جوبنگلہ دیش کے سول سرونٹس کی تربیت بھارت کی بجائے پاکستان میں |
میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش نے اپنی سول سروس کے اعلیٰ افسران کی تربیت کا پروگرام بھارت سے لاہور، پاکستان منتقل کرتے ہوئے ایک اہم سفارتی تبدیلی کا اشارہ دیا ہے، جس کے تحت پہلی بار بارہ سینئر بیوروکریٹس لاہور کے سول سروسز اکیڈمی میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ 2024ء میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں وسیع تر تبدیلی کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈھاکہ بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے اسلام آباد کے ساتھ تعلقات بہتر بنا رہا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بھارت میں سول افسران کے تربیتی پروگرام کو ختم کرنا بنگلہ دیش میں بھارت کے اثر رسوخ میں کمی کا سبب بنے گی، جو مثبت پیش رفت ہے، لیکن سول سرونٹس کی تربیت کے لیے پاکستان کا انتخاب آسمان سے گرا کھجور میں اٹکے والی بات ہے ۔ پاکستان کے موجودہ مسائل میں بیوروکریسی کا کلیدی کردار رہا ہے، بیوروکریسی کا مروجہ نظام انگریزوں کا عطا کردہ ہے اور اسی بوسیدہ ڈیزائن میں آج تک برقرار ہے ۔ یہ سیاستدانوں اور جرنیلوں کی لوٹ مار میں سہولت کاری کرتا ہے اور اس سہولت کاری کے عوض بےتحاشا مالی فوائد بھی سمیٹتا ہے، جس کی قیمت غریب عوام ہی ادا کرتی ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک بیورو کریسی کے مکروہ سیاہ کردار پر اتنا کچھ لکھا جا چکا اور تا حال لکھا جاتا ہے کہ اگر معمولی زحمت کرتے ہوئے ایکس (ٹیوٹر) پر لفظ ’’بیوروکریسی‘‘ سرچ کر لیا جائے اور دیکھا جائے کہ مختلف شعبوں اور مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی پاکستان کی بیوروکریسی کے متعلق کیا رائے ہے تو آپ بخوبی سمجھ جائیں گے کہ یہ لفظ تو پاکستان میں گالی بن چکا ہے۔ ایک شعبے کی اپنی جب یہ حالت ہے تو وہ دوسروں کو بھلا خاک تربیت دے سکتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے اس فیصلے میں اس حد تک بے وقوفی کا مظاہرہ کیوں کیا گیا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں تجارتی روابط میں اضافہ اور دیگر شعبوں میں تعاون ہو جو عوام کی زندگیوں کو بہتر بنائے یہ زیادہ اہم ہے بجائے اس کے کہ بنگلہ دیش پاکستان کے بوسیدہ ظالمانہ فرنگی نظام کے اجزاء کو حاصل کرے۔
البانیہ میں کشنر کے لگژری ریزورٹس کے خلاف مظاہرے |
البانیہ کے ساحلی علاقوں میں ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا لگژری ریزورٹس بنانے کا منصوبہ طویل عرصے سے ماحولیاتی کارکنوں کی تنقید اور احتجاج کا ہدف ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ ترقیاتی منصوبے حکومت کے خلاف وسیع تر احتجاج کا مرکز بن چکے ہیں، البانیہ کی حکومت اس منصوبے کا دفاع کرتی نظر آ رہی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ احتجاج دارالحکومت اور ساحلی شہروں میں ہو رہے ہیں اور البانیہ میں (جو یورپ کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے) پھیلی ہوئی شدید مایوسی کا اظہار بن گئے ہیں۔ اس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 1.4 بلین ڈالر ہے جو ماحولیاتی تحفظ اور شفافیت کے حوالے سے تشویش پیدا کر رہے ہیں۔ البانیہ کے وزیر اعظم Edi Rama نے بار بار ان منصوبوں کو ملک کی ابھرتی ہوئی سیاحت کی معیشت کو وسعت دینے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا موقع قرار دیا ہے جبکہ ناقدین کی رائے ہے کشنر (جو کئی سرمایہ کاروں میں سے ایک ہیں) کو اپنے سسر صدر ٹرمپ کی خاطر ترجیحی سلوک دیا گیا۔ Jakob Weizman البانیہ کے انسداد بدعنوانی کے پروسیکیوٹرز اس لگژری ریزورٹ پراجیکٹ کی تفتیش کر رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ میں ایڈریاٹک سمندر کا غیر آباد جزیرہ سازان (Sazan) اور Vjosa-Narta کے کئی سو ہیکٹرز شامل ہیں جو ایک حساس ساحلی دلدلی علاقہ (wetland) ہے۔ یہاں فلیمنگو، سیل اور سمندری کچھوؤں کے انڈے دینے کی جگہیں موجود ہیں۔ البانیہ کے خصوصی انسداد بدعنوانی کے دفتر SPAK نے تصدیق کی کہ اس نے 2024ء میں اس علاقے کی محفوظ حیثیت اور زمین کی ملکیت میں ہونے والی متنازع تبدیلیوں کی تفتیش شروع کر دی ہے، جنہوں نے سیاحت کی ترقی کا راستہ کھولا تھا۔ جیرڈ کشنر کے پاس اربوں ڈالر کی ریئل اسٹیٹ پورٹ فولیو ہے۔ ناقدین نے اس کے کاروبار اور سیاسی کردار کے درمیان اوورلیپ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اگست 2024ء میں کشنر نے اپنی فرم Affinity Partners کے ذریعے اس جگہ کو لگژری ریزورٹ میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ 2026ء کے شروع میں وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس علاقے کا دورہ بھی کر چکا ہے۔ البانیہ کے وزیر اعظم Edi Rama نے حال ہی میں پولیٹیکو سے انٹرویو میں تصدیق کی کہ حکومت اور کشنر کے درمیان بات چیت جاری ہے، اور یہ ڈیل تقریباً 10,000 ہوٹل رومز پر مشتمل ہو گی۔ SPAK کو 2019ء میں یورپی یونین اور امریکہ کی حمایت سے قائم کیا گیا تھا۔ یہ قومی عدلیہ سے آزاد کام کرتا ہے اور سیاسی طور پر اعلیٰ سطح کے کئی عہدیداروں کی تفتیش، مقدمے اور سزا دے چکا ہے۔ متعدد آزاد پولز کے مطابق یہ فی الحال ملک کا سب سے زیادہ قابل اعتماد ادارہ ہے۔ پر تشدد احتجاج شہریوں اور ماحولیاتی این جی اوز کی قیادت میں مئی کے آخر میں شروع ہوئے، جب ڈویلپرز نے Zvernec (جنوبی البانیہ) میں تجویز کردہ جگہ پر خاردار تار والی بڑی باڑیں لگا دیں، جس سے مقامی لوگوں اور سیاحوں کی ساحل تک رسائی بند ہو گئی۔ احتجاج کرنے والوں نے حکومت کے دفاتر کے باہر جمع ہو کر پراجیکٹ ختم کرنے، علاقے کی حفاظت اور وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے بعد وائرل ویڈیوز میں نجی سکیورٹی گارڈز ایک مظاہرے کرنے والے کو تشدد کا نشانہ بناتے، اسے درہ کے ساتھ گھسیٹتے اور دیگر مظاہرین کو دھمکیاں دیتے نظر آئے۔ البانیہ کی حکام نے دو نجی سکیورٹی کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کر دیے، ایک گارڈ کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا، تقریباً 15 مظاہرین پر الزامات عائد کیے گئے، اور مقامی پولیس چیف کو ہٹا دیا گیا۔ وزیر اعظم Rama نے ایک بیان میں کہا: ’’میں البانیہ کو خطے میں ایک ایسی منزل بنانا چاہتا ہوں جس کی سب حسرت کریں، اور یہ پراجیکٹ اس کوشش کا حصہ ہے‘‘۔ واضح رہے البانیہ جغرافیائی طور پر جنوب مشرقی یورپ کے جزیرہ نما بلقان میں واقع ہے لیکن ابھی تک یورپی یونین (EU) کا رکن نہیں ہے۔ البانیہ 2014ء سے یورپی یونین کا ایک باضابطہ امیدوار ملک ہے اور یونین میں شامل ہونے کے لیے الحاق کے مذاکرات کے ذریعے فعال طور پر آگے بڑھ رہا ہے۔ البانیہ کی پچاس فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ ریاست سرکاری سطح پر سیکولر ہے۔
یورپی یونین کی رکنیت کے لیے بوسنیا ہرزیگووینہ سے اصلاحات کے مطالبہ |
بوسنیا ہرزیگووینہ سے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے اہم اصلاحات کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ یہ مطالبات یورپی یونین کی بیان کردہ 14 کلیدی ترجیحات (key priorities) پر مبنی ہیں، جو بظاہر جمہوریت، ریاست کی فعالیت، قانون کی حکمرانی (Rule of Law)، بنیادی حقوق اور پبلک ایڈمنسٹریشن ریفارمز کے متعلق ہیں۔ حال ہی میں یورپی یونین کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا ( António Costa) نے ساراجیوو میں کہا کہ بوسنیا کو فوری طور پر دو عدالتی اصلاحات منظور کرنی چاہییں اور چیف نیگوشیئٹر (chief negotiator) کا تقرر کرنا چاہیے تاکہ accession negotiations کھل سکیں۔ انہوں نے ریفارم ایجنڈا کے نفاذ پر بھی زور دیا، ورنہ یورپی یونین کے growth plan سے مزید فنڈز ضائع ہو سکتے ہیں۔ . یورپی یونین انتخابی عمل میں ریفارمز پر زور دے رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انتخابی عمل میں اقلیتوں کو حقوق دے کر اسے یورپین سٹینڈرڈ سے ہم آہنگ کیا جائے۔ اور بوسنیا کے انتخابات یورپین سٹینڈرڈ پر کس طرح پورا اتریں گے ؟ یہودیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے کر۔ ڈیٹون معاہدے کی وجہ سے صرف بوسنیائی ، سرب اور کرویشیائی شہری صدارت اور House of Peoples میں حصہ لے سکتے ہیں۔ یہودی اور دیگر اقلیتیں اس سے محروم ہیں۔ یورپ میں رائج جمہوریت اور انسانی حقوق کے دعووں کی اصلیت کیا ہے ان مطالبات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانس جینڈر اور ایل جی بی ٹی کے حقوق کے نام پر ان فتنوں کے فروغ کا ایجنڈا بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔
انڈونیشیا کا امریکہ سے معاہدہ اور ممکنہ تنازعات میں الجھنے کے خدشات |
الفن فیبرین باسندورو شعبہ بین الاقوامی تعلقات، یونیورسٹی آف ایرلانگا، انڈونیشیا میں لیکچرر ہیں انہوں نے اپریل میں امریکہ اور انڈونیشیا کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ یہ معاہدہ اگرچہ شمالی ناٹونا سمندر میں فوجی صلاحیت اور ڈیٹرنس کے لیے حقیقی فوائد پیش کرتا ہے، لیکن اس سے جغرافیائی تنازعے میں پھنسنے کا خطرہ بھی بہرحال موجود ہے۔ ایران پر بڑھتے ہوئے جارحانہ امریکی حملوں کے درمیان، معاہدے پر دستخط ایک غیر ملکی آن لائن میڈیا آؤٹ لیٹ کی لیک ہونے والی رپورٹ کے ساتھ موافق تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن انڈونیشیائی فضائی حدود میں ’’بلینکٹ‘‘ اوور فلائٹ کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ جکارتہ نے تیزی سے اس بات کی تردید کر دی کہ ایسی کوئی رعایت دی گئی تھی لیکن عوامی حلقوں میں اس حوالے سے اشتعال ضرور تھا کہ ان کی حکومت خاموشی سے اپنے ملک کی خود مختاری کو ایک بڑی طاقت (امریکہ) کو بیچ رہی ہے۔ اس عوامی اضطراب کو انڈونیشیا کی بنیادی خارجہ پالیسی کے نظریے، ’’آزاد اور فعال‘‘ (bebas aktif) اصول کی عینک سے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے جسے اس وقت کے نائب صدر محمد حطا نے اپنی 1948ء کی تقریر میں بیان کیا تھا اور 1953ء کے خارجہ امور کے مضمون میں مزید وضاحت کی تھی۔ بیباس اکتف اصول بڑی غیر ملکی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان انڈونیشیا کی سٹریٹجک خود مختاری کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ خودمختاری، عالمی امن اور ایک منصفانہ بین الاقوامی نظم کے فعال پیروی کا عزم کرتا ہے۔ ’’میجر ڈیفینس کوآپریشن پارٹنرشپ‘‘ معاہدے میں اگرچہ سٹریٹیجک فوائد بھی نظر آتے ہیں، جکارتہ کا انحصار امریکی ساختہ دفاعی پلیٹ فارمز اور آلات پر ہے۔ انڈونیشیا امریکہ کے ساتھ 2003ء سے 2022ء کے درمیان کل 110 سے زیادہ فوجی مشقیں کر چکا ہے۔ ایک باضابطہ تعاون کا فریم ورک اسپیئر پارٹس تک رسائی اور زیادہ مضبوط صلاحیت سازی کے مواقع ایسے وقت میں دے رہا ہے جب بحیرہ نارتھ ناٹونا میں انڈونیشیا کو تیزی سے بڑھتے جارحانہ چین کا سامنا ہے اور انڈونیشیا کے لیے دفاعی صلاحیت کی تعمیر زیادہ اہم ہے۔ لیکن ایم ڈی سی پی معاہدے کو انڈونیشیا کے بیباس اکٹیف اصول کے تحت دیکھا جائے تو اس معاہدے کے ساتھ منسلک خطرات اتنے ہی ٹھوس ہیں۔ پہلا خطرہ فضائی حدود کی خودمختاری کا ہے، جو انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ 1996ء کا میری ٹائم ریجن کا قانون اور 2025ء کا ہوائی اسپیس مینجمنٹ قانون ان شرائط کو متعین کرتا ہے جن کے تحت غیر ملکی فوجی طیاروں کو خود مختار فضائی حدود سے گزرنے کا حق حاصل ہے، جس سے انڈونیشیا کے جزیرہ نما سمندری راستوں تک رسائی محدود ہے۔ کوئی بھی بلینکٹ اوور فلائٹ کلیئرنس اس قانون سازی سے متصادم ہو گا اور اسی طرح کے حالات میں انڈونیشیا کی خودمختاری کی قانونی طور پر خلاف ورزی کرنے کے لیے دوسری بڑی طاقتوں کے لیے ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ انڈونیشیا کوامریکہ چین تنازع کے اندر جغرافیائی و سیاسی طور پر ملوث ہونے کے خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔ جکارتہ کی بیباس اکٹیف اصول کے تحت واضح طور پر عدم صف بندی اسے واشنگٹن اور بیجنگ دونوں سے فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے سٹریٹجک خود مختاری فراہم کرتی ہے، لیکن یہ فائدہ امریکہ کو چین کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے میں ضائع ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ چین کے ساتھ انڈونیشیا کے تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے جو اس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر اور ایک اہم سرمایہ کار ہے ۔ بیجنگ ایسے معاہدوں اور صف بندیوں کو اہمیت دیتا اور جوابی حکمت عملی اپناتا ہے جس کی ایک مثال 2021ء میں AUKUS شراکت داری کے اعلان کے بعد چین کے ساتھ آسٹریلیا کے بگڑتے تعلقات ہیں۔ انڈونیشیا کے لیے ایک بڑا رسک خطے میں مستقبل میں امریکی قیادت میں ہونے والے تنازع کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ اگر امریکی فوج انڈونیشیا کی فضائی حدود کے ذریعے لامحدود ٹرانزٹ حقوق حاصل کر لیتی ہے، تو یہ راہداری آبنائے تائیوان یا بحیرہ جنوبی چین میں مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تنازع میں استعمال ہو سکتی ہے۔ ایک بدترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ امریکہ چین کے فوجی اثاثوں کے خلاف حملہ کرنے کے لیے انڈونیشیا کی خودمختار فضائی حدود کا استعمال کرے، جو چین کو جوابی حملوں کے لیے بھڑکا سکتا ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کی انتظامیہ کے تحت اس معاہدے پر تشویش اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ خارجہ پالیسی کے فیصلوں کو اکثر عوام تک ناقص طور پر پہنچایا جاتا ہے۔ مبصرین کے خیال میں عوام کو کسی بھی سرکاری وضاحت سے پہلے غیر ملکی خبروں کے ذرائع سے اوور فلائٹ تنازع کے بارے میں معلوم ہوا ۔ الفن فیبرین باسندورو کی رائے ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ میں احتیاط برتنی چاہیے اور شفافیت کو یقینی بنانا چاہیے۔ بیبا اکٹیف اصول انڈونیشیا سے شراکت داری کو مسترد کرنے کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے بجائے یہ رہنما اصول دیتا ہے کہ تمام معاہدے برابری کی بنیاد پر بنائے جائیں، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ خودمختاری کو برقرار رکھا جائے اور قومی مفادات کو واضح اور عوامی طور پر بیان کیا جائے۔
سائمن ہوٹاگلنگ ’’یوریشیا ریویو‘‘ کے مضمون میں اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ملکی سیاست کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہت سے انڈونیشیا کے باشندے اب بھی غیر ملکی فوجی مداخلت پر کسی حد تک شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور سمجھ بوجھ کر اس بات کا یقین کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جو بھی معاہدہ کریں گے وہ ان کی خودمختاری کو مجروح نہیں کرے گا۔ ایک اور اہم عنصر لاگت ہو گا۔ انڈونیشیا کی دفاعی جدت کے لیے اہم مالی عزم کی ضرورت ہو گی، اور امریکہ کے ساتھ تعاون اتنا مہنگا نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ملک کی دفاعی سٹریٹجک خودمختاری کو نقصان پہنچے اور ایک ایسا مالی بوجھ پیدا ہو جو مستقبل کی پالیسی کے اختیارات کو محدود کر دے۔ یہ انڈونیشیا کے مستقبل کے لیے بھی کئی اہم خطرات کو جنم دیتا ہے، جس میں ملک کا امریکہ اور چین کی دشمنی میں مزید پھسلنا، اپنے دفاعی نظام کو تیار کرنے کے لیے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کرنا، جس سے آسیان اتحاد ٹوٹ جاتا ہے، چینی غصے کو دعوت دیتا ہے اور ممکنہ طور پر انڈونیشیا مخالف خارجہ پالیسی کے نئے اقدام کو جنم دیتا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے، ملک کو MDCP کی مطابقت پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے سرد جنگ کے دور کے دو طرفہ اتحاد سے جدید دفاعی جدت تعاون کے معاہدے میں تبدیل کرنا ہو گا۔ مزید برآں، اس طرح کے نقطہ نظر کو مضبوطی سے ASEAN مرکزی سفارت کاری کے فن تعمیر میں شامل کیا جانا چاہیے اور دوسرے ٹیکنالوجی کے مالک ممالک اور دفاعی صنعتی پاور ہاؤسز بشمول جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہیے۔ انڈونیشیا کو ملک کے مہنگے اور بڑے پیمانے پر خود مختار دفاعی خریداری کے نظام میں مزید شفافیت، قابل برداشت اور آگے کی سوچ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
کینیا میں امریکی شہریوں کے لیے ایبولا کوارنٹائن مرکز کے قیام کے خلاف احتجاج |
کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں سینکڑوں نوجوانوں نے لائکیپیا ایئر بیس کے قریب امریکی شہریوں کے لیے ایبولا وائرس سے متاثر افراد کےکوارنٹائن مرکز قائم کرنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔ کینیا کی ہائی کورٹ عدالت نے لا سوسائٹی آف کینیا اور ایک آئینی واچ ڈاگ کی درخواست پر اس سہولت کے قیام اور کسی بھی غیر ملکی مریض کی آمد کو عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔ دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ کینیا کا صحت کا کمزور نظام غیر ملکی ایبولا مریضوں کے لیے مناسب نہیں، اس لیے انہیں ملک میں کوارنٹائن نہیں کیا جانا چاہیے۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ امریکہ بیرون ملک ایبولا سے متاثر ہونے والے امریکی شہریوں کو وطن واپس لانے کے بجائے کینیا میں نئی جگہ پر بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت لائکیپیا ایئر بیس پر ہو گی اور جلد 50 کوارنٹائن بیڈز کے ساتھ فعال ہو جائے گی۔ کینیا کے صحت کے وزیر ایڈن ڈوالے نے اتوار کو کہا کہ یہ کوارنٹائن مرکز ’’سب کے لیے‘‘ ہے صرف امریکی شہریوں کے لیے نہیں۔ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی حکومت کینیا کے ایبولا تیاری کے اقدامات کے لیے 13.5 ملین ڈالر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مقامی رہنماؤں، بشمول لائکیپیا کے گورنر جوشوا ارونگو نے صحافیوں سے کہا کہ وہ ایبولا کوارنٹائن مرکز کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں۔ گورنر نے کہا: ’’یہ ہمارے لوگوں کو ایبولا سے متاثر کرے گا‘‘، اور مزید کہا کہ ایئر بیس کے اندر بہت سے مقامی لوگ کام کرتے ہیں جو خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کینیا میں اب تک ایبولا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے اب اسے امریکہ کی بدمعاشی اور خود غرضی نہ کہا جائے تو کیا کہیں کہ وہ اپنے متاثرہ شہریوں کو ایک ایسے ملک میں ٹھہرانا چاہتا ہے جس کے صحت کے نظام کا امریکی صحت کے نظام سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔
کینیا مشرقی افریقہ میں امریکہ کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر کام کرتا ہے۔ ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر اعلیٰ، دفاعی شراکت داری، انسداد دہشت گردی، بحری سلامتی، اور مشترکہ علاقائی امن مشنز پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے۔
امریکہ نے مشترکہ دفاعی تنصیبات میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ہے، خاص طور پر الشباب کا مقابلہ کرنے کے لیے لامو کاؤنٹی میں منڈا بے ایئر فیلڈ کی اپگریڈیشن، اس کے علاوہ ممباسا میں کینیا نیوی بیس Mtongwe پر 750,000 ڈالر کے بحری تربیتی مرکز کی تعمیر۔ دو طرفہ فریم ورک کے ذریعے باضابطہ، شراکت داری میں انٹیلی جنس شیئرنگ، فوجی تعلیم، اور صلاحیت کی تعمیر بھی شامل ہے۔ یہ مشترکہ کثیر القومی مشنز کو بھی سہولت فراہم کرتا ہے، جیسے کہ ہیٹی میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ سیکورٹی مشن میں کینیا کے اہم کردار کے لیے امریکی لاجسٹک اور مالی مدد۔ کینیا کی نیشنل فرانزک لیبارٹری کے اندر خصوصی FBI اور محکمہ انصاف کی ٹاسک فورسز کے ذریعے بین الاقوامی بدعنوانی اور سائبر سکیورٹی سے نمٹنے کے لیے توسیع بھی کی گئی ہے۔ بظاہر یہی نام نہاد دفاعی تعاون اور منصوبے ہی ہیں جو کینیا کے حکمرانوں کو ملکی سلامتی اور عوام کی جانوں کو امریکی خوشنودی کے لیے ایبولا وائرس جیسے خطروں میں ڈالنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔
جدید گاڑیاں صارفین کی نگرانی، ڈیٹا کمپائلنگ اور فروخت میں ملوث ہیں |
تھامس جرمین ایک ممتاز ٹیکنالوجی صحافی اور کالم نگار ہیں۔ وہ ٹیک پوڈ کاسٹ دی انٹرفیس کے شریک میزبان بھی ہیں۔ تقریباً ایک دہائی سے وہ مصنوعی ذہانت، آن لائن پرائیویسی، نگرانی، اور بڑی ٹیک کمپنیوں کی اجارہ داریوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ڈیجیٹل دنیا کے چھپے ہوئے رازوں سے پردہ ہٹا رہے ہیں۔ اپنے حالیہ مضمون میں انہوں نے جدید گاڑیوں کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ لکھتے ہیں: آج کل کی گاڑیاں دراصل پہیوں پر چلنے والے کمپیوٹرز ہیں، اور بڑی کمپنیاں ان کے ذریعے آپ کی ذاتی زندگی کی چھوٹی چھوٹی معلومات جمع کر کے منافع کما رہی ہیں۔ اگر آپ کار کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسیز کا بغور جائزہ لیں، تو وہ خود یہ بات تسلیم کرتی ہیں۔ وہ جو معلومات اکٹھی کرتی ہیں، ان میں آپ کی درست لوکیشن، آپ کہاں جاتے ہیں، گاڑی میں آپ کے ساتھ کون ہے، کیا سن رہے ہیں، اور کیا آپ سیٹ بیلٹ باندھتے ہیں یا نہیں، یہاں تک کہ آپ کتنی تیزی سے گاڑی چلاتے ہیں یا کتنی زور سے بریک لگاتے ہیں، سب شامل ہو سکتا ہے۔ کچھ گاڑیاں تو ایسی معلومات بھی جمع کرتی ہیں جن کا آپ نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا، جیسے آپ کا وزن، عمر، نسل، اور چہرے کے تاثرات۔ کیا آپ ناک صاف کرتے ہیں؟ کچھ گاڑیوں میں اندرونی کیمرے لگے ہوتے ہیں جو ڈرائیور پر نظر رکھتے ہیں۔ اور زیادہ تر گاڑیاں انٹرنیٹ سے منسلک ہوتی ہیں جو یہ تمام ڈیٹا آپ کی لاعلمی میں منتقل کرتی رہتی ہیں۔
یہ صرف راز داری کا مسئلہ نہیں، یہ آپ کے مالی معاملات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انشورنس کمپنیاں گاڑیوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بڑی خریدار ہوتی ہیں اور اس کی بنیاد پر کچھ لوگوں سے زیادہ رقم وصول کرتی ہیں۔ اور یہ بھی واضح نہیں کہ آپ کی معلومات کہاں جا رہی ہیں۔ کچھ کار کمپنیاں تسلیم کرتی ہیں کہ وہ آپ کا ڈیٹا فروخت کرتی ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتیں کہ خریدار کون ہے۔ واشنگٹن ڈی سی میں بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے سینئر فیلو ڈیریل ویسٹ کہتے ہیں کہ ’لوگ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ ان کی گاڑی کتنے قسم کے ڈیٹا پوائنٹس جمع کرتی ہے اور انہیں دوسروں تک پہنچاتی ہے، چاہے وہ گاڑی بنانے والی کمپنی ہو یا تیسری پارٹی کی ایپلی کیشنز‘۔
’اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی زندگی کو تقریباً ہر لمحے کے حساب سے دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے‘۔
امریکہ میں ایک وفاقی قانون جلد ہی اس ڈیٹا کی مقدار میں اضافہ کرنے والا ہے جو آپ کی گاڑی آپ کے بارے میں جمع کر سکتی ہے۔ جلد ہی امریکی کار کمپنیوں کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ گاڑیوں میں انفرا ریڈ بایو میٹرک کیمرے اور دیگر نظام نصب کریں، جو آپ کی جسمانی حرکات، آنکھوں کی حرکت اور رویے کے مختلف پہلوؤں کو مانیٹر کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آپ نشے میں ہیں یا ڈرائیونگ کے لیے بہت زیادہ تھکے ہوئے ہیں۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی یہ آپ کی صحت اور عادات سے متعلق ایک بالکل نیا اور وسیع ڈیٹا بھی جمع کرے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس معلومات کے استعمال پر کار کمپنیوں کے لیے کوئی واضح پابندیاں موجود نہیں ہیں۔
چونکہ آٹو موبائل کمپنیاں اپنے ڈیٹا کے دائرے کو مزید وسیع کرنے جا رہی ہیں، اس لیے یہ ایک نہایت اہم وقت ہے کہ ہم سمجھیں کہ گاڑی کے اندر در حقیقت کیا ہو رہا ہے اور اس کے آپ کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ کنسلٹنگ فرم مکینزی کے مطابق، 2021 میں سڑکوں پر موجود تقریباً 50 فیصد گاڑیاں انٹرنیٹ سے منسلک تھیں، اور اندازہ ہے کہ 2030ء تک یہ تعداد بڑھ کر 95 فیصد ہو جائے گی۔ اگر آپ کی گاڑی انٹرنیٹ سے جڑی ہوئی ہے تو رازداری ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر آپ کو لازماً توجہ دینی چاہیے۔
کار کمپنیاں اس وقت بھی آپ کی نگرانی کر سکتی ہیں جب آپ اپنا فون گاڑی کے انفوٹینمنٹ سسٹم سے جوڑتے ہیں یا ڈرائیونگ سے متعلق مخصوص ایپس استعمال کرتے ہیں۔ کچھ ڈرائیور انشورنس کمپنیوں کے ٹیلی میٹرکس سسٹم بھی استعمال کرتے ہیں، جو ممکنہ رعایت کے بدلے آپ کی ڈرائیونگ عادات کی نگرانی کرتے ہیں۔ 2023ء میں فائر فاکس براؤزر بنانے والی کمپنی موزیلا نے 25 کار برانڈز کی پرائیویسی پالیسیز کا تجزیہ کیا۔ ہر ایک برانڈ موزیلا کے مقرر کردہ پرائیویسی اور سکیورٹی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہا۔ موزیلا کے مطابق، گاڑیاں ’رازداری کے حوالے سے اب تک کی سب سے خراب پروڈکٹ کیٹیگری‘ ثابت ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، کار کمپنیاں یہ حق محفوظ رکھتی ہیں کہ وہ آپ کا نام، عمر، نسل، وزن، مالی معلومات، چہرے کے تاثرات، نفسیاتی رجحانات اور دیگر تفصیلات جمع کریں۔ مثال کے طور پر، کیا (Kia) کی پرائیویسی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی آپ کی ’جنسی زندگی‘ اور عمومی صحت سے متعلق معلومات بھی جمع کر سکتی ہے۔ امریکہ میں جنرل موٹرز (GM) کے خلاف کارروائی ہو چکی ہے کیونکہ اس پر الزام تھا کہ وہ صارفین کی اجازت کے بغیر گاڑیوں کی لوکیشن کا ڈیٹا فروخت کر رہی تھی۔ ہونڈا اور ہنڈائی پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کیے گئے ہیں اور یہ صرف وہ مثالیں ہیں جن کے بارے میں عوام کو علم ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے مسلم ممالک میں اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے ساتھ ٹیکنالوجی ایکسپرٹس اس ایشو پر کام کریں تاکہ جو گاڑیاں مغربی ممالک سے امپورٹ ہو رہی ہیں ان میں صارفین کے ڈیٹا پرائیویسی کو یقینی بنایا جا سکے۔
رہائشی پلاٹوں کے نام پر ریاستی اداروں کی سرپرستی میں ’فائلوں‘ کا غیرقانونی کاروبار |
اویس چوہدری اسلام آباد میں دس سال سے پراپرٹی کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہاؤسنگ سوسائیٹوں میں ایک طریقہ بہت عام ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے سوسائٹیاں اپنے پاس موجود رقبہ سے زیادہ فائلیں فروخت کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس میں ہوتا یہ ہے کہ ایک سوسائٹی کے پاس زمین کا خریدا گیا یا حاصل کردہ رقبہ صرف 50 یا 100 کنال ہوتا ہے، وہ اس رقبے کی تزئین و آرائش اور ڈویلپمنٹ کرتے ہیں، وہاں پر مشینری پہنچاتے ہیں، مارکیٹنگ فرم اور پراپرٹی ڈیلرز کو اکھٹا کیا جاتا ہے اور پھر سینکڑوں کنال کی فائلیں فروخت کر دی جاتی ہیں۔ اس میں ایسے لوگ جو یک مشت ادائیاں نہیں کر سکتے اور اقساط والے آپشن اختیار کرتے ہیں، وہ آسان شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگلے کچھ عرصے میں اسی پراجیکٹ کے ساتھ مزید اراضی خرید کر اسے بھی ڈویلپ کر دیا جائے گا، اور اسی خواب کی بنیاد پر لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک ڈویلپر نے سو کنال زمین کراِئے پر حاصل کی اور وہاں پر انہوں نے تین ہزار لوگوں کو فائلیں فروخت کر دیں۔ اب نیب اس کے پیچھے ہے۔
لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ سرکاری اداروں کا اس ساری صورتحال میں کیا کردار ہے؟ اسلام آباد کی ایک معروف سوسائٹی کے مالک پر رقبے سے زیادہ فائلیں بیچنے پر سینکڑوں ایف آئی آر درج ہوتی ہیں اور وہ سوسائٹی فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے فل پیج کے کلر اشتہار اخبار میں شائع کروا رہی ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے کیسز ہیں جہاں سوسائیٹیز کے بیچے گئے پلاٹس پر تعمیرات کے سالوں بعد انہیں غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں صرف اسلام آباد میں 98 سوسائیٹیز کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اس کا بڑا نقصان سوسائٹی مالکان اٹھائیں گے یا وہ غریب لوگ جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایک گھر حاصل کرنے کے لیے لگا دیتے ہیں۔ جو اپنا پیٹ کاٹ کر ماہانہ قسطیں بھرتے ہیں۔ ایک اہم پیٹرن جو ان ہاؤسنگ سوسائیٹیز کے بڑے سرمایہ کاروں کے حوالے سے نظر آتا ہے وہ یہ کہ ان شخصیات کو قانونی چھوٹ دے کر پھر ان سے میڈیا مالکان اور من پسند سیاسی شخصیات کو سپورٹ بھی دلوائی جاتی ہے۔ جب تک یہ مافیا فرمانبرداری سے ریاستی اداروں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہے تب تک انہیں چھوٹ ملتی ہے لیکن جہاں یہ ریاستی اداروں کی نافرمانی کریں یا ان کے مطالبات نہ مانیں تب انکی فائلیں کھل جاتی ہیں۔ ملک ریاض اس پریکٹس کی ایک واضح مثال ہے۔
فرانس میں بڑے پیمانے پر بچوں سے زیادتی کا سکینڈل |
فرانس کے مقامی اور غیر ملکی اخبار بچوں سے ‘بڑے پیمانے پر’ زیادتی کے سکینڈل کی خبریں نشر کر رہے ہیں۔ درجنوں سرکاری نرسری اور پرائمری سکولوں کے ’مانیٹرز‘ (نگران) پر تشدد، جنسی حملے اور ریپ کے الزامات میں تفتیش ہو رہی ہے۔ پیرس کی پولیس 100 سے زائد الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں تین سال کی عمر کے بچوں کے ساتھ لنچ بریک، نیپ ٹائم (سونے کا وقت) اور آفٹر سکول ایکٹیویٹیز کے دوران بدسلوکی، جسمانی تشدد اور ریپ شامل ہیں۔ پیرس کی ٹاپ پراسیکیوٹر Laure Beccuau نے کہا: ’’ہم 84 پری اسکولز، تقریباً 20 پرائمری سکولز اور تقریباً 10 ڈے کیئر سنٹرز میں تفتیش کر رہے ہیں‘‘۔ وکلاء نے بتایا کہ تفتیش میں تین اور چار سال کی عمر کے بچوں کے مبینہ ریپ کے کیسز بھی شامل ہیں۔ والدین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ سالوں سے ان الزامات کو سنجیدگی سے لینے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق مانیٹرز کی بھرتی کے عمل اور چیکنگ میں ناکامیوں کی وجہ سے زیادتی جاری رہی۔ سکول مانیٹرز وہ بالغ افراد ہوتے ہیں جو لنچ، بریک ٹائم، نیپ اور آفٹر سکول ایکٹیویٹیز کے دوران بچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ٹیچرز سے زیادہ وقت بچوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔ یہ سکولوں یا تعلیم کے وزارت کے براہ راست ملازم نہیں ہوتے بلکہ سٹی ہال یا مقامی اتھارٹیز کی طرف سے بھرتی کیے جاتے ہیں، اکثر بغیر تربیت، پروفیشنل ڈپلوما کے اور زیادہ تر عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہوتے ہیں۔ فرانس میں تین سال کی عمر سے نرسری سکول لازمی ہے اور مانیٹرز تین سے گیارہ سال کے بچوں کے لیے روزانہ موجود ہوتے ہیں۔ وکیل Louis Cailliez، جو پیرس کی دو فیملیز کی نمائندگی کرتے ہیں، نے فرانس میں سکول مانیٹر سیکٹر کو ’’تباہی‘‘ اور ’’قومی آفت‘‘ قرار دیا۔ پیرس کے نئے سوشلسٹ میئر Emmanuel Grégoire نے بیس ملین یورو کا پلان شروع کیا ہے تاکہ شہر کے سکول مانیٹر سسٹم میں ’’بڑی خرابیاں‘‘ دور کی جا سکیں۔ انتخاب سے پہلے، گریگوائر نے خود انکشاف کیا تھا کہ اسے بچپن میں (9 سے 10 سال کی عمر میں) پرائمری اسکول میں سکول مانیٹر نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
والدین کی تنظیم kolektive SOS Périscolaire پانچ سال سے گواہی جمع کرنے اور انصاف کی مہم چلا رہی ہے۔ اس کی ایک بانی Anne نے کہا کہ یہ سکینڈل پورے فرانس میں ہے۔ صرف شہری سطح پر ہی نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے بھی خرابیاں ہیں۔ ایک اور گروپ کی ترجمان نے کہا: ’’فرانسیسی معاشرہ آنکھیں کھول رہا ہے کہ سکول وہ پناہ گاہ نہیں جو ہم سمجھتے تھے۔ جب آپ صبح بچے کو سکول چھوڑتے ہیں تو وہ بچہ انتظامی خرابیوں اور Paedophile رویے سے بالکل محفوظ نہیں۔ یاد دلاتے چلیں کہ اس قبل 2021ء میں فرانس میں چرچ کے پادریوں کی جانب سے بچوں سے بڑے پیمانے پر زیادتی کے سکینڈل نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 1950ء سے 2021ء تک تقریباً دو لاکھ سولہ ہزار بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی۔ زیادتی کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تر لڑکے ہیں۔ اس تحقیق کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جنسی زیادتی کرنے والے پادریوں کی تعداد دو ہزار نو سو سے تین ہزار دو سو تک ہے چرچ کی انتظامیہ متاثرہ بچوں کے معاملے کو ظالمانہ طریقے سے نظر انداز کرتی رہی۔
فرانس سمیت تقریباً تمام ہی مغربی ممالک کو ان حالات کا سامنا ہے، حکومتیں ان جرائم کو روکنے کے لیے نظام کو بہتر بنانے اور قانون سازی کی بات تو کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس شرم و حیا سے عاری تہذیب کے وہ داعی ہیں وہ تہذیب ان جنسی درندوں کی افزائش کے لیے نرسری کا کام کر رہی ہے ایسے میں آپ اپنی ناقص عقلیں لڑا کر لاکھ قوانین بنائیں اور پیسہ خرچ کریں یہ جرائم رکنے والے نہیں ہیں۔ مغرب کی اسی بیماری کو علامہ اقبال نے پہچانا اور اپنے اشعار میں بیان کیا :
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب
کہ روح اس مدنیت کی رہ سکی نہ عفيف
رہے نہ روح میں پاکیزگی تو ہے ناپید
ضمیرِ پاک و خیالِ بلند و ذوقِ لطیف
کاروباری پابندیاں دوبارہ لگائیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا: مرکزی انجمن تاجران |
پاکستان کی ایک نمایاں تاجر تنظیم نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بازاروں کو جلد بند کرنے کا فیصلہ دوبارہ نافذ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ تاجروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔ اپریل کے اوائل میں پاکستانی حکومت نے مہنگے درآمدی ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری منصوبے کے تحت دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے تک بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم ریستورانوں، بیکریوں، کریانہ سٹورز اور شادی ہالز کو رات 10 بجے تک استثنیٰ حاصل تھا۔ یہ کفایت شعاری اقدامات امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ تاجروں نے بازاروں کو جلد بند کرنے کی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ ان اقدامات سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاجروں کے کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں کاروباری سرگرمیاں شام سات بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں، دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے پر مجبور کرنا کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام آباد میں کبھی احتجاجوں کو روکنے کے نام پر حکومت راستے بند کر دیتی ہے تو کبھی میچز کی سکیورٹی کے نام پر۔ حال ہی میں امریکہ ایران مذاکرات کے لیے جس طرح پورے اسلام آباد کو سیل کیا گیا تھا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں عام انسانوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کاروبار جلد بند کرنے کی پابندیاں توانائی کے استعمال میں کمی، بجلی کی پیداوار کی لاگت کو قابو میں رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت واقعی بچت میں سنجیدہ ہے تو ملک بھر میں وزراء کے ساتھ تیس چالیس گاڑیوں کا لشکر کیوں ہوتا ہے؟ عرصہ دراز سے بیوروکریسی اور سرکاری افسران کو ملنے والی فری بجلی گیس پٹرول پر تنقید ہوتی رہی ہے ان معاملات کو کیوں درست نہیں کیا جاتا؟
امریکہ کا اپنے اتحادیوں سے دفاعی بجٹ بڑھانے کا مطالبہ |
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے 30 مئی 2026ء کو سنگاپور میں 23ویں شنگریلا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں سے کئی مطالبے کر ڈالے۔ پیٹ ہیگسیتھ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دیرینہ مطالبے کو دہرایا کہ اتحادی اپنے دفاعی اخراجات کا زیادہ بوجھ خود اٹھائیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ یورپی اور نیٹو شراکت داروں کو واشنگٹن پر انحصار کم کرنا چاہیے۔
اس نے کہا: ’’امریکہ کی جانب سے امیر ممالک کے دفاع کے لیے مالی امداد دینے کا دور ختم ہو گیا ہے۔ ہمیں شراکت داروں کی ضرورت ہے، زیر سرپرستی ریاستوں کی نہیں۔ ہمارا اتحاد تب تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک ہر کوئی اپنا حصہ نہ ڈالے۔ کوئی مفت خوری نہیں چلے گی‘‘۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس کو روکنے کے لیے فوجی اخراجات میں اضافہ کریں۔ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا: ’’کسی بھی بالا دست طاقت کے زیر تسلط بحرالکاہل، علاقائی طاقت کے توازن کو بگاڑ دے گا۔ چین سمیت کوئی بھی ریاست، اپنی بالا دستی مسلط نہیں کر سکتی اور ہماری قوم اور ہمارے اتحادیوں کی سکیورٹی یا خوشحالی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی‘‘۔ پینٹاگون کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک بڑھائیں گے۔ کبھی یہ ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے مسلم ممالک پر مسلط اپنی کٹھ پتلیوں اور غلام حکومتوں سے ہوتے ہیں آج امریکہ کی یہ حالت ہے کہ اپنے اتحادیوں سے کبھی منت سماجت کرتا ہے کبھی غصے و ناراضگی کا اظہار کرتا ہے اور کبھی دھونس دھمکیوں پر اتر آتا ہے۔
وال سٹریٹ جنرل لکھتا ہے امریکہ اور یورپ کے درمیان بحر اوقیانوس کے حوالے سے تعلقات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، ایران کی جنگ پر کشیدگی نے اس احساس کو بڑھایا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم جغرافیائی سیاسی شراکت داری ’’طلاق‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ یورپ اتحاد ایران جنگ کے حوالے سے بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ رہا ہے۔ جو گرین لینڈ پر تعطل کے بعد پہلے ہی مشکل صورتحال میں تھا ۔
نریندر مودی کا متحدہ عرب امارات کا دورہ؛ دفاعی تعاون کا معاہدہ اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری |
انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں اشتراک، انٹیلی جنس تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دیں گے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریق دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت، فوجی مشقیں، بحری سلامتی، سائبر دفاع اور محفوظ مواصلات کو بڑھانے پر متفق ہوئے ہیں۔ انڈیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت ہوتی ہے اور امارات خلیج میں انڈیا کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ متحدہ عرب امارات میں انڈیا کے سفیر دیپک مِتّل نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم معاہدہ سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو بڑھانے سے متعلق ہے۔اس نے کہا کہ ’سب سے اہم پہلو انڈیا کے سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو بڑھانا ہے۔ اسے تقریباً 55 لاکھ بیرل سے بڑھا کر تین کروڑ بیرل تک لے جانے کی منصوبہ بندی ہے۔ اس کے تحت نئی جگہوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، جن میں اڑیسہ کا چندیکھول بھی شامل ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دونوں ممالک کے اسرائیل سے دفاعی و تجارتی تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انڈیا اور اسرائیل کے مابین مالی سال 2024-2025ء میں، دو طرفہ تجارت تقریباً 3.75 بلین ڈالر رہی۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ علاقائی سلامتی کے چیلنجز اور تجارتی رکاوٹیں نہ ہوتیں تو یہ تجارت کہیں زیادہ ہوتی۔ ہندوستان کی برآمدات کی مالیت 2.1 بلین ڈالر تھی، جب کہ اسرائیل سے درآمدات 1.6 بلین ڈالر تھیں۔ ہندوستان اسرائیلی اسلحے کا بھی خریدار ہے ہندوستان کی ڈیفینس امپورٹس میں اسرائیلی شئیر 13 فیصد ہے ۔ جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، گولہ بارود، اور precision-strike weapons درست حملہ کرنے والے ہتھیار شامل ہیں۔ گزشتہ مئی 2025ء میں ہونے والی جنگ کے دوران انڈیا نے اسرائیلی ہارپ ڈرون سے پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں حملے کیے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات اسرائیل کی تجارت 2024ء میں 3.254 بلین ڈالر اور 2025ء میں $3.209 بلین تک پہنچ گئی تھی۔
٭٭٭٭٭








![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



