ننھا اِبّی جیسے ہی اسکول سے آیا تو اپنی امی کی آنکھوں کو بھیگا پا یا۔ اپنا بستہ رکھ کر جب وہ امی کی طرف پلٹا تو حیران رہ گیا۔ آنسؤوں کے باوجود امی کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ امی نے پیارے ’اِب جان‘ کو اپنی بانہوں میں بھینچ کر پیار کیا لیکن اس معصوم کا استعجاب ختم نہ ہو رہا تھا۔
’امی آپ رو کیوں رہی ہیں؟!!‘
’بیٹا! الحمد للہ آج روسی فوجی افغانستان میں ہار گئے ہیں۔افغانستان میں مجاہدین جیت گئے ہیں۔‘
’اللہ اکبر! اب تو بڑا مزہ آئے گا‘۔
’اچھابیٹے! تم جلدی سے کپڑے بدل لو … ابو بھی آفس سے آنے والے ہیں … پھر تم بھی ابوکے ساتھ ایک جگہ جانا‘۔
ابو دفترسے خوشی خوشی گھر پہنچے اور ابراہیم کو لے کر آبپارہ میں واقع ’مسجدِشہداء‘میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔نمازِ ظہر کے بعدتمام دینی جماعتوں کی طرف سے اسلام آباد میں مسجد شہداء کے مقام پر مجاہدین کی فتح کی خوشی میں شکرانے کے نوافل کا اہتمام کیا گیا تھا۔
ننھا ابی بھی خوشی خوشی کبھی نعرۂ تکبیر کا جواب پوری شدت سے اللہ اکبر کہہ کر دیتا اور کبھی سبیلنا سبیلنا کاجواب الجہاد الجہاد کہہ کر دیتا۔
منظر بدلتا ہے…
۶ستمبر ۲۰۱۶؛ صوبہ زابل کے دور افتاد گاؤں میں ایک کچے مکان کی چھت کے نیچے میرے بڑے بھائی اسامہ ابراہیم رحمہ اللہ نے ہم ساتھیوں کو اپنے بچپن کا یہ سارا واقعہ بڑی گرم جوشی سے سنایا۔ ان کے لہجے کی گرمی یہ بتا رہی تھی کہ امریکی فوج کی نیند حرام کرنے والے اس نڈر شیر کی یہ دلی تمنا ہے کہ وہ امریکہ کی افغانستان میں شکست کی خبر اپنی پیاری امی کو سناتے ہوئے اپنی ماں کے چہرے کی دمک کو دوبارہ دیکھ سکے…
پھر منظر بدلتا ہے…
چھ دن بعد؛ عید الاضحیٰ کی دوسری رات صوبہ زابل کے اسی کچے مکان میں پیش آئے ایک معرکے میں انجینئر اسامہ ابراہیم غوری رحمہ اللہ امریکی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے ہیں۔
اب منظر کچھ اور ہوتا ہے…
نیمروز، فراہ، قندوز، ہلمند ، بادغیس، قندہار، غزنی اور لوگر کو فتح کرتےہوئے مجاہدین کے کاروان کابل کے صدارتی محل میں داخل ہو رہے ہیں۔ کابل کے در و دیوار اللہ کی بڑائی کے نعروں سے گونج رہے ہوتے ہیں۔ یہ مناظر پوری دنیا کے ٹی وی کے پردوں پر دیکھے جا رہے ہوتے ہیں۔ کہیں واٹس ایپ پر لمحہ بہ لمحہ اپ لوڈ ہوتی ویڈیوز میں کلمے کی پٹی ماتھے پر باندھے طالبان امریکی ٹینکوں میں بیٹھ کر کابل میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ پوری دنیا انگُشت بدنداں یہ مناظر دیکھ رہی ہے۔
فتح کی اس خوشی میں مَیں اپنی سن رسیدہ پُر عزم ماں کو تصور میں لاتا ہوں، جنھیں اپنے بیٹوں سے ملےڈیڑھ دہائی بیت چکی ہے۔ لیکن آج میری امی یقیناً خوش ہوں گی۔ ان کو مبارک مبارک کی صدائیں ہر طرف سے سُنائی دیتی ہوں گی۔ وہ بھی چاہتی ہوں گی کہ اپنے ’اِب جان‘ اور دیگر بیٹوں کو خوشی سے سینے سے لگائیں۔ لیکن ان کا ’اِب جان‘ فتح و ظفر کے اس کاروان کے دوران کام آگیا۔
پھر منظر پہ منظر بدلتے ہیں…
اس خوشی کے موقع پر میرا دماغ کسی ایک نقطے پر نہیں ٹِک پاتا۔ وہ میرے مربی و استاد کی عالی ہمت والدہ…! اپنے دل کے دو ٹکڑوں کو اس راستے پر قربان کر نے کے باوجود آج پُر مسرت ہوں گی۔ ان کے بیٹوں کی امریکہ سے ٹکر لینے پر سالہاسال حماقت کا طعنہ دینے والے سیکولرز کے لبوں پر آج تالے پڑے ہوں گے۔ آج مجھے پکتیکا میں امریکی اتحادیوں کی چھوٹی سی پوسٹ پر حملے کے دوران جان سے گزر جانے والا گمنام شہید کاشف علی الخیری یاد آرہا ہے۔ ۲۰۰۵ء میں لواڑہ کے محاذ پر امریکی ہیلی کاپٹر کو گرانے کی کوشش کرنے والا زبیر لیبی اور احمد پشاوری یاد آرہے ہیں۔ ۲۰۰۶ء میں جلال آباد میں امریکی ناپاک فوجیوں پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے پہلے سفید ریش بزرگ حاجی عابد علی اشرف کے دل سے کہے یہ الفاظ مجھے سنائی دے رہے ہیں ؛
ہمارا خون بھی شامل ہے تزئینِ گلستاں میں
ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہارآئے
آج مجھے صارم کابلی کی وہ ضعیف ماں یاد آتی ہے جس کے چار شہید بیٹوں نے کابل میں رہتے ہوئے امریکی افواج پر کاری ضربیں لگائیں۔ اور یکے بعد دیگر ے اس دین پر قربان ہوتے گئے۔ اور جب مجاہدین اس کے آخری شہید بیٹے کی تعزیت کرنے پہنچے تو ماں کا سر فخر سے بلند تھا۔ اللہ اکبر ! آج مجھے ہلمند کا وہ زخمی غازی فرہاد یاد آتا ہے جس نے بتایا کہ اُس کے خاندان کے بتیس افراد شہید ہو چکے ہیں۔ آج مجھے لشکر گاہ میں امریکیوں کو ناکوں چنے چبوانے والے تراب آغا کی ضعیف والدہ یاد آرہی ہیں، جن کے لگاتار ۶بیٹوں نے امریکیوں کے خلاف جہاد میں جامِ شہادت نوش کیا،اور اپنے آخری بچنے والے بیٹے کو بھی انہوں نے راہِ جہاد کے لیے وقف کردیا۔ آج مجھے سترہ سالہ مجاہد اسامہ قریشی یاد آتا ہے جس نے جب امریکی چھاپہ شروع ہوا تو ساتھیوں کو کہا کہ تسلیم (سرینڈر) نہیں ہوں گے، بلکہ لڑیں گے اور کئی گھنٹے تک وہ دنیا کے ہر اسلحے سے لیس کمانڈوز سے لڑتا رہا… آخر شہید ہوگیا! آج مجھے مصری مجاہد عبدالرحمن بی ایم کا اس راہِ جہاد میں کٹا خاندان یاد آتا ہے۔ امریکی ظالموں کے ہاتھوں شہید ہونے والے امریکی النسل مجاہد عزام امریکی یاد آرہے ہیں۔ آج مجھے اس راہ میں اپنا اکلوتا بیٹا اور چار داماد قربان کرنے والی خالہ ام مصعب یاد آرہی ہیں۔ عرب کے شہزادے شیخ اسامہ رحمہ اللہ کا خون میں لت پت لاشہ نظر آتا ہے۔ مجھے قلات کا کچی مٹی کا وہ تاریک کمرہ یاد آتا ہے جس میں وقت کے بادشاہ امیر المومنین ملا محمد عمر نے آٹھ سال گزار کر اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی کہ…
میرا کارواں تو جیتے، میں مگر شکست کھاؤں
الحمد للہ! یا اللہ، تیرا شکر!… ایسے میں رسولِ پاک ﷺ کی جہادی غزوے سے واپسی کی دعا مجھے یاد آتی ہے۔ اور اسی پر میں ابھی اکتفا کرتا ہوں۔
«لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ. صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَهُ»
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



