خراسان کا وہ شیر ہندو ڈوگرہ عدالت میں سینہ تان کے مشرکین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکار رہا تھا اور باہر اس کے مقامی انصار کشمیری بھائی اسلام کے نعرے بلند کرکے اس کی حمایت کر رہے تھے۔
جب عبدالقدیر خان خراسان سے کشمیر آیا تو ہندو ڈوگرہ حکومت کے مسلمانانِ کشمیر پر ظلم و ستم کو دیکھا۔ ظلم بھی ایسا کہ اگر کوئی ہندو کسی مسلمان کا قتل کرے تو اس کو کچھ ٹکوں کا جرمانہ بھر کے قانونی طور پر الزام سے بری کیا جاتا تھا۔
کشمیری مسلمانوں کو ظالم ڈوگرہ شاہی بنا کسی معاوضے کے زبردستی مزدوری کرواتی، کبھی کھیتوں میں تو کبھی گلگت کے برفانی پہاڑوں میں ان کو ڈوگرہ ہندو فوج کے لیے سپلائی کے کام پر لگاتی۔ کشمیر میں اس کام کو ’بےگیر‘ (بیگار)کہا جاتا ہے۔
جموں سے لے کر مظفر آباد اور سرینگر سے لے کر کارگل، ہر جگہ پر مسلمان ہندو ڈوگرہ کے ہاتھوں بے پناہ ظلم اور ستم کی چکّی میں پس رہا تھا۔
ظلم کا یہ عالم تھا کہ جب جموں میں ایک ہندو نے اسلام قبول کیا اور مسلمان بن گیا تو ہندو تحصیلدار نے اس کو اپنی ہی زمین سے بے دخل کر دیا۔
جموں کے ایک علاقے میں جب مولوی صاحب جمعے کے خطبے میں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ بیان کر رہے تھے اور اس کی اہمیت سمجھا رہے تھے تو ڈوگرہ ہندو فوجی نے زبردستی خطبہ رکوادیا۔
ڈوگرہ فوجی اور ان کے آلۂ کار کشمیری ہندو آئے دن کسی نہ کسی طریقے سے قرآن کی بے حرمتی کرتے۔
ایسے میں شہید عبدالقدیر خان نے ۲۵ جون ۱۹۳۱ء کو سرینگر کی تاریخی مسجد خانقاہِ مولا میں ایمان افروز تقریر کرکے مسلمان کشمیر میں کا دل جیت لیا اور ایک امّت کا تصور پیش کیا۔
شہید عبدالقدیر خان نے تقریر میں کہا:
’’مسلمان بھائیو!
آپ صرف اپنی قوت بازو پر بھروسہ رکھیں اور ظلم کے خلاف ایک مستحکم جہاد کریں اور اس ( ڈوگرہ ہندو کے محل کی طرف اشارہ کیا) کو خاک میں ملا دیں۔ ہمارے پاس مشین گن نہیں ہے لیکن ہمارے پاس بہت پتھر اور لاٹھیاں ہیں۔‘‘
اگلے ہی دن ڈوگرہ ہندو فوج نے انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا۔ اپنے اس محسن کی گرفتاری کی خبر سن کر مسلمانانِ کشمیر ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور پھر اسی مقدمے کی پیروی میں ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء کو سرینگر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہوگئے۔
ماحول میں کشمیری مسلمانوں کی ایمانی طاقت کی خوشبو کی مہک تھی، اور نعروں میں اسلاف کے جہادی عزم کی جھلک تھی۔
ظہر کی نماز کا وقت تھا کہ امّت کا ایک بیٹا، اذان دینے کے لیے کھڑا ہوگیا۔ ابھی اذان شروع ہی کی تھی کہ ڈوگرہ کافر فوج کے کانوں میں اس نے ہلچل مچادی اور اذان دیتے ہوئے امّت کے اس بیٹے کا سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ یہ دیکھ کر اللہ کا ایک اور غلام اذان مکمل کرنے کے لیے اٹھا لیکن اسے بھی ڈوگرہ فوج نے شہید کر دیا۔ تیسرا مسلمان آنکھوں دیکھی موت کی طرف فخر سے بڑھا اور اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ غلام محمد حلوائی نامی شخص اٹھا اور غیرت کی عظیم مثال رقم کرتے ہوئے ایک ڈوگرہ فوجی کا ہتھیار چھیننے کی کوشش کی اور اسی میں شہید کر دیا گیا۔ اذان کی حرمت کی خاطر ایک کے بعد ایک مسلمان کھڑا ہوا یہاں تک کہ چوبیس شہدا نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ ایک شہید نے اپنی آخری سانسوں میں وصیت کی’’میں نے اپنا کام کر دیا اب آپ آگے بڑھیے‘‘۔
اس واقعہ کے بعد پورے کشمیر میں فدائیت اور مزاحمت کی لہر دوڑ گئی اور نہ صرف مرد بلکہ خواتین نے بھی اللہ کی راہ میں اپنی جانیں پیش کر دیں۔
١٣ جولائی کے یہ شہدا تمام مسلمانانِ کشمیر و برصغیر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں کہ ہم اللہ کے دین کے کسی ایک شعبہ کو بھی نہیں چھوڑیں گے اور اللہ کے کلمے کے لیے اپنا سر کٹا دیں گے۔
مسلمانانِ کشمیر کی اس عظیم قربانی نے پورے برصغیر میں اسلامی اخوت کی ایک لہر دوڑا دی اور ہندوستان سے کتنے ہی مسلمانوں نے اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے کشمیر کا رخ کیا اور کشمیر کے بارڈر پر ڈوگرہ فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
عبدالقدیر خان کو بھی ڈوگرہ ہندو فوج نے شہید کر دیا۔ خراسان اور ہندوستان کے مسلمانوں کے خون نے کشمیر میں ہزاروں چراغ جلائے اور ہندوستان اور خراسان سے عصر حاضر میں بھی مجاہدین اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی نصرت کے لیے کشمیر کا رخ کرتے رہے۔ غازی بابا شہید سے لے کر شہید بدر منصور تک نے شہید عبدالقدیر خان کے راستے کو اپنایا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو اذان کی حرمت کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوں کے ناموں کی فہرست کے ساتھ اختتامِ مضمون کرتے ہیں:
خالق شورا
اکبر ڈار
غلام احمد ریتھر
عثمان مصغر
غُلام احمد بھٹ
غُلام محمد حلوائی
غُلام نبی کلوال
غُلام احمد نقاش
غُلام رسول درہ
امیر الدین مکائی
سبحان مکائی
غُلام قدیر خان
رمضان چولہ
غُلام محمد صوفی
نصیر الدین
امیر الدین جندگرو
محمد سبحان خان
محمد سلطان خان
عبدالسلام
غُلام محمد تیلی
فقیر علی
غُلام احمد ڈار
مغلی
عبداللہ آہنگر
٭٭٭٭٭







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



