نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home عالمی منظر نامہ

اخباری کالموں کا جائزہ | جون و جولائی ۲۰۲۶ء

by شاہین صدیقی
in جون و جولائی 2026ء, عالمی منظر نامہ
0

اس تحریر میں مختلف موضوعات پر کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کی آرائ پیش کی جاتی ہیں۔ ان آراء اور کالم نگاروں و تجزیہ کاروں کے تمام افکار و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ (ادارہ)


انڈیا میں مساجد پر بڑھتے ہوئے حملے

انڈیا میں مساجد کے خلاف کاروایاں باقاعدہ ایک مہم کی صورت میں کی جا رہی ہیں۔ پچھلے ایک ماہ میں  بی جے پی کے زیر انتظام علاقوں دہلی، مہاراشٹر، اتر پردیش،گجرات، راجھستان اور ہریانہ میں درجنوں مساجد کو بلڈوزر مافیا نے شہید کر دیا، اور اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے پر ہندوؤں کی بڑی تعداد بی جے پی حکومت سے متفق ہے۔ کانگریس ہو یا دوسری پارٹیاں کوئی بھی اس حرکت کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہا۔ وہاں کی مسلم کمیونٹی جگہ جگہ احتجاج کرتی ہے لیکن کمزور کی بات کی کوئی اہمیت نہیں، بات طاقت کے زور پر ہی سنی جاتی ہے وہ کہتے ہیں نا جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

Muslim Mirrorکی ایک رپورٹ کے مطابق:

Over 23 Mosques, Madrasas, Eidgahs and Dargahs Demolished in 45 Days — All in BJP-Ruled States | Ayesha Afnan

’’ہزار برس قدیم ایک تاریخی مسجد سے لے کر دو سو سالہ درگاہ تک، بی جے پی کے زیرِ اقتدار بھارت کی متعدد  ریاستوں میں مسلم مذہبی مقامات کے انہدام کی حالیہ لہر نے شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔

یہ انہدامی کارروائیاں محض چند الگ تھلگ واقعات معلوم نہیں ہوتیں۔ مئی سے اب تک کم از کم 23 مسلم مذہبی مقامات، جن میں مساجد، درگاہیں، عیدگاہیں اور مدارس شامل ہیں، چھ ریاستوں میں منہدم کیے جا چکے ہیں۔ اسی سلسلے میں وارانسی (بنارس) کی ایک ہزار سالہ تاریخی مسجد گنجِ شہیداں بھی انہدام کی کارروائی کی زد میں ہے۔

اس نوعیت کی کارروائیوں کی اطلاعات دہلی، مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، راجستھان اور  ہریانہ سمیت متعدد بی جے پی حکومت والی ریاستوں سے موصول ہوئی ہیں۔ ان مسلسل انہدامی اقدامات نے یہ الزامات جنم دیے ہیں کہ مسلم مذہبی مقامات کو دانستہ اور امتیازی انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ان تمام واقعات میں قانونی تقاضوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہدامی کارروائی سے قبل کسی بھی مقام کو پیشگی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، جہاں مسلم مذہبی عمارتوں کے خلاف کارروائی کی گئی، وہیں ان کے آس پاس موجود مبینہ طور پر غیر مجاز ہندو مذہبی انفرا سٹرکچرز کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔‘‘

[Muslim Mirror]

یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، اس کے پیچھے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں دو دہائیوں سے ہونے والے اقدامات ہیں، جن میں مسلمانوں کی ماب لنچنگ، حجاب پر حملے، مسلمانوں کے نکاح اور وراثت کے شرعی قوانین کے خلاف اقدامات، وہاں موجود شہروں، محلوں اور درس گاہوں کے مسلمان حکمرانوں کے دور کے رکھے گئے ناموں کی ہندوؤں سے منسوب ناموں سے تبدیلی، تاریخی مساجد کو مندر بنانے کی ناپاک سازشیں، لو جہاد، معاشی جہاد کے نام پر مسلمانوں کا بائیکاٹ، غرض یہ کہ مسلمانوں سے منسوب پوری کی پوری تاریخ مٹانے اور انڈیا کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے جس منظم انداز میں درجہ بدرجہ کام کیا جا رہا ہے، بالکل صہیونی ماڈل کا عکاس ہے۔ لہٰذا وہاں موجود مسلمانوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے اور متحد ہو کر اس کے خلاف عملی اقدام اٹھانے چاہیں ۔

مساجد کے اس طرح شہید کیے جانے پر وہاں کے مسلمان بہت تکلیف دہ صورتحال کا شکار ہیں لیکن طاقت نہ ہونے کے سبب وہ اس متعلق اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔ اس متعلق وہاں کے مسلمان تجزیہ نگار کیا لکھتے ہیں وہاں کے کالموں سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں:

چار دن میں تین مسجدیں شہید |معصوم مراد آبادی

’’گزشتہ ہفتہ ملک میں مسجدوں پر بلڈوزر چلانے کے لیے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ اس عرصے میں راجستھان اور اتر پردیش میں تین مسجدوں کو ناجائز قرار دے کر بے رحمی سے شہید کر دیا گیا ۔ اتر پردیش کے بنارس اور سنبھل کے بعد راجستھان کے شہر جے پور میں جس انداز میں مسجدوں پر بلڈوزر چلے ہیں، ان سے کئی پریشان کن سوالات ایک ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ یوں تو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی ناجائز تعمیر کے بعد ہی سے ملک بھر میں مسجدوں، مدرسوں اور مزاروں پر حملے جاری ہیں اور متعدد جگہ پر انہیں غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا جا رہا ہے، لیکن حالیہ عرصے میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت مسجدوں کو زمین بوس کرنے کی مہم شروع ہوئی ہے اسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اس مہم کا مقصد محض ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کا انہدام نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی زد میں وہ مندر بھی آتے جو بڑی تعداد میں سڑکوں اور سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضہ کر  کے بنائے گئے ہیں۔ محض مسجدوں کو ناجائز اور غیر قانونی قرار دے کر منہدم کرنا دراصل مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کا حصہ ہے، جس کو سرکاری مشنری کی سرگرم حمایت حاصل ہے۔

۱۹۹۰ء کی دہائی میں جس وقت رام جنم بھومی تحریک اپنے شباب پر تھی اور بابری مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی تیاریاں چل رہی تھیں تو کچھ نام نہاد مسلم دانش وروں نے کہا تھا کہ ’اگر ایک مسجد کی دست برداری کے عوض امن حاصل کیا جا سکتا ہے تو یہ سودا برا نہیں ہے‘۔ لیکن اس وقت بھی ہم جیسے سر پھروں نے یہی لکھا تھا کہ بابری مسجد پر رام مندر بنانے کی تحریک محض ایک مسجد کو مندر میں بدلنے کی تحریک تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شناخت مٹانے کی منظم سازش کارفرما ہے ۔ بابری مسجد کا انہدام محض ایک تاریخی مسجد کا انہدام نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی سازش کارفرما تھی اور اس سازش میں کچھ ’گھر کے بھیدی‘ بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اگست ۲۰۱۹ء میں بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے ظالمانہ فیصلے سے ایک روز قبل مسلمانوں میں موجود کچھ کالی بھیڑیں قومی سلامتی کے مشیر کی رہائش گاہ پر لذیذ کھانا کھانے جمع ہوئی تھیں اور باہر نکل کر انہوں نے اپنے مذہبی تشخص سے زیادہ اس کھانے کی تعریف کی تھی جو بے غیرتی کے خمیر سے تیار ہوا تھا۔ یہاں کسی کے کردار پر انگلی اٹھانا مقصود نہیں بلکہ ہم آپ کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ جو بابری مسجد سے دستبردار ہو کر امن خریدنا چاہتے تھے وہ آج کہیں نظر نہیں آ رہے، بلکہ نظر وہ عام مسلمان آ رہے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں بے بسی اور لا چاری کے ساتھ اپنی مسجدوں پر بلڈوزر چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس سیکولر جمہوری ملک میں ان کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مذہبی علامتوں کو مٹانے کے اس ظالمانہ سلسلے کو روک سکیں۔‘‘

[روزنامہ اعتماد]

مسجدوں کو پوری طرح مٹانے کی مذموم مہم  |ندیم عبد القدیر

’’اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ملک کے عدالتی اور قانونی نظام کا خاموش تماشائی بنے رہنا یا پھر کاروائیوں کو بالواسطہ شہ دینا ہے۔ قانون کی بالا دستی کا تقاضا تو یہ تھا کہ کسی بھی تاریخی یا مذہبی مقام کو منہدم کرنے سے پہلے فریقین کو صفائی کا پورا موقع دیا جاتا اور دستاویزات کی مکمل جانچ پڑتال ہوتی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ عدلیہ بھی ’بلڈوزر سیاست‘ کے آگے سر بسجود ہو چکی ہے۔ سرکار کے فیصلوں اور اس کی پالیسی کے خلاف کاروائی کرنے کے بارے میں سوچنے سے بھی عدلیہ کے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ عدالتوں کے حکم امتناعی( سٹے آرڈر) کے باوجود راتوں رات مساجد کو زمین بوس کر دیا جاتا ہے اور عدالت ان غیر قانونی کاروائیوں کے خلاف کچھ نہیں کرتی۔

مساجد پر ہونے والے ان پے در پے حملوں کو سنگھ پریوار اور گودی میڈیا کی جانب سے ’غیر قانونی تعمیرات پر کاروائی‘ نام کے پروپیگنڈے سے درست ٹھہرانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا ہاوسز دن رات زہریلا پروپیگنڈا چلا کر اکثریتی آبادی کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا رہے ہیں کہ مسلمانوں نے ملک کی قیمتی زمینوں پر ’زمین جہاد‘ کے تحت ناجائز قبضے کر رکھے ہیں ۔ اس زہریلی ذہن سازی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ صدیوں پرانی تاریخی مساجد   کے انہدام پر تمام ہندو شہری احتجاج کرنے کے بجائے جشن مناتے ہیں۔ نفرت کی یہ آگ اب صرف مٹی اور گارے کی دیواروں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ملک کے سیکولر تانے بانے کو  بھی خاکستر کر رہی ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ملک میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر یہ منظم مظالم عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے بھی ایک بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔ مسلمانوں کے لیے زمین تنگ ہو رہی ہے اور اس کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اس کے ختم ہونے کی امید بھی نہیں۔‘‘

[روزنامہ اردو ٹائمز]

مسجد اقصیٰ خطرے میں

قبلۂ اول مسجد اقصیٰ مستقل صہیونی ناکہ بندی، صہیونی آبادکاروں کی بڑھتی ہوئی دراندازیوں اور بے حرمتی کا شکار بنی ہوئی ہے، اور اسرائیلی وزراء علی الاعلان مسجد اقصی کمپاؤنڈ میں یہودی عبادت کی اجازت اور مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے،  پہلے سے جاری مسلسل ناکہ بندی، تلاشی کے نام پر ذہنی اذیت اور گرفتاریاں ، نوجوانوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی جبکہ یہودی تہواروں کے مواقع پر مسلمانوں کے داخلے پر پابندی اور اس طرح کے خود ساختہ قوانین جو زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو مسجد میں داخلے سے روک سکیں ، وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔

حالیہ ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں ساٹھ دن کے لیے مسجد اقصی کو نمازوں تک کے لیے بند کر دیا گیا۔  جہاں غزہ، مغربی فلسطینی علاقوں اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کی املاک پر قبضہ کر کے انہیں ان کے اپنے علاقوں سے بے دخل کیا جا رہا ہے، وہاں مسلمانوں کے قبلۂ اول پر قبضہ کو قانونی شکل دینے کی بھی سازشیں بُنی جا رہی ہیں۔

مڈل ایسٹ آئی کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایک ایسے منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں جس کے مطابق حرم الشریف مسجد اقصیٰ کی نگرانی اردن کے محکمہ اوقاف سے چھین کر مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کر دی جائے گی اور اسرائیلی حکومت کے جانب سے ایک ادارہ قائم کیا جائے گا جس کے تحت مسجد اقصیٰ کو ایک سیاحتی مرکز اور Multi-Faith Center یا کثیر المذاہب مرکز بنا دیا جائے گا اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کو بھی یہاں مذہبی رسومات کی مکمل آزادی ہو گی۔ یہ نیا ادارہ اماموں کی تقرری، جمعہ کے خطبوں کے مواد سمیت الحرم الشریف کے تمام امور پر کنٹرول رکھے گا۔

فلسطین میں موجود قبلۂ اول سمیت مسلمانوں اور عیسائیوں کے اہم مذہبی مقامات ۱۹۶۷ء کے سٹیٹس کو قانون (Status Quo Law) کے تحت  براہ راست اردن کے حکومت کی نگرانی میں اور اردن کے محکمہ اوقاف کے تحت آتے ہیں۔اس قانون کے مطابق مسجد اقصیٰ کی اندرونی سکیورٹی ، اماموں کی تقرری اور مسجد سے متعلق تمام امور اردن کا محکمہ اوقاف کی ذمہ داری ہیں جبکہ بیرونی سکیورٹی اسرائیل کے  اختیار میں ہے۔  لیکن دیکھا جائے تو پچھلے چند سالوں میں یہ اختیار نام کا ہی رہ گیا ہے  اور اسرائیل عملاً مسجد اقصیٰ پر اپنا تسلط جمائے ہوئے ہے۔حال ہی میں 37 سے زائد محافظوں اور ملازمین کو مسجد اقصیٰ میں ان کے کام کی جگہوں سے زبردستی بے دخل کیا گیا ہے، جبکہ یکم جون 2026ء سے مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے 30 انتظامی ملازمین کے اجازت نامے  منسوخ کر دیے گئے ۔  وقتاً فوقتاً وقف کونسل کے ممبران اور ائمہ پر مسجد میں داخلے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ جبکہ اس متعلق اردن خانہ پری کے لیے اقوام متحدہ میں اپنا رسمی زبانی احتجاج ریکارڈ کروا کر چپ بیٹھ رہتا ہے۔

چاہے نام کا ہی سہی، لیکن  یہ قانون یہودیوں  کے لیے مسجد اقصیٰ میں آزادی سے داخلے اور وہاں عبادت کرنے میں رکاوٹ ہے۔  مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے ایک دہائی قبل یہ منصوبہ ٹرمپ کو پیش کیا تھا اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے عہدہ سنبھالتے ہی ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مارکو روبیو کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کوششیں شروع کر دیں تھی جبکہ اس متعلق متحدہ عرب امارات ، بحرین اور مراکش کو امریکہ پہلے ہی بریفنگ دے چکا ہے۔ اردن اور سعودی عرب اس منصوبے کی اس بنا پر مخالفت کر رہے ہیں  کہ ایسی کوئی حرکت پورے خطے کے حالات خراب کر سکتی ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی پوزیشن ابھی واضح نہیں ہے۔ چونکہ ان دونوں ممالک کے اسرائیل سے قریبی تعلقات ہیں تو کچھ بعید نہیں یہ دونوں ممالک اس منصوبے میں اسرائیل کا ساتھ دیں۔ اس معاملے کی حساسیت سمجھنے کے لیے ابراہیمی مسجد کے معاملے پر نظر ڈالتے ہیں۔

سانحہ ابراہیمی مسجد

فلسطینی شہر  الخلیل (ہیبرون )میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد بھی اپنی اہمیت کے اعتبار سے مسلمانوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے اہم مقدس مقام ہے، کیونکہ تاریخی روایات کے مطابق یہاں حضرت ابراہیم علیہ سلام ، حضرت اسحق علیہ سلام اور حضرت یعقوب علیہ سلام کے مقبرے ہیں۔

۱۹۹۴ء میں ایک یہودی نے مسجد میں گھس کر فجر کی نماز میں  انتیس نمازیوں کو شہید کر دیا جس کے بعد اسرائیلی حکومت نے مسجد کو  ۹ ماہ کے لیے سیل کر دیا۔ جس کے بعد صہیونی حکومت نے ایک کمیشن بنایا جس نے مسجد کا دو تہائی حصہ یہودیوں اور ایک تہائی حصہ مسلمانوں کے لیے مختص کر دیا۔ اس کے بعد سے اب تک یہودی تہواروں میں یہودیوں کو عبادت کے لیے تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ مسلمانوں کے اہم مواقع (رمضان،عیدین) پر اتنی سختی کی جاتی ہے کہ مسلمان مسجد تک آزادانہ رسائی حاصل نہ کر سکیں۔ اور اسی طرز پر اب یہ صہیونی ہمارے قبلۂ اول پر بھی قبضے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس رپورٹ کی روشنی میں مڈل ایسٹ آئی پر ہی ایک تجزیہ شائع ہوا ہے جس میں اس معاملے کی حساسیت اور نزاکت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

Al-Aqsa: The moment of peril is here. Will the Muslim world act? | Ismail Patel

’’مسجدِ اقصیٰ میں کبھی جمعہ کی نماز کے لیے لاکھوں فرزندانِ اسلام جمع ہوتے تھے۔ آج اسرائیلی پابندیوں اور مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی منظم پالیسی کے باعث وہاں روزانہ کی نمازوں میں کبھی چند ہزار اور کبھی صرف چند سو نمازی ہی پہنچ پاتے ہیں۔

اسرائیل پہلے ہی اس بات پر مکمل اختیار حاصل کر چکا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ میں کون داخل ہو سکتا ہے اور کون نہیں۔

فلسطینی نمازیوں پر عائد کی جانے والی یہ پابندیاں کسی اتفاق یا وقتی فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ نوآبادیاتی حکمتِ عملی کا سوچا سمجھا اظہار ہیں، جس کا مقصد مسلسل دباؤ اور تدریجی کمزوری کے ذریعے فلسطینی وجود کو گھلا دینا ہے۔ صرف رواں سال کے دوران چھ سو سے زیادہ فلسطینیوں کو مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ اوقاف کے تیس ملازمین کے داخلے کے اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے، جبکہ چھ ائمہ کو خاموش کروا کر خطبہ دینے سے بھی محروم کر دیا گیا۔

مسجدِ اقصیٰ کے سینئر امام، شیخ عکرمہ صبری، کے بقول یہ ’بے مثال اور غیر معمولی اقدامات‘ ہیں، جن کا مقصد غلبہ اور تسلط مسلط کرنا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہم کہتے تھے کہ مسجدِ اقصیٰ خطرے میں ہے، مگر آج حقیقت یہ ہے کہ اسے ایک نہیں بلکہ بے شمار خطرات نے گھیر رکھا ہے، اور ہر نیا خطرہ پہلے سے موجود خطرات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

اسلامی شناخت کا محور

گزشتہ ماہ اسرائیلی وزراء اور ارکانِ پارلیمان نے منظم انداز میں بڑی تعداد میں مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بولا۔

اسرائیلی پارلیمان کے ایک رکن نے برملا مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کو منہدم کر کے اس کی جگہ یہودی ہیکل تعمیر کیا جائے۔ اس دوران مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پرچم بھی لہرائے گئے۔

میں یہ بات پوری صراحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت عالمِ اسلام کو در پیش سب سے بڑا خطرہ صرف اسرائیلی جارحیت نہیں، جو امریکی طاقت اور مالی سرپرستی کے بل بوتے پر جاری ہے، بلکہ اس سے بھی بڑا خطرہ اُن لوگوں کی بے حسی، باہمی تفرقے اور ادارہ جاتی مفلوجیت ہے جو مسجدِ اقصیٰ کو اپنا مقدس مقام قرار دیتے ہیں۔

مسلمانوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ کوئی ایسا تاریخی ورثہ نہیں جسے محض سفارتی بیانات کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ اسلام کا پہلا قبلہ ہے، معراجِ نبی ﷺ اور سفرِِ اسراء کی مقدس سرزمین ہے، امت کی نہایت مقدس مسجد ہے، اور اسلامی شناخت و تہذیب کا زندہ محور ہے۔ اس کی بے حرمتی محض ایک جغرافیائی یا سیاسی اشتعال انگیزی نہیں، بلکہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کی اجتماعی یادداشت، دینی تشخص اور وجود پر براہِ راست حملہ ہے۔

مگر اس کے باوجود عالمِ اسلام صرف مذمتی بیانات جاری کرتا ہے اور پھر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ وہ حکومتیں جو حقیقی معاشی اور سفارتی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اپنے مفادات کا حساب لگاتی ہیں اور نظریں چرا لیتی ہیں۔

وہ امت جو سڑکوں پر نکل کر تاریخ کا رخ موڑ سکتی تھی، اب محض اپنی موبائل اسکرینوں پر خبریں دیکھ کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

خاموشی بھی جرم میں شراکت ہے

مسلم دنیا سے باہر کے لوگوں کے لیے بھی اس معاملے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا ہے، وہ در حقیقت ایک ایسے مقدس مقام پر نوآبادیاتی حاکمیت کو باقاعدہ قانونی شکل دینے کی کوشش ہے، جسے دو ارب سے زیادہ انسان مقدس مانتے ہیں۔

اگر یہ عمل کامیاب ہو گیا تو ایک ایسی خطرناک مثال قائم ہو جائے گی جس کے مطابق کسی قوم کی شناخت کو بتدریج مٹانے کا عمل، اگر مؤثر پروپیگنڈے اور سامراجی سرپرستی کے ساتھ انجام دیا جائے، تو نہ صرف برداشت کر لیا جاتا ہے بلکہ بالآخر اس کا صلہ بھی دیا جاتا ہے۔

عرب تنظیم برائے انسانی حقوق نے ان خلاف ورزیوں کی منظم اور مسلسل نوعیت کو نہایت تفصیل سے دستاویزی شکل دی ہے۔ مگر عالمی برادری نے، مجموعی طور پر، خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اور یہ خاموشی غیر جانب داری نہیں، بلکہ ظلم میں عملی شراکت کے مترادف ہے۔

فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے۔ عالمِ اسلام اور ہر وہ شخص جو نوآبادیاتی صفائے اور جبر کے خلاف کھڑا ہے، اسے فوری طور پر سفارتی، قانونی، معاشی اور اخلاقی، ہر ممکن ذریعے کو بروئے کار لانا ہو گا۔

اگر ہم نے اب بھی اپنے ضمیر اور اپنے عقیدے کی پوری قوت کے ساتھ اقدام نہ کیا، تو ’’بقائے باہمی‘‘ کی خوش نما زبان کو ایک ایسے صہیونی منصوبے کی تکمیل کے لیے استعمال کر لیا جائے گا، جس کی بنیاد کئی دہائیاں پہلے رکھی گئی تھی اور جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے محروم کرنا ہے۔‘‘

[Middle East Eye]

غزہ اور مغربہ کنارہ

بین الاقوامی میڈیا پر جہاں امریکہ ایران معاہدے ، سیزفائر اور آبنائے ہرمز کو کھولنے پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، وہاں اسرائیل خاموشی کے ساتھ بچے کھچے فلسطینی علاقوں پر ایک ناسور کی طرح پھیلتا چلا جا رہا ہے، چاہے وہ غزہ ہو یا مغربی کنارہ۔  جہاں غزہ میں خود ساختہ زرد لکیر (Yellow Line) کو صہیونی فوجی مغرب کی طرف توسیع دے کر اب ۶۴ فیصد غزہ پر قابض ہیں  اور نیتن یاہو نے قابض فوج کو غزہ کے ستر فیصد حصے پر قبضہ کرنے کا گرین سگنل دے دیا ہے وہیں مغربی کنارہ میں مسلسل بڑھتے ہوئے صہیونی آباد کاروں  کے فلسطینی دیہی کمیونٹی پر حملے اور ان کی املاک و زمینوں کو جلانا اور ان پر قبضہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔  خاص طور پر فلسطینی معاشرے کے اہم ستون یعنی مساجد، پانی ، زرعی زمینیں اور زیتون کے درخت ان کے مسلسل نشانے پر ہیں ۔

ابھی جون کے مہینے میں ہی جلجلیہ اور مزرع النوبانی میں مساجد کو آگ لگا کر شہید کر دیا گیا اور  الخلیل کی الراس مسجد میں فجر کی نماز میں مسلمانوں پر حملہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ  گرمی کی شدت بڑھتے ہی صہیونی آباد کاروں نے فلسطینی علاقوں میں پانی کی سپلائی لائن پر حملے شروع کر رکھے ہیں۔ شکر ہے کہ چند میڈیا ادارے فلسطین پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور دنیا کو حالات کی اصلیت سے آگاہ کر رہے ہیں کہ اس وقت دریائے اردن کے مغرب میں فلسطینی علاقے اور غزہ کن خطرات سے دوچار ہے۔

When the Iran War is Over: Why the West Bank May Be Netanyahu’s Next Front | Dr Ramzy Baroud

’’اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی غزہ پر اسرائیلی فائرنگ تقریباً روزانہ جاری رہی۔ موسمِ بہار تک جنگ بندی کی دو ہزار سے زیادہ دستاویزی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی تھیں، جبکہ کم از کم 981 فلسطینی شہید کیے جا چکے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ ان میں سے بہت سے صرف اس لیے گولیوں کا نشانہ بنے کہ وہ اس زرد لکیر کے قریب پہنچ گئے تھے جو خود مسلسل ان کی طرف سرکتی چلی آ رہی ہے۔

عمارتیں آج بھی منہدم ہو رہی ہیں۔ بچے آج بھی مارے جا رہے ہیں۔ نشانہ باز (سنائپر) آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ ڈرون آج بھی فضا میں منڈلا رہے ہیں۔ بلڈوزر آج بھی زمین ہموار کر رہے ہیں۔ اور اس سب کے باوجود ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ اسے ’جنگ بندی‘ کا نام دیں۔

خوراک کی قلت بھی ختم نہیں ہوئی۔ امداد کو ایک انسانی حق کے بجائے حساب  کتاب کا معاملہ بنا دیا گیا ہے: کتنی کم امداد اندر آنے دی جائے، کتنی سست رفتاری سے اسے پہنچایا جائے، اور لوگوں کو کتنی دیر تک صرف اتنا زندہ رکھا جائے کہ وہ مر نہ جائیں، مگر جینے کے قابل بھی نہ رہیں۔

مارچ کے وسط میں، جب دنیا کی توجہ ایران کی طرف منتقل ہو چکی تھی، اسرائیلی فوج نے امدادی اداروں کو ایسے نقشے بھیجے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس نے جنگ بندی کے دوران مقرر کی گئی زرد لکیر سے مزید 11 فیصد اندر تک پیش قدمی کر لی ہے، یعنی غزہ کے اُس 53 فیصد حصے سے، جس پر جنگ بندی نے اسے قابض رہنے کی اجازت دی تھی، قبضہ بڑھا کر 64 فیصد تک پہنچا دیا گیا۔

مئی کے آخر تک اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو ایک آبادکاروں کی کانفرنس میں فخر سے بتا رہا تھا کہ فوج پہلے ہی غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض ہو چکی ہے، اور اس نے اسے 70 فیصد تک قبضہ بڑھانے کا حکم دے دیا ہے۔ مجمع ’سو فیصد‘ کے نعرے لگا رہا تھا، اور نیتن یاہو انہیں یقین دلا رہا تھا کہ اسرائیل مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے، پہلے 70 فیصد، پھر باقی بھی۔

اب فلسطینی اپنے ہی وطن کے تقریباً دو تہائی حصے تک رسائی سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں غزہ کی تقریباً تمام زرعی زمینیں بھی شامل ہیں، کیونکہ ان کا بیشتر حصہ اسی زرد لکیر کے مشرق میں واقع ہے۔ اب خود جغرافیہ فاقوں کو نافذ کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

کسان اپنی زمینوں تک پہنچنے کی کوشش میں گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ ماہی گیر سمندر تک جانے کی پاداش میں قتل کر دیے جاتے ہیں۔ خاندان اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے تک واپس لوٹنے کی کوشش کریں تو ان پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ خوراک کی تلاش میں نکلنے والے بچے صرف اس لیے ہدف بن جاتے ہیں کہ وہ ان لکیروں کو عبور کر لیتے ہیں جو اسرائیل نے انہی کے محلّوں کے بیچ کھینچ رکھی ہیں۔

یہ نسل کشی ہے، مگر ایسی نسل کشی جو جغرافیے کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے۔

اور یہی وہ حقیقت ہے جسے ایران کی کہانی پردۂ اخفا میں دھکیل دیتی ہے۔

جب غزہ کی سرحدی گزرگاہیں بند کی جاتی ہیں تو اسرائیل اسے ’سکیورٹی‘ قرار دیتا ہے۔ جب امداد روکی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ پورا خطہ خطرے میں ہے۔ جب فلسطینی قتل کیے جاتے ہیں تو ان کی ہلاکتوں کو ایران کے ساتھ جاری جنگ کا حصہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اور گولی چلنے کے بعد انہیں ’دہشت گرد‘، ’دہشت گردوں کا حامی‘ یا ’خطرہ‘ قرار دے دیا جاتا ہے۔ قتل کے بعد ان پر وابستگیوں کے لیبل چسپاں کیے جاتے ہیں، گویا اس سے بچوں کے سروں میں گولیاں مارنے کا جرم بھی جائز ہو جائے گا۔

یوں فلسطین ایک بار پھر کسی اور کہانی کے اندر گم ہو جاتا ہے۔ مرنے والے اب اس لیے مردہ نہیں سمجھے جاتے کہ اسرائیل نے انہیں قتل کیا، بلکہ اس لیے کہ خطہ غیر مستحکم ہے، ایران خطرناک ہے، اور اسرائیل اپنے بقول ’اپنا دفاع‘ کر رہا ہے۔ ہر فلسطینی لاش پر ایک ایسی توجیہ کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے جو اس چھینی گئی زندگی سے کہیں بڑی بنا کر پیش کی جاتی ہے۔

……ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک خطے میں ’جنگ کے خاتمے‘ کی علامت نہیں ہو سکتا، جب تک فلسطینی سرزمین مسلسل ہتھیائی جا رہی ہو، غزہ کو بھوک کے عذاب میں مبتلا رکھا جا رہا ہو، اور مغربی کنارہ فوجیوں، آبادکاروں، چوکیوں اور خاردار تاروں کے ذریعے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہو۔

فلسطین کو کسی اور کے تنازعے کا محض ایک ضمنی اثر سمجھ لینے سے مشرقِ وسطیٰ میں کبھی استحکام پیدا نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہی فلسطین وہ مقام ہے جہاں یہ جنگ بار بار جنم لیتی ہے، جہاں جنگ بندی، تسلط کا دوسرا نام بن جاتی ہے، جہاں خوراک کی قلت ایک سرکاری پالیسی میں ڈھل جاتی ہے، اور جہاں چہرے پر گولی کھا کر شہید ہونے والا ایک شیر خوار بچہ بھی محض ایک حاشیہ بنا دیا جاتا ہے۔

سام ابو ہیکل 1 سام ابو ہیکل وہ سات ماہ کا معصوم بچہ ہے جسے قابض صہیونی نے الخلیل میں گاڑی پر فائرنگ کر کے شہید کیا جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھا۔ کو فلسطینی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا گیا۔ اس کے والد اسے اپنی بانہوں میں اٹھائے ہوئے تھے، اور یوں اس کے ساتھ اس معصوم بچے کے سارے خواب بھی دفن ہو گئے۔

لیکن سام ہی دراصل اس پوری جنگ کی علامت تھا، وہ داستان جسے ہر نئی سرخی کسی اور کے میزائلوں کی خبر کے حاشیے میں دفن کر دیتی ہے۔ فراموشی، اور فراموش کر دیے جانے کا عمل، اسرائیل کا آخری اور شاید سب سے مؤثر ہتھیار ہے۔‘‘

[Aljazeera English]

لبنان پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے اور ٹرمپ نیتن یاہو اختلافات

لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک چار ہزار دو سو چونسٹھ لوگ جا بحق ہو چکے ہیں اور بارہ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں(سرکاری اعدادوشمار)،جبکہ جنوبی لبنان کے جن علاقوں پر اسرائیل نے قبضہ کر کے بفر زون بنایا ہے وہاں سے اب تک دس لاکھ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود صہیونی قابض فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور مزید کئی دیہاتوں کو وارننگ جاری کر دی گئی ہے کہ علاقہ خالی کر دیں۔

اسرائیل نے امریکہ کو ایران جنگ کی آگ میں جھونکا ، جس وقت ٹرمپ اس جنگ سے شکست خوردہ ہو کر اپنی ساکھ تباہ کر کے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر رہا تھا، جس میں ایک شق یہ بھی ہے کہ لبنان سمیت ہر محاذ پر مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی ہو گی، اس وقت امریکہ کی بگڑی ہوئی ناجائز اولاد اسرائیل لبنان کے بے گناہ شہریوں پر مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے تھا۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ جہاں ایک طرف اسرائیلی وزراء اور اسرائیلی میڈیا جو ٹرمپ کے گن گاتا تھا اب اس کی اسرائیل سے ’’غداری‘‘ پر اسے خوب تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، تو وہیں جواب میں ٹرمپ اور نائب وزیر اعظم جے ڈی وینس نے بھی میڈیا پر اسرائیل کو آنکھیں دکھائی ہیں۔ چونکہ اسرائیل کی شیطانی حرکتیں خود امریکی عوام کے سامنے بھی کھل کر آ چکی ہیں اس لیے عوام ایران کے ساتھ معاہدے پر ٹرمپ کی سپورٹ میں ہیں اور اسرائیلی حمایت کے خلاف بول رہے ہیں ۔

جب ٹرمپ نے نیتن یاہو سے مطالبہ کیا کہ لبنان میں جنگ بندی کرو اور اپنی فوجیں نکال لو تو جواب میں نیتن یاہو نے بھی کہ دیا کہ: ’’اسرائیلی فوج شام، لبنان اور غزہ میں قائم اپنے سکیورٹی زونز میں جب تک ضرورت ہو گی موجود رہے گی اور اسرائیل اپنے خلاف حملے کے جواب میں کاروائی کا حق برقرار رکھے گا‘‘ ۔

یہ اختلافات ایک ایسے اہم موقع پر سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کے مفادات ٹکرائے ہیں اس لیے تجزیہ نگاروں کے نزدیک یہ بہت ہی اہم اور نادر موقع ہے اور مستقبل کے حالات پر اس کا گہرا اثر ہو سکتا ہے۔ اس پر تجزیہ نگاروں میں سے دو مختلف رائے آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں:

Vance’s warning to Israel signals a new phase in US-Israeli relations | Abed Abou Shhadeh

’’اسرائیلی حکام نے اس معاہدے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیتن یاہو کے حامی ذرائع ابلاغ نے ٹرمپ کے مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ کانگریس میں اسرائیل نواز ارکان اور امریکہ کے قدامت پسند میڈیا نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت میں باقاعدہ مہم شروع کر دی ہے۔

……آج جو چیز مختلف دکھائی دیتی ہے، وہ واشنگٹن کا ردِعمل ہے۔ اپنی پوزیشن میں نرمی دکھانے کے بجائے، ٹرمپ انتظامیہ نے کھلے عام اسرائیلی مؤقف کو چیلنج کیا ہے۔ جب جے ڈی وینس نے یہ کہا کہ اسرائیل کے دفاعی ہتھیاروں کا تقریباً دو تہائی حصہ امریکی سرمایہ اور امریکی صنعت کی پیداوار ہے، تو اس نے ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی کی جس پر امریکی حکام نے شاذ ہی کبھی کھل کر بات کی ہے۔ اس بیان کا مفہوم بالکل واضح تھا: اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کا اتحاد بدستور نہایت اہم ہے، لیکن اسرائیل کی سٹریٹیجک خودمختاری بڑی حد تک امریکی فوجی، مالی اور سفارتی پشت پناہی کی مرہونِ منت ہے۔

یہ بات ایک ایسے ریپبلکن نائب صدر کی زبان سے سننا، جو ایک ایسے صدر کا سیاسی جانشین سمجھا جاتا ہے جسے طویل عرصے تک اسرائیل کے مضبوط ترین حامیوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے، غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔

اسی طرح، جب مذاکرات فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ رہے تھے، تو بیروت پر اسرائیلی حملوں پر وینس کی تنقید بھی کم اہم نہیں تھی۔ اس نے نشاندہی کی کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی بڑی تعداد عام شہریوں پر مشتمل تھی، اور خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں وسیع تر سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ تنقید دراصل ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی اس بے چینی کی عکاس تھی کہ بعض امریکی حکام کے نزدیک اسرائیل دانستہ ایسے اقدامات کر رہا ہے جو واشنگٹن کے لیے سٹریٹیجک اہمیت رکھنے والے اس سفارتی عمل کو پیچیدہ بنانے یا سبوتاژ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘‘

[Aljazeera English]

لبنان کو مقبوضہ مغربی کنارہ بنانے کی تیاری | وسعت اللہ خان

’’ہم اسی پر خوش ہیں کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو جنوبی لبنان میں جنگ تیز کرنے پر کئی بار ننگی ننگی سنائیں کیونکہ نیتن یاہو اس حرکت سے ایران امریکہ ممکنہ سمجھوتہ سبوتاژ کرنا چاہ رہا ہے۔ نیتن یاہو نے بظاہر ٹرمپ کی انا کی وقتی تسکین کے لیے جنوبی بیروت پر حملہ نہ کرنے کا ’احسان‘ کر دیا مگر اصل مقصد سے نیتن یاہو پھر بھی ٹس سے مس نہ ہوا یعنی جنوبی لبنان کو ’لبنانیوں سے پاک‘ بفر زون بنانا۔

حالانکہ امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت میں واضح طور لبنان سمیت تمام محاذوں پر جامع اور مستقل جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے تاہم وہاں اسرائیلی فوج اسی طرح پنجے گاڑنا چاہتی ہے جس طرح ۱۹۶۷ء سے اب تک مغربی کنارے اور غزہ پر گاڑے ہیں۔ پھر اس بفر زون میں یہودی آباد کاری کی بنیاد ڈالی جائے گی اور جیسے جیسے دنیا ان حالات کی عادی ہوتی چلی جائے گی مغربی کنارے کی طرح جنوبی لبنان کو بھی غیر اعلانیہ ہڑپ کیا جائے گا۔

مغربی کنارہ مرحلہ وار ہتھیانے کے لیے پہلے پی ایل او کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا۔ پھر اسے لالی پاپ دیا گیا کہ مسلح جدوجہد ترک کرنے کی صورت میں ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے امکان پر غور ہو سکتا ہے۔ جب پی ایل او نے ہتھیاروں سے تائب ہونے کا فیصلہ کیا تو رفتہ رفتہ اسے اسرائیل نے بی ٹیم کے طور پر قبول کر لیا۔ آج مغربی کنارے پر تیز رفتار یہودی آباد کاری جاری ہے اور فلسطینی اتھارٹی علاوہ رسمی چیخ و پکار کچھ نہیں کر پا رہی۔

بالکل اسی فارمولے کے تحت غزہ میں ’دہشت گرد حماس‘ کے دانت نکالنے کی کوشش زوروں پر ہے اور بعینہہ لبنان میں اسرائیل کو منہ دینے والی واحد تنظیم حزب اللہ سے ہتھیار رکھوانے کی بھر پور امریکی اسرائیلی کوشش ہو رہی ہے۔ لاچار لبنانی حکومت کو اسی طرح گھٹنوں کے بل بٹھا کر استعمال کیا جا رہا ہے جس طرح پی ایل او کو فلسطینی اتھارٹی کا باجا تھما کر دیگر مزاحمتی گروہوں کو نیوٹرل بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔

……اب تک جنوبی لبنان کے کم از کم چھ قصبات غزہ اسٹائل میں بلڈوزروں سے مٹا دئیے گئے ہیں، دس ہزار سے زائد رہائشی و کاروباری املاک تباہ کر دی گئی ہیں، روزانہ چار چھ دیہاتوں کو خالی کرنے کا حکم جاری ہو رہا ہے، ساڑھے تین ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں، طائر اور نباتیہ جیسے تاریخی شہروں کو مرحلہ وار برباد کیا جا رہا ہے۔ ہدف یہ ہے کہ ان علاقوں سے جو ایک ملین سے زائد لبنانی نکل چکے ہیں وہ واپس نہ آ سکیں۔ یوں خالی زمین نئی یہودی بستیوں کے تصرف میں آ سکے۔‘‘

[روزنامہ ایکسپریس]

اس معاملے پر وسعت اللہ خان کا تجزیہ بہت اہم ہے۔ اسرائیل کے لبنان پر قبضے کا وہی پیٹرن ہے جو اس نے فلسطینی علاقوں کو ہتھیانے کے لیے اپنایا تھا۔ یہاں یہ بات بھی بحث طلب ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات آگے جا کر کیا شکل اختیار کریں گے۔

جیسا کہ ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ “There is no Israel without the U.S”۔ اسرائیل کی بنیاد سے لے کر اس کی بقا امریکہ کی ہی مرہون منت ہے۔ امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو سالانہ آٹھ اعشاریہ تین (8.3) بلین ڈالر کی دفاعی امداد باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہے جو امریکیوں کے ٹیکس کے پیسوں سے ادا ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی بات بھی قابل ذکر ہے جس میں اس نے کہا:

’’اسرائیل میں کابینہ کے ان ارکان کو جو امریکہ کے صدر پر حملے کر رہے ہیں ، میں کہوں گا کہ پچھلے تین مہینوں میں تمہارے وطن کی حفاظت کرنے والے دو تہائی ہتھیار امریکی ہاتھوں نے بنائے ہیں اور ان کی ادائیگی امریکی ٹیکس ڈالرز سے ہوتی ہے۔‘‘

ایک اور بات جسے مد نظر رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں کون حکومت میں آتا ہے اور کس کو حکومت سے فارغ کرنا ہے یہ کام وہاں موجود صہیونی لابی ’’ایپک‘‘ (American Israeli Public Affairs Committee) کرتی ہے، اور یہ لابی اتنی طاقتور ہے کہ پس پردہ ہر پالیسی اس کی مرضی سے ہی بنتی ہے۔ اس طرح یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگرچہ نیتن یاہو آدھے سے زیادہ غزہ پر بھی قبضہ کر کے بیٹھ گیا ہے، مغربی کنارے، لبنان اور شام میں بھی پیش قدمی کر رہا ہے، ایران سے بھی جنگ چھیڑ کر دیکھ لی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایسا رسوا کیا کہ اسے کہیں اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے، اور لگتا ایسا ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی کیرئیر اپنے انجام کے قریب ہے، اس کی جگہ کوئی اور لے لے گا جو شاید اس سے بھی بد تر ہو۔ دوسری طرف ٹرمپ نے، جس سے اسرائیلی لابی کو کافی امیدیں تھیں، جس طرح سوشل میڈیا پر اور علی الاعلان اسرائیل کو جھاڑ پلائی اور ایران کے ساتھ جنگ میں شکست خوردہ ہو کر امریکہ کی ساکھ تباہ کی، اس کا سیاسی کیرئیر بھی تاریک نظر آ رہا ہے۔ البتہ امریکہ اسرائیل تعلق میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی۔ لہذا امت مسلمہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ صہیونیوں کی ناپاک سازشیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ، ان کے مقرر کردہ اہداف بھی عیاں ہیں، قبلۂ اول، غزہ، فلسطین اور پھر شام و لبنان سب ہی خطرے میں ہیں ۔ ملاحم کا دور آیا ہی جاتا ہے، امت مسلمہ بالعموم اور مجاہدین بالخصوص آگے کی تیاری کریں ۔ امریکہ و اسرائیل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور یہی اصل دشمن ہیں باقی مسلم حکمران تو صرف ان کی انگلیوں پر ناچنے والی کٹھ پتلیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ امت کے راہبروں کو درست اہداف مقرر کر کے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنا کر کھڑا کر دے آمین۔

٭٭٭٭٭

  • 1
     سام ابو ہیکل وہ سات ماہ کا معصوم بچہ ہے جسے قابض صہیونی نے الخلیل میں گاڑی پر فائرنگ کر کے شہید کیا جب وہ اپنی ماں کی گود میں تھا۔
Previous Post

کفار کا معاشی بائیکاٹ | نویں قسط

Next Post

کس کی جان گئی……

Related Posts

اِک نظر اِدھر بھی! | جولائی 2025
دیگر

اِک نظر اِدھر بھی! | جون و جولائی 2026

3 جولائی 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | پندرہویں قسط

3 جولائی 2026
چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ
جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!

چراغِ بصیرت اور فدائی معرکہ

3 جولائی 2026
غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں (پہلی قسط)
غزوۂ ہند

غزوۂ ہند کی فکری بنیادیں تاریخ کے آئینے میں | پانچویں قسط

3 جولائی 2026
پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار
پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!

پاک بھارت کشیدگی اور امریکی کردار

3 جولائی 2026
عمر ِثالث | ساتویں قسط
افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ

عمر ِثالث | سترہویں قسط

3 جولائی 2026
Next Post
کس کی جان گئی……

کس کی جان گئی……

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

جون و جولائی 2026ء
جون و جولائی 2026ء

جون و جولائی 2026ء

by ادارہ
3 جولائی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version