[یہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کا وہ خطاب ہے جو انھوں نے ۱۲۰۰ علمائے کرام کے سامنے اس وقت فرمایا جب انھیں امیر المؤمنین کا لقب دیا جارہا تھا۔ اس میں آپ نے اپنی تحریک کی ابتدائی کہانی سنائی ہے اور اس کے تناظر میں علمائے کرام کے سامنے ان کے فرضِ منصبی کو واضح کیا ہے۔ آپ کا یہ خطاب آج کے دور میں ہر خطے میں موجود علمائے کرام اور اہلِ دین کو ان کا فرض یاد دلاتا ہے۔ ہم امارت کی عظیم الشان فتح کے موقع پر یاد دہانی کے لیے اسے یہاں نشر کر رہے ہیں۔ اس خطاب کو طالبان قائد ’امین اللہ امین‘ شہید کی کتاب ’لشکرِ دجال کی راہ میں رکاوٹ‘ سے نقل کیا جارہا ہے۔] (مدیر)
میں نے ایک چھوٹا سا مدرسہ بنایا جس میں پندرہ بیس طلبہ تھے، میں بھی اس مدرسے میں پڑھ رہا تھا۔ ایک دن میں پڑھائی میں مصروف تھا کہ میرے ذہن میں خیال آیا۔ میں نے اپنی کتاب بند کردی۔ اس سے پہلے ایسا خیال میرے ذہن میں نہیں آیا تھا۔ (وہ خیال یہ تھا کہ) کیا یہ آیت [لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا] میرے لیے کافی ہے؟ جیسے ہی مجھے یہ خیال آیا، میرے پاس کچھ نہ تھا، نہ کوئی اسلحہ، نہ کوئی فوج اور نہ مال ودولت۔ تو کیا اس وقت میں اپنے نفس کو غیر مکلف سمجھتا؟! لیکن میں نے محض توکل کیا اور اللہ سے سچا وعدہ کیا کہ میں ضرور یہ کام کروں گا۔ میں نے کتاب بند کی، ساتھی کو ساتھ لیا۔ ’سنگسار‘ ایک علاقے کا نام ہے۔ وہاں میں نے ایک آدمی سے… جس کا نام ’سرور‘ تھا اور جس کا تعلق قندھار کے علاقے ’تالقان‘ سے تھا… موٹر سائیکل ادھار لی، اور اپنے ساتھی کو ساتھ بٹھا کر ’زنگاوات‘ گیا۔ زنگاوات سے آگے تالقان تک ہم پیدل چلے۔ راستے میں خاردار جھاڑیاں اور کانٹے دار شاخوں کی وجہ سے چلنے میں بہت تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے راستے میں ساتھی سے کہا کہ یہ رات یاد رکھنا، اس کا اجر ضرور ملے گا۔ صبح ہم نے اپنا کام شروع کیا۔ ایک مسجد میں گئے، وہاں پر سات طلبہ سبق پڑھ رہے تھے۔ ہم نے انھیں دائرے کی شکل میں بٹھایا اور ان سے بات شروع کی کہ اللہ کا دین خفیہ طریقے سے چل رہا ہے اور فسق وغارت سڑکوں پر شروع ہے۔ آدمی کو پیسے کے لیے گاڑی سے اتار کر گولی مار دی جاتی ہے اور خوف وڈر کی وجہ سے کوئی اسے دفناتا تک نہیں۔ ہمارے یہاں سبق پڑھنے سے یہ مسائل حل ہونے والے نہیں۔ اور زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگانے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اگر آپ اخلاص کے ساتھ اللہ کے دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی یہ پڑھائی رہ جائے گی۔ مجھ سے کسی نے ایک روپیہ دینے تک کا وعدہ نہیں کیا، چاہے گاؤں والوں نے روٹی دی یا نہ دی، یہ ان کی مرضی، میرے پاس محض توکل کے سوا کچھ نہیں۔ اس کام کو ہفتہ، مہینہ یا سال نہیں، زندگی کے آخری لمحے تک کرنا ہے۔ اور ان طلبہ کو تسلی بھی دی کہ دیکھو! فاسق فاجر لوگ اللہ کی دشمنی میں دن رات محاذوں پر بیٹھے ہیں، انھیں کسی چیز کی پرواہ نہیں، اور ہم اتنے کمزور اور بزدل ہیں کہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے دین کے پیروکار ہیں اور پھر ان کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔
﴿وَلَا تَهِنُوْا فِي ابْتِغَاۗءِ الْقَوْمِ ۭ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْن﴾ [االنساء:۱۰۴]
’’ان لوگوں کا پیچھا کرنے میں دل ہارے بیٹھے نہ رہو، اگر تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو انھیں بھی اسی طرح تکلیف ہوتی ہے جس طرح تمہیں ہوتی ہے‘‘۔
سات طلبہ میں سے کسی نے مجھے حوصلہ افزا جواب نہیں دیا اور نہ ہی وہ فوراً کام کے لیے تیار ہوئے۔ اللہ شاہد کہ ان سب نے کہا کہ اگر جمعرات والے دن ہم فارغ ہوئے تو کوشش کریں گے۔ پس کیا میں ان سات طلبہ کو مقیس علیہ بنا کر باقی سب کو انھی پر قیاس کرتا، اور مایوس ہوکر واپس لوٹ جاتا اور اپنی پڑھائی شروع کر دیتا۔ اس وقت یہ آیت [لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا] میرے لیے کافی نہیں تھی، لیکن میں نے اپنے آپ کو اس کا مکلف بنایا، اور میں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کرنے کے لیے دوسری مسجد میں گیا۔ اس مسجد میں بھی پانچ چھ طالب تھے۔ میں نے ان کو بھی وہی دعوت دی جو پہلے والے طلبہ کو دی تھی، وہ سب تیار ہوگئے۔ یہ بھی اسی امت کے لوگ تھے جس امت کے باقی سب تھے۔ کیا یہ مرد تھے اور باقی سب عورتیں تھیں، یا کیا یہ بڑے تھے اور باقی سب چھوٹے، یا یہ کسی اور نسل کے لوگ تھے، باقی کسی اور نسل کے؟! ان میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ میرے اللہ تعالیٰ پر توکلِ محض کا نتیجہ یہ نکلا کہ صبح سے لے کر شام تک [۵۵]پچپن طالبان تیار ہوگئے۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ تم صبح آجانا، لیکن وہ سب اللہ پر توکل کرنے والے اسی رات ایک بجے سنگسار پہنچ گئے۔ صبح کی نماز میں جب امام نے سلام پھیرا تو ایک آدمی نے امام صاحب سے کہا کہ میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ہمارے اس علاقہ سنگسار میں بہت سے فرشتے آئے اور ان کے ہاتھ بہت ہی نرم ونازک تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ اپنا ہاتھ تبرکاً میرے سر پر پھیر دیں۔ [جب امیر المؤمنین یہ واقعہ سنا رہے تھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تو مولانا احسان شہید نے نعرہ تکبیر بلند کیا، اس کے بعد امیر المؤمنین نے اپنی گفتگو دوبارہ شروع کی۔] یہی شب وروز تحریک کی ابتداء تھی۔ جب دن کے دس بج گئے تو ہم نے حاجی بشر سے دو گاڑیاں لیں، اور ہم سب ان میں بیٹھ کر ’کشکی‘ [قندھار کا ایک علاقہ] کو چلے گئے۔ آہستہ آہستہ وہاں لوگ جمع ہوتے گئے اور اسلحہ بھی کافی مقدار میں جمع ہوگیا اور کام شروع کر دیا گیا۔ اللہ شاہد ہے کہ یہ تحریک کی ابتداء تھی اور یہاں تک پہنچنا محض توکل کا ثمرہ تھا۔ میں تمام علمائے کرام سے یہی چاہتا ہوں کہ مجھے اس آیت ﴿لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا﴾ کا مصداق بتائیں۔ میں علمائے کرام سے وہ عذر قبول کروں گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قبول ہو۔ اس کے علاوہ میں کوئی عذر قبول نہیں کرتا۔ میں نے یہاں تک بات پہنچا دی۔ اور یاد رکھو کہ علمائے کرام کے بغیر یہ کام مکمل نہیں ہوسکتا، اور اگر علمائے کرام نے غفلت سے کام لیا تو یہ کام ضرور خراب ہوجائے گا۔ کیونکہ طالبِ علم کا کام محاذِ جنگ پر رہنا اور دشمن سے مقابلہ کرنا ہے، قانون نافذ کرنا صرف علمائے کرام کا کام ہے۔ اگر یہ کام خراب ہوگیا تو قیامت کے دن میں تمہارا گریبان پکڑوں گا، اور ذمہ دار علمائے کرام ہوں گے۔
٭٭٭٭٭

![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



