مٹے۔ تو پھر عزیزو !!! کیوں ہم اس باطل نظام سے امیدیں باندھیں!!! کیوں ناپاک لوگوں کے فیصلہ کا احترام کریں!!! جب میرے نبی کی بات ہو !!! سب کچھ تباہ ہو جائے!!! میں خاک میں مل جاؤں! میرے ماں، باپ قربان ہو جائیں!!کوئی فرق نہیں پڑتا!!!
ہندوستان کی کھلی فضا میں یا یوں کہیں کے ہندوستان کی گھٹی گھٹی سی فضا میں سانس لینا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملک کی آب وہوا سازش، پراپیگنڈے، تعصب، بھید بھاؤ سے آلودہ ہو چکی ہے۔کیا میڈیا، کیا سوشل میڈیا، اخبارات، میگزین وغیرہ وغیرہ کبھی پرو پاکستان، تو کبھی دیش کے غدار، تو کبھی ملا دہشت گرد کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ کل تک محبت ، اخوت، برابری، بھائی چارگی کاراگ ا لاپنے والے آج مسلمانوں کو جرم کے کٹہرے میں کھڑا کیے ہوئے ہیں اور ایک کے بعد ایک الزامات ان پر لگائے جارہے ہیں۔ ان سب میں گھرے ہندوستانی مسلمان حیران و پریشان، فکر میں ڈوبے چاروں طرف پتھرائی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ بھئی! ہم نے آخر کیا کیا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟ہم نے تو تقسیمِ ہند کے وقت آپ کا ساتھ دیاتھا؟ہم نے تو آپ پر اعتبار کیا تھا؟ہم تو آپ کو اپنا ہمدرد سمجھتے تھے؟ تو پھر اب میرے ساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟؟؟
بات ، باتوں تک محدود رہتی تو شاید ہم سہہ لیتے ، لیکن یہاں تو معاملہ حد سے تجاوز کر چکا ہے ۔ جس طرح راستے کے جانور کو لوگ اس وقت تک نظر انداز کرتے ہیں جب تک وہ صرف بھونکنے تک ہی محدود رہتا ہے ، لیکن جب وہ کاٹنے کے لیے دوڑتا ہے تو خلق اپنا دفاع کرتی ہے ، اس سے اپنی جان و مال بچاتی ہے، اس سے نپٹنے کے لیے تیاری کرتی ہے ۔ زخم تو ان کا مقدر بنتے ہیں جو خطر ے کو خطرہ نہیں سمجھتے اور اپنے آپ کو کٹوانے لٹوانے کے لیے پیش کردیتے ہیں۔ ہندوستان میں بسنے والی میری ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کی عزتوں پر عرصۂ دراز سے ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں۔ امت کے نوجوانوں کو قید خانوں میں بند کیا جا رہا ہے، انتہائی عزت کے قابل میرے بزرگو ں کو سرِ عام بے عزت کیا جا رہاہے، مسلمانوں کی خون پسینے کی کمائی اور ایک ایک پائی اکٹھی کر کے بنائی گئی املاک کو چند لمحوں میں تباہ و بر باد کیا جا رہا ہے ۔ امت کے بچےجو کل تک اپنے ماں باپ کا لاڈ و پیار لوٹتے تھے آج در در کی ٹھوکر کھانے پر مجبور ہیں۔
سیدھی بات
ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے یہ سوچ کر جینا کہ ہم تو اقلیت ہیں ، ہمیں تو دب کر رہنا ہے، ہمیں نعوذباللہ شریعت پر، قرآن کریم پر، ہندوستان کے کفری آئین و نظام کو مقدم رکھنے کے سوال کا جواب، مسلمانوں کی دنیا و آخرت کی بربادی ہے۔ زندگی اور اس کا مقصد تو نفاذِ شریعت ہے جس میں ہماری جان و مال سب کچھ محفوظ ہے ۔ تاریخ کے پردے پر ہر نیا و پرانا افسانہ اس بات پر مہر لگاتا ہے کہ مسلمانوں نے سعادت سے جینا اور عزت سے مرنا دین کے راستے پر چل کر ہی سیکھا ہے ۔ اس سے منہ موڑ کر قسمت میں صرف اور صرف رسوائی ہی آئی ہے۔
ہندوتوا کا علم بلند کرنے والوں نے ہندوستا ن میں بسنے والے مسلمانوں پر ایسا یودھ (جنگ) مسلط کیا ہے جس نے مسلمانوں کو جیتے جی مار دیا ہے۔ مسلمانوں کو معاشی، سیاسی، اقتصادی طور پر نڈھال کر دیا ہے اور ان کی تہذیب و ثقافت پر پے در پے حملے کر کے انھیں ادھ موا کر دیا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانون کی گرتی حالت کو دیکھ کر افسوس کرنے والے تو بہت ہیں، مگرمچھ کے آنسو تو دیکھے جا سکتے ہیں لیکن بھلا کوئی مسلمانوں کو موت کے کنویں سے نکلنے کا راستہ بھی بتائے گا۔
سیدھی سی بات ہے جب جان خطرے میں ہو تو دشمن سے کس طرح نپٹا جائے ؟اگر آپ پر کوئی چاقو سے وار کرے ، تو کیا آپ قلم ہاتھ میں اٹھائیں گے؟ اگر کوئی تلوار سے آپ کے بھائی کا گلا کاٹنے آئے تو کیا آپ اس کے سامنے قرارداد پیش کریں گے؟ اگر خدانخواستہ کوئی آپ کی ماں، بیٹی و بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالے ، تو کیا آپ دھرنا و احتجاج کرکے عزتوں کو بچائیں گے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا مقصد قرآن و حدیث کے مطابق طے کریں اور کم از کم ہم اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کرنے والے بن جائیں۔ جس کے لیے ہمیں وقت آنے سے پہلے اپنی تیاری کرنی ہوگی۔
کسی کو چھیڑو نہیں! اگر کوئی چھیڑے تو اسے چھوڑو نہیں!
بس اپنا تو اصول یہ ہے کہ کسی کو چھیڑو نہیں اور اگر کوئی چھیڑے تو اسے چھوڑو نہیں۔ آج ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے واحد راستہ ہی یہی بچتا ہے کہ وہ اپنی تیاری کریں! اپنے دشمن کو اور اس کے مدد گاروں کو پہچانیں، تاکہ وہ ان سے محفوظ رہ سکیں۔
پہلا محاذ کشمیر ہے، وہاں کے مسلمانوں کی نصرت کریں۔ یہ نصرت تیاری کا ذریعہ بھی ہے اور جہادِ ہند کا آغاز بھی۔ وہاں جو فوجی جائے تو وہ جان بچا کر نہ آئے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو بس اس کا سر تن سے جدا ہو۔ میرا اور آپ کا ہندو، جین، سکھ، عیسائی پڑوسی بھلا اور ہمارا رویہ اس کے ساتھ بھلا، لیکن جس نے ہمارے ایمان، عزت، جان یا مال پر ہاتھ ڈالا تو اس کا نہیں بھلا!







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



