پاکستان میں مہنگائی کا عذاب
پاکستان میں جہاں ساڑھے پانچ کروڑ کے قریب افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ۲۲ کروڑ کی آبادی میں باقی ماندہ آبادی کا بیشتر حصہ ’مڈل کلاس‘ سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن کرونا کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری اور مہنگائی کے سبب اس مڈل کلاس طبقے کا چولہا بھی مشکل سے ہی جل رہا ہے۔ یوں تو ہر طرف ہی پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، لیکن پاکستان کا معاملہ اس لیے مختلف ہے کیونکہ پیٹرول اور بجلی سمیت بنیادی ضروری اشیاء آٹا، چینی، گھی وغیرہ کی قیمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔ روزانہ کی بنیاد پر دھاڑی کمانے والا طبقہ تو ابھی تک کرونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بے روزگاری کے دھچکے سے ہی نہیں نکل پایا ہے۔
مہنگائی کے حوالے سے مختلف کالم نگاروں کے اقتباسات ملاحظہ ہوں:
غریب کریں تو کیا کریں؟ | عبدالباسط خان | روزنامہ خبریں
”لوگ بل ادا کریں یا کھانا کھائیں یا بیماری کا بل ادا کریں؟ ڈاکٹر کی فیس وہ دے نہیں سکتے اور ڈاکٹر بھی ملے تو وہ بھی گزارا لائق۔ امیروں کے لیے بڑے بڑے پرائیوٹ ہسپتال، بڑے بڑے ڈاکٹر اور ہر قسم کی مشینیں دستیاب ہیں، مگر غریب بیچارہ کہاں جائے؟ اگر وہ کلرک ہے یا عام سا ملازم ہے تو پھر وہ رشوت نہ لے تو کیا کرے؟ اور اگر رشوت میں پکڑا جائے تو پھر اس کی ضمانت میں گھر کے زیور بیچنے پڑ جاتے ہیں۔ رہ سہ کر ایک آٹا تھا جس کو پکا کر غریب آدمی دو وقت کی روٹی پیاز کے ساتھ کھا لیتا تھا، مگر اب آٹا بھی اس کی دسترس سے باہر ہے۔ وہ ملک جو زرعی ملک ہے اب لاکھوں ٹن گندم باہر سے امپورٹ کر رہا ہے۔ غریب کریں تو کیا کریں؟“
وزیر اعظم کو مہنگائی کا احساس ہے؟ | محمود ہشام | روزنامہ جنگ
”زندہ رہنے کے لیے جو اشیاء ضروری ہیں، قیمتیں ان ہی کی بڑھ رہی ہیں۔ حکومت جن کی وجہ سے بنتی ہے، وہی اکثریت مہنگائی سے سب سے زیادہ بدحال ہے۔ ۲۲ کروڑ میں سے ساڑھے پانچ کروڑ تو مسلّمہ طور پر غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ ان کی آمدنی ماہانہ صرف ۳۰۳۰ روپے فی کس بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ انتہائی بنیادی ضرورت کی چیزوں کا ماہانہ خرچہ ۳۵ ہزار روپے کہا جا رہا ہے۔ اندازہ کر لیں کہ ۳۲ ہزار کا خسارہ پورا کرنے کے لیے یہ ساڑھے پانچ کروڑ کیا کرتے ہوں گے؟ غربت کی لکیر سے اوپر والوں کی اوسط آمدنی بھی ۱۵ ہزار روپے فی کس ماہانہ بتائی جا رہی ہے۔ انہیں بھی مطلوبہ ۲۰ ہزار کے لیے رات دن بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے“۔
گھبرانا نہیں ہے! | عمران یعقوب | روزنامہ دنیا نیوز
”حکومت کا اپنا ادارۂ شماریات کہتا ہے کہ مہنگائی کی مجموعی شرح ۱۲ اعشاریہ ۶۶ فیصد (12.66%) تک پہنچ گئی ہے۔ کم آمدن والوں کے لیے مہنگائی کی شرح ۱۴ اعشاریہ ۱۲ فیصد (14.12%) تک پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے میں ۲۲ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ٹماٹر کی قیمت ۱۱ روپے بڑھی، ایل پی جی کے گھریلو استعمال کے سیلنڈر کی قیمت ۴۳ روپے سے زائد بڑھی، گھی کا اڑھائی کلو کا ٹن ۶ روپے ۹۰ پیسے مہنگا ہوا، لہسن، چاول، مٹن، آلو، گڑ بھی مہنگی ہونے والی اشیاء کی فہرست میں شامل ہیں۔ ’گھبرانا نہیں ہے‘ کا ورد کرنے کے باوجود کسی پل چین نہیں اور یوں لگتا ہے کہ کپتان کا مشہور نعرہ ’میں ان کو رلاؤں گا‘ سیاسی حریفوں کے لیے نہیں عوام کے لیے تھا“۔
ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے جبکہ دوسری طرف حکومت اور وزراء کو عام آدمی پر بیتنے والی مشکلات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ مہنگائی کی تاویل دینے کے لیے جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہتا ہے۔ مثلاً ایک نے مشورہ دیا کہ عوام چائے میں چینی کے نو دانے کم ڈالیں تو دوسرا مشورہ دے رہا ہے کہ اگر کھانے میں دس لقمے کم کھا لیں گے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟ اسی طرح کی بے تکی منطق کچھ حکومت نواز کالم نویس بھی پیش کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہوں:
مہنگائی | عدنان عادل | روزنامہ۹۲ نیوز
”اس وقت حکومت مہنگائی ختم نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے اسباب اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم اور اجناس کی قیمتوں کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔ افغانستان کی صورتحال بھی جلد ٹھیک ہونے کے آثار نہیں۔ انتظامی اقدامات سے صرف انیس بیس کا فرق پڑتا ہے۔ یوں بھی ترقی پذیر معیشت میں مہنگائی رہتی ہے۔“
ایک صاحب عوام کو یہ عقل و دانش سے بھرپور مشورہ دیتے ہیں:
مہنگائی کے باوجود | محمد ابراہیم خان | روزنامہ دنیا نیوز
”ترقی یافتہ معاشروں میں بھی کسی نہ کسی حوالے سے مہنگائی بڑھتی رہتی ہے مگر لوگ چونکہ شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں اس لیے معاملات قابو میں رہتے ہیں۔ مہنگائی کا سامنا کرنے کی ’انفرادی سطح پر‘ بنیادی شرط ہے ، آمدن میں اضافہ کرنا۔ ہمارے ہاں عام آدمی اپنی کمزور مالی حالت کا صرف رونا روتا ہے، بالعموم ایسا کچھ نہیں کرتا جس سے آمدن میں اضافہ ہو۔ اس نکتے پر کم لوگ غور کرتے ہیں کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو آمدن کے ذرائع بھی بڑھتے ہیں۔ جی ہاں! ایسا ہی ہے۔ مہنگائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جو لوگ زیادہ کماتے ہیں وہ خرچ بھی تو کرتے ہیں“۔
حقیقت یہ ہے کہ لکھنے والے لکھتے رہیں گے اور بھگتنے والے بھگتتے رہیں گے۔ سارا معاملہ نظام کی خرابی کا ہے۔ سودی معاشی نظام نے ہمیں ایک آکٹوپس کی طرح ہر طرف سے جکڑ رکھا ہے۔ موجودہ عوام کیا، مستقبل میں آنے والی نسلیں بھی پہلے سے سود سمیت مقروض ہیں۔ شاید کہ کسی موڑ پر عوام الناس کو احساس ہو جائے کہ حقیقی امن و سکون اور خوشحالی کسی باطل نظام میں نہیں ملے گی، بلکہ اصل خوشحالی صرف اور صرف اسلامی نظامِ شریعت میں ہی پنہاں ہے۔
مسئلہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا
پاکستانی فوج کی جانب سے لیفٹیننٹ جرنل ندیم احمد انجم کو آئی ایس آئی کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان ۶ اکتوبر کو سامنے آیا۔ تاہم وزیر اعظم کی جانب سے اعتراض کی وجہ سے نوٹیفکیشن تین ہفتے کی تاخیر سے جاری ہوا۔ اس دوران پاکستان میں آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کا معاملہ خبروں اور تبصروں کا بڑا موضوع رہا اور یہ بحث بھی جاری رہی کہ اس عہدے پر تقرری کس کا استحقاق ہے۔
اس تنازع پر بھی مختلف طرح کی آراء کالم نویسوں اور تجزیہ کاروں کے قلم سے سامنے آئیں، جس کی ایک اہم وجہ ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا متنازع سیاسی کردار بھی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف کالموں سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری اور عمران خان | سلیم صافی | روزنامہ جنگ
”عمران خان کے دور میں پہلے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اور پھر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا جب بطور ڈی جی آئی ایس آئی تقرر ہوا تو اس سلسلے میں وزیر اعظم کے پاس نہ تو تین ناموں کی سمری آئی اور نہ انٹرویوز ہوئے۔ دونوں مرتبہ آرمی چیف نے فیصلہ کر کے آئی ایس پی آر سے اعلان کر وادیا۔
چنانچہ اب عمران خان بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ اپنے لیے فیس سیونگ کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف فوج اور آئی ایس آئی کو بھی بند گلی میں لے گئے ہیں، کیونکہ ایک ایک دن کیا ایک ایک گھنٹہ فوج کی امیج اور وقارکے لیے بھاری ثابت ہو رہا ہے۔“
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش | حمید اللہ بھٹی | روزنامہ نئی بات
”کچھ پہلوان کشتی لڑتے ہوئے کسی سے شکست نہیں کھاتے مگر کبھی کبھار اپنے بھاری بھرکم وجود کی بنا پر خود ہی منہ کے بل گر جاتے ہیں۔ حکومت بھی اس روش پر قائم ہے۔ نئے ڈی جی آئی ایس آٗی کی تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش ثابت کرتی ہے کہ وزیراعظم اپنے بھاری بھرکم وجود سے گرنے کے قریب ہیں۔“
پہلی چوری پہلا پھاہ | عطاء الرحمن | روزنامہ نئی بات
”وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی وزراء و رفقاء میں پریشانی پائی جاتی تھی کہ اگر جنرل فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر برقرار نہ رہے اور خاص طور پر ان کے نئے جانشین کے طور پر جنرل ندیم انجم کا جو نام لیا جا رہا ہے تو مشکل وقت میں ان کا جائز و ناجائز ساتھ دینے اور اس کی خاطر پس پردہ سازشوں کا جال بچھانے والا کون ہو گا؟ کیونکہ حکومت موصوف کی تین سالہ کارکردگی کا خانہ تو صفر ہے، اگر اندر خانے غیر آئینی اور سازشی طور طریقوں کے ساتھ سہارا فراہم کرنے والے بھی باقی نہ رہے تو کون پرسان حال ہو گا؟“
بالعموم دیکھا جائے تو کسی بھی ملک میں فوج اور حسّاس ادارے صرف ملکی سلامتی اور دفاع کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور ملکی سیاست سے ان کا کچھ سروکار نہیں ہوتا۔ لیکن پاکستان میں ملک کے چوکیدار ہی اصل حکمران ہیں۔ حکومت تو صرف کٹھ پتلی ہے۔ ایسے میں ’بڑے گھر‘ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایس آئی کے سربراہ ندیم انجم | عمر فاروق | بی بی سی اردو
”ماہرین کے مطابق ملک میں ڈی جی آئی ایس آئی کی شخصیت اور اس منصب کی اہمیت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں فوج اور اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ملک کے سیاسی منظر نامے پر اثر و نفوذ اور خارجہ پالیسی امور پر مکمل غلبہ ہے۔ حسن عسکری (تجزیہ نگار) نے کہا کہ آئی ایس آئی نے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر افغان جہاد میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”نائن الیون کے بعد آئی ایس آئی نے اضافی کردار اس وقت ادا کرنا شروع کیا جب امریکیوں نے دہشت گردی کے خلاف ۲۰۰۱ء میں نام نہاد جنگ شروع کی“۔ ان کے مطابق اس جنگ میں ہراول دستے کے کردار نے آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس آئی کے پروفائل کو مزید اجاگر کیا۔“
پاکستان میں حسّاس اداروں کی فہرست میں آئی ایس آئی سر فہرست ہے۔ اسی لیے اسے ’بڑے گھر‘ سے تعبیر دی جاتی ہے۔ طاقت کے اعتبار سے بھی اور اختیارات کے اعتبار سے بھی۔ ملکی سیاست کو کنٹرول میں رکھنا ہو یا میڈیا کو لگام دینی ہو، عدالتوں پر اثر انداز ہونا ہو یا حکومتی اداروں پر، خفیہ ہاتھ ہر جگہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ دہشت گردی کے نام پر علماء اور عوام الناس میں سے جس کو جب چاہے ماورائے عدالت، کسی وارنٹ یا دلیل کے بغیر غائب کر دینا بھی اسی ادارے کا شیوہ ہے۔ تجزیہ نگار عمر فاروق کے مطابق پاکستان کے قانون میں خفیہ ادارے بشمول آئی ایس آئی سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔
حکومت اور فوج کے درمیان پیدا ہونے والے اس تناؤ سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ فوج کا کسی خاص سیاستدان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ فوج ایک انتہائی متکبر ادارہ ہے اور اس کے نزدیک باقی سارا نظام حکومت اس کے تابع ہو سکتا ہے لیکن وہ کسی اور کے تابع نہیں ہو سکتا۔ اس لیے چاہے سیاسی حکمران ان کا انتہائی تابعدار بندہ ہی کیوں نہ ہو اس کو اجازت نہیں کہ وہ فوج کے آگے چوں بھی کرے۔
فی الوقت ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا مسئلہ تو حل ہو گیا ہے لیکن فوج اور حکومت کے تعلقات میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والا جہانِ فانی سے رخصت ہوا
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا احسان کیا، اس احسان کی وجہ سے انہیں ’محسنِ پاکستان‘ کا لقب دیا گیا۔ پھر انہیں سرکاری ٹی وی پر مجرم بنا کر پیش کیا گیا اور ان سے احسان فراموشی کی گئی۔ بیس سال تک نظر بند رہنے کے بعد یہ محسنِ پاکستان بالآخر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔ متعدد کالم نگاروں نے اپنے قلم سے ان کے کارہائے نمایاں کو اجاگر کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ جن میں سے چند ملاحظہ ہوں:
ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے حاسدین | اوریا مقبول جان | روزنامہ ۹۲ نیوز
”ڈاکٹر قدیر کے جنازے میں عوام تو جوق در جوق آئے لیکن ’بڑے‘ لوگ دو وجہ سے نہیں آئے۔ ایک یہ کہ حسد کی آگ نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا اور دوسرا یہ کہ اگر امریکہ یا عالمی طاقتوں نے ان کی قدیر خان سے اس قدر محبت دیکھ لی تو کہیں وہ سب امریکی نظروں میں ’بلیک لسٹ‘ نہ ہو جائیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیرخان کے خلاف جن لوگوں نے سازش کی، اللہ کی پکڑ سے نہ بچ سکے“۔
محافظِ پاکستان کو خراجِ عقیدت | قیوم نظامی | روزنامہ نوائے وقت
”ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایٹمی صلاحیتوں کا اعتراف دنیا کے نامور سائنسدانوں، سکالرز اور محققین نے کیا ہے۔ سی آئی ہے کے چیف جارج ٹینیٹ اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب ’ایٹ دی سنٹر آف دی سٹارم‘ (At the center of the storm) میں لکھتے ہیں :
”میں جرنل مشرف سے ایک ایسے شخص ڈاکٹر قدیر خان کے خلاف اقدام کرنے کی بات کرنے جا رہا تھا جس نے انفرادی کاوشوں سے پاکستان کو ایک ایٹمی ریاست بنا دیا تھا اور جو قوم کا ہیرو تھا۔““
محافظِ پاکستان کو خراجِ عقیدت | مفتی منیب الرحمن | روزنامہ دنیا نیوز
”جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی ویژن پر آ کر پوری قوم اور دنیا کے سامنے ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا، ان سے لکھا ہوا بیان پڑھوایا گیا ۔ علامہ اقبال نے ایسے ہی منظر کی تصویر کشی اس شعر میں کی ہے:
نوائے صبح گاہی نے، جگر خوں کر دیا میرا
خدایا! جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے
اسی مفہوم میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کا اپنا شعر ہے:
گزر تو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر
ستم ظریف، مگر کوفیوں میں گزری ہے
پھر پرویز مشرف نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا، ”ڈاکٹر عبد القدیر خان نے پیسوں کی لالچ میں ایٹمی راز فروخت کیے“۔ ذرا غور فرمائیے! اُس وقت پاکستان کے ایٹم بم کے خالق کے دل پر کیا گزری ہو گی؟ بھارت نے اپنے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر عبد الکلام کو ملک کا صدر بنا کر اپنے محسن کی عزت افزائی اور قدر دانی کی۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنے محسن کو عالمی برادری کے سامنے عالمی مجرم کے طور پر پیش کیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو نظر بند کر دیا گیا، ان کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی، وہ اپنی مرضی سے کہیں آجا نہیں سکتے تھے۔ وہ اس پر ہمیشہ احتجاج کرتے رہے، اپنی آزادی کے لیے انہوں نے عدالتوں کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن کسی ’’دار العدل‘‘ سے انہیں عدل کی خیرات نہ مل سکی۔ آج وہی ناشکری قوم انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے۔“
آخر میں ان کے لیے احمد ندیم قاسمی کا شعر یاد آ رہا ہے۔
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
٭٭٭٭٭






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



