نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پندرہویں قسط

شیخ یحیٰ السنوار شہید رحمۃ اللہ علیہ کا شہرۂ آفاق ناول

by یحییٰ سنوار
in جون و جولائی 2026ء, ناول و افسانے
0

مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ بطلِ اسلام، مجاہد قائد، شہیدِ امت، صاحبِ سیف و قلم شیخ یحییٰ ابراہیم السنوار رحمۃ اللہ علیہ کےایمان اور جذبۂ جہاد و استشہاد کو جلا بخشتے، آنکھیں اشک بار کر دینے والے خوب صورت ناول اور خودنوشت و سرگزشت ’الشوک والقرنفل‘ کا اردو ترجمہ، قسط وار شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ یہ ناول شیخ نے دورانِ اسیری اسرائیل کی بئر سبع جیل میں تالیف کیا۔ بقول شیخ شہید اس ناول میں تخیل صرف اتنا ہے کہ اسے ناول کی شکل دی گئی ہے جو مخصوص کرداروں کے گرد گھومتا ہے تاکہ ناول کے تقاضے اور شرائط پوری ہو سکیں، اس کے علاوہ ہر چیز حقیقی ہے۔ ’کانٹے اور پھول‘ کے نام سے یہ ترجمہ انٹرنیٹ پر شائع ہو چکا ہے، معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نذرِ قارئین ہے۔ (ادارہ)


بیسویں فصل

غزہ شہر کی وحدت سٹریٹ پر فہمی بک سٹور کے چوراہے پر لوگوں اور گاڑیوں کا ہجوم ہے ، یہ مقام ہزاروں غزہ کے باشندوں اور سینکڑوں فوجی اور سول افسران اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے لیے ایک مرکزی محور ہے۔

سرايا کی عمارت میں جہاں غزہ کی  پٹی میں قبضے کا مرکزی ہیڈ کوارٹر ہے، سڑک گاڑیوں سے بھری ہوئی ہے، اور چونکہ کوئی ٹریفک سگنلز نہیں ہیں جو ٹریفک کو منظم کریں، اس لیے سب کو رکنا پڑتا ہے اور گاڑیاں ایک ایک انچ آگے بڑھتی ہیں۔ ایک فوجی گاڑی جسے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی  ملٹری پولیس کا کمانڈر چلا رہا ہے، آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے، اور اس نے اپنا بازو گاڑی کی کھڑکی پر رکھا ہوا ہے اور گاڑی کے ریڈیو سے عبرانی زبان میں ایک عجیب موسیقی کے ساتھ گانا بج رہا ہے۔

ہجوم میں سے ’’محمد‘‘ آگے بڑھا، جو چند ہفتے پہلے غزہ کی جیل سے فرار ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک تھا ، جب وہ گاڑی تک پہنچا تو اس نے اپنی پستول نکالی اور اسے پولیس کمانڈر کے سر اور دل کی طرف نشانہ بنایا، اور کئی گولیاں چلائیں، پھر لوگوں کے درمیان غائب ہو گیا، جہاں ایک گاڑی اس کا انتظار کر رہی تھی، جو اسے لے کر وہاں سے دور چلی گئی۔

فوج کی بڑی تعداد نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور لوگوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔ دکانیں بند کروا دیں، مار پیٹ اور توڑ پھوڑ شروع کر دی ، خفیہ ایجنسی کے افسران تفتیش کے لیے اور مجرموں کو پکڑنے کے لیے معلومات جمع کرنے کے لیے پہنچ گئے، لیکن یہ معلومات بے سود ثابت ہوئیں۔

چند دن بعد ایک فوجی جیپ شہر کی ایک مرکزی سڑک پر معمول کا گشت کر رہی تھی، آہستہ آہستہ چل رہی تھی ،سڑک کے قریب موجود ایک قبر کے پیچھے سے ایک نوجوان، جو چند دن پہلے جیل سے فرار ہوا تھا، نمودار ہوا اور اس نے بدوی قبیلے کی چابی گاڑی پر پھینکی، جس سے گاڑی میں دھماکہ ہو گیا، اور وہ مقام سے فرار ہو گیا، جبکہ زخمی فوجیوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی۔

چند دنوں بعد کچھ خود کار بندوقوں سے ایک فوجی گاڑی پر فائرنگ کی جانے لگی اور حملہ آور بغیر کسی مشکل کے واپس چلے گئے۔ یہ خبریں مقبوضہ علاقوں میں پھیل گئیں ، ہر محلے، ہر گھر، اور ہر مجلس میں گونجنے لگی ، سبھی ان حملوں کی سطح اور حملہ آوروں کی جرأت سے متاثر تھے اور قابض فورسز میں جو افراتفری پھیل گئی تھی اس سے خوش تھے۔ یہ ہمارے گھر میں ہونے والی کئی نشستوں میں سے ایک کا موضوع تھا۔

چند دنوں بعد پورا علاقہ بدترین خبروں سے جاگ اٹھا ، قابض فورسز اور ان کی انٹیلی جنس نے دو جوانوں کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کی جو کہ غزہ کی جیل سے فرار ہو گئے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ وہ حالیہ حملوں کے پیچھے تھے۔ انہیں ایک گھات لگا کر، ہزاروں گولیوں سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، جو کہ بریج کیمپ کے شمال میں ایک ذیلی سڑک پر لگایا گیا تھا۔ یہ خبریں یونیورسٹی تک پہنچ گئیں ، جس پر ہم نے تعلیم کو معطل کر دیا اور ایک مظاہرہ کیا جس میں فوجیوں کے ساتھ تصادم ہوا ، یہ مظاہرے پورے علاقے میں پھیل گئے۔

چند دنوں بعد۶ اکتوبر ۱۹۸۷ء کو  مغرب کی اذان کے بعد ان جوانوں کا ایک اور گروپ اور ان کے کچھ معاونین اپنی گاڑیوں میں غزہ کے شجاعیہ  محلے کی ایک سڑک پر حرکت کر رہے تھے ، جب ان پر کئی سول گاڑیوں نے حملہ کر دیا اور فائرنگ شروع کر دی۔ پھر بڑی فوجی فورسز بھی شامل ہو گئیں اور جوانوں کے ساتھ جھڑپ شروع ہوئی جس میں انٹیلی جنس کا ایک افسر مارا گیا جو کہ اس آپریشن  کی نگرانی کر رہا تھا ، تمام جوان شہید ہو گئے اور محلے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

ابراہیم میرے پاس آیا اور مجھے بتایا کہ وہ عثمان مسجد میں نماز جمعہ کے لیے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اکٹھا کریں گے، اور وہاں سے ایک عظیم الشان مظاہرہ شہداء کی یاد میں اور ان کی  حرمت کے لیے نکلے گا۔ اس نے مجھے جانے کی ترغیب دی ، بڑی تعداد میں نوجوان مسجد میں جمع ہوئے اور وہاں نماز جمعہ ادا کی۔ خطبہ اور نماز دونوں معمول کے مطابق تھے، جب نماز ختم ہوئی اور نمازی مسجد سے نکلنے لگے تو کچھ سرگرم کارکن ابراہیم کے گرد جمع ہو گئے اور نعرے لگانے لگے:

بالروح بالدم نفديك يا فلسطين…… بالروح بالدم نفديك يا شهيد

’’ اپنی جان اور اپنے خون سے ہم تم پر قربان اے فلسطین…… اپنی جان اور اپنے خون سے ہم تم پر قربان اے شہید!‘‘

لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور ایک عظیم الشان مظاہرہ شجاعیہ کی سڑکوں پر پھیل گیا،  شہداء کے خاندانوں کے گھروں اور ان کے لیے لگائے گئے تعزیتی خیموں کے پاس سے گزرتا ہوا ،  جب بھی یہ مظاہرہ کسی ایسی جگہ پہنچتا تو رُک جاتا اور نعرے بلند ہو جاتے۔

چند منٹوں کے بعد فوج کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی اور ان کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئی ، جن میں پتھر اور خالی بوتلیں پھینکی گئیں۔ یہ جھڑپیں شام تک جاری رہیں۔ یہ پہلی بار تھا  کہ اس علاقے میں اس طرح عوامی مظاہرے نکلے، جو بغیر کسی شک و شبہ کے  مسلح جدوجہد کی حمایت میں تھے، یہاں تک کہ میرے بھائی محمود نے جب ہم اس دن شام کو گھر میں جمع ہوئے تو کہا : تم سب پاگل ہو، اس طرح کے مظاہرے کیسے نکل سکتے ہیں جو مسلح جدوجہد کی واضح حمایت میں ہوں۔

٭٭٭٭

محمد کی منگیتر نے اپنی پڑھائی اور امتحانات مکمل کر لیے تھے اور محمد شادی کی تیاریاں کرنے کے لیے غزہ سے واپس آ گیا تھا ، اس نے رام اللہ میں ایک فلیٹ کرائے پر لیا اور اسے تمام ضروریات سے آراستہ کیا۔ میری ماں ایک بھر پور اور مکمل شادی کی تقریب چاہتی تھی ، لیکن محمد اور ابراہیم ایک سادہ اور چھوٹی خاندانی تقریب چاہتے تھے ، اختلافات شدت اختیار کر گئے ، محمد رام اللہ میں شادی کرنا چاہتا تھا تاکہ خاندان اور قریبی رشتہ دار دو یا تین گاڑیوں میں رام اللہ جا سکیں اور وہاں تقریب ہو کر معاملات آسانی سے نمٹ جائیں ، ابراہیم چاہتا تھا کہ تقریب سادہ ہو اور گھر میں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ ہو تاکہ میری ماں اور بہن بھائی اور ہمارے پڑوسی خوش ہو سکیں۔ محمود اور حسن کے لیے یہ معاملہ زیادہ اہم نہیں تھا، ان کے لیے یہ اہم تھا کہ سب متفق ہو جائیں۔ فاطمہ اور تہانی میری ماں کے ساتھ تھیں ، جبکہ میں اور مریم محمد اور ابراہیم کے ساتھ تھے۔ آخر کار سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ ہمارے خاندان سے ایک چھوٹا گروپ رام اللہ جائے گا تاکہ محمد اور اس کی دلہن کا نکاح ہو سکے، اور پھر دلہن اور اس کے خاندان کے جو لوگ چاہیں غزہ آ جائیں گے جہاں ابراہیم اور مریم کا نکاح ہو گا۔ خواتین کی جانب سے شادی کی تقریب جیسی وہ چاہتی ہیں منعقد ہو گی، اور اگلے دن محمد اور اس کی دلہن دوبارہ رام اللہ جا سکیں گے۔ تمام امور منصوبے کے مطابق بغیر کسی مشکلات کے مکمل ہو گئے ، اس سے پہلے مجھے اور ابراہیم کو ہمارے مشترکہ کمرے سے منتقل ہونا پڑا، جہاں اس کے اور اس کی دلہن کے لیے انتظام کیا گیا تھا، اور مجھے عارضی طور پر مہمانوں کے کمرے میں رہنا پڑا۔ شادی کے بعد میں اپنی ماں کے ساتھ ان کے کمرے میں رہنے لگا۔ یہ واضح ہو گیا کہ یہ گھر تین جوان خاندانوں اور میری ماں کے لیے ناکافی ہو گا۔ انجینئر محمود نے گھر کے اوپر ایک دوسری منزل بنانے کی تجویز دی، اور ہمیں بتایا کہ تھوڑی محنت اور انتظار کے ساتھ یہ انجینئرنگ کے لحاظ سے ممکن ہے۔ ابراہیم نے اس کی تجاویز سے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ اس پر عمل درآمد کر سکتا ہے، چنانچہ سب نے فیصلہ کیا کہ شادی کے دو ماہ بعد اس پر کام شروع کیا جائے گا۔

٭٭٭٭

اسی سال آٹھ دسمبر کی شام ، جب ایک بس میں کئی فلسطینی مزدور اپنے کام سے واپس غزہ جا رہے تھے، اور بس حاجز ایریز کے قریب پہنچ چکی تھی، تو سڑک کے دوسری طرف سے ایک بڑی گاڑی جسے ایک صہیونی چلا رہا تھا، تیزی سے شمال کی طرف جا رہی تھی ۔ جب وہ بس کے قریب پہنچی، تو اچانک بس کی طرف مڑ گئی اور اسے کچل دیا۔ اس حادثے میں کئی مزدور ہلاک ہو گئے اور دیگر زخمی ہو گئے۔ ہلاک شدگان کو ان کے گھروں میں اور زخمیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ، یہ خبر غزہ میں تیزی سے پھیل گئی کہ یہ حادثہ جان بوجھ کر مزدوروں کو قتل کرنے کے لیے کیا گیا تھا ، ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور اس حادثے کے بارے میں باتیں کرنے اور معلومات حاصل کرنے لگے۔

ایک نوجوان شیخ احمد کے گھر چپکے سے داخل ہوا تاکہ انہیں معاملے کی اطلاع دے اور سادہ طریقے سے پوچھے کہ کیا کرنا چاہئے۔ شیخ نے ان جنازوں کو بڑے پیمانے پر مظاہروں اور قابض فوج کے ساتھ شدید تصادم کی طرف لے جانے کا مشورہ دیا۔ وہ نوجوان انتظامات کرنے کے لیے نکل پڑا  ، جب جبالیا سے جنازے نکلے تو ان کے پیچھے ایک بڑی جماعت جمع ہو گئی، جو نعرے، تکبیریں اور تسبیحات بلند کر رہی تھی۔ قابض فوج آئی اور شدید تصادم شروع ہو گیا جو آدھی رات تک جاری رہا۔ جب ابراہیم رات کو گھر واپس آیا تو اس نے میرے کان میں سرگوشی کی کہ اگلے دن اسلامی یونیورسٹی مظاہروں کا مرکز ہو گی اور ان لوگوں نے اپنے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ صبح کے وقت اسرائیلی ریڈیو نے اعلان کیا کہ غزہ کے فوجی حاکم نے اسلامی یونیورسٹی کو تین دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابراہیم نے اپنی گاڑی میں مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور کارکنان کو مطلع کیا کہ منصوبہ تبدیل کر دیا گیا ہے اور مظاہروں کو یونیورسٹی کی بجائے تمام علاقوں میں منتقل کیا جائے گا ، ہر گروپ کو اپنے علاقے میں صورتحال کو بھڑکانا تھا۔

نصف دن کے دوران غزہ کا پورا علاقہ شمال سے جنوب تک قابض فوج کے خلاف آگ کی طرح بھڑک اٹھا ، ہر علاقے میں ہزاروں لوگوں نے شدید مظاہرے کیے اور قابض فوج کے ساتھ شدید تصادم ہوا۔ ہر علاقے میں درجنوں زخمی ہوئے ، زخمیوں کو ہسپتالوں یا قریبی کلینکس میں منتقل کیا گیا ، ہر نئے زخمی کے ساتھ عوامی جذبات مزید بھڑک اٹھتے اور ان کا غصہ زیادہ ہو جاتا۔ جبالیا کے کیمپ میں انتفاضہ کا پہلا شہید، حاتم السیس، شہید ہوا ،دوسرے دن جمعرات کی صبح ہی سے واقعات پھوٹ پڑے ، درجنوں نقاب پوش نوجوان سڑکیں بند کرنے لگے، رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور ان مزدوروں کی راہ روکی جو 1948ء میں مقبوضہ ہونے والے علاقوں کی طرف کام کے لیے جا رہے تھے۔ قابض فوج نے سڑکیں کھولنے کی کوشش کی ، لیکن ہر بار جب ایک سڑک کھولی جاتی تو دوسری جگہ بند ہو جاتی ، نقاب پوش نوجوان قابض فوج پر پتھر اور خالی بوتلیں پھینک کر تصادم کر رہے تھے ، دوپہر کے وقت پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر ریلیاں نکلی ، جن میں فلسطینی پرچم اٹھائے گئے، فلسطین اور شہداء کے نعرے لگائے گئے اور یہودی آبادکاری کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

ایک بوڑھا آدمی اپنے گھر میں جلدی سے داخل ہوا اور اپنے بیٹے کے کمرے میں گیا جو ابھی تک صبح دس بجے کے بعد بھی سو رہا تھا ، تم ابھی تک سو رہے ہو؟ نوجوان نے حیرت سے اپنے والد کی طرف دیکھا اور اپنی آنکھیں ملتے ہوئے سوچا ، مجھے مظاہروں اور تصادم میں شرکت کے لیے جگا رہے ہیں میرے والد ؟ وہ والد جو چند دن پہلے تک قابض فوج کے خلاف کسی بھی کارروائی کی خبر سے کانپتے تھے اور ہمارا گھر بند کر دیتے تھے ؟  اس دنیا میں ایسا کیا ہوا کہ یہ بڑی تبدیلی آئی ؟ مسجد کے قریب سے لاؤڈ اسپیکر پر یہ آواز آ رہی تھی :

قسماً بالله الجبار، لتعودي يادار،
  باسم الدين، على فلسطين، ليفر الغدار،
 مشينا الدرب، خضنا الصعب، تخطينا الحدود،
 مهما الشوك، الصبر المر، لتعودي يا دار

’’اللہ جبار کی قسم! اے وطن، تو ضرور لوٹے گا۔
دین کے نام پر، فلسطین میں، تاکہ غدار بھاگ کھڑا ہو۔
ہم اس راہ پر چلے، دشواریاں جھیلیں، اور حدیں پار کر گئے۔
کانٹے کتنے ہی ہوں، صبر کتنا ہی تلخ ہو، اے وطن، تو ضرور لوٹے گا۔‘‘

 ہر چوراہے پر یا ہر راستے کے کنارے سینکڑوں نوجوان، جو اپنے ساتھ لائی ہوئی یا مستعار لی ہوئی کوفیہ پہنے ہوئے تھے، رکاوٹیں کھڑی کرتے، ٹائر  جلاتے اور قابض فورسز سے ٹکراتے تھے۔ آنسو گیس کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ناک مسلسل بہہ رہی تھی، وہ فوراً گری ہوئی گیس کی شیل دوبارہ قابض فوجیوں کی طرف پھینک دیتے تھے تاکہ وہ بھی گیس کا مزہ چکھیں۔ درجنوں کی تعداد میں ایک زخمی کو اٹھاتے تھے جسے  گولی لگی ہوتی تھی۔ گولیوں کی آوازیں جنگ کی طرح ہوتی تھیں اور مظاہرین کی چیخ و پکار، کوئی کسی سے مدد مانگتا اور مساجد کے لاؤڈ اسپیکر حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ابراہیم اپنی گاڑی لے کر نکلا، میں نے اسے پکارا : کہاں جا رہے ہو، ساری سڑکیں رکاوٹوں سے بھری ہوئی ہیں؟ پیدل ہی چلے جاؤ اپنے کام پر۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا : فکر نہ کرو احمد، فکر نہ کرو۔ میں اسے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کرتا ہے۔ جیسے ہی وہ پہلی رکاوٹ پر پہنچا، مظاہرین نے فوراً اسے راستہ دیا، جلتے ہوئے ٹائر کو لوہے کی لمبی سلاخوں سے ہٹایا جو انہوں نے اس مقصد کے لیے تیار کی تھی ، اس نے ایک کے بعد ایک رکاوٹ پار کی جیسے وہ معرکے کا اولین قائد ہو ، شاید وہ یہی تھا۔

اس دن عصر کے وقت ہم تقریباً تیس نوجوان اکٹھے ہو گئے ، ایک گشتی فوجی دستہ، تقریباً بیس فوجیوں پر مشتمل آ گیا ، ہم فوراً گلیوں کے کونوں پر بٹ گئے اور جیسے ہی وہ سڑک کے درمیان پہنچے، پتھر بارش کی طرح ان پر برسنے لگے۔ انہوں نے ہوش و حواس کھو کر ہر سمت میں گولیاں برسانا شروع کر دیں ، گولیوں کی آواز سن کر سینکڑوں مرد اور عورتیں باہر نکل آئے اور سب نے قابضین پر پتھراؤ شروع کر دیا، جنہیں پاگل پن نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور وہ بے تحاشہ گولیاں چلا رہے تھے ، زخمی گرنے لگے اور پتھروں کی بارش جاری رہی۔ ایک فوجی اپنی جگہ پر بے حس و حرکت تھا، اس کے کندھے پر ایک بھاری وائرلیس سیٹ تھا، وہ مدد کے لیے بلا رہا تھا ، اس نے مزید گولیاں چلانے کی کوشش کی، لیکن اس کی ٹانگیں اسے سنبھال نہیں سکتی تھی اور وہ زمین پر گر کر عبرانی میں اپنی ماں کو پکارنے لگا : אמא (ایما)  یعنی میری ماں، اے ماں! بیسیوں جیپیں مدد کے لیے دوڑیں، راستے میں ہر گلی سے مظاہرین سے ٹکرائیں، بڑی محنت کے بعد پہنچیں اور اپنے فوجیوں کو پتھراؤ کے درمیان ڈھونڈ لیا۔ درجنوں بلکہ سینکڑوں زخمی دار الشفاء ہسپتال پہنچے، کچھ ایمبولینسز میں اور زیادہ تر شہریوں کی گاڑیوں میں، دروازے کھلے ہوئے اور درجنوں لوگ زخمی کے ساتھ لٹکے ہوئے، ہزاروں لوگ خون میں تر بتر ہسپتال کے مدخل پر ہو گئے، بازوؤں سے خون بہہ رہا تھا اور طبی عملہ انہیں پیچھے دھکیلنے لگا۔ وہ چیخ رہے تھے کہ یہ ہماری صلاحیت اور ہسپتال کی گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔جب بھی کوئی گاڑی زخمی کو لے کر آتی، ہارن بجاتی یا سائرن بجاتی،  ہسپتال کے مدخل پر لوگوں کا سمندر خود بخود حرکت میں آ جاتا ، پورا ہجوم یک آواز ہو کر نعرے لگاتا، فلسطین، شہداء، زخمی اور قبضے کے خلاف اور اس کے لیڈروں اور ان کے کرتوتوں کے خلاف۔ بڑی تعداد میں فوجی ہسپتال کی علاقے میں پہنچنے لگے اور مظاہرین پر بے پناہ آنسو گیس اور گولیاں چلانے لگے۔ ہزاروں پتھر فوجیوں پر برسنے لگے، فائرنگ میں اضافہ ہو گیا اور ہجوم پیچھے ہسپتال کے اندر چلا گیا۔ یک آواز ہو کر نعرے بلند ہوئے : ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر، خیبر  خیبر یا یھود، جیش محمد سوف یعود، اللہ اکبر، بسم اللہ، اللہ اکبر‘‘۔  فوجی ان کے پیچھے ہسپتال کے مدخل کی طرف دوڑ پڑے، سب دوبارہ آگے بڑھے اور نوجوان اپنے ہاتھوں میں پتھر لے کر تیار ہو گئے۔ اس ہجوم کے سامنے فوجی پیچھے ہٹنے لگے، ایک فوجی زمین پر گر گیا، اور لوگ اسے مارنے اور لاتیں مارنے لگے، اس کے ہتھیار اور فوجی سامان چھین لیا اور اسے زیر جامہ میں بھاگنے دیا، پھر  جب ایک عقل مند نے خبردار کیا کہ ہتھیار رکھنے سے وہ ہزاروں کو مار سکتے ہیں ، ان کا ہتھیار پھینک دو تو اس کا ہتھیار پھینک دیا۔

عوام کا حوصلہ آسمانوں کو چھو رہا تھا جب انہوں نے دیکھا کہ اسرائیلی فوج کا افسانہ فلسطینیوں کے شدید غصے کے  پتھروں کے آگے ٹوٹ رہا ہے، اور جھڑپوں، شہداء، زخمیوں اور بہادری کی کہانیاں ہر گھر اور ہر  جگہ تک پہنچ رہی ہیں، جو نوجوانوں اور لڑکوں میں قربانی اور ایثار کی روح کو بھڑکا رہی ہیں۔

شام میں  ابراہیم نے شیخ احمد سے شیخ کے گھر میں ملاقات کی، جہاں شیخ نے بیان کا متن لکھوایا جو اگلے دن جمعہ کی نماز میں مسجدوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ ابراہیم نے اس وقت چھپائی کا عمل شروع کیا جب اصل نسخہ تیار کیا گیا تھا۔ پھر ایک خفیہ پرنٹنگ پریس، جو ایک ایسے اسٹور میں چھپایا گیا تھا جو پرانے سامان کا گودام لگتا تھا، وہاں سے ہزاروں نسخے چھپنے لگے۔ ہر ایک گروپ کو پیک کیا گیا اور پھر یہ نسخے ابراہیم نے اپنی کار کی ڈگی میں رکھے اور عمومی سڑک پر آگے بڑھنے لگا۔ اس کے آگے ایک اور گاڑی چل رہی تھی تاکہ وہ اچانک کسی چیک پوسٹ میں نہ پھنس جائے۔ آگے والی گاڑی نے پچھلے شیشے پر خاص لائٹس لگا رکھی تھیں تاکہ پچھلی گاڑی اسے دیکھ سکے اور کسی چیک پوسٹ پر رکنے یا سست ہونے سے پہلے خبردار ہو جائے۔ پہلے والی گاڑی کے پاس کوئی ممنوعہ چیز نہیں تھی، اس لیے وہ آسانی سے چیک پوسٹ پار کر سکتی تھی ، دونوں گاڑیاں پمفلٹ تقسیم کرنے لگیں، جہاں ابراہیم ہر علاقے کی ایک مسجد میں پمفلٹس کا ایک بنڈل رکھتا اور پھر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ، کچھ دیر بعد ایک نوجوان آ کر ان پمفلٹس کو ایک مخصوص جگہ چھپا دیتا تاکہ اگلے دن جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں کے سامنے آئیں۔

جمعہ کے دن جب نمازی نماز ختم کر کے مسجد سے نکل رہے تھے، تو انہیں زمین پر پمفلٹس کے ڈھیر ملے، ہر ایک پتھر پر رکھا ہوا تھا  ، ہر کسی نے  اپنے گھر جاتے وقت پڑھنے کے لیے ایک نسخہ اٹھایا، ، یہ بیان ’’حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ‘‘ کے نام سے دستخط شدہ تھا جس کا عنوان تھا ’’و أنا الغريق فما خوفي من الغرق‘‘ (میں تو پہلے ہی ڈوب چکا ہوں تو اب ڈوبنے سے کیا ڈرنا؟) اور اس میں لوگوں کو مزاحمت اور جدوجہد کی روح جگانے کی کوشش کی گئی تھی ، اس نے لوگوں کو اکٹھا کیا اور احتجاج کے لیے اکسایا، اور یوں ہجوم بڑھتا گیا، نعرے بازی کی آواز بلند ہونے لگی، اور لوگ اسرائیلی قبضے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

ہزاروں افراد ہر علاقے میں شہروں اور کیمپوں کی سڑکوں پر نکل آئے۔ اس دن ہم بھی ایک مظاہرے میں شامل ہو گئے جو مسجد سے شروع ہوا تھا، اور یوں مظاہرے کیمپس کی سڑکوں سے ہوتے ہوئے مین روڈ کی طرف بڑھنے لگے۔ جیسے جیسے ہم فوجیوں کے قریب پہنچتے گئے،  وہ اور   فائرنگ کرتے، لوگوں کا حوصلہ اور بڑھتا گیا، جس کی وجہ سے فوجیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا ، یہاں تک کہ ہم سرائے کے قریب پہنچ گئے۔ وہاں فائرنگ بہت زیادہ ہونے لگی، ایک ہیلی کاپٹر مظاہرین کے اوپر آ کر آنسو گیس کے بادل چھوڑنے لگا ، اس دن مجھے لگا کہ غزہ کا بیشتر حصہ اور اس کا کیمپ آزاد ہو گیا ہے، بس سرائے کی عمارت اور اس کے ارد گرد ہی فوجی موجود تھے، اور یہی صورتحال پورے علاقے میں تھی۔

بلاطۃ نامی کیمپ جو نابلس شہر کے قریب واقع ہے، وہاں مہینوں تک بارڈر گارڈز کے فوجیوں کے ظلم و ستم جاری رہے، جن میں زیادہ تر  دروز  برادری سے تھے ، انہوں نے علاقے کی عورتوں اور لڑکیوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا تھا ،کیمپ میں پچھلے مہینوں سے مسلسل غم و غصہ کی  کیفیت تھیں  اس دوران غزہ کے واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور لوگ جمعہ کے دن مظاہرہ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، جو کہ اسرائیلی فوج کے ساتھ شدید تصادم میں بدل گیا۔ اسی طرح کی صورتحال بیت لحم کے قریب واقع الدہیشہ کیمپ میں بھی دیکھنے کو ملی۔

٭٭٭٭

اسی دوران بیر زیت یونیورسٹی کو فوجی حکم کے تحت بند کر دیا گیا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد اور اس کی بیوی ہمارے پاس غزہ آئے اور چند دن کے لیے ہمارے ساتھ رہے۔ عام ہڑتالوں کی حالت میں، بہت سے لوگوں نے ایک دوسرے سے ملنے کا موقع تلاش کیا ، اس دوران، فاطمہ بھی اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ہمارے گھر آئی اور ہم سب اکٹھے ہو گئے۔ گھر مردوں، عورتوں، بچوں اور بچیوں سے بھر گیا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ جب ہم بچے تھے، ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتے تھے اور اب ہماری چھوٹی سی فیملی ایک فوج کے مانند ہو گئی ہے۔  میں نے مذاق میں یہ بات کہی، تو میری ماں نے کہا : نبی پر درود بھیجو  ، پھر سب نے کہا : اللهم صل على سيدنا محمد ۔

دوپہر کے کھانے کے دوران جو کہ ایک دعوت کے مانند تھا، ایک لمبی سیاسی بحث چھڑ گئی کہ کیا ہو رہا ہے اس کا فائدہ ہے یا نقصان؟ مختلف آراء تھیں ، کچھ حمایت میں تھے، کچھ مخالفت میں، کچھ خوفزدہ تھے اور کچھ نتائج پر پراعتماد تھے۔ میرا بھائی محمود یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب جلد ہی ختم ہو جائے گا جب لوگ اپنا غصہ نکال لیں گے اور یہ کچھ فائدہ مند نہیں ہو گا۔ ابراہیم خاص طور پر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ یہ لہر جلد ہی ختم ہو جائے گی۔ شام کو اسرائیلی ٹیلی ویژن کے عربی نیوز بلیٹن میں وزیر اعظم اسحاق شامیر کی تقریر آئی، جس میں اس نے کہا کہ فلسطینی لوگ تشدد سے کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور یہ تشدد بیکار ہے اور اسے سختی سے نمٹا جائے گا۔

محمود نے ابراہیم سے کہا : دیکھا، میری بات سچ ثابت ہوئی؟ ابراہیم ہنستے ہوئے بولا، بھائی! اس آدمی نے پہلی بار تسلیم کیا ہے، تم دیکھ نہیں رہے کہ اس نے ہمیں فلسطینی عوام کہا ہے؟ کیا تم نے پہلے کبھی شامیر یا دوسرے دائیں بازو کے اسرائیلی رہنماؤں سے سنا ہے کہ وہ ہمیں فلسطینی عوام کہیں؟ کل تک شامیر ہمیں علاقے کے لوگ یا غزہ، یہودا اور سامریہ کے باشندے کہتا تھا، لیکن آج اس نے ہمیں فلسطینی عوام کہا ہے۔ محمود نے اپنے کھانے میں مصروف ہونے کا بہانہ کیا تاکہ گفتگو کو جاری نہ رکھے یا اپنی شکست ظاہر نہ کرے۔

رات کے دوران مرد حضرات کے ایک گروہ نے شیخ احمد کی سربراہی میں اجتماع کیا اور مظاہرے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ شیخ احمد نے اپنی رائے بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوم ایک عظیم قوم ہے اور وہ ہر قیمتی چیز کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے ، اس نے پہلے بھی ثابت کیا ہے اور دوبارہ بھی ثابت کرے گی کہ وہ توقع سے زیادہ تیار ہے، بلکہ کئی گنا زیادہ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بغاوت اور انتفاضہ ایک مستقل حالت میں بدل جائے، تاکہ یہ فلسطینی قوم کی روزمرہ زندگی کا محور بن جائے ، ہماری زندگی کا ہر پہلو اس محور کے ساتھ مطابقت کرے، چاہے وہ تعلیم ہو، کام ہو، صحت ہو یا زندگی کے دیگر معاملات، یہاں تک کہ ہم اپنے اہداف حاصل کر لیں، یعنی قبضے کا خاتمہ اور وطن کی آزادی۔ انہوں نے کہا : ہم نے اللہ کی برکت سے اس مرحلے کے لیے سالوں کی محنت اور تربیت کی ہے، اور اب ہم نے آغاز کیا ہے، ہمیں رکنا نہیں چاہیے اور پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بلکہ آگے بڑھنا ہے اور اپنے کام کے معیار کو بلند کرنا ہے، اور مرحلہ بہ مرحلہ اپنے اہداف کی طرف بڑھنا ہے ، ہماری قوم یہ ثابت کرے گی کہ وہ اس مقصد کے لائق ہے اور اللہ کی برکت سے کامیاب ہو گی۔

٭٭٭٭

حسن اور حسین  دونوں بھائی محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے ، واپسی کے دوران حسین نے اپنے بھائی حسن سے کہا : کل کے واقعات آج کی طرح ہوں گے، یقینی طور پر مقابلے ہوں گے، زخمی لوگ گریں گے، اور انہیں الشفاء ہسپتال منتقل کیا جائے گا، جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو جائیں گے، اور قابض افواج آئے گی اور لوگوں کو منتشر کرے گی۔ حسن نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا : اگر ایسا ہے تو ہمیں ابھی سے تیار ہونا چاہیے۔ حسین نے حیرت سے پوچھا : کیسے ؟حسن نے کہا :میرے ساتھ آؤ ! وہ گھر گئے اور ایک بڑا پلاسٹک کا گیلن لیا، قریبی پٹرول پمپ پر گئے اور جو پیسے ان کے پاس تھے، ان سے پٹرول خریدا ، پھر وہ واپس محلے کے کنارے کی ایک خالی جگہ پر گئے، جہاں انہوں نے بڑی تعداد میں خالی بوتلیں جمع کیں اور ان میں پٹرول بھرنے لگے۔ انہوں نے تقریباً چالیس بوتلیں بھریں، پھر کپڑے کے ٹکڑے کاٹ کر انہیں بوتلوں کے منہ میں ڈال دیا، تاکہ پٹرول تک پہنچ سکیں ، پھر انہوں نے بوتلوں کو صندوقوں میں رکھا، اور ایک صندوق حسن نے اٹھایا اور دوسرا حسین نے، اور وہ دار الشفاء ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے ، وہاں انہوں نے صندوقوں کو ایک زیتون کے درخت کے نیچے چھپا دیا اور واپس گھر چلے گئے۔ صبح کے وقت شہر میں شورش برپا ہوئی اور زخمیوں کو الشفاء ہسپتال منتقل کیا گیا۔ لوگوں کی بھیڑ ہسپتال کی طرف بڑھنے لگی اور دکانوں میں نعرے بازیاں شروع ہو گئیں ’’خیبر خیبر یا يهود جيش محمد سوف يعود‘‘  جیسے نعرے گونجنے لگے۔

دوپہر کے وقت بڑی تعداد میں قابض فوجی دستے ہسپتال کے علاقے کو گھیرنے لگے اور مظاہرین پر حملہ شروع کر دیا ، حسین ہسپتال میں موجود تھا اور قابض فوجیوں کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ جب فوجی جمع ہونا شروع ہوئے تو اس نے اندر سے بوتلیں تیار کرنی شروع کیں اور ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ایک خالی ڈرم رکھا ، فوجی آگے بڑھے اور مظاہرین سے جھڑپ شروع ہو گئی۔ حسین نے ڈرم کو دیوار کے ساتھ رکھا اور ایک بوتل اٹھا کر ڈرم پر چڑھ گیا۔ اس نے بوتل کو آگ لگا کر ایک فوجی جیپ کی طرف پھینک دیا جس پر پتھراؤ ہو رہا تھا۔ بوتل ٹوٹ گئی اور جیپ پر آگ لگ گئی۔ فوجی چیخنے لگے اور پیچھے ہٹ گئے ، وہ اس جگہ پر فائرنگ کر رہے تھے جہاں سے بوتل آئی تھی، حسین نے ڈرم کو پیچھے ہٹایا جبکہ فوجی پتھراؤ اور بوتل کی جگہ پر مشغول تھے، اس نے دوسری بوتل اٹھا کر آگ لگائی اور ان کی طرف پھینکی ، اس طرح آگے پیچھے بوتلیں پھینکتا رہا اور مظاہرین کی بڑی تعداد پتھراؤ کرتی رہی۔ جھڑپیں سورج غروب ہونے کے بعد تک جاری رہیں ، حسین نے اکیلے ہی اس دن چالیس بوتلیں پھینکی اور اس کا بھائی حسن بھی اس کی مدد کر رہا تھا۔

رات کو ایک لڑکے نے اپنے والد کی ہتھوڑی اور کچھ کیلیں اٹھا لیں اور کچھ چھوٹے لکڑی کے ٹکڑوں میں کیلیں ٹھونکنے  لگا۔ اس نے ان لکڑی کے ٹکڑوں کو اس راستے میں نصب کیا جہاں سے فوجی جیپیں گزرتی تھیں ، تاکہ کیلوں کا نوک دار حصہ اوپر ہو اور فوجی گاڑیوں کے ٹائروں کو نقصان پہنچائے۔ وہ دونوں دور بیٹھ کر اپنے کام کا نتیجہ دیکھنے لگے۔ جب فوجی جیپیں تیزی سے مظاہرین کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچی تو چار گاڑیوں کے ٹائر پنکچر ہو گئے اور وہ رک گئیں جس سے باقی گاڑیوں کا راستہ بھی بند ہو گیا۔ لڑکے خوشی سے اچھلنے لگے اور نعرے لگاتے رہے ’’خيبر خيبر يا يهود جيش محمد سوف يعود‘‘ انہیں یہ خیال نہیں آیا کہ انہیں کیلوں کو بھی وہاں سے ہٹانا چاہیے تھا جو انہوں نے پیچھے چھوڑ دی تھیں۔ ابراہیم شام کے وقت اپنی گاڑی اس کچے راستے پر چلا رہا تھا کہ اچانک اس کی گاڑی کا ایک ٹائر پنکچر ہو گیا ، وہ نیچے اتر کر وجہ جانچنے لگا ، اس نے جیک نکالا اور پنکچر ٹائر کو ٹھیک کرنے لگا۔ غصے سے بھرا ہوا اور اس کی آنکھوں میں غصے کی چمک تھی ، جب اس نے ٹائر اٹھایا اور کیل کو دیکھا جو ایک لکڑی کے ٹکڑے میں پھنسی ہوئی تھی، تو وہ ہنستے ہوئے بولا : شعب جبار، شعب جبار۔ اس نے ٹائر بدل دیا اور حسن کی ورکشاپ کی طرف بڑھا جہاں اس نے حسن سے مضبوط تاروں کے ہزاروں چھوٹے ٹکڑے تیار کرنے کو کہا۔ حسن نے ہر ٹکڑے کو چند سینٹی میٹر لمبائی میں کاٹا، پھر درمیان سے اسے ایک زاویے پر موڑ دیا اور ہر دو ٹکڑوں کو برقی ویلڈنگ سے جوڑ دیا ، اس طرح ہر ٹکڑا پرندے کے پاؤں کی طرح ہو گیا  جو زمین پر ٹک سکے۔ حسن نے چند گھنٹوں میں بڑی مقدار میں یہ ٹکڑے تیار کر لیے ، ابراہیم کو بلایا کہ وہ انہیں لینے آئے اور اسے گھر چھوڑ دے۔ پھر ابراہیم نے انہیں مختلف علاقوں میں سرگرم کارکنوں میں تقسیم کیا تاکہ وہ انہیں قابض فوجی گاڑیوں کے سامنے  جب وہ نقاب پوشوں کا پیچھا کرنے نکلیں پھینک سکیں ۔

اگلے دن جہاں بھی اور جب بھی قابض فوجی گاڑیاں گزرتیں، ان کے ٹائر پنکچر ہو چکے ہوتے اور گاڑی ایک طرف جھکی ہوئی ہوتیں۔ فوجی خود کو جال میں پھنسا ہوا محسوس کر رہے تھے، نہ وہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے، اور نہ ہی وہ اس حالت میں رہ سکتے تھے۔ وہ مدد طلب کرتے اور مزید فوجی آ جاتے جو کہ مظاہرین اور رکاوٹوں سے ٹکراتے، یا ان کا بھی وہی انجام ہوتا جو ان کا ہوا تھا جن کی مدد کو وہ آئے تھے۔  یہ ایک بہت ہی مزے دار اور مضحکہ خیز دن تھا، ان کی گاڑیوں کی حالت سے ایسا لگتا تھا کہ ان کی زیادہ تر ربڑ کے ٹائر والی گاڑیاں ناکارہ ہو گئی تھیں یا جو بچی تھیں وہ بھی کام کرنا چھوڑ چکی تھیں ۔

انہوں نے لوہے کی پٹریوں والے ٹینکوں کو میدان میں اتارا، جس سے لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے جب انہوں نے دیکھا کہ دشمن الجھ رہا ہے اور ہسٹیریا میں مبتلا ہو رہا ہے۔ اس سے لوگوں کا حوصلہ اور بڑھ گیا۔ ہم اس کام کے دوران ایک خطرناک کھیل کھیل رہے تھے جس میں ایک چابی کے سوراخ میں کیل ٹھونک کر اسے ایک دیوار پر زور سے مارتے تھے ، اس سے چابی کے سوراخ میں موجود سلفر جو کہ ماچس کی تیلیوں سے نکالا گیا ہوتا تھا، دھماکے سے جل اٹھتا اور ایک بہت زور دار دھماکہ ہوتا۔  یہ کھیل کیمپ کے بچوں میں بہت مشہور تھا جس کی وجہ سے اکثر والدین اپنے بچوں کو اس کھیل سے روکنے کے لیے مارا کرتے تھے، کیونکہ یہ خطرناک اور پریشان کن تھا۔ اس کھیل کا خلاصہ یہ تھا کہ سلفر کی مقدار کو ایک تنگ جگہ میں جمع کرنے سے ایک دھماکہ پیدا ہوتا تھا ، اس کا استعمال صاف کرنے والے ہتھیار کے طور پر مقبوضہ علاقوں میں کیا جاتا تھا، جس نے ابتدائی دستی بم بنانے کے خیال کو جنم دیا۔

جبالیہ کیمپ کے تین نوجوان، جن میں سے ایک ’’پلمبر‘‘ کے طور پر کام کرتا تھا، سلفر کے ساتھ دستی بم بنانے میں مصروف تھے ، ایک پہلے سے تیار شدہ سوراخ سے وہ ایک  لچک دار پٹی داخل کرتے، جس کی درجنوں تعداد بڑی احتیاط سے تیار کی گئی تھیں، کیونکہ کوئی بھی غلطی یا زائد رگڑ ایک چنگاری پیدا کر سکتی تھی جو ان کے ہاتھوں میں بم کے پھٹنے کا سبب بن سکتی تھی، پھر انہوں نے انہیں تقسیم کیا تاکہ اگلے دن کی مڈبھیڑ کے لئے تیار ہوں۔

صبح کے وقت معمول کے مطابق اجتماعات، مظاہرے، پتھراؤ، فائرنگ اور آنسو گیس کے دھوئیں سے بھرے مناظر تھے، کچھ نوجوان دیواروں، جھاڑیوں یا سڑک کے کنارے چھپے ہوئے تھے ، ایک گشتی گاڑی کے گزرنے پر، ایک نوجوان ان دستی بموں کو جلاتا اور گاڑی کی طرف پھینکتا تھا، جو ایک خوفناک دھماکہ پیدا کرتی تھی اور کبھی کبھار کچھ فوجیوں کو زخمی بھی کرتی تھی۔

٭٭٭٭

انتفاضہ کے ابتدائی دنوں کی ایک شام، میرے بھائی محمود کے چند دوست اس سے ملنے آئے، میں ان میں سے کچھ کو جانتا تھا اور کچھ کو نہیں۔ وہ سب مہمان خانے میں بیٹھے تھے، اور ماحول سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ ایک تنظیمی اجلاس یا کچھ اس طرح کا تھا۔ انہوں نے کئی گھنٹے بحث و مباحثے میں گزارے، ان میں دو رائے تھیں، ایک مکمل شرکت کے حق میں اور دوسری مخالفت میں۔ آخر میں انہوں نے اتفاق کیا کہ ایک متحدہ قومی فریم ورک کے تحت شرکت کی جائے اور تنظیم آزادی فلسطین کی نمائندہ قومی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ چند دن بعد دوسرے مہمان آئے، جو مختلف قومی جماعتوں کا ایک مجموعہ تھے ، میں کچھ کو جانتا تھا۔ وہ طویل وقت تک بیٹھے بحث و مباحثے میں مصروف تھے، اور انتفاضہ کو قابض قوتوں کے خلاف مزید بھڑکانے کی بات کر رہے تھے۔ اب سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ دو بیانات جاری ہونے والے ہیں، ایک متحدہ قیادت کی طرف سے اور دوسرا اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کی طرف سے۔ دونوں ہی شدت اور تسلسل کی روح لے کر آئیں گے ، لیکن ان میں سے ہر ایک مختلف پروگرام پیش کرے گا۔ مثلاً پہلا اتوار کے روز عام ہڑتال کی دعوت دے گا، اور دوسرا پیر کے روز ، پہلا بدھ کے روز اعتصام کی دعوت دے گا، اور دوسرا جمعرات کو زخمیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے اجتماعی روزے کی دعوت دے گا۔ ہر گروہ کے کارکن اپنے بیانات ہر جگہ تقسیم کرتے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ پھیلایا جا سکے، اور ہر سرگرمی والے دن کارکن نقاب پہن کر سڑکوں پر اترتے تاکہ سب کو پابند کیا جا سکے اور کمزوری، عاجزی یا عوام کی بے حسی ظاہر نہ ہو۔ اس عمل نے کئی بار تصادم اور اختلافات کو جنم دیا ، جنہیں آخری لمحے میں جھگڑے یا تصادم میں بدلنے سے روکا گیا ،اور جو بھی مسائل سامنے آتے  ان کا فوری طور پر حل کیا جاتا۔

مشترکہ قیادت یہ سمجھتی تھی کہ وہ فلسطینی عوام کی صحیح نمائندہ تنظیم ہے اور اس لیے وہی تصادم کی رفتار اور واقعات کے پروگرام کو طے کرنے کا حق رکھتی ہے ، جبکہ حماس یہ سمجھتی تھی کہ وہ ایک بڑا اور فعال گروہ ہے جس کی تنظیم میں نمائندگی نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اپنی سرگرمیوں کا پروگرام طے کرنے اور مطلوب رفتار کو مقرر کرنے کا حق نہیں ہے۔ آخر میں عوام اور شہریوں کی تیاری ہی فیصلہ کن ہے ، کئی بار میرے بھائی محمود اور میرے دوسرے بھائی حسن یا محمد یا میرے چچا زاد ابراہیم کے درمیان گھر میں شدید بحث چھڑ جاتی تھی، کیونکہ یہ معلوم تھا کہ محمود مشترکہ قیادت میں ہے، جبکہ حسن، محمد اور ابراہیم دوسرے گروہ میں ہیں۔ اس دوران جواز  کے بارے میں شدید بحث ہوتی تھی کہ کس گروہ کا عمل جائز ہے یا کس گروہ کی کوشش دوسرے کو نظر انداز کرنے اور اس کے وجود اور اثر کو نظر انداز کرنے کی کوشش ہے۔ اور ہر گروہ اس بات کے ثبوت دیتا تھا کہ وہی اختیارات کا حامل ہے اور وہی ہے جس نے انتفاضہ کی منصوبہ بندی کی ہے یا اسے شروع کیا ہے اور اس کی سرگرمیوں اور کارکردگی کو ترقی دی ہے۔ ہر ہفتے انتفاضہ نئے علاقوں تک پھیلتی جاتی تھی جو پہلے شامل نہیں تھے اور ہر ہفتے نئے طبقے کے لوگ اس میں شامل ہوتے جاتے تھے، یہاں تک کہ یہ واقعی فلسطینی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی۔ باقی سرگرمیاں اور روزمرہ کی زندگی کی سرگرمیاں بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئیں، تاکہ انتفاضہ کے مسلسل جاری رہنے کے باوجود زندگی اور معاشرتی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔

بچے صبح کے وقت اسکول جاتے تھے، تعلیم حاصل کرتے تھے اور شام کے وقت سڑکیں تصادم، مظاہروں اور جھگڑوں کا منظر بن جاتی تھیں، تاجر صبح کے وقت خرید و فروخت کرتے تھے اور دوپہر کے بعد عام ہڑتال ہوتی تھی، اور یہ دیگر معاشرتی شعبوں پر بھی لاگو ہوتا تھا۔ پہلے چند مہینوں میں شہر الخلیل میں، جو باقی علاقوں سے پیچھے رہ گیا تھا، ایک اجلاس ہوا جس میں شہر کے اسلامی گروہ کے کئی رہنما شامل تھے، اور موجود لوگوں میں جمال اور عبدالرحمن بھی شامل تھے۔ بحث طویل ہو گئی تھی، کچھ لوگ شرکت کے حامی تھے جبکہ کچھ مخالف ،آخر کار ایک مصالحتی فارمولے پر اتفاق ہوا جس کے تحت تدریجی طور پر محدود تعداد میں شرکاء کے ساتھ سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا، اور پھر نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ محدود تعداد میں شرکت کے ساتھ سرگرمیاں شروع ہوئیں تو عوام میں وسیع پیمانے پر قبولیت اور شرکت دیکھنے میں آئی ، اس کے بعد ایک ہنگامی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کی سربراہی جمال کو سونپی گئی تاکہ سرگرمیوں کو مزید بڑھایا جا سکے اور ان کی مستقل مزاجی کو یقینی بنایا جا سکے۔ تھوڑی ہی مدت میں سرگرمیوں میں تیزی آئی اور دیگر قوتیں بھی میدان میں آ گئیں۔ عوام کے وسیع طبقے ابھی تک اس انتفاضہ کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پائے تھے، جیسے کہ وہ مزدور جو مقبوضہ علاقوں میں کام کرتے تھے ، ان کے مفادات اور بچوں کی روزی روٹی امن و سکون اور اس بات پر منحصر تھی کہ وہ اپنے کام پر جا سکیں ، اس طبقے کو بھی دوسرے طبقوں کی طرح انتفاضہ سے ہم آہنگ ہونا پڑا کیونکہ ان کے یہودی مالکان کے ساتھ وعدے اور ذمہ داریاں تھی ۔

انتفاضہ کی سرگرمیوں کے بڑھنے اور اس کی مسلسل پریشانی کے سبب اسرائیلی وزیر دفاع اسحاق رابین نے ’’ہڈیاں توڑنے‘‘ کی پالیسی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ، ان کے مطابق جب بھی لوگوں کے مجمع میں سے کوئی ایک شخص کسی گشت پر پتھر پھینکے، تو پورے مجمع کو سخت سزا دی جائے تاکہ یہ مجمع سیکھ جائے کہ اپنے درمیان سے ایسے شخص کو روکنے کی کوشش کرے، خود بخود مزدوروں کے ایک مجمع میں سے ایک نوجوان نے گزرنے والی ایک گشت پر پتھر پھینکا ، اس پر فوجی رک گئے اور مجمع پر حملہ آور ہو گئے، پٹائی کرنے اور لاتیں مارنے لگے۔ اچانک مجمع نے شور مچایا اور سب نے مل کر ایک جیسی حرکت کی، جھک کر پتھر اٹھائے اور حملہ آوروں کی طرف پھینکنے لگے ، اس طرح وہ طبقہ جو متذبذب تھا، انتفاضہ میں شامل ہو گیا اور اپنے بچوں کی روزی تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اس عوامی جدوجہد میں بھی شامل ہو گیا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Previous Post

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

Next Post

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

3 جولائی 2026
چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

3 جولائی 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | سترہویں قسط

3 جولائی 2026
ٹارچر ورثے میں ملا ہے!
طوفان الأقصی

ٹارچر ورثے میں ملا ہے!

3 جولائی 2026
Next Post
اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version