پچھلے عرصے میں ہندوستان کے اندر بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بار ہم ہندوستانی اخبارات میں مسلمانوں کے حوالے سے زیر بحث اہم موضوعات کا احاطہ کریں گے۔
مسئلہ ایک کتاب کا |
ایک اہم موضوع سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سینئررہنما سلمان خورشید کی منظر عام پر آنے والی کتاب “Sunrise in Ayodhya: Nationhood in our times” پر پورے ہندوستان میں گرما گرم بحث ہے۔
ایودھیا تنازعہ جس کے نتیجے میں ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء میں ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد شہید کی پھر مسلمانوں اور ہندوؤں کی طرف سے یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت رہا۔ جس کا فیصلہ ۲۰۱۹ء میں سپریم کورٹ نے یہ دیا کہ بابری مسجد کی جگہ پر سرکار رام مندر تعمیر کرے اور مسلمانوں کوکسی اور جگہ پانچ ایکڑ زمین مسجد کی تعمیر کے لیے فراہم کرے۔
سلمان خورشیدنے، جو خود سیکولر نظریے کا حامل ہے، اپنی کتاب لکھنے کا مقصد واضح کیا کہ ’ایودھیا فیصلے پر مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مذہبی رواداری کا فروغ ‘ہے۔ لیکن تنازع کا باعث پوری کتاب میں موجود صرف ایک جملہ بنا جس میں سلمان خورشید نے ہندُتوا نظریے کو داعش اور بوکوحرام سے تشبیہ دی۔ یہ معاملہ ہندوستانی میڈیا میں اس قدر زیر بحث رہا کہ بلوائیوں نے اس کے گھر کو نذر آتش کر دیا۔
ملاحظہ ہو اس حوالے سے سلمان خورشید کےانگریزی روزنامہ The Indian Express میں چھپے کالم سے اقتباس(کا اردو ترجمہ):
No one burnt my cottage | Salman Khurshid | The Indian Express
’’کتاب کا مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی رواداری کا فروغ اور ایودھیا تنازع کے فیصلے کی روشنی میں ناپسندیدہ ماضی کو بھلا کر مشترکہ مستقبل کی طرف دیکھنا ہے۔
لیکن افسوس کی بات ہے کہ ملکی میڈیا اور حکومتی جماعت کی طرف سے بہت کم توجہ ملی، بلکہ وہ چوتھے باب میں موجود ایک جملے میں پھنس گئے جو ہندوازم اور ہندُتوا میں فرق کر رہا ہے:
’سَنَتَن دھرم 1اور روایتی ہندومت جو کہ سَنَتوں(saints) اور باباؤں کی تَپَسْیا سے عبارت ہے۔ اسے ہندتوا کے طاقتور نظریہ نے پرے دھکیل دیا۔ جو ہر اعتبار سے موجودہ دور کی داعش اور بوکوحرام جیسی اسلامی جہادی تنظیموں سے ملتا جلتا ہے۔‘
……میری شنکر اچاریہ کی تعظیم، سَنَتَن دھرم کی ستائش، ایودھیا تنازع پر فیصلے کی تائید ،(ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان) تصفیہ کی درخواست اور اس بات کی تکرار کے ’رام‘ کی حیثیت ’امامِ ہند‘ کی ہے، کوئی معنی نہیں رکھتی یہاں تک کہ میں ایک عظیم مذہب کے سیاسی استحصال کی توثیق نہ کردوں اور اس کے آگے سرِ تسلیم خم نہ کر دوں۔‘‘
سلمان خورشید کی اس کتاب پر اردو اخبارات کے بہت سے لکھاریوں نے بھی قلم اٹھایا ہے۔
معصوم مراد آبادی روزنامہ اعتماد میں سلمان خورشید کی اس کتاب اور ہندُتوا کے حوالے سے لکھتے ہیں:
ہندُتوا کا موازنہ بوکوحرام سے کیوں؟ | معصوم مراد آبادی | روزنامہ اعتماد
’’سلمان خورشید کی کتاب منظر عام پر آنے کے بعد سب سے زیادہ بے چینی ان حلقوں میں پھیلی ہے جو ہندُتوا کو ہی اس ملک کی نجات کا راستہ تصور کرتے ہیں۔
……جہاں تک ملک میں ہندُتوا بریگیڈ کی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو پورا ملک اس بات سے واقف ہے کہ کس طرح اس ملک میں اقلیتوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے۔ جب سے بی جے پی مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے تب سے مسلمانوں کی لنچنگ کے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں۔ انہیں کبھی ’لوّ جہاد‘، کبھی ’لینڈ جہاد‘ اور کبھی جبری تبدیلیٔ مذہب کے نام پر مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقلیتوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے اور جو لوگ اس کے خلاف لب کشائی کر رہے ہیں انہیں دہشت گردی مخالف قانون سے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سلمان خورشید ان کوششوں کا تازہ شکار ہیں۔‘‘
ایک اور قلمکار ندیم عبد القدیر سلمان خورشید کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے روزنامہ اردو ٹائمز میں لکھتے ہیں:
کیا سلمان خورشید مسلمانوں کی ہمدردی کے حقدار ہیں؟ | ندیم عبدالقدیر | روزنامہ اردو ٹائمز
’’سلمان خورشید کی کتاب ہندُتوا اور ہندوازم کے فرق کے لیے نہیں لکھی گئی تھی۔ البتہ یہ بات سچ ہے کہ ایک جگہ پر انہوں نے ہندُتوا اور ہندوازم کو الگ الگ کر کے ضرور بتایا ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے کہ سلمان خورشید ہندُتوا اور ہندوازم میں فرق سمجھتے ہیں تو انہوں نے پوری کتاب میں آخر تک یہ کیوں نہیں بتایا کہ ۶ دسمبر کو بابری مسجد کو شہید کرنے کا کام ہندوازم تھا یا ہندُتوا؟ اور بابری مسجد کی جگہ پر ہندو بھگوان رام مندر تعمیر کرنا ہندو ازم ہے یا ہندُتوا؟‘‘
روزنامہ اردو ٹائمز نے اپنے اداریہ میں کتاب پر ہنگامہ کی اصل وجہ سیکولر کانگرسی لیڈر غلام نبی آزاد کو بتایا:
ہندُتوا اور ہندوازم | اداریہ | اردو ٹائمز
’’ایسے درجنوں دانشور ہیں جو ہندُتوا کو دہشت گرد تنظیموں جیسا بتا چکے ہیں ، لیکن ہنگامہ سلمان خورشید کی کتاب پر ہی ہے۔ یہ ہنگامہ شروع نہیں ہوتا اگر غلام نبی آزاد اس کتاب پر تنقید نہیں کرتے۔ ان کی تنقید سے ہی اس ہنگامہ کو زندگی ملی۔ غلام نبی آزاد کی شخصیت بھی عجیب ہے۔ ملک میں اسلام کے خلاف اتنا کچھ کہا جاتا ہے، لیکن غلام نبی آزاد کو کبھی برا نہیں لگا۔ ملک میں مذہبِ اسلام کو تشدد سے جوڑا گیا اور ہندُتوا کے نام پر مسلمانوں کی جانوں سے کھیلا گیا۔ اس پر کبھی ایسی شخصیتوں نے زبان نہیں کھولی۔ لیکن جیسے ہی ہندُتوا کے بارے میں سلمان خورشید نے لکھا، غلام نبی آزاد آگ بگولہ ہو گئے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے جو ہمدردی اور غیرت اسلام کے تئیں ہونا چاہیے تھی وہ جذبہ غلام نبی آزاد کا ہندُتوا نظریے کے تئیں ہے۔‘‘
ہندُتوا کی پرچارک آر ایس ایس، بی جے پی اور سَنگھ پریوار کی دیگر تنظیموں کے غنڈوں کا ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم روزِ روشن کی طرح عیاں ہے لیکن حیرت ہوتی ہے ان ہندو لکھاریوں کے اس پروپیگنڈہ پر کہ ہندوستان میں سب سے مظلوم قوم بھی ہندوؤں کو ہی ثابت کرنے پر تلے رہتے ہیں۔
ٹائمز آف انڈیا میں ہندو صحافی اشالی ورمہ کے کالم سے یہ اقتباس (اردو ترجمہ کے ساتھ)ملاحظہ ہو:
Salman Khurshid’s insane analogy | Ashali Varma | The Times of India
’’سلمان خورشید کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا نے اسے سب کچھ دیا لیکن پھر بھی وہ ہماری تہذیب و مذہب کی تحقیر کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ کانگرس پارٹی میں ایک وزیر تھا لیکن اس نے دہلی فسادات کے دوران ہندوؤں اور سکھوں کے قتل اور لنچنگ کے خلاف کچھ نہ کیا۔ بلاشبہ وہ یک طرفہ ذہنیت کا حامل ہے۔
میں اُس کے سامنے ثابت کر سکتی ہوں کہ پچھلی آٹھ صدیوں میں عظیم ترین نسل کشی جوکی گئی وہ داعش ہی کے ڈھنگ میں اسلامیوں نے ہندوستان میں ہندوؤں کی کی ہے۔‘‘
مسلم کش فسادات |
پچھلے عرصے میں بنگلہ دیش سے ملحقہ ریاست تری پورہ میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے اور ہندو بلوائیوں نے مسلمانوں کی املاک اور مساجد کونشانہ بنایا۔
ویسے تو مسلم کش فسادات اب معمول ہی بن چکا ہے ، اور جب مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے تو حقوقِ انسانی کا راگ الاپنے والوں کی بھی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ زیادہ تر ہندو لکھاری تو حقیقت کا مکمل انکار کرتے ہوئے خود ہی مظلومیت کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ اس حوالے سے اردو اخبارات سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔
تری پورہ فسادات؛ الٹا چور! | ڈاکٹر عابدالرحمن | روزنامہ اردو ٹائمز
’’جب مسئلہ مسلمانوں کا آجاتا ہے تو سارے انصاف پسند خاموش ہو جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے تئیں پورے ملک کا ضمیر منافق ہو جاتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی کچھ نہیں بولتا سوائے چند گنے چنے لوگوں کے۔ مسلمانوں کے تئیں پورے ملک کے دل و دماغ میں نفرت اتنی سختی سے بیٹھ گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والے غیر مسلم بھی الگ تھلگ کر دیے جاتے ہیں۔ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی تعداد دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی کچھ بولنے کی ہمت کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف قانون کا ایسا استعمال کیا جاتا ہے جس طرح تری پورہ میں کیا گیا۔‘‘
تری پورہ میں نہ صرف مسلمانوں کے گھروں، املاک اور مساجد کی توڑ پھوڑ کی گئی بلکہ مسلم خواتین کے ساتھ بھی بدسلوکی کی گئی۔
جب دوہندو خواتین صحافی سمردھی سکونیا اور سورناجھا نے وہاں مساجد پر حملے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کی حقیقت پر رپورٹنگ کی تو انہیں دشمنی اور نفرت پیدا کرنے اور جعلی رپورٹنگ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ان فسادات کے حوالے سے ندیم عبد القدیر روزنامہ اردو ٹائمز میں لکھتے ہیں:
الجھن، گھٹن، ہراس، تپش، کرب، انتشار | ندیم عبد القدیر | روزنامہ اردو ٹائمز
’’تری پورہ سے لے کر اترپردیش تک اور اتر پردیش سے لے کر ہریانہ تک ایک ہی معاملہ الگ الگ عنوان سے جاری ہے، اور ہر جگہ مسلم نفرت کا راج ہے۔ تری پورہ میں تو حالات اس قدر ناگفتہ بہ ہو گئے ہیں کہ پولیس اور شرپسندوں میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو گیا ہے کہ مسجدوں کو نذرِ آتش کرنے اور مسلمانوں پر حملے کرنے والے فسادی زیادہ بڑے مخالف ہیں یا پھر وردی میں ملبوس پولیس؟ پولیس کا کام مظلوموں کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے، لیکن تری پورہ پولیس مظلوموں کی بجائے ظالموں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے، اور اس میں پولیس نے تمام حدوں کو بھی پار کر دیا ہے۔ تری پورہ پولیس نے اس ریاست کو پولیس اسٹیٹ میں بدل کر رکھ دیا ہے، جہاں لاقانونیت ہی قانون ہے۔ جہاں قانون کا چابک لے کر پولیس انصاف پسندوں کو ہی ہانکنا چاہتی ہے۔
…… مسلم نفرت کی یہی سوچ گڑ گاؤں میں بھی اپنے عروج پر ہے۔ یہاں کے شدت پسند ہندوؤں کے لیے مسلمانوں کو جمعہ کی نماز سے روکنا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جمعہ کی نماز مع خطبہ بھی بمشکل آدھے گھنٹے کا اجتماع ہوتا ہے، لاؤڈاسپیکر استعمال نہ کرنے کی صورت میں تو اس میں تھوڑا بہت بھی شور نہیں ہوتا۔ گڑگاؤں میں جن علاقوں میں نماز کے خلاف شدت پسند ہندو نفرت میں پاگل ہو رہے ہیں، وہاں نماز میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ جن لوگوں کو اس سے پریشانی ہے ان کی بلڈنگ تک تو تکبیر کی آواز بھی نہیں پہنچتی۔‘‘
خود وزیر داخلہ اَمِت شا نمازِ جمعہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ گڑ گاؤں ریاست ہریانہ کا اہم صنعتی شہر ہے۔ جہاں نمازِ جمعہ کے موقع پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ کبھی میدان میں گوبر ڈال کر، کبھی ڈھول بجا کر، اور کبھی دھمکا کر نمازِ جمعہ سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے معصوم مراد آبادی روزنامہ اعتماد میں لکھتے ہیں:
گڑ گاؤں میں نمازِ جمعہ کے دوران شر انگیزی | معصوم مراد آبادی | روزنامہ اعتماد
’’انتظامیہ نے جن عوامی مقامات کو نمازِ جمعہ کے لیے نشان زد کر رکھا ہے، وہاں شر پسند عناصر ہر جمعہ کو رخنہ ڈالتے ہیں اور نماز رکوانے کی کوشش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ نے ان کے دباؤ میں پہلے جن ۱۲۵ مقامات کو نماز جمعہ کے لیے نشان زد کیا تھا، اب ان کی تعداد گھٹا کر ۲۹ کر دی گئی ہے۔ گزشتہ جمعہ بھی ۵ نومبر کو سیکٹر ۱۲ میں نماز رکوا کر وہاں گوردھن پوجا کی گئی اور اس میں دہلی میں اشتعال پھیلانے کے لیے بدنام بی جے پی لیڈر کپل مشرا نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے کہا ، ’’گڑگاؤں میں نماز کی مخالفت نے پورے ملک میں ایک ٹرینڈ بنایا ہے اور پورا ملک اس میں متاثر ہے‘‘۔ اس موقع پر وشوا ہندو پریشاد کے سیکریٹری سریندر جین نے کہا، ’’جو کھلے میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں وہ پاکستان چلے جائیں۔ گڑ گاؤں ہی نہیں پورے ملک میں کہیں کھلے میں نماز نہیں پڑھنے دی جائے گی۔‘‘
لیکن ہندو لکھاریوں کے ہاں تو ایسے لگتا ہے جیسے الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اتنے فسادات ہونے کے باوجود ہندو لکھاری مستقل مسلمانوں کی بجائے ہندوؤں کی مظلومیت کا رونا رو رہے ہیں اور جو کچھ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے اسے اس طرح ظاہر کر رہے ہیں جیسے یہ سب اصل میں ہندوؤں کے ساتھ ہو رہا ہے۔
کانگرس رہنما راہُل گاندھی کی ایک ٹویٹ نے بھی ہندُتوا کے حامیوں پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔ راہُل گاندھی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا :
’’ہندُتوا مسلمانوں اور سکھوں کا قاتل ہے۔‘‘
ٹائمز آف انڈیا میں ایک صحافی راہُل شوّ شنکر اپنے کالم میں ایک آر ایس ایس کے حامی ۲۷ سالہ سنجیت کا ذکر کرتے ہوئے، جسے کیرالہ میں مبینہ طور پر لنچنگ کے ایک واقع میں قتل کر دیا گیا، لکھتا ہے(اردو ترجمہ پیش ہے):
“Hindutva kills Sikhs & Muslims” says Rahul Gandhi, but can he tell what killed Sanjith | Rahul Shivshankar | The Times of India
’’وہ ہندو جنہیں ہندُتوا تنظیموں آر ایس ایس اور بی جے پی میں خدمات انجام دینے والا سمجھا جاتا ہے، دشمنوں کی جانب سے ان کی باقاعدگی سے لنچنگ کی جا رہی ہے۔
…… سوال یہ ہے کہ اگر، جیسا کہ راہُل گاندھی اور اس کا گروہ دعویٰ کر رہا ہے، کہ ہندُتوا مسلمانوں اور سکھوں کی قاتل ہے، تو وہ کون سا نظریہ ہے جو سنجیت جیسے ہندُتوا کے سرگرم کارکنوں کے قتل کا موجب ہے؟‘‘
ایک اور ہندو لکھاری سروج چڈھا ٹائمز آف انڈیا میں ہندوؤں کی مظلومیت کا رونا روتے ہوئے لکھتا ہے(اردو ترجمہ پیش ہے):
Why does Hinduism find itself in a quandary in the country of origin? | Saroj Chadha | The Times of India
’’ہندومت دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے کیونکہ ایسا مانا جاتا ہے کہ یہ لگ بھگ ۷۰۰۰ قبل مسیح میں وجود میں آیا۔
……۹۰۰۰ سال سے زیادہ قدیم اس مذہب نے خود کو وقت کے ساتھ ساتھ ارتقاء پذیر کیا ہے تاکہ اپنے دور کے ساتھ اس کی مطابقت رہے، یہ آزاد فکر کی حمایت کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کے مختلف طریقے فراہم کرتا ہے۔ کسی ایک خدا کی پیروی کی ضرورت نہیں۔ کوئی ایک کتاب نہیں کہ جو حکم دے کہ کیا کرسکتے ہو اور کیا نہیں کر سکتے۔ یہ دوسرے مذاہب کی تحقیر نہیں کرتا بلکہ رواداری کو فروغ دیتا ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی اور مذہب ہندومت کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔
……پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہمارے ملک میں خود کو مسلمان، عیسائی، بدھ یا سکھ کہلوانا بالکل ٹھیک ہے، لیکن اگر ہندو ہونے کا دعویٰ کیا جائے تو بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں بشمول فرقہ پرستی کے الزام کے۔ ایسا کیوں ہے کہ آزاد ہندوستان میں ، ہندو مت کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا جبکہ اس ملک کی ۸۳ فیصد سے زیادہ آبادی ہندو ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہندوستان میں سیکولرازم کا مطلب ہے کہ تمام اقلیتی مذاہب کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور ساری پابندیاں ہندومت پر لگا دی جائیں؟
……اب وقت آگیا ہے کہ ہم اٹھ کھڑے ہوں اور کہیں، ’’ہاں میں ہندو ہوں اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘‘
اختتامیہ |
ہندوستان میں مسلم کش فسادات اور مسلمانوں کے خلاف حکومتی سطح پر اقدامات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی اتنی طویل تاریخ ہے کہ چند سطروں میں یا ایک مضمون میں اس کا احاطہ ناممکن ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستانی میڈیا میں ہونے والی بحث کی یہ صرف ایک جھلک ہے۔ لیکن اس ایک جھلک سےہی ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کی سوچ کی عکاسی ہوجاتی ہے۔
ایک طرف ہندو صحافی ہیں جو بار بار یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بالاصل وہاں کی اقلیتیں ہندو مخالف ہیں، اس لیے وہاں ہندو مظلوم ہیں۔
ہندُتوا نظریے کا پرچار کرنے والے ہندوستان کو ایک ہندو اسٹیٹ بنانے کے لیے بی جے پی کے جھنڈے تلے مسلسل ایسے اقدامات کر رہے ہیں اور آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔مسلمانوں کو جمعہ کی نماز سے روکنا، گائے ذبیحہ کے نام پر کبھی پڑوسی ملکوں میں ہندوؤں پر ظلم کا بہانہ بنا کر، اور کبھی مسلمان دور کے علاقوں کے نام بدل کر ان کی جگہ ہندو نام رکھ کر۔ یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ ہندُتوا ہی کی شر انگیزیاں ہیں کہ وہاں کوئی ہندو کھڑا ہو کر کسی مسلمان کی توہین کرے، بے عزتی کرے یا قتل، قانون مسلمان کے خلاف ہندو کا ہی ساتھ دے گا۔
دوسری طرف وہاں کے بیشتر مسلمان لکھاری ایسے ہیں جو انڈیا کے سیکولر اسٹیٹ اور سیکولر آئین کی دہائی دے رہے ہیں۔ اور وہاں کی گنگا جمنی تہذیب پر فخر کرتے ہیں کہ یہ وہ تہذیب ہے کہ جہاں صدیوں سے ہندو مسلم، سکھ اور عیسائی مل جل کر مذہبی اتحاد و رواداری سے رہتے ہیں۔
مسلم مخالف فسادات اور مسلمانوں کو جوش دلانے کے لیے ایک مہرہ وسیم رضوی ملعون بھی استعمال ہوا۔ جو لکھنؤ میں بیٹھ کر اسلام، قرآن اور رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کرتا رہتا ہے اور حال ہی میں اس نے اعلانیہ ہندو مذہب بھی اپنا لیا ہے۔ پورے ملک میں متعدد بار اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی گئی لیکن اس ملعون کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ مہاراشٹر میں اس کے خلاف پر امن ہڑتال کو پر تشدد بنایا گیا اور سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا۔
ایک قابل ذکر اور قابل افسوس بات یہ بھی ہے کہ بہت سے مسلمان صحافی اور دانشور ان تمام فسادات کو بی جے پی کے سیاسی حربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ چونکہ مارچ میں ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں تو بی جے پی ہندوؤں کی اکثریت کے ووٹ کے لیے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ گویا الیکشن کے بعد جلد ہی یہ سب رک جائے گا۔ چند کالم نویسوں نے تو یہاں تک کہا کہ سیکولر آئین کے خلاف یہ ہوا کا ایک جھونکا ہے اور اسے جذباتی ہوئے بغیر سہہ لیں۔ یہ گزر جائے گا تو حالات معمول پر آ جائیں گے۔
اسے ان کی سادگی کہیے یا حقیقت سے نظریں چرانا کہیے کہ واضح نظر آ رہا ہے کہ جو کچھ مودی سرکار کے دور میں ہو رہا ہے وہ ہندُتوا نظریے کے مطابق انڈیا کو ہندو اسٹیٹ بنانے کے ایجنڈے پر پیشقدمی ہے اور اس ایجنڈے کے مطابق اب اتر پردیش کے شہر متھرا میں شاہی عید گاہ ہندو بلوائیوں کے نشانے پر ہے۔ متھرا کی شاہی عیدگاہ مغل بادشاہ اورنگزیب رحمۃ اللہ علیہ نے تعمیر کرائی تھی۔ شاہی عید گاہ میں ہندُتوا تنظیموں کی جانب سے ہندوؤں کے بھگوان کرشن کی مورتی نصب کرنے اور اس پر ’’جل ابھیشک‘‘ ( گنگا کے پانی کا چھڑکاؤ) کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کے بعد وہاں کی حکومت نےفی الحال ظاہراً تو وہاں سکیورٹی سخت کر دی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملہ کب تک رک پاتا ہے۔
وہ مسلمان جو سیکولر آئین سے ساری امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں اور یہ سارا ظلم خاموشی سے سہہ رہے ہیں انہیں اب حقیقت کو تسلیم کر کے اجتماعی طور پر آگے کی تیاری کرنی ہو گی۔ کیونکہ انڈیا کی نام نہاد سیکولر جمہوری حکومت ہندو اسٹیٹ کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ اس خام خیالی سے بھی باہر آنے کی ضرورت ہے کہ اگلے انتخابات میں بی جے پی کی حکومت ختم ہو جائے گی اور کانگرس کی آجائے گی تو حالات بہتر ہو جائیں گے۔ اوّل تو جو ماحول اب بنا دیا گیا ہے اس میں کانگرس کا حکومت میں آنا ممکن ہی نظر نہیں آتا، اور اگر کسی وجہ سے وہ آبھی جائے تب بھی وہ کبھی اکثریت کی خواہشات کے خلاف جانے کی جرأت نہیں کر پائے گی۔
یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر آج ہم اپنے دفاع کے لیے اور اس ایجنڈے کے راستے میں رکاوٹ بننے کے لیے نہیں اٹھے تو ظلم کی یہ رات تاریک سے تاریک تر ہوتی چلی جائے گی، پھر شاید انجام بہت بھیانک ہو۔ غزوۂ ہند کے حوالے سے نبیٔ کریم ﷺ کی بشارتیں ہمارے لیے امید کی کرن ضرور ہیں، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اُس وقت تک کوئی ابن قاسم مسیحا بن کر ہماری مدد کو نہیں آئے گا جب تک کہ ہم خود اپنے دفاع کے لیے اور اپنی حالت کو بدلنے کے لیے کھڑے نہیں ہو جاتے۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
٭٭٭٭٭
1 سَنَتَن دھرم کا لغوی مطلب ہے ’ابدی مذہب‘۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے کہ ہندومت دنیا کا پہلا اور قدیم ترین مذہب ہے جو کہ ہمیشہ سے موجود ہے۔








