ہوش سنبھالنے کے بعد سے جس بات کا دل و ذہن میں استحضار رہا وہ یہ کہ مجھے اپنے ملک، اپنے وطن پاکستان سے بہت محبت ہے۔ اس عمر میں کہ جس میں بچہ ماں باپ سے بھی ڈھنگ سے محبت کرنے کے قابل نہیں ہوتا، نجانے یہ زمین کی، مٹی کی محبت کہاں سے دل میں سما گئی۔ حالانکہ نہ گھر کا ماحول بہت علمی قسم کا تھا اور نہ ہی اس موضوع پر کبھی کوئی بات ہوتے سنی تھی۔ بلکہ معاملہ بالعکس تھا۔ دادا مرحوم انگریز کے دور میں فوج میں رہ چکے تھے اور وہ اس دور کی تعریف کرتے کہ اس وقت کرپشن نہیں تھی، مول تول میں ہیر پھیر نہیں تھی، ملاوٹ اور گرانی نہیں تھی…… وغیرہ اور وہ ایک درجے میں قیام پاکستان کے خلاف ہی تھے۔ مگر پھر بھی پاکستان سے محبت دل و ذہن میں پروان چڑھتی ہی رہی۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اللہ رب العزت نے اپنے دین کا کچھ فہم اپنی رحمت سے عطا فرمایا، قومیت و وطنیت کے بتوں پر ضرب لگی، دلوں میں مضبوطی سے بساہوا پاکستانی فوج کا تقدس دل سے نکلا، اس فوج کی خباثت کا ادراک ہوا، جمہوریت، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کا کھلا فساد ہونا سمجھ میں آیا۔ مگر اس سب کے باوجود اپنے وطن پاکستان سے محبت جوں کی توں برقرار رہی۔ کئی مرتبہ دل کو ٹٹولا کہ کہیں یہ وطنیت کا بت تو نہیں جسے من میں سجائے اس کی پوجا کی جارہی ہے، مگر بار بار کی چھان پھٹک سے بھی سمجھ میں یہی بات آئی کہ پاکستان سے محبت کی وجہ دراصل اسلام سے محبت ہے۔ چونکہ یہ وطن اسلام کے نام پر وجود میں آیا لہٰذا محبت دراصل اس مقصدِ وجود سے ہے۔ یہ وطن یہ ملک اللہ کی عطا ہے، بہت بڑی نعمت ہے، پس اس نعمت سے تو نفرت نہیں کی جاسکتی، نہ ہی کی جانی چاہیے، مگر پاکستان کے نام پر جو کچھ اس پر قابض فوج اور حکمران کررہے ہیں اور جس طرح اس نعمت و سعادت کے پاکیزہ وجود اور نام کو مٹی میں ملارہے ہیں، وہ بلاشبہ محض قابلِ نفرت و مذمت ہی نہیں بلکہ قابل گردن زدنی بھی ہے۔
یہ بحث کہ یوم آزادی چودہ اگست کو منانا چاہیے یا کہ پندرہ اگست کو، لایعنی ہے۔ اصل بات یہ ہےکہ آزادی حاصل کیوں کی تھی؟ کس سے کی تھی؟ کس مقصد سے کی تھی؟ قیام و طعام ہی گر مطمحِ نظر تھا تو اس کا انتظام تو دورِ غلامی میں بھی تھا۔ نماز روزہ کی اجازت بھی تھی۔ ادائیگیٔ حج کے لیے بھی قافلے جایا کرتے تھے۔ پھر کیا کمی تھی جس کی خاطر اتنی قربانیاں دی تھیں؟ دورِ غلامی میں مسلمان کی حالت اور آج پاکستان میں بسنے والے مسلمان کی حالت میں کیا خاطر خواہ فرق ہے؟ کیا فقط ایک قطعۂ زمین مطلوب تھا، گویا دوگز زمین جس پر مسلمان نام کا ایک کتبہ لگا ہو!! یقیناً قیام پاکستان کے دور میں مسلمانوں پر ہوئے ظلم و ستم کی داستانیں پڑھ کر آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں مگر آج تہتّر سالہ پاکستان کی حالت دیکھ کر، اس کی گھلی ہوئی ہڈیاں اور ناتواں وجود دیکھ کر، اس کی اٹکی ہوئی سانسیں اور قرضوں میں جکڑے بال بال کو دیکھ کر، اس کے نیم جان وجود کے گرد اس کو نوچنے، کھسوٹنے، لوٹنے والے چیلوں اور کوؤں اور اس کی جان نکلنے کے منتظر کرگسوں کو منڈلاتے دیکھ کر، اس کی بیٹیوں بلکہ نوخیز کلیوں جیسی معصوم بچیوں کی عزتیں دورِ غلامی سے زیادہ غیر محفوظ دیکھ کر، اس کے بیٹوں کا بہتا خون اور لاپتہ جوانیاں، لاپتہ افراد کے تڑپتے اہل خانہ اور سڑکوں، تھانوں، جیلوں کے باہر خوار ہوتی سفید داڑھیاں دیکھ کر، ریل کی پٹریوں پر سر رکھ کر جان دیتے بے بس باپ اور بھوک و افلاس کے ہاتھوں مجبور ماؤں کی بےکسی و بدحالی دیکھ کر آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل بھی خون کے آنسو روتا ہے۔
اہل پاکستان جانتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین کے دو روپ ہیں۔ ایک نہایت چمکتا دمکتا، پولشڈ روپ جو آپ کو دار الحکومت اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں نظر آتا ہے، صاف ستھری کارپٹڈ سڑکیں اور ان پر دوڑتی نئے سے نئے ماڈل کی مہنگی گاڑیاں، سڑکوں کے دونوں جانب سبزہ زار اور وسیع و عریض رقبوں پر محیط شاندار عمارتیں اور ان عمارتوں میں مکین سرمایہ دار، جاگیردار، حکومتی عہدہ دار، سیاست دان، فوجی جرنیل و کرنیل اور ان کے منظور نظر افراد…… اور دوسری جانب اسی پاکستان کی کچی آبادیاں اور غریب علاقوں کی ابلتے گٹروں والی شکستہ سڑکیں، اسی گندے پانی میں نہاتے ان علاقوں کے غریب مکینوں کے ننگ دھڑنگ بچے، جابجا تعفن پھیلاتے کوڑا ابلتے ڈرم اور نالے،بوسیدہ عمارتیں، افلاس زدہ چہرے اور حسرت و یاس کی تصویر بنے غریب اہل پاکستان۔ چمکتے منظر کے باسی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیدا ہی عیش کرنے کے لیے ہوئے ہیں اور یہ عیش و عشرت عین انھی کا حق ہے جبکہ عوام نے اپنا مقدر ہی تکلیفوں، آزمائشوں اور مشکل زندگی کو سمجھ لیا ہے۔ کچھ لوگوں کے بقول یہ مدینۂ ثانی ہے!!!
آج کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اہل پاکستان کو تبدیلی کی خاطر سختیوں اور آزمائشوں سے گزرنا ہوگا …… یہ بات درست ہے کہ تبدیلی سختیوں اور آزمائشوں سے گزرے بنا نہیں آتی، مگر کون سی تبدیلی؟ کیسی تبدیلی؟ جب تک اس ملک میں کفر کا نظام قائم ہے، جب تک اس ملک میں قائم حکومت اور فوج اپنی معیشت، حفاظت اور عزت اہل کفر کے در پر تلاش کرتی رہے گی تب تک سوائے مزید ذلت اور مزید گراوٹ اور مزید آزمائشوں اور تکلیفوں کے کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ یہ وہی حکمران ہیں جو حکومت میں آنے سے پہلے ڈرون حملوں کے مخالف اور لاپتہ افراد کے حمایتی تھے…… اور آج یہ وہی ہیں کہ جو اسلام کی سرزمین اہل اسلام پر ہی تنگ سے تنگ تر کیے جارہے ہیں۔ اگر یہ اپنے دعووں میں اتنے ہی سچے ہوتے تو اقتدار میں آنے کے بعد لاپتہ افراد کا کم از کم پتہ تو دیتے اور ان پر عائد فرد جرم سے ان کے اہل خانہ کو آگاہ تو کرتے، مجاہدینِ کشمیر کی مدد و نصرت کے دروازے قفل لگا کر بند کرنے کی بجائے ان کی کھلے بندوں مدد تو کرتے، مشرقی ترکستان کے مظلوم مسلمانوں کو اپنا تو سمجھتے اور ان کے دکھ اور غم کا مداوا کرنے کی کوشش تو کرتے۔ مداوا تو انھوں نے کیا مگربابری مسجد کی شہادت بھلا کر سکھوں کے گردوارے سجا کر، اور لال مسجد کے شہداکے خون کو روند کر عین اسی اسلام آباد میں ہندوؤں کے لیے مندر بنا کر۔ اہل پاکستان اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آئندہ چند سال میں پاکستان کی زمین سونا اگلنے لگے گی اور اس کے عوام اس سونے سے بلا شرکت غیرے مستفید ہوں گے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سوچ اور یہ تصور رکھنے والے خوابوں کی دنیا میں رہنے والے ہیں، ایسے خواب جو کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتے۔
پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور پاکستان اسلام ہی کے نام پر زندہ رہے گا اور پاکستان میں اسلام نافذ ہوکررہے گا؛ لیکن اگر کوئی یہ چاہے کہ ایک روز ہم سو کر اٹھیں اور پاکستان میں اسلام نافذ ہوچکا ہو، نہ ہماری نیند خراب ہو نہ چین، نہ ہمارا مال لگے نہ جان، نہ ہماری زندگی میں کچھ ہلچل مچے اور نہ ہی ہمارے معمولات اپنی جگہ سے ہلیں تو یاد رکھیں کہ ایسا چاہنے والے لوگ ہی سب سے پہلے اسلام کے خلاف اٹھ کھڑےہونے والوں میں سے ہوں گے۔ جو آج یہ کہتے ہیں کہ جب دجال آئے گا تو دیکھی جائے گی اور اس کے مقابلے کی تیاری کی جائے گی اور تب ہم اپنے آپ کو اور اپنے ایمان کو بچا لیں گے، وہ اس وقت بھی فقط روٹی کے چند لقموں اور چند گھونٹ پانی پر راضی ہوجائیں گے اور اپنا ایمان بیچ کھائیں گے۔ جن کو حقیقتاً اسلام مطلوب ہے، جن کو اسلام سے اتنی محبت ہے کہ وہ اس کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار ہیں، جو اس کی خاطر قید وبند کی صعوبتیں اور اپنوں کی جدائیاں برداشت کررہے ہیں جو اس کی خاطر جلاوطنی سہہ رہے ہیں اور جن کو یہ معلوم ہے کہ اس سب کے بعد بھی یہ یقینی نہیں کہ ان کی یا ان کی اولاد کی آنکھیں شریعت کی بہاریں دیکھ پائیں گی، وہی ہیں کہ جو ان شاءاللہ تبدیلی کا موجب بنیں گے، جو پاکستان کی سرزمین کا وارث اہل اسلام کو بنائیں گے، جو پاکستان میں اللہ کا نظام نافذ کریں گے اور جو باذن اللہ ہندوستان کے حکمرانوں کو بیڑیوں میں جکڑ کر لائیں گے۔
اے اہالیانِ پاکستان! آج اسلام پر چلنے والے ضعف کی حالت میں ہیں، مگر اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اس حالت پر نہیں رہیں گے، اسلام غالب آکررہے گا۔ آپ کا ایک ایک فرد اگر اپنے دین کے ساتھ مخلص ہے تو وہ یہ استعداد رکھتا ہے کہ وہ اس دین کی خدمت کرے اور اس کے نفاذ کی کوشش میں اپنے آپ کو کھپائے۔ اس کے لیے آپ سب کو خواہ وہ طالب علم ہوں یا اساتذہ، صنعت کار ہوں یا دہاڑی دار، امیر ہوں یا غریب، شہروں میں بسنے والے ہوں یا دیہاتوں میں، اپنی زندگیوں میں ، اپنی سوچ میں، اپنی فکر ، اپنے طرز زندگی میں انقلاب لانا ہوگا، اسے سرتاپا اسلام کے رنگ میں ڈھالنا ہوگا اور یہی پہلا قدم ہوگا جو آپ اپنے دین کے نفاذ کی جانب بڑھائیں گے۔ یاد رکھیے! جو پہلا قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کرتا وہ کبھی دوڑنا اور سبقت لے جانا نہیں سیکھ سکتا اور جو پہلا قدم اٹھا لیتا ہے اس کے لیے آئندہ اٹھنے والا ہر مثبت قدم آسان ہوجاتا ہے۔ حق اور باطل واضح ہے، حق پر چلنے والے ، اہل باطل سے ممیز ہیں، یہ بہانہ کہ معلوم نہیں ہوتا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، اب اپنی اہمیت کھوچکا ہے، وقت کی برف گھل رہی ہے اور ختم ہوا چاہتی ہے، اٹھیے اور اہل حق کا ساتھ دیجیے، اس لیے نہیں کہ آپ کا اٹھنا انھیں کوئی فائدہ دے گا، بلکہ اس لیے کہ حق کا غالب ہونا عین آپ ہی کی ضرورت ہے، آپ کی دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی۔ آپ کے پڑوس میں ہندو اپنے ہتھیار تیز کرچکے ہیں، بنگلہ دیش پر وہ قبضہ کیا ہی چاہتے ہیں، چین کا عفریت دوسری طرف آپ کو نگلنے کے لیے تیار بیٹھا ہے، ایران الگ اپنے بال و پر سنوار رہا ہے، ایسے میں آپ کی بے خبری آپ ہی کو حسرت میں مبتلا کرنے کا باعث ہوگی۔ آپ کو اللہ رب العزت نے ایک ایسا پڑوس بھی دے رکھا ہے جہاں ایمانی جدوجہد سے معمور پاکیزہ فضائیں آپ کی منتظر ہیں، کشمیری مسلمان آپ کی مدد و نصرت کے حق دار ہیں، اہل مشرقی ترکستان اپنے پڑوس میں بسنے والے اہل پاکستان سے مدد و اعانت کے خواستگار ہیں، اور کلام اللہ کی یہ آیت آپ ہی سے مخاطب ہے:
﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاۗءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّـاوَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا ﴾ (سورۃ النساء:۷۵)
’’ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکالیے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔ ‘‘
اپنے ضعف کو قوت سے بدلنے کے لیے، کم ہمتی کو شجاعت اور دلیری میں تبدیل کرنے کے لیے، قدم اٹھانے کی ہمت اور قوت حاصل کرنے کے لیے، عقل کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے، شیطان کے وساوس کو ایک تھتھکار سے دور کرنے کے لیے ایک اور نقشہ اپنی نگاہوں میں سجائیے ۔ مکہ۔ جہاں اللہ رب العزت کا گھر ہے۔ جو خطۂ زمین پر سب سے مقدس مقام ہے۔ اس مقدس مقام پر موجود مقدس ترین ہستی، قریش کے عالی ترین نسب سے تعلق رکھنے والا فرد، جس کی صداقت و امانت کی گواہی اس کے مخالفین بھی برملا دیتے تھے، اور اس مقدس ترین ہستی کے اردگرد بلال حبشی، صہیبِ رومی،خباب بن ارت، یاسر رضی اللہ عنہم جیسے غلام جو اپنے نبی کے گرداگرد پروانوں کی طرح منڈلاتے اور ان کے ایک ایک حکم پر اپنی جان نچھاور کر ڈالنے کو تیار ہوتے۔ جبکہ دوسری جانب اس مقدس ہستی کی مخالفت میں پیش پیش مکہ کی ایلیٹ……! جو طعنے دیتی کہ اس نبی کو تو دیکھو جس کےپیرو چند نوجوان اور بے کس و مجبور غلام و غریب لوگ ہیں۔
پھر وقت کا پہیہ گھوما اور شعب ابی طالب کی سختیوں کو سہنے والے، دار ارقم میں چھپ چھپ کر ملنے والے، مکہ کی گھاٹیوں میں پوشیدہ طور نماز ادا کرنے والے ، طائف سے ٹھکرائے جانے والے، ایامِ حج میں قبائل پر اپنا آپ پناہ کی خاطر پیش کرنے والے، اللہ رب العزت کے محبوب ترین نبی اور ان کے وہ پیروکار کہ جنھیں رب العزت نے اپنی دائمی رضامندی کا پروانہ اس دنیا میں ہی عطا فرمادیا، اپنے رب کی اطاعت کی بنا پر، اس کی فرماں برداری اور اس کے دین کی اتباع کی بنا پر غالب ہوتے ہیں اور اس دین کا پیغام لیے کُل عالم پر چھاجاتے ہیں۔ جنھیں کل پناہ نہ ملتی تھی، آج بڑے بڑے بادشاہ ان سے پناہ چاہتے ہیں، جو اپنے دین پر سکون کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی خاطر یہود و مشرکین سے معاہدے کرتے تھے، آج ان کے سامنے وفود کے وفود معاہدے کے لیے اور بیعت کے لیے آرہے ہیں۔ وہ جو کل زمین میں پسے اور دبے ہوئے تھے آج وہی غالب اور حکمران ہیں۔
وہ ہستیاں کہ جنھیں ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے لقب کے ساتھ پکارتے ہیں، اسلام قبول کرنے سے پہلے وہ عام لوگ تھے، کچھ غریب اور کچھ امیر، مگر وہ عوام تھے۔ بہت سے وہ تھے جو فاقہ کشی پر مجبور تھے اور کئی ایک وہ بھی تھے جن کے تجارتی قافلے مال و اسباب سے بھرے ہوتے تھے۔ جب اسلام آیا اور ان سب نے اپنے نبی کی پیروی اختیار کی تو وہ سب کے سب ایک ہی لڑی میں پروئے گئے، تمہارا نام مسلم ہے، تمہاری پہچان اسلام ہے، تمہارا رب، تمہارا نبی، تمہاری کتاب، تمہارا دین، تمہارا عقیدہ ایک ہے۔ پھر ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز۔ یہ ابوبکر ہیں اور یہ انھی کے آزاد کردہ بلال حبشی۔ اسلام نے انھیں عزت دی، اسلام نے انھیں برابری اور مساوات سکھائی، اسلام نے ان میں کالے گورے، آزاد اور غلام، عربی و عجمی کا فرق ختم کیا اور سب کو تقویٰ کے معیار پر پرکھنا سکھایا۔
اگر آپ یہ سمجھتے ہیں اور یہ خوف آپ کو حق راستے پر قدم نہیں رکھنے دیتا کہ اسلام پر چلنے والے، اس کی خاطر قربانیاں دینے والے، جہاد کرنے والے ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے اور اللہ رب العزت کبھی ان کو کشادگی عطا نہیں فرمائے گا اور کبھی انھیں ان کے دین کے ذریعے راحت اور کشادگی عطا نہیں فرمائے گا تو اوپر بیان کردہ نقشہ آپ کی سوچ کی پرزور تردید کرتا ہے۔ حق آکر رہے گا اور باطل مٹ کررہے گا، اہل حق اور ان کی نصرت کرنے والے جنت کے حق دار بنیں گےاور اہل باطل اور ان کے اعوان و مددگار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اہل حق جتنے بھی مصائب سے اس دنیا میں گزریں، اللہ انھیں کبھی دنیا والوں کے سامنے ذلیل ورسوا نہ ہونے دے گا اور دائمی عزت و جاہ تو ہے ہی ان کے لیے، جب کہ اہل باطل بظاہر شان و شوکت میں گھرے ہیں مگر درحقیقت وہی ذلیل و رسوا ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت کی ذلت تو ہے ہی انہی کے لیے۔ اللہ ہمیں ان میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے کہ جن کی زندگی کا مقصد ہی رب کی عبادت اور اس کے دین کےنفاذ کی کوشش ہے اور دنیا و آخرت میں عزت و شان و بلند مقام جن کا مقدر ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمدللہ رب العالمین







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



