اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آرائ پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)
اگست کا مہینہ حالات کے اتار چڑھاؤ، جنگ، سیلاب اور زلزلے کی تباہ کاریاں دکھا کر ختم ہو گیا۔ جہاں سیلاب نے پاکستان میں تباہی مچا دی وہیں زلزلے نے افغانستان کو ہلا ڈالا اور بنگلہ دیش کے بعد اب نیپال میں بھی نوجونوں نے نا انصافی کے نظام کو اٹھا کر پٹخ دیا۔
فلسطین میں بھی غزہ اور مغربی کنارے پر ظلم ہے کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہمارا قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کی حرمت ہر روز پامال کی جاتی ہے، اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جو کسی بھی دوسرے موضوع پر آواز اٹھانے نہیں دیتا۔ ہماری امت کو انتہائی بے دردی سے پوری دنیا کے سامنے ذبح کیا جا رہا ہے اور امت پر مسلط حکمران اس جرم میں دشمن کے ساتھ شریک ہیں۔
ایسے میں ہم سے کسی اور موضوع پر بات ہو ہی نہیں سکتی۔ لہٰذا اس ماہ کالموں کے جائزے کا موضوع صرف فلسطین ہے!
صحافیوں کا قتل |
صحافی کسی بھی ملک کے حالات کو لوگوں تک پہنچانے کا سب سے مصدقہ ذریعہ ہو سکتےہیں۔ اور غزہ میں جاری اسرائیلی ظلم و بربریت کو صرف وہاں کے مقامی صحافی ہی اپنی جان پر کھیل کر پوری دنیا کے سامنے لائیں ہیں جہاں غاصب اسرائیل نے حقیقی حالات چھپانے کی لیے باہر سے کسی بھی صحافی کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ لہٰذا دو سال سے غزہ پر مسلط اس جنگ میں اسرائیل کےاعلانیہ نشانے پر حماس کے ساتھ وہاں کے وہ تمام بہادر صحافی بھی ہیں جو مسلسل بمباری، بھوک، دربدری اور جان و مال کے نقصان سے بالا تر ہو کر دن رات پوری دنیا کو اسرائیل کے ظلم کی حقیقی شکل دکھا رہے ہیں۔
ان دو سالوں میں اسرائیل غزہ میں ۳۰۰ سے زیادہ صحافیوں کو شہید کر چکا ہے۔ اور جن کو اب تک نشانہ نہیں بنا سکا ان کے خاندان اور گھروں پر حملہ آور ہو کر ان کے گھر والوں کو شہید کر چکا ہے۔ اصل مقصد ان کی آواز کو خاموش کرنا ہے تاکہ اپنے بھیانک جرائم کو دنیا کے سامنے آنے سے روک سکے۔
صرف ایک اگست کے مہینےمیں بارہ صحافی شہید ہوئے۔ ’’غزہ کی آواز‘‘ کہلانے والے انس الشریف جو پہلے صرف فوٹو جرنلسٹ تھے، اسرائیل کے حملے کے بعد کیمرہ کے سامنے آ کر اہلِ دنیا کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے رہے، اور ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اہالیان غزہ پر ٹوٹنے والی بھوک، قحط ، بمباری اور مسلسل دربدری کی رپورٹنگ کرتے رہے۔ اس دوران جذبات سے لبریز ہو کر رو بھی پڑتے۔ اور دنیا بھر سے لوگ الجزیرہ اور ان کے سوشل میڈیا اکاونٹ کے ذریعے حالات کی سنگینی سے آگاہ رہتے۔ اس مجاہد صحافی کو اسرائیل کی طرف سے نہ صرف ڈرایا دھمکایا گیا بلکہ رپورٹنگ روکنے کے بدلے خاندان سمیت غزہ سے باہر مراعات دینے کا لالچ بھی دیا گیا۔ لیکن جواب مین انہوں نے صرف یہی کہا: ’’غزہ سے صرف جنت کی طرف‘‘ اور آخری سانس تک یہ فریضہ انجام دیتے رہے، بلکہ ان کی شہادت کے بعد آنے والی وصیت بھی دنیا کو جھنجھوڑنے والی تھی۔
یہ صرف انس الشریف ہی نہیں بلکہ غزہ میں رپرٹنگ کرنے والے ہر صحافی کی کہانی ہے جنہیں چن چن کر اسرائیل ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اس واقعے کے بعد چند صحافیوں کو ان کے گھروں میں اسرائیل نے نشانہ بنایا، جبکہ دوسرا بڑا حملہ الناصر ہسپتال میں کیا جس میں صحافیوں اور پیرا میڈیکل ٹیم کو ڈبل ٹیپ حملے میں شہید کیا (پہلے ایک دفع ٹارگٹ کیا، جب امدادی کارکنان وہاں مدد کے لیے پہنچے تو دوبارہ اسی جگہ کو نشانہ بنایا) ۔ لیکن بہادری اور ڈٹے رہنا فلسطینیوں کے خمیر میں شامل ہے کہ ایک شہید ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ اور حتی المقدوردنیا کو حقیقت دکھا رہے ہیں، حالانکہ جو ظلم اسرائیل نے برپا کر رکھا ہے جو میڈیا پر دکھایا جا رہا ہے وہ اس حقیقت کا عشر عشیر بھی نہیں۔
صہیونی غاصب ریاست کے صحافیوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے پر چند کالموں سے اقتباسات پیش خدمت ہیں:
Yes, we kill journalists and the world can go to hell | Dr. Mustafa Fetour
’’ماضی میں اسرائیلی رہنماؤں نے عالمی رائے عامہ کو کوئی وقعت نہ دینے کا اظہار کیا ہے۔ اس سوچ کو سابق وزیر اعظم اسحاق رابین کے اس مشہور جملے نے اجاگر کیا جس میں اس نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ’غزہ سمندر میں ڈوب جائے‘ ۔ پیغام کو مارنے کے لیے پیغام رساں کو مارنے کی دانستہ مہم، دنیا کو کنٹرول کرنے کی عینک سے دیکھنے کی طویل تاریخ میں، جڑیں رکھتی ہے۔ یہ انفارمیشن جنگ کی ایک نئی قسم ہے۔ تقریباً مکمل انفارمیشن بلیک آؤٹ پیدا کر کے، اور پھر ان چند صحافیوں کو منظم انداز میں ختم کر کے، جو حقیقت کو دستاویزی شکل دے سکتے ہیں، اسرائیل نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں وہ بغیر کسی جواب دہی کے کاروائی کر سکے۔ یہ ایک نپی تلی تباہی کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد دنیا کو تنازع کی اصلی شکل دیکھنے سے محروم رکھنا ہے۔ یہ جنگ صرف بموں اور ٹینکوں سے نہیں لڑی جا رہی بلکہ آزاد صحافت کو خاموش کرنے کی ایک دانستہ طور پر چلائی گئی، ظالمانہ اور سنگین مہم کی شکل میں بھی لڑی جا رہی ہے، جس کی قیمت انسانی جانوں کے ہولناک ضیاع اور صحافتی دیانت کے شدید زوال کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
جب دنیا غزہ میں شہید ہونے ولاے فلسطینی صحافیوں کا سوگ منا رہی ہے، اسرائیل نے اپنی قاتلانہ پالیسی بلا روک ٹوک جاری رکھی ہوئی ہے.‘‘
[Middle East Monitor]
Every time Israel kills a Palestinian journalist, we lose a piece of our truth | Ghada Ageel
’’یہ قتل محض اتفاقیہ نہیں ہیں۔ غزہ میں صحافی چھتوں اور پہاڑوں پر چڑھ کر معمولی سا سگنل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تصاویر اپلوڈ کرتے ہیں، حملے کے مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کی کہانی سناتے ہیں۔ اسرائیلی حملوں نے انہی مقامات، ہسپتالوں، میڈیا دفاتر اور گھروں، کو موت کے پھندے میں تبدیل کر دیا ہے۔ ہر حملہ صرف انفرادی زندگیوں پر ہی نہیں بلکہ گواہی دینے کے عمل پر بھی حملہ ہے۔
یہ نکتہ واضح طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے کہ ہدف صرف یہ صحافی نہیں بلکہ خود فلسطینی بیانیہ ہے۔ یہ ثبوت مٹانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ ہر خاموش کیے گئے صحافی کا مطلب صرف ایک زندگی کا چھن جانا نہیں ہے بلکہ حقائق کا چھن جانا ہے، سچائی کا ایک ٹکڑا جو گم کر دیا گیا، فلسطینیوں کو تاریخ سے مٹا دینے کی ایک اور کوشش۔
ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر گیا جب سے فلسطینیوں کو خاموش کرایا جا رہا ہے، ان کی گواہیوں کو رد کیا گیا، ان کے ریکارڈ مٹا دیے گئے، ان کی یاد داشتوں پر حملے کیے گئے۔ آج صحافیوں کے قتل کے ذریعے اسرائیل اسی طویل منصوبہ بند جبر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلسطینیوں کو اپنی تاریخ خود بیان کرنے کا حق چھین لینے کی کوشش۔‘‘
[Middle East Eye]
غزہ شہر پر قبضے کا اعلان اور ابو عبیدہ کی شہادت کی افواہ |
اسرائیل نے آخری رہ جانے والے غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے لیے زمینی آپریشن شروع کر دیا ہے۔غزہ شہر میں دس لاکھ سےزائد آبادی اور بلند و بالا عمارتیں تھیں۔ صہیونیوں نے ان عمارتوں کو زمین بوس کر دیا اور وہاں کے لوگوں کو جنوب کی طرف چلے جانے کا کہا، جہاں پہلے ہی لاکھوں لوگوں نے پناہ لی رکھی ہے۔ شیطان نیتن یاہو اور اس کےوزراء بار بار غزہ پر مکمل قبضہ اور غزہ سے فلسطینیوں کے مکمل خاتمے کے مذموم عزائم کا اعلان کر رہے ہیں۔ ایسے میں مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور ۳۰ اگست کو حماس کے ترجمان اور دنیا کے کروڑوں لوگوں کے لیے عزم و ہمت اور امید و حوصلے کی ایک کرن، ابو عبیدہ کو شہید کرنے کا اسرائیلی اعلان تکلیف و مایوسی پھیلانے کا سبب بنا، لیکن ایسے جھوٹ اسرائیل پہلے بھی بولتا رہا ہے اور حماس نے ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی۔ اس بنیاد پر بہت حوصلہ ملا، ابو عبیدہ جن کا چہرہ چھپا رہا، لیکن جب وہ اپنی انگلی سے اشارہ کرکے دشمن کو للکارتے ہیں تو دشمن کے دل بھی لرز جاتے ہیں۔ اللہ انہیں اپنی امان میں رکھے اور دشمن پر قہر بن کر وہ برستے رہیں ۔(آمین) اور اگر وہ اب ہم میں نہیں ہیں تو انہیں عظیم شہداء میں قبول فرمائے اور ان کا بہترین نعم البدل عطاء فرمائے جو دشمن پر قہر بن کر ٹوٹے۔
اپنی ایک پرانی تقریر میں ابو عبیدہ کہتے ہیں:
’’اگر اسرائیل یہ اعلان کرے کہ ابو عبیدہ شہید ہو گیا ہے، تو جان لو کہ میں نے اپنی زندگی فلسطین کی اور اپنے لوگوں کی آزادی کے لیے قربان کر دی۔ ہر شہادت ہماری مزاحمت کو مضبوط کرتی ہے، اور ہمارا جہاد جاری رہے گا۔ اسرائیل جھوٹ بولتا ہے تاکہ ہمارے حوصلے توڑ سکےلیکن ہمارا ایمان اور صمود(استقامت) ان کے پروپیگنڈے سے بڑا ہے۔‘‘
گلوبل صمود فلوٹیلا! |
جیسا کہ قارئین کے علم میں ہوگا کہ ان دو سالوں میں فریڈم فلوٹیلا کی تحریک (امدادی کشتوں پر مشتمل قافلہ) غزہ پر مسلط کیا گیا نا جائز حصار توڑنے کے لیے دو دفعہ کوشش کر چکی ہے۔ لیکن دونوں دفعہ صہیونی غاصب فوج نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے سے پہلے ہی انہیں گرفتار کر لیا اور امدادی سامان ضبط کر لیا۔ لیکن اس مرتبہ ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ کے نام سے کشتیوں کا ایک قافلہ غزہ کی جانب رواں دواں ہے جس میں ۴۵ ممالک سے سینکڑوں سماجی کارکن اور غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کو روکنے اور غزہ کے لوگوں تک امداد، غذا، ادویات اور بےبی فارمولا پہنچانے اور ناجائز اسرائیلی محاصرہ تورنے کے لیے نکلے ہیں۔ یہ تمام لوگ اسی لیے نکلے کیونکہ ان کی حکومتین بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہیں، لیکن ان کے ضمیر نے یہ نہ گوارا کیا کہ غزہ تباہ ہوتا رہے اور دنیا والے تماشہ دیکھتے رہیں۔
بھوک اور قحط کے بد ترین دنوں میں جبکہ عالمی طاقتیں بھی دشمن کے ساتھ کھڑی ہیں اور امت پر مسلط حکمرانوں نے بھی آنکھیں پھیر رکھی ہیں، جیسا کہ شیر امت ابو عبیدہ نے اپنی تقریر میں کہا:
’’کیا ایک عظیم اور شاندار امت غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کے لیےخوراک، دوا اور پانی نہیں پہنچا سکتی؟ کیا تم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کی حمایت نہیں کر سکتے؟ تمہاری خاموشی ہمارے خون کی ذمہ دار ہے اور تم قیامت کے دن جواب دہ ہوگے۔ اے امت مسلمہ اب وقت آ گیا ہے کہ تم حرکت میں آؤ، محاصرہ توڑو اور فلسطین کی آزادی کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔‘‘
محاصرہ توڑنے کے مشن سے نکلے اس قافلے سے جہاں غزہ کے مکینوں کو بہت امیدیں وابسطہ ہیں وہیں فلسطینیوں کا درد رکھنے والے ہر شخص کی نظریں اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اسی موضوع پر ذیل میں چند کالموں سے اقتباس نکال کر پیش کیے گئے ہیں:
قافلۂ عزم وہمّت سلامت رہے | ذوالفقار احمد چیمہ
’’پاکستانی قوم بھی دوسروں کی طرح بلکہ کچھ زیادہ ہی بے حسی کا شکار رہی ہے۔ ان حالات میں مظلومینِ غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے اور ان کے لیے خوراک اور ادویات لے کر جانے والا عالمی صمود فلوٹیلا (صمود کا مطلب استقامت ہے اور فلوٹیلا کشتیوں کے قافلے کو کہتے ہیں) جو ستّر کشتیوں پر مشتمل ہے، موسمی خطرات اور اسرائیلی حملوں سے بے پرواہ ہو کر غزہ کی جانب رواں دواں ہے۔ بلاشبہ یہ کاروانِ عزم وہمّت امید اور حوصلے کا وہ چراغ ہے جس کی کرنیں پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ بے حسی اور مفاد پرستی کے اس دور میں بھی انسانیّت زندہ ہے۔
اس کاروانِ استقلال میں 45 ملکوں کے افراد شامل ہیں جو زیادہ تر غیر مسلم ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت سابق سینیٹر مشتاق احمد صاحب کررہے ہیں جو بلاشبہ پوری قوم کی تحسین اور دعاؤں کے مستحق ہیں۔ یہ قافلۂ عزم و استقلال غزہ کا محاصرہ توڑ کر مظلومین تک پہنچنے کی کوشش کرے گا تاکہ انہیں خوراک اور ادویات پہنچا سکے۔ ایسے قافلے تب سمندر میں اترتے ہیں جب حکمران بے حس ہوں اور اپنی ذمے داریوں سے غافل ہوجائیں۔ یہ معلوم نہیں کہ انسانیت کے بے لوث خیر خواہوں کا یہ قافلہ منزل تک پہنچ پاتا ہے یا نہیں (یہ بھی خبر ہے کہ قیادت کرنے والی کشتی پر اسرائیل نے ڈرون سے حملہ کیا ہے) مگر اس نے دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر پر دستک ضرور دی ہے اور گہری بے حسی کے اندھیروں میں انسانی ہمدردی کا چراغ روشن کردیا ہے۔
اس فلوٹیلا نے ایسی اذان بلند کی ہے جس نے دنیا کے بڑے بڑے ایوانوں کے درودیوار ہلادیے ہیں۔ دنیا بھر میں رنگ، نسل، علاقے اور مذہب سے بالاتر ہو کر گلوبل صمود فلوٹیلا کی سلامتی اور کامیابی کی دعائیں کی جارہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فرض ہے کہ انسانیت کے ناطے اس قافلے کی سکیوریٹی کو یقینی بنائے اور انھیں بھوک اور بیماری سے مرتے ہوئے انسانوں تک پہنچنے میں مدد کرے تاکہ وہ روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کے منتظر انسانوں تک خوراک اور دوائیں پہنچا سکیں۔‘‘
[روزنامہ ایکسپریس]
صمود فلوٹیلا: غزہ کے لیے سفرِ حیات و ممات | میر بابر مشتاق
’’اٹلی کی بندرگاہی مزدور یونین (USB) اور یورپ کی دیگر یونینز نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ اگر ہمارے جہازوں کو روکا گیا یا ان سے رابطہ منقطع ہوا تو پورے یورپ کی بندرگاہیں بند کر دی جائیں گی۔ ایک کیل بھی اسرائیل نہیں جائے گا!۔ یہ اعلان بتاتا ہے کہ یورپی مزدور طبقہ بھی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
یہ قافلہ صرف جذبات پر نہیں نکلا۔ تیونس میں شرکاء کو کئی دن خصوصی تربیت دی گئی۔ انہیں موسم کی شدت، کشتی ڈوبنے کی صورت، اسرائیلی حملے کی کیفیت، گرفتاری کی صورت میں رویے اور قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا گیا۔ حتیٰ کہ یہ ہدایت دی گئی کہ کوئی ایسا کاغذ نہ سائن کریں جو اپنی زبان میں نہ ہو، کیونکہ اسرائیل اسے بطور اعتراف استعمال کر سکتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ یہ تحریک باشعور، بامقصد اور منظم ہے۔ ہمارے لیے باعث ِ فخر ہے کہ اس قافلے میں پاکستان کی نمائندگی بھی موجود ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ بطورِ ریاست پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ جس ملک کی بنیاد ’’لا الہ الا اللہ‘‘ پر رکھی گئی، اس کی حکومتیں فلسطین کے لیے عملی اقدام سے قاصر کیوں ہیں؟ اگر غیر مسلم اپنی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں تو امت ِ مسلمہ کی حکومتیں کیوں خاموش ہیں؟ یہ لمحہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم صرف بحثوں اور سوشل میڈیا پر نعرے بازی کے لیے زندہ ہیں یا عملی قدم اٹھانے کے لیے بھی تیار ہیں۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:
’’تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے جنگ نہیں کرتے؟‘‘ (النساء: 75)
یہ آیت آج بھی ہم سے سوال کرتی ہے: تم کیوں خاموش ہو؟ اگر غیر مسلم اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہیں تو تمہارا ایمان تمہیں کیا سکھاتا ہے؟ صمود فلوٹیلا محض کشتیوں کا قافلہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی کچھ چراغ جلتے رہتے ہیں۔ چاہے یہ قافلہ غزہ پہنچے یا نہ پہنچے، چاہے اسے روکا جائے یا شہادت کا نشان بنے، اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے، اور فلسطین کی داستان مزاحمت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ قافلہ دنیا کو یاد دلا رہا ہے کہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل انسانیت ہے۔ اور یہ اعلان ہے کہ فلسطین کی مزاحمت ایک دن ضرور فتح میں بدلے گی۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
اسرائیل مغربی کنارہ ہڑپ کر رہا ہے! |
دو سال سے مغربی کنارےمیں غیر قانونی آباد کاروں کی جانب سے قابض صہیونی فوج کی سرپرستی میں زبردستی فلسطینیوں کی املاک اور زمینوں سے انہیں بے دخل کر کے ان پر قبضہ کرنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ دوسری طرف ان دو سالوں میں بالخصوص مغربی کنارے پر آباد فلسطنیوں کے کیمپ جنین اور طولکرم سے بھی ۴۰ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو نہ صرف بے دخل کر دیا گیا بلکہ وہاں سے مجاہدین کی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن اب تک چل رہے ہیں اور انہی آپریشنز کی آڑ میں وہاں کاانفراسٹرکچر بھی بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
اور اس وقت وہاں کی اہم پیش رفت صہیونی غنڈے نیتن یاہو کی طرف سے ناجائز اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری کے منصوبے پر دستخط ہیں ۔ یہ منصوبہ ای ون (E-1A) کہلاتا ہے۔ یہ منصوبہ 90ء کی دہائی میں پیش کیا گیا لیکن بین الاقوامی مخالفت کی وجہ سے روبہ عمل نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ سابق امریکی صدر بائیڈن نے بھی اس منصوبے کا لاگو کرنے کی مخالفت کی۔ لیکن ٹرمپ نے چونکہ اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے لہذا ۱۱ ستمبر کو نیتن یاہو نے اس منصوبے پر دستخط کرکے اعلانیہ کہا:
’’ہم اپنا وعدہ پورا کرنے جا رہے ہیں کہ کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہو گی۔ یہ جگہ ہماری ہے۔‘‘
“We are going to fulfil our promise that there will be no Palestinian state. This place belongs to us.”
جبکہ شدت پسند صہیونی وزیر سموٹرخ نے کہا:
’’یہ حقیقت بالاخر فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کر دیتی ہے، کیونکہ تو تسلیم کرنے کے لیے کچھ ہے اور نہ ہی کوئی تسلیم کرنے والا ہے۔‘‘
“This reality finally buries the idea of a Palestinian state because there is nothing to recognize and no one to recognizeـ“.
E-1 منصوبہ کیا ہے؟
E-1 یا ایسٹ ون منصوبہ فلسطینیوں کی سرزمین ہتھیا کر ایک ایسی غیر قانونی صہیونی بستی تعمیر کرنے کا منصوبہ جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو ہی ناممکن بنا دے گی ۔ یہ غیر قانونی بستی مغربی کنارہ کو شمال اور جنوب کے دو حصوں میں بانٹ دے گی اور مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی علاقوں سے کاٹ کر یہودی بستیوں سے جوڑ دے گی اور مشرقی بیت المقدس سے مغربی کنارے کو الگ کر کے علاقائی تسلسل توڑ دے گی۔ یہ منصوبہ رام اللہ، بیت المقدس اوربیت لحم کو ملانے والی زمین کے آخری باقی ماندہ حصے کوبھی خطرے میں ڈالتا ہے، جہاں تقریبا دس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔
۱۲ مربع کلومیٹر پر محیط یہ منصوبہ ایک ایسی ناجائز اور غیر قانونی بستی ہوگی جوایک طرف پہلے سے موجود غیر قانونی بستی ’معالے ادومیم‘1 معالے ادومیم ۵۸ مربع کلومیٹر پر پھیلی صہیونیوں کی غیر قانونی و ناجائز بستی ہے جو مشرقی بیت المقدس کے نزدیک ہے اور وہاں۴۷،۵۰۰ سے زیادہ صہیونی آبادکار رہتے ہیں۔ Ma’ale Adumim سے جا کر جڑتی ہے دوسری طرف مشرقی بیت المقدس سے۔ اس منصوبے کی تحت تین ہزار چار سو نئے گھر وں کی تعمیر شامل ہے۔ یہ علاقہ فلسطینیوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے جوڑتا ہے۔ نئی غیر قانونی یہودی بستیاں بننے کے بعد یہ مشرقی بیت المقدس کو مغربی کنارے سے الگ کر دے گا ۔جبکہ خود مغربی کنارے کو شمال اور جنوب کے دو حصوں میں تقسیم کردے گا۔
اس طرح ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ، جس کا اقوام متحدہ اور فلسطینی اتھارٹی مطالبہ کر رہے ہیں، نہ صرف نا ممکن ہو جائے گا بلکہ اس طرح فلسطینیوں کی آبادیوں کو ٹکڑیوں میں بانٹ کر ان کی نقل و حرکت اور آمد و رفت کو بھی مزید کنٹرول کیا جا سکے گا۔
یوں تو ابھی بھی فلسطینیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے سینکڑوں چیک پوسٹوں اور تذلیل آمیز رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اس طرح اہم اور بنیادی گزرگاہوں کو صرف صہیونیوں کے لیے مخصوص کر دیا جائے گا اور باڑ اور دیوار بنا کر فلسطینیوں کو ان کے اپنے ہی علاقے میں قید کر دیا جائے گا۔ اسی لیے تمام متشدد صہیونی خوشیاں منا رہے ہیں کہ یہ منصوبہ ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے قیام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
صہیونی جس بے شرمی اور غنڈہ گردی سے فلسطینی زمین اور املاک پر قبضہ کر رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی،اور مسلمان ممالک صرف زبانی بیان بازی اور قراردادیں منظور کرنے سے آگے نہیں نکل رہیں۔ وسعت اللہ خان اس موضوع پر رقمطراز ہیں:
قانوناً حرام بستیوں کو حلال کرنے کا راستہ | وسعت اللہ خان
’’ بی بی سی کے ایک سینیر ایڈیٹر جیرمی بووین صحافتی زندگی کا بیشتر حصہ مشرقِ وسطی میں گزار چکے ہیں۔انہوں نے حال ہی میں آنکھوں دیکھی (عینی شہادت) کے لیے مقبوضہ علاقے میں چند دن گزارے اور آبادکاروں سے ملاقات کی۔ جیرمی کے مطابق مغربی کنارے پر ایک مسلح جتھے ’ہل ٹاپ یوتھ‘ کے سرخیل مائر سمچا کے بقول:
’ کل ( یعنی اکتوبر 2023ء ) سے آج تک حالات بہت بدل گئے ہیں۔ اب ہم اس خوف کے بغیر پورے علاقے میں جب اور جہاں چاہیں گھوم سکتے ہیں کہ کوئی ہم پر حملہ کر دے گا۔ اگرچہ دوسری جانب ( فلسطینی) تھوڑی بہت مزاحمت ضرور ہے مگر دشمن آہستہ آہستہ سمجھ چکا ہے کہ اب اس کا یہاں کوئی مستقبل نہیں۔ چنانچہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ دنیا اس چھوٹے سے گروہ (فلسطینی) کے درد میں اب تک کیوں مبتلا ہے۔‘
……اس وقت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سات لاکھ آبادکار ہیں۔1967ء سے 91ء تک جتنی یہودی بستیاں اس زمین پر تعمیر کی گئیں ان سے دوگنی گزشتہ چونتیس برس میں ابھر آئی ہیں۔ اس پورے خطے کی شکل تیزی سے بدل رہی ہے۔ فلسطینیوں کی زمینوں میں سے دورویہ باڑھ والی سڑکیں گزار کے انہیں ایک دوسرے سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔کئی آبادکار بستیاں قصبوں کا روپ دھار چکی ہیں۔
ان بستیوں کی تعمیر یا فلسطینیوں کی املاک بلڈوز کرنے کے کام سے پیدا ہونے والا ملبہ فلسطینیوں کی بچھی کھچی زمینوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔ زمین کا مالک خصوصی اجازت نامے کے بغیر اپنے ہی کھیت میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ اکثر یہ اجازت نامہ سال میں ایک بار تب جاری ہوتا ہے جب بوائی یا کٹائی کا موسم گزر جائے۔ بڑی بڑی شاہراہوں کے اطراف جو باغات یا کھیت ہیں ان میں فلسطینی کسانوں کو سکیورٹی خدشات کے سبب داخلے کی قطعاً اجازت نہیں۔
گزشتہ ہفتے میں رملہ کے قریب المغیر گاؤں کی ملکیت زیتون کے تین ہزار درخت اسرائیلی فوج نے یہ کہہ کر کاٹ دیے کہ ان درختوں کی آڑ لے کر سامنے کی یہودی بستی پر حملہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج اور پولیس کے سائے میں مسلح یہودی آبادکار جس بستی، قصبے، کھیت اور باغ میں جب چاہیں گھس سکتے ہیں، سامان اور فصل لوٹ سکتے ہیں اور آگ بھی لگا سکتے ہیں۔ کسی فلسطینی کسان کو قتل کر دیں تو گرفتاری کے بعد ہفتے بھر میں ضمانت ہو جاتی ہے۔ تاہم کوئی فلسطینی پتھر اٹھالے تو اسے خصوصی قانون کے تحت چھ ماہ بنا فردِ جرم جیل میں رکھا جا سکتا ہے اور چھ ماہ کی اس مدت میں عدالتیں توسیع کا بھی اختیار رکھتی ہیں۔ یعنی قانون کے انجیر پتے ( فگ لیف) کی آڑ میں کوئی بھی فلسطینی بچہ، مرد، عورت، ضعیف غیر معینہ مدت تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔‘‘
[روزنامہ ایکسپریس]
اسرائیل کا قطر کی سرزمین پر حماس کے رہنماؤں پر حملہ |
یہ حملہ دراصل حماس کی قیادت کو نشانہ بنا کر ختم کرنے کے لیے تھا۔ لیکن قطر جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور امریکہ کا ایک بہت قریبی اور اہم اتحادی ہے، براہ راست اس کے دار الحکومت میں حملے نے قطر اور خطے کے تمام ملکوں کے ایک دفعہ ہوش اڑا دیے۔
اس حملے میں جہاں خطے کے ان تمام ممالک کا زعم ٹوٹا کہ امریکہ کی پناہ میں ہوتے ہوئے انہیں اسرائیل نشانہ بنانے کی جرات نہیں کرے گا، وہیں اس نکتہ کو بھی تقویت ملی کہ صرف فلسطین ہی نہیں بلکہ اسرائیل کے شر سے خطے کا کوئی ملک بھی محفوظ نہیں اور اسرائیل اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کہیں بھی اور کسی پر بھی حملہ کر سکتا ہے اور اسے اس متعلق امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔
یوں تو امریکہ نے قطر کو یقین دہانی کروائی ہے کہ دوبارہ ان کی سرزمین پر حملہ نہیں ہوگا۔ لیکن قطر نے اسلامی کانفریس کی تنظیم (OIC) اور عرب لیگ کے ممالک پر مشتمل ایک ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب یہ ممالک مل کر کس حد تک اسرائیل کے خلاف جا سکتے ہیں۔ حالانکہ انہیں بہت اچھا موقع ملا ہے اسرائیل کو سخت جوابی حملے کا کہ جس سے اس کے عزائم کو لگام ڈالی جا سکے۔ لیکن اب تک کے حالات یہی بتاتے ہیں کہ سوائے زبانی کلامی تنقید و مخالفت کے اس اجلاس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ موضوع صحافیوں میں بھی زیر بحث ہے۔ چند اقتباس ملاحظہ کریں:
قطر پر اسرائیلی حملہ | قاسم جلال
’’قطر پر حملے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ امریکہ ناقابل اعتبار ہے۔ امت مسلمہ کے حکمرانوں میں معمولی شرم غیرت اور حمیت باقی ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اس جارحیت پر خاموش نہ رہیں اور عالمی غنڈے کو اچھی طرح سے سبق سیکھایا جائے۔ ورنہ ان سب کا حشر اور انجام قطر سے مختلف نہیں ہوگا۔ غزہ کے مظلوم بچوں خواتین اور ہزاروں شہداء کی بددعائیں انہیں نشان عبرت بنا دیں گی۔‘‘
[روزنامہ جسارت]
With the Doha strike, Netanyahu has declared war on the world | Belén Fernández
’’اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے دریں اثنا قطر کو واضح طور پر دھمکی دی ہے، یہ اشارہ دیتے ہوئے کہ یہ آخری بار نہیں ہو گا کہ یہ امارت اسرائیلی میزائلوں کا سامنا کرے گی:
’میں قطر اور تمام ان ملکوں سے کہتا ہوں جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں، تم یا تو انہیں نکال دو یا انہیں انصاف کے کٹہرے میں لاؤ، کیونکہ اگر تم نے ایسا نہیں کیا، تو ہم کریں گے۔‘
ہمیشہ کی طرح، اس وقت علاقائی دہشت گردی پر اجارہ داری رکھنے والے ملک نے، اس کے علاوہ تقریباً آٹھ دہائیوں سے فلسطینیوں کی نسل کشی، بے دخلی اور قتلِ عام سے قطع نظر، اپنی مرضی سے یہ فیصلہ لینے کی آزادی حاصل کی ہے کہ ’دہشت گردوں‘ کا کردار کس کو تفویض کیا جائے اور پھر حملہ کیا جائے۔
اسرائیل کی طرف سے ’دہشت گردی‘ کی بالکل جھوٹی تعریف کو مد نظر رکھتے ہوئے، صرف قطر ہی کو فکر مند نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ نیتن یاہو نے خود کہا، ’ تمام وہ ممالک جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں‘، اسرائیل کے ’انصاف‘ کے ورژن کے اہل ہیں، جو بالآخر جنگی جرائم اور عالمی قوانین کی بے تحاشہ خلاف ورزیوں پر منتج ہوتا ہے۔
…… اب یہ کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اسرائیل کے ’لمبے ہاتھ‘ سے کون محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن امکانات بہت کم ہیں۔ کئی دہائیاں قبل، اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے یورپی سرزمین میں پوری سہولت کے ساتھ فلسطینیوں کو قتل کرنے کامظاہرہ کیا تھا، اور اب جبکہ غزہ میں نسل کشی جاری ہے، جتنا زیادہ ’دہشت گردوں‘ کو بیرون ملک تلاش کیا جا سکے، اتنا ہی اسرائیل کے لیے اس کی خون آلود کارروائیوں سے توجہ ہٹانے اور انہیں جائز قرار دینے کے لیے بہتر ہے۔
اسرائیل فی الحال جو مکمل استثنیٰ اسے حاصل ہے، اور جو وہ اپنی مرضی سے تباہی مچانے کی اپنی صلاحیت پر فخر کر سکتا ہے۔ لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس ’لمبے ہاتھ‘ کے پاس اور کون سے شیطانی حربے باقی ہیں۔ نیتن یاہو کی دنیا کے خلاف جنگ کے اس مؤثر اعلان کو کم از کم ان لوگوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے جو ابھی بھی اسرائیلی ’انصاف‘ کے مہلک تضاد سے متاثر ہیں۔‘‘
[Al Jazeera English]
موجودہ حالات میں جبکہ ظلم و بربریت ہر طرف نظر آتی ہے، فلسطین خصوصاً غزہ میں جس قدر تکلیف دہ حالات ہیں، پھر جب ظلم کے اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی کرن بھی نظر نہ آئے تو دل بیٹھنے لگتا ہے اور مایوسی سی ہونے لگتی ہے اور احساس جرم بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایسے میں اللہ کی مدد و نصرت کی ایک جھلک بھی ایمان کو تقویت دینے کے لیے اور عمل پر ابھارنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور اللہ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
انہیں تکلیف دہ خبروں کے دوران یہ خبر بھی نظر سے گزری کہ دشمن کی صفوں میں کس قدر مایوسی، خوف اور بزدلی پھیل رہی ہے کہ ڈھائی سو سے زائد ریزرو فوجیوں نےنیتن یاہو کی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ یہ اس قدر بزدل فوج ہے کہ صرف نہتے بچوں اور عورتوں پر گولیاں برسا سکتے ہیں، قیدیوں پر ہر طرح کا تشدد روا رکھ سکتے ہیں لیکن بے سر و سامان نہتے مجاہدین کا سامنا نہیں کر سکتے۔
اسرائیلی وزارت دفاع نے حالیہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق اب تک بیس ہزار سے زائد فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں:
- ۵۶ فیصد کو PTSD یا دیگر ذہنی امراض لاحق ہوئے،
- ۴۵ فیصد فوجیوں کو جسمانی زخم لگے ہیں جبکہ ۲۰ فیصد فوجی جسمانی زخم اور ذہنی امراض، دونوں حالتوں سے نبرد آزما ہیں،
- کم از کم ۹۹ فوجیوں کو اعضاء کاٹنے کے بعد مصنوعی اعضاء کی ضرورت پڑی اور ۱۶ فوجی مفلوج ہوئے
- ان میں سے چھپن فوجی کو جزوی معزور ، جبکہ ۲۴ کو مکمل معزور قرار دیا گیاہے۔
- ان بیس ہزار کیسز میں۶۴ فیصد ریزرو فوجی تھے، اور ہر ماہ تقریبا ایک ہزار (۱۰۰۰) نئے ذخمی فوجیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔
- اب تک ۶،۲۳۶ (چھ ہزار دو سو چھتیس) فوجی جہنم واصل ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار خود صہیونی حکومت کے جاری کردہ ہیں اور ظاہر ہے انتہا درجے کم کر کے دکھائے گئے ہیں۔ ذرا اندازہ کریں کہ یہ اعدادوشمار حقیقت میں کتنے ہوں گے۔ مزید براں صہیونی فوجیوں میں خودکشی کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
لہٰذا اللہ کی مدد تو فلسطینیوں کے شامل حال ہے۔ البتہ ہم جو دین و جہاد کے علمبردار ہیں ہمیں اور باقی امت مسلمہ کو اللہ کے حضور اپنی جوابدہی کی فکر کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس لشکر میں شامل کرلے جو قبلۂ اول کی حفاظت اور فلسطینیوں کو آزادی دلائے۔ (آمین)
وإنه لجهاد نصر أو استشهاد
٭٭٭٭٭
- 1معالے ادومیم ۵۸ مربع کلومیٹر پر پھیلی صہیونیوں کی غیر قانونی و ناجائز بستی ہے جو مشرقی بیت المقدس کے نزدیک ہے اور وہاں۴۷،۵۰۰ سے زیادہ صہیونی آبادکار رہتے ہیں۔












