الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم. قال اللہ تعالیٰ: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ وقال الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: والذی نفسی بیدہ لوددت ان اقتل فی سبیل اللہ ثم احیٰ ثم اقتل ثم احیٰ ثم اقتل ثم احیٰ ثم اقتل.
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنائے شہادت
آج میں نے جو آیت تلاوت کی ہے اس سے میری مراد جہاد ہے۔سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اے دنیا والو سن لو! میں محبوب رکھتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جان دے دوں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر جان دے دوں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر جان دے دوں پھر زندہ کیا جاؤں،پھر جان دوں۔تین چار دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اگر اللہ کے راستے میں جان دینا پیارا نہ ہوتا تو اللہ کا پیارا اس بات کا اعلان نہ کرتا۔
جنت میں شہدا کی دوبارہ شہید ہونے کی تمنا
جنت میں اللہ تعالیٰ اہل جنت سے پوچھیں گے کہ کیا جنت میں کسی چیز کی کمی ہے؟ کیا تم لوگ دنیامیں جانا چاہتے ہو؟سب لوگ کہیں گے کہ ہمیں دنیا میں جانے کی خواہش نہیں،جنت میں سب نعمتیں ہیں۔ لیکن شہید کہیں گے کہ جنت میں ایک نعمت نہیں ہے اس کے لیے ہم دوبارہ دنیا میں جانا چاہتے ہیں۔اللہ پاک پوچھیں گے کہ وہ کیا نعمت ہے جو جنت میں نہیں ہے۔شہدا کہیں گے کہ جنت میں یہ چیز نہیں ہے کہ آپ کے راستہ میں کافروں سے لڑ کر اپنا خون پیش کرنا،جام شہادت نوش کرنا اور جان دینا۔
ہمارا اسلام خونِ نبوت علی صاحبہا السلام اور خونِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا ممنون کرم ہے
اُحد کے دامن میں ایک ہی وقت میں ستّر (۷۰)شہید ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، اس وقت ہر شہید کا جنازہ بزبانِ حال یہ شعر پڑھ رہا تھا
ان کے کوچے سے لے چل جنازہ مرا
جان دی میں نے جن کی خوشی کے لیے
چھوٹے چھوٹے بچوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم این ابوی۔میرے ابا کہاں ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔چھوٹے چھوٹے بچوں سے کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے ابا شہید ہوگئے۔اسلام ہمیں یوں ہی نہیں مل گیا۔اس دین پر سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون مبارک بہا ہے۔ میدان اُحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر سے پاؤں تک لہولہان ہوگئے ۔اگر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خونِ نبوت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا خونِ شہادت نہ بہتا تو آج ہم سیتا رام،رام پرشاد اور نہ جانے کیا کیاہوتے۔آج خونِ نبوت اور خونِ صحابہ کے صدقے میں ہم تک اسلام آیا ہے۔
جہادِ افغانستان پورے عالم کی آبرو
اس وقت افغانستان میں جو جہاد ہورہا ہے یہ پورے عالم اسلام کی آبرو کا مسئلہ ہے۔ ساری دنیائے کفر لرزاں ہے ،ساری دنیا کے کافر دانت پیس رہے ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ان طالب علم مولویوں ،غریبوں ،پگڑی والوں اور داڑھی والوں کی اللہ تعالیٰ ایسی مدد کر رہا ہے کہ بڑے بڑے تربیت یافتہ جرنیل اور میجر انگشت بدنداں ہیں کہ ان مولویوں کے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ سب فتح کرارہا ہے۔
اس جہاد سے قرونِ اولیٰ کی یاد تازہ ہوگئی
لہٰذا اس وقت جو جہادِافغانستان میں اپنی جانوں سے ،اپنے مالوں سے ، اپنے قلب سے،اپنی اشک بار آنکھوں سے،اپنی دعاؤں سے شریک نہیں ہوگا تو اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن اس سے مواخذہ ہوگا کیونکہ بارہ سو برس بعد ایسا جہاد نظر آیا ہے کہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں ۔میرے بیٹے مولانا مظہر کئی بارجاچکے اور دیکھ کر آئے ہیں کہ وہاں ایک عورت بے پردہ نظر نہیں آتی،کوئی بے داڑھی والا نظر نہیں آیا،کسی ریڈیو سے کوئی گانے بجانے کی آواز نہیں آتی،کوئی ڈاکہ چوری نہیں،لوگ دروازے کھول کر امن سے سو رہے ہیں،صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ کی یاد تازہ کردی ہے۔آج بارہ سو برس کے بعد کافروں کو اتنی بے چینی ہے کہ ان کی نیندحرام ہے۔لہٰذا ہم لوگوں پر فرض ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ جاکر جہاد میں شریک ہوں۔کل کراچی سے طالب علموں کی تقریباً۲۵ بسیں گئی ہیں [واضح رہے کہ یہ امارتِ اسلامیہ کے دورِ اول کا بیان ہے(ادارہ)]،ہمارے مدرسہ سے بھی ایک بس گئی ہے۔ اٹھارہ سال،انیس سال،بیس سال کے نوجوان بچے اللہ تعالیٰ کے نام پر فدا ہونے گئے ہیں۔ جاتے وقت انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ ہمیں کوئی نصیحت کردیجیے۔میں نے کہا کہ بیٹھ جاؤ۔ ان پچاس مجاہدین کو میں نے جو نصیحت کی ،وہ آپ کو سناتا ہوں۔
سرمیداں کفن بردوش دارم
میں نے ان سے کہا کہ ہندوستان کے صوبہ یوپی میں ایک شہر ہے فیض آباد۔وہاں جہاد ہورہا تھا،مولانا امیر خاں صاحب لشکر کے سپہ سالار تھے۔وہاں کے ایک اسلام دشمن اور مسلمانوں کے دشمن حکمراں کے خلاف جہاد لڑا جارہا تھا۔میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا وطن چھاؤں ہے،ضلع اعظم گڑھ میں۔وہاں کے ایک بڑے میاں اس جہاد میں شریک تھے۔انہوں نے آکر میرے شیخ کو بتایا او رجو میرے شیخ نے بتایا وہ میں آپ کو بتا رہا ہوں،بیچ میں زیادہ راوی نہیں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مولانا امیر خاں صاحب جب کافروں سے جہاد کررہے تھے اور تلوار چلا رہے تھے تو وہ ایک مصرع پڑھ رہے تھے،وہ مصرع کیا تھا
؏سرمیدان کفن بردوش دارم
اے اللہ !میدان جہاد میں امیر خاں کفن کو اپنے کندھے پر رکھ کر لایا ہے کہ اب واپس نہیں جانا ہے ،جاں آپ پر دینا ہے۔
؏سرمیدان کفن بردوش دارم
میں سرمیدان کفن لے کر آیاہوں،آپ کے راستہ میں جان فداکرنے کے لیے میں میدانِ جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہوں۔آسمان سے آواز آئی جو اس بڈھے نے سنی جومیرے شیخ کے وطن کا رہنے والا تھا کہ جب جب امیر خاں صاحب یہ مصرع پڑھتے تھے تو فوراً آسمان سے آواز آتی تھی
؏بیا مظلوم اکنوں درکنارم
اے مظلوم!میری رحمت کی گود میں جلدی سے شہید ہوکر آجا۔یہ آواز اس مجاہد نے سنی اور میرے شیخ کو بتایا کہ اس وقت میں جوان تھا اور اس جہاد میں شریک تھا ۔میں نے اپنے کانوں سے یہ آواز سنی ہے۔اس نے یہ آواز میرے شیخ کے کان میں ڈالی،شیخ نے میرے کان میں ڈالی اور آج اختر یہ آواز آپ کے کانوں میں ڈال رہا ہے۔
آں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی سرے
پھر میں نے اپنے ان نوجوان مجاہدین سے کہا کہ شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ نے گلستان میں فرمایا کہ ایک شاہزادہ دبلاپتلا تھا،دوسرے شہزادے تگڑے تھے۔وہ اس شہزادے کا مذاق اڑایا کرتے تھے،توہین کرتے تھے۔ایک دن اس شہزادے نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ لوگوں کو جمع کیجیے،میں جواب دوں گا آخر یہ کیوں میری غیبت کرتے ہیں۔بادشا ہ نے مجمع جمع کیا اور اس شہزادہ نے اعلان کیا کہ کیونکہ میں دبلا پتلا ہوں اس لیے لوگ مجھے حقیر سمجھتے ہیں لیکن یاد رکھیے کہ
اسپ لاغر میاں بہ کار آید
روز میداں نہ گاؤ پرواری
دبلا پتلاگھوڑا جہاد میں کام آتا ہے،میدان ِ جنگ میں موٹی گائے کام نہیں آتی۔اس کے بعد اس نے یہ شعر پڑھا جس کو حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا:
؏آں نہ من باشم کہ روز جنگ بینی پشت من
اے سلطنت کے تمام بڑے بڑے عمائد اور اراکینِ سلطنت ،سن لو!کہ میں اپنے باپ کا وہ لڑکا نہیں ہوں کہ میدانِ جنگ میں کوئی میری پیٹھ دیکھ لے۔
؏آں نہ من باشم کہ روز جنگ بینی پشت من
میں وہ ہوں کہ میدانِ جہاد میں خاک او رخوں میں میرا سر دیکھو گے ،میں میدانِ جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہوں۔
تشنہ زارم بہ خون خویشتن
اورمولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ کافروں کے ساتھ ہمارے جہاد کا کیا عالم ہے۔فرماتے ہیں
تومکن تہدیدم از کشتن کہ من
تشنۂ زارم بہ خون خویشتن
اے دنیا والو!اللہ کے عاشقین کو،مجاہدین کو،اللہ کے راستہ میں کافروں سے جہاد کرنے والوں کو موت سے مت ڈراؤ۔اے دنیا والو!مجھے مت ڈراؤکہ میں جہاد میں قتل کردیاجاؤں کیونکہ ہم تو اپنے خون کے خود پیاسے ہیں کہ ہم اس کو اللہ کے راستے میں فدا کردیں ،تم ہم کو کیا ڈراتے ہو؟ابھی بی بی سی نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے اعلان کیا کہ طالبان کی سیکڑوں لاشیں سڑکوں پر نظر آئیں۔یہ قسمت والے ہیں جو اللہ کے یہاں جنت کی سیر کرنے والے ہیں،ان شاء اللہ ۔ان کو مُردہ مت کہو،اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کہ جو ہماری راہ میں شہید ہوجائے اس کو مُردہ مت کہو،وہ زندہ ہیں ان کو ایک خاص حیات ہم دیتے ہیں جس کو تم نہیں جانتے۔
حضرت سید احمد شہیداورمولانااسماعیل شہید رحمہمااللہ تعالیٰ کی کرامت
اس کے بعد سید احمد شہیدرحمۃ اللہ علیہ اورمولانااسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ سن لو۔یہ دونوں بہت بڑے لوگ ہیں،اتنے بڑے لوگ ہیں کہ ان کی زبان میں اللہ نے اثر کردیا۔ایک بدکار رنڈی جو بہت مال دار تھی اس کے گھر جا کر مولانا اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تقریر کی۔پہلے تو آواز لگائی کہ فقیر کچھ صدا سناناچاہتا ہے۔اس بدکار عورت نے سمجھا کہ کوئی بھیک مانگنے والا ہے اپنی خادمہ سے کہا کہ اس کو آٹا دے دو۔مولانا اسماعیل شہیدرحمۃ اللہ علیہ کو آٹا بھیجا تو مولانانے فرمایا کہ فقیر آٹا نہیں لیتا پہلے اپنی صدا سناتا ہے۔پردہ کراؤ،پردہ کراکے پھر تقریر فرمائی اور قیامت کا حال بیان کیا کہ إِذَا السَّمَاء انفَطَرَتْ جب آسمان پھٹ جائے گا اور سورج گرجائے گا اور ستارے جھڑ جائیں گے تو ان عورتوں کو ایسا لگا کہ ابھی سورج گر رہا ہے،آسمان پھٹ رہا ہے ،ستارے جھڑ رہے ہیں،سب چیخ مارکررونے لگیں۔اس بدکار عورت نے کہا کہ جلدی سے مجھے توبہ کرادو اور میری شادی کرادو۔مولانا اسماعیل شہید نے اسی وقت توبہ کرائی اور اس کی شادی بھی کرادی۔اسی طرح ایک عورت نے سید احمد شہید کے ہاتھ پر توبہ کی اور گناہ کی زندگی سے اللہ والی زندگی اختیار کرلی۔
جب جہاد کا اعلان ہوا تو ان دونوں نے کہا کہ ہم بھی ان شوہروں کے ساتھ جہاد پر چلیں گی۔مولانا نے پوچھا کہ تم لوگ جہاد میں کیا کروگی ؟ان عورتوں نے کہا کہ ہم مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے رات پھر چنے دلیں گی،چکی چلائیں گی،دِلّی سے چکی لے کر چلیں گی اور چنا دَل کرمجاہدین کے گھوڑوں کی غذا تیار کریں گی۔
جہاد کی بدولت کیسا ایمان عطا ہوتا ہے
جب بالاکوٹ کے دامن میں جہاد شروع ہوا تو پھولوں پر زندگی بسر کرنے والی ان عورتوں نے جب چکی چلائی تو ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے۔ایک دل جلے نے پوچھا کہ اے میری بہنو!دِلّی میں تمہاری زندگی عیش کی تھی،تم پھولوں کی سیج پر سوتی تھیں،اب چکی چلانے سے تمہارے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے ہیں۔بتاؤ کہ یہ زندگی اچھی ہے یا وہ گناہوں والی زندگی اچھی تھی؟ ان دونوں خواتین نے جواب دیا کہ خدا کی قسم!رات بھر چکی چلا کر مجاہدین کے گھوڑوں کے لیے چنے دَلنے سے اور بالاکوٹ کے پہاڑوں کی کنکریوں پر سونے سے سید احمد اورمولانا اسماعیل کے صدقہ میں ہمیں ایسا ایمان عطا ہوا ہے کہ اگر ہمارا ایمان بالاکوٹ کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو یہ پہاڑ اس کو برداشت نہیں کرسکتے،ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے۔
اللہ اس مشقت سے ملتا ہے۔اللہ اس حرام کاری سے نہیں ملتا جہاں چاہو نظر ڈال دو،نفس کی غلامی کرلو،نفس کی غلامی تو کافر بھی کرتا ہے۔آپ نے نفس کی غلامی کرکے کون سا تیر ماردیا؟مسلمان کی تو یہ شان نہیں ہے،مسلمان کی شان تو اللہ کی راہ میں جان دینا ہے۔کبھی نفس سے مقابلہ کرکے کبھی کافروں سے مقابلہ کرکے۔جہاد سے جان چرانا مسلمان کا کام نہیں ہے۔
ایک بڑے عالم نے مجھ سے کہا کہ جب میں افغانستان گیا تو بندوق کی گولیاں کانوں کے پاس سے گزر رہی تھیں۔کبھی اِدھر سے گولی گزرگئی کبھی اُدھر سے گزر گئی۔کہنے لگے کہ اگر میں ایک ہزار سال عبادت کرتا ،مجاہدہ کرتا تو ایسا ایمان نصیب نہ ہوتا جو یہاں چند دن میں عطا ہوا۔
خون خودرابرکہہ وکہسار ریخت
تو سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ بالاکوٹ کے دامن میں آگئے۔مولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ کی قبر پر ایک مصرع لکھا ہوا ہے:
؏خون خودرابرکہہ وکہسار ریخت
یہ وہ شخص ہے جس نے بالا کوٹ کے پہاڑوں کے کنکروں،پتھروں اور گھاس تنکوں پر اپنے خون کو بکھیر دیا۔
یہ شاہ ولی اللہؒ کا پوتا ،نازونعمت کا پلا ہوا،دِلّی سے چل کر آیا۔دِلّی میں جو عزت شاہانِ مغلیہ کے شہزادوں کی تھی اتنی ہی عزت شاہ ولی اللہؒ کے بیٹوں اور پوتوں کی تھی کہ ان کو دیکھ کر بھی دِلّی کے تاجرکھڑے ہوجاتے تھے۔شاہ ولی اللہؒ کا یہی پوتا تھا جو جہاد میں جان دینے کے لیے دِلّی کی جامع مسجد کے گرم پتھروں پر بارہ بجے دن کے روزانہ ایک گھنٹہ چلتا تھا تاکہ پہاڑوں کی گرمی برداشت کرسکے اور عین برسات میں دریائے جمنا میں کود کر دہلی سے آگرہ تک تیرتے تھے تاکہ اگر جہاد میں کہیں دریا میں کودنا پڑے تو وہاں بھی کفار سے لڑ کر اللہ کے راستہ میں اپنی جان فداکردیں۔
حضرت سید احمد شہیدؒ کا شوقِ شہادت
جہاد کے دن سید احمد شہیدؒ نے علی الصبح جہاد کا جامہ زیبِ تن فرمایا،تلوار میان سے نکال لی،اشراق کی نماز پڑھ کر، شہادت کے شوق میں جہاد کے لیے تیار ہوگئے۔اتنے میں لاہور سے ایک مسلمان فوجی کا خط آیا کہ میں اگرچہ کافروں کا نمک کھاتا ہوں،رنجیت سنگھ کا نوکر ہوں لیکن آپ ہمارے پیشوا ہیں،مسلمانوں کی بڑی اہم شخصیت ہیں۔میں آپ کو خبر کرتا ہوں کہ سکھوں کی بہت بڑی فوج آرہی ہے آپ کہیں چھُپ جائیے تو آپ کی جان بچ جائے گی۔آپ کی جان ہمارے لیے بہت قیمتی ہے۔
آج فتح ہوگی یا شہادت
اب سید احمد شہیدؒکا جواب سن لیجیے۔سید احمد شہیدؒ نے لکھا کہ مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ میدان جنگ میں اتر کر،اللہ کے راستہ میں آکر،جنگی لباس پہن کر،تلوار ننگی کرنے کے بعد پھر وہ اپنے جنگی ذوق سے توبہ کرکے میدان ِ جہاد سے بھاگ جائے،یہ نہیں ہوسکتا۔یا تو آج میں لاہورپر اسلام کا جھنڈا لہرا دوں گا اور یا پھر آج شہید ہوکر اپنے اللہ سے ملاقات کروں گا۔جب سید احمد شہید ہوگئے تو اس تاریخ کو لکھ کر مولانا علی میاں ندوی نے اس موقع پر ایک شعر لکھا ہے کہ
جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم
سو اس عہد کو ہم وفا کرچلے
شاہ عبدالغنی پھولپوریؒ کا شوقِ شہادت
میرے شیخ شاہ عبدالغنی پھولپوریؒ نے جہاد کے شوق میں دس سال تلوار سیکھی تھی۔آخری عمر میں جب حضرت کے گھٹنے بے کار ہوگئے تھے،حضرت خود کھڑے نہیں ہو پاتے تھے،دو آدمی اٹھا کر کھڑا کرتے تھے۔میرے سامنے ایک سے فرمایا کہ جب ہندوستان سے جہاد ہوتو مجھے جنگ کی سرحد پر لے چلنااور توپ خانہ میرے ہاتھ میں دے دینا میں توپ چلاؤں گا،کافروں کو گولے ماروں گا،کافروں کا کوئی گولہ مجھے بھی لگ جائے گا اور میں شہید ہوجاؤں گا۔یہ کہہ کر حضرت رونے لگے،حضرت کو ایسا شوقِ شہادت تھا۔
دوستو!اس وقت افغانستان بہت نازک مرحلہ میں ہے۔اس وقت سارے عالمِ اسلام کی آبرو کا مسئلہ ہے،یہ خالی افغانستان کا مسئلہ نہیں ہے۔ہر مسلمان کی عزت کا مسئلہ ہے کیونکہ ہر کافر دانت پیس رہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟یہ چند مُلّا لوگ کیسے فتح کررہے ہیں؟اللہ تعالیٰ کی مدد سے ان شاء اللہ وہ دیکھیں گے جو ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آرہاہے۔
من جھز غازیا فی سبیل اللہ فقد غزی
لہٰذا اس جہاد میں جو ایک روپیہ بھی دے گا وہ ان شاء اللہ قیامت کے دن مجاہدین میں اٹھے گا۔کوئی ایک روپیہ بھی دینا چاہے تو لے لو،انکار نہ کرو۔میں کبھی چندے کی اپیل نہیں کرتالیکن آج مجاہدین ِ افغانستان کے درد سے مجبور ہوکر کہتا ہوں کہ سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من جھز غازیا فی سبیل اللہ فقد غزی کہ جس نے کسی مجاہد کو جہاد کا کچھ سامانخرید کر دے دیا،یا مجاہدین کو کچھ کھانے کے لیے دے دیا،کسی قسم کی مدد کردی،کوئی ہتھیار دے دیا قیامت کے دن وہ بھی جہاد کرنے والوں میں شامل ہوجائے گا۔
سب سے اعلیٰ نمبر تو یہ ہے کہ اللہ کو اپنی جان کا نذرانہ پیش کرو۔الحمدللہ کل ہمارے مدرسہ سے طلباکی ایک جماعت افغانستان گئی ہے۔ہم نے مجاہدین بچوں کا تحفہ اللہ کو پیش کیا،اللہ عافیت سے ان کو لائے اور مجاہدینِ افغانستان کی تقویت کا سبب بنائے۔
میں عرض کررہا ہوں کہ مجاہدین کو اس وقت پیسے کی سخت ضرورت ہے ۔اس وقت معرکۃ الآراء جہاد ہورہا ہے،اللہ تعالیٰ مجاہدین کی مددفرمائے۔جولوگ اپنی جان سے،اپنے مال سے،اپنی اشک بار آنکھوں سے یا رونے والے چہروں کی شکل بنا کر دعا نہیں کریں گے غور سے سن لیجیے کہ اندیشہ ہے کہ قیامت کے دن مواخذہ ہوکہ جہاد ہورہا تھا،ہمارے بندے شہیدہورہے تھے اور تم اپنا مال او رمکھن اور انڈے اور ڈبل روٹی اڑا رہے تھے،تمہارا ایک آنسو بھی نہ نکلا،تم دعا سے بھی شریک نہیں ہوئے۔لہٰذا کم سے کم دودو رکعات پڑھ کر رو رو کر دعائیں شروع کردیجیے کہ اللہ تعالیٰ ان کو فرشتوں سے مدد بھیج دے،غیب سے ان کو غلبہ عطا فرما دے،ان کے حوصلے بلند کردے۔یااللہ!ان کے جو مخالفین ہیں یا جتنے کفار ہیں ان پر بزدلی اور جبن مسلط فرما دے۔اللھم الق فی قلوب اعداء الطالبین الرعب اے اللہ طالبان کے دشمنوں کے دلوں پر رعب اور ہیبت اور جبن مسلط کردے۔اللھم زلزل اقدامھم اے اللہ!ان کے قدم اکھاڑ دے۔اس وقت وہاں سخت جنگ ہورہی ہے ،اس وقت ان کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ جتنی توفیق دے اتنا پیسہ دیں اور جس کے جسم میں جان ہے،صحت ہے،میں دعوت دیتا ہوں کہ وہ ضرور جائیں اور وہاں جا کر ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اس وقت ان کو ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے۔لہٰذا جن کو اللہ تعالیٰ نے ایم بی بی ایس ڈاکٹر بنایا ہو ،کچھ دن کے لیے وہ افغانستان میں جاکر زخمیوں کے علاج میں اپنی خدمات اور اپنا ہنر پیش کرکے اللہ پر فدا ہوجائیں۔
جہاد میں شرکت کی ترغیب ِ عاشقانہ
لہٰذا بعد نماز خانقاہ میں اجتماع ہوگا۔جن کو اللہ تعالیٰ کے کلمۂ اسلام کی بلندی کا اور اس دین کی بلندی کا درد ہے ،جس دین پر اُحد کے میدان میں اور طائف کے بازار میں سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خونِ نبوت فدا ہوا ہے،خونِ نبوت سے بڑھ کر ہماری جان اور ہماری دولت نہیں ہوسکتی۔اس لیے اللہ تعالیٰ جو توفیق دے جلد سے جلد طالبان کو اپنا مال بھی پہنچائیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے طاقت،ہمت اور توفیق دی ہے وہ خود بھی فوراًمشورہ کرکے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں۔جان سے،مال سے اور دعاؤں سے شریک ہوجائیے ۔سمجھ لو کہ اس وقت اسلام کی آبرو کا مسئلہ ہے۔اپنی جان اور مال کی کوئی قیمت مت لگاؤ۔دلیل کیا ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا خونِ مبارک اس دین پر فدا ہوا ہے اور زمین وآسمان نے سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خونِ نبوت سے بڑھ کر کوئی قیمتی چیز نہیں دیکھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سید الانبیاء ہیں،لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خونِ نبوت بھی تمام نبیوں کے خون کا سردار ہے۔اس سے سمجھو کہ اللہ کتنا قیمتی ہے اور کتنا پیارا ہے۔
میرے شیخ نے سنایا تھا کہ ایک مجذوب نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اے اللہ آپ کی کیا قیمت ادا کروں جس سے آپ مجھے مل جائیں ۔دل میں آواز آئی کہ دونوں جہان مجھ پر فدا کردے۔اس اللہ والے نے کہا کہ
قیمت خود ہر دو عالم گفتئی
نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز
اے اللہ!آپ نے اپنی قیمت دونوں جہان بتائی ہے۔آپ اپنے دام ابھی اور بڑھائیے ابھی تو آپ ہمیں سستے معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق دے اور افغانستان کو فتح مبین دے۔اے اللہ!فرشتوں کی مددبھیج دے،ہم داڑھی والے،گول ٹوپی والے علما کی عزت رکھ لے۔سارے عالم اسلام کی آبرو رکھ لے۔عالم اسلام کے دشمنوں کو خاک میں ملا دے۔ان کے خیالات اور ان کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دے اور افغانستان کو مضبوط اسلامی سلطنت قیامت تک کے لیے بنا دے۔اے اللہ!تقریباًسولہ لاکھ شہید ہوئے ہیں،ان سولہ لاکھ شہیدوں کے خون کو اپنی رحمت سے قبول فرماکر ان کے خون کی عظمت کے صدقہ میں طالبان کو فتح مبین ،فتح عاجل کامل مستمر عطا فرما اور جلدی سے فرشتوں سے مددفرما کر جتنے کمیونسٹ بدمعاش دھوکہ باز منافقین ہیں ان سب کوگرفتار کراکے ان کو قانون ِ شریعت کے مطابق عبرت ناک سزاؤں سے روسیاہ کردے اور ان کی ذلت و خواری کی خبروں کو سارے عالم میں نشر کرادے۔ اے اللہ!اگرچہ ہم آپ کے نالائق بندے ہیں،لیکن کافر ہمیں آپ کا سمجھتے ہیں۔اگرچہ ہم اپنی نالائقی سے آپ کے نہیں بن سکے لیکن کافر سمجھتے ہیں کہ یہ مسلمان اللہ کے ہیں۔اے اللہ!اپنی اس نسبت کی لاج رکھ لے ،کافروں کے اس خیال اور اس نظریہ سے کہ وہ ہمیں آپ کا سمجھتے ہیں۔ہماری آبرو کی لاج رکھ لے اور ہم نالائقوں کو لائق بھی بنا دے،آمین!
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین.
٭٭٭٭٭



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



