بسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
دشمن کے خلاف اعلانِ جہاد
کھلے افق کی اسٹریٹجی
بے نتیجہ کاموں کو دہرانا دستیاب صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ موجودہ لمحے کو آپ کیسے استعمال میں لاتے ہیں، دشمنوں کے لیے یہ جاننا مشکل ہو کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔ نا قابلِ تبدیل دفاعی لکیریں یا کھلے قلعے تعمیر کیے بغیر اپنی عقل کے خلاف گوریلا جنگ چھیڑ دیں، ہر چیز کو گیس، اور مائع کی طرح متحرک حالت میں رکھیں، ایسا نہ ہو کہ جو چیز ایک دفعہ ہمارے لیے کارگر ثابت ہوئی ہو وہ ایسا خول بن جائے جو ہمیں دشمن کے ہاں ہونے والی تبدیلی اور ترقی کو دیکھنے سے مانع ہو۔
دنیا بدل گئی ہے اور علوم و فنون میں ترقی ہوئی ہے، جو ماضی میں کارگر تھا آج وہی رکاوٹ بن گیا ہے۔ اصولِ جنگ ایک علم ہے، جس سے استفادہ کرنا اور اسے بڑھانا ایک فن، مہارت، جدت اور تخلیقی صلاحیت ہے۔ سابقہ جنگ کی فتوحات کے سائے میں قید نہ ہو جائیں ، کیونکہ آپ کے دشمن بھی جانتے ہیں کہ آپ کو کیسے برتری حاصل ہوئی تھی ۔کسی بھی تنازع میں ایسے نہ اتریں جیسے کہ وہ آخری اور فیصلہ کن جنگ ہو، ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ایک اور جنگ آئندہ آنے والی ہے، اس لیے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو ختم نہ کر ڈالیں۔ حکمت اور بردباری سے متصف رہیں، اپنے تجربات کو مت دہرائیں اور جان رکھیں کہ آج لڑائی (قتال) کا آخری دن نہیں ہے بلکہ ایسے مزید دن بھی آئیں گے۔
ایک ایسا جرنیل جو ترقی کے قابل نہیں، اپنے تخیلات میں فقیر اور اپنی جوانی کا اسیر ہے، وہ اپنی فوجی تاریخ اور روایات کو یاد رکھتا ہے اور ان سے آزاد ہونے سے قاصر ہے۔ اس لیے وہ اپنے سابقہ تجربات ہی کو دہراتا رہتا ہے اور وقت کو اپنے پیشہ ور ساتھیوں کے ساتھ ایسی بحث میں گزار دیتا ہے جس سے وہ تب ہی ہوش میں آتے ہیں جب دشمن ان کے ہیڈ کوارٹر میں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ جب آپ کو کسی ایسے نوجوان جرنیل کا سامنا کرنا پڑے جو ٹیکنالوجی، تکتیک (Tactics) اور جنگی تدابیر کی ترقی کے دوش پر سوار ہو اور ایسے کھلے افق کی طرف دیکھ رہا ہو جس کی طرف بڑھتی ہوئی نگاہ کو روکنے کے لیے کوئی آڑ نہ ہو، تو آپ کو فوری خطرہ لاحق ہے۔ اگر آپ اس کی نظر کی وسعت اور افق کی گہرائی کو نہ بھانپ سکے تو یہ کوتاہی ایک ایسے تاریخی المیے کی صورت میں سامنے آئے گی جسے آپ پہلے بھی بھگت چکے ہوں گے، کیونکہ یہاں سے عسکری تاریخ کا ایک نیا باب رقم ہونے چلا ہے۔
جنگِ یرموک میں حضرت خالد بن ولید نے میدان جنگ میں اپنے لشکر کی تشکیلِ نو کی اور پہلی مرتبہ، دشمن کی صف بندی سے ملتی جلتی صف بندی کی، لیکن انہوں نے اپنے سادہ انتظام اور ہلکے اسلحے کو بر قرار رکھا۔ خالد بن ولید نے اپنی اسٹریٹجی دفاع پر کھڑی کی تاکہ رومیوں کی طاقت رِس رِس کر ختم ہو جائے۔
معرکۂ یرموک میں بہت سی ٹیکٹیکل تدبیریں اختیار کی گئیں تھیں، مثلاً سامنے سے حملہ (Frontal Attack)، صفوں کو چیرنا (Penetration)، جوابی حملہ (Counter Attack)، جانبی حملہ (Side Attack)، میمنہ و میسرہ (لشکر کے دائیں اور بائیں بازو) کی چال (Wings’ Maneuver)، عقب سے حملہ (Attack from Rear) ، دشمن کے بھاگنے کا راستہ چھوڑنا (Opening Loopholes)، جو کہ کمانڈر کی ذہانت پر دلالت کرتا ہے، تاکہ دشمن کے گھڑ سوار بھاگ نکلیں، زمینی جغرافیے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اور محاصرہ سخت کر کے گھیراؤ کرنا (Encirclement)، راستوں کو بند کرنا (Closing Loopholes)، اور ’وادی الرقاد‘ کے سندان (Anvil) پر مسلمانوں کے ہتھوڑوں کے وار کے نیچے دشمن کی فوج کو تباہ کرنا، جہاں ان کی لاشیں گرتی رہیں۔
حضرت خالد بن ولید اسٹریٹجک ذہن رکھنے والے سپاہی تھے۔ نابغہ، ذہین ترین اور محبوب کمانڈر تھے جو اپنی اسٹریٹجی، تکتیک (Tactics) اور جنگی تدابیر کو دہرایا نہیں کرتے تھے۔ اپنی سبک رفتاری اور سادہ (ہلکی) انتظامیہ میں ممتاز تھے اور ہر معرکے میں میدانِ جنگ کی ضروریات، اپنی صلاحیتوں اور وسائل کے مطابق تعامل کیا کرتے تھے۔ حضرت ابوبکر یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ:
عقمت النساء أن يلدن مثل خالد
’’عورتیں خالد جیسا مرد پیدا کرنے سے بانجھ ہو گئیں۔‘‘
جائزہ اجلاس کی افادیت:
قائدین کی تربیت ایسے نگرانوں کے ماتحت ہونی چاہیے جو ان کی کارکردگی کو جانچتے رہیں۔ اسی طرح انہیں خود احتسابی، واقعات کی پیش رفت کے بارے میں رپورٹ لکھنے اور انجام شدہ کام کا عملی طور پر جائزہ لینے کی عادت ڈالنی چاہیے، چاہے عملاً وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہوں یا نا کام۔ اور اس تمام عمل کا قدم بقدم جامع جائزہ لینے کے لیے اجلاس (میٹنگ) ناگزیر ہے جسے نگرانوں کے مجموعے کی نظر اور رائے کے ساتھ ملا کر دیکھنا ہو گا، یعنی وہ کیا اصول تھے کہ جن کی بنیاد پر منصوبہ بندی کی گئی اور کن اصولوں کے اضافے یا کمی سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے؟ جنگی اصول، فتح کے حصول میں قیادت کی ذمہ داری کو آسان بنانے کے لیے وضع کیے جاتے ہیں، بشرطیکہ وہ لڑی جانے والی جنگ کے زمانے سے مطابقت رکھیں۔ اگر اصول زمانے کے موافق نہ ہوں تو ہم مناسب اقدام نہ اٹھا پائیں گے اور ممکن ہے کہ اس وجہ سے جنگ کی لاگت میں بھی اضافہ ہوجائے اور ہو سکتا ہے کہ ہماری کسی لا پرواہی کے سبب نقصان بھی اٹھانا پڑے۔ لہٰذا، ہمیں ہر تجربے کے بعد اپنے کام کا جائزہ لینے کے لیے بیٹھنا چاہیے تاکہ ہم آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کرسکیں۔
عام طور پر فتح کا تجربہ ہمیں زیادہ نہیں سکھاتا، کیونکہ کامیابی کا جوش و خروش ناصرف ہمارے اپنے غیر جانب دار تنقیدی جائزے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ وہ ہماری غلطیوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ اس لیے چاہے فتح حاصل ہو یا معاملہ اس کے بر عکس ہو، ہمارے لیے پوری سچائی پر مبنی جائزہ اجلاس ناگزیر ہے۔
ناکام تجربات انسان کو صحیح راستے کی طرف پلٹ آنے کے موقع فراہم کرتے ہیں بشرطیکہ تنقیدی عمل کو بخوبی سر انجام دیا گیا ہو۔ لیکن اگر آگے بڑھتے ہوئے راہِ فرار اختیار کی جائے یا شکست کی ذمہ داری دوسروں پر یا وسائل پر ڈالی جائے ، تو ایسی قیادت کولہو کے بیل کی مانند ہے جو بند دائرے میں چکر لگاتا رہتا ہے۔
تجربات، جنگی اصولوں اور اپنی عسکری تاریخ سے ہی چمٹے رہنا انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر ڈالتا ہے او ربدقسمتی سے ہم اسی کا شکار ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ علم ہی مستقبل کی بنیاد ہے۔ لیکن اس علم اور اپنی آخری لڑی جانے والی جنگ کے تجربے سے ہی چمٹے رہنا خطرناک ہے کیونکہ یہ باتیں ہمارے ذہنوں میں پیوست ہو جاتی ہیں اور ہمیں اپنے اندر قید کر لیتی ہیں، پھر انہیں ترک کرنا مشکل ہو جاتا ہے، بالخصوص اگر انہی کے ذریعے فتح حاصل ہوئی ہو۔ اس صورت میں ہم استعمال شدہ اسٹریٹجی اور حکمت عملیوں کو دہرانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ہمیں فتح کے نتائج کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ فتح،ہمیں خود سے مطمئن کردیتی ہے اور ہمیں پہل کرنے کی روح سے محروم کر دیتی ہے، نیز ہم پھر اپنے آپ کی ہی تقلید کرتے رہتے ہیں جبکہ شکست، اس کے بالکل بر عکس اثرات ڈالتی ہے۔ دراصل ہمیں شکست کے اثرات سے بھی آگے سوچنے کی ضرورت ہے اور شکست کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہچکچاہٹ اور کم ہمتی سے بھی ہمیں خود کو نکالنا ہو گا۔ (اگر ہم زیادہ جانتے ہوتے، اگر ہم نے زیادہ سوچا ہوتا، اگر ہم نے ایسا کیا ہوتا)۔ ہمیں پچھتاوے اور اپنے آپ کو شکست کی سزا دینے کے جذبات سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم واقعے کا اچھی طرح تنقیدی جائزہ لیں اور یہ سمجھ لیں کہ فتح حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس علم و معلومات کی کمی نہیں تھی بلکہ فن، ذاتی مہارت اور اندھی تقلید کی زنجیروں سے خود کر آزاد نہ کروا سکنا ہمارے راستے کی رکاوٹ بنا۔ اندھی تقلید کی زنجیروں سے ایسی جرات کے ساتھ آزاد ہونا چاہیے جس میں عجلت بازی اور بے احتیاطی پر مبنی دلیری نہ ہو بلکہ جگہ اور وقت کے ساتھ ہم آہنگی ہو۔ زیادہ واضح الفاظ میں، ایک کامیاب جرنیل وہ ہے جو اپنے علم سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن جگہ اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اسے لچک دار طریقے سے لاگو کرتا ہے۔
گوریلا جنگ میں کوئی معرکہ آخری نہیں ہوتا جس سے جنگ ختم ہو جائے، اس لیے زمینی قبضے پر اصرار اور مسلسل جنگ کے ذریعے خود کو تھکا دینا ایک عسکری گناہ ہے۔ ہم اس زمین سے چمٹ جاتے ہیں، جسے دشمن ہماری مسلسل اور معیاری کارروائیوں کے نتیجے میں چھوڑ دیتا ہے، لیکن دشمن چاہے کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑنے کا خطرہ مول لینا درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ غیر متوقع واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں اور طاقت کا پلڑا کسی وقت بھی پلٹ سکتا ہے، جس سے ایک تباہ کن لمحے میں سابقہ کامیابیوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ سوچیے کہ اگر دشمن مضبوط اور متحد ہو اور تنازع اپنے عروج پر ہو تو اس وقت کیا حال ہو گا؟
اپریل ۱۹۸۶ء میں، افغان مجاہدین اور سوویت یونین کی بری، فضائی اور کمانڈو افواج کے درمیان خوست میں ’’جاور [(پشتو میں زاوَر(حٔاور)]‘‘ کا معرکہ برپا ہوا۔ اس سے پچھلے سال یعنی ۱۹۸۵ء میں، کابل حکومت کے ایک جرنیل اور افغان مجاہدین کے ایک عظیم قائد کے درمیان ایک نفسیاتی جنگ کے بعد، عسکری جنگ ہوئی تھی۔ اُس وقت جنرل ’’شاہ نواز تنئی‘‘ نے اعلان کیا تھا کہ وہ ’’جاور‘‘جا کر چائے پیے گا، اس پر مولوی جلال الدین حقانی نے جواب دیا کہ کمیونسٹ دو جگہوں میں داخل نہیں ہو سکیں گے ایک ’’جاور‘‘ اور دوسری ’’جنت‘‘۔ جنرل شاہ نواز تنئی، ۱۹۸۵ء میں ’’جاور‘‘ پہنچنے میں نا کام رہا اور شدید زخمی ہوا لیکن بچ نکلا۔
اس طرح ’’جاور‘‘ کا معرکہ ایک علامت بن گیا۔ ایک سال بعد اپریل ۱۹۸۶ء میں وہاں بے رحم اور خون ریز جنگ شروع ہوئی۔ انجنیئر مصطفی حامد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:1كتاب “معارك البوابة الصخرية” (پتھریلے دروازے کے معرکے) از انجنیئر مصطفی حامد، یکے از سلسلہ “ثرثرة فوق سقف العالم” (دنیا کی چھت پر گپ شپ)۔
’’سرخ فوج، افغانستان میں جہاں چاہتی پہنچ سکتی تھی۔ اس نے معرکۂ جاور میں اور پھر زدران قبائل کے علاقے سے گزرتے ہوئے، خوست تک کا راستہ کھولنے کی جنگ میں بھی یہی ثابت کرنا چاہا تھا اور اس معاملے میں امریکہ نے بھی پاکستان کے ذریعے روسیوں کی مدد کی تھی تاکہ وہ اپنے فوجی وقار کو بچا سکیں، جس پر وہ جان سے زیادہ حریص تھے۔ ایسی صورت حال میں دانش مندی یہ نہیں ہے کہ آپ زمین کے آخری انچ کے دفاع کا یا خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا نعرہ بلند کریں، بلکہ ایسا نعرہ اختیار کرنا چاہیے جو دشمن کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے پر منتج ہو، تاکہ دشمن کی فتح ایک جھوٹی اور ظاہری فتح بن جائے۔‘‘
مجاہدین کے لیے، ہولناک نتائج کے باوجود، ان کارروائیوں نے مفید اور مثبت اثرات پیدا کیے، جن میں سوویت افواج کو یہ باور کرانا بھی شامل تھا کہ مجاہدین انہیں بھاری نقصان پہنچائے بغیر پسپا نہیں ہوں گے، اسی لیے انہوں نے ایسی کارروائیاں دوبارہ نہیں کیں۔ ان مفید اثرات میں یہ بھی تھا کہ مجاہدین کو ایک جگہ ٹھہر کر دفاع کرنے کے بجائے، چلتے پھرتے کمین (گھات) لگانے کی اہمیت کا ادراک ہو گیا۔ جس کی افادیت ایک سال بعد ’’جاجی‘‘ [پشتو میں زازی(حٔاحٔی)] میں کمانڈوز کی کمین میں ثابت ہو گئی۔
دشمن کی صلاحیتیں اور طاقت، مجاہدین کی کارکردگی کو بڑھاتی ہیں اور ان کے ردِعمل کو بہتر بناتی ہیں۔ مجاہدین کا سوویت یونین کے ساتھ تنازع، انہیں قبائلی جنگ کے ماحول سے نکال کر گوریلا جنگ کے ماحول میں لے گیا۔ جبکہ امریکیوں کے ساتھ امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین کے تنازع نے ان کی عملی کاکردگی کو بڑھایا اور انہیں امنیاتی (خفیہ یا انٹیلی جنس)جنگ کی طرف لے گیا۔ اس آزاد، روشن اور بیدار ذہن کے ذریعے، جسے مغربی انحطاط نے آلودہ نہیں کیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے افغان بندوں کو توفیق دی ،جس سے وہ نصف صدی سے بھی کم عرصے میں تاریخ کی دو طاقت ور ترین طاقتوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔
زندگی کی طرح جنگ میں بھی یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے جذبات قابو میں رکھیں اور انہیں یہ اجازت نہ دیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف کھینچ کر پھسلا دیں۔ حکمت اور بردباری ہمارے ذہنوں کو اشتعال انگیزی اور نفسیاتی جنگ کا سامنا کرنے ، نیزرونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ چلنے اور تنازع کے دوران غیر متوقع حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کے قابل بھی بناتی ہیں۔ درج ذیل اقتباسات میں بعض ایسے افکار ہیں جو ہمیں حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد دیں گے اور عسکری مہارت سے لیس کریں گے:
- اپنی جبلت کو آزاد کرنے اور متغیرات کے ساتھ مثبت تعامل کے قابل بننے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے تمام عسکری علوم و فنون پر نظر ثانی کریں اور انہیں زمانے اور ٹیکنالوجی کے مطابق ترقی دیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ اور نظریات کے مطالعے سے بصیرت کا افق وسیع ہو جاتا ہے لیکن جمود اور سخت رویے سے ہوشیار رہیں۔ خبردار رہیں کہ کہیں آپ وہیں نہ رک جائیں اور آپ کی عقل اس سے آگے بڑھنے سے عاجز ہو جائے۔ تقلید ایک معتبر مذہب ہے لیکن یہ مجتہدین اور تاریخ کی گہرائیوں میں غوطہ زن اصحاب رائے کے لیے نہیں ہے۔
- تعلیم ذہنوں میں ایسے نظریات متعارف کراتی ہے جن کو بدلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جنگ کے دوران وہ شخص تکلیف سے دوچار ہوتا ہے جو جنگ کے بدلتے ہوئے احوال کو بھانپ نہیں سکتا اور اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ماضی سے کوئی راستہ تلاش کرے، جب وہ ایک بالکل مختلف ما حول میں کامیاب ہوا تھا، چاہے یہ معاملہ جنگ کی نوعیت کا ہو یا ٹیکنالوجی کا یا تکتیک (Tactics) اور جنگی تدبیروں کا۔ آپ کی موجودہ صورت حال مختلف ہے اور اس چیز کی متقاضی ہے کہ آپ اپنی عقل کو آزاد کریں تاکہ وہ کوئی نئی سوچ اور تدبیر سامنے لا سکے اور کوئی ایسا حل نکال سکے جو حال کے تجربے کے موافق ہو۔ اس سے آپ میں تخلیقی صلاحیت کی روح نشو و نما پاتی ہے اور آپ کی عقل ماضی کے تجربوں اور چالوں کی حد سے آگے نکل کر ترقی کرتی ہے۔
- ویت نام کی جنگ میں شمالی ویت نام کے جنرل ’گیاپ‘ (Võ Nguyên Giáp) کا ایک عام اصول تھا کہ ہر کامیاب حملے کے بعد وہ اپنے آپ کو باور کراتا تھا کہ در حقیقت وہ ناکام ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی کامیابیاں اسے کبھی توڑ نہ سکیں اور اس نے کبھی بھی اگلے معرکے میں سابقہ اسٹریٹجی نہیں دہرائی، بلکہ ہر صورت حال کے بارے میں الگ سے سوچتا تھا۔
- اپنے ذہن کو ہمیشہ حاضر اور موجودہ صورت حال سے جوڑے رکھیں۔ ایسے معرکوں میں اپنا وقت ضائع مت کریں جو آپ جیت نہیں پائیں گے یا جو آپ کو تھکا کر ختم کر دیں گے بلکہ جن کے ذریعے آپ ممکنہ طور پر اپنے دشمن کا ہی پلڑا بھاری کر ڈالیں۔ اتنے دور جائیں جہاں دشمن آپ سے توقع نہیں رکھتا، اس کے لیے وہ میدان چھوڑ دیں جسے اس نے تیار کیا ہے اور اس پر اس جگہ سے حملہ کریں جو آپ نے اس کے لیے تیار کر رکھی ہے۔ اگر آپ نے اپنے ذہن کو دشمن کی چالوں سے نبرد آزما ہونے میں محصور کر دیا اور جذباتی پکار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور اپنے بعض اتحادیوں کی بات مان لی، تو اس طرح آپ اپنے مخالفین کے ہاتھوں میں ایک آلہ بن گئے، جسے جہاں وہ چاہیں گے کام میں لائیں گے! تو یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟
- سینئر قائدین اور جرنیلوں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کی پوری کوشش کریں اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کے ساتھ مشورے اور مکالمے کو بھی یقینی بنائیں۔ ان کے سامنے صورت حال ویسی ہی پیش کریں جیسے کہ وہ ہے۔ انہیں وہ تجویز نہ کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں بلکہ انہیں آزاد چھوڑ دیں تاکہ وہ معلومات اور جنگ کے نقشے کے ساتھ خود تعامل کریں۔ ان کی بات چیت غور سے سنیں اور ان کی باتوں کی مناسب تعریف کریں، پھر ان کی باتوں پر غور و فکر بھی کریں۔ اس طرح آپ بزرگوں کی حکمت اور جوانوں کی ہمت کے درمیان اپنی نئی اسٹریٹجی پائیں گے۔ اس کی مثال ایسے بوڑھے جسم کی سی ہوگی جس میں ایک جوان روح آباد ہو جائے، اس طرح آپ ہمیشہ تجدد کرتے رہیں گے۔
- جب مسلمانوں نے مشرق و مغرب کی طرف پیش قدمی کی، اسی طرح جب سکندرِ اعظم نے اور منگولوں نے حملے کیے اور نپولین بھی انہی کے نقش قدم پر چلا، تو قدیم سلطنتیں ان کے سامنے ٹھہر نہ سکیں۔ ان کی جوان روح نے ان کو ہر نئی چیز کی طرف کھینچا تاکہ وہ اس کے ذریعے ہر پرانی چیز کو گرا دیں۔ البتہ مسلمانوں کو اس میں دوسروں سے ممتاز کیا گیا کیونکہ وہ آسمانی تہذیب کی لہر کے ذریعے آگے بڑھ رہے تھے جس کا مقابلہ یا انکار ممکن نہ تھا۔
- جنگی نقطۂ نظر سے عبقری، ذہین اور نابغہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو ایسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو زیادہ نرم اور زیادہ لچک دار ہو تاکہ جنگ میں داؤ پیچ اور چال میں انہیں زیادہ قدرت اور وسیع میدان حاصل ہو سکے۔ اس میں ترقی کی آخری حد گوریلا جنگ کی شکل میں ابھرتی ہے جہاں انتشار اور ناگہانی صورتِ حال بھی ایک اسٹریٹجی بن جاتی ہے۔ وہ اپنے دشمن سے ایک یا دو قدم آگے ہوتے ہیں، ایک تکتیک (Tactic) اور جنگی تدبیر کو دہراتے نہیں ہیں اور نئے در پیش حالات کے ساتھ نبردآزما ہوتے ہیں۔
- دو مرتبہ سوچیے! پہلی مرتبہ: اپنے سیکھے گئے علم، جنگی اصول کے مفہوم، سینئر قائدین اور عظیم جرنیلوں کی باتوں کو سوچیے اور دشمن آپ کے اقدامات کے بارے میں کیا توقع رکھتا ہے، یہ سب سوچیے۔ پھر دوسری مرتبہ: ٹھوکروں سے بچتے ہوئے اور لاپرواہی کیے بغیر، روایات سے باغی ذہن کے ساتھ بالکل مختلف انداز سے سوچیے۔ اس زاویے سے سوچیے جس کی دشمن کم سے کم توقع رکھتا ہے۔ پھر اپنی دفاعی اسٹریٹجی کو، جس میں ساتھ ساتھ حملہ آور کارروائیاں بھی شامل ہوں، پہلی سوچ کے مطابق تشکیل دیجیے۔ جبکہ اپنی اقدامی اسٹریٹجی کو جو کہ متحرک دفاع پر مبنی ہو، جس سے دشمن کے لیے آپ کو ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے، دوسری سوچ کے مطابق تشکیل دیجیے۔
- زندگی، حرکت کا نام ہے اور اس روح کی کوئی زندگی نہیں جو فوجی روایات کی قید میں ہو، اور نہ ہی ایسا ذہن زندہ ہوتا ہے جس پر فوجی اصولوں نے قدغن لگا رکھی ہو۔ عظیم قائد وہ ہوتے ہیں جو فوجی اصولوں کا علم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنی فراست اور ذہانت کے مطابق ان اصولوں کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے سامنے افق ہمیشہ کھلا رہے گا اور یہی وہ لوگ ہیں جو ایسے جنگی اصولوں کی بنیاد رکھتے ہیں جو کسی افق میں محدود نہیں رہتے۔
- دشمن غیر متوقع طور پر اچانک آپ کو حیرت زدہ نہ کر دے۔ جغرافیے کا مطالعہ کریں، دشمن کا جائزہ لیں، اپنے آپ کو جانیں، اپنی صلاحیتوں کو پرکھیں، تاریخی تجربات کو سمیٹ لیں، انہیں دھیرے دھیرے سمجھیں اور ہضم ہونے کے لیے وقت دیں۔ تبدیلی و تغیر کے معاصر ماہرین سے مشورہ کریں۔ آنے والی جنگ کا فلسفہ وضع کریں، جاسوسی اور ترصد (ریکی ؍reconnaissance)کے عناصر کو کام میں لائیں، میدانِ جنگ کو متعین کریں، قدرتی عوامل کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں، خود کو ہتھیاروں سے لیس کریں، دشمن کے ارادوں کا جائزہ لیں اور اسے مناسب گلی میں بند کر دیں۔
استحکام، اِستِواء اور توازن کی اسٹریٹجی (Equilibrium and Balance Strategy)
جب معرکہ گرم ہو جاتا ہے اور تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو کچھ قائدین واقعات کے ہجوم میں اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ غیر متوقع ناکامیاں، ہمراہیوں کی ہچکچاہٹ، اتحادیوں کے شکوک و شبہات اور تنقیدیں، ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے حملے، افواہیں پھیلانے والوں اور حوصلہ شکنی کرنے والوں کے ڈنک، صفوں کا متزلزل ہونا، سپاہیوں کے شکوک، صحیح سمت کا فقدان، جذباتی ردِعمل کی طرف مائل ہو جانا (خوف، بدحواسی یا مایوسی وغیرہ کی وجہ سے)۔ اس لمحے کا مقابلہ کریں اور اسے گزر جانے دیں اور اس پر فتح حاصل کریں۔ جذبات کے بوجھ کے خلاف مزاحمت کریں اور دوسروں کو بھی حواس باختہ نہ ہونے دیں۔ اپنے ذہنی استحکام و اِستِواء اور نفسیاتی توازن کو برقرار رکھیں تاکہ آپ مشکل حالات کی لہروں میں بہہ نہ جائیں، کیونکہ مخالف لہروں کی شدت کے باوجود، شان و شوکت کی کشتی آگے بڑھتی رہتی ہے۔
’’والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة … والله لو منعوني عقال بعير كانوا يؤدونه إلى رسول الله لقاتلتهم عليه‘‘… ’’قد انقطع الوحي وتم الدين .. أينقص وأنا حي؟‘‘… ’’والله لأقاتلنهم ما استمسك السيف في يدي .. ولو لم يبق في القرى غيري.‘‘
’’اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا۔ خدا کی قسم! اگر انہوں نے زکوٰۃ میں اونٹ کی رسی بھی دینے سے انکار کیا جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا‘‘…… ’’وحی کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے اور دین مکمل ہو چکا ہے…… کیا دین میں کمی آئے اور میں زندہ رہوں؟‘‘…… ’’واللہ! میں ان سے قتال کروں گا جب تک میرے ہاتھ میں تلوار پکڑنے کی طاقت ہے، چاہے شہروں اور بستیوں میں میرے سوا کوئی باقی نہ رہے۔‘‘
یہ وہ لازوال الفاظ ہیں جنہیں کہتے وقت حضرت ابوبکر صدیق نہ تو ہچکچائے اور نہ ہی ہکلائے، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلے میں کسی شک یا ایک لمحے کے تردد کا شکار ہوئے۔ یہ آپکی خصوصیت تھی کہ جب آپ کے سامنے حق واضح ہو جاتا تو آپ کا ناقابل واپسی، ناقابل سمجھوتہ، اور ناقابل رعایت موقف، اللہ کی طرف سے آپ کے لیے ایک الہام ہوتا تھا اور آپ کے بعد آنے والوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن گیا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ کے بعد اس دین کی سلامتی اور پاکیزہ، نفیس، پختہ اور مستحکم حالت میں اسلام کی بقا کا سب سے بڑا سہرا آپ ہی کے سر جاتا ہے۔ سب نے تسلیم کیا ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ حضرت ابوبکر ، سرکش فتنۂ ارتداد اور اسلام کے بندھن کو ایک ایک کر کے توڑنے کی کوشش کے مقابل چٹان بن کر کھڑے رہے، جو آپ کے دور میں انبیاء و رُسل کے موقف کی یاد دلاتا ہے اور یہ نبوت کی خلافت اور جانشینی تھی جس کا حق حضرت ابوبکر نے بطریقِ احسن ادا کیا۔ بلا شبہ اسی کے باعث آپ مسلمانوں کی تحسین اور دعاؤں کے مستحق ٹھہرے جب تک کہ اللہ کی زمین اور اس پر رہنے والے لوگ باقی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ (سورۃ ابراہیم: ۲۷)
’’ جو لوگ ایمان لائے ہیں، اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی، اور ظالم لوگوں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے، اور اللہ (اپنی حکمت کے مطابق) جو چاہتا ہے کرتا ہے۔‘‘
اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً لِّيُطَهِّرَكُمْ بِهٖ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطٰنِ وَلِيَرْبِطَ عَلٰي قُلُوْبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ (سورۃ الانفال: ۱۱)
’’ یاد کرو! جب تم پر سے گھبراہٹ دور کرنے کے لیے وہ اپنے حکم سے تم پر غنودگی طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تاکہ اس کے ذریعے تمہیں پاک کرے، تم سے شیطان کی گندگی دور کرے تمہارے دلوں کی ڈھارس بندھائے اور اس کے ذریعے (تمہارے) قدم اچھی طرح جما دے۔ ‘‘
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ (سورۃ محمد : ۷)
’’ اے ایمان والو ! اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا۔ ‘‘
بہت سے قائدین اور لیڈر، خطرے کے سامنے گھبرا جاتے ہیں اور ہچکچاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، خصوصاً جب ان کے ساتھ دوستوں اور شراکت داروں کی منت سماجت کی ہوائیں چلنے لگیں (کہ وہ اپنے موقف سے تنازل اختیار کریں)، لیکن پہاڑ ہواؤں سے نہیں لرزتے اور بعض لوگوں کا ایمان بھی پہاڑوں کی طرح مضبوط ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد، بعض قبائل نے دین سے ارتداد اختیار کر لیا اور کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا، اس موقع پر حضرت ابوبکر نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے ان کے خلاف جہاد کے بارے میں مشورہ طلب فرمایا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اسامہ بن زید کے لشکر کو روانگی سے روک لیجیے تاکہ یہ مدینہ منورہ کے لیے سلامتی اور حفاظت کا سبب بنے اور عرب قبائل کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجیے، جب تک کہ یہ مسئلہ حل نہ ہو جائے، کیونکہ یہ معاملہ ہر لحاظ سے انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے۔ اگر عربوں کا کوئی گروہ مرتد ہو جائے تو ہم کہیں گے: ’’آپ کے ساتھ جو لوگ ثابت قدم ہیں، انہیں ساتھ لے کر مرتدین سے لڑیں‘‘ ،حالانکہ عرب سب کے سب ارتداد پر متفق ہو چکے ہیں، وہ یا تو مرتد ہیں یا زکوٰۃ روکنے والے، یا پھر کھڑے دیکھ رہے ہیں کہ آپ اور آپ کے دشمن کیا کرتے ہیں اور انہوں نے کچھ آدمی آگے بھیجے ہیں اور کچھ کو پیچھے رکھا ہے۔ جبکہ بعض نے مشورہ دیا: ’’عرب اپنے اموال پر بخل کرنے لگ گئے ہیں اور عربوں کو اپنے سے دور کر کے آپ کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا، لہٰذا بہتر ہے کہ اس سال آپ لوگوں سے زکوٰۃ نہ لیجیے۔‘‘
حضرت ابوبکرنے فرمایا:
’’تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی اُن امور میں تمہیں مشورہ کرنے کی تاکید کی جاتی تھی جن کے بارے نبی کریم ﷺ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہ دیا گیا ہوتا اور نہ ہی قرآنِ مجید میں اُن کے متعلق کوئی حکم ملتا اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ اس امت کو کبھی بھی گمراہی پر متفق نہیں کرے گا۔ پس میں تمہیں مشورہ دوں گا، حالانکہ میں خود بھی تم میں سے ہی ایک آدمی ہوں، تم میرے مشورے پر بھی غور کرو اور اپنے مشورے پر بھی، اس طرح ہم سب صحیح ترین بات پر متفق ہو جائیں گے، کیونکہ اس صورت میں اللہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے گا۔ رہی میری رائے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمیں اپنے دشمنوں کو نصیحت کرنی چاہیے، پھر جس کا جی چاہے ایمان لائے اور جس کا جی چاہے کفر کرے۔ اور یہ درست نہیں کہ اسلام لانے کے لیے ہم انہیں رشوت دیتے پھریں، اور یہ کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے آپ ﷺ کے دشمنوں سے اسی طرح جہاد کرنا چاہیے جس طرح آپؐ ان سے جہاد کیا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے رسی بھی دینے سے انکار کیا تو میں اس پر بھی ان سے جنگ کروں گا یہاں تک کہ اسے صاحبِ نصاب سے لے کر اس کے حق دار تک پہنچا دوں۔ پس تم مشورہ کرو، اللہ تمہاری رہنمائی فرمائے، یہی میری رائے ہے۔‘‘
جب انہوں نے حضرت ابوبکر کی رائے سنی تو کہا: آپ کی رائے ہم سب کی رائے سے بہتر ہے اور ہم آپ ہی کی رائے پر عمل کریں گے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا اور مرتدین سے قتال کے لیے ذاتی طور پر قیادت کرنے کا فیصلہ کیا۔
أيا مهرًا يجيد العــــدو لم يشمت به الكـــــــلل
وزورق عـــــــــزة رغم اشــتداد الموج ينتقل
وسيفًا مثل ضوء البرق يسطع حين ينتضل
وإعصــارًا إذا ما هب ريـــــع الحــادث الجلل2ڈاکٹر یوسف ابو ہلالہ کے قصیدہ ’’الفارس المصلوب‘‘سے لیا گیا جو انہوں نے شیخ عبداللہ عزام کے لیے لکھا تھا اور جسے شیخ اسامہ بن لادن اکثر اوقات دورانِ سفر پڑھا کرتے تھے۔
اے وہ تیز رفتار سوار جو دشمن کو جا لیتا ہے، جس پر کبھی کمزوری غالب نہیں آتی
اور وہ عزت کی کشتی جو موجوں کی سختی کے باوجود رواں رہتی ہے
اور وہ تلوار جو بجلی کی روشنی کی مانند چمکتی ہے جب نیام سے نکلتی ہے
اور وہ بگولا جو جب اٹھتا ہے تو عظیم حادثے کی شدت کو ساتھ لے آتا ہے
قیادت کی صفات:
قیادت کی صفات کے باب میں، ہمیں قرآنِ مجید کی، درج ذیل پانچ آیات پر خاص توجہ دینی چاہیے :
ارشاد باری تعالی ہے:
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ۭ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۭ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۭ وَاللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ (سورۃ البقرۃ: ۲۴۷)
’’ اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ : اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔ کہنے لگے : بھلا اس کو ہم پر بادشاہت کرنے کا حق کہاں سے آگیا ؟ ہم اس کے مقابلے میں بادشاہت کے زیادہ مستحق ہیں، اور اس کو تو مالی وسعت بھی حاصل نہیں۔ نبی نے کہا : اللہ نے ان کو تم پر فضیلت دے کر چنا ہے اور انہیں علم اور جسم میں ( تم سے) زیادہ وسعت عطا کی ہے، اور اللہ اپنا ملک جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ ‘‘
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَھُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ ۠ فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَھُمْ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۵۹)
’’ ان واقعات کے بعد اللہ کی رحمت ہی تھی جس کی بنا پر ( اے پیغمبر) تم نے ان لوگوں سے نرمی کا برتاؤ کیا۔ اگر تم سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ تمہارے آس پاس سے ہٹ کر تتر بتر ہوجاتے۔ لہٰذا ان کو معاف کردو، ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو، اور ان سے (اہم) معاملات میں مشورہ لیتے رہو۔ پھر جب تم رائے پختہ کر کے کسی بات کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو۔ اللہ یقیناً توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘
لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ (سورۃ التوبۃ: ۱۲۸)
’’ (لوگو) تمہارے پاس ایک ایسا رسول آیا ہے جو تمہی میں سے ہے، جس کو تمہاری ہر تکلیف بہت گراں معلوم ہوتی ہے، جسے تمہاری بھلائی کی دھن لگی ہوئی ہے، جو مومنوں کے لیے انتہائی شفیق، نہایت مہربان ہے۔ ‘‘
قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰي خَزَاۗىِٕنِ الْاَرْضِ ۚ اِنِّىْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ (سورۃ یوسف: ۵۵)
’’ یوسف نے کہا کہ : آپ مجھے ملک کے خزانوں (کے انتظام) پر مقرر کردیجیے۔ یقین رکھیے کہ مجھے حفاظت کرنا خوب آتا ہے (اور) میں (اس کام کا) پورا علم رکھتا ہوں۔‘‘
قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا يٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ ۡ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْـتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ (سورۃ القصص: ۲۶)
’’ ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے کہا : ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر کوئی کام دے دیجیے۔ آپ کسی سے اجرت پر کام لیں تو اس کے لیے بہترین شخص وہ ہے جو طاقت ور بھی ہو، امانت دار بھی۔ ‘‘
اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کو حکمران منتخب فرمایا کیونکہ ان میں قائدانہ صفات موجود تھیں، مثلاً جنگی امور میں وسیع تجربہ، حکمرانی کا فن اور سیاست، اور اس کے ساتھ ساتھ جسمانی قوت وغیرہ۔ مدین میں حضرت شعیب کی بیٹی نے حضرت موسیٰ کی خیر و خوبی بیان کی کہ وہ طاقت ور اور امانت دار ہیں، اور حضرت یوسف نے خود کو اس لیے پیش کیا کہ وہ ایک بہترین حفاظت کرنے والے اور خوب علم رکھنے والے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کی تعریف فرمائی کہ آپ سراپا شفقت و رحمت ہیں اور آپ کو حکم دیا کہ آپ درگزر فرمائیں، صحابہ کرام ؓکے لیے استغفار کریں اور ان سے مشورہ کرتے رہا کریں اور جب (کسی کام کا) عزمِ مصمم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں۔
آپﷺ کے بعد خلفائے راشدین ؓ اور ان کے کمانڈروں میں جو اوصاف جمع ہوئے وہ کس قدر حسین تھے: علم و فہم، حلم و احتیاط، دیانت داری اور دنیا سے بے رغبتی۔ حضرت ابوبکر کا ایمان و صدق، حضرت عمر کی صلاحیت و ذہانت، حضرت ابوعبیدہ کا حلم اور دیانت داری، حضرت عثمان کی سخاوت و حیا، حضرت علی کی شجاعت و عفت، سبحان اللہ۔ اور وہ قائد جس کے ہم منتظر ہیں، جو امت کو متحد کرنے اور اسے مغرب کی غلامی سے نجات دلانے، اسے ایک کلمے پر اکٹھا کرنے اور اس کی سیاست کو بخوبی سرانجام دینے کے لیے کام کرے گا، وہ لوگوں کے مال پر قبضہ کرنے اور ان کا خون بہانے سے باز رہے گا، اس طرح وہ حق کی مدد کرنے والا اور مخلوق پر رحم کرنے والا ہو گا۔
جنگ کے لیے موزوں شخصیت:
جنگ کے لیے صرف وہی شخص موزوں ہے جو محتاط، بردبار اور ثابت قدم ہو، کیونکہ اس کے لیے نفسیاتی، ذہنی، علمی اور عملی صفات درکار ہوتی ہیں: مثلاً حلم و رواداری، تحمل، شجاعت، قوتِ عزم، دور اندیشی و احتیاط، صبر اور عاجزی وغیرہ۔ یہ نفسیاتی خصلتیں کئی چیزوں پر دلالت کرتی ہیں، اوّل: ایک پُرسکون نفس جو جذبات کو قابو میں رکھتا ہے (مثلاً خوف، الجھن، گھبراہٹ، نفرت، غصہ، غم اور حزن وغیرہ)، دوم: شدید ترین دباؤ میں سکون و طمانیت برقرار رکھنا، ٹھنڈے اعصاب اور تیز عقل کا ہونا، سوم: اپنے سپاہیوں کو متاثر کرنے، انہیں خدا سے جوڑنے، ان کے حوصلے بلند رکھنے اور انہیں جنگ کے لیے ضروری اعتماد دینے کی صلاحیت کا حامل ہونا۔
جہاں تک ذہانت، دقیق مشاہدے، تفصیلات پر توجہ، پوری تصویر کو دیکھ کر فیصلے کرنا اور وسیع پیمانے پر معلومات کا تعلق ہے، تو ان چیزوں سے دو کاموں میں مدد ملتی ہے، اوّل: سیکھنا اور مہارت حاصل کرنا، یعنی ہر قسم کے مشترکہ ہتھیاروں کا سیکھنا اور ان کے ٹیکٹیکل استعمال میں مہارت حاصل کرنا اور دوم: عسکری تربیت، باریک بینی سے جنگ کی تیاری اور مکمل پیش بندی۔
باقی رہی حکمت؛ تو عملی تجربے کے بغیر کوئی حکمت حاصل نہیں ہوتی، کیونکہ یہی چیز قائد کو اپنی عسکری مجلسِ مشاورت اور مشیروں کے انتخاب اور ہر جنگ کی نوعیت کے مطابق اپنے مقامی کمانڈروں کے انتخاب پر خاص توجہ دینے پر آمادہ کرتی ہے، اسی طرح وہ زمین، آب و ہوا، موسم اور اصولوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتا ہے، اور اسے جنگ میں کسی بھی طرح کے خلا کو پُر کرنے کے لچک دار ہونے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے کیونکہ ان سب کا پہلے ہی حساب لگایا جا چکا ہوتا ہے، لہٰذا ان سے نمٹا جا سکتا ہے۔ پُرسکون، متوازن، موقع کے عین مطابق اور حکمت سے بھرا رویّہ، دوسروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پس یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جیسے آپ ہیں، بالکل اسی طرح وقت کے ساتھ آپ کے سپاہی بھی ہوں گے۔
جنگ کے لیے صرف وہی شخص موزوں ہے جو محتاط، بردبار اور ثابت قدم ہو، یہ ان لوگوں کے لیے موزوں نہیں ہے جو ہر چیز کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں، جو بین السطور اپنی مرضی کا مطلب پڑھ لیتے ہیں اور حقیقت کو اس طرح مسخ کرتے ہیں کہ وہ ان کے وسوسوں اور وہموں کے راستے سے جا ملے اور اپنے ساتھ والوں کو بھی اپنے اوہام کی تاریکی میں دھکیل دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت جلد حقیقت اور واقعیت کی تپش پر آنکھ کھولتے ہیں، لیکن وہ اپنی ناکام حرکتوں سے باز نہیں آتے اور بار بار وہی عمل دہراتے ہیں۔ وہ اپنے قائدین اور ماتحتوں کو اپنے شکوک و شبہات کی بے معنی باتوں میں مشغول رکھتے ہیں اور شورٰی کو فیصلہ کرنے سے روک دیتے ہیں، اس طرح وہ ایک قسم کی توجہ ہٹانے کی مشق کرتے ہیں اور غفلت پیدا کرتے ہیں جو دشمن کو وقت دیتی ہے کہ وہ جو چاہے حاصل کر لے۔ ایسے لوگ کسی چھوٹی جماعت کی قیادت تک کے اہل نہیں ہوتے، چہ جائیکہ ان کی موجودگی مرکزی قیادت یا شوریٰ میں ہو۔
جنگ کے لیے صرف وہی شخص موزوں ہے جو محتاط، بردبار اور ثابت قدم ہو، جبکہ وہ لوگ جو اپنی ذہانت، شجاعت، اور قوتِ ارادی پر فخر کرتے ہیں، دوسروں کے کندھوں پر چڑھ کر خود کو نمایاں کرتے ہیں، اپنی ذات کی طرف بلاتے ہیں اور اپنی حیثیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، یہ خود پرستی اور اپنے آپ کی پوجا میں ڈوبے ہوئے لوگ، نہ بڑی نہ چھوٹی عسکری مہمات یا لشکروں کی قیادت کے اہل ہوتے ہیں، اور نہ ہی انہیں ذمہ داری کی کسی بھی سطح پر قائدین کے طور پر چنا جا سکتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ خود پرستی اور اپنے آپ کی پوجا میں ڈوبے ہوئے لوگ بزدل اور جاہل ہوتے ہیں، وہ ذرا سی غلطی پر فوراً دامن جھاڑ لیتے ہیں اور ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں، اپنی غلطی کے لیے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، یہ کمینگی اور گھٹیا پن کے معنی میں سے ایک ہے۔ عاجزی اور تواضع اختیار کرنے والے لوگ تجربات سے گزر کر حکمت حاصل کرتے ہیں، جبکہ شیخی بگھارنے والے اور فخر کرنے والے تجربات میں ڈوب بھی جائیں تب بھی حکمت حاصل نہیں کر پاتے۔ کسی بھی سطح کا ذمہ دار اپنے فیصلوں کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، اس کے فیصلوں میں اپنے ماتحت افراد کا انتخاب اور انہیں ذمہ داریاں تفویض کرنا بھی شامل ہے، لہٰذا اسے لازمی طور پر اپنے ماتحتوں کے اعمال کی ذمہ داری اٹھانا ہو گی، خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔ کیونکہ اختیار تو تفویض کیا جا سکتا ہے، مگرمسئولیت (جواب دہی) تفویض نہیں کی جا سکتی۔
جنگ کے لیے صرف وہی شخص موزوں ہے جو محتاط، بردبار اور ثابت قدم ہو۔ جب تصادم کی ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور منصوبہ بندی کا آغاز ہوتا ہے تو بعض قائدین تذبذب اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ غلطی سرزد ہو جانے کا خوف ہے اور اس بات کا خوف ہے کہ اس کے نتیجے میں ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ یعنی یہ ان کے مستقبل اور ساکھ کا مسئلہ ہے۔ ایسے لوگ جو اپنے نام کو ہر وقت پیشِ نظر رکھتے ہیں، لامتناہی دائروں میں گھومتے رہتے ہیں اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں، انہیں ہر جگہ مسائل نظر آتے ہیں اور وہ معمولی سے دھچکے میں شکست دیکھتے ہیں، وہ صبر کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کی وجہ سے پیچھے ہٹتے ہیں، اکثر یہی تردد اور ہچکچاہٹ کے لمحات ان کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں۔
کچھ قائدین اس کے بالکل مخالف چلتے ہیں، وہ اپنے پیش روؤں کی طرح اپنے نام نمایاں کرنے میں تو شریک ہوتے ہیں، لیکن نہ تو مضبوط تیاری کی پروا کرتے ہیں، نہ ہی فتح یا شکست کی۔ وہ اپنے سرپرستوں اور حامیوں کے مطالبات اور ان کی مانگ کے مطابق کام کرنے پر راضی ہیں، حتیٰ کہ بعض اوقات علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کی خواہش کے مطابق بھی کام کرتے ہیں۔ ان سے بھی بڑھ کر وہ ہیں جو اپنے اتحادیوں کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں تاکہ ایسے مفادات حاصل کیے جائیں جن کا پورا فائدہ اتحادی ہی کو پہنچتا ہے، چاہے بظاہر وہ ان کے اپنے حق میں دکھائی دیں۔ ایسے لوگوں نے اپنی ذاتی اغراض کے لیے یا اپنے سرپرست یا اپنے اتحادی کو راضی رکھنے کے لیے اپنا قضیہ ہی بیچ دیا ہے اور ممکن ہے کہ ان کی آنکھیں اُن تباہ کاریوں پر بھی نہ جھپکیں جو انہوں نے برپا کیں۔ وہ اپنے پیش روؤں سے کہیں زیادہ تردد اور ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ (سورۃ المائدۃ: ۵۲)
’’ چنانچہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے، تم انہیں دیکھتے ہو کہ وہ لپک لپک کر ان میں گھستے ہیں، کہتے ہیں : ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر کوئی مصیبت کا چکر آ پڑے گا (لیکن) کچھ بعید نہیں کہ اللہ (مسلمانوں کو) فتح عطا فرمائے یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کر دے اور اس وقت یہ لوگ اس بات پر پچھتائیں جو انہوں نے اپنے دلوں میں چھپا رکھی تھی۔ ‘‘
حقیقی قیادت مشکل حالات میں اضطراب کا شکار نہیں ہوتی، نہ ہی اپنے وسائل اور افراد کو ذاتی حسابات کے تحت داؤ پر لگاتی ہے۔ یہ ربانی قیادت ہے جو اللہ کو اپنی نگاہوں کے سامنے اور اپنے ضمیر میں سب سے آگے رکھتی ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو عالمِ اسباب میں اسباب اختیار کرتی ہے، اپنے سپاہیوں کے ایمان و یقین کو ترقی دیتی ہے اور انہیں عالمِ غیب سے جوڑتی ہے۔ یہ وہ قیادت ہے جو تاریک ترین حالات میں اللہ کے حضور دستِ دعا بلند کرتی ہے اور مواقعِ شکر میں اپنی جبینوں کو سجدۂ شکر میں اللہ کے سامنے رکھتی ہے، یہ وہ قیادت ہے جو ایثارِ نفس اور اپنی ذات کے انکار پر پروان چڑھی ہے اور فتح کو اُسی کی طرف منسوب کرتی ہے جس کے ہاتھ میں فتح ہے، ایسی قیادت کو تذبذب و ہچکچاہٹ یا شیخی و تکبر کی حالت میں دیکھنا مشکل ہے، وہ پہاڑوں کی طرح ثابت قدم اور رسولوں کی طرح متواضع ہوتے ہیں کیونکہ ان کا پورا معاملہ اللہ ہی کے لیے ہوتا ہے۔
کلازوٹز (Clausewitz) کہتا ہے:
’’حواس، ذہن پر افکار یا منظم سوچ کے مقابلے میں کہیں زیادہ گہرا اثر ڈالتے ہیں…… حتیٰ کہ وہ شخص بھی جس نے عسکری کارروائی کی منصوبہ بندی کی ہو اور اب اسے عملی طور پر ہوتے دیکھ رہا ہو، اپنے سابقہ فیصلوں کی درستگی پر اعتماد کھو سکتا ہے……جنگ کے پاس میدان کو ایسے مناظر سے چھپا دینے کا طریقہ ہے جو بھونڈے انداز میں خوف ناک اشباح سے رنگے گئے ہوں…… ایک بار جب یہ منظر صاف کر دیا جائے اور افق پر بصارت واضح ہو جاتی ہے تو واقعات کی پیش رفت اس کے سابقہ یقین کی تصدیق کر دے گی۔ یہ منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ کے درمیان موجود بڑے خلاؤں میں سے ایک ہے۔‘‘3کلازوٹز کی کتاب “On War” سے اقتباس۔
جنگ کی اچھی تیاری منع نہیں ہے (دشمن کا گہرائی سے مطالعہ، اس کی طاقت کے مراکز اور کمزوریوں کو جاننا اور اس کے ارادوں کا اندازہ لگانا، موسم کا مطالعہ، اس کے اتار چڑھاؤ اور باقاعدگی کے اوقات کا تعین کرنا، زمین کا مطالعہ، میدانِ جنگ کا معائنہ اور اس کی کمزوریوں کی شناخت، منصوبے میں موجود رخنوں کی تلاش اور انہیں پُر کرنے اور ان پر قابو پانے کے لیے لچک دار متبادل وضع کرنا وغیرہ، حاضر دماغی، عزم و ارادے کی پختگی کے ساتھ جذبات کا توازن اور منصوبے پر توجہ مرکوز کرنا)۔ یہ ساری احتیاط اور تدبیر اس بات سے نہیں روکتی کہ کبھی ایسی غلطیاں سرزد ہو جائیں جن سے ہم غافل رہ گئے ہوں یا دشمن کسی اچانک اقدام سے ہمیں چونکا دے۔ غلطیاں ممکن ہیں، لیکن انہیں سکون و طمانیت، مضبوط ارادے، بصیرت کی نفاذ پذیری اور بلند حوصلے کے ساتھ درست کیا جا سکتا ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص مدد و استعانت کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے۔
منصوبہ بندی کرتے وقت مہارت اس بات میں مضمر ہے کہ آپ بالکل واضح طور پر جانتے ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے درمیان کوئی تاریک گوشہ نہیں ہونا چاہیے۔ حتیٰ کہ ناکامیوں یا پسپائیوں کی توقع بھی کی جانی چاہیے اور ان کے علاج کے لیے متبادل پہلے سے طے کیے گئے ہوں۔ یہاں تک کہ اگر وہ اچانک واقع ہو جائیں تو، آپ کو ان سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، فکری فالج یا جمود ایک ایسا راستہ ہے جو آپ کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہے اور آپ کے پاس اپنے آس پاس موجود لوگوں کے سوالات اور شکوک و شبہات کے جوابات ضرور ہونے چاہییں۔ حد سے زیادہ احتیاط اور تفصیلات میں مبالغہ ایسی بھول بھلیاں ہیں جن سے آپ نکل نہیں پائیں گے۔ ایک قدیم مقولہ ہے: اگر بحری جہاز کے کپتان کا مشن صرف اسے محفوظ رکھنا ہے، تو اسے بندرگاہ پر ہی رہنے دینا چاہیے، کپتان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اسے سمندر میں لے جائے، خطرات عبور کرے اور ساحل تک فاتح بن کر پہنچے۔
خوف کو جمع ہونے دینا شکست کی تیاری ہے۔ بہت سے عناصر ہمیں شجاعت، ہمت اور ثابت قدمی عطا کرتے ہیں، جن میں سب سے اہم اللہ کے پاس موجود چیز پر یقین ہے، اور پہل کرنے کی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی آپ کی صلاحیت۔ یہ مہارت محض وسعتِ مطالعہ سے نہیں آتی بلکہ مشق اور تجربات سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہی جملے میں رسول اللہ ﷺ نے جنگِ موتہ کے بعد معاملات کو ان کے درست مقام پر لوٹا دیا۔ جب لوگوں نے کہا: ’’اے فرار ہونے والو! تم اللہ کی راہ سے بھاگے ہو!‘‘۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ فرار ہونے والے نہیں بلکہ بار بار پلٹ کر حملہ کرنے والے ہیں، ان شاء اللہ‘‘۔
نفسیاتی جنگ، جو آلاتِ قتل سے بہت دور ہے، افق کے اس پار ایک دوسرے کو گھورنے والے دو کمانڈروں کے مابین واقع ہوتی ہے، اس بات کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے کہ آپ مخالف کو اس کی اصل صورت میں دیکھ سکیں۔ اس سے اس کے میڈیا کے القابات اور پروپیگنڈ۱ ہٹا دیں، پروپیگنڈے کا نہیں بلکہ شخص کا سامنا کریں۔ اپنے سپاہیوں کو بھی اس طرح کے بہت سے اوہام کے خلاف مضبوط کریں اور اپنے حریف کو نظر انداز مت کریں، نہ اسے ہلکا سمجھیں اور نہ ہی اس کی صلاحیت کا غلط اندازہ لگائیں۔ آپ یہاں دو دھاری تلوار سے نمٹ رہے ہیں: حقیقت اور پروپیگنڈا۔ پس چیزوں کو ان کے درست مقام پر رکھیں تو نفسیاتی ہالہ اور میڈیا پروپیگنڈا ٹوٹ جاتا ہے۔
حکمت تجربات سے گزرے بغیر حاصل نہیں ہوتی، اور حواس کا توازن و استحکام بھی انہی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، کیونکہ باتیں اور لیکچر ایک چیز ہیں، اور خون، بکھرے ہوئے اعضاء، گولیوں کی بارش، توپوں کی گھن گرج، اور چھروں کی اڑان کے درمیان میدان میں کام کرنا ایک بالکل دوسری چیز ہے۔ توپوں کی آگ چہروں کو جھلسا دیتی ہے اور دھماکوں کی آوازیں کانوں کو بہرا کر دیتی ہیں، یہاں تک کہ سانس میں بارود کے سوا کچھ نہیں جاتا اور قدم لاشوں کے سوا کہیں نہیں پڑتے۔ انسان معرکے کی گرد میں گم ہو جاتا ہے، جب آپ آنکھوں میں خوف دیکھتے ہیں، آنسوؤں کو رخساروں پر بہتے، پسینے کو مٹی سے ملتے اور غم کی وجہ سے کلیجہ منہ کو آتے ہوئے دیکھتے ہیں، تب اضطرابِ قلب اور دلوں کی بے چینی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ لہٰذا یہ سب کچھ ایک اور ہی چیز ہے۔ جب افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہیں، مایوسی پھیلانے، حوصلہ شکنی اور خوف و ہراس کی آوازیں ہر طرف گونجتی ہیں اور کانوں کو بھر دیتی ہیں، انسان کی روح زخمی ہونے، قید ہو جانے یا موت کے خدشات میں الجھتی ہے، اور سینوں میں بزدلی اور بہادری کے مابین ایک جنگ چل رہی ہوتی ہے کہ اس موقع پر بھاگ جانا چاہیے یا ثابت قدم رہنا چاہیے، پس یہ سب کچھ اور ہی چیز ہے۔ یہ جنگ کا ماحول ہے، لیکچر کی فضا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِيْدًا (سورۃ الاحزاب: ۱۰، ۱۱)
’’ یاد کرو جب وہ تم پر تمہارے اوپر سے بھی چڑھ آئے تھے اور تمہارے نیچے سے بھی اور جب آنکھیں پتھرا گئی تھیں اور کلیجے منہ کو آ گئے تھے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے تھے۔ اس موقع پر ایمان والوں کی بڑی آزمائش ہوئی اور انہیں ایک سخت بھونچال میں ڈال کر ہلا ڈالا گیا۔ ‘‘
بہادر اور دلیر وہی ہے جو اس ماحول سے گزرا اور اس میں ثابت قدم رہا اور حکمت ایسی ہی فضا میں حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا غلطی کرنے والے ہی حلیم و بردبار ہوتے ہیں، اور صاحبِ تجربہ لوگ ہی حکیم و دانا ہوتے ہیں۔
- عین اس وقت جب جنگ اپنے عروج پر تھی، حضرت خالد بن ولید پیچھے ہٹے تاکہ اپنے سپاہیوں میں عزت و وقار کی روح جگا سکیں اور پھر لوٹ کر فیصلہ کن فتح حاصل کر سکیں۔ خالد بن ولید نے اپنے لشکر کو عارضی طور پر پیچھے ہٹایا اور پھر آپ نے پُرجوش انداز میں انہیں پکارا: الگ الگ ہو جاؤ، الگ الگ ہو جاؤ، اے مجاہدو! تاکہ ہم جان سکیں کہ ہمیں کہاں سے آ لیا جا رہا ہے۔ چنانچہ آپ نے مہاجرین کو ایک طرف رکھا، انصار کو ایک طرف اور بدوؤں (اَعراب) کو ایک طرف کر دیا۔ پھر مہاجرین میں ہر ہر قبیلے کو ایک ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا۔ تو کیا اب ان میں سے کوئی فرار کی رسوائی کے سائے میں جی سکتا تھا؟ چنانچہ خالد نے ان میں پھر سے جرات اور ثابت قدمی کی روح جگا دی۔ آج ان میں سے کوئی بھی اپنی قوم اور اپنے آباء و اجداد کو رسوا نہیں کرے گا۔ پھر انہوں نے اپنے دشمن پر حملہ کیا اور اسے توڑ ڈالا۔
- حضرت عبداللہ بن اُنَیس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور فرمایا: مجھے خبر ملی ہے کہ خالد بن سفیان بن نُبَیح ہُذلی میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے لوگوں کو جمع کر رہا ہے اور وہ اس وقت وادی عُرنہ میں ہے، تم جا کر اسے قتل کر دو۔ عبداللہ بن اُنَیس کہتے ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کی کوئی نشانی بتا دیجیے تاکہ میں اسے پہچان لوں۔ آپؐ نے فرمایا: جب تم اسے دیکھو گے تو تم اپنے جسم میں ایک قسم کی کپکپی محسوس کرو گے۔ میں اپنی تلوار لے کر نکل پڑا، یہاں تک کہ میں وادی عُرنہ میں اس کے پاس پہنچ گیا، وہاں وہ ایک گھر میں اپنی بیویوں کے ساتھ موجود تھا، اور وہ وقت عصر کی نماز کا تھا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے جسم میں رسول اللہ ﷺ کے بتانے کے مطابق ایک کپکپی محسوس کی تو میں اس کی طرف بڑھا، لیکن اس بات سے ڈرا کہ میرے اور اس کے درمیان کشمکش مجھے نماز سے غافل نہ کر دے، اس لیے میں اس کی طرف چلتا ہوا اپنے سر کے اشارے سے رکوع اور سجدے کرتا ہوا اس کے پاس پہنچ گیا، اس نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: ایک عرب آدمی جس نے سنا ہے کہ تم اُس آدمی (یعنی نبی کریم ﷺ) کے خلاف جنگ کے لیے لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہو، اسی لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں! میں اسی کام میں لگا ہوں، میں اس کے ساتھ کچھ دیر چلتا رہا، یہاں تک کہ جب اس پر پوری طرح قدرت پالی تو اس پر تلوار سے حملہ کر کے اسے قتل کر دیا اور فوراً نکل پڑا، میں نے واپس ہوتے ہوئے دیکھا کہ اس کی بیویاں اس پر جھکی ہوئی تھیں۔
اسی اطمینان اور سادگی کے ساتھ عبداللہ بن اُنَیس نے یہ حکم قبول کیا اور آپ ایک لشکر کے کمانڈر کو اُس کے محافظوں اور سپاہیوں کے درمیان قتل کرنے کے لیے اکیلے ہی نکل پڑے۔ آپ نے کپکپاہٹ پر قابو پا لیا اور اپنے نفس کو اپنے مشن کی انجام دہی کے لیے آمادہ کیا، یہاں تک کہ آپپر ایسی طمانیت طاری تھی کہ دشمن کو قتل کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہوئے آپنے نمازِ عصر بھی ادا کی۔ ثابت قدمی صرف اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ اس بات پر اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر یقین ہی وہ چیز ہے جس پر ہمیں اپنی تربیت کرنی چاہیے اور اس پر مزید، حقیقت کو جیسا ہے ویسا دیکھنا، بھی شامل کریں۔ یعنی آپ شخص کو دیکھیں، افسانے کو نہیں۔ وہ آپ ہی کی طرح کا ایک فانی انسان ہے، تلوار کا ایک وار اسے گرا سکتا ہے، حتیٰ کہ پانی کا ایک گھونٹ بھی اسے ہلاک کر سکتا ہے۔
داخلی صفوں کا درست انتظام، قیادت کے لیے ایسا ماحول تیار کرتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں پر پوری توجہ دے سکیں، لہٰذا قائدین پر لازم ہے کہ وہ اپنی مرکزی قیادت، ونگ کمانڈرز اور جاسوس اہلکاروں (ریکی کرنے والےعناصر) کی سلامتی کا خیال رکھیں۔ کمانڈر کو چاہیے کہ وہ اُن لوگوں سے مشورہ کرے جن کی وفاداری پر اسے اعتماد ہو۔ غزوۂ بدر میں، رسول اللہ ﷺ نے حضرت حباب ابن المنذر کی تجویز پر عمل کیا، غزوۂ احزاب میں مسلمانوں نے حضرت سلمان فارسی کے مشورے کے مطابق خندق کھودی، اسی طرح سچی وفاداری کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
تاہم، کچھ دیگر مثالیں اور مناظر بھی ہیں جو اِستِواء اور توازن کو بگاڑنے کا کام کرتے ہیں:
گمراہ کن معلومات، احکامات کی مخالفت یا ان کے نفاذ میں سستی، تیز و تلخ تنقید اور انصاف سے ہٹ جانا؛ یہ سب بغاوت اور نافرمانی کی علامات ہیں۔
گمراہ کن معلومات سے بچنے کے لیے، قائدین اور کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے موصول ہونے والی معلومات پر گہری نظر رکھیں، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ زمین، نقشے اور خطے میں انسانی آبادی اور اقوام کی تقسیم کا مطالعہ کریں، نیز موسم، آب و ہوا اور اس کی تبدیلیوں سے واقف ہوں۔ قائدین کو اس بات پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ ان کے افسران معاملات سے کس انداز میں نمٹتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس ایک وفادار نگرانی کا ادارہ ہونا ضروری ہے لیکن اس ادارے سے یہ مانع نہیں کہ وہ خود یہ جانچیں کہ ان کے افسران احکامات کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں۔ قائدین کو اپنے جرنیلوں کی جانب سے منصوبوں پر تنقید کے انداز سے بھی ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ راکھ کے نیچے آگ سلگ رہی ہو اور دھواں اور گرد و غبار کسی سازش اور بغاوت کو چھپا رہا ہو۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتے پر توجہ دینا ضروری ہے: کچھ مخلص لوگ بعض اوقات اعتراض بھی کرتے ہیں اور تنقید بھی کرتے ہیں، اور ممکن ہے کہ ان میں سے بعض کی زبان تیز ہو، مگر اس کا مقصد اصلاح اور سفر میں بہتری لانا ہوتا ہے۔ صرف باشعور قیادت ہی ان کے مقصود کو سمجھتی اور پہچانتی ہے، جبکہ احمق اور بے وقوف قائدین جلد ہی اپنی علانیہ تنقید کو طعنہ زنی و الزام تراشی اور بے وفائی و غداری قرار دے دیتے ہیں اور اصلاح کے نظریے سے ہونے والی تنقید اور اعترض کو ذاتی مسئلہ بنا دیتے ہیں اور معترضین کو گمراہوں اور مخالفین کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں اور انہیں عہدوں سے ہٹانے یا حاشیے پر دھکیلنے کا اقدام کرتے ہیں۔ ہمیں اصلاح کی خاطر کی گئی تنقید اور انہدام کے لیے کیے جانے والے نقد و اعتراض کے درمیان فرق کرنا چاہیے۔
ہمیشہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس دو متوازی راستے ہوں جہاں سے آپ اپنی معلومات حاصل کرتے ہیں اور منظر دیکھتے ہیں تاکہ ظاہری شکلیں آپ کو دھوکا نہ دے سکیں۔ ان میں سے ایک سپاہیوں اور ماتحت افراد کے ذریعے ہے اور دوسرا وہ ہے جسے آپ بغیر کسی واسطے کے خود انجام دیتے ہیں، اور اس طرح آپ پوری تصویر دیکھ سکیں گے۔
بعض اتحاد عملی طور پر بے فائدہ ہوتے ہیں، اور کبھی کبھار ناگزیر برائی بھی بن جاتے ہیں، لیکن ان کا وجود دشمن کو مصروف اور الجھائے رکھتا ہے۔ بعض کوتاہ نظر اتحادی صرف اسی بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ اُن کے ہاتھ کیا آئے گا، اور کچھ وہمی ہوتے ہیں، خوف انہیں گھیرے رکھتا ہے، ہر کونے میں انہیں خطرہ دکھائی دیتا ہے، چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے مایوس ہو جاتے ہیں اور دھمکیاں ان کے ذہنوں پر سوار رہتی ہیں۔ ان میں سے بعض مسلسل تنقید کرتے ہیں، شک کرتے ہیں اور تعاون و پیش رفت میں رکاوٹ بنتے ہیں، ان میں سے کچھ اتحاد چھوڑنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بعض جان بوجھ کر یا انجانے میں اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو کانوں سے سنتے ہیں، لیکن دلوں سے انکار کرتے ہیں اور باطل دلائل سے بحث کرتے ہیں، جبکہ بعض اپنے سپاہیوں کو لڑائی کے لیے پیش کیے بغیر غنائم میں بڑے حصّے کا مطالبہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، ایسے لوگ احمق اور قلیل النظر ہونے کی بہ نسبت منافقت سے زیادہ قریب ہیں۔
خبردار! کہیں اُن میں الجھ کر آپ دشمن سے اپنی توجہ نہ ہٹا بیٹھیں۔ انہیں انہی کی دلچسپیوں میں مصروف رکھیں، خود کو ان سے الگ رکھیں، ان پر انحصار نہ کریں مگر ان کے ساتھ اتحاد بھی نہ توڑیں کیونکہ کسی نہ کسی طرح وہ دشمن کی توجہ ہٹانے کا سبب بنے رہتے ہیں اور اس طرح وہ مخالف صف میں شامل بھی نہیں ہوتے، یوں آپ انہیں غیر جانب دار رکھنے اور بے اثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
توقع اور پیش گوئی کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا اور اسے ترقی دینا ایک عنایت اور نعمت ہے جسے فراست یا چھٹی حس کہا جاتا ہے، اس کی ترقی ممکن ہے، خاص طور پر عسکری کاموں میں۔ اس کی نشوونما میں مدد دینے والے اقدامات میں سے ایک گناہوں سے دور رہنا ہے، کیونکہ مومن کا قول اور اس کی فراست، اس کی دین داری، حسنِ التزام اور اللہ کی طرف سے ملنے والی توفیق کی بدولت سچی ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اقدامات میں، معلومات حاصل کرنے کے لیے مضبوط جاسوسی اور انٹیلی جنس جمع کرنا بھی ہے، پھر دشمن سے متعلق رپورٹ کا مطالعہ اور معلومات کے ہر ٹکڑے کے مفہوم کو گہرائی سے سمجھنا بھی شامل ہے۔ مثلاً: نئے ہتھیار، ان کی خصوصیات، ان کی تکتیک اور تدبیریں، ان کے استعمال کا طریقہ اور ان کی تربیت کے لیے درکار وقت، میدان میں موجود دشمن کے جرنیلوں اور ان کے افسران کے نام معلوم کرنا، اور اُن کے پس منظر کی جانچ کرنا، اُن کی مہارت (تخصص) جاننا، یہاں تک معلوم کرنا کہ وہ کس ڈویژن سے آئے ہیں (آیا فوج سے یا خفیہ ایجنسی سے)، یہ سب معلومات دشمن کی منصوبہ بندی کی درست پیش گوئی کرنے اور اس کے وژن کو بے نقاب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس سے اس جنگ کی نوعیت واضح ہوتی ہے جس کی وہ منصوبہ بندی کر رہے ہیں، آیا یہ مختلف اقسام کے ہتھیاروں کی لڑائی ہوگی، یا زمینی جنگ، یا وہ صرف فضائی کارروائی پر اکتفا کریں گے، یا یہ ایک انٹیلی جنس اور سکیورٹی کی جنگ ہوگی؟
اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ ہماری ایجنسیوں کی طرف سے ہماری افواج کی داخلی اور میدانی صورت حال کے بارے میں پیش کردہ رپورٹوں کا مطالعہ کیا جائے،تاکہ کمانڈر اپنے افسران اور جوانوں کو پہچان سکے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ ان سے میل جول رکھے، ان کی تربیت کا جائزہ لے، ان کے حوصلے بلند کرنے پر کام کرے، ان کی ممکنہ ضروریات پوری کرے اور انہیں مفید معلومات فراہم کرے۔ نیز اس پر لازم ہے کہ وہ ہر ممکن ذریعے سے میدانِ جنگ کا مطالعہ کرے، نقشوں کے ذریعے، سطح مرتفع، ٹیلوں، پہاڑوں اور فضا سمیت ہر ممکن طریقے سے مطالعہ کرے اور ہر چیز کا جائزہ لے، تاکہ کوئی بھی خلا یا وادی اس کی نظر سے اوجھل نہ رہے۔
جب آپ خود کو اچھی طرح پہچان لیتے ہیں اور اپنے دشمن کو اس سے بھی زیادہ جان لیتے ہیں، اور جب آپ آپریشنل میدان (میدانِ جنگ) کا مطالعہ کر لیتے ہیں اور اس میں موجود تمام ہیئتوں، وادیوں اور دراڑوں کا ایک ذہنی نقشہ بنا لیتے ہیں، جب آپ اپنے ساتھیوں، ان کی تربیتی سطح، نفسیاتی اور ذہنی صلاحیتوں اور ان کے حوصلے بڑھانے کی اپنی صلاحیت کو جان لیتے ہیں، جب آپ گہرائی سے سمجھ لیتے ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں کون کون سے ہتھیار، ساز و سامان، اوزار، آلات اور ادارے ہیں، اور آپ ان سب چیزوں کو بہترین طریقے سے بروئے کار لاتے ہوئے ان کے ساتھ کئی جنگوں میں حصہ لیتے ہیں، تب آپ فنِ حرب میں ایک تجربہ کار ماہر بن جاتے ہیں۔ اب آپ مناسب حکمتِ عملی اور اسٹریٹجی وضع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں، حربی چالوں (تکتیک) میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں اور نئی تدبیریں ایجاد کر سکتے ہیں اور چالوں اور مشقوں میں جدت لا سکتے ہیں۔
جب آپ کے اندر اس پیغام پر یقین مضبوط ہو جائے جو آپ لے کر چل رہے ہیں اور آپ میں اس کے لیے قربانی دینے کا جذبہ پختہ ہو جائے اور آپ کو اپنی ذات کی نفی کرنا آ جائے اور آپ جان لیں کہ اللہ ہی ہے جو یہ انتخاب کرتا ہے کہ کس کے ہاتھوں کامیابی عطا کرے، تو یہ آپ کو قیادت کے وہم و فریب سے محفوظ رکھتا ہے اور اس ذہنی و نفسیاتی فالج سے بھی محفوظ رکھتا ہے جو اس کے مریضوں کو لاحق ہو جاتی ہے اور ان کی صحیح فطری بصیرت اور بالغ ردِعمل کی لچک کو محدود کر دیتی ہے۔
جب آپ یہ سب بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سمجھ جائیں، تو اُسی لمحے آپ خود کو وہم و فریب، مقابلہ بازی، جھگڑوں اور چھوٹی چھوٹی ناراضگیوں سے آزاد کر لیں گے، حقیقی آزادی کا ذائقہ چکھیں گے اور سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے میں روانی محسوس کریں گے۔ اس کے نتیجے میں آپ کے اندر اندرونی فہم کی حس پروان چڑھے گی، آپ کی بصیرت کو فروغ ملے گا، آپ اپنی پیش بینی کی صلاحیتوں کو بڑھائیں گے اور واقعات کا تیز تر اور بالغ ردِعمل کے ساتھ جواب دے سکیں گے۔ یہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ استحکام، اِستِواء اور توازن (Equilibrium and Balance) کو پہنچ چکے ہیں اور آپ کو دل اور قدموں کی مضبوطی اور ثابت قدمی نصیب ہو گئی ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1كتاب “معارك البوابة الصخرية” (پتھریلے دروازے کے معرکے) از انجنیئر مصطفی حامد، یکے از سلسلہ “ثرثرة فوق سقف العالم” (دنیا کی چھت پر گپ شپ)۔
- 2ڈاکٹر یوسف ابو ہلالہ کے قصیدہ ’’الفارس المصلوب‘‘سے لیا گیا جو انہوں نے شیخ عبداللہ عزام کے لیے لکھا تھا اور جسے شیخ اسامہ بن لادن اکثر اوقات دورانِ سفر پڑھا کرتے تھے۔
- 3کلازوٹز کی کتاب “On War” سے اقتباس۔









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



