نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home طوفان الأقصی

فلسطینی اشرافیہ: ایک صدی سے مزاحمت کے خلاف استعمار کی معاون

by جوزف مساد
in جون و جولائی 2026ء, طوفان الأقصی
0

غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی اور مغربی کنارے اور لبنان میں اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے دوران، فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی قوتوں کو صرف اسرائیل ہی کا سامنا نہیں، بلکہ اپنی اس اشرافیہ سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے جو دشمن کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔

دنیا کے بیشتر خطوں میں نوآبادیاتی تسلط اور سامراجی غلبے کے خلاف معاشروں کا ردِعمل عموماً تین صورتوں میں سامنے آیا ہے۔

  1. غریب کسانوں، مزدوروں اور شہری متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے کی جانب سے انقلابی مزاحمت۔
  2. خوش حال اشرافیہ کے ایک بڑے طبقے اور متوسط طبقے کے بعض حلقوں کی جانب سے مفاہمت اور تعاون۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ قابض طاقت سے تعاون کے ذریعے کچھ رعایتیں حاصل کی جا سکتی ہیں اور ایسی براہِ راست محاذ آرائی سے بچا جا سکتا ہے جس میں محکوم قوم کی شکست یقینی ہو۔
  3. دولت مند طبقے کے ایک اور حصے کی مکمل اطاعت اور کھلی معاونت۔ اس گروہ کی امید تھی کہ نوآبادیاتی اقتدار کے مقامی کارندے بن کر وہ نہ صرف اپنے حریف اشرافیہ پر فوقیت حاصل کرے گا بلکہ قابض طاقت کی خصوصی عنایات بھی سمیٹے گا، کیونکہ اس کے مفاد کا تقاضا یہی تھا کہ استعماری تسلط برقرار رہے۔

ایسے رویے ایشیا سے لے کر افریقہ تک، تقریباً تمام نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی معاشروں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

عرب دنیا، بشمول فلسطین، بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھی۔

بلکہ نکبہ سے پہلے فلسطینی معاشرے نے برطانوی استعمار اور صہیونی آبادکار نوآبادیات کے مقابلے میں بعینہٖ یہی طرزِ عمل اختیار کیا، اور نکبہ کے بعد بھی یہی صورت حال برقرار رہی۔

۱۹۲۰ء کی دہائی کے آغاز ہی سے، باہمی اختلافات کے باوجود، فلسطین کی دولت مند اشرافیہ اس بات پر متفق تھی کہ صہیونی استعمار کا مقابلہ برطانوی قابض حکام سے تعاون کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کی قیادت عرب ایگزیکٹو اور سپریم مسلم کونسل کر رہی تھیں، جن پر یروشلم، یافا اور دیگر شہری مراکز کے بڑے فلسطینی رئیس خاندانوں کا غلبہ تھا۔

ان کے مقابلے میں اشرافیہ کا ایک دوسرا گروہ، جس میں یروشلم کا ایک حریف خاندان اور وہ خاندان شامل تھے جو ان دونوں اداروں میں نظر انداز کیے گئے تھے، برطانیہ اور صہیونی تحریک دونوں کے ساتھ مکمل تعاون کا حامی تھا۔

اسی گروہ نے صہیونی سرمایہ اور سرپرستی کے تحت حزبِ زراعی (الزراعی)، جمعیۃ المسلمین الوطنیہ اور بعد میں الحزب الوطنی (نیشنل پارٹی) قائم کیں۔

اس کے برعکس، کسانوں اور مزدوروں کی اکثریت نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، جبکہ شہری متوسط طبقے کے ایک بڑے حصے نے بھی ان کا ساتھ دیا۔

 تحریکِ استقلال

فلسطینی اشرافیہ کے طرزِ عمل سے، خواہ وہ کھلے عام تعاون کرنے والا چھوٹا گروہ ہو یا مفاہمت پسند بڑا طبقہ، متوسط طبقے کے اہلِ فکر اس قدر مایوس ہوئے کہ انہوں نے 1932ء میں حزبِ استقلال قائم کی۔

اس جماعت نے کسانوں اور مزدوروں کی مزاحمت کی حمایت کی اور احتجاجی مظاہروں، معاشی بائیکاٹ اور سول نافرمانی پر مبنی ایک عوامی تحریک شروع کی۔

غزہ کا حمدی الحسینی (جس کا  یروشلم کے رئیس حسینی خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا) اور استقلال کے دوسرے نوجوان رہنما دنیا کی دیگر آزادی کی تحریکوں، بالخصوص ہندوستان میں مہاتما گاندھی کی جدوجہد سے متاثر تھے۔

اسی بنا پر حمدی الحسینی، نابلس کے نوجوان استاد اکرم زعیتر، قوم پرست دانشور اور معلم عزت دروزہ، اور وکیل عونی عبدالہادی، جو 1928ء کے بعد اشرافیہ کے زیرِ اثر عرب ایگزیکٹو کے سیکریٹری بھی رہا، نے گاندھی کی پیروی کرتے ہوئے برطانوی حکام کے ساتھ عدمِ تعاون کی پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے گاندھی کے 1930ء کے مشہور نمک مارچ سمیت بائیکاٹ اور سول نافرمانی جیسے طریقۂ کار سے بھی استفادہ کیا۔

پارٹی کے قیام کے فوراً بعد استقلال کے رہنماؤں نے کھلے عام فلسطینی اشرافیہ پر برطانوی اقتدار کی معاونت کا الزام لگایا۔

دسمبر 1932ء میں پارٹی کے پہلے عوامی اجتماع میں انہوں نے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا، برطانیہ اور صہیونیت کی مذمت کی، اور عراق، سعودی عرب اور مصر جیسے نوآزاد عرب ممالک کے ساتھ تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے عرب ایگزیکٹو کو بے عملی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی قیادت برطانوی مینڈیٹری اتھارٹی (British Mandatory Authority)  سے ہر قسم کا تعاون ختم کرے۔

اگلے ہی سال، 1933ء میں، جب برطانوی جبر، صہیونی نسلی امتیاز، فلسطینی کسانوں کی بے دخلی اور یہودی آبادکاری، سب اپنی انتہا کو پہنچ گئے، حزبِ استقلال عوام کو منظم کرنے کی اپنی قوت کے عروج پر تھی۔

مزاحمت اور جبر

جب عرب ایگزیکٹو کو عدمِ تعاون کی پالیسی اپنانے پر آمادہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں تو حزبِ استقلال نے اکتوبر 1933ء میں برطانوی پالیسیوں اور صہیونی آبادکاری کے خلاف ملک گیر مظاہرے منظم کیے۔

بالآخر عرب ایگزیکٹو نے بھی، اگرچہ اس کے اندر موجود تعاون پسند اشرافیہ کی مخالفت کے باوجود، ان مظاہروں کی حمایت کر دی۔

فلسطین بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ صرف یافا میں آٹھ ہزار مظاہرین شریک تھے، جن میں وادی الحویرث کے وہ چھ سو کسان بھی شامل تھے جن کی زمینیں چند ماہ پہلے صہیونی آبادکاروں نے ہتھیا لی تھیں۔

برطانوی پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کر کے یافا اور حیفا میں 26 نہتے مظاہرین کو شہید کر دیا اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔

برطانوی حکام، فلسطینی اشرافیہ کے دونوں دھڑے اور صہیونی تحریک، تینوں اس بات پر متفق تھے کہ حزبِ استقلال کو کچل دینا ان کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

ان کی مشترکہ کوششیں بالآخر کامیاب رہیں، اور 1934ء اور 1935ء تک فلسطین کی مقبول ترین آزادی پسند جماعت تقریباً تباہ کر دی گئی۔

اس کے باوجود استقلال کے سابق کارکنوں اور مؤتمر الشباب سے وابستہ نوجوانوں نے اشرافیہ سے یہ مطالبہ مزید شدت سے دہرایا کہ وہ برطانیہ سے صہیونیت کے خلاف مدد مانگنے کی لا  حاصل پالیسی ترک کرے اور عدمِ تعاون کی راہ اختیار کرے۔

1936ء تک فلسطینی مزدوروں نے مسلسل ہڑتالیں شروع کر دیں، جن کی اشرافیہ نے مخالفت کی۔ اس رویے کے باعث نوجوانوں، استقلال کے باقی ماندہ کارکنوں اور مزدور طبقے میں ان کی ساکھ مزید گر گئی۔

ادھر اشرافیہ کے سیاست دان قانون ساز اسمبلی کے قیام کے لیے ہائی کمشنر سے مذاکرات میں مصروف رہے، جبکہ دوسری طرف حمدی الحسینی جیسے استقلالی رہنماؤں اور شہری مزدوروں کی قیادت میں ہونے والے عوامی اجتماعات نے 19 اپریل 1936ء کو ایک تاریخی عام ہڑتال کی صورت اختیار کر لی۔

یہ ہڑتال مسلسل چھ ماہ جاری رہی اور آج بھی دنیا کی طویل ترین عام ہڑتال سمجھی جاتی ہے۔

استقلالیوں، نوجوان تنظیموں اور جمعیۃ الشبان المسلمین کی قیادت میں متحرک عوام سیاسی منظرنامے کی مرکزی قوت بن گئے۔

اسی عوامی دباؤ کے نتیجے میں مفتی امین الحسینی سمیت اشرافیہ کے وہ رہنما، جو ابتدا میں ہڑتال کے مخالف تھے، ایک ہفتے بعد عرب  اعلیٰ کمیٹی قائم کرنے پر مجبور ہوئے، جس نے 1934ء میں تحلیل ہونے والی عرب ایگزیکٹو کی جگہ لی۔

تاہم اعلیٰ کمیٹی نے سول نافرمانی کے مطالبات کو نرم کرنے کی کوشش کی، جبکہ برطانوی ہائی کمشنر اشرافیہ کو مسلسل یاد دلاتا رہا کہ عوام کو قابو میں رکھنا ان کی ذمہ داری ہے۔

مفتی امین الحسینی نے بھی 1936ء کے موسمِ گرما تک عام ہڑتال اور وسیع تر فلسطینی بغاوت کی مکمل حمایت سے گریز کیا۔

اسی دوران فلسطینی اشرافیہ نے نئی سیاسی جماعتیں قائم کیں، جو برطانوی سرپرستی حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کر رہی تھیں، جبکہ نیشنل ڈیفنس پارٹی تو صہیونی قیادت کی خوشنودی حاصل کرنے میں بھی سرگرم تھی۔

دوسری طرف کسان، مزدور، نوجوان اور دانشور مزاحمت پر ثابت قدم رہے، جبکہ اشرافیہ تعاون اور مفاہمت کی راہ پر گامزن رہی۔ بالآخر یہی کشمکش عظیم فلسطینی انقلاب (1936ء–1939ء) پر منتج ہوئی، جسے برطانوی فوج اور صہیونی آبادکاروں نے بے پناہ خونریزی کے بعد کچل دیا۔ اس دوران آٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔

فلسطینی تعاون پسند اشرافیہ نے انقلابیوں کے خلاف امن دستے (Peace Bands) کے نام سے ایک مسلح ملیشیا بھی تشکیل دی، جس کا کام فلسطینی مجاہدین کو قتل کرنا تھا۔

اسی انقلاب کی شکست نے نو برس بعد 1948ء کے سانحۂ نکبہ کی راہ ہموار کی۔

اوسلو کے وارث

یہی صورتِ حال نکبہ کے بعد کے دور میں بھی دوبارہ ابھر کر سامنے آئی۔

جلا وطن کیے گئے فلسطینی کسانوں اور مزدوروں کی نئی نسل نے، متوسط طبقے کے بعض حلقوں کے ساتھ مل کر، 1950ء کی دہائی کے اواخر میں ایک نئی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا، جو 1960ء کی دہائی کے اواخر تک ایک مسلح مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔

جلد ہی فلسطینی اشرافیہ نے اس تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ بظاہر مقصد یہ بتایا گیا کہ اس تحریک کو ’’بین الاقوامی‘‘ سطح پر قبولیت دلائی جائے۔ اس سلسلے میں پہلا اہم قدم یہ تھا کہ عرب حکومتوں کو آمادہ کیا گیا کہ وہ 1974ء میں تنظیمِ آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کو ’’فلسطینی عوام کا واحد جائز نمائندہ‘‘ تسلیم کریں۔

اس کے بعد عرب حکومتوں کی مالی سرپرستی نے بتدریج پی ایل او کو سرکاری اور محتاط سیاست کا خوگر بنا دیا۔

نکبہ سے پہلے کی فلسطینی اشرافیہ کی حکمتِ عملی کو دہراتے ہوئے، پی ایل او نے بھی امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا اور صہیونی آبادکار نوآبادیات سے فلسطین کی مکمل آزادی کے مطالبے کو ’’اعتدال‘‘ کے نام پر محدود کرتے ہوئے ’’دو ریاستی حل‘‘ کے مطالبے تک لے آئی۔

امریکہ کے ساتھ خفیہ روابط اور یورپ کے ساتھ کھلے سفارتی تعلقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کبھی مکمل آزادی کا داعی رہنے والی پی ایل او، پورے فلسطین کی آزادی کے بجائے، فلسطینی سرزمین کے ایک چھوٹے سے حصے پر ایک محدود ریاست کے قیام کا مطالبہ کرنے لگی۔

اگر 1974ء کے بعد کی پی ایل او، 1920ء سے 1940ء کی دہائی کے درمیان مفاہمت اور تعاون پر یقین رکھنے والی فلسطینی اشرافیہ کے کردار کی تجدید تھی، تو 1993ء کے اوسلو معاہدوں پر دستخط کے بعد یہی پی ایل او ایک بار پھر اسی اشرافیہ کے اس دوسرے دھڑے میں تبدیل ہو گئی جس نے 1920ء تا 1940ء کی دہائی میں حزبِ زراعی  اور نیشنل ڈیفنس پارٹی  کی طرح صہیونی تحریک اور اس کے استعماری سرپرستوں کے ساتھ کھلا تعاون کیا تھا۔

آج کی  فلسطینی اتھارٹی (پی اے) انہی تعاون پسند قوتوں کا عکس معلوم ہوتی ہے۔

دوسری طرف یاسر عرفات کی قیادت میں پی ایل او، اور بعد ازاں اس کی جانشین فلسطینی اتھارٹی، ان تمام کوششوں کو دبانے میں مصروف رہی ہیں جن کا مقصد حزبِ استقلال اور کسان انقلابیوں کی اس مزاحمتی روایت کو زندہ کرنا تھا، جسے پہلے 1970ء کی دہائی کے وسط سے پی ایل او کے ریجیکشنسٹ فرنٹ (Rejectionist Front) نے اپنایا، اور بعد ازاں 1980ء کی دہائی کے اواخر اور 1990ء کی دہائی کے آغاز سے حماس، اسلامی جہاد اور پی ایل او کے باقی ماندہ بائیں بازو کے دھڑوں نے آگے بڑھایا۔

اس کا نقطۂ عروج 2007ء میں منتخب حماس حکومت کے خلاف وہ بغاوت تھی، جسے امریکہ، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی نے مشترکہ طور پر منظم کیا۔ یہ اسی اتحاد کی یاد تازہ کرتی ہے جس نے 1930ء کی دہائی میں حزبِ استقلال کو کچلنے کے لیے مشترکہ محاذ بنایا تھا۔

اس موقع پر فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز نے وہی کردار ادا کیا جو 1930ء کی دہائی میں امن دستے (Peace Bands)ادا کرتے تھے۔

1993ء سے فلسطینی عوام اسی صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

آج بھی ان کی جدوجہد ایک طرف صہیونی استعمار کے ساتھ تعاون کرنے والی فلسطینی اتھارٹی ہے، اور دوسری طرف آزادی کی علم بردار مزاحمت، جس کا مقصد آبادکار نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ ہے۔

غزہ میں جاری نسل کشی، اسرائیل اور اس کے مغربی سرپرستوں کا فلسطینی مزاحمت کے خلاف جواب ہے، جبکہ اسی دوران فلسطینی اتھارٹی نے بھی اپنے زیرِ انتظام مغربی کنارے میں مزاحمتی قوتوں کے خلاف کارروائیوں اور کریک ڈاؤن میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔

اس مقصد کے لیے اسے اسرائیلی قابض فوج اور مسلح صہیونی آبادکاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

تاہم، جس طرح 1920ء سے 1940ء کی دہائی تک فلسطینی اشرافیہ کا تعاون اور مفاہمت مزاحمت کو ختم کرنے میں ناکام رہی، اسی طرح آج کی فلسطینی اتھارٹی بھی اپنے سپرد کیے گئے اس مشن میں ناکام ہو رہی ہے کہ فلسطینی عوام کے دلوں سے مزاحمت کا جذبہ مٹا دے۔

بالآخر فلسطینی عوام کے مستقبل کا فیصلہ اسی مسلسل جدوجہد سے ہو گا، ایک طرف اسرائیل، اس کے مغربی سرپرست، فلسطینی اتھارٹی اور اس کی پشت پناہی کرنے والی دولت مند فلسطینی اشرافیہ، اور دوسری طرف آزادی کے لیے برسرِ پیکار مزاحمتی قوتیں۔

ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تعاون اور مزاحمت کی اس کشمکش کے باوجود، اور اسرائیل کی جانب سے نسل کشی بند کرنے سے مسلسل انکار کے باوجود، حالات کا پلڑا بدستور مزاحمت کے حق میں جھکتا دکھائی دیتا ہے۔

[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]

٭٭٭٭٭

Previous Post

غزہ کوئی استثناء نہیں! اسرائیل نے نسل کشی کی منصوبہ بندی عشروں قبل کر لی تھی

Next Post

ٹارچر ورثے میں ملا ہے!

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

3 جولائی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پندرہویں قسط

3 جولائی 2026
چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

3 جولائی 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | سترہویں قسط

3 جولائی 2026
Next Post
ٹارچر ورثے میں ملا ہے!

ٹارچر ورثے میں ملا ہے!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version