نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home عالمی منظر نامہ

خیالات کا ماہنامچہ | مئی تا جولائی ۲۰۲۱ء

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:مئی تا جولائی ۲۰۲۱ء

by معین الدین شامی
in مئی تا جولائی 2021, عالمی منظر نامہ
0

جس نے ستاروں کو پیدا کیا، جس کے اذن سے زمین اور چاند و سورج اپنے اپنے مدار میں گھومتے ہیں، جس نے آسمانوں کو بنا ستونوں کے بلند کیا اور جب تک چاہا قائم رکھا، ہم اسی کے عبادت گزار ہیں۔ جس نے اپنے حبیب کو ہمارا حبیب بھی بنایا اور اپنے حبیب کی راہِ سنت کو اپنی رضا اور اپنی جنت کی راہ بنایا، ہم اسی کے بندے ہیں۔ مولا! ہمیں اپنے حبیب کی راہ کا سالک بنائے رکھ، ہمیں سب سے زیادہ محبوب تیری لِقا اور تیری رضا ہو۔ مولا! ہمارے حبیب پر درودوں اور سلاموں کی بارش فرما اور ہم گنہگاروں کو بخش دے، صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہٖ محمد!

چند دن بلی کے ساتھ


کوئی مہینہ قبل ہمارے رہائشی مکان میں ایک بلی آ گئی اور ہفتہ بعد اس نے ایک بچہ دیا۔ اس بچے کے ساتھ بلی کے بعض تعاملات نے توجہ حاصل کی۔

  • شروع شروع میں تو بچے کو ہر وقت جان سے چمٹائے رکھتی اور دودھ پلاتی۔ دس ایک دن گزرے تو کیڑے مکوڑے اور کچھ روٹی جو ہم ڈال دیتے وہ کھلانے لگی۔ میں نے دیکھا کہ خود روٹی نہیں کھاتی بچے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔

  • دن کے کتنے ہی گھنٹے بچے کے ساتھ کھیلتی اور شکار سکھاتی۔

  • دو تین دن سے ایک نیا منظر دیکھ رہا ہوں، اسی کی خاطر یہ خیال لکھ رہا ہوں۔ بلی بظاہر بچے کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ پھر بچہ اپنی مرضی سے گھومتا پھرتا ہے۔ لیکن آج جب غور کیا تو پایا کہ بلی جب بھی بچے کو ’اکیلا‘ چھوڑتی ہے تو دراصل چھوڑتی نہیں ہے، بلکہ چھپ کر کہیں بیٹھ جاتی ہے اور پھر بغور بچے کو دیکھتی رہتی ہے۔ اگر بچہ کسی مصیبت کا شکار ہوتا نظر آئے تو پہلے میاؤں میاؤں سے خبردار کرتی ہے اور بچہ رکے نہ تو فوراً بچانے کو آتی ہے۔

بلی نے یہ سب کسی اکیڈمی سے نہیں سیکھا، نہ اس کی ماں نے اس کو سکھایا ہے نہ ہی کسی اور بڑی بی نے۔ ہاں ممکن ہے کہ کہنے والے کہہ لیں کہ بچپن میں ماں کا تعامل بچے کو یاد رہا اور مادہ بچہ بلی بڑی ہو کر وہی سب دہرانے لگی، لیکن یہ یاد کس نے رکھوایا؟

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے

ستاسو برکت دی


(عنقریب ’سابق‘ افغان صدر)اشرف غنی کا ایک بیان پچھلے دنوں سننے کا موقع ملا۔ ’افغان نیشنل آرمی کمانڈوز‘کی ایک تقریب ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے وہ کہتا ہے:

’’ستاسو برکت دي چہ واشنګټن او نیویارک باندي چاؤدانہ نہ کيږی۔ داسی ور ځ نېچہ ستاسو شھادت مبارکي ما تہ یو ھیواد نہ راکي۔‘‘ 1

’’یہ آپ کی برکت ہے کہ واشنگٹن و نیویارک میں کوئی دھماکہ نہیں ہوتا۔ کوئی ایسا دن نہیں گزرتا کہ آپ لوگوں کی شہادت کی مبارک باد مجھے کسی نہ کسی ملک سے موصول نہ ہوتی ہو۔‘‘

یہ بدیسی امریکی غلام افغانی کمانڈوز المعروف سپیشل فورس کا ذکر ہو رہا ہے جس نے افغانستان میں امریکی چھاپوں اور امریکی کیمپوں پر ہونے والے حملوں میں امریکی ہدف پر لگنے والی گولیاں ہزاروں بار اپنے سینوں پر روکی ہیں اور جہنم واصل ہوئے ہیں۔ ماضی میں افغان و مہاجر مجاہدین کے خلاف کئی سو چھاپے انہوں نے امریکی ایما پر مارے ہیں۔ ان کی عسکری تربیت کا انداز دورانِ کارروائی بس ’دیکھو اور مارو‘ہے؛ سامنے کوئی بوڑھا آدمی ہو یا سن رسیدہ خاتون، معصوم بچے ہوں، عورتیں، معذور افراد، جنازہ پڑھتے لوگ یا باراتیوں کا کوئی قافلہ؛ یہ سب کو اپنی گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں۔ مزاج میں شدت پیدا کرنے کے لیے دنبوں کا کچا گوشت اور کچی چربی (پشتو میں جسے لَمْ کہا جاتا ہے)چبا کر کھانا ان کی تربیت کا جزو ہے۔ یہ گھروں پر اندھا دھند بمباریاں کر کے محاورتاً نہیں حقیقتاً گھروں کو گھر والوں سمیت مسمار کر کے زمین کے برابر کر دیتے ہیں۔ مجاہدین سے جنگ کے بعد ان کے شہیدوں کی نعشوں کو بکتر بند ہموی گاڑیوں سے روندتے ہیں اور مجاہدین کے زخمیوں کو اپنی گاڑیوں سے باندھ کر پکی سڑکوں اور پتھریلی کچی سڑکوں پر گھسیٹ کر، ان کی کھالیں کھینچ کر اور ہڈیوں سے گوشت ادھیڑ کر قتل کرتے ہیں۔ چھاپوں میں یہ دو ڈھائی سال کے معصومین سے لے کر ان کی پاک باز ماؤں تک کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔

یہ ہیں وہ چند اعمال جن کی ’برکت‘ کا ذکر اشرف غنی کرتے ہوئے افغان سپیشل فورس کے کمانڈوز کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ یہ ’برکت‘ امت کے اس منافق و مرتد گروہ کی ہے جس کے ابتدائی سر غنے ابن ابی سلول اور جبلہ بن ایہم تھے۔ یہ ہیں باجوہ، اشرف غنی، محمد بن سلمان، ابن زاید اور سیسی کے بے دین سپاہی جو امت اور واشنگٹن میں بستے ظالم و بدکار، اللہ اور عباد اللہ کے دشمنوں کے درمیان حائل ہیں۔ یہ ہیں وہ فرنٹ لائن اتحادی جن کے وجودِ نا مسعود کے سبب واشنگٹن و دہلی میں بستے کافر محفوظ ہیں۔ بہر کیف اشرف غنی کی کفر سے ’جرأت مندانہ‘ وفا اور دیانت داری ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں بستی سپیشل فورس (ایس ایس جی)کی طرح ’ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ‘ کے منافقانہ لیبل کے تحت اپنے عسکریوں کی تحسین نہیں کر رہا بلکہ اعلانیہ ان کے اعانت وحفاظت کفر کے اعمال کو ’برکت‘ قرار دے رہا ہے۔

یہ مسائلِ تصوف، یہ تِرا بیاں ’نیازی‘


مرزا غالب بلا کا شرابی تھا۔ بڑا شاعر تھا، لہٰذا بہادر شاہ ظفر کا فنِ شاعری میں ’استاد‘ لگ گیا اور اچھا خاصا وظیفہ پاتا جو بادہ و جام ہی کی نذر ہو جاتا ، پھر قرض لینا پڑتا اور قرض کی بھی پیتا ہی تھا، بلکہ شراب بھی بطورِ قرض لیا کرتا تھا۔ ہمارے ایک سابقہ جلیس جو شاعر بھی ہیں، نے ایک دن غالب کا ایک قصہ سنایا کہ ایک دن دربارِ مغلیہ میں پہنچا تو بہادر شاہ ظفر سے کہنے لگا کہ ’ایک نیا شعر موزوں ہوا ہے، اجازت ہو تو عرض کروں‘۔ بہادر شاہ ظفر بولا ’ارشاد‘۔ سو سنایا:

یہ مسائلِ تصوف یہ تِرا بیان غالؔب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

بہادر شاہ ظفر یہ سن کر بولا ’ہم تو تب بھی نہ سمجھتے‘ (یعنی اگر تُو بادہ خوار نہ ہوتا تو بھی ہم تجھے ولی نہ سمجھتے)۔

بقول مولانا عطاء المہیمن شاہ بخاریؒ، ’غالب بڑا میراثی تھا‘، بہادر شاہ ظفر کی بات سن کر بولا ’(مجھے ولی)سمجھتے تو حضور اب بھی ہیں، بس اس لیے نہیں فرماتے کہ میں ریا و تکبر کا شکار نہ ہو جاؤں‘۔

کہاں ان جیسوں کی اصطلاحات کی غلام گردشیں اور کہاں ولایت و تصوف، جس کا مقصد قربِ الٰہی ہوتا ہے۔ پھر بھی غالب جس زمان ومکان کا باشندہ تھا اور جو اس کے دیوان میں اور بہت کچھ ملتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک بے عمل آدمی تھا اور مشہور ہے کہ رافضی بھی تھا، لیکن اصطلاحات و حالاتِ تصوف سے واقف تھا۔

اب ہمارے دور کے ’میرزا ’’عمران خان‘‘غالب‘ کو دیکھیے، وہی ’میرزا‘ صاحب جو آج کل وزیرِ اعظم ہیں۔ ان کا ایک پرانا بیان نظر سے گزرا، فرمایا:

’’تصوف کے بہت سے درجات ہوتے ہیں اور میں نے آج تک اپنی بیوی سے زیادہ بلند درجے پر کسی کو فائز نہیں دیکھا۔‘‘2

سبحان اللہ! ان کے ’تصوف‘ میں کیا ہے؟ داڑھی منڈاؤ اور ’عقیق‘ پہنو کہ سنت ہے۔ فرض نماز کے لیے، فرض سورۂ فاتحہ صحیح سے آتی نہیں اور بابا فرید کی قبر کو جا جا کر سجدے کرتا ہے۔ ہاتھ میں موٹے موٹے دانوں والی، آدھ سیر کی تسبیح رہتی ہے جو ہر کارِ دنیا کے ساتھ چلتی رہتی ہے، بقول سلطان باہو ’تسبیح پھیری تے دِل نئیں پھیریا‘۔ روزنامہ جنگ کی ۷ مارچ ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق (تصوف کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز محترمہ سے)عدت میں ’نکاح‘ کیا، جس کے متعلق جسٹس ناصرہ اقبال نے کہا کہ ’عدت گزرنے کے بعد نکاح خود بخود ’’ریگولر‘‘ ہو جائے گا‘ اور دیگر ماہرینِ قانون نے (بمطابق خبر) کہا کہ ’عدت میں نکاح بے قاعدہ ضرور ہے، غیر قانونی نہیں!‘۔ یہ ’صوفیہ‘ صاحبہ جن کے گھر کے کمروں میں ہر وقت کتے گھومتے رہتے ہیں فرماتی ہیں کہ میں تو کتے سے بھی ’سیکھتی‘ ہوں(ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا)۔ ’تصوف‘ میں ’زن مرید‘، مثلِ غالب بادہ خوار تو نہیں ہے لیکن کوکین خوار ضرور ہے، شاید اسی نشے کی نسبت سے ’میرزا‘ اپنی ’صاحبہ‘ کو درجاتِ عالیہ پر فائز قرار دے رہا ہے، تھوڑی اور ناک سے چڑھا لے تو نجانے کس مقام پر بشریٰ بی بی کو جا بٹھائے؟ بہر کیف ایک بات تو مسلّم ہے کہ تاریخِ انسانی کے ’اعلیٰ‘ ترین ’مریدوں‘ میں عمران خان کا نام آئے گا۔

سعودی عرب سے


اس سال (۱۴۴۲ھ) میں ہونے والے حج سے پہلے سعودی حکومت اور اس کے نمک خوار درباری شیخوں نے اعلان کیا کہ اس بار عورتیں بنا محرم حج کر سکیں گی۔ اگر یہ فیصلہ شرعی فقہی نقطۂ نظر سے سامنے آتا تو ہم جیسے ان امور میں چھولے بھی نہیں بیچتے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ حکم ’وژن ۲۰۳۰‘ کی روشنی میں سامنے آیا ہے، یعنی محمد بن سلمان نے جو تازہ اقدامات شروع کر رکھے ہیں یہ ان کا تسلسل ہے نہ کہ کسی فقہی مسئلے کو دیکھ کر اور کسی نازل شدہ مسئلے (یعنی کورونا) کے سبب ایسا کیا گیا ہے۔

پھر اس حکم کے چند دن بعد کا حکم بھی ملاحظہ ہو جس کی رُو سے سعودی عرب میں اب سترہ (۱۷) سال کی لڑکیوں کو بھی ڈرائیونگ کی اجازت ہو گی۔ اس حکم کا سبب بھی شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ عورتوں کو بلا ضرورت گھر سے نکالنا، بلکہ عورتیں نہیں نوجوان لڑکیوں کو باہر نکالنا ہے، کیا کیجیے ان باتوں کا ذکر خود باعثِ ننگ ہے لیکن ان سترہ سالہ لڑکیوں کو بھی (تنہا) ڈرائیونگ کی جب اجازت ہو گی تو ساتھ میں ملٹی پلیکس سینما گھروں، میوزیکل کانسرٹوں اور (نا محرم)دوستوں کو ہوٹلوں میں کمرے لینے کی اجازتیں پہلے سے موجود ہیں۔

؏قیامت آ گئی لوگو، نظر ادھر بھی تو ہو!

قادیانی سسرال کے متعلق دوہرے معیارات کیوں؟


ہمارے ملکِ پاکستان کے بھی عجیب دگڑ مگڑ معیارات ہیں۔ کتنا کچھ ہے جو فوجیوں کے لیے تو جائز ہے لیکن غیر فوجیوں کے لیے حرام۔ پیپلز پارٹی کا ایک ’رہنما‘ یاد آ گیا۔ اس کی مشہور ویڈیو ہے، جاوید چودھری کے ساتھ پروگرام میں بیٹھا ہے تو کہتا ہے کہ ’کرپشن میں بھی مساوات ہونی چاہیے، سب کو موقع ملنا چاہیے‘، گو کہ اس نے یہ بات شراب کے نشے میں کہی تھی، لیکن رندی زبان پر سچائی تو لاتی ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کی ’قادیانیت‘ پر اس کا نام لیے بغیر نواز شریف نے باجوہ کی تقرری سے پہلے، اپنے ایک مذہبی سیاسی حلیف کے ذریعے بات نکلوائی کہ اگلا آنے والا آرمی چیف مرزائی ہو سکتاہے۔ پھر اس کی انہی حلیف موصوف نے تردید بھی کر دی کہ مجھ سے خطا ہو گئی۔ بعد میں باجوہ کی تاج پوشی سے پہلے ہی یہ بات کنفرم ہو گئی تھی کہ اگلا چیف مرزائی ہی ہو گا اور باجوہ ہی ہو گا۔ یہ ساری بات بعد میں مشکوک بھی ہو گئی اور متنازع بھی۔ بریلویوں کے ایک بڑے عالم نے باجوہ کی سجائی ’سرکار کی آمد‘ کی محفل میں حاضری دی اور تبلیغ سے وابستہ ایک بڑی شخصیت نے باجوہ کے بیٹے کی شادی میں شرکت کی (ایک ’فاختہ‘ نے باجوہ کے چوڑے چکلے سینے کو جو طالوت سے ملایا اس کا ذکر ابھی نہیں کرتے)۔ لیکن باجوہ کے مرزائی سسرال کا کیا کیا جائے کہ اس کی مرزائیت تو سکہ بند ہے، لہٰذا مان لیتے ہیں کہ باجوہ خود تو ’سُنّی‘ ہے لیکن اس کا سسرال مرزائی ہے۔

بے نظیر نے مولانا اعظم طارق شہید ؒ سے کہا تھا کہ ’میں سنی ہوں، آصف شیعہ ہیں‘، تو مولانا نے جواباً کہا کہ پھر تو تمہارا نکاح ہی نہیں ہوا، پھر آصف زرداری مولانا سے ملا تو اس نے کہا کہ ’مولانا کچھ تو خیال کریں اب تو ہمارے بچے بھی ہیں‘۔

اب بات آ گئی ہے آصف زرداری اور بے نظیر کی بیٹی بختاور کی، جس کا ہونے والا (اگر ہو نہیں گیا تو) سسرال مرزائی ہے۔ اس بات پر اچھا خاصا طوفان برپا رہا ہے۔ لیکن یہاں بھی تو مساوات ہونی چاہیے ناں!

طیب اردگان کے چند کارنامے


لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بلا وجہ ہی طیب اردگان سے ’محبت‘ ہے۔ لیکن ہم بتاتے ہیں کہ محبت بے وجہ کبھی نہیں ہوتی۔ صرف دو باتوں کا ذکر آج کر لیتے ہیں:

  1. نیٹو کا مقصدِ تاسیس و حالیہ مقصدِ حیات ہماری ناقص عقل كے مطابق اسرائیل سے فلسطین آزاد کروانا نہیں ہے۔ ترکی لیکن نیٹو کا رکن اسی نیک نیت سے ہے جس نیت سے بے حجاب عورتیں ’دل کا پردہ‘ کرتی ہیں، یعنی آزادیٔ فلسطین۔ اسی ضمن (یعنی امتِ مسلمہ کی حفاظت و دفاع)میں اسی نیٹو میں رہ رہ کر اور جہاد کر کر کے ترکی کے فوجیوں نے حالاً جاری جہادِ افغانستان میں خوب حصہ لیا ہے۔ اب امریکہ تو چونکہ کافر تھا اس لیے وہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے، لیکن ’تُرکِ دانا‘، ارطغرل کا وارث، سلیمان قانونی کا بیٹا، محمد فاتح کا پوتا، عثمانی مُکّے کا حامل، مسجدوں کے گنبدوں کو فوجی خود (آہنی ہیلمٹ) کہنے والا تو مومن ہے اور کابل ائیر پورٹ کی حفاظت اسی کا فریضہ ہے، سو وہ تو یہیں رہے گا۔ پھر کوئی ارطغرل و میرا سلطان کے ڈائیلاگوں اور ’جہادی‘ ’ہیروئنوں‘ کو قصۂ ماضی نہ سمجھے، کابل ائیر پورٹ کی حفاظت جب رسماً ترکی نے اپنے سر لی تو جو تصویر جاری ہوئی اور ساری دنیا کے میڈیا کی زینت بنی اس میں ایک ترک ’سپاہیہ‘ فرضِ رباط ادا کر رہی ہے۔

  2. دوسرا سببِ محبت ہے، ارطغرل معذرت اردگان كی عبد الرشید دوستم سے دوستی۔

دوستم کی صرف ایک ادا یاد دلا دیں۔ جب دوستم مجاہدین کو پکڑا کرتا تو ان کو چھری، گولی وغیرہ سے قتل نہ کرتا تھا۔گردن کے قریب زندہ مجاہد کی کھال میں سوراخ کرتا پھر وہیں سے اس کا کوئی قصائی ساتھی ہاتھ گھسا کرکھال اور گوشت میں تفریق کرتا اور ہاتھ نیچے کمر تک پہنچا دیتا۔ پھر اس سوراخ میں مٹی کا تیل یا پٹرول ڈالا کرتا اور آگ لگا دیتا۔ یہ آتش زدہ شخص کچھ لمحوں کے لیے نہ مرتا نہ جیتا، نہ بیٹھ سکتا نہ کھڑا ہو سکتا۔ بس بے ہنگم حرکتیں کرتا، چھلانگیں لگاتا اور اس سارے منظر کو دوستم اور اس کے دوست دیکھ کر خوش ہوتے، قہقہے لگاتے اور دوستم کہتا ’ہم نے رقصِ بسمل دیکھا‘۔

اس دوستم سے اردگان یعنی ترکِ دانا کی دوستی کا سبب کیا ہے؟

دوستم ازبک ہے اور ازبکوں کا تعلق ’ترک‘ نسل سے ہے اور ’ترکِ ناداں‘، مصطفیٰ کمال اتاترک ، ترکی کے ترکوں کو وصیت کر گیا تھا کہ تمام دنیا کے ترکی النسل لوگوں سے رابطے استوار رکھنا۔

لہٰذا وارثِ اتاترک ’اردگان ‘، اتاترک کی نصیحت و وصیت کے پیشِ نظر دوستم سے دوستی رکھے ہوئے ہے۔

بس انہی چھوٹی چھوٹی باتوں کے سبب ہم حبِّ اردگان کا شکار ہیں۔

٭٭٭٭٭


1 اہلِ پشتو میری لکھی پشتو املا سے درگزر فرمائیں۔

2 بحوالہ امیجز میگزین (ڈان): https://images.dawn.com/news/1180500۔ اس انٹرویو کا عنوان ہے: ’’ I know more about physical attraction than anyone else: Imran Khan on his third marriage ‘‘۔

Previous Post

لا تصــــــــــالــــــــــح!

Next Post

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم

Related Posts

خیالات کا ماہنامچہ | جولائی ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

خیالات کا ماہنامچہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
مغرب کو بالآخر بین الاقوامی اخلاقیات یاد آ گئیں
عالمی منظر نامہ

مغرب کو بالآخر بین الاقوامی اخلاقیات یاد آ گئیں

15 فروری 2026
جنوں یا خرد
عالمی منظر نامہ

جنوں یا خرد

15 فروری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جنوری ۲۰۲۶ء

20 جنوری 2026
یورپی شہریوں کا بوسنیا کی جنگ میں ’سنائپر سفاری‘ کا خونی کھیل
عالمی منظر نامہ

یورپی شہریوں کا بوسنیا کی جنگ میں ’سنائپر سفاری‘ کا خونی کھیل

20 جنوری 2026
Next Post

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زِیر و بم

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

فروری 2026ء
اکتوبر ۲۰۲۵ء

فروری 2026ء

by ادارہ
15 فروری 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version