زیرِ نظر مضمون سابقاً شائع ہونے والے ’تعلیم‘ سے متعلق مقالے سے مربوط ہے
باب ۴: مساجد کے حلقے
ہم نے گزشتہ ابواب میں خاص ان اداروں کا ذکر کیا جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ یعنی گھر اور مکتب۔ یہاں ہم ایک اور اہم ادارے کا ذکر کرتے ہیں جہاں بڑوں کو تعلیم دی جاتی رہی یعنی مساجد کے حلقے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کر چکے ہیں، تعلیم کا عمل معلم اول صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کے درمیان مکہ کے دار ارقم سے شروع ہوا اور مدینہ کی مسجد نبوی کے چبوترے صفہ تک جاری رہا اور نبوی برکت سے آج تک جاری ہے۔ انہی حلقوں نے چوتھی اور پانچویں صدی میں جا کر مدارس کی شکل اختیار کی جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔ یہاں ہم اختصار کے ساتھ ان علمی حلقوں کے نمایاں خد و خال بیان کرتے ہیں۔
خلافتِ راشدہ کے دور میں
ڈاکٹر عباس محجوب لکھتے ہیں: ”اسلام کے آغاز میں تعلیم کا کوئی باقاعدہ نظام نہ تھا بلکہ والدین خود ہی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس گھریلو تعلیم کے بعد بعض افراد مساجد کے حلقوں میں بیٹھ کر علم سیکھتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کعبے کے صحن میں بیٹھتے تھے اور لوگ ان سے قرآن کی تفسیر کے بارے میں دریافت کرتے تھے۔ اسی طرح مشہور تابعی ربیعۃ الرائےؒ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد میں بیٹھا کرتے تھے ۔ امام مالکؒ، امام حسن ؒاور مدینہ کے دیگر بڑے علمائے کرام ان کے حلقے میں شامل ہوتے تھے۔ اسی طرح امام حسن بصریؒ کا بصرہ کی مسجد میں حلقہ لگتا تھا۔ اور بسا اوقات ایک ہی مسجد میں کئی حلقے سج جاتے تھے۔ اموی دور تک کوئی ایسا ثبوت نہیں ملتا کہ مسلمانوں نے تعلیم کے لیے خاص مدارس قائم کیے ہوں۔ تعلیم مساجد اور گھروں میں دی جاتی رہی۔“
آگے لکھتے ہیں: ”مساجد ویسے ہی درسگاہیں تھیں جیسے کہ وہ عبادت گاہیں، عدالتیں اور عمومی دعوت کے مقامات تھیں۔ دوسری صدی ہجری تک یہی حال رہا۔ بعض مساجد تعلیم کے حوالے سے زیادہ مشہور ہوئیں۔ جن میں حرمین شریفین کے علاوہ بغداد کی جامع منصور اور دمشق کی جامع اموی بہت نمایاں ہیں۔“ 1
علمی حلقوں کی وسعت
ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین لکھتے ہیں: ” تاریخ اور تذکروں کی کتب میں مساجد میں علمی حلقوں کے انعقاد کا ذکر اتنا تواتر سے ملتا ہے کہ شاذ و نادر ہی کسی عالم کا تذکرہ مسجد میں منعقد ہونے والے ان کے علمی حلقوں کے ذکر سے خالی ہو۔ یہ حلقے ابتدائی ادوار سے ہی مختلف خطوں کے بڑے بڑے شہروں کی جامع مسجدوں میں منعقد ہونا شروع ہو گئے تھے۔
درس کو حلقہ اس لیے کہا جاتا تھا کہ طالب علم اپنے استاذ کے گرد حلقہ کی صورت میں بیٹھتے تھے۔ اور یہ حلقہ تعداد ِطلبہ کی بنا پر بڑا اور چھوٹا ہوتا تھا۔ 2 پس امام محمد بن سلیمان ابو بکر بغالیؒ (ت380ھ) کے بارے میں ذکر ملتا ہے کہ ان کا حلقہ جامع مسجد عمرو میں سترہ ستونوں کے گرد پھیلا ہوا ہوتا تھا۔3 علمی حلقے حاضرین کی کثرت کے علاوہ اپنی تعداد اور تنوع کے اعتبار سے بھی بے شمار ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ ڈاکٹر محمد منیر سعد الدین ،امام مقدسیؒ کی کتاب ’’احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم‘‘ سے نقل کرتے ہیں کہ امام مقدسیؒ نے جامع مسجد قاہرہ میں مغرب اور عشاء کے وقت 110 مجالس علم گنیں ۔ جن میں فقہ، قرآن کی قراءت ، لغت و ادب، حکمت؛ غرض مختلف علوم کے حلقے شامل تھے۔
مساجد میں تعلیم کے مضامین
ڈاکٹر عباس محجوب لکھتے ہیں: ” ان ادوار میں تعلیم کا مرکز اور محور قرآن کریم اور اس کے بعد حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم تھا۔ اور پھر چند فقہی احکام اور چند اشعار۔“ آگے لکھتے ہیں: ” معلوم ہوتا ہے کہ خلفائے راشدین کے زمانے میں تعلیم قرآن کریم پر ہی منحصر تھی۔ لیکن جب غیر عرب اسلام میں داخل ہوئے اور صحابہ کرام دنیا کے کونوں میں پھیل گئے ،تو ضرورت اس بات کی پیدا ہوئی کہ عربی زبان کی تعلیم کا بھی اہتمام ہو، تاکہ زبان میں تغیر و تبدیلی واقع ہونے سے قرآن میں ہی تبدیلی نہ آ جائے۔ پھر اموی دور میں شعر و ادب اور تاریخ و قصص کا بھی اہتمام کیا جانے لگا۔ اسی لیے ہمیں اس دور میں سیر اور مغازی کی کتب ملتی ہیں۔ قصہ خواں مسجد میں بیٹھتا تو اللہ تعالی کا ذکر بیان کرتا اور پھر مختلف امتوں اور اقوام کے قصے بیان کرتا ،جن کا مقصد ترغیب و ترہیب ہوتا۔ اسی دور میں حضرت عمر بن عبد العزیز نے احادیث کے جمع کرنے اور حدیث کی تدوین پر خاص توجہ دی۔ اس بنا پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کے آغاز میں تین بنیادی مضامین پر ہی توجہ تھی۔ قرآن کریم، حدیث اور عربی زبان۔ “
تعلیم کے درجے
ڈاکٹر عمر موسی پاشا جو دمشق یونیورسٹی کے کلیہ آداب سے تعلق رکھتے ہیں اپنے مقالے ”دور العلم“ یعنی ’’علم کی درسگاہیں‘‘ میں دمشق کی جامع اموی میں تدریسی طریقے کے بیان کے لیے اندلس کے سیاح ابن جبیر کنانی (ت614ھ ) کی کتاب سے حوالہ دیتے ہیں کہ: ”اس مبارک مسجد میں روزانہ فجر کی نماز کے بعد قرآن کی تعلیم کے لیے ایک جم غفیر جمع ہوتا ہے ۔ اور اسی طرح روزانہ عصر کی نماز کے بعد بھی۔البتہ عصر کا وقت عوام الناس کے لیے سورہ کوثر سے آخر قرآن تک کی تعلیم کے لیے مخصوص ہے۔ جبکہ صبح کی تعلیم کے بعد ہر استاد کم سن شاگردوں کے ساتھ ایک ستون کے ساتھ تعلیم کے لیے بیٹھ جاتا ہے ۔ بچوں کی یہ تعلیم زبانی ہوتی ہے۔
اس مسجد میں بڑی عمر کے طلبہ کی تدریس کے لیے فقہی حلقے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ مدرسین بڑے پیمانے پر وہاں درس و تدریس میں مشغول رہتے ہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس مسجد میں ایک ایسا ستون بھی ہے جس کے لیے باقی ستونوں سے علیحدہ وقف مختص ہے ۔ اس وقف سے وہاں پڑھانے والے اساتذہ اور طالب علم مستفید ہوتے ہیں۔ مسجد کے ایسے الگ تھلگ کونے بھی ہیں جہاں طالب علم سبق لکھنے اور پڑھنے کے لیے لوگوں کی گہما گہمی سے علیحدہ سکون سے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔“
باب ۵: مدارس
سابقہ گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ابتدائی تعلیم کا اصلی ادارہ خود گھر ہے ،لیکن مختلف معاشرتی وجوہات کی بنا پر گھریلو تعلیم کا کچھ حصہ مکاتب کی طرف منتقل ہو گیا۔ اسی طرح دیگر معاشرتی وجوہات کی بنا پر مساجد کی تعلیم کا بھی کچھ حصہ مدارس کی طرف منتقل ہو گیا۔ ڈاکٹر عمر موسی پاشا بیان کرتے ہیں کہ: ”آغاز اسلام سے مساجد ہی عبادت اور علم کے مراکز تھے۔ کہتے ہیں کہ چوتھی صدی ہجری کے اختتام تک مساجد میں ہی تدریس کا عمل جاری رہا۔ اور پھر رفتہ رفتہ مساجد کے ساتھ ملحقہ یا ان سے مستقل مدارس قائم ہوئے جن کے لیے مخصوص اوقاف، ذمہ داران ، فقہا، مدرسین اور دیگر متعلقین مقرر ہوئے۔“ گویا اگرچہ عمل ِتدریس تو کبھی بھی منقطع نہیں ہوا لیکن مدارس کی وہ ہیئت جو ہم آج دیکھتے ہیں اس ہیئت کا ظہور کافی دیر بعد ہوا۔ اسی لیے مختلف قدیم اور جدید محققین نے اولین مدرسے کی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے۔
اوّلین مدرسہ
امام ابن کثیر ؒاپنی تاریخ البدایہ والنہایۃ میں اول ترین مدرسہ کے قیام کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
”383ھ میں وزیر ابو نصر سابور بن ازدشیر نے کرخ میں ایک حویلی خریدی ، اس کی عمارت کی مرمت کی، وہاں کثیر تعداد میں کتب منتقل کیں اور اسے فقہا پر وقف کیا۔ اور فرماتے ہیں کہ میرے گمان میں فقہا پر وقف ہونے والا یہ پہلا مدرسہ ہے جو مدرسہ نظامیہ سے بہت پہلے قائم ہوا۔ “
جبکہ امام سیوطیؒ تاریخ الخلفاء میں لکھتے ہیں کہ : ”امام ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ سلجوقی دور کے ایک وزیر نظام الملک نے بغداد میں مدرسہ نظامیہ کی بنیاد رکھی، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فقہا کے لیے بننے والا اولین مدرسہ ہے ۔ اسے 459ھ میں مکمل کیا گیا۔“
امام مقریزیؒ اپنی کتاب ’المواعظ والاعتبار ‘میں ’المدارس ‘کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ : ” صحابہ اور تابعین کے دور میں مدارس معروف نہ تھے بلکہ وہ ہجرت نبوی کے 400 سال بعد وجود میں آئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں اولین مدرسہ اہل نیشاپور نے بنایا جو مدرسہ بیہقیہ کے نام سے مشہور تھا۔“ لیکن اس کا باقاعدہ سنِ قیام نہیں درج کیا۔ پھر کہتے ہیں کہ : ”سلجوقی سلطان ملک شاہ کے وزیر نظام الملک نے بغداد میں مدرسہ نظامیہ بنایا اور اس کے دیکھا دیکھی مدارس کا سلسلہ عراق، خراسان، ہند، جزیرۂ عرب اور شام میں چل نکلا۔ البتہ مصر میں چونکہ اس وقت فاطمیوں کی اسماعیلی شیعہ حکومت تھی اس لیے وہاں مدارس نہ بن سکے۔ اس کے باوجود اس زمانے میں جامعہ ازہر سے ملحق ایک مکان علمائے کرام کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ پھر جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے فاطمی حکومت کا خاتمہ کیا تو وہاں بھی مدارس کا سلسلہ شروع ہو گیا۔“
اسی طرح امام نعیمی اپنی کتاب ’’الدارس فی تاریخ المدارس‘‘، جو خاص مدارس کی تاریخ کے بارے میں اولین اور مشہور ترین کتاب ہے، میں ذکر کرتے ہیں کہ : ”دمشق میں اولین مدرسہ دار القرآن الرشائیہ سن 400ھ میں قائم ہوا۔“ اور یہی اموی خلافت کے دار الحکومت ”دمشق کا قدیم ترین مدرسہ ہے۔“
ڈاکٹر عباس محفوظ اپنے مقالے (دور المدارس القدیمۃ فی بناء الجامعات الجدیدۃ) یعنی ’’جدید جامعات کے قیام میں قدیم مدارس کا کردار‘‘ میں قدیم محققین کے اقوال پر نظر ڈالنے کے بعد کہتے ہیں کہ : ” لوگ سمجھتے ہیں ،مدرسہ نظامیہ جسے وزیر نظام الملک نے سنہ 459 ھ میں بغداد میں تعمیر کیا تھا، اسلام کا اولین مدرسہ ہے ۔ یہ امام ابن خلکان (681ھ )اور امام ذہبی (748ھ) کی بھی رائے ہے۔ لیکن امام مقریزی (845ھ ) اس رائے کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ نظامیہ پہلا مدرسہ تھا جس میں خاص مناصب و وظائف مقرر ہوئے اور طلبہ کے لیے رہائش کا بندوبست کیا گیا۔“
آگے لکھتے ہیں : ”یہ تصور غلط ہے۔ بلکہ مدرسہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود لفظ مدرسہ اور اس سے مشتق الفاظ پرانے ہیں۔ اور یہ تمام الفاظ حدیث شریف کے الفاظ ہیں۔“ پھر اپنی اس رائے کی تائید میں لکھتے ہیں: ”دوسری صدی ہجری کے اختتام میں ہمیں لفظ مدارس کا واضح مفہوم ’’دعبل بن علی خزاعی‘‘ (246ھ ) کی مشہور تائیہ نظم میں نظر آتا ہے جو اس نے تقریباً سن 200ھ میں کہی۔“ مزید یہ کہ: ” جبکہ درس و تدریس کے بارے میں پہلی کتاب (آداب المعلمین) امام محمد بن سحنون نے تالیف کی جن کی وفات 256ھ میں ہوئی۔“ نیز یہ کہ ” مقریزی نے اپنی کتاب الخطط میں ذکر کیا ہے کہ خلیفہ معتضد ان اوائل میں سے تھے جنہوں نے تیسری صدی ہجری کے اواخر یعنی (279- 289ھ )میں مدارس کے قیام کا سوچا۔ مقریزی کہتے ہیں کہ جب خلیفہ معتضد سے اپنے محل سے متصل ان اراضی کے بارے میں دریافت کیا گیا جن کی خلیفہ نے حد بندی کی تھی، تو انہوں نے کہا: ’’میرا ارادہ ہے کہ میں یہاں ایسی حویلیاں، گھر اور سرائے تعمیر کروں جن میں ہر فن و حرفت اور ہر قسم کے نظری اور عملی علوم کے ماہرین مقرر کیے جائیں اور ان کے لیے وظیفے بھی مقرر ہوں۔ تاکہ جب کوئی شخص کسی علم یا حرفت کو اپنے لیے منتخب کرے تو وہ اس کے ماہر کو پا کر اس سے سیکھ لے۔“ البتہ خود اقرار کرتے ہیں کہ: ”لیکن تاریخ میں اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا تذکرہ نہیں ملتا۔“
اگرچہ ڈاکٹر محفوظ نے مذکورہ قدیم اور جدید محققین کے انداز سے ہٹ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اگرچہ مدرسے کی عمارت اور خاص نظام نہ تھا لیکن مدرسہ کا تصور موجود تھا جو شروع میں مساجد اور اس میں منعقد ہونے والی مجالس اور علمی حلقوں کی صورت میں ملتا ہے۔ لیکن باقاعدہ مدارس کے بارے میں وہ پھر سابقہ مؤلفین سے ہی اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شیخ محمد شربینی بھی خزاعی کے مرثیے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”مدارس کا لفظ خزاعی (246ھ) کے آل بیت کے مرثیے میں ملتا ہے :
ومهبط وحي مقفر العرصات
مدارس آيات خلت من تلاوة “۔
لیکن آگے کہتے ہیں : ”البتہ نظامی مدارس چوتھی صدی ہجری ہی میں متعارف ہو نا شروع ہوئے جو مساجد، مکاتب اور دیگر مقامات سے جدا خاص تعلیم کے لیے مختص تھے۔ ایسے مدارس میں معلمین اور اساتذہ کے لیے رہائش گاہیں بھی ہوتی تھیں۔ یہ مدارس سلجوقی سلطان نظام الملک کے زمانے میں وجود میں آئے ،جہاں سرکاری سطح پر تعلیم کی سرپرستی کی گئی اور مطلوبہ وسائل فراہم کیے گئے۔“
مدارس کے مضامین
مکاتب اور مساجد میں پڑھائے جانے والے مضامین سے خود بخود معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کے مضامین بھی ان سے کچھ ہٹ کر نہیں تھے۔ لیکن مزید تائید کے لیے ہم دسویں صدی ہجری کے دمشق کے تاریخ دان اور محدث امام عبد القادر بن محمد بن عمر نعیمیؒ (927ھ،1521ء) کی تصنیف ”الدارس فی تاریخ المدارس “کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ اگرچہ امام نعیمی ؒنے صرف دمشق میں اپنے زمانے تک قائم ہونے والے تمام مدارس کا نقشہ کھینچا ہے لیکن یہ ذہن میں رہے کہ دمشق خلافت راشدہ کے بعد قائم ہونے والی اموی خلافت کا دار الحکومت رہا ہے۔ پھر عباسی خلافت کے قیام کے بعد اگرچہ دار الخلافت بغداد ٹھہرا لیکن سابقہ دار الخلافت ہونے کے سبب اس کی علمی حیثیت کم از کم امام نعیمی کے دور تک برقرار رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کم و بیش دسویں صدی ہجری تک عالم ِاسلام کا یہی طرز رہا ہوگا۔ فاضل مصنف نے مدارس کی تقسیم ،ان میں پڑھائے جانے والے مضامین کے اعتبار سے کی ہے۔ ان کے مطابق ان کے زمانے تک دمشق میں قرآن کریم کی تعلیم کے کل 7 مدارس تھے اور ان میں قدیم ترین مدرسہ ’’دار القرآن الکریم الرشائیہ‘‘ ہے جو 400ھ میں قائم ہوا۔ اسی طرح حدیث کے 16 مدارس تھے۔ قرآن و حدیث دونوں کے 3 مدارس تھے۔ شافعی فقہ کے 60 مدارس تھے۔ حنفی فقہ کے 50 ۔ قرآنِ کریم کے مدارس کے بعد قدیم ترین مدرسہ احناف کا مدرسہ صادریہ ہے جو 491ھ میں قائم ہوا۔ مالکی فقہ کے 4۔ حنبلی فقہ کے 11۔ یہ کل 151 مدارس بنتے ہیں ۔ دینی مدارس کے مقابلے میں صرف 3 مدارس طب کے تھے جن میں سے قدیم ترین 621ھ میں قائم ہوا۔
ڈاکٹر عمر موسی پاشا لکھتے ہیں کہ سلجوقی ،زنگی اور ایوبی ادوار میں بڑے پیمانے پر مدارس تعمیر ہوئے۔ اور کہتے ہیں کہ سلطان نور الدین ہی کے زمانے میں پہلی دفعہ خاص حدیث شریف کے مدارس قائم ہوئے۔ تاریخ ِاسلامی میں ان سے پہلے خاص حدیث کے مدارس کا تذکرہ نہیں ملتا۔ حدیث کے اولین دو مدرسے انہی کے نام سے منسوب ہیں۔ مدرسہ نوریہ کبریٰ اور مدرسہ نوریہ صغریٰ۔ مدرسہ نوریہ کبریٰ کے شیخ الحدیث اس زمانے کے محدثین کے امام حافظ ابن عساکر تھے۔ مزید بیان کرتے ہیں کہ انہی کے زمانے میں شام کے شہر حماہ میں جامع مسجد کے ساتھ نوری بیمارستان تعمیر ہوا۔ اور اسی زمانہ میں پہلی دفعہ طبی مدارس وجود میں آئے۔ دمشق میں مدارس کے عروج کی طرح عالم اسلام میں سب سے پہلے طبی مدرسہ بھی شام میں وجود میں آیا۔ مصنف کہتے ہیں کہ ان طبی مدارس کا قیام اطبا اور حکما کا ہی مرہون منت تھا، جنہوں نے خود اپنی قیام گاہوں کو اس کام کے لیے وقف کیا۔
یہاں قاری خود اندازہ کر سکتا ہے کہ مدارس کی غالبیت میں پڑھائے جانے والے مضامین کا تعلق علوم ِشریعت سے تھا۔ 151 دینی مدارس کے مقابلے میں 3 طبی مدارس کی کیا حیثیت۔ اور چوتھی صدی ہجری کے اولین دینی مدرسے کے قیام کی بھی تین صدیوں کے بعد یعنی ساتویں صدی ہجری میں پہلا طب کا مدرسہ قائم ہونے کا کیا مطلب؟ صرف یہی نہیں بلکہ طب کا اولین مدرسہ سرکاری اور معاشرے کی سرپرستی سے وجود میں نہیں آیا بلکہ خود اس کے بانی طبیب نے اپنا گھر اس کے لیے وقف کیا۔ اور اس طبیب کے شاگرد بھی پانچ سے زیادہ نہ تھے۔ پھر تمام دیگر دنیاوی علوم چھوڑ کر صرف طب کے مدرسے وجود میں آئے۔ اس سے خود بخود واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے یہاں علم اور تعلیم کا کیا تصور تھا اور مدارس جیسے تعلیمی اداروں میں کون سے علوم پڑھائے جاتے تھے۔
شیخ محمد شربینی لکھتے ہیں:”نظامی مدرسوں میں بنیادی طور پر شرعی اور عربی زبان کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور صرف چند ایک میں دیگر علوم ِکونیہ بھی شامل ہوتے تھے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے موجودہ مدارس اور جامعات کا نظام بھی ایسا ہی ہو۔ جہاں عقیدہ اور قرآن ہی تمام علوم کی بنیاد ہو۔ خاص کر جب مسلمانوں کو خوب معلوم ہو گیا ہے کہ تربیت اور تعلیم کا جو نظام انہوں نے مغرب سے لیا ہے اس کے انتہائی خطرناک نتائج نکلے ہیں۔ جدید اسکول کا نصاب تو عیسائی مشنریوں نے تشکیل دیا ہے اور استعمار کے بعد اسے وطن پرست نظام نے جاری رکھا۔“
آزاد اور سرکاری تعلیم میں فرق
شیخ محمد شربینی لکھتے ہیں: ” مدارس کا باقاعدہ تصور سلجوقی سلطان نظام الملک کے زمانے میں وجود میں آیا ،جہاں سرکاری سطح پر تعلیم کی سرپرستی کی گئی اور مطلوبہ وسائل فراہم کیے گئے۔ نظام الملک کی اس کاوش کے باوجود اس زمانے کے بے شمار علمائے کرام ان مدارس کے مقابلے میں تعلیم کے اس آزاد نظام کو ترجیح دیتے تھے جو مساجد، مکاتب اور گھروں میں قائم تھا۔ اور ان کی دلیل یہ تھی کہ پرانے طریقے پر در س و تدریس میں مصروف لوگ عالی ظرف اور پاکباز لوگ تھے۔ جو علم کے مقام اور مرتبے کی خاطر علم حاصل کرتے اور دیتے تھے ۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے تھے۔ ان کا یہ عمل اختیاری ہوتا تھا ۔کسی نے انہیں اس پر مجبور نہ کیا تھا۔ نہ انہیں مال کا لالچ ہوتا اور نہ کسی منصب کا حصول ان کے پیش نظر ہوتا۔ جبکہ نظام الملک کے طریقے کے حامی علمائے کرام کہتے ہیں کہ تعلیم کا حال اتنا خستہ ہو گیا تھا کہ علم اور اہل علم کی سرپرستی کے بغیر کوئی چارہ نہ رہا۔“
ڈاکٹر منیر سعد الدین لکھتے ہیں: ” علم ہمیشہ افراد اور معاشرے کے ذمے رہا ہے۔ خلفائے راشدین کے زمانے تک خلافت [یعنی کہ حکومت] تعلیم دینے کی ذمہ دار نہ تھی۔ معاشرہ ہی معلمین کے اخراجات کا ذمہ دار تھا۔ چاہے وہ چھوٹے استاذ ہوں جو چھوٹی عمر کے بچوں کو قرآن کریم اور لکھائی پڑھائی سکھاتے ہوں۔ یا وہ بڑے اساتذہ ہوں جو مساجد میں طلبہ کو قرآن، حدیث، فقہ، لغت اور ادب کے علوم سکھاتے ہوں۔
ہم نے، پانچویں صدی ہجری کے نصف میں مدارس کے قیام سے پہلےتک، یہ کبھی نہیں سنا تھا کہ خلافت نے کسی استاذ یا عالم کا وظیفہ مقرر کیا ہو۔ تعلیم کے اس طریقے ہی کی وجہ سے علمائے کرام ہر لحاظ سے اہل ترین رہے۔ اور آزاد رہے۔ جب کہ سرکاری سرپرستی کے بعد روز بروز ان کی آزمائش میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہ امر مسلم ہے کہ اگر امت علم کو حکمرانوں کے ہاتھ میں چھوڑ دیتی تو اسلامی ممالک میں علم کا وہ اعلی مقام نہ رہتا ۔ اگر حکومت کے ذمے تعلیم کی ذمے داری سونپ دی جاتی تو وہ لوگوں پر علم کے دعویداروں کو مسلط کر دیتی۔ اس طرح علم میں فساد واقع ہوتا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ بلکہ اسلامی معاشرہ ہی قضا تک پر نگرانی کرتا تھا اور وہی علم اور علمائے کرام کا خیال رکھتا تھا۔ اور اس تگ و دو میں رہتا کہ علم اور تعلیم کے سلسلے کا وہی اعلی مقام و مرتبہ برقرار رہے جس میں سنجیدگی، تعاون، اور اخلاص ہو۔ جس چیز نے اسلامی معاشرہ کو قضا اور تعلیم کے سلسلے کی حفاظت میں مدد دی وہ مساجد تھیں، جنہیں معاشرے نے قاضیوں اور علمائے کرام کے سپرد کیا تھا۔ 4
’’الدرر السنیہ فی الاجوبۃ النجدیہ‘‘ میں شیخ عبد اللہ بن محمد بن حمید امام عاصمیؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ”جب بغداد میں پہلا نظامی مدرسہ کھلا تو اس کے لیے نظام الملک نے علمائے کرام کو طلب کیا ، علمائے کرام اور طلبہ کے لیے وظیفے مقرر کیے اور اس طرح بے شمار لوگ ان مدارس میں داخل ہونے لگے۔ جب بخاریٰ کے علمائے کرام کو اس کا علم ہوا تو وہ اسلامی علوم کے غم میں بہت روئے۔ ان سے کہا گیا کہ: ’’یہ رونا اور غم کھانا کیسا؟ یہ مدرسہ تو تفسیر، حدیث، فقہ جیسے علوم دینیہ کے لیے ہی بنا ہے۔‘‘ تو علمائے کرام نے کہا : ’’علم اپنی ذات میں عالی مقام ہے۔ اسے صرف اعلی درجےکے پاکباز لوگ ہی اٹھا سکتے ہیں۔ انہیں علم کے مرتبے کے سبب ہی قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے۔ اب جب علم کے طلبہ کے لیے وظیفے جاری ہو جائیں گے تو اس میں وہ بھی داخل ہوجائیں گے جن میں کوئی خیر نہیں۔ ایسے گرے ہوئے رذیل افراد جن کے علم حاصل کرنے کا مقصد دنیاوی منصب، وظیفے اور مال و دولت ہوگا۔ اس طرح علم کا مقام ، علم حاصل کرنے والوں کے گرنے اور ختم ہونے کے سبب گر جائے گا۔ اور یہ معزز علم بے قیمت رہ جائے گا۔“
آخری مدارس
ڈاکٹر حسین محفوظ اپنے مقالے میں بے شمار مدارس اور ان کی تاریخِ قیام ذکر کرنے کے بعد اسلام کے آخری مدارس کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : ” اس سلسلے کے آخری مدارس ہند میں پائے جاتے ہیں۔“ جن میں وہ دار العلوم ندوۃ العلما کو بھی شامل کرتے ہیں جو 1311ھ میں قائم ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ بر صغیر کے مقابلے میں عالم ِعرب میں آزاد طریقے پر تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ اب بر صغیر میں بھی مدارس کو سرکاری، جمہوری اور لادینی نظام کے تابع بنانے کے لیے سر توڑ کوششیں جاری ہیں۔ اور مقالہ شائع ہونے کی تاریخ تک اچھے خاصے بڑے ادارے خالص دینی کے بجائے وطن پرست، جدت پسند اور دنیا دار ادارے نظر آتے ہیں۔
باب۶: نتائج اور سوالات
محترم قارئین !مسلمانوں کے یہاں مروجہ روایتی تعلیمی اداروں کی تاریخ ذکر کرنے کے بعد اب ہم آتے ہیں اس اصل مقصد کے بیان کی طرف، جس کی خاطر ہم نے یہ تاریخ آپ کے سامنے پیش کی۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کے یہاں آغاز ِاسلام سے لے کر سقوط ِخلافت تک علم اور تعلیم سے مراد ’’علوم شرعیہ‘‘ تھے۔ کیوں کہ یہی وہ علوم ہیں جن پر قرآنِ کریم کی کثیر آیات دلالت کرتی ہیں۔ یہی وہ علوم ہیں جن کی تعلیم کی ذمے داری ہر مسلم گھرانے پر عائد ہوتی ہے۔ یہی وہ علوم ہیں جن کی تدریس کے لیے مسلمانوں نے بچوں کی سطح پر مکاتب کا وہ طریقہ رائج کیا جس کے خدو خال اوپر بیان ہوئے۔ اور جس کے اعلی درجوں کے حصول کے لیے طلبہ نے مساجد کے علمی حلقوں اور بعد میں مدارس کا رخ کیا۔ اگرچہ اس بات کی تفہیم کے لیے قرآنی آیات اور احادیث نبویہ سے مستنبط شدہ علمائے کرام کے اقوال کا ذکر کرنا کافی تھا کہ قرآن و حدیث میں علم کا لفظ مطلقاً آئے تو اس سےمراد علوم ِشریعت ہی ہیں۔ اور نبی اکرم ﷺکی مشہور حدیث : ’’طلب العلم فریضة علی کل مسلم ومسلمۃ ‘‘میں علم سے مراد شرعی علم ہی ہے جو مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے۔ لیکن بعض جدید اذہان کا اپنی تاریخ سے کٹ جانے اور مغرب کی طرف سے اٹھائے جانے والے شبہات اور پھیلائے جانے والے نظریات کے سبب، اور علمائے کرام کے اقوال کی تائید کے لیے ہمیں تاریخ سے بھی شواہد اکٹھے کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ قارئین خود غور کریں کہ ہم تنہانہیں جو یہ بات کہہ رہے ہیں۔ قدیم علمائے کرام کے علاوہ شیخ محمد شربینی، ڈاکٹر عباس محجوب اور دیگرمعاصر علمائے کرام اور مفکرین بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے یہاں علم کا محور اور مرکز علوم دینیہ ہی تھے۔
آپ خود کو پہلی تین صدیوں میں نہیں بلکہ امام نعیمی کی طرح دسویں صدی ہجری میں لے جائیں اور تصور کریں کہ کوئی باپ اپنے بیٹے سے یوں کہے :’’بیٹا میں چاہتا ہوں کہ تم علم حاصل کرو‘‘ تو اس والد کی کیا مراد ہوگی؟ یا کوئی بیٹا اپنی ماں سے کہے : ’’امی مجھے تو علم حاصل کرنا ہے‘‘ تو اس بچے کے ذہن میں کونسے علوم گھومتے ہوں گے؟
اسی طرح آپ فرض کریں کہ اُس زمانے میں کوئی والد اپنے بیٹے کو کسی حکیم یا معمار کے پاس لے جائے اور اس سے کہے : ’’حضرت میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے بیٹے کو آپ کے پاس چھوڑوں تا کہ آپ اسے عالم بنائیں‘‘ تو ان کا کیا جواب ہونا تھا؟ اور ا س کے بر عکس اگر کوئی والد اپنے بیٹے کو کسی عالم کے پاس لے جا کر کہتا : ’’حضرت میں چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا آپ کے ہاتھوں عظیم طبیب ، یا عظیم معمار بنے ،آخر یہ بھی تو علوم ہی ہیں!‘‘ تو وہ عالم ایسے والد کی عقل پر کیسے ماتم کرتا۔
اگر تو اس کاوش کے بعد آپ ہماری طرح یہ تسلیم کر لیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے یہاں دور غلامی سے قبل ہر دور میں علم سے مراد ’’علم ِشریعت ‘‘ہی رہا ہے تو پھر تو میں اذہان میں اٹھنے والے چند اعتراضات کے جوابات دینے کی آئندہ زحمت کروں گا۔ اور اگر پھر بھی کوئی بضد ہے کہ علم کے بارے میں ہمارا تصور غلط ہے تو اس کو مزید سمجھانے سے ہم قاصر ہیں!
ایک اہم نکتہ: دینی علوم ،نظام ِحکومت چلانے کے لیے کفیل ہی نہیں ناگزیر ہیں!
یہاں ہم ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہیں جس کی طرف بہت سے افراد کا ذہن نہیں جاتا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی سوال اٹھاتا ہے۔ حالانکہ پہلا سوال تو ان حضرات کے ذہن میں یہ اٹھنا چاہیے تھا کہ تجارت، طبابت، زراعت اور دیگر حرفتوں اور صنعتوں جیسی ضروریات زندگی سے پہلے بتائیے کہ امارت و خلافت کیسے قائم ہو گی؟ مسلمان بحیثیت مسلمان کیسے باقی رہے گا؟ ان کی ارتقا کے لیے کون سے علم اور کیسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ تو عرض ہے کہ کسی بھی حکومت کے قیام کے لیے جدید سیاسیات میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ ہم یہاں جدید سیاسیات کے الفاظ کی نہ تائید کر رہے ہیں اور نہ ہی ان کے نظریات کی۔ بتانا صرف یہ ہے کہ اسلام میں حکمرانی کے ان اداروں اور مناصب کا اور ان پر فائز عہدیداروں کا دار و مدار علوم شریعت کے ہی مرہونِ منت ہے۔
اگر مقننہ کو لیا جائے، جس سے مراد قانون سازی کرنے والے ادارے ہوتے ہیں۔ تو اسلام میں یہ طے ہے کہ قانون سازی تو فقط اللہ تعالی کا حق ہے اور اس قانون یعنی شریعت کے خد و خال اللہ تعالی کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم نے خوب واضح کر دیے۔ اب اگر شریعت کا کوئی پہلو انسانوں پر مخفی ہوتا ہے تو اس کے لیے علمائے کرام موجود ہیں، جن کے رات دن شریعت کی تعلیم اور تشریح میں گزرتے ہیں۔
انتظامیہ سے مراد نظام کو چلانے والے ادارے ۔ تو اسلام میں یہ طے ہے کہ امیر المؤمنین سمیت تمام کلیدی اہمیت کے امراکے لیے عالم ہونا شرط ہے۔ اگر کہیں ایسا ممکن نہیں تو امیر کے لیے ہر مبہم ومشتبہ معاملے میں عالم کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
اور عدلیہ سے مراد انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والے جھگڑوں میں فیصلہ کرنا، تو اس کے لیے اسلام میں قاضی مقرر کیے جاتے ہیں جو عالم دین ہی ہوتے ہیں۔ گویا شریعت کی تشریح کرنا بھی علمائے کرام کا کام، امارت اور سیاست بھی علمائے کرام کا کام، اور قضا بھی علمائے کرام کا کام۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایسے مناصب پر فائز حضرات کو اپنے منصب کی ذمے داریاں نبھانے کے لیے علوم ِدین کی طرف رجوع کرنا ناگزیر ہے۔ چاہے وہ خود مدارس میں جا کر تعلیم حاصل کر لیں یا جید علمائے کرام کو اپنی شوری میں داخل کر لیں۔ اس سے آگے بڑھ کر خارجی اور داخلی محاذ پر مسلمانوں کے تحفظ کے لیے دو مزید ادارے ہوتے ہیں۔ خارجی کے لیے امیر الحرب اور داخلی کے لیے امیر حسبہ۔ اور ان دونوں حضرات کے لیے بھی علمِ دین شرط ہے۔ در حقیقت اسلام آیا ہی تدبیر انسانیت کے لیے ہے۔ اسی لیے اسلام میں انسانوں کے اجتماعی نظام کے ہر پہلو کے لیے بنیادی احکام موجود ہیں۔
اب ہم سوال یہ کرتے ہیں کہ جب پورے نظام ِحکومت کے قیام اور اسے احسن طریقے سے چلانے کے لیے علوم دینیہ ہی ناگزیر اور کفیل ہیں! تو پھر مسلمان خود سوچ لیں کہ علوم ِدینیہ کے اداروں کو ہی فوقیت کیوں نہ حاصل ہو۔ پس مسلمانوں کو ”العلم“ یعنی علوم ِدینیہ کا انتظام اور اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ان کی پوری کی پوری زندگی سنور جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کا روایتی طریقۂ تعلیم ہی امورِ سلطنت جیسی اہم ذمے داریوں کو انجام دینے کے لیے کافی رہا ہے ۔ رہے تجارت، زراعت، طبابت اور تعمیرات وغیرہ جیسے شعبے تو ان کی اہمیت ثانوی ہے۔ جب سلطنت کا نظام درست ہو جائے تو پھر باقی مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔ اور جہاں مسلمانوں کو ان ثانوی امور میں کہیں دقت پیش آ رہی ہو یا کوئی خلل یا کمی کوتاہی نظر آئے تو وہاں محتسب، قاضی یا خلیفہ کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ درستی کے لیے خصوصی احکامات جاری کریں۔ مثلاً اگر کہیں بیماری پھیل رہی ہے اور اطبا کی کمی ہے تو حکمران کو اس کا بندوبست کرنا ہوگا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تعلیم کے پورے نظام کو ہی ان جزوی اور دنیوی ضروریات کے لیے مخصوص کر دیا جائے یا علم کا تصور ہی بگاڑ دیا جائے۔ اسلام کب ان حرفتوں اور صنعتوں میں رکاوٹ بنا ہے!
سوال: اسلام میں علوم ِدینیہ کو ہی علوم کا درجہ کیوں دیا گیا ہے؟
اس سوال کا ایک جواب تو سابقہ نکتے میں گزر چکاہے۔ کہ جب علوم ِدینیہ ہی ہمارے لیے علوم ِخلافت یعنی علوم ِحکمرانی اور سیاست ہیں بلکہ یہ وہ علوم ہیں جن سے دنیا تو کیا آخرت بھی سنور جاتی ہے ۔تو بھلا ان کو یہ مقام و مرتبہ کیوں نہ دیا جائے۔ مغرب کے یہاں فلسفہ، سیاست، معاشرت اور ان جیسے علوم کے لیے علوم ِعمرانی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور یورپ کی یونیورسٹیوں میں آج تک ایسے علوم کے لیے داخلہ سب سے مشکل سمجھا جاتا ہے ۔ ان علوم کے لیے صرف قابل ترین اور ذہین طلبہ کو ہی منتخب کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ علوم ان کے لیے ایک لحاظ سے مسلمانوں کے دینی علوم کا کام دیتے ہیں۔ جب کہ مغرب اپنے عوام الناس اور ان کی نظر میں ہم جیسے تیسری دنیا کے باشندوں کے لیے جس تعلیم کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے وہ محض حرفت اور مہارت سے متعلق ہے۔ مقصد ان کا یہ ہے کہ ہم سوچیں سمجھے نہیں بس مشینوں کی طرح آلہ کار بنتے جائیں اور ان کی خدمت کرتے جائیں۔
اس سوال کے جواب کے لیے ایک اور تناظر میں الہی و نبوی فرامین پر غور کریں۔ میں یہ سوال رکھتا ہوں کہ آیا قرآن و سنت میں مال و اسباب جمع کرنے پر زور دیا گیا ہے یا خرچ کرنے پر؟ اور آیا قرآن و سنت میں والدین کو بچوں کی نگہداشت کرنے کی تلقین زیادہ ملتی ہے یا بچوں کو والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین؟ ظاہر ہے کہ الہی تعلیمات نے ان امور پر توجہ دینی تھی جو انسانی فطرت میں اگرچہ ودیعت کر دیے گئے ہیں لیکن انسان اپنی خواہشات کی بنا پر ان سے اکثر غافل رہتا ہے۔
بعینہ یہ اس سوال کا جواب بھی ہے کہ آیا قرآن و سنت میں دنیاوی ترقی اور جسمانی نشو و نما کی تلقین زیادہ ملے گی یا کہ آخرت کی بھلائی اور روحانی پاکیزگی کی تلقین۔ اول الذکر تو انسان بر بنائے فطرت اور خواہش از خود حاصل کرتا آیا ہے۔ جب انسان کو مرض لاحق ہوتا ہے تو وہ از خود اس کے علاج کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ اور اس کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے معاشرہ میں از خود اطبا اور حکما پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان کو یہ ضرورت پیش آئی کہ وہ اپنے سفر جلد از جلد طے کرے تو از خود اس کے لیے اس نے گاڑی اور ریل جیسی جدید ایجادات کیں۔ اسی لیے ان دنیاوی ضروریات کی تحصیل کے لیے علم کے بجائے حرفت، صنعت اور پیشے کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس کے مقابلہ میں مؤخر الذکر یعنی اپنی روح کی اصلاح سے انسان اکثر غفلت برتتا ہے ۔ اور یاد رہے کہ انسان کی روح کی اصلاح کا ثمرہ آخرت سے پہلے دنیا میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس پہلو کی اہمیت اور عظمت کو انسان کے ذہن میں اجاگر رکھنے کے لیے اس کے لیے خاص ”العلم“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اور اسی لیے اسلامی احکام میں اس علم کے حصول پر خاص تاکید ملتی ہے۔ اور اسی لیے مسلمانوں نے مکاتب، مساجد اور مدارس کی صورت میں اس کی حفاظت کا اعلیٰ انتظام کیا۔
سوال: اسلام اور مغرب میں تصور علم کا اختلاف کیوں ہوا؟
کوئی پوچھ سکتا ہے کہ اسلام اور مغرب میں اتنا اختلاف کیوں واقع ہوا۔ تو عرض ہے کہ آغاز اسلام میں آج کل جنہیں تعلیمی ادارے کہا جاتا ہے یعنی اسکول اور کالج، نہ اتنی بڑی تعداد میں اور نہ اس انداز میں موجود تھے۔ لیکن بہترین علم اور تعلیم جاری تھی جس کا مصدر خود ان کا خبیر و علیم رب تھا۔ اور جس کا مقصد دنیا سے پہلے آخرت کی ایسی بھلائی تھی جس سے آخرت سے پہلے خود دنیا سنور جائے۔ جس کا محور جسم سے قبل روح تھا۔ یہ سلسلہ چودہ صدیوں تک جاری رہا جب تک کہ یورپ کی استعماری طاقتوں نے اپنے مقامی آلہ کاروں کی مدد سے خلافتِ اسلامیہ کا خاتمہ نہ کر دیا۔
جبکہ اس کے مقابلے میں یورپ میں انقلابِ فرانس نے اپنی مخصوص تاریخ اور حالات کے نتیجے میں دینِ کلیسا کیا ، تمام ادیان کو اگر یکسر مٹایا نہیں تو انسانی زندگی کے بنیادی دھارے سے نکال کر زندگی کے ایک حاشیے میں ڈال دیا۔ اور پیچھے خالی رہ جانے والے قرطاس پر ایک نئے خدا کی مدح شروع کر دی اور اس خدا کی عبادت کے طریقے بھی وضع کر دیے۔ وہ خدا خود انسان تھا۔ اب تمام انسانوں کا یہ مقصد ٹھہرا کہ اس انسانی دیوتا کو رام کیا جائے۔ اس کی تکالیف کم کی جائیں۔ اور زندگی میں اس کی خواہشات کی تکمیل کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس انسانی دیوتا کے تمام انسانی غلاموں کا کام یہ ٹھہرا کہ وہ انسان کی اس دنیا میں ان تمام امور پر توجہ دیں جن سے انسانی دیوتا کی خواہشات کی تکمیل ہو اور اسے اس دنیا میں آرام ملے۔ اس لیے تمام تصورات سمیت تعلیم کا بھی مقصد بدل گیا۔ اور تمام تر توجہ دنیا کی مادی زندگی اور انسان کے جسمانی وجود سے متعلق امور کی تعلیم پر مبذول ہو گئی۔ اب طبابت ، تجارت ، زراعت، تعمیرات اور دیگر امور کو ہی تعلیم کہا جانے لگا۔ اور مختلف پیشوں کی درجہ بندی بھی اسی تناظر میں ہونے لگی۔ جبکہ اصل علم کو اگر کہیں جگہ ملی تو بس ایک اضافی مضمون کی حیثیت میں۔ ہاں خود انہیں اپنے من گھرٹ نظریہ کے تحفظ کے لیے چند ایسے تیز شیطانی اذہان کی ضرورت تھی سو اس مقصد کے لیے انہوں نے فلسفہ اور علوم عمرانیہ کے مضامین تشکیل دیے ۔
خلافت کے سقوط کے بعد سے مغرب نے تمام اسلامی ممالک میں اپنا نظام بزورِ قوت نافذ کیا۔ مغرب میں ابھرنے والا یہ جدید نظام ،انقلابِ فرانس کے بعد یورپ میں راسخ ہونے والے ان نظریات پر قائم تھا جو اسلامی تعلیمات کے یکسر منافی ہیں اور جن کا اسلامی تاریخ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ اسلام نے کلیسا کی طرح کبھی بھی انسان کی فطری ضرورتوں اور عقلی تجربات پر غیر ضروری بندشیں نہیں لگائیں۔ لیکن یورپ دنیا کے تمام مصائب کو اپنی تاریخ کے آئینے سے دیکھنے پر مصر رہا اور وہی علاج تجویز کیا۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ شیطان نے یہی سجھایا۔ اس کے نتیجے میں ہمارے یہاں انہی بنیادوں پر مغربی اسکول قائم کر دیے گئے۔ استعماری دور کے پہلے مرحلے _یعنی براہِ راست تسلط_ کے دوران مغربی آقاؤں نے اس نظام کو رائج کیا اور استعماری دور کے دوسرے مرحلے _ یعنی ظاہری آزادی کے بعد _ مسلم ممالک میں جمہوری قوم پرست ریاستوں کے قیام _ کے دوران مغرب زدہ حکمرانوں نے یہ یقین کر لیا کہ تعلیم کا یہی نظام ان کی ترقی کا ضامن ہے۔ لہذا اپنے آقاؤں کے نظام کو معمولی سی تبدیلی کے بعد جوں کا توں نافذ رکھا۔ اور اب حد یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایسے قوانین متعارف کروائے جا رہے ہیں جن میں ایسے والدین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا جو اپنے بچوں کو اسکولوں میں نہیں بھیجیں گے۔ جیسا کہ بلوچستان میں شروع ہو چکا ہے۔ دوسری جانب بعض اسلام پسند مسلمانوں نے دین و دنیا کے امتزاج کا نظریہ اپنایا اور مغرب کے اصل نظریے کو چھیڑے بغیر بعض ظاہری رد و بدل کے ساتھ اس مغربی نظام کو اسلامیانے کی کوشش کی۔ اور اس سب کے مقابلے میں علمائے کرام نے خصوصا بر صغیر کے علمائے کرام نے مسلمانوں کے یہاں صدیوں سے قائم طریقۂ تعلیم کی حفاظت کی اور اب تک اس کی حفاظت کرتے آ رہے ہیں۔ اللہ انہیں توفیق دے اور ان کے سائے سے ہمیں محروم نہ کرے۔
سوال: اگر علوم سے مراد صرف علوم دینیہ ہیں تو مسلمانوں کے یہاں دیگر علوم کے ماہرین کیسے پیدا ہوئے؟
اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ جس انداز میں سابقہ زمانوں میں حرفت و صنعت کی تعلیم دی جاتی تھی اب تو وہ ناپید ہو چکا ہے۔ اب تو موچی بھی اپنے بچے کو موچی کے حرفت سکھانے کے بجائے اسکول بھیجتا ہے ، تو ان حالات میں مسلم معاشرے کی اجتماعی ضروریات کیسے پوری کی جائیں؟ پھر اس سے بڑھ کر مغربی دنیا سے دنیاوی ترقی میں کیسے سبقت حاصل کی جائے ؟
اس اشکال کے جواب میں ہم تاریخ کے اوراق پلٹے بغیر صرف یہ کہیں گے کہ مغربی نظام ِتعلیم رائج ہونے سے پہلے تک بلکہ آغاز ِانسانیت کے مختلف ادوار میں پیشوں اور ہنر سیکھنے سکھانے کا عمل جیسے جاری تھا، بس وہی کاروبار ِزندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کافی تھا۔ اور جیسے سابقہ ادوار میں کافی تھا اسی طرح دوبارہ بھی کافی ہو سکتا ہے۔ اور اگر اب اس میں قدرے تیزی آ گئی ہے تو ہم دین پر سمجھوتہ کیے بغیر جتنی تیزی لا سکتے ہیں ضرور لائیں گے۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ لیکن مقصد زندگی محض دنیا میں آرام اور آسائش نہ ہو گا۔ مقصد اس دنیا کو آخرت کی کھیتی بنانا ہو گا۔
پرانے زمانے سے آج تک عموماً اولاد اپنے آباء و اجداد کے پیشے سیکھتی اور اپناتی تھی ۔ جہاں یہ ممکن نہ تھا وہاں معاشرے کی ضرورت اور والدین کی استطاعت کے مطابق بچوں کو کسی پیشے کے ماہر فرد کے سپرد کیا جاتا تھا۔ اور اس سادہ اور فطری انداز سے ہی زندگی کی تمام ضروریات بہترین انداز میں پوری ہو رہی تھیں ۔ زندگی کے تمام شعبے اور ان شعبوں سے منسلک افراد اپنے اپنے کام صحیح طریقے سے انجام دے رہے تھے۔ اور آج بھی ہر ملک کے بڑے سے بڑے شہر اور چھوٹی سے چھوٹی بستی میں آپ کو نظر آئے گا کہ زندگی کے تمام شعبے کام کر رہے ہیں، چاہے ان کی سطحیں اور شکلیں کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔ اور چاہے ان میں بعض قابلِ اصلاح امور کیوں نہ پائے جاتے ہوں۔ یہ انسانی فطرت ہے جس پر اللہ تعالی نے انسان کو بنایا۔ انسان خود سوچتا ہے کہ میں نے کھانا کہاں سے ہے؟ کمانا کہاں سے ہے؟ رہنا کہاں ہے؟ بیمار ہو جاؤں تو کیا کرنا ہے؟ انسانی زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارت، زراعت، طبابت ، تعمیرات، اسلحہ سازی اور دیگر تمام بڑے چھوٹے پیشوں کا وجود ،اسلام ہی کیا مختلف ادوار میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ حالانکہ ان پیشوں کی تعلیم کا اسکول و کالج جیسا کوئی مربوط اور مشکل نظام نہ تھا ۔ اور اگر کہیں ان پیشوں کے سکھانے کے لیے شاذ و نادر ہی مخصوص اور صحیح ادارے وجود میں آئے تو ان پر تعلیمی ادارے کا لقب نہیں پڑا اور نہ سکھانے کے اس عمل پر تعلیم اور علم کے الفاظ کا اطلاق ہوا۔ لفظ علمائے کرام کے اطلاق سے علوم دینیہ کے علمائے کرام کا ہی تصور ابھرتا ہے۔ جبکہ دیگر پیشوں کے لیے اطباء، تجار، مزارع، معمار اور دیگر الفاظ ہی استعمال ہوتے رہے۔ اور آپ یہ غور کریں کہ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہترین طبیب، معمار ، تاجر اور ہر پیشے کے افراد گزرے ہیں جس پر تاریخ گواہ ہے۔
جب یہ ثابت ہو چکا کہ تعلیم سے مراد علم ِدین کی تعلیم ہے ، تو تعلیم سے منسلک افراد اور شعبوں کا کام تو واضح ہے ۔ اب وہ یکسوئی کے ساتھ اس پر توجہ دیں۔ آئندہ کے لیے جب بھی تعلیم کی بات کی جائے گی تو اسی تناظر میں کہ علوم ِدینیہ کا حصول کیسے کیا جائے۔ کیسے مسلمانوں کو زندگی گزارنے کے ان اصولوں سے متعارف کیا جائے، جنہیں ان کے رب نے ان کے لیے منتخب کیا۔ اب اگر کسی جماعت یا امارت میں تعلیم کا ذمہ دار ہوگا تو اس کا کام ان علوم کی حفاظت اور ترویج ہی ہوگا۔
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرہ کے تمام افراد علمائے کرام نہیں بن سکتے۔ اس لیے ہماری تاریخ میں جب مسلمان طالب علم روایتی تعلیمی ادارے میں ضرورت کے مطابق دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے علوم ِنبویہ سے فیض یاب ہو جانے کے بعد اپنے رجحانات اور حالات کے مطابق کسی بھی پیشے سے منسلک ہو جاتا تھا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اور علمائے کرام دین کے اکابرین میں سے بے شمار ایسے افراد تھے جنہوں نے بغرض ِروزگار، مختلف پیشے اپنائے۔ اور آج تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ سابقہ طریقے کے مطابق اب بھی بے شمار افراد اپنے آباو اجداد کے پیشے اپناتے ہیں یا از خود کسی پیشے کو پسند کرنے کے سبب اس کے استاذ کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔ لیکن مغرب نے ڈاکہ ڈال کر ہر نظام اور کاروبارِ زندگی کو کارخانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس مشینی اورکھوکھلے طریقے سے نجات حاصل کی جائے۔ اب مسلم اطبا مل بیٹھ کر سوچیں کہ وہ طب کے میدان میں قدم رکھنے والے شاگردوں کے لیے کیسا نصاب تشکیل دیں۔ اگر اطبا اتنے اہل نہیں تو اسلامی امارت و خلافت اس مقصد کے حصول کے لیے مناسب بندوبست کرے۔ اسی طرح فن معمار سے وابستہ حضرات۔ اسی طرح مزارعین اور تجار۔ غرض ہر پیشے والے ایسا کریں۔ مغرب سے سبقت حاصل کرنے کے لیے اب دنیا میں جاری اس کھیل کو ان کے مغرب کے اصولوں کے مطابق نہ چلنے دیں۔ مغرب کی سبقت اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ انہوں نے مادی ترقی کر لی ہے۔ بلکہ اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے کمزور ذہنوں کو یہ باور کروا دیا ہے کہ اصل ترقی مادی ہے۔ اور اس کے حصول کا راستہ وہ ہے جواہلِ مغرب بتا رہے ہیں۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ آیا ہم مغرب کو اسی کے اصول کے مطابق اسی کے میدان میں شکست دینا چاہتے ہیں، یا ہم اسے اپنے میدان میں گھسیٹ کر ہرانا چاہتے ہیں؟
سوال: پیشہ وارانہ تربیت کے لیے عملی خاکے کیسے مرتب ہوں؟
لہذا امت کو چاہیے کہ گھر، مکتب، مسجد اور مدرسہ کے طریقۂ تعلیم کو چھیڑے بغیر ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے کے لیے مستقل پیشہ ورانہ شعبے قائم کرے۔ اور ہر شعبے کے مسلمان ماہرین مطلوبہ علوم کے نصاب کی تشکیل ِنو کریں۔ یہ نظریہ کہ ڈاکٹر بننے کے لیے بچہ کو تین چار سال کی عمر سے ہی کسی ایسے اسکول میں داخل کروانا ضروری ہے جہاں اے فار ایپل اور بی فار بال پڑھوایا جاتا ہو اور یہ سلسلہ بارہ سال متواتر چلے، یہ نہایت سطحی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اقوام ِعالم اور تاریخ ِانسانیت میں بے شمار ایسی مثالیں ہیں جہاں ان قیود کے بغیر بھی ماہر اطبا بنے ہیں۔
اگر ہم انگریزی زبان کی قید کی بات کریں تو کہتے ہیں کہ عالم ِعرب کے بے شمار ممالک میں ماضی قریب تک انگریزی زبان کی تعلیم ابتدائی کے بجائے متوسطہ یا ثانوی درجوں کی جماعتوں سے شروع کروائی جاتی رہی۔ دور جدید میں عراق اور شام نے اپنے عرب قوم پرستانہ افکار کے پیش نظر ہی سہی ،طب کا نصاب عربی ہی میں رکھا ہے۔ یہ تو چھوڑیے! افغانستان کے میڈیکل کالجوں میں جدید طب کی تعلیم پشتو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دی جاتی رہی ہے۔
اور اگر ہم بارہ سال کی تعلیم میں سالِ اول سے حیاتیات اور طبیعیات جیسے طبعی علوم کی تعلیم دینے کی قید کی بات کریں تو یہ بھی کوئی مسلم بات نہیں کہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
اور اگر ابتدائی تعلیم مسلمانوں کے طریقے کے مطابق مکتب میں علوم ِدینیہ کی دی جائے اور اس کی تحصیل کے بعد کوئی طالب طبیب بننا چاہے تو اس کے لیے آج کل کے پرائمری اسکولوں میں پڑھائے جانے والے طبعی علوم سمجھنا مشکل ہوں گے۔ یہ بھی کوئی مسلم بات نہیں۔
بلکہ ماہرینِ تعلیم تو اب اس نتیجہ پر پہنچ رہے ہیں کہ معلومات کا یہ بوجھ بچوں پر بلا وجہ ڈالنے سے الٹا نقصان ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہ آئے دن پیشہ وارانہ کالجوں کے نصاب میں بھی معلومات کی بہتات کو کم کیا جا رہا ہے۔ اور ہر ایک طالب ِعلم کو فن کی ہر ایک باریکی پڑھانے کے بجائے تخصصات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ یعنی خود مغربی نظام ِتعلیم میں وضع کردہ قیود و ضوابط آئے دن تبدیل ہو رہےہیں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قیود اور ضوابط کوئی اٹل اور نا قابلِ تبدیلی حیثیت نہیں رکھتے۔
تو کیوں نہ ہم اپنی ضروریات کے مطابق ان قیود و ضوابط کو تبدیل کر دیں۔ یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ ہم ایسا نظام بنائیں جس میں تعلیم سے مراد علوم ِشرعیہ ہی ہوں جیسا کہ مسلمانوں کی تاریخ رہی ہے۔ اور مکاتب میں ابتدائی تعلیم کے بعد ہی بچوں کو پیشہ وارانہ تربیت دی جائے۔ اور یہ کام شعبۂ تعلیم کے بجائے دیگر حرفتوں اور صنعتوں کے شعبہ جات انجام دیں۔ کسی بھی مسلم نوجوان کو کوئی بھی پیشہ سکھانے کے لیے سابقہ تجاویز کے علاوہ ہزار اور تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں۔
یہاں ہمارا مقصود یہ بتانا ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے کہ اب تعلیم سے وابستہ افراد اس مسئلےکی تفاصیل بیان کریں جس سے ان کا تعلق ہی نہیں۔ یا تو کوئی شخص اس بات کو ہی تسلیم نہ کرے کہ اسلام میں شرعی اور تاریخی اعتبار سے تعلیم سے مراد علوم ِدین کا حصول رہا ہے۔ ایسے شخص سے تو جیسا کہ پہلے ذکر کر چکے ہیں، شرعی دلائل اور تاریخی حقائق پیش کرنے کے بعد ہمیں کوئی سرو کار نہیں۔ اب اگر یہ سوال کہ ہم طبیب ، تاجر اور معمار کیسے بنائیں؟ وہ بطور اعتراض کے کرتا ہے تو وہ بھی پہلے زمرے کے لوگوں میں آتا ہے جن سے ہماری کوئی بحث نہیں۔
اور اگر ان کا اعتراض شک کو دور کرنے کے لیے اور راہنمائی طلب کرنے کے لیے ہے، تو ہماری عرض یہ ہوگی کہ یہ مسئلہ گزشتہ تین چار صدیوں کی تنزلی کا نتیجہ ہے۔ جس کا عملی اور مفصل جواب ایک دو دن میں نہیں پیش کیا جا سکتا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کو درست کر لیں ۔ اگر سمت درست ہو تو سفر بھی کٹ جاتا ہے۔ اور ان شاء اللہ دوبارہ اصل کی طرف لوٹنے کے لیے ہم سب مل کر جو تعاون کر سکے وہ بھی کریں گے۔
سوال: تعلیم کے حوالے سے امت کیا کرے؟
سر دست کرنے کے لیے تین کام ہیں:
1. تعلیم کے حوالے سے اپنی فکر کو درست کیا جائے۔ جس کے لیے ہر قسم کے دعوتی اور سیاسی وسائل برو ئےکار لانے چاہییں۔
2. حکومتی سرپرستی میں قائم اسکول و کالج کے مغربی نظام کے سامنے بند باندھنے کے لیے معاشرے کے دیندار طبقے کے تحت آزادانہ طور پہ جاری گھر، مکتب ، مسجد اور مدرسے کے نظام کو تقویت دی جائے۔ کیونکہ مدارس کے وسیع جال کے باوجود ابھی تک ہمیں ایسے علماے کرام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اپنے مقام کا صحیح تعین کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے طریقے کو چھوڑے بغیر احیائے خلافت کریں۔ اس لیے امت کی نئی نسلوں کو مزید علوم ِدینیہ سے بخوبی سیراب کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر مدارس کالج اور یونیورسٹی میں دی جانے والی تعلیمی سطح کے متبادل تو ہو سکتے ہیں لیکن پرائمری اور مڈل اسکول کے مقابلے کے لیے اب مکاتب قرآنیہ کی تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔
3. فنی اور پیشہ وارانہ علوم کی تحصیل کے لیے تعلیمی نظام سے جدا پیشہ وارانہ تربیت کا نظام وضع کیا جائے۔ تاکہ اس کے ثمرات سے ہم بھی مستفید ہوں۔ موجودہ مغربی تعلیم کے نظام میں مزید نئی نسل کو خراب کرنے کے بجائے سرکاری اجارہ داری سےالگ ، مستقل نجی تعلیم کے سلسلے شروع کیے جائیں ۔ مزید یہ کہ اس وقت تک مختلف فنون میں اس مغربی نظام ِتعلیم سے فارغ افراد کو دعوت دی جائے کہ وہ اسلامی معاشرےکو اس کی اصل حالت کی طرف لوٹانے میں مدد دیں۔ لیکن نصب العین آنکھوں سے اوجھل ہوئے بغیر نہایت حکیمانہ انداز میں۔ ان میں سے ہر ایک کام کے لیے مختلف منصوبے اور طریقے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے خاص وسائل اور افراد درکار ہوں گے۔ لہذا اس حوالے سے امت کے اہل علم و ہنر افراد مل بیٹھ کہ خاکے مرتب کریں۔
خاتمہ
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کام کہنے کو آسان ہے لیکن یہ اتنا ہی مشکل ہے۔ کیوں کہ گزشتہ تین صدیوں کی مسلسل تنزلی کے بعد دوبارہ عروج کی طرف جانے کے لیے اتنا خون اور پسینہ بہانا تو شرعی سے پہلے فطری تقاضا ہے۔ لیکن ہمیں بخوبی علم ہے کہ اسی مشکل کام کو انجام دینے میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ اور چونکہ ہم دل و جان سے اس کی اہمیت سے واقف ہیں اسی لیے اس مشکل کو سر کرنا ہمارے لیے اب آسان ہے۔ ہم پر عزم ہیں کہ راستہ یہی ہے۔اگر آپ ہم سے متفق ہیں تو اپنا ہاتھ بڑھائیں۔
وما علینا الا البلاغ
٭٭٭٭٭
1 بحوالہ : جامع بیان العلم و فضلہ از قرطبی
2 بحوالہ: مساجد القاهرہ ومدراسها از احمد فکری
3 از حسن المحاضرۃ فی اخبار مصر وا لقاهرہ از سیوطی
4 بحوالہ: المساجد از حسین مؤنس






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



