نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | آٹھویں قسط

میں القاعدہ میں کیوں شامل ہوا؟

by ابو مصعب العولقی
in فروری 2026ء, فکر و منہج
0

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ أشرف الأنبیاء.

اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!

(۱۲) …… اس لیے کہ انہوں نے ’’علماءُ السلطان‘‘کی اصطلاح کو زندہ کیا

علمائے سلطان یا درباری علماء، یہ اصطلاح عہدِ سلف، یعنی خیر القرون سے موجود ہے، اور سلف نے علمائے سلطان سے خبردار کیا ہے،اور یہ ان کے انتہائی خطرناک ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کہ انہیں حقائق کو بدل دینے کی قدرت حاصل ہوتی ہے، وہ حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دیتے ہیں، اور حکمرانوں کے انحرافات کو شرعی رنگ دے دیتے ہیں، اور ان کے جرائم بلکہ بعض دفعہ حکمرانوں کے کفر پر بھی خاموش رہتے ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ومن أتی السلطان افتتن.‘‘ (رواہ أبو داود وصححہ الألباني)

’’اور جو سلطان کے پاس جائے گا وہ فتنےمیں پڑ جائے گا۔‘‘

کیا یہ زمانہ علمائے سلطان سے خالی ہے؟ اور کیا منہجِ سلف میں علمائے سلطان کے بارے میں خاموش رہنا اور ان سے خبردار نہ کرنا شامل ہے؟

اس کا جواب ہر صاحبِ انصاف طالبِ علم جانتا ہے۔ ہر زمانے میں علمائے سلطان موجود رہے ہیں اور علمائے سلطان سے خبردار کرنے کا منہج بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے بعض اقوال میں سے کچھ دیکھتے ہیں۔ امام ذہبیؒ کہتے ہیں کہ امام سفیان ثوریؒ نے فرمایا:

’’جب تم کسی قاری کو (یعنی عالم کو)سلطان کی پناہ لیتے دیکھو تو جان لو کہ وہ چور ہے، اور جب اسے مال داروں کی پناہ لیتے دیکھو تو جان لو کہ وہ ریاکار ہے۔ اور اس بات سے دھوکہ نہ کھانا کہ تم سے کہا جائے’تم ظلم کو روکنے والے ہو اور مظلوم کا دفاع کرتے ہو‘، کیونکہ یہ ابلیس کا دھوکہ ہے جسے قراء نے سیڑھی بنا لیا ہے۔‘‘1القول النفیس في التحذير من خديعة إبليس “مصلحة الدعوة”) ص (30)، نقل از سیر أعلام النبلاء (13/586)۔

اور سفیان بن عباد نے لکھا:

’’امراء سے بچو کہ ان کے قریب جاؤ یا کسی بھی چیز میں ان سے میل جول رکھو، اور اس بات سے دھوکہ نہ کھانا کہ تم سے کہا جائے ’تم سفارش کرتے ہو، یا مظلوم سے ظلم ہٹاتے ہو، یا ظلم کو روک دیتے ہو‘، کیونکہ یہ ابلیس کا دھوکہ ہے، اور فاجر قراء نے اسے سیڑھی بنا رکھا ہے۔‘‘2ایضاً، منقول از الحلیہ لأبي نعيم (6/376-377)۔

اللہ کے لیے بتائیے! اگر آج امام سفیان ثوری رحمہ اللہ زندہ ہوتے تو ان علماء کے بارے میں کیا کہتے جنہوں نے مسلمان امریکی کو اس امریکی فوج میں کام کرنے کے جواز کا فتویٰ دیا جو افغانستان پر حملہ آورہوئی؟ اور ان علماء کے بارے میں کیا کہتے جنہوں نے کہا کہ نائن الیون کے مقتولین بے گناہ ہیں، اور بعض نے ان کے لیے چندہ کرنے کی دعوت دی؟ اور وہ اور دوسرے سلف کے علماء ان لوگوں کے بارے میں کیا کہتے جنہوں نے خاموشی اختیار کی اور یہ فتویٰ نہیں دیا کہ آج جہاد فرضِ عین ہے؟ اور وہ ان امریکی اڈوں کے بارے میں کیا کہتے جو مسلمانوں کے ملکوں میں قائم ہیں اور انہی اڈوں سے نکل کر امریکی مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں پھر ’مسلمانوں ‘کی حفاظت میں اپنے اڈوں کو لوٹ جاتے ہیں؟ اور وہ کیا کہتے جب دیکھتے کہ امریکی جنگی جہاز عرب بندرگاہوں اور سمندروں سے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی خاطر بڑھتے ہیں؟ اور وہ کیا کہتے جب دیکھتے کہ امریکی فوج لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر رہی ہے اور عرب و مسلم حکمران اسے تیل، غذائی مواد اور انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں اور مجاہدین کو روکتے ہیں، تو اگر اس زمانۂ سلف کے حضرات ہوتے تو انہیں کافر نہ کہتےتو اور کیا کہتے……؟

کیا وہ مجاہدین کے قتل کا فتویٰ دیتے اور مجاہدین کے خلاف قنوتِ نازلہ پڑھتے ، اور ہمیشہ حکمرانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے؟ حالانکہ امام سفیان ؒنے اپنے زمانے کے حکمرانوں کا بھی رد کیا، حالانکہ وہ حکمران شریعت کے مطابق حکومت کرتے تھے اور ان سے عموماً صرف ذاتی سطح کے گناہ سرزد ہوتے تھے، اور وہ کفر کے ممالک فتح کرنے کے لیے لشکر بھیجتے تھے۔ امام سفیان رحمہ اللہ نے ان حکمرانوں پر ایسا سخت رد کیا کہ پھر وہ ان حکمرانوں سے بچنے کی خاطر مکہ میں چھپ گئے، اور کہا گیا کہ وہاں سے یمن ، اور پھر یمن سے بصرہ میں جا چھپے، اور محدثین کو خفیہ طور پر حدیث سناتے رہے یہاں تک کہ وفات پا گئے، اور ان کا جنازہ اچانک لوگوں کے سامنے نکالا گیا تو لوگوں نے ان پر نمازِ جنازہ پڑھی۔

یہ ہیں سفیان ثوری رحمہ اللہ، جن کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا:

’’کیا تم جانتے ہو امام کون ہے؟ امام سفیان ثوری، جس (کے مقام)سے کوئی بھی میرے دل میں آگے نہیں بڑھتا۔‘‘

وہ سفیان جو کہتے تھے:

“میں اگر کبھی کسی ایسی بات کو دیکھتا ہوں کہ جس پر میرے لیے بولنا لازم ہے اور میں حق بیان نہ کروں تو( اس غم و دباؤ کے سبب) مجھےپیشاب میں خون کی شکایت ہو جاتی ہے۔‘‘

اگر آج سفیان ثوری ؒ اور ان جیسے اسلام کے ائمہ زندہ ہوتے تو حکمرانوں سے کیا کہتے، جبکہ وہ دیکھتے کہ مسلمانوں کے ممالک عرب و عجم کے کلمہ گو طاغوتوں کے تعاون سے یہود و نصاریٰ کے قبضے میں ہیں ؟

اے میرے محبت کرنے والے بھائی! یہاں آج ایسے علماء کے رسوا کن فتوے ہیں جنہیں آج بڑا معزز سمجھا جاتا ہے، اور اگر وہ سفیان ثوریؒ کے زمانے میں ہوتے تو مسلمان ان پر یہ اصطلاح لگانے میں حرج محسوس نہ کرتے کہ یہ علمائے سلطان ہیں، درباری علماء ہیں۔

پس اس اصطلاح کو زندہ کرنے میں القاعدہ کو سبقت حاصل ہے۔ اور مخالف کہہ سکتا ہےکہ یہ علماء پر طعن کرتے ہیں؟تو اس اعتراض کا جواب دیا جاتا ہے کہ اہلِ حق علماء القاعدہ کے نزدیک معزز ہیں، البتہ علمائے سلطان کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہم اس شخص کی تعظیم کے مکلف نہیں جس کے اقوال امریکیوں کے حق میں ہوں، اور جس نے مجاہدین کے فکر و منہج کی مذمت اور اس پر طعن کیا ہو، اور انہیں گمراہ گروہ اور خوارج قرار دیا ہو۔ اگرچہ بعض علمائے حق سے بھی کبھی کچھ غلط عبارات صادر ہو جاتی ہیں جو مجاہدین کے خلاف اور ان کے دشمنوں کے حق میں ہوتی ہیں، تو ہم اس خطا کو خطا ہی کہتے ہیں، حاشا، ہم ہرگز بھی ان کو علمائے سلطان نہیں کہتے۔3علماء، ان کی اقسام، ان کے ساتھ تعامل وغیرہ کے موضوع پر مولانا محمد مثنّیٰ حسان (حفظہ اللہ) کی کتاب ’علماء کے ساتھ طرزِ تعامل میں اعتدال کی راہ‘ مطبوعہ ادارہ حطین لائقِ مطالعہ ہے۔

پس اس دور میں، دیگر ان لوگوں کے ساتھ جو منہجِ جہاد پر چلے، القاعدہ کو اس اصطلاح کو زندہ کرنے میں سبقت حاصل ہے۔ اور ہمیں اس اصطلاح کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کا مٹانا منہجِ سلف کے خلاف اور امت کے ساتھ دھوکہ ہے، اور اس سے امت کے دشمن، یہود، نصاریٰ اور منافق فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور اس اصطلاح کو زندہ کرنا امت کے لیے خیر خواہی ہے، کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے، لہٰذا ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنا دین کس سے لے رہے ہیں۔

علمائے سلطان کی وجہ سے خیر کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، اور ان دروازوں میں سب سے اہم دروازہ جہاد ہے، جب وہ حکمران کی مرضی کے خلاف ہو۔کیا آج امریکہ جو باقی سب چھوڑیے صرف غزہ ہی کی بات کیجیے، کیا یہ امریکہ غزہ میں موجود قتلِ عام و قحط کا سب سے بڑا ذمہ دار نہیں ہے؟ کیا اس امریکہ کے خلاف لڑنا ’ہمارے حکمرانوں‘، ابنِ سلمان، اردگان اور عاصم منیر کی رضا سے ہو سکتا ہے؟ بلکہ یہ حکمران تو اسی امریکہ کے فرنٹ لائن، نیٹو و نان نیٹو اتحادی ہیں۔ تو سوچیے جو علماء جہاد کو ان حکمرانوں کی رضا و اجازت کا پابند قرار دیں وہ علمائے حق ہیں یا درباری علماء اور کیا یہ بابِ جہاد کو بند کرنے والے نہیں؟ جہاد کا دروازہ تو عظیم دروازہ ہے، امام ابنِ تیمیہ (نوّر اللہ مرقدہٗ )نے فرمایا:

’’ومن کان کثیر الذنوب فأعظم دوائہ الجھاد.‘‘ (الفتاوى 28/421)

’’اور جو بہت گناہوں والا ہو، اس کی سب سے بڑی دوا جہاد ہے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ علمائے سلطان بعض اوقات کسی چیز کی مشروعیت کا فتویٰ دے دیتے ہیں، حالانکہ دراصل وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہوتی ہے۔ جس وقت یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو ہم بخوبی جانتے ہیں برِّ صغیر ہند و پاک میں کس قسم کے حالات ہیں اور ان حالات میں علمائے سلطان کا بہت بڑا کردار موجودہے۔ جہاد فی سبیل اللہ اور ہندو حکمرانوں کی خوشنودی کی خاطر غزوۂ ہند کی احادیث کو من گھڑت قرار دینا یا لیت و لعل سے ان کا انکار کرنا تو پرانی بات ہوئی، اب تو بعض حضرات گجرات کے قصائی نریندر مودی کو شرعی حاکم قرار دینے کے درپے ہیں، گائے کا ذبیحہ، تین طلاق، عقدِ ثانی، مسجدوں کو مسمار کرنا وغیرہ کو قریب قریب مشروع و غیر مشروع قرار دے رہے ہیں اور آر ایس ایس جیسی دہشت گرد تنظیم میں اچھی باتیں تلاش رہے ہیں۔ اور پاکستان…… لا الٰہ الا اللہ کی خاطر بننے والے پاکستان کی فوج اب نیتن یاہو اور ٹرمپ کے ساتھ ’بورڈ آف پیس‘ میں بیٹھ کر غزہ کے مسلمانوں کو قتل کرنے جا رہی ہے، لیکن کچھ درباری علماء کے نزدیک کل تک کے ولی الامر گویا اب شارع بھی ہیں، عاصم منیر کا ہر فیصلہ اسی طرح لائقِ دفاع و اتباع ہے جیسے نعوذ با اللہ شارع کا۔

یہ اہلِ علم سے منسوب جو عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنانے کی سفارشں درحقیقت گزارش بلکہ چاپلوسی کرتے ہیں، وہ فیلڈ مارشل جس کو طاغوتِ اکبر امریکہ کا سرخیل ٹرمپ“My Favourite Field Marshal“ کہتا ہے، وہ لوگ جو اس عاصم منیر کے ہاتھ پر ’بیعت‘ کرتے ہیں، یہ درباری علماء نہیں تو اور کیا ہیں؟

جان لیجیےکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس عالم کے لیے جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، دو بدترین مثالیں بیان کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

مَثَلُ الَّذِيْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا ۭ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۝ (سورۃ الجمعۃ: ۵)

’’ جن لوگوں پر تورات کا بوجھ ڈالا گیا، پھر انہوں نے اس کا بوجھ نہیں اٹھایا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہوئے ہو۔ بہت بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا۔ ‘‘

اور فرمایا:

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۝ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۝(سورۃ الاعراف: ۱۷۵–۱۷۶)

’’اور (اے رسول) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں مگر وہ ان کو بالکل چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا، اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہا، اس لیے اس کی مثال اس کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا، اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔ یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ لہٰذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں۔‘‘

اور علم کو چھپانے پر سخت وعید ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ ۝ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَّنُوْا فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۚوَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝(سورۃ البقرۃ: ۱۵۹–۱۶۰)

’’بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی روشن دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم انہیں کتاب میں کھول کھول کر لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں تو ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت بھیجتے ہیں۔ ہاں وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی ہو اور اپنی اصلاح کرلی ہو (اور چھپائی ہوئی باتوں کو) کھول کھول کر بیان کردیا ہو تو میں ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرلیتا ہوں، اور میں توبہ قبول کرنے کا خوگر ہوں بڑا رحمت والا۔ ‘‘

تو کیا آپ گمان کرتے ہیں کہ سلف علمائے سلطان سے خبردار کرتے تھے حالانکہ ’علمائے سلطان‘ نامی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ایسے لوگوں پر لعنت کی جن کا کوئی وجود ہی نہیں؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بدترین دو مثالیں اس عالم کے لیے دی گئیں جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، جبکہ اسے لوگوں کا وجود ہی نہ ہو؟

میرے بھائی! یہ لوگ حقیقت میں موجود ہیں، اور اگر آپ کے ذہن میں ان کا وجود نہ ہو تو اپنی عقل کو الزام دیجیے اور مجاہدین کو بدنام کرنا چھوڑ دیں کہ وہ اہلِ علم پر طعن کرتے ہیں۔ ہاں، بعض جہاد سے منسوب لوگ بعض اہلِ علم کے ساتھ بدسلوکی بھی کرتے ہیں، اور ہر جماعت و طبقے میں کچھ فتنہ پرداز و دیوانے لوگ ہوتے ہیں۔

مجاہدین علمائے کرام کو بہت بلند نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کا بیان ان شاء اللہ اسی سلسلے کی اگلی قسط میں آئے گا، باذن اللہ۔

اللھم اجعلنا هادين مهتدين، غير ضالّين ولا مضلّين، سلماً لأوليائك، وحرباً علی أعدائك، نحب من أحبك، ونعادي بعداوتك من خالفك. اللهم هذا الدعاء ومنك الإجابة، اللهم هذا الجهد وعليك التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، آمين!

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

  • 1
    القول النفیس في التحذير من خديعة إبليس “مصلحة الدعوة”) ص (30)، نقل از سیر أعلام النبلاء (13/586)۔
  • 2
    ایضاً، منقول از الحلیہ لأبي نعيم (6/376-377)۔
  • 3
    علماء، ان کی اقسام، ان کے ساتھ تعامل وغیرہ کے موضوع پر مولانا محمد مثنّیٰ حسان (حفظہ اللہ) کی کتاب ’علماء کے ساتھ طرزِ تعامل میں اعتدال کی راہ‘ مطبوعہ ادارہ حطین لائقِ مطالعہ ہے۔
Previous Post

امنیت (سکیورٹی) | پانچویں قسط

Next Post

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جنوری 2026 #

15 فروری 2026
خیالات کا ماہنامچہ | جولائی ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

خیالات کا ماہنامچہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
مَعرکے ہیں تیز تَر! | ستمبر تا نومبر 2024
عالمی جہاد

مَعرکے ہیں تیز تَر! | فروری 2026

15 فروری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
احکامِ الٰہی
گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

15 فروری 2026
Next Post
احکامِ الٰہی

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version