نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home عالمی منظر نامہ

خیالات کا ماہنامچہ | نومبر و دسمبر ۲۰۲۰ء

ذہن میں گزرنے والے چند خیالات:نومبر و دسمبر ۲۰۲۰ء

by معین الدین شامی
in عالمی منظر نامہ, نومبر و دسمبر 2020
0

اللہ کا نہایت فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا، بہترین امت یعنی امتِ محمد علیٰ صاحبہا الف صلاۃ و سلام کا جزو بنایا اور محض اپنی عنایت سے راہِ جہاد کا مسافر بنایا۔ اے اللہ ہم تجھ سے تیرے ہی قرآن میں سکھائی دعا مانگتے ہیں:

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْراً وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ!

بابری مسجد: کل، آج اور کل!


بابری مسجد کو میر باقی تاشقندی نے مسلمان شہنشاہ ظہیر الدین محمد بابرؒ کے حکم پر تعمیر کیا تھا ۔ وہ شہنشاہانِ وقت جن کے در پر بادشاہ سلامی پیش کرتے تھے،وہ اس مسجد میں جبینیں خاک آلود کرتے تھے۔ بڑے بڑے ولیوں نے اس میں اللہ سے لو لگائی۔ علما و طلبا اس میں بستے تھے۔ اللہ کا قرآن اس میں تلاوت ہوتا، حدیث شریف کی محفلیں سجتیں۔ مجاہدین اس کی بیرونی دیواروں کے ساتھ اپنے گھوڑے ٹھہراتے، زرہیں سینے پر سجائے اور پگڑیاں اور آہنی خود پہنے، تلواریں سامنے رکھ کر اللہ کے سامنے قیام و سجود کرتے۔ صدیوں یہ سلسلہ جاری رہا۔

پھر وقتِ زوال آیا، مسلمان کمزور ہو گئے۔ گائے کے پجاری اور پیشاب خوروں، ناپاک ہندوؤں نے اس مسجد پر ہلہ بولا۔ یہ مسجد شہید کر دی گئی۔ قریباً تیس سال یہ کھنڈر رہی، ملبے کا ڈھیر بنی رہی۔ پھر خسیس مخلوقات اور اسفل اعضا کے پجاری ہندوؤں نے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کر دیا۔ آج اس مسجد کی جگہ رام مندر کھڑا ہے۔

ایک ماضی تھا اور ایک حال ہے۔ مستقبل کا وعدہ لیکن مخبرِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’تمہارا ایک گروہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا اور وہاں کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائے گا‘۔ اسی وعدے میں رام مندر کی تباہی اور بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ بھی پنہاں ہے۔ جیسے کل عمرِ زمان امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہدؒ کے حکم پر بامیان میں بدھا کے بتوں کو اڑاتے ہوئے ولیٔ کامل شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒنے یہ آیت تلاوت کی تھی، اسی طرح پھر اس آیت کی تلاوت کر کے رام وام سب کے بتوں کی چتا کو جلا کر گنگا میں بہایا جائے گا:

لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفاً؀ (سورۃ طہ: ۹۷)

’’ اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے۔ ‘‘

رام مندر کی خاک اڑائی جائے گی اور مسجدِ بابری پہلے سے کہیں زیادہ شان سے تعمیر کی جائے گی۔ وقت کے اولیا و علما اور مجاہدینِ غزوۂ ہند اس کی خاک پر پھر جبینیں ٹیکیں گے۔ وقت کے خلیفۃ المسلمین امیر المومنین کا خطبہ اس کے منبر و محراب سے گونجے گا۔

ظاہر میں آج رام مندر مسجد کی بابرکت زمین پر کھڑا ہے، لیکن مسجدِ بابری کی تعمیرِ نو کہیں قندھار و غزنی ، اسلام آباد و لاہور اور سری نگر و مظفر آباد میں شروع ہو چکی ہے۔ اہلِ ایمان خوشیاں منائیں کہ مستقبل حال کی تلخیاں بھلوا دے گا اور ماضی سے زیادہ حسین و تابناک ہو گا۔ اللہ ہمیں بھی اس مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھو کر لانے والوں میں شامل کر لے، إنّہٗ علی کل شیئ قدیر!

فرانس تا برِّ صغیر: صلیب و ہلال کی جنگ اور اہلِ اسلام کے لیے لمحۂ فکریہ


صلیبی فرانس اسلام کے خلاف پچھلے ایک ہزار برس سے زیادہ سے فکری و عسکری جنگ کا ایک اہم جزو ہے۔پچھلے چند ماہ میں فرانس میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات صلیب و ہلال کی جنگ کی کھلی صورت ہیں۔

  • چارلی ہیبڈو (شارلی ایبڈو) اس صلیبی جنگ میں فرانس کا فکری و اعلامی ترجمان ہے۔ کلاب و خنازیر سے اسفل مخلوق کی ’زیرِ ادارت‘ چلنے والا یہ میگزین ایک زمانے سے اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیوں کے پلید سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس خسیس مخلوق کو دو عاشقانِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیرس میں ان کے دفتر میں داخل ہو کر اپنی کلاشنکوفوں سے جہنم واصل کیا، تب ان گستاخوں کی زبانوں کو کچھ لگام ڈلی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ رذیل مخلوق پھر سر اٹھانے لگی اور ان کے سر اٹھانے کی واضح وجہ ان کو حاصل صلیبی فرانس کی سرکاری سرپرستی تھی جو آج کھل کر ظاہر ہو چکی ہے۔

  • قریباً تین ماہ قبل چارلی ہیبڈو کے سابقہ دفتر کے قریب کسی عاشقِ رسالت نے دو صلیبیوں کو گھائل کیا۔

  • پھر دو ماہ قبل ایک نوجوان نے گستاخ استاد کا گستاخیٔ رسول کے جرم میں سر قلم کیا اور اس کے بعد فرانسیسی صدر نے آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کو ترویج دینے کا اعلان کیا۔ اس گستاخِ رسول کے قتل کو فرانسیسی اقدار پر ’اسلام کا حملہ‘ قرار دیا گیا، جس پر ساری دنیا، خصوصاً مسلم دنیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا اور اس ہنگامے کے دو جزو ہیں جن پر اگلی سطور میں بات موجود ہے۔

  • قریباً ایک ماہ قبل فرانسیسی صدر نے ، بلکہ پوری فرانسیسی پارلیمان نے یہ قانون منظور کیا کہ مسلمانوں کے بچوں کو شناختی نمبر دیے جائیں گے (یہ قانون گو کہ تمام بچوں کے لیے ہے لیکن اس کا مقصود مسلمانوں ہی کی سرکوبی ہے) جن سے جانا جا سکے کہ یہ بچے سکول جا رہے ہیں یا نہیں؛ وہ سکول جہاں فرانسیسی صدر کے مطابق ’آزادیٔ اظہار اور فرانسیسی اقدارکی تعلیم‘ دی جاتی ہے۔

اس صورتِ حال میں چند نقاط پیش ہیں:

  • یہ ایک کھلی صلیبی جنگ ہے۔ اہلِ صلیب فرانس سے پولینڈ تک اور امریکہ سے نیوزی لینڈ تک اس سے خوب واقف ہیں اور اپنی اولادوں اور معاشرے کو اس کے لیے خوب تیار کر رہے ہیں۔ اہلِ اسلام کے لیے مقامِ فکر ہے کہ وہ اس جنگ کو صلیبی جنگ سمجھیں!

  • چارلی ہیبڈو کے دفتر پر جب پہلی بار حملہ ہوا اور اس کی ’ایڈیٹوریل ٹیم‘ کو قتل کیا گیا تو پیرس میں ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا گیا جس میں دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان موجود تھے اور ان سب نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا ’ہم سب چارلی ہیں‘۔ اس مظاہرے میں بعض نام نہاد مسلمان حکمران یا ان کے نمائندے بھی موجود تھے جن میں سرِ فہرست ترک صدر طیب اردگان کا نمائندہ اور فلسطینی صدر محمود عباس شامل ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف نے بھی چارلی ہیبڈو پر ہونے والے حملے کی مذمت کی۔

    • گستاخانِ رسالت کے قتل کی مذمت روئے اسلام سے ایک ’جرمِ عظیم‘ اور ’بغاوتِ خدا و رسولؐ‘ ہے۔ یہ مقتول ملعون گستاخ کوئی ڈھکے چھپے گستاخ نہ تھے کہ کسی قسم کی بحث کی گنجائش پیدا ہو سکے۔

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً؀ (سورۃ الاحزاب: ۵۷)

’’ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ ‘‘

مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلاً؀ (سورۃ الاحزاب: ۶۱)

’’ ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح ان كے ٹكڑے اڑائے جائیں گے۔ ‘‘

    • غالباً مروان بن عبدالملک کے دور میں مدینہ میں ایک بار کسی شخص نے گستاخِ رسول ’کعب بن اشرف یہودی‘ کے قاتل حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کہا کہ کعب بن اشرف کو دھوکے سے قتل کیا گیا تھا تو محمد بن مسلمہؓ جو نہایت بزرگ اور ضعیف ہو چکے تھے نے عبدالملک کو مخاطب کر کے کہا کہ ’یہ شخص یہ بات تیرے سامنے کر رہا ہے، مجھے اگر موقع ملا تو میں اس کو قتل کر دوں گا‘، بعد میں آپ رضی اللہ عنہ کو یہ شخص کہیں اور مل گیا تو آپ نے ضعیف العمری اور کمزوریٔ قویٰ کے باوجود ڈنڈے سے اس کی پٹائی کی اور کہا کہ ’میرے پاس تلوار نہیں ہے ورنہ میں اس پر تلوار سے حملہ کرتا‘۔

    • ہمیں طیب اردگان سے کوئی ذاتی بیر نہیں۔ لیکن آج جس طیب اردگان کی فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد فرانس کے خلاف اقدامات کی دھوم ہے اور جس کی شعلہ بیان تقریریں ہم شیئر کرتے ہیں اور اپنے جس مکے کو وہ ’عثمانی مکا‘ کہتا ہے، ہمیں اس سب کے ساتھ ماضی میں ’ہم سب شارلی ہیں‘ کے مظاہرے میں اس کے نمائندے کی شرکت یاد رکھنی چاہیے، اسرائیل سے اس کی سفارتی و تجارتی دوستی اور اس کے داماد برات البیرق کی ٹرمپ کی یہودی بیٹی ایوانکا اور اس کے یہودی شوہر و ٹرمپ کے داماد کشنر سے دوستی (جو دراصل ترکی–امریکہ کی بیک ڈور ڈپلومیسی کا حصہ ہے؍تھی) بھی یاد رکھنے چاہییں۔ یہ نام کا ’عثمانی مکا‘ ہے کہ اصل عثمانی مکا تو خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانیؒ کا تھا جنہوں نے اس مکے کو یہودیوں کے منہ پر جَڑا تھا۔

  • ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اہلِ اسلام میں سے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد ’حقیقتاً‘ بیدار ہے ، یہ نوجوان مجاہدین صلیبی لشکر کے خلاف اسلام کے مجاہد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے عاشق و جانثار ہیں، اس کے بعض نظائر چارلی ہیبڈو کے دفتر کے باہر صلیبیوں پر حملے اور گستاخ سکول ٹیچر کا سر اتارنے کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں، وللہ الحمد!

  • اہلِ اسلام خاص کر یورپ و امریکہ میں بستے اہلِ اسلام اور ان میں بھی خاص کر فرانس میں بستے مسلمانوں کو یہ بات اب اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ:

وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلاَ النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ…… (سورة البقرة: ۱۲۰)

’’ اور یہود و نصاریٰ تم سے اس وقت تک ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرو گے۔ ‘‘

  • فرانس میں جاری موجودہ صورتِ حال ویسی ہی ہے جو قریباً چھ صدیاں قبل سپین میں پیدا ہوئی تھی۔ گو کہ سپین میں مسلمان حاکم تھے اور حاکم سے غلام بنے تھے۔ لیکن جس طرح مذہبی عدالتوں نے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا تھا اور مسلمانوں کا دین، خاص کر ان کے بچوں کا دین زبردستی بدلا گیا تھا، آج کا فرانس سپین کی اسی تاریخ کو دہرانے کی راہ پر سبک رفتاری کے ساتھ گامزن ہے۔ فرانس میں ہمارے بچوں کو شناختی نمبروں سے پہچاننے کا عمل ان کو عملاً مرتد بنانے کی طرف پیش قدمی ہے۔ اس سب عمل میں فرانس یہ اقدامات اٹھانے والا اگر پہلا ملک ہے تو باقی مغرب: آسٹریلیا تا نیوزی لینڈ اور یورپ تا امریکہ تمام ہی اس کی تقلید کریں گے اور ٹرمپ جیسے ’مذہبی جنونی‘ تو پہلے ہی یہ سب کر نے کی کوشش کر چکے ہیں۔ برطانیہ کا بھی چہرہ ماڈرن نہیں ہے بلکہ وہاں بورس جانسن جیسا ’برطانوی ٹرمپ‘ براجمان ہے۔

  • یہ تو مغرب میں بستے اہلِ صلیب کی بات تھی، مشارق الارض میں دیکھیں تو چینی اژدہا مسلمانوں کو نگلنے کے ليے تیار ہے بلکہ مشرقی ترکستان (سنکیانگ) کے مسلمانوں کو یا تو مرتد بنا چکا ہے یا ان کو نگل چکا ہے۔ جبکہ ہندوستان میں دیکھیے تو ہندو مذہب کا سیاسی پیشوا ’مودی‘ آج مذہبی پیشوا بھی بنتا جا رہا ہے، ہندو پنڈتوں کی طرح اس کی لمبی داڑھی اور لمبے بال اور مسلم کش اقدامات یہ سب اہلِ اسلام کے خلاف جنگ کی عملی صورتیں ہیں۔

الله پاک اہلِ اسلام کو بھی تاریخ کے اس نازک موقع پر فہمِ سلیم عطا فرمائیں جو اس جنگ میں اہلِ اسلام کے غلبے پر منتج ہو، آمین!

’جمہوریت ‘جو دنیا پر قابض ہے


حقیقی بات وہی ہے جو اقبالؒ نے کہی تھی کہ ’ہم نے خودشاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس‘، لیکن پھر بھی جو لوگ ’جمہوریت ‘پر ’یقین‘ رکھتے ہیں ان کے لیے یہ خیال عرض ہے۔جو اعداد و شمار راقم کو میسر ہیں تو ان کے مطابق امریکہ کی آبادی تقریباً ساڑھے بتیس کروڑ ہے[بہر کیف اعداد و شمار بالکل حتمی (actual) ہوں یا نہ ہوں راقم کا نقطہ سمجھنے کے لیے یہ بات ان شاء اللہ کفایت کرے گی]۔ اس آبادی میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً پچیس کروڑ ہے۔ اس سال ٹرمپ–بائیڈن کے درمیان جو مقابلہ ہوا تو اس میں ٹرن آؤٹ یا ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے سولہ کروڑ رہی [چھیاسٹھ(۶۶) فیصد]۔ ان میں ٹرمپ کو اکتالیس (۴۱)فیصد اور بائیڈن کو انسٹھ (۵۹) فیصد ووٹ ملے یعنی تقریباً نو کروڑ چھہتر لاکھ لوگ اس بات کے حامی ہیں کہ بائیڈن امریکی صدر بنے۔

اب ذرا غور کیجیے کہ امریکی صدر کون ہوتا ہے؟ یہ دنیا کا بادشاہ ہے جس کی فوجیں، سمندروں میں، خشکیوں میں، ہواؤں میں اور خلا میں بھی موجود ہیں، جس نے دنیا کو سات کمانڈوں میں تقسیم کر رکھا ہے، فرعون کی طرح ابنائے اسلام کو ذبح کرتا ہے، نمرود کی طرح دعوے دار ہے کہ میں جس کو چاہوں زندگی دوں اور جہاں چاہوں اپنے ٹام ہاک میزائلوں اور ڈیزی کٹر بموں سے موت تقسیم کروں، یہ دنیا کے ممالک کے داخلی معاملات بھی دیکھتا ہے اور خارجی بھی، اس کا ڈالر دنیا کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بادشاہ کتنے لوگوں کے ووٹ سے یہ سب کر سکنے کے قابل ہوا ہے؟ تقریباً دس کروڑ لوگوں کی چاہت سے!

یعنی دس کروڑ لوگوں کے ووٹ سے پوری دنیا کی حکمرانی۔

دنیا میں کتنے لوگ ہیں؟

ساڑھے سات ارب !

اور یہ دس کروڑ کتنے فیصد بنتے ہیں؟

ایک فیصد یا اس سے کچھ زیادہ یا کم؟!

ایک فیصد کی رائے اور چاہت دنیا پر حاکم ہے!کیا جمہوریت اسی کو کہتے ہیں؟ ذرا سوچیے……

بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ


امریکہ میں جو بائیڈن اور کمالا1 ہیرس کے جیتتے ہی کچھ دیوانے یہاں وہاں بہکی بہکی حرکتیں کرنے لگے۔

  • پہلی خبر ہے کہ عمران خان نے جو بائیڈن کو مبارک باد دی اور کہا کہ ’مل کر کرپشن کا خاتمہ کریں گے‘۔ یہ وہی عمران خان ہے جس کے لیے ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر میں وائٹ ہاؤس میں رہا تو عمران خان کے لیے اگلی الیکشن مہم چلاؤں گا۔ عمران خان امریکہ گیا تو ٹرمپ کا اتنا خیال رکھا کہ انٹرویو بھی ٹرمپ کے پسندیدہ ٹی وی چینل ’فاکس نیوز‘ کو دیا۔ جیسے ہی جو بائیڈن آیا تو معلوم ہوا کہ گرگٹ تو رنگ بدلنے میں یونہی بدنام ہے، ’ہمارا اور آپ کا تو بچپن کا ساتھ ہے حضور…… مل کر کرپشن کے خلاف لڑیں گے!‘۔

  • پاکستانی ایوانِ بالا کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ’جو بائیڈن کشمیر پر بھی سٹینڈ رکھتے ہیں‘۔ غالباً یہ اس سٹینڈ کی بات کر رہا ہے جو سائیکل یا موٹر سائیکل کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پہلے یہی بائیڈن آٹھ سال امریکی نائب صدر رہا ہے، غالباً تب بھی یہی سٹینڈ تھا؟!

  • کمالا ہیرس کی ماں کا تعلق تھا ہندوستانی ریاست کیرالا سے۔ یہ نائب صدر بنی تو کیرالا کے لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔

اسی سب کو کہتے ہیں بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ!

ملا برادر اخوند و مائیک پومپیو کی تصویر اور خواجہ آصف کا تبصرہ


سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اکثر ہی لوگوں کی نظر سے ملا برادر اخوند اور مائیک پومپیو کی وہ تصویر گزری ہو گی جسے سابقہ پاکستانی وزیرِ دفاع و مسلم لیگ ن کے رہنما ’خواجہ آصف‘ نے شیئر کیا اور ساتھ میں لکھا ’تمہارے پاس طاقت ہے اور ہمارے ساتھ خدا ہے‘۔ یعنی پومپیو کی طرف اشارہ تھا کہ طاقت تمہارے ساتھ ہے اور ملا برادر کی طرف اشارہ تھا کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔

خواجہ آصف اس وقت حکومت میں نہیں ہے، یہ نواز شریف کا ’کارکن‘ بھی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ سے بھی زیادہ خراب نہیں کرتا، ہمیں اس وقت خواجہ آصف سے سروکار بھی نہیں ہے، دراصل اس تبصرے سے سروکار ہے اور یہ تبصرہ ’پالیسی شفٹ‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پالیسی شفٹ آ پ کو مجموعی طور پر ’ریاستِ پاکستان‘ کے رویے میں نظر آئے گی۔ یہی طالبان تھے جنہوں نے ۱۹۹۶ء میں امارتِ اسلامی افغانستان کی بنیاد امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد ؒ کی قیادت میں ڈالی، پاکستان کا مفاد وابستہ تھا سو پاکستان نے اس افغان ’ریاست‘ کو تسلیم کیا۔ پھر پالیسی بدلی اور نائن الیون کے بعد پاکستان نے قلابازی لگائی، امریکی فرنٹ لائن اتحادی بنا اور طالبان کے خلاف جنگ میں آگے آگے ہوا، امارتِ اسلامی افغانستان کے سفیر ملا عبد السلام ضعیف کو برہنہ کر کے امریکی سی آئی اے کے حوالے کیا، استاد یاسر کو گرفتار کیا (اور اطلاعات کے مطابق استاد یاسر پاکستانی آئی ایس آئی کی جیل میں شہید ہو چکے ہیں)، امیر المومنین ملا عمر کے نائب ملا عبید اللہ اخوند کو جیل میں ڈالا اور شہید کیا اور یہی ملا برادر جن کو آج عزت و تکریم دی جارہی ہے آٹھ سال آئی ایس آئی کے عقوبت خانوں میں بند رہے، نیز دسیوں اور امارت کے رہنماؤں کو گرفتار و شہید کیا۔ جبکہ آج پھر پاکستانی دفترِ خارجہ اور فوج کے دفاتر میں ان حضرات کا پرتپاک استقبال ہو رہا ہے کہ پالیسی پھر بدل گئی ہے۔

کل جب امارت کا دورِ اول تھا، جب امارت کا سقوط ہوا اور فرنٹ لائن اتحادی بنا گیا، آج جب امریکہ کو افغانستان میں شکست ہوئی ہے اور پر تپاک استقبال، چشمِ ما روشن دلِ ما شاد کے نعرے لگائے جا رہے ہیں تو ہر ہر موقع پر اللہ ان کے ساتھ تھا اور امریکہ اور اس کے فرنٹ لائن اتحادیوں کے پاس محض ظاہری طاقتِ دنیوی ہی تھی۔

یہ پالیسی شفٹ اللہ کی معرفت یا اللہ کی طاقت کا ادراک نہیں بلکہ قوتِ ظاہری کا ادراک ہے۔ سیرت کی کتابیں بتاتی ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا تو رسولِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے پوچھا کہ ’تمہارا کیا گمان ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟‘ تو قریش نے جواباً کہا ’آپ ایک مہربان و کریم باپ کے مہربان و کریم بیٹے ہیں (ہمارے ساتھ اچھا سلوک ہی کریں گے)‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ نے فرمایا ’ وَإِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ ‘، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً اخلاق کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ تو حضور کو جب قریش مکہ میں زدو کوب کر رہے تھے، آپ کو پتھر مارتے، کوڑا سر پر ڈالتے، کانٹے راہ میں بچھاتے، کمر مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی لاد دیتے، جب احد میں آپ کے دانت مبارک شہید کیے گئے، آپ کے چچا کا شہید کر کے مثلہ کیا اور کلیجہ چبایا گیا ، جب مکہ سے نکلتے ہوئے آپ کی بیٹی کو اونٹ سے گرا کر زخمی کیا گیا اور آپ بعداً شہید ہو گئیں، تو تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’کریم باپ کے کریم بیٹے ہی تھے2‘ لیکن کیا چیز ہے جس نے قریش کو فتحِ مکہ کے بعد یہ بات سمجھائی کہ حضورؐ ’کریم ‘ہیں؟ یہ قوت تھی، تلوار کی قوت۔

سو طالبان کے ساتھ اللہ کی طاقت تب بھی تھی جب یہ پہلی بار اللہ کی رضا سے اقتدار میں آئے، جب ان کی پیٹھ میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے چھرا گھونپا تب بھی اللہ ان کے ساتھ تھا اور آج بھی ہے، بس لاتوں کے بھوتوں کو لاتیں کھانے کے بعد ہی سمجھ میں آتی ہے!

’اندھیری رات کا مسافر‘


’اندھیری رات کا مسافر‘، اردو ادب سے شغف رکھنے والے یا کم از کم ناول پڑھنے کے شوقین لوگوں کے لیے یقیناً یہ عنوان توجہ کا سبب ہو گا۔ یہ عنوان بی بی سی اردو نے ایک ایسے شیر(ٹائیگر؍Tiger) کے بارے میں اپنی شائع کی گئی رپورٹ پر لگایا ہے جس نے ’مادہ کی تلاش میں تین ہزار کلومیٹر کا سفر کیا‘۔ بی بی سی کی پوری رپورٹ میں اس عنوان کی نسبت کوئی مواد نہیں ہے اور نہ ہی یہ عنوان دوبارہ اس رپورٹ میں کسی جگہ درج کیا گیا ہے۔

اس عنوان کی اصل کیا ہے؟ ’اندھیری رات کے مسافر‘ نسیم حجازی کے ایک ناول کا عنوان ہے۔ اس ناول میں نسیم حجازی نے مسلم ہسپانیہ (Spain) کے آخری دور میں ہونے والی کچھ جہادی کوششوں کا ذکر کیا ہے، ناول کے مواد و انداز سے لاکھ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جیسا کہ مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب (حفظہ اللہ)3 نے نسیم حجازی کے متعلق لکھا ہے تو اس اعتبار سے واضح ہے کہ نسیم حجازی نے گو کہ دائیں بائیں کی بہت سی باتیں کی ہیں، بلکہ غیر شرعی امور نسیم حجازی کے ناولوں میں شامل ہیں لیکن ایک چیز بہر کیف غالب ہے اور وہ ہے جہاد کی محبت اور امت میں جہادی بیداری پیدا کرنے کی کوشش، امت کو اس کے تابناک ماضی سے جوڑنے کی سعی۔

ایک ایسے ناول کے عنوان کو جس میں جہاد و شہادت کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے کو ایک ’مادہ جانور کی تلاش میں بھٹکتے درندے‘ کی اسفل حاجت سے جوڑنا، بی بی سی اردو اور اس میں کام کرتے ہرکاروں کی ایک اسفل حرکت ہے جو ان کے اسلام سے بغض و عناد کی ایک بیّن نظیر ہے۔

مارنے والو! کوئی تم کو نہ مر کر مار دے!


اللہ تعالیٰ کے ارشادِ پاک ’ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ‘ کے ذیل میں حضرت مولانا حکیم اختر صاحب (نوّر اللہ مرقدہٗ) فرماتے ہیں:

’’ بندہ جب خدا کی یاد میں لگ جاتا ہے اور اپنی طاقت کی نفی کرکے خدا کے حضور جھک جاتا ہے تو اللہ اس کا نام روشن کردیتا ہے ۔ بڑے سے بڑے جاہ ومال کا مالک مرجاتا ہے اور اس کا نام بھی مٹ جاتا ہے مگر خدا کو یاد کرنے والے ہمیشہ یاد کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جتنے اولیا ہیں سب کا نام روشن ہے اور عزت واحترام کے ساتھ ان کانام لیا جاتا ہے۔ مگر دنیاوی وجاہت کا مالک اس دولت سے محروم ہے۔ ‘‘ (باتیں ان کی یاد رہیں گی، ملفوظاتِ حکیم اختر صاحب، ص ۱۹۷)

تاریخ کی عظیم ترین جنگوں میں سے ایک جنگ اس وقت دنیا بھر میں برپا ہے، اہلِ ایمان اور اہلِ کفر کے مابین جاری اس جنگ میں ، اہلِ ایمان کی جانب سے بہت سے موتی و لعل نچھاور ہوئے ہیں۔ ان کٹنے والوں کو کون نہیں جانتا اور مارنے والوں کو کون جانتا ہے؟

تاریخی ترتیب سے میرے ذہن کے کینوس پر ابھرنے والے چند ناموں کو دیکھیے: ایمل کانسی، احمد یاسین، عبد العزیز رنتیسی، ابو مصعب الزرقاوی، نظام الدین شامزئی، عبد الرشید غازی، ابو اللیث اللیبی، ارشد وحید، ابو عمر بغدادی ، بیت اللہ محسود، مصطفیٰ ابو یزید، اسامہ بن لادن، الیاس کشمیری، عطیۃ اللہ، انور العولقی، بدر منصور، ابو یحییٰ اللیبی، احسن عزیز، سعید الشہری،بدر الدین حقانی، عمران علی صدیقی، ابو دجانہ پاشا، قاری عمران، احمد فاروق، عزام الامریکی، مختار ابو زبیر، ابو بصیر ناصر الوحیشی، ابراہیم الربیش، حارث النظاری،اختر محمد منصور، اسامہ ابراہیم غوری، برہان مظفر وانی،رانا عمیر افضال، ذاکر موسیٰ، ارسلان سنبھلی، قاسم الریمی، محمد حنیف، ابو مصعب عبد الودود…… نا ممکن ہے کہ ان بیان کردہ چند ناموں میں سے کم از کم دو چار کو آپ نہ جانتے ہوں! لیکن کیا کسی ایک کے بھی قاتل کا نام کسی کو معلوم ہے؟

ان ناموں نے اللہ کے لیے مر کر، اپنے نام کو بفضل اللہ ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا ہے اور اپنے مارنے والوں کو ہمیشہ کے لیے مار دیا ہے!

سر کٹ جائے ’جہاں‘ بھی جائے……

بچپن میں، مَیں ایک ترانےپر بہت سر دُھنتا تھا، اصل بول تھے ’سر کٹ جائے، جاں بھی جائے لے کے رہو کشمیر‘…… میں اپنے بچپن کی ادا میں سمجھتا تھا ’سر کٹ جائے ’’جہاں‘‘ بھی جائے……‘، اس سمجھ کے پیچھے میں نے ایک منطق بھی گھڑ رکھی تھی کہ کشمیر ہندوؤں سے حاصل کر کے رہو، چاہے سر کٹ جائے اور پھر وہ کٹ کر ’جہاں ‘بھی جائے اس سے بے پروا ہو کر کشمیر حاصل کرو۔ اللہ اپنے فضل سے یہ درجہ مجھے بوقتِ مرگ عطا کر دے، آمین!

پچھلے چند ماہ میں دنیا بھر میں سجے اہلِ سعادت و شہادت کے محاذوں سے چند جاننے والوں کی شہادتوں کی اطلاعات ملیں۔ معلوم ہوا کہ ایک ڈرون حملے میں شہید ہونے والے آٹھ ساتھیوں میں سے پانچ کے سر نہیں ملے۔ دل ذرا دُکھا پھر بچپن کا ’سمجھا‘ ہوا مصرع یاد آیا۔ سوچا کہ مرنے والوں کی اپنی خواہش یہی تھی کہ ان کے سر نہ ملیں، وہ قیامت کے دن سر کے بغیر مبعوث ہوں، اللہ پوچھے کہ سر کہاں ہے تو کہیں کہ تیری راہ میں کٹوایا، اڑوایا، قیمہ بنوایا، جلوایا، راکھ کروایا اور فضا میں بکھروایا کہ تُو راضی ہو جائے، تو پھر غم کاہے کا؟ یہ وہ سودا ہے جو سر میں سماتا ہے تو سر اڑواتا ہے پھر اترتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنت میں پہنچواتا ہے پھر بھی اترتا نہیں ہے، وہاں بھی کہتا ہے کہ پھر دنیا میں بھیجو کہ پھر سر اڑواؤں!

اے اللہ اپنی عطا سے ہمیں شجاعت و سعادت کا راہی بنا اور اپنی ہی عطا سے یہ استقامت و شہادت دے دے، مانگنے والا بڑا ہی کمزور ہے!

٭٭٭٭٭


1 اس نام کواردو ذرائع ابلاغ میں ’کملا‘ لکھا جا رہا ہے، ایسا ہی ہو گا، لیکن جنس درست کر لیں یہ ’کملا‘ نہیں ’کملی‘ ہے!

2 (ایک حدیث کی رو سے)عربی میں کریم اس کو کہتے ہیں جو جب غلبہ پا لیتا ہے تو معاف کر دیتا ہے۔

3 مولانا تقی صاحب رقم طراز ہیں: ’’دینی گھرانوں میں ناولوں کا مطالعہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن میں نے نسیم حجازی مرحوم کے تمام ناول بھی اس لیے پڑھے تھے کہ اگر عربی ادب سیکھنے کے لیے مقامات، متنبّی اور سبعہ معلقہ پڑھے جا سکتے ہیں تو اردو ادب اور تاریخ کے لیے نسیم حجازی کے ناول ان سے بدرجہا غنیمت ہیں، اور ان سے ادب ِ اردو کا ایک خاص ذوق حاصل ہوتا ہے، اور فی الجملہ دینی فکر کو بھی مدد ملتی ہے۔‘‘ (یادیں، ماہنامہ البلاغ، ذیقعدہ ۱۴۴۰ ھ، ص ۱۳)

Previous Post

اسلام ہی اس ملک کی بنیاد و بقا ہے

Next Post

امریکہ: خواب سے ڈراؤنے خواب تک اور اہلِ برِّ صغیر کے لیے مواقع

Related Posts

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد
عالمی منظر نامہ

عالمِ اسلام میں متحدہ عرب امارات کا شر و فساد

25 مئی 2026
فساد فی الارض
عالمی منظر نامہ

فساد فی الارض

1 مئی 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیل  کا مشترکہ حملہ اور دنیا کے بدلتے حالات
عالمی منظر نامہ

ایران پر امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ حملہ اور دنیا کے بدلتے حالات

8 مارچ 2026
ایران جنگ کے تناظر میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کا بیان
عالمی منظر نامہ

ایران جنگ کے تناظر میں القاعدہ کی مرکزی قیادت کا بیان

8 مارچ 2026
خیالات کا ماہنامچہ | جولائی ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

خیالات کا ماہنامچہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
اخباری کالموں کا جائزہ | اگست ۲۰۲۵ء
عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | فروری ۲۰۲۶ء

15 فروری 2026
Next Post

امریکہ: خواب سے ڈراؤنے خواب تک اور اہلِ برِّ صغیر کے لیے مواقع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version