جو شخص ساری زندگی دنیا کی خاطر نیکی کرتا رہا، دنیا کی خاطر علم حاصل کرتا رہا، دنیا کی خاطر قتال کرتا رہا، موت کے وقت وہ ضرور کوئی ایسا کام کرے گا کہ جس سے اس کا پچھلا سارا کچھ ضائع ہو جائے گا اور اللہ تعالی اس سے وہ سب چھین لیں گے ، سارا ایمان اس سے سلب کر لیں گے (فالعیاذ باللہ)۔ موت، ایسی آخری فیصلہ کن آزمائش ہوتی ہے کہ جو سر پہ لٹکتی ہے اور انسان کو سمجھ میں آجاتا ہے کہ اب اگلا سفر شروع ہونے والا ہے۔ تو اس وقت اللہ ہی قدم جماتے ہیں، اللہ کے سوا اور کوئی توفیق نہیں دے سکتا۔ تو اللہ نے جن کو توفیق دی تون کی زبان پر مرتے وقت بھی، شہادت کے وقت بھی کلمہ جاری ہوتا ہے۔ آخری وقت بھی وہ آگے ہی بڑھ رہے ہوتے ہیں پیچھے نہیں ہٹتے ، ایک دعا رسول اکرم ﷺ نے سکھائی:
’’اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا.‘‘
’’اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس سے بچا کہ موت کے وقت شیطان مجھے خبطی کر دےاور شیطان کا حملہ میرے اوپر کامیاب ہو جائے اور اے اللہ تجھ سے مانگتا ہوں کہ مجھے اس حال میں موت سے بچا کہ میں پیٹھ پھیر کے بھاگ رہا ہوں ۔‘‘
تو اللہ سے یہ ساری دعائیں مانگنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی زبان میں مانگ لیں، لیکن مانگنے کی ضرورت ہے۔ اپنے برے خاتمے سے ڈرنا چاہیے، اللہ ہی جانتا ہے کہ ہمارا خاتمہ کس چیز پہ ہونا ہے اور انجام کس حال میں ہونا ہے۔ تو اسی طرح یہ ساری دعائیں کہ جو قیامت کے دن کے حوالے سے ہیں کہ:
’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ فِي وَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ۔‘‘
’’اے اللہ تجھ سے مانگتا ہوں تیرے وجہِ کریم کے دیکھنے کی لذت، اے اللہ تجھ سے مانگتا ہوں تیری ملاقات کا شوق۔‘‘
یہ سارا کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص مطمئن ہوجائے کہ میں تو مجاہد ہوں، میں بہت اچھی حالت میں ہوں، میں جہاد میں ہوں، دنیا والے تو ادھر ادھر کے معاملوں میں پھنسے ہوئے ہیں، دیکھو میں کتنے اچھے کاموں میں لگا ہوا ہوں، میری اتنی قربانی ہے ، اتنی سردی میں یہاں بیٹھا ہوا ہوں، تو یہ جو اپنے آپ کو جو کچھ سمجھ رہا ہے یہ اللہ کے ہاں بھی قبول ہے کہ نہیں؟ تم کیا جانتے ہو بھئی؟ تو اپنے آپ کو کچھ سمجھنا اور مطمئن ہو جانا کہ میں کسی بہت ہی اعلیٰ مقام پر پہنچ گیا ہوں ان پہاڑوں میں بیٹھ کر ، تو یہ اپنے ساتھ دھوکہ ہے۔ شیطان کی سب سے بڑی تلبیس یہی ہے۔ جو کچھ بھی ہو جائے ، صحابہ سے اونچا مقام تو کسی کا نہیں ہو سکتا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اپنے بارے میں نفاق سے ڈرتے تھے۔ اپنے بارے میں برے خاتمے سے ڈرتے تھے اور گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتے تھے۔ ایک صحابی کے بارے میں آتا ہے کہ جب ستّر سال سے اوپر عمر تجاوز کر چکی تو کسی نے سنا کہ وہ دعا کر رہیں ہے کہ ’اے اللہ میں تجھ سے زنا اور تجھ سے چوری سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسے گناہ میں مبتلا ہو جاؤں‘۔ کسی نے حیرت سے پوچھا کہ اس عمر میں اور صحابی ٔ رسول ہوتے ہوئے یہ دعا مانگ رہے ہیں؟ غالباً حضرت سلمان فارسی ؓ کا واقعہ ہے یا حضرت ابو ہریرہ ؓ کا ہے کہ اس عمر میں پہنچ کر آپ یہ دعا مانگ رہے ہیں اور صحابی رسول ہوتے ہوئے۔ تو انہوں نے کہا کہ میں کیوں نہ مانگو کہ جب تک اس جسم اور روح کا تعلق قائم ہے اور شیطان میرے ساتھ لگا ہو اہے، اللہ جانتا ہے کہ میں کب پھسل جاؤں، کہ آج تک میرے رب نے میرے سامنے بڑی بڑی دیواریں حائل کر کے اور بڑی بڑی رکاوٹیں قائم کر کے مجھے بچایا ہے ۔ اس لیے نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ کسی وقت آزما لیے جائیں تو ہمیں کیا پتہ کہ ہم کتنی دیر قائم رہ سکتے ہیں؟ ہم میں سے کوئی ایک لمحے کے لیے سوچے، حضرت یوسف ؑوالے قصے میں اپنے آپ کو ان کی جگہ تھوڑی دیر رکھ کے دیکھے۔ ہم میں سے کسی کو یہ آزمائش ، اس میدان جہاد کے اندر کبھی پیش آجائے، کہ تنہائی میں ایک عورت گناہ کی طرف دعوت دے ، جو صاحب حسب و نسب ہو اور جس کے ساتھ انسان گناہ پر راضی ہو اور کوئی بھی نہ ہو کہ دنیا میں جس کو خبر ہو، تو صرف انسان کی اس وقت زبان پہ یہ آئے کہ ……مَعَاذَ اللّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ……اللہ کی پناہ اس بات (یعنی گناہ)سے کہ میرے رب نے میرے اوپر بہت احسانات کیے ہیں۔ میں اللہ کے ساتھ یہ نافرمانی اور ناشکری نہیں کر سکتا۔ تو کیا اللہ کے ساتھ اس طرح کا تعلق ہمارا ہے؟ اتنی ایمان کی پونجی ہے؟ یا بس لوگوں کی شرم حیا گناہوں سے روک رہی ہے؟ پس اللہ نے ایک لمحے کے لیے اگر آزما لیا، ایک لمحے کے لیے کسی سختی میں ڈال دیا۔ ہمیں کسی ایسی جگہ جہاں پر ایمان کا فیصلہ ہونا شروع ہو جائے۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ کے پورے خاندان پر جو کچھ گزرا کہ ان کو سختیوں سے گزارا گیا اللہ اور نبی ﷺ کو گالیاں دینے کا کہا گیا اور حضرت بلال ؓپر جو کچھ گزرا اگر ان سختیوں میں سے ہم پرخدانخواستہ آ جائے؟ آج بھی بہت سے ساتھیوں پر کتنے ہی بھائیوں پر، کتنی بہنوں پر جیلوں میں یہ سب کچھ گزر رہا ہے، جن کو کیا کچھ نہیں کہا جاتا؟ کن کن آزمائشوں سے نہیں گزارا جاتا، اس وقت جب اتنی سی بات ہے آزمائش سے نکلنے کی، کہ اتنی سی بات مطلوب ہے نکلنے کے لیے ، کہ میں نے توبہ کی کہ آئندہ کبھی جہاد نہیں کروں اور مجاہدین کی مخبری بھی کروں گا اور آپ کے ساتھ مل کے ان کے خلاف کام کروں گا اور آپ اس ساری آزمائش سے نجات پا لیں گے۔ اس موقع پر اپنے آپ کو ایمان پر بچائے رکھنا ۔ کیا ہم اپنے اندر یہ سکت پاتے ہیں کہ ہم اللہ سے یہ کہیں کہ مسئلہ نہیں ہے، اللہ کی آزمائش پڑے گی تو سہہ لیں گے ؟
ہم جانتے ہیں کہ ہم کتنے کمزور ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری اصلی ایمان کی پونجی کتنی تھوڑی ہے، ہم پر تو یہ تو اللہ نے پردے ڈالے ہوئے ہیں، اللہ نے سہارے دے دے کر چلایا ہوا ہے، اچھا ماحول دے دیا، اچھے والدین دے دیے، اچھے ساتھی دے دیے۔ جب بھی گناہوں کی طرف پھٹکنے لگے اللہ نے ماحول بدل دیا، اللہ نے راہیں پھیر دیں۔ اللہ نے بچا لیا، ورنہ ہم کہاں اپنے ایمان سے رکے؟ کون سا اللہ سے اتنا حیا کا تعلق ہم نے قائم کرلیا؟ کب اتنی محبت، اتنی خشیت ہمارے دلوں میں راسخ ہو گئی کہ ہم اللہ کے خوف سے رکتے ہوں، اور اللہ کی محبت کی وجہ سے ہمیں شرم آجاتی ہو، حیا آجاتی ہو ؟!
تو پیارے بھائیو! یہ وہ چیزیں ہیں جو آخرت میں کام آنی ہیں۔ کوئی دھوکہ، کوئی ڈھکوسلہ ، کوئی لیپا پوتی، کوئی اوپر اوپر کا دنیا کو دکھانے کا کام، اس میں سے کچھ بھی کام نہیں آنا ۔ اللہ نے فرمایا ’مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ……اللہ تم میں سے اہل ایمان کو اس حالت میں نہیں چھوڑ ے گا جس پر وہ ابھی ہیں، یہاں تک کہ خبیث اورطیب کو، پاک اور ناپاک کو اور سچے اور جھوٹے کو علیحدہ نہ کر دے ۔تو اللہ نے آزمانا ہے، ایک نہ ایک دن ۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہیے کہ اللہ ہم پر کوئی ایسی آزمائش نہ ڈالے جس کے اٹھانے کی سکت ہمارے اندر نہ ہو اور اللہ تعالیٰ ہمیں وہ ایمان عطا کرے جس کے ذریعے سے یہ سارے مراحل طے ہو سکتے ہوں جو آگے ہمارے سامنے پڑے ہوئے ہیں۔ موت سے قبل اور موت کے بعد تو ایمان کے سوا پیارو! کچھ نہیں کام آنا ! کوئی دھوکہ نہیں کام آنا! کوئی چیز نہیں کام آنی !ہم امیر ہوں، ہم مسئول ہوں، دنیا کی نگاہ میں کوئی شیخ بھی بن جائیں، علامہ بھی بن جائیں، اس چیز نے کیا نفع دینا ہے؟ یہ تو دھوکے ہیں۔ وہ تو کہے گا قیامت کے دن ’یہ جو میری سلطنت تھی یہ جو میرا طمطراق تھا، یہ لوگوں کا میرے لیے اٹھنا تھا، میرے سامنے بچھنا تھا اور لوگوں کا مجھے امیر کہنا تھا، مجھے جناب کہنا تھا، میری باتوں کے سامنے سر جھکانا تھا، میرے اشاروں کے اوپر سر کا اڑنا تھا، کہے گا قیامت کے دن جب پھنسے گا اللہ کی زنجیروں میں هَلَكَ عَنِّي سُلْطَانِيَهْ…… ساری تباہ ہوگئی میری ساری سلطنت، کچھ بھی نہیں باقی بچا میرے پاس۔ آج اکیلا اللہ کے سامنے کھڑا ہوں اور میرا اور اللہ کا معاملہ ہے ۔
تو اپنے دلوں میں جھانک کے دیکھیں اپنے ایمان کا جائزہ لیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے جو میں نے کہا کہ حضرت یوسف ؑ کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کے دیکھا کریں، تھوڑی دیر کے لیے پھر وہ آزمائش کا جو پہلو ہے، پھر دوسرا مرحلہ اس سے بھی بڑا ہے کہ وہ اللہ سے مانگے ’قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ‘ کہ ربی مجھے جیل جانا اس سے زیادہ عزیز ہے کہ میں اس گناہ میں پڑ جاؤں۔ مجھے جیل بھجوادیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جیل بھجوانے کا انتظام کر دیا۔ ہم کر سکتے ہیں کیا ایسا؟ ہم اتنی ہمت اپنے اندر پاتے ہیں کہ ایک ایسے گناہ جس کو شیطان خوش نما بنا کے پیش کرتاہے، اس سے بچنے کے لیے خود جیل جانے کے لیے اللہ سے دعائیں کریں کہ مجھے جیل میں بھیج دے لیکن گناہ سے بچا لے اور مجھے اپنی ناپسندیدگی کے کام سے بچا لے ۔
تو اپنے اپنے دلوں میں جھانکیں میرا اور آپ کا، ہر ایک کا ایک علیحدہ امتحان چل رہا ہے۔ کوئی اجتماعی امتحان یوں نہیں ہے۔ ہر ایک نے اکیلے اکیلے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ آج ہمیں نظر آتا ہے، ہم مجموعہ ہیں، ہمیں نظر آتا ہے ہم تنظیم ہیں، ہمیں نظر آتا ہے ہم تحریک ہیں، ہم میں سے ہر ایک، ایک فرد ہے۔ اللہ ایک ایک کو علیحدہ دیکھ رہا ہے۔ ایک ایک کے دل کو ایک ایک کے عمل کو علیحدہ دیکھ کے، اس کے اعمال کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ کررہا ہے۔ تو اپنے دلوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے اور اللہ سے بہت مانگنے کی ضڑورت ہے۔ بس ایک موٹی سی بات یہ ہے کہ کچھ نہیں کر سکتے تو ڈر تو سکتے ہیں ناں اللہ سے۔ اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ساری زندگی اس حالت میں گزار دیں کہ ربی میرے پاس کچھ نہیں ہے، میں جانتا ہوں میں اعمال سے خالی ہوں، تہی دامن ہوں، بس تیری رحمت کا سہارا ہے، اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے جو مجھے بچا سکتی ہے۔ یہ ایک چیز تو دل میں راسخ کر سکتے ہیں ناں کہ اللہ تیری رحمت کے سہارے چل رہا ہوں، تیری رحمت ہی کے سہارے گناہوں سے بچا ہوں، تیری رحمت ہی کے سہارے جہادمیں آیا ہوں اور تیری رحمت ہی کے سہارے پار ہو سکتا ہوں۔ تو نے جس دن رحمت اٹھالی، میں بھی سیاف کی طرح جا کے کفر کی کسی صف میں کھڑا ہوں گا، تو یہ آزمائش اتنی سخت ہے اس کو ہلکا نہ جانیں۔
زندگی کو کھیل نہ سمجھیں، اللہ سے ڈرتے ڈرتے انسان زندگی گزارے اور بس یہ مانگے اللہ تعالیٰ سے کہ اے اللہ اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لے اور اپنی آگ سے خود اپنی رحمت کے ذریعے بچا لے اور اپنی رحمت سے خود موت کے مرحلے آسان کر دے۔ اپنی رحمت سے دنیا میں گناہوں سے بچنا اور ایمان پہ جمنا، کفر سے دور رہنا، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم پر آسان کر دے ورنہ دامن بالکل خالی ہے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔
اگر مجاہدین واقعی ایسے ہو جائیں کہ اتنے اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہوں، اللہ سے اتنی خشیت ہو، اللہ سے اتنی محبت ہو، تو واللہِ، اللہ کی نصرت آنے میں اور کوئی چیز حائل نہیں ۔ بد اعمالیوں کے سوا اور کوئی چیز حائل نہیں۔ تو اگر دلوں میں تکبر ہوگا اور غرور اور گھمنڈ ہوگا، دوسروں پر تمام اہل ایمان پر فضیلت کا کوئی جذبہ ہوگا کہ ہم تو کوئی اونچی چیز ہو گئے ہیں، خاص پہاڑ کی چوٹیوں پر پہنچ گئے ہیں…… اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓجیسے بڑے سپہ سالار صحابی کو جن کے لیے بہت سے فضائل ہیں ، ان کی زبان سے جب کوئی ادنی سی ایسی بات سنی کہ جس میں اپنی فضیلت کا ذکر تھا، مجاہدین کی فضیلت کا ذکر تھا ، عام مسلمانون پر تو رسول اکرم ﷺ نے وہیں ٹوکا اور فرمایا ’تمہاری جو مدد ہوتی ہے اور تمہیں جو رزق ملتا ہے، روٹی کپڑا جو تمہیں مل رہا ہےیہ، کپڑا جس سے تن ڈھانپ رپے ہو، روٹی جس سے پیٹ بھر رہے ہو……یہ صرف تمہارے ضعفا کی وجہ سے تمہیں مل رہا ہے ۔وہ بوڑھی عورتیں جو تمہارے لیے دعائیں کرتی ہیں، ان کی وجہ سے تم کو مل رہا ہے، وہ تمہاری مائیں جنہوں نے پتہ نہیں کہ کس دل کے ساتھ اجازت دی (جہاد میں جانے کی) وہ جو پیچھے رو رو کے تمہارے لیے دعائیں کرتی ہیں، ان کی وجہ سے تمہیں رزق مل رہا ہے، نصرت ہو رہی ہے۔ وہ بوڑھے بوڑھے علما و صالحین جو راتوں کو اٹھ اٹھ کے، تہجد میں ہم جیسے بد اعمالوں کے لیے، ہمیں پتہ نہیں کیا چیز سمجھتے ہوئے اللہ سے دعائیں کرتے ہیں، ان کی وجہ سے ہے ہماری یہ نصرتیں ہمارا رزق جاری ہے ۔وہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے جن کو ابھی جہاد کا بھی مفہوم پوری طرح سے نہیں معلوم، وہ جب کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا، وہ جب اس کے لیے ہاتھ اٹھا کے دعائیں کرتا ہے، ان دعاؤں کی وجہ سے ان کے اخلاص کی وجہ سے، ان کی محبت کی وجہ سے یہ نصرت ہو رہی ہے، تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو کہ تمہارے اندر کوئی ایسی چیز ہے، کہ کیا تمہاری وجہ سے یہ سارے محاذ چل رہے ہیں؟ کیا تمہاری وجہ سے یہ امریکہ گر رہا ہے؟
یہ پوری امت کھڑی ہے، یہ امت آج اپنی دعائیں کھینچ لے، یہ امت آج اللہ کو ناراض بحیثیت مجموعی کر دے، تو ہم کون ہیں؟ ہم تو خود اعمال میں تہی دامن ہیں۔ محض میدان کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ تو اپنے دلوں میں عاجزی پیدا کریں اور اپنی حقیقت پہ نگاہ رکھیں، اپنے گناہوں پہ نگاہ رکھیں، ہمیں اللہ ہی نکال کر یہاں تک لایا ہے۔ جس دن اللہ نے رد کر دیا، اس دن اسفل سافلین، ان سے بھی زیادہ نعوذ باللہ نیچے جا کر گریں گے۔ جس کو ہم آج حقیر سمجھ رہے ہیں کہ وہ جہاد پر نہیں آئے، تو پیارو! سب اللہ جانتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے؟
یہ سب کچھ قیامت کے دن پوشیدہ راز عیاں ہونے ہیں اور یہ قیامت کے دن سب کچھ کھلے گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس دن معاف کردے اور اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس دن جنتوں میں اکٹھا فرمادے ۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین!
– – – – – – تمّت بالخیر – – – – – –




![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



