تمام حمد و ثنا، اسی کے لیے ہے جس نے زندگی کو امتحان اور دنیا کو گاہِ امتحان بنایا، پھر اپنی رضا اپنے حبیب کی اتباع میں رکھ دی اور اپنے حبیب کو ہمارا حبیب بھی بنا دیا، صلی اللہ علیہ وسلم! خیر کی ساری گراریاں اس نے اپنی توفیق میں پنہاں رکھیں اور توفیق کو بھی اتباعِ حبیب سے جوڑ دیا۔ اللہ پاک ہمیں اپنے دین کی محنت کی توفیق ذاتی و اجتماعی زندگی میں دیں اور خاتمہ بالخیر، بصورتِ شہادت فی سبیل اللہ عطا فرمائیں، آمین!
Absolutely ‘YES’!!!
Absolutely No!، وہ ٹرینڈ ہے جو عمران–باجوہ سمارٹ مارشل لائی حکومت نے اپنے پروپیگنڈا ٹُولز کو استعمال کرتے ہوئے چلایا۔ اس پروپیگنڈے کے لیے ظاہر ہے بنیادی خوراک عمران خان کی زبان سے ہی مہیا ہوئی بلکہ یہ دراصل عمران خان ہی کا قول ہے۔
یوں تو پہلے بھی یہ yes ہی تھا، بس کچھ ڈیلنگ کی بات تھی اور اس yes کا نتیجے افغانستان کے لوگ امریکی انخلا کے روز سے دیکھ رہے ہیں۔
یہ yes اور no کی جاپ امریکہ کو اڈے فراہم کرنے کی ہے۔ جس روز یعنی ۳۱ اگست ۲۰۲۱ء کو امریکہ نے اپنا مکمل انخلا رسما ًپورا کیا اسی روز پاکستانی فضائی اڈوں سے امریکی ڈرون طیارے حدودِ افغانستان میں امریکی سکیم ’Over the horizon‘ کے تحت داخل ہو گئے۔ ان اڈوں کی فراہمی کا انکار پاکستان نے پہلے بھی کیا، لیکن جیسا کہ کسی نے پہلے کہا تھا کہ پہلے جس خفیہ ترتیب سے امریکہ کو اڈے مشرف دور میں فراہم کیے گئے وہ سبھی ترتیبیں تو آج بھی موجود ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ yes اور no کے اس کھیل میں زبان تو عمران کی ہے لیکن اصل کام اسی ادارے کا ہے جو اس ملک کا کرتا دھرتا ہے۔
اسی بحث کو ایک بار دوبارہ سی این این کی رپورٹ نے جان بخشی جس میں کہا گیا کہ امریکی کانگریس کو ایک بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ :
امریکی نائب وزیرِ خارجہ وینڈی شیرمَن نے ماہِ اکتوبر ۲۰۲۱ء کے پہلے عشرے میں اپنے دورۂ پاکستان کے دوران اڈوں کے متعلق سہولت کاری پر بات کی۔
اڈوں کی فراہمی کے متعلق امریکی حکام کے سامنے پاکستان نے خود ’دلچسپی‘ کا اظہار کیا۔
اور اس ملاقات کے نتیجے کے طور یہ سمجھا جا سکتا ہے جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔
امریکی فوج تو پاکستان کے فضائی اڈے پہلے سے ہی استعمال کر رہی ہے پھر اس معاہدے کے طے ہونے کا کیا مطلب ہے؟ بڑے نوٹوں کا حصول!
بنگلہ دیش: اہلِ برِّ صغیر! اٹھو قرآن کی خاطر!
سولہ اور سترہ اکتوبر ۲۰۲۱ء کو بنگلہ دیش میں ہندو مذہب کے تہوار ’دوسہرے‘ کی تقریبات منائی گئیں اور اللہ کا کلام قرآنِ مجید جو ہمیں ہماری جانوں، اولادوں اور مالوں سے زیادہ محبوب و عزیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا کے نسخوں کو ہندوؤں کے ملیچھ بتوں کے پیروں میں، مختلف مندروں میں رکھا گیا۔ کاش یہ بات لکھنے اور پڑھنے سے پہلے ہمیں موت آ لیتی کہ ہمارے جیتے جی ہندوؤں کو اس قدر جرأت ہوئی اور انہوں نے یہ فعل کیا۔
بنگلہ دیش میں نواب سراج الدولہ شہید، سیّد تیتو میر شہیدؒ اور حاجی شریعت اللہؒ کے وارث اپنے کُل اسباب و وسائل کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔ نتیجتاً ’ہندوتوا‘ سرکار کی وائس رائے شیخ حسینہ نے مودی کو بھارت میں اور دیگر بنگلہ دیش میں بستے ہندوؤں کو خبردار کیا۔ ان مظاہروں میں تا دمِ تحریر چھ مسلمان بنگلہ دیشی طاغوتی فورسز ، قرآن کی دشمن فوج و پولیس اور RAB کے حملوں میں شہید ہو چکے ہیں اور سو سے زائد مسلمان گھائل و زخمی ہیں۔ پھر ستم ظریفی یہ ہے کہ جس دن یہ سے یہ واقعہ ہوا ہے اس دن سے ساری دنیا میں ہندو اور خصوصاً بنگلہ دیشی ہندو ہی مظلوم بنے بیٹھے ہیں۔ ساری دنیا کا ہندو اور سیکولر میڈیا مسلمانوں کو مطعون کر رہا ہے اور ہندوؤں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے کی بات کی جا رہی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد بھارت میں ڈھکے چھپے انداز کے بغیر بی جے پی کے بعض حکومتی وزیر و مشیر یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو بنگلہ دیش پر قبضہ کر لینا چاہیے۔
ہر بات کا زمانہ، ہر بحث کا موقع جا چکا۔ اب تو قرآن کی حرمت کا مسئلہ ہے اور بھارتی این آر سی اور سی اے بی قانون کی حدود بین الاقوامی ہو رہی ہیں، کل تک آسام و مغربی بنگال کے مسلمانوں کی شہریت کا مسئلہ تھا تو اب بنگلہ دیش کی حیثیت کو اس لیے ختم کر دینے کی باتیں ہو رہی ہیں کہ وہاں ہندو ’غیر محفوظ‘ ہیں۔سؤروں، بندروں، ہاتھیوں، کتوں اور شرم گاہوں کے پجاری ہندو اب اپنے بتوں کے پیروں میں قرآن کے نسخے رکھنے لگے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف اہلِ بنگلہ دیش کا نہیں۔ یہ مسئلہ پورے اہلِ برِّ صغیر بلکہ تمام عالمِ اسلام کا ہے اور وقت برِّ صغیر میں کفر و طاغوت کے سانپ کے سر بھارت پر وار کرنے کا ہے۔
اہلِ برِّ صغیر! قرآن کی خاطر اٹھیے، اپنے لہو میں نہائے اہلِ ایمان بھائی بہنوں کے ایمان و عزت اور جان و مال کی حفاظت کی خاطر اٹھیے۔ مودی سے حسینہ تک سبھی قرآن کے خلاف یکجا ہیں۔ آئیے ہم بھی سب اختلاف بھلاتے ہیں اور قرآن کو اسی طرح تھامتے، دل میں بساتے اور عمل میں ڈھلاتے ہیں جیسے اس کا حق ہے کہ قرآن تو اہلِ تبلیغ کا بھی ہے اور جماعتِ اسلامی والوں کا بھی۔ دیوبندی حنفیوں کا بھی ہے اور شافعی و سلفیوں کا بھی۔ انصار الاسلام بنگلہ دیش و القاعدہ کا بھی ہے اور تحریکِ حفاظتِ اسلام والوں کا بھی۔ قرآن صدائیں دے رہا ہے، دل و جان سے جواب دیجیے :لبیک یا کتاب اللہ!
چین اور اس کے یار
نظریاتی اختلافات، سیاسی مقاصد اور دنیا پر کامل حکمرانی کی دوڑ میں چین و امریکہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ اسی دشمنی کی خاطر امریکہ ایغور مسلمانوں کا مسئلہ اٹھائے رکھتا ہے، ورنہ چین اگر امریکی بلاک کا حصہ ہوتا تو سنکیانگ بھی امریکہ کا مسئلہ ہوتا۔ امریکہ میں چین کے سفیر نے تو کہا بھی کہ ’امریکہ کو ہمارا شکرگزار ہونا چاہیے کہ ہم ایغور (دراصل مسلمان) دہشت گردوں کو ختم کر رہے ہیں، لیکن امریکہ الٹا ہم سے اس بابت برہم ہے‘۔
امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا (ان شاء اللہ) آخری مضبوط مہرہ ہے، جس کے قدم اکھڑ رہے ہیں ۔ جبکہ چین اشتراکی–سرمایہ داری کی علامت ہے، آج کے چین اور ماؤ کے چین میں ’چین‘ کے سوا کم کم ہی مماثلتیں ملیں گی، آج کا چین سرمایہ داری میں رفتار کے اعتبار سے امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑے ہوئے ہے، لیکن اسی کے ساتھ ظلمات در ظلمات کی مثال چینی سرمایہ داری جمع اشتراکی تشدد ہے۔
امریکہ کے اکثر برانڈ اپنی مصنوعات کی صناعی چین میں کرتے ہیں، بلکہ امریکہ ہی کیا دنیا کا اکثر مال وہیں بنتا ہے۔ انہی بڑی کمپنیوں اور برانڈوں میں ایک ’اونچا‘ نام ’ایپل‘کا بھی ہے۔ وسطِ اکتوبر میں ایپل نے اپنے ایپ سٹور سے چین میں قرآنِ کریم کی مشہور ترین و مقبول ترین ایپ ’القرآن المجید‘ کو بند کر دیا اور خود اعلان بھی کیا کہ یہ اقدام چینی حکومت کے کہنے پر کیا گیا ہے۔ پھر دو دن بعد ایک اور مشہور کمپنی ایمازون نے بھی یہی کام کیا۔
یوں تو اگر کوئی سورج کی روشنی کو جھٹلانے پر تُل جائے تو کوئی اس کو کیا سمجھائے؟ لیکن پھر بھی یہ معلوم ہے، بلکہ اظہر من الشمس ہے کہ چین کی ایغور مسلمانوں کے خلاف ’جنگ‘ محض کسی نسلی گروہ یاکسی پس ماندہ قوم کی rehabilitation کے لیے نہیں، یہ اسی اسلام کے خلاف جنگ کا حصہ ہے جس جنگ کا بڑا سردار امریکہ ہے۔ چین نے قرآنِ مجید کی ایپ پر پابندی لگانی چاہی تو اپنا مذہبِ جدید یعنی سرمایہ داری بچانے کے لیے، حقوق کے چیمپئن ہونے کے دعوے داروں میں سے ایک نے فوراً رضامندی کا اظہار کر دیا۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے…… نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر: اس میں ہم سے پہلے کفار تو ’ایک‘ ہیں، الکفر ملۃ واحدۃ، ہم مسلموں کو بھی ایک ہو جانا چاہیے۔ حکیم الامت فضیلۃ الشیخ ایمن الظواہری حفظہ اللہ نے گیارہ ستمبر کی یادگار پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ’مسلمانوں کو کلمۂ توحید کے گرد جمع ہو جانا چاہیے۔ کاشغر سے وزیرستان، کشمیر سے گروزنی اور ادلب سے قاہرہ تک کی جنگ ایک ہی جنگ ہے‘۔
جن کو اب بھی سمجھ میں نہیں آرہی وہ ایپ سٹور یا ایما زون سے رابطہ کر کے پوچھ لیں، شاید وہی کچھ صحیح سے سمجھا دیں!
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے……
سنہ ۷۱ء میں پاک فوج نے مشرقی پاکستان میں جو گل کھلائے، میدان مارے، پہاڑ سر کیے اور کارنامے کیے، ان کی کچھ شہادتیں ملاحظہ ہوں:
بریگیڈئیر اے آر صدیقی نے اپنی کتاب ’ East Pakistan the Endgame, An Onlooker’s Journal 1969-1971‘ میں لکھا ہے کہ’’جنرل نیازی فوجیوں کے عورتوں كو بے حرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جا کر کرے؟!‘۔ جنرل اے اے کے نیازی جوانوں کی غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا! کل رات تیرا سکور (score) کتنا رہا؟‘۔یہاں سکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد ہوتی تھی! ‘‘۔
فوج کے اپنے اعترافات کے مطابق انہوں نے چھبیس ہزار عام بنگالیوں کو مارچ ۱۹۷۱ء سے دسمبر ۱۹۷۱ء تک قتل کیا اور بیس ہزار مسلمان بنگالی عورتوں کی عصمت ریزی کی1۔ اس زمانے میں فوجی افسروں نے خود کروڑوں روپے ملک کے نیشنل بینک سے لوٹے۔
مشرقی پاکستان میں کام کرتی ایک آسٹریلوی ڈاکٹر کے مطابق چار لاکھ عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان چار لاکھ حادثات میں ایک لاکھ ستر ہزار عورتوں نے اسقاطِ حمل کروایا، جبکہ پانچ ہزار عورتوں نے اسقاطِ حمل خود سے کیا۔ سنہ ۱۹۷۲ء کے پہلے تین ماہ میں ان زیادتیوں کے نتیجے میں تیس ہزار ناجائز بچے (war babies)پیدا ہوئے ۔ کتنے ہی بچوں کا ماؤں نے جننے کے بعد خود قتل کر دیا یا پھر زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد ان عورتوں نے اپنی جان لے لی2۔
یہ سب پست باتیں ذکر کرنے کا ہمیں کوئی شوق نہیں۔ دراصل آئینہ دکھانا مقصود ہے۔ آئینہ بھی اس لیے کہ پچھلے ماہ (ستمبر میں) کی چھ تاریخ کو یومِ شہدا و دفاعِ پاکستان کے موقع پر جو پرفارمنسز اور سٹیجوں کا شو لگتا ہے اس میں اس بار درجن ڈیڑھ درجن وہ فوجی افسر و جوان بھی پیش کیے گئے جنہوں نے مادرِ وطن کا ’دفاع‘ سنہ ۷۱ء میں کیا، یہ دفاع پہلے بنگالیوں کو قتل کر کے اور ان کی عصمتیں لوٹ کر کیا گیا اور پھر پلٹن میدان میں ہتھیار ڈال کر۔ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ پر یہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے، جس میں ان فوجیوں کو سلام اور خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
باقی سب ذلت و رسوائی کی باتیں تو بے کار ہیں، یہ فوجی اب اس قدر ذلیل ہو گئے ہیں کہ مشرقی پاکستان میں اپنے ’کارناموں‘ پر فخر بھی کرتے ہیں۔ حاضر سروس فوج میں کوئی جوان یا افسر ایسا نہیں جو اس زمانے میں فوج کا حصہ رہا ہو۔ پھر مزید ذلت تو ان بلڈی سویلینز کے لیے ہے جو چھ ستمبر کے اس فوجی ڈرامے میں بیٹھے رہے، عارف علوی نے آ کر فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ سبحان اللہ اب ننگ پر فخر کیا جائے گا!
؏زمانہ چال قیامت کی چل گیا!
اپنی خودی پہچان، او مسلمِ پاکستان!
چھ ستمبر ۲۰۲۱ء کو اپنی تقریر میں جنرل باجوہ نے کہا کہ ’ہماری (پاک فوج کی ) قوت کی ضمانت ہماری عوام ہے۔ ہم نے اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں دیکھا کہ جس فوج کے ساتھ ملک کی عوام کھڑی نہ ہو وہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے‘۔
ہم اہلِ پاکستان بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان میں قوت کا سرچشمہ کیا ہے؟ سیاست دانوں کی بطورِ سیاست دان پیدائش سے لے کر افزائش تک ساری گُرومنگ کس فارم ہاؤس میں ہوتی ہے۔ معیشت پر کون قابض ہے، مربعے کس کے پاس ہیں، اقتصادی راہ داریوں کو کون کنٹرول کرتا ہے اور اسلام آباد کی شاہراہِ دستور پر واقع وزیرِ اعظم ہاؤس، ایوانِ صدر ،پارلیمنٹ اور (اکثر وقت) عدالتِ عظمیٰ کا بہر لحاظ قبلہ آبپارہ کے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر اور پنڈی کے جی ایچ کیو کی طرف ہوتا ہے۔
الغرض اکثر کاموں میں کار فرما قوت فوج ہی ہوتی ہے۔
اب فوج کہتی ہے کہ ہم قوت عوام سے لیتے ہیں۔ اور جو باجوہ نے کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پاکستان کی عوام افغانستان کی عوام کی طرح اپنی ملّی فوج کے خلاف ہو جائیں تو ’ہم گئے‘۔
افغانستان کی عوام کیوں افغان ملّی فوج کے خلاف تھی؟ چند نکات ملاحظہ کیجیے:
افغان فوج، امریکہ کی فرنٹ لائن اتحادی تھی۔ امریکی مفاد ان کا مفاد تھا۔ اسی لیے انہوں نے دل و جان سے امریکہ کا دفاع کیا اور اس پالتو فوج کے بعض غلام سپاہی ایسے وفادار تھے کہ ان کی ایک پوری بریگیڈ [قطعۂ خاص صفر یک(Special Force 01 Brigade)] امریکیوں کے ساتھ ہی چلی گئی اور امریکی ان کو لے گئے اور اپنے کتے کابل ائیر پورٹ پر چھوڑ گئے (گویا یہ کتوں سے بھی زیادہ وفا دار تھے)۔
فوجی قومندان یعنی کمانڈر، پورے ملک میں اقتصادی ٹھیکے لیتے تھے اور اکثر علاقوں میں سیاہ و سفید کا مالک ولسوالی کا قومندانِ اردو یا قومندانِ امنیت یعنی ضلعی سطح پر فوجی کمانڈر یا انٹیلی جنس کمانڈر ہوتا تھا۔
ظلم و تشدد، اغوا، گمشدگی اور قتل کا سارا بازار انہی فوجیوں نے گرم کر رکھا تھا۔
عوامی امنگ اور اللہ کے عائد کردہ فریضۂ نفاذِ شریعت میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ملی فوج تھی۔
اسی فوج نے عرب و عجم کے ہزاروں مجاہد گرفتار کر کے بگرام سے گوانتانامو تک بھیجے اور اسی فوج نے بگرام سے غزنی کے فوجی مرکز میں پہلے عافیہ صدیقی کو بھیجا، وہاں امریکی ایف بی آئی ایجنٹوں پر حملے کے ڈرامے کے لیے سہولت کاری کی اور پھر وہیں سے عافیہ صدیقی کو امریکہ بھیجا گیا۔
اب سوچیے کہ جو جو کام افغان ملی فوج افغانستان میں کر رہی تھی، ہماری فوج کیا انہی سب جرائم میں ملوث نہیں؟
کیا یہ امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی نہیں تھے(اور اب پارا چنار و جنوبی وزیرستان میں اڈے دے کر نہیں ہیں)؟
افغانستان تو تھرڈ وَرلڈ کا بھی تھرڈ وَرلڈ تھا، ہمارے یہاں عسکری بینکوں، سیمنٹ فیکٹریوں، جوتے بنانے، دودھ دوہنے اور فوجی دلیے بنانے سے لے کر سی پیک کی ٹھیکے داری انہی کے پاس نہیں؟
لال مسجد سے خروٹ آباد، سلیم شہزاد سے سرفراز شاہ تک کے خون سے کس کے ہاتھ رنگین ہیں؟
سوات و قبائل کے خلاف جنگ اس لیے کی گئی اور جامعہ حفصہ کی عفت مآب بہنوں بیٹیوں کو اس لیے سفید فاسفورس سے جلایا کہ انہوں نے نفاذِ شریعت کا مطالبہ کیا تھا۔
عرب و عجم کے سینکڑوں مجاہدوں کو انہوں نے پکڑ کر (بشمول افغان سفیر ملا عبد السلام ضعیف) گوانتانامو بھیجا اور عافیہ صدیقی کو بھی اسی فوج کے میجر جنرل احتشام ضمیر نے کراچی سے اغوا کر کے بگرام پہنچایا۔
ایسے میں لا الٰہ الا اللہ کا کلمہ پڑھنے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کا دم بھرنے والے عوام کو کیا کرنا چاہیے؟
کیا افغانستان کی مسلمان عوام کے عمل میں پاکستان کی مسلمان عوام کے لیے کوئی اسوہ نہیں؟ اگر باجوہ کے بقول فوج کی قوت کی ضمانت عوام ہیں تو آئیے اللہ کے لیے اٹھتے ہیں، میں اور آپ بھی تو اسی عوام کا حصہ ہیں ۔
سو سال پہلے اقبالؒ نے کہا تھا:
اپنی خودی پہچان
او غافل افغان!
افغان نے تو اپنی خودی پہچان لی، اب اقبال کے شعر میں تصرف کرتے ہیں اور اپنے عمل میں تبدیلی لاتے ہیں:
اپنی خودی پہچان
او مسلمِ پاکستان!
ریاستِ مدینہ!
عمران خان کی حرکتیں دیکھ کر یقین سا ہو گیا ہے کہ پاکستان واقعی ریاستِ مدینہ ہے۔ غالباً حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو اہلِ مدینہ کے سرداروں میں سے ایک تھے)سے ایک بار رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی کی حرکتوں اور گستاخیوں کا شکوہ کیا۔ حضرتِ سعدؓ نے جواباً فرمایا کہ ’یا رسول اللہ! آپ کی آمد سے قبل اہلِ مدینہ اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ عبداللہ بن ابی کو مدینے کا بادشاہ بنا دیں، بلکہ تاج بھی بنا لیا گیا تھا اور صرف رسمی تاج پوشی باقی رہتی تھی‘۔ گویا عبداللہ بن ابی مدینے کا de-facto بادشاہ تھا، یعنی ریاستِ مدینہ کا سربراہ، وہ ریاستِ مدینہ جہاں دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔
میں اس بات کو بہت اچھے شگون کے طور پر لے رہا ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مدینے کا بادشاہ ’رئیس المنافقین‘ تھا (گو کہ یہ سب بعد میں ظاہر ہوا، لیکن خصلتیں تو پہلے سے ہی تھیں)۔ اور پھر جب اس de-facto کی de-facto حکومت ختم ہوئی تو بادشاہت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی قائم ہو گئی اور آپؐ ہی سربراہِ ریاست تھے(یہ بادشاہ و سربراہ و ریاست وغیرہ جیسے الفاظ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں ہیں)۔ گویا باذن اللہ یہاں ہمارے وطن میں بھی عنقریب یہی ہونے والا ہے۔
اب تو ہر خاص و عام کو حالیہ ریاستِ پاکستان کے چلانے والوں کی حرکتیں معلوم ہیں۔ لیکن کچھ باتوں پر تبصرہ لازمی ہے۔
’عید‘ میلاد النبی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین محض اللہ کی عبادت کا نام ہے۔ یہاں شرک کی گنجائش رائی کے دانے کے برابر بھی نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما گئے کہ عیدیں دو ہی ہیں اور اب قیامت تو یہ ہے کہ بعض مقامات پر عید میلاد النبی کی باقاعدہ نماز بھی پڑھی گئی۔ راقم کے ایک استاذ نے بتایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی ؒ نے بدعت کی تین نشانیاں بیان کی ہیں: ۱) نئی چیز بطورِ عبادت ایجاد کرنا، ۲) اس پر اجر کی امید رکھنا، ۳) جو نہ کرے تو اس کو مطعون کرنا۔ یہ تینوں باتیں آج کل میلاد کو عمومی شکل میں منانے اور عیدِ میلاد کی نمازیں پڑھنے والوں میں موجود ہیں۔
لیکن یہ اکثر نمازیں پڑھنے اور قوالیوں اور کافیوں پر سر دھننے اور جھومنے والوں کی تعداد جاہل لوگوں پر مبنی ہے جن کے رہبان و احبار نے انہیں گمراہ کیا ہے۔ عمران خان کو تو حضرت مولانا طارق جمیل صاحب سے بھی قربت و نسبت ہے، لہٰذا اس کا عذرِ جہل کیسے بنے؟ پھر وہ عام آدمی بھی تو نہیں، ملک کا سربراہ ہے جس پر سلطنت کے امور چلانے کے لیے علم حاصل کرنا فرضِ عین ہے ورنہ جس کا علم نہیں تو علماء سے پوچھنا فرضِ عین ہے۔
لیکن عمران خان جس قسم کی عید میلاد النبی منا رہا ہے وہ بدعت نہیں بلکہ اس سے کہیں آگے ہے۔ اس کی حکمرانی میں شریعت کو معطل کرنے بلکہ شریعت کے بالمقابل اپنا دینِ الٰہی نافذ کرنے کا مسئلہ ہے۔
عمران خان نے غالباً ایک مسجد کو کمال طریقے سے سجایا۔ آپ اس کی ٹوئٹر ٹائم لائن پر اپ لوڈ کی گئی تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ اوپر چھوٹا سا ’یا اللہ‘ درج ہے اور نیچے پانچ گنا بڑا ’یا محمد‘ اور اس کے نیچے دائیں ’حق فرید‘ اور بائیں ’یا صابر‘۔ یہ حق فرید اور یا صابر بی بی بشریٰ کے کمالات ہیں اور باقی عمران خان کا جہل۔
پھر ایک عمران خان کی ویڈیو ہے کہ ہم اس بار بارہ ربیع الاول کا جشن اس طرح منائیں گے جس طرح پہلے کبھی کسی نے نہیں منایا ہو گا۔
اسی ٹائم لائن پر مزید آگے بڑھیے تو سوات میں جہان آباد کے علاقے میں مہاتما بدھ کے ایک بڑے پہاڑ کندہ کیے گئے نقش کا منظر ہے جو اسی کے بقول کم و بیش دو ہزار سال قدیم ہے۔
یہ کمال عشق کے دعوے ہیں۔ خونِ مسلم ایسے عشق کو دیکھ کر کھولتا ہے۔ ایک طرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ساتھ ہی مہاتما بدھ کے دو ہزار سال قدیم بتوں اور نقوش کا ذکر اور ہم ان بتوں کے محافظ ہیں کا اعلان؟
رحمۃ للعالمین کا عجیب تصور؟
عمران خان نے رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا جس پر مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی تعریف کی۔ اس اتھارٹی کے قیام کے ساتھ ایک تعارفی ویڈیو بھی بنائی گئی جسے عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پر بھی ڈالا۔ اس ویڈیو میں ’ریاستِ مدینہ‘ کے وظائف میں کچھ جدید اصطلاحات و نظریات کو بھی گھسیڑ دیا گیا، مثلاً ایک ’فلاحی ریاست جس میں اقلیتوں کو ’’برابری‘‘ کی بنیادوں پر حقوق فراہم کیے گئے‘۔ اس اتھارٹی کے جہاں اور بہت سے مقاصد ہیں وہیں ایک مقصد اسلامی تاریخ اور تعلیمات پر مبنی فلموں، ٹی وی ڈراموں کے ذریعے آگاہی پھیلانا بھی ہے، جس کی ایک مثال سرکاری سطح پر عمران خان کی خواہش و ایما اور حکم پر ’ارطغرل غازی‘ جیسے ڈراموں کا فروغ ہے جس میں معروف معنیٰ میں فحاشی تو نہیں البتہ مسلم تاریخ کی ایک مجاہد شخصیت (ارطغرل) کے بہت سے معانقے کے مناظر اور بہت سے ممنوع عشقیہ ڈائیلاگ شامل ہیں۔
جادو گری اپنے عروج پر۔
جادو ٹونے اور ستاروں کی چال دیکھ دیکھ کر فیصلوں کا ایسا ’ٹرینڈ‘ ہے کہ دسمبر کی کسی خاص تاریخ تک فیض حمید کی ضرورت ہے (اور فیض حمید نے بھی آج کل ڈیڑھ پاؤ کی موٹے دانوں والی تسبیح عمران خان کی طرح ہاتھ میں پکڑ کر گھمانا شروع کر رکھی ہے) اور ندیم انجم کی دسمبر سے قبل ہی تقرری (بطورِ نیا ڈی جی آئی ایس آئی) اگر ہو بھی تو اس کے لیے خاص تاریخ درکار ہے۔ آرمی چیف سے دشمنی نکالنے کے لیے اسلام آباد کی سڑکوں پر پتلوں میں سوئیاں چبھونا اور جس کسی نے اس پر تنقید کی تو اس کے پیچھے سرکاری و پی ٹی آئی پروپیگنڈا مشینری کا ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جانا (جو خود دال میں کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتا ہے)۔
یہ سب امور کیا ہیں؟ کیا یہ سب کھلی منافقت نہیں؟ عمران خان کے ان سب جادو ٹونوں اور سیکولر اعمال کی مثال تو انہی عورتوں جیسی ہے جو بے حجاب ہو کر دل کا پردہ کرتی ہیں اور إنما الأعمال بالنیّات کی مالا جپتی ہیں؟!
٭٭٭٭٭
1 بمطابق حمود الرحمان کمیشن رپورٹ۔ بنگلہ دیشی ذرائع یہ تعداد دس گنا زیادہ بتاتے ہیں، لیکن دیگر آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد تین لاکھ کے قریب ہے۔
2 بحوالہ کتاب: Against Our Will: Men, Women and Rape از Susan Brownmiller






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



