نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فتحِ امارتِ اسلامی

امارت اسلامیہ کی فتح پاکستانی دانشوروں کی نظر سے

by شاہین صدیقی
in اگست و ستمبر 2021, فتحِ امارتِ اسلامی
0

ابتدائیہ

امارت اسلامیہ کی بے مثال فتح نے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس فتح کے ان ممالک پر کیا اثرات ہوں گے، یہ فکر بہت سے ملکوں کو لاحق ہے۔ اس لیے دنیا کے اکثر ممالک اپنے اپنے طور پر افغانستان کے حالات کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں۔

گوکہ افغانستان میں طالبان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو جس ہزیمت سے دوچار کیا ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کے دوبارہ قیام کا اعلان کر کے اسلام کی نشأۃ ثانیہ کی بنیاد ڈالی ہے، اس سے ہر پُر خلوص مسلمان، چاہے وہ دنیا کے کسی خطے میں رہتا ہو، شاداں و فرحاں ہے۔ ان میں پاکستان کے مسلمان بھی شامل ہیں۔ اور پاکستان کے مسلمانوں میں اس حوالے سے کافی خوشی پائی جا رہی ہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی کھل کر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا میڈیا اس حوالے سے کافی جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہا ہے اور میڈیا کی طرف سے متنوع ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس تحریر میں پاکستان کے صحافتی اور دانشور طبقے کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیا گیا ہے۔

۲۰۰۱ء میں امریکہ کے افغانستان پر حملے اور اس کے بعد جاری رہنے والی جنگ میں جو کردار پاکستان نے ادا کیا، وہ پاکستان کی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے۔ بیس سال تک پاکستان نے امریکہ کو ناصرف ’لاجسٹک‘ مدد فراہم کی بلکہ اس جنگ میں پاکستان نے ’فرنٹ لائن اتحادی‘ یا ’نان نیٹو اتحادی‘ کا کردار بھی ادا کیا۔ اس دوران خود پاکستان کے اندر اسلام کا نام لینے والوں اور جہاد کی بات کرنے والوں کے خلاف جو کچھ ہوا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مذہبی، صحافتی و دانشور طبقہ مختلف نقطہ ہائے نظر میں منقسم ہے۔

ایک طبقہ وہ ہے جو طالبان کی فتح کو اسلام کی فتح کہہ رہا ہے اور امارت اسلامیہ افغانستان کو رول ماڈل سمجھتا ہے۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو پاکستان کے مفاد کو اوّلین ترجیح پر رکھتے ہوئے افغانستان کے حالات کو پاکستان کے سماجی و سیاسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ تیسرا طبقہ وہ ہے جو طالبان کی فتح کو ایک خطرہ گردانتا ہے اور ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔

پہلا طبقہ: دین پسند دانشور

ایسے وقت میں جبکہ پاکستانی میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ کا مضبوط شکنجہ ہے اور صحافتی آزادی ناپید ہے، میڈیا وہی زبان بولتا ہے جس کی سرکار کی طرف سے اسے اجازت ملتی ہے۔ لیکن ایک چھوٹا سا دین پسند دانشور طبقہ ایسا بھی ہے جو موقع بہ موقع حق بات بولنے کی جرأت کر ہی لیتا ہے۔ بعض دفعہ اشاروں کنایوں میں اور ڈھکے چھپے انداز میں اور بعض اوقات ببانگِ دہل۔ امارت اسلامیہ کی فتح نے ان کے اندر کے جذبات کو بھی کھل کر اظہار کا موقع دے دیا اور اب وہ کھل کر حق کی حمایت کر رہے ہیں اور ناصرف ظالم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، بلکہ اس حوالے سے سیکولر اور لبرل طبقے کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس حوالے سے چند اقتباسات مثال کے طور پر قارئین کی نظر کیے جا رہے ہیں جو پاکستانی اخبارات میں شائع ہوئے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان ۲۳اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’نیا افغانستان‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’اب افغان بھائیوں نے دو بڑی طاقتوں یعنی رو س اور امریکہ کو شکست دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ایمان دلوں میں ہو تو اللہ تعالیٰ خود فتح مہیا کر دیتا ہے۔ افغانوں کا سوائے اللہ تعالیٰ اور خود کے کوئی مددگار نہ تھا۔ روس اور اس کی پرانی کالونیاں اور مغربی ممالک ان کے جانی دشمن بنے بیٹھے تھے۔ لا تعداد افواج، مہلک ہتھیار، الیکٹرانک آلات، جذبۂ جہاد کے آگے برف کی طرف پگھل گئے۔ چند ہزار مجاہدین نے برسوں کی پروردہ اور غیر ملکی اسلحہ سے لیس فوج کو بری طرح شکستِ فاش دی اوراب اپنا ملک خود چلانا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ پچھلے تجربات کی روشنی میں بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔‘‘

اوریا مقبول جان ۱۹ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’طالبان: اسلامی جنگی اخلاقیات کا روشن چہرہ‘ میں رقمطراز ہیں:

’’عفو و درگزر اور معافی کی جس سنت کو میرے آقاﷺ نے بدترین اور متعصب قبائلی ماحول میں جاری کیا، طالبان نے اسے ایک بار پھر زندہ کیا ہے۔ لوگ اسے عام سا واقعہ سمجھ رہے ہیں۔ انہیں اندازہ تک نہیں کہ جن لوگوں کے لیے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عام معافی کا اعلان کیا ہے، ان کے جرائم کس قدر خوفناک، سنگین اور ظالمانہ تھے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جن کے مظالم انسانی تاریخ کے خونخوار ترین واقعات میں شامل ہوتے ہیں…

…روزِ ازل سے اب تک فاتحین کی تاریخ میں ’عفو و درگزر‘ کی اس روایت کو میرے آقا رسول اکرم ﷺ نے ایک مشعل کی طرح روشن کیا۔ صحابہ کرام نے اسے تھامے رکھا، لیکن بعد کے ادوار میں یہ بجھ گئی۔ صلاح الدین ایوبی نے اسے ایک بار پھر روشن کیا، مگر یہ پھر بجھ گئی۔ اب آٹھ سو سال بعد خراسان کی سرزمین سے طالبان نے اس سنتِ رسول ﷺ کی مشعل کو ایسا روشن کیا ہے کہ پورا عالم اس سے جگمگا رہا ہے۔‘‘

اردو ڈائجسٹ کے مدیر الطاف حسین قریشی ۲۷ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’افغانستان میں مغربی دنیا کی شکست‘ میں لکھتے ہیں:

’’افغان طالبان نے ۱۵ اگست کی صبح افغانستان کا جو پُر امن ٹیک اوور کیا ہے اور عام معافی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کا جو عزم دہرایا ہے، وہ عصر حاصر کی سیاسی اور تہذیبی تاریخ کا ایک بے مثال اور عہد ساز واقعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان، جذبے کی صداقت اور آزادی کی تڑپ نے مغرب کا علمی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی کی طاقت پر تکبر اور غرور خاک میں ملا دیا۔ افغان طالبان، جنہیں ان کے رب نے ذوقِ بندگی عطا کیا، ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ‘‘

شاہنواز فاروقی ۶ اگست ۲۰۲۱ء کو سیکولر نظریے کے حامی لکھاری بلال الرشید کی تنقید کے جواب میں اپنے کالم ’طالبان سے بلال الرشید کی نفرت‘ میں لکھتے ہیں:

’’افغانستان میں طالبان کی امریکہ پر فتح گزشتہ ایک ہزار سال کی مسلم تاریخ کی سب سے بڑی خبر ہے۔ یہ خبر امریکہ اور یورپ کے پاس ہوتی تو وہ اب تک اس پر آٹھ دس فلمیں بنا چکے ہوتے، اس سلسلے میں ڈیڑھ درجن دستاویزی فلمیں تیار ہو چکی ہوتیں، دو درجن کتابیں اس حوالے سے سامنے آ چکی ہوتیں، اور امریکہ و یورپ کی فتح کی خبر ان کے اخبارات میں مسلسل شہ سرخیاں تخلیق کر رہی ہوتی۔ مگر ہمارا یہ حال ہے کہ ہم طالبان کی تاریخ ساز اور بے مثال فتح کا مذاق اڑا رہے ہیں، اس پر مٹی ڈال رہے ہیں، اس کی اہمیت کم کرنے میں لگے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ بلال الرشید جیسے عناصر اسے فتح ہی تسلیم نہیں کر رہے…

…پوری کمیونسٹ دنیا ویتنام میں مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ تھی مگر افغانستان میں امریکہ کی مزاحمت کرنے والوں کے ساتھ کوئی نہ تھا۔ نہ چین اس سلسلے میں ان کی مدد کر رہا تھا اور مسلم دنیا کو اس مزاحمت میں کوئی دلچسپی ہی نہ تھی۔ اس لیے کہ مسلم دنیا کے حکمران امریکہ کے باجگزار ہیں۔ وہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف برپا جہاد کی حمایت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کے باوجود مجاہدین نے امریکہ کی ناک رگڑ دی۔ یہاں کہنے کی بات یہ بھی ہے کہ طالبان کی فتح اصل میں طالبان کی فتح تھوڑی ہے۔ یہ باطل پر حق کی فتح ہے۔ اسلامی تہذیب کی مغربی تہذیب پر فتح ہے۔ ٹیکنالوجی پر ایمان کی فتح ہے۔ کمزور کی طاقتور پر فتح ہے۔ امریکہ اور مجاہدین کے معرکے میں طاقت کا ایسا ہولناک عدم توازن تھا کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ سیاسی دائرے میں امریکہ کی طاقت ایک لاکھ کی طاقت تھی اور مجاہدین کی طاقت صرف ایک کی طاقت تھی۔ معاشی دائرے میں امریکہ کی طاقت ایک کروڑ کی طاقت اور طالبان کی طاقت ایک کی طاقت تھی۔ عسکری دائرے میں امریکہ کی طاقت ایک ارب کی طاقت تھی اور مزاحمت کرنے والوں کی طاقت ایک کی طاقت تھی۔ اس کے باوجود امریکہ ہار گیا اور مجاہدین جیت گئے۔‘‘

دوسرا طبقہ: پاکستانی روایت پسند دانشور

دانشوروں کا دوسرا طبقہ وہ ہے جو پاکستانیت اور’نظریہ پاکستان‘ کا علمبردار ہے، اور ہر واقعہ یا حالات کو پاکستان کے سیاسی ، سماجی اور معاشی نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ اگرچہ یہ طبقہ طالبان کی فتح کو مسرت کی نظر سے دیکھ رہا ہے، لیکن وہ اس فتح کے پیچھے بھی پاکستان کا عنصر ثابت کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اسد اللہ غالب ۲۳ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’افغان ایشو کے مغالطے اور حقائق‘ میں لکھتے ہیں:

’’یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پاکستان کو جشن منانے کا کیا حق حاصل ہے؟ جواب میں ان حضرات سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا پاکستانی عوام افغانستان میں ایک خوش آئند انقلاب پر جشن نہ منائے تو کیا ماتم کرنے میں مصروف ہو جائے؟ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ افغانستان میں طالبان کی فتح دراصل پاکستان کے ادارے آئی ایس آئی کی کاشوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں یہ دوسری فتح ملی ہے۔‘‘

اسی طرح اور بہت سے صحافی اوردانشور حضرات طالبان کی فتح کے پیچھے زبردستی ’آئی ایس آئی‘ کا عنصر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آئی ایس آئی کے عقوبت خانے اب بھی مجاہدین سے بھرے پڑے ہیں اور ان کے ہاتھ ہزاروں مجاہدین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؟

اس سلسلے میں جرنل حمید گل کے اس جملے کو بھی میڈیا پر بہت زیادہ اچھالا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا:

’’لوگ آئی آیس آئی پر تنقید کرتے ہیں۔ لیکن جب تاریخ رقم ہو گی تو لکھا جائے گا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے روس کو شکست دی۔ پھر ایک اور جملہ ہو گا کہ آئی ایس آئی نے امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی۔‘‘

حالانکہ اس بات کا حقیقت سے کہیں دور کا بھی تعلق نہیں۔ پرویز مشرف نے حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد چن چن کر آئی ایس آئی سے اسلام پسندوں کا خاتمہ کر دیا تھا اور اس کی باگ ڈور مکمل طور پر سیکولر اور اسلام دشمن لوگوں کے ہاتھ میں دے دی تھی۔ اس کے بعد پاکستان کے مجاہدین کو تو کیا چھوڑا جاتا، افغان طالبان کو بھی نہیں بخشا گیا۔ آئی ایس آئی کی بیس سالہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ دانشور کس منہ سے طالبان کو پاکستان کی ’پراکسی‘ قرار دے رہے ہیں؟ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ اشرف غنی کی حکومت بھارت نواز تھی اور پاکستان کے خلاف کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتی تھی، جبکہ بھارت طالبان کا شدید مخالف ہے۔ اس لیے اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں آئی ایس آئی کا سربراہ جرنل فیض حمید بھی اچانک کابل کے دورے پر پہنچ گیا، تاکہ دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ طالبان ہمارے ماتحت ہیں۔ لیکن الحمدللہ طالبان کسی بھی دباؤ سے بالاتر، اپنے تمام اقدامات میں منفرد و نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

افغانستان کے بارے میں پاکستانی اداروں کی پالیسی سے متعلق اسی طرح کا مؤقف محمد عامر خاکوانی کے ۱۶ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’فتح مبین‘ میں بھی واضح ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’افغانستان اور طالبان کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی سو فیصد درست اور بھارت کی پالیسی مکمل طور پر غلط نکلی۔ ہم پر بے پناہ امریکی دباؤ تھا، اس کے باوجود جس حد تک ممکن تھا، پاکستانی اداروں نے طالبان کے لیے گنجائش پیدا کی، ان کی قیادت، اسٹرکچر، کوئٹہ شوریٰ، حقانی نیٹ ورک وغیرہ کے خلاف آپریشن نہیں کیا۔ پاکستانی عوام کے ایک بڑے حصے نے نام نہاد پاکستانی طالبان ’ٹی ٹی پی‘ پر تنقید کی، ان کی مخالفت کی، مگر ملا عمر کے افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی۔ یہ درست پالیسی تھی۔ تاریخ نے اسے سچ اور درست ثابت کیا۔‘‘

بش کے بعد جب اوباما کا دورِ حکومت شروع ہوا، اوراوباما کے دورِ حکومت میں جب امریکہ نے اپنی پھیلائی ہوئی جنگ کو لپیٹنے کے ارادے کا اظہار کیا، تب ہی پاکستان کے مقتدر حلقوں کو اس بات کا ادراک ہو گیا تھا کہ جلد یا بدیر امریکہ افغانستان سے رفوچکر ہو جائے گا۔ امریکہ کو جس مزاحمت کا سامنا تھا اور طالبان جس طرح سے طاقتور ہو رہے ہیں، اس سے امریکہ کی شکست واضح نظر آ رہی تھی۔ انہیں یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ امریکہ کے چلے جانے کے بعد امریکہ کا ’فرنٹ لائن اتحادی‘ ہونے کے سبب پاکستان کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ایسے وقت میں جب امریکہ بھاگنے کے لیے تیاری پکڑ رہا تھا اور طالبان مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے تھے، طالبان کے ساتھ دشمنی مول لینا خودکشی کے مترادف تھا، اس لیے پاکستان کو مجبوراً اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلی لانا پڑی، اور انہیں اسی میں عافیت نظر آئی کہ طالبان سے روابط بڑھائے جائیں اور پسِ پردہ ان کے معاملات میں نرمی کی پالیسی اپنائی جائے۔ورنہ لال مسجد کے سانحہ سے قبل افغان جنگ کے ابتدائی چھ سالوں میں مسلسل افغان مجاہدین کے خلاف پاکستان کا کریک ڈاؤن جاری تھا۔ تب کس نے طالبان قیادت کو اپنی جیلوں میں بند رکھااور بعض کو امریکہ کے حوالے کیا؟

اب جبکہ طالبان فاتح بن چکے ہیں تو پاکستان نے میڈیا پر کچھ ایسی ٹون اپنا رکھی ہے کہ جیسے یہ ہی اصل میں طالبان کے سرپرست ہوں۔ اس حوالے سےسلیم صافی یکم ستمبر ۲۰۲۱ءکے اپنے کالم ’طالبان کی فتح اور ہماری غلطیاں‘ میں لکھتے ہیں:

’’افغانستان کے حوالے سے پاکستانی میڈیا حب الوطنی کے جذبے کے تحت ایک سنگین غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے، جس کا کسی کو احساس نہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستانی میڈیا اپنی ریاست کی رہنمائی کر رہا ہے اور نہ طالبان کی۔ لیکن ایک جشن کا سا سماں بندھ گیا ہے۔ مشرف حکومت کے فیصلے اور عالمی اور سفارتی حوالوں سے ریاستِ پاکستان آج بھی امریکہ کی اتحادی ہے۔ اور یوں اگر امریکہ کو شکست ہوئی ہے تو اس کے ہر اتحادی کو بھی شکست ہوئی ہے۔ لیکن میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ امریکہ ہارا اور پاکستان جیت گیا۔ اگر ایسا ہی ہے تو ہم ہر روز امریکہ کو اپنے احسانات اور قربانیاں کیوں یاد دلا رہے ہیں؟‘‘

دانشوروں کا یہ طبقہ طالبان کی شریعت کے نفاذ اور سابقہ دور کو دیکھتے ہوئے کسی حد تک خائف بھی نظر آتا ہے اور طالبان کے متعلق اپنے تحفظات کا بھی بار بار اظہار کر رہا ہے اور ان کی طرف سے،’بنیادی انسانی حقوق‘، ’خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حقوق‘، ’وسیع البنیاد حکومت جس میں تمام طبقوں کو نمائندگی دی جائے‘ جیسے مطالبات بار بار پڑھنے اور سننے کو مل رہے ہیں۔

تیسرا طبقہ: سیکولر اور دین بیزار دانشور

اس طبقے کے تحت نہ صرف سیکولر اور دین بیزار دانشور آتے ہیں بلکہ وہ غامدی فکر کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں جو دین پر بعینہ عمل کرنے پر کسمساتے ہیں، دین کو ’موجودہ سماجی منظر نامہ کے ساتھ ہم آہنگ‘ بنانے کے لیے نت نئی تشریحات گھڑتے رہتے ہیں اور مغربی تہذیب کے اس قدر غلام ہیں کہ مغربی نظریۂ جمہوریت کو اسلام سے جوڑنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔

طالبان کی فتح سے متعلق اس طبقے کے نقطۂ نظر میں ’نئے طالبان ‘ اور ’بدلے ہوئے طالبان ‘ جیسی اصطلاحات بہت نظر آتی ہیں۔ یہ طبقہ طالبان کی فتح اور اس کے پاکستان پر اثرات سے شدید خوفزدہ ہے۔

ارشاد محمود ۱۶ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’کابل پھر اجڑ رہا ہے‘ میں لکھتا ہے:

’’کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد پاکستان کی داخلی سیاست اور سماج پر بھی گہرے اور طویل المیعاد اثرات مرتب ہوں گے۔ طالبان کی سیاسی اور مذہبی فکر کے حامی، جو جاں بلب ہیں اور سیاسی طور پر بری طرح کمزور ہو چکے ہیں، نہ صرف تازہ دم ہو جائیں گے، بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں انتہا پسند گروہ اور انہیں فکری غذا فراہم کرنے والے عناصر بھی سرگرم ہو جائیں گے…

…خاص طور پر متشدد گروہوں کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ وہ ازسرنو اپنے آپ کو منظم کریں گے۔ ایسی صورتحال پاکستان کو داخلی طور پر عدمِ استحکام کا شکار کر سکتی ہے اور عالمی سطح پر تنہا بھی۔‘‘

چونکہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والے طالبان کو ’قدامت پسند‘، ’جاہل‘ اور ’عصر حاضر کی تہذیب سے نا آشنا‘ سمجھتے ہیں، اس لیے ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۱ء تک کی طالبان کی حکومت کی پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغانستان دوبارہ سے سماجی اور ثقافتی ’تاریکی‘ اور ’عدم برداشت‘ میں ڈوب جائے گا۔

جاوید چوھدری ۱۹ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’طالبان فیکٹر‘ میں لکھتا ہے:

’’ہمارے لیے دوہری مصیبت ہے، یہ لوگ اگر ۲۰۰۱ء کی طرح ناکام ہو گئے تو امریکہ ایک بار پھر ان کی ناکامی پاکستان پر ڈال دے گا اور ہم ۲۰۰۱ء کی طرح دوسری مرتبہ ان کا ملبہ اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور دوسرا اگر یہ کامیاب ہو گئے، تو پھر طالبان ماڈل کو پاکستان آتے دیر نہیں لگے گی۔ پاکستان میں ان کے لاکھوں بلکہ کروڑوں چاہنے والے موجود ہیں۔ یہ اگر افغانستان میں کامیاب ہو گئے تو ان کے شاگرد پاکستان کے اندر بھی ان کے جھنڈے لہرانا شروع کر دیں گے اور یہ سلسلہ اگر ایک بار چل پڑا تو آپ خود اندازہ کر لیجیے، ہماری کیا حالت ہو گی۔ چنانچہ ہمیں افغانستان کی کسی بھی صورتحال پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ یہ چھری اور خربوزے کا کھیل ہے۔‘‘

پرویز ہودبوئے جیسے اول درجے کے لبرل عناصر ’کھسیانی بلی کھمبانوچے‘ کے مصداق بے پر کی اڑا رہے ہیں۔ پرویز ہودبوئے ۲۸ اگست ۲۰۲۱ء کے اپنے انگریزی کالم “A Reformed Taliban?” (اصلاح شدہ طالبان؟) میں لکھتا ہے:

’’پاکستان کو طالبان کے نئے چہرے کا استقبال کرنا چاہیے، لیکن ساتھ ہی ساتھ مضبوطی سے ان کو ‘مہذب رویہ‘ اپنانے پر زور بھی دینا چاہیے۔

یہ قابلِ فہم بھی ہے۔ جو دوحہ کے آرام دہ اور پُر آسائش ہوٹلوں، اور پشاور اور کوئٹہ میں موجود اپنے بنگلوں میں رہنے کے عادی ہو چکے ہوں، وہ اپنےاُن پہاڑی دیہاتوں میں واپس جانے کے قابل نہیں رہے، جہاں سے انہوں نے حملہ آوروں کے خلاف جنگ کی تھی۔ بلکہ وہ اب اپنے حملہ آوروں کی ہی ایجاد کردہ ’عمدہ زندگی‘ چاہتے ہیں۔ بعید نہیں کہ مستقبل میں وہ، یا شاید ان کے بعد آنے والی نسل، اپنے بچوں کو پاکستانی اور افغانی مدارس میں بھیجنے کی بجائے عام سکولوں میں بھیجنے لگے۔‘‘

طالبان کی مخالفت میں سیکولر اور لبرل دانشور طبقہ اور غامدی مکتبہ فکر ایک ہی پیج پر ہیں، جیسا کہ عموماً ہوتا آیا ہے۔ جاوید غامدی کے شاگرد بھی طالبان کے متعلق ہرزہ سرائی میں کسی سے پیچھے نہیں۔ صوبائی مراکز کی فتح سے قبل، جب طالبان تیزی سے اضلاع فتح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور افغان فوج ہر جگہ ہتھیار ڈالتی چلی جا رہی تھی، تب خورشید ندیم ۲۵ جون ۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’افغانستان کس کا قبرستان؟‘ میں لکھتا ہے:

’’افغانستان اور اس خطے میں امن کی ضمانت صرف اس میں ہے کہ یہ ملک انسانی تہذیب کے قافلے میں آ ملے۔ انسانی تہذیب کا کوئی تصور جمہوریت کے بغیر نامکمل ہے۔ جب تک افغانستان میں اقتدار کی منتقلی کا کوئی پُر امن راستہ موجود نہیں، خانہ جنگی اس ملک کا مقدر رہے گی۔ جمہوریت ہی اس کا واحد حل ہے۔‘‘

خورشید ندیم جسے ’انسانی تہذیب سے بچھڑا ہوا سماج‘ قرار دے رہا ہے، وہاں جس شان و شوکت سے طالبان فاتح بنے، امن و امان کی بے مثال روایت قائم کی ، کیا کسی ’تہذیب یافتہ‘ اور ’ترقی یافتہ‘ ملک کی فہرست سے ایسی کوئی مثال لائی جا سکتی ہے؟ سوائے اُن چند ہزار لوگوں کے، جو پہلے امریکیوں کے آلۂ کار بنے بیٹھے تھےاور اب اُسی مادر پدر آزادی کے پیچھے یہاں سے بھاگ چکے ہیں، پورا افغانستان طالبان کی آمد پر جشن منا رہا ہے۔

مگر جدید مغربی تہذیب نے اس طبقے کی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے، اور انہیں اسلام کی وہ روشن مشعل نظر ہی نہیں آ رہی جو طالبان نے اٹھا رکھی ہے۔ اب انہیں یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ طالبان تو بدلے نہیں، کہیں دوبارہ سے اسلامی شریعت نہ نافذ کر دیں۔ اس حوالے سے خورشید ندیم ۲۸ اگست۲۰۲۱ء کے اپنے کالم ’کیا طالبان تبدیل ہو گئے ہیں؟‘ میں لکھتا ہے:

’’کیا آج طالبان کا تصورِ ریاست تبدیل ہو گیا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ نئے طالبان نے واضح لفظوں میں بتا دیا ہے کہ وہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ مشاورت کو مانتے ہیں اور وہ بھی علماء سے۔ جدید طالبان سے جب عورتوں اور پردے کے بارے میں سوال ہوا تو ان کا جواب یہی تھا کہ اس کا تعین علماء کریں گے۔ اس لیے نظریاتی اعتبار سے نئے طالبان بھی وہی ہیں جو قدیم طالبان تھے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا آج کے علماء بھی وہی ہیں یا بدل گئے؟ اس کے لیے ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا پڑے گا جب وہ سماجی، سیاسی اور معاشی امور پر کوئی حکمت عملی بنا لیں گے۔ آثار یہی ہیں کہ ان کی سوچ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘‘

اختتامیہ

اس ساری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستان کا میڈیا ’اسٹیٹ کنٹرولڈ‘ میڈیا ہے۔ اس لیے بالآخر میڈیا پر وہی بات آئے گی جس کی بالواسطہ یا بلاواسطہ ریاست اجازت دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا پر لادین طبقے کی اجارہ داری ہے، اس لیے پاکستان میں دین مخالف اور دین بیزار طبقہ اگرچہ بہت چھوٹا سا ہے، مگر ان کی آواز زیادہ گونجتی ہے۔ لیکن حق اپنا لوہا منوانے کے لیے کسی سہارے کا محتاج نہیں۔ مجاہدین نے جہاد فی سبیل اللہ میں جان و مال کی بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ یہ انہی قربانیوں کا ثمر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فتحِ مبین کے ذریعے اپنے بندوں کو ایسی عزت سے نوازا۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستانی میڈیا اور صحافتی طبقہ جتنا بھی اس فتح کے ثمرات چھپانا چاہے یا اسے اپنی مرضی کا رنگ دینا چاہے، طالبان کی تحریک اور امارتِ اسلامیہ کی کرنیں پھیلیں گی۔ افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتح، فتحِ مکہ کی ایک جھلک ہمارے نظروں کے سامنے لے آتی ہے، کہ جس کے بعد دیگر خطوں کے لوگوں میں حقیقی اسلام کا رنگ پھیلے گا۔ فتحِ مکہ کے وقت نبی اکرمﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے، اللہ تعالیٰ کے اس قرآنی اعلان کی گونج آج ایک بار پھر فضاؤں میں محسوس ہو رہی ہے:

﴿جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا﴾

٭٭٭٭٭

Previous Post

تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو!

Next Post

صبر و یقین سے حاصل ہوتی ہے دین کی قیادت

Related Posts

تزکیہ و احسان

حسد و تکبر اور ان کا علاج

26 ستمبر 2021
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصر اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اگست و ستمبر ۲۰۲۱

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

قائدینِ اِمارتِ اسلامی کے پیغامات

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام | تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب

26 ستمبر 2021
Next Post

صبر و یقین سے حاصل ہوتی ہے دین کی قیادت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version