قیامت سے پہلے کچھ حالات و معاملات ایسے برپا ہونے ہیں جن سے اہلِ ایمان کی جنت و جہنم وابستہ ہے۔ مخبرِ صادق ، نبیٔ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبار ک کا مفہوم ہے کہ ’آخری زمانے میں دنیا دو خیموں میں بٹ جائے گی، ایک خیمہ اہلِ ایمان کا ہوگا جس میں نفاق نہ ہو گا اور ایک خیمہ اہلِ نفاق کا ہو گا جس میں ایمان نہ ہو گا‘۔ مولانا مسعود کوثر صاحب مدّ ظلّہٗ کے یہ دروس اسی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہیں اور ان میں اہلِ ایمان کو لائحۂ فکر و عمل فراہم کرنے کا سامان ہے۔ مولانا موصوف نے یہ دروس ایک عوامی مجلس میں ارشاد فرمائے تھے، جہاں برادرِ عزیز حافظ شہزاد (محب اللہ)شہید رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے، برادر حافظ شہزاد شہید نے ہی بڑے اہتمام سے ان دروس کو ریکارڈ کیا تھا۔ ان صوتی دروس کو تحریری شکل میں بھائی خیر الدین درانی نے ڈھالا ہے، باذن اللہ یہ دروس قسط وار، مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں نشر کیے جائیں گے۔(ادارہ)
نحمده و نصلى علیٰ رسوله الكريم اما بعد
فأعوذ باالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمٰن الرحيم
دجال ہماری زندگی میں آئے یا نہ آئےاس سے بحث نہیں، لیکن دجال کے آنے سے پہلے دجالیت دنیا میں آچکی ہے۔
دجالیت کیا ہے؟
۱۔دجالیت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایمان اور ایمان کی قدر ختم کرکے مادیت کو فروغ دیا جائے کہ ہر چیز پیسے سے آتی ہےاوریہ کہ ایمان ، نماز اور عبادت سے کچھ نہیں ہوتا، ذکر کی کوئی اہمیت نہیں۔
۲۔ جھوٹ کو اتنا فن کاری کے ساتھ بولو کہ حق کی پہچان ختم ہوجائے۔
یہ ازل سے کافروں کے پاس ایسی طاقت رہی ہے؛ افواہیں پھیلانا اور جھوٹ کو اتنی فن کاری سے بولنا اتنی کثرت سے بولنا کہ لوگ اس کو حق اور سچ سمجھ لیں اور اپنے مقصد کی بات کو اتنا پھیلانا کہ وہ لوگوں کے احساس تک…… لوگوں کے شعور میں داخل ہوجائے۔اسی چیز کو میڈیا کہتے ہیں اور اسی چیز کو لوگوں کے کان بھرنا کہتے ہیں۔ پرانے زمانے میں اس کو افواہ کہا کرتے تھے۔
یہاں دو منٹ کے لیے رُک کر ایک بات سمجھ لینا از حد ضروری ہے۔اسلام کے آغاز میں اسلام کو نقصان پہنچانے کےلیےمنافقین نے ایک شکل اختیار کی؛ یہ رسولِ اقدسﷺ کی مبارک زندگی میں……رسالت موجود ہے، نبوت موجود ہے، وحی کا سلسلہ قائم ہے، منافقین نے کہا کہ ہم نے یہ طرز اسلام کی نشرو اشاعت کو ختم کرنے کے لیے اختیار کیا ہے۔ کیا طریقہ اختیارکیا؟ افواہیں پھیلاتے تھےجو آج کے میڈیا کاکام ہے؛جھوٹی بات کو اتنا پھیلادوکہ لوگ اس کو سچ سمجھ لیں۔ وحی کا سلسلہ قائم تھا، سو وحی آگئی ﴿لَىِٕنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِي الْمَدِيْنَةِ﴾ مدینہ میں یہ لوگ جو افواہیں پھیلارہے ہیں ان کو کہہ دیں کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو ﴿لَــنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيْهَآ اِلَّا قَلِيْلًا﴾1 ہم ان کو مدینہ کی بستی میں رہنے نہیں دیں گے۔اللہ کی طرف سے حکم آیا۔ پھر یہ حکم آیا کہ آج کے بعد اگر کوئی منافق افواہیں پھیلائے گا،جھوٹی بات پھیلائے گا، ان کو کہہ دیجیے کہ آپ ان کو جہاں پائیں قُتِّلُوْا تَــقْتِيْلًا ان پکڑ کر قتل کردیں۔ جب رسولِ اقدسﷺ نے یہ آیت تلاوت کی تو منافقین اس بات سے رُک گئے۔مرجفون کا معنیٰ افواہ پھیلانے والے، جھوٹی خبریں پھیلانے والے۔
پھر یہ ہوا کہ حضرت عمرؓ کے دور میں ایسا گروہ آیا۔ خود نبی کریمﷺ كے زمانے میں جیسا عرض کیا کہ ایسا گروہ تھا۔ صلح حدیبیہ جو ہے یہ افواہ کے نتیجے میں پیش آئی۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر جھوٹی پھیلادی تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے کہا کہ یہ صوت الشیطان ہے۔ یہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے۔ بدر میں ایک انسان کی شکل میں آگیااور افواہیں پھیلادیں کہ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گااور رسولِ اقدسﷺ پر جو آیات اس ضمن میں اتریں وہ اتنی واضح ہیں، اتنی صاف ہیں، پانچویں پارے کی آیات کہ اگرکوئی مسلمان ان آیات کوسمجھ لے اور ان کی تفسیر کو سمجھ لے کسی بھی تفسیر سے ان آیات کا مفہوم سمجھ جائے تو وہ کبھی اس دجالیت کا، میڈیا کے فتنے کا شکار نہیں ہوگا، ان شاء اللہ ۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں :
﴿بَيَّتَ طَاۗىِٕفَةٌ﴾یہ ایک گروہ ہے جو رات کو بیٹھ کے مشورہ کرتا ہے۔﴿وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ﴾ معاملہ امن کا ہو یا معاملہ خوف کا ہوان کاکام ہے خبر کو پھیلانا اور نشر کرنا۔ امن کی بات ہے تو یہ اپنا مقصد نکالیں گے اور اگر کہیں خوف کی بات ہے کوئی واقعہ یاکوئی حادثہ ہے تو بھی اس حادثے سے اپنی خبر اور اپنی بات نکالیں گے﴿اَذَاعُوْا بِهٖ﴾ ان کاکام ہے اس کو پھیلادینا اور نشر کردینا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ عربی کا لفظ اللہ نے کیا استعمال فرمایا؟ اَذَاعُوْا بِهٖ۔ اَذَاعُوْا کا معنیٰ کیا کریں گے؟ عربی کی آپ لغت لیں، اَذَاعُوْا کو دیکھ لیں، اَذَاعُوْا ، الاذاعات سے ہے۔ اذاعات کا معنیٰ ہے نشریات۔اذاعا کا معنیٰ ہے نیٹ ورک۔ الاذاعا کا معنیٰ ہے ٹی وی چینل… گویا سیدھا سیدھا معنیٰ ہے۔ مصر میں الاذاعات نشریات کو کہتے ہیں، ریڈیو اذاعات کہتے ہیں خبر نامے کا اذاعا اور الاذاعات کا معنیٰ ہے دنیا کا جدید نشریاتی سسٹم۔ اللہ ذوالجلال نے قرآن پاک میں صدیوں پہلے اس لفظ کو استعمال فرمایا ہے جو آج کی عربی نشریات کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو آج کا میڈیا نشریات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اللہ ارشاد فرماتے ہیں :
وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ2 بات خوف کی ہو یا بات امن کی ہو اَذَاعُوْا بِهٖ یہ اپنا مقصد اپنا کام پورا کرتے ہیں وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ اگر مسلمانوں کو کوئی معاملہ پیش آئے کوئی خبر ہو تو وہ اس فتنے کا شکار نہ ہوں (بلکہ) رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ اگر رسولِ اقدسﷺ زندہ ہیں، تم میں موجود ہیں، تو معاملے کو ان کی طرف لے کر جاؤ، اگر آپ اس دنیا میں نہیں تو وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ تم میں سے جو صاحبِ معاملہ ہیں، جو صاحبِ عقل ہیں، جو صاحبِ شریعت ہیں، جو علما ہیں جو اس کی گہرائی کو جاننے والے ہیں جو اولو الامر ہیں، معاملے کو ان کی طرف لےکے جاؤ تاکہ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ اس بات کی خبر اس کی تحقیق جو وہ تمہیں بتائیں، تم اس پہ یقین رکھو ، تم پھیلائی ہوئی خبر پر یقین نہیں رکھو۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا اور یہ اللہ کا تم پر فضل ہے اور اللہ کی تم پر رحمت ہے کہ اللہ تمہیں ایسا حکم دے رہے ہیں ورنہ اگر تم ان خبروں کے پیچھے چلے جاؤ تو یہ تمہیں شیطان کی اتباع تک پہنچاکے رہیں گے۔
دوسری بات، رسولِ اقدسﷺ کے زمانہ میں کوئی افواہ زیادہ نہیں پھیل سکی، وجہ یہ تھی کہ وحی کا نظام قائم تھا، وحی آجاتی اور خبر واضح ہوجاتی کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے۔ لیکن انہوں نے اپنی افواہ کے ذریعے دین کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، اس پراپیگنڈے کے ذریعے اور قرآن پاک نے دو جگہ ان کے پول کھولے ہیں۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ 3یہ کافر چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی افواہوں سے ختم کردیں، بجھادیں۔ افواہ کا معنیٰ جھوٹی بات، وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ اللہ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ مشرک اور کافروں کو ناگوار لگے تو لگے۔
تو یہ دجالی ، دجال کے آنے سے پہلے دجالیت پھیلا رہے ہیں۔ دیکھیں پوری خبر آنے سے پہلے ایک آنکھ بنتی ہے، پھر اس میں کیمرہ بنتا ہے پھر اس کی خبر کو دکھایا جاتا ہے ۔ دجال کا پہلے ’تبرک‘ حاصل کیا جاتا ہے۔ وہ کوئی بھی چینل ہو۔ آپ کسی ایک چینل میں کر لیں تو ہوسکتا ہے یہ اتفاق ہولیکن اگر سب کی ترتیب تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ایک ہی ہو تو اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ نشریاتی سسٹم ہو یا نیٹ کا سسٹم ہو یہ سارے کہ سارے دجالی سسٹم کا ایک حصہ ہیں اور ان کا کام اَذَاعُوْا ہے۔ مکمل امن ہو تو ان کے ہاں پھر بھی امن نہیں ہےاور خوف کی بات ہو تو پھر تو ماشاء اللہ خبروں پہ خبریں… ہر خبر جو ہے وہ بریکنگ نیوز ہے۔ تو یہ دجالیت ہے ۔
حق کو چھپانے کے لیے ان چیزوں کو اوپر لایا گیا ہے اور اربوں روپوں کے اخراجات سے چینلز میں جو اشتہار چلاتے ہیں، یہ محض اس پر نہیں چل رہے۔ کھلم کھلا پاکستان کی وہ خبریں ہمارے پاس موجود ہیں جو دنیا کے نشریاتی یہودی اداروں نے جو ایڈ (امداد) دی ہے اربوں ڈالر کی پاکستانی میڈیا کو وہ معلوم ہے۔ ان کا کام ہی ایڈ دے کر ان سے اپنے مطلب کی خبریں لینا، حق بات کو چھپانا اور باطل کو اتنی خوبصورتی سے بیان کرنا کہ لوگوں کے ذہنوں میں وہ بات راسخ ہوجائے،یہ دجالیت کا ایک فتنہ ہے۔ اس فتنے کی مختلف صورتیں ہیں؛ کبھی میڈیا کی شکل میں آتا ہے، کبھی یہ آپ کو کہتا ہے کہ جناب! وطن بڑی چیز ہے، وطن سے محبت کرنی چاہیے، یہ ہونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے۔ دین سے دور کرنے کے لیے وطن کو اہمیت دیتے ہیں وطن پرستی سکھاتے ہیں۔ وطن سے محبت، یہ جرم نہیں ہے لیکن وطن کی محبت اگر حدود اللہ کے توڑنے پر آمادہ کردے، دین سے دور کردے تو ایسی محبت جو ہے وہ فتنہ بن جاتی ہے۔ وطن تو دورکی بات ہے، اللہ فرماتے ہیں کہ تمہاری اولاد اور تمہاری بیویاں اگر تمہیں دین سے دور کردیں تو ان سے بڑا فتنہ کوئی نہیں وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ4 ۔کبھی وطن پرستی کے نام پر، ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نام پر، سب سے پہلے قوم پرستی، زبان پرستی، لسان پرستی، علاقہ پرستی یہ صوبائی، لسانی، تعصب، ان ساروں جھگڑوں میں کفر مسلمانوں کی صلاحیتوں کو ختم کرنا چاہتا ہے اور یہ وہ بت تھے جن کو انبیائے کرام نے آتے ہی توڑا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وطن کو چھوڑا تو قوم نے کہا کہ دیکھو ہم تو ایک قوم ہیں، ایک وطن کے ہیں، تم ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ چھوڑدو اس کلمے کو، اپنے وطن کی بات کرو۔ تو ابراہیم ؑ نے ہجرت کرتے وقت چوراہے میں کھڑے ہوکے کہا تھا کہ اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ5 میں تم سے برأت کا اعلان کرتا ہوں۔ برأت دور کی بات ہے كَفَرْنَا بِكُمْ میں تمہیں کافر سمجھتا ہوں اور کافر بھی دور کی بات ہے وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ تمہارے اور میرے درمیان کھلی جنگ کا آغاز ہے یہاں تک کہ تم اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کرلو۔ صرف برأت نہیں صرف دشمنی نہیں اس سے بھی آگے کفر کا فتویٰ نہیں اس سے بھی آگے اِنَّا بُرَءٰۗؤُا مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ اور اس کے بعد تیسرا مرحلہ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاۗءُ کچھ دن کے لیے نہیں اَبَدًا کب تک حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗٓ۔ اس لیے اللہ فرماتے ہیں ، قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ اے ايمان والو! تمہارے لیے ابراہیم کے اس واقعے میں نمونہ ہے، یہ واقعہ اسو ۂ حسنہ ہے۔ یہ عقیدہ رکھو کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول کی بات ہے جہاں دین کی بات ہے وہاں وطن پرستی وہاں قوم پرستی وہاں لسانیت پرستی وہاں صوبائی وہاں نسلی وہاں کچھ بھی نہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے یہ فرق مٹادیا تھا اور فرمایا تھا کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی حیثیت حاصل نہیں، اللہ کے ہاں تم سارے کے سارے برابر ہو، اللہ کے ہاں کوئی قوم ، قوم نہیں تم سارے کہ سارے برابر ہو۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّاُنْثٰى وَجَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اللہ کے ہاں تمہاری پہچان تمہارے تقوے سے ہے نہ تمہاری قوم سے ہے نہ تمہاری نسل سے ہے نہ تمہارے وطن سے ہے نہ رنگ و نسل سے۔اللہ تبارک تعالیٰ ہمیں فتنے کی ہر شکل سےمحفوظ فرمائےاور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے دین کی محبت نصیب فرمائے اور کافروں سے براءت نصیب فرمائے۔
یہ فتنے کی مختلف شکلیں ہیں جو دجال کے آنے سے پہلے دجالیت پھیلا رہی ہیں اور دجال کے رستے کو ہموار کرنے کے لیے ، لوگوں کے ذہنوں کو وہاں تک پہنچانے کے لیے اور دجالیت کا ایک فتنہ ایسا ہے کہ اسلام کی معاشرت کو اور عبادت کو نقصان پہنچانا ، اسلام کو جو بالترتیب زوال آیا ہے وہ اسی ترتیب کے ساتھ سب سے پہلے اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں نبی کریمﷺ کے ذریعے سے نبوت رسالت یہ آئی اور ایک دینی ریاست کا قیام ہوا، مدینہ ایک ریاست بنا ایک خلافت بنا خلافتِ راشدہ قائم ہوئی اور اوپر کی سطح پر اسلام جو ہے وہ پوری دنیامیں غالب بھی ہوا، نافذ بھی ہوا اور ایک اتھارٹی قائم ہوئی اسلام کی ۔حضرت ابوبکرو عمر، حضرتِ عثمان و علی کے دور میں اسلام ریاستی شکل میں مضبوط نظر آیا، دنیا میں نافذ نظر آیا۔یہ اسلام کے عروج کا زمانہ تھا جس میں مسلمانوں کی سیاست خلافت کی شکل میں باقی تھی، مسلمانوں کے پاس معیشت اپنی تھی، معاشرت اپنی تھی اور عبادت قائم تھی۔ تو اس کی مثال ہے ایسے جیسے کہ ایک پانی والا ڈول ہوتا ہے اس میں پانی بھرا جائے، سب سے پہلے خلافت اور ریاست کو بھردےپھر معیشت مضبوط ہوئی، مسلمانوں کی معاشرت مضبوط ہوئی، مسلمانوں کے عقائد اور جو عبادات تھی وہ محفوظ ہوئی، اب سب سے پہلے کیا بھرا گیا؟ خلافت اور ریاست کو، پھر معیشت کو، پھر معاشرت کو، پھر مسلمان یہاں تک رہے۔ اب یہ ایک ڈول ہے، بالٹی ہے اس کے پیندے میں سوراخ ہوا تو مسلمانوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ اس کی نچلی سطح پر، جو نیچے پیندا ہوتا ہے،اس میں سوراخ ہوا تو سب سے پہلے ہماری کیا چیز گئی؟ نیچے کیا تھا؟ سب سے پہلے مسلمانوں سے مسلمانوں کی خلافت چھن گئی، اوپر کی سطح پر ریاست کا خاتمہ ہوگیا، اس کی جگہ ظلم آگیا دہشت آگئی، بادشاہیاں آگئیں، نظام سارا ختم ہوگیا، شیرازہ بکھر گیا، لیکن اس کے باوجود مسلمان چلتے رہے، وہ زمانہ گزرا۔ اچھے لوگ تھے، حیاتِ دین سے نسبت تھی، دین سے محبت تھی ،علما تھے فقہا تھےنظام چلتا رہا ۔ پھر وقت آیا کہ مسلمانوں کی ریاست ختم ہوجانے کے باوجود مسلمانوں کی معیشت، معاشرت، عبادت تین چیزیں باقی رہیں، کافی سارا وقت مسلمان گزار گئے۔ پھر وقت آیا جو مسلمانوں کی مضبوط معیشت تھی وہ ختم ہوگئی۔ ایک زما نہ تھا کہ دنیا بھر کی منڈیوں کا ریٹ بغداد سے نکلتا تھا ۔ مسلمان کیا تجارت کررہے ہیں دنیا میں اس کی اہمیت ہوتی تھی۔ معیشت جو ہے وہ ختم ہوگئی، کنٹرول معیشت کا کفر کے ہاتھ میں چلا گیا۔ مسلمان معاشی طور پر کمزور سے کمزور ہوتے گئے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمانوں میں ایمان، حیا اور دین داری باقی تھی۔ کچھ عرصہ پھر بھی گزر گیا کیونکہ اس کے پاس عبادت بھی تھی اور معاشرت جو تھی وہ اپنی تھی۔ پھر کفر نے یہ وار کیا کہ مسلمان سے اس کی معاشرت چھین لی، مسلمان اپنی معاشرتی اقدار کو بھول گیا اس نے کفر کی نقالی شروع کی، سر سے لے کر پاؤ ں تک، اب چلتے پھرتے انسانوں میں آپ فرق نہیں کرسکتےکہ کون عیسائی ہے کون یہودی ہےاور کون مسلمان ہے۔ اس کا لباس بدلا، اس کی شکل و صورت بدلی، اس کے تہوار بدل گئے، اس کے انداز بدل گئے، اس کے اطوار بدل گئے، اس کی خوشی اور غمی جوہے وہ بدل گئی، اس نے وہ خوشی منانی ہے جو کافر منارہے ہیں، اس کی معاشرت جو ہے ختم ہوگئی، اگر کافر نے بسنت منائی ہے تو اس نے کہا کہ میں بھی مناؤں گا، اس نے ویلنٹائن ڈے منایا تو اس نے بھی منایا، یہاں تک کہ مسلمانوں کی شکل و صورت کیا ہے؟ جو کافر کی ہے وہی اس کی ہے۔ اگر اس نے پھٹی ہوئی پینٹ پہنی ہے تو اس نے بھی پھٹی ہوئی پینٹ پہنی ہےکیونکہ یہ جی ایک نیا رواج آگیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ پھٹی ہوئی پینٹ نئی ملتی ہے جو گھٹنوں سے پھٹی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے کہ کافر کو یہ پسند ہے تو ہمارے نوجوان کو بھی یہی پسند ہے۔ جو بال کسی اداکار نے رکھے ہیں تو وہ بال رکھنا ہمارا ایک مسلمان نوجوان پسند کرتا ہے۔ صحابہ اور اصحابِ بدر کے نام اس کو یاد نہیں اور دنیا کے سب کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں کے نام اس کو یادہیں۔ بدر میں کون شہید ہوا؟ حضورﷺ کی سیرت کیا ہے؟صحابہ کے کارنامے کیا ہیں؟ صحابہ میں جرنیل کون ہیں؟ اس کو کوئی پتا نہیں لیکن کھلاڑیوں کاسب پتا ہے کہ اوپننگ کون کرتا ہے اور ون ڈاؤن کون آتا ہے، یہ سارا صرف اپنا ہی نہیں بلکہ دوسری ٹیموں کا بھی پتا ہے اور ازواجِ مطہرات کا علم نہیں، رسول اقدسﷺ کے حرم میں کون ہیں؟ ان کی ازواج کون ہیں؟ حضور کی بیویاں کیا ہیں؟ حضور کی اولاد کیا ہے؟مسلمانوں کی تاریخ کیا ہے؟ اس کا کوئی پتانہیں۔ فلموں کے ناموں کا پتا ہے، اداکاروں کا پتا ہے، اداکاراؤں کا پتا ہے، کون کس نمبر پر جارہی ہے، سب پتا ہے… لیکن جو نہیں پتا تو اپنی اس معاشرت کا نہیں پتا، اپنی روایات کا نہیں پتا، رسولِ اقدسﷺ کی سیرت کا نہیں پتا، حضور کے گھرانے کا پتا نہیں ۔ وہ چیزیں جو اس کے ذمے، محبت فرض کردی تھی رسول اللہﷺ کی اتباع کے ضمن میں، وہ چیزیں اس سے ختم ہوگئیں۔
لباس بھی ختم ہوگیا، معاشرت بھی ختم ہوگئی، السلام علیکم کی آواز جو ہے وہ ختم ہوگئی، اب گزرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہیلو ہائے تو اس نے بھی کہا کہ ہیلو ہائے۔ اس نے گڈمارننگ (Good Morning) کہا گڈ نائیٹ (Good Night) کہا تو اس نے کہا کہ اس سے بہترین لفظ تو کوئی ہے ہی نہیں۔ عرب انعم صباحاً کہا کرتے تھے، ایک صحابی سے رسولﷺ نے سناتو ناراض ہوئےکہ اسلام کے آنے کے بعد بھی کفر کے الفاظ استعمال کررہےہو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا کرو، انعم صباحاً چھوڑ دوجس کا سیدھا سیدھا ترجمہ گڈ مارننگ ہے۔ عرب اس کو استعمال کرتے تھےصحابہ نے اس کو چھوڑااور رسولِ اقدسﷺ نے اس کو چھڑوایا ۔ پھر تہوار بھی بدل گئے، کھانے بھی بدل گئے، اب مسلمانوں کے ہاں جو غذائیں تھیں جس میں اللہ نے برکت رکھی تھیں، ان میں طاقت رکھی تھیں وہ جراثیم کے نام پر چھڑوادی گئیں اور اس کی جگہ جَنک فوڈ (Junk Food)اس کی جگہ فلاں ایسی چیزیں جن میں مسلمان نوجوانوں کی طاقت کے لیے ان کے بدن میں کوئی چیز جزوِ بدن نہیں بنتی۔ معاشرت ختم ہوتی ہوتی اب کوئی بھی چیز مسلمانوں کی اقدار میں مسلمانوں کے پاس محفوظ نہیں الّا قلیل۔ اب یہ وقت آگیا ہے کہ خلافت و ریاست، معیشت و معاشرت کے بعد اب کفر حملہ کررہا ہے تیسری چیز پر جو ایک ہی چیز مسلمانوں کے پاس باقی ہے؛ وہ عبادت وہ عقائدوہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت جس کی وجہ سے سارے مسلمان چل رہے تھے، جی رہے تھے کسی بات سے اس کے دل پر کوئی چوٹ لگ جاتی تھی اس کی زندگی سنور جاتی تھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام پر، اس کے عقائد ٹھیک تھے، اس کی سنت ختم ہوکے اس کی جگہ بدعت آگئی اور رسولِ اقدس ﷺ کی محبت کو ختم کیا جارہا ہے، یہ کافر اپنا آخری وار کررہا ہے۔ تو قبل اس سے کہ ہم سے یہ آخری چیز بھی چھن جائے ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اتفاق و اتحاد کے ساتھ اسی اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کے لیے دجالیت کا سامنا کرنے کے لیے اس کا توڑ کرنے کے لیے رسولِ اقدسﷺ کی زندگی کو آپ کی سیرت کو اپنانا ہوگا، مسلمان اجتماعی قوت بنیں گے تو مسلمانوں کی عبادت، معاشرت، معیشت اور ریاست و خلافت جو ہے وہ باقی رہے گی ورنہ مسلمان جو آج نام کا مسلمان ہے اس کا نام بھی ختم ہوجائے گا۔ یہ دجالیت ہے کہ دجال کے آنے سے پہلے اتنا راستہ صاف کردو کہ دجال کو اتنی محنت کی ضرورت نہ پڑے۔ جہاں سے گزرتا جائے لوگوں کے ایمان کے سودے کرتا جائے ۔ رسولِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا: دجال جس جگہ سے گزرے گا فتنہ پھیلاتا جائے گا اور دجال کے حامیوں میں سے اسلام میں سب سے بڑی تعداد عورتوں کی ہے۔ رسولِ اقدسﷺ نے فرمایا: جو مومن ہوگا، جو مسلما ن ہوگا وہ اپنے گھر کی عورتوں کو اپنی بچیوں کو، اپنی بہنوں کو، اپنی پھپھیوں کو اور اپنے گھر کی خواتین کو باندھ کے رکھے گا اس ڈر سے کہ یہ دجال کی صفوں میں شامل نہ ہوجائیں کمزور ایمان ہونے کی وجہ سے، ظاہر پر یقین رکھنے کی وجہ سے، فائدے والی چیز جلدی قبول کرنے کی وجہ سے، ناقص العقل ہونے کی وجہ سے، فتنے کا جلد شکار ہوجانے کی وجہ سے اور رسولِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال دنیا میں چالیس دن رہے گا، اس سے زیادہ نہیں۔ لیکن پوری دنیا کے نظام کو اس نے تبدیل کرنا ہے؛ اس میں اس کا جو پہلا دن ہے وہ ایک سال کے برابر ، دوسراایک مہینے کے برابر اور تیسرا ایک ہفتے کے برابر اور باقی دن تمام دوسرے دنوں کی طرح ہیں ۔ ایک صحابی حضرت نواص ابنِ سمعانؓ کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے جو کہا ہے کہ دجال کا پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگاتو کیا اس کا فتنہ زیادہ ہوگا کہ وہ ہمیں ایک سال کے برابر لگے گا یا سورج کا نظام رُک جائے گا اور ایک دن ہی اتنا طویل ہوجائے گا؟ تو رسولِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں! وقت اپنی جگہ رُک جائے گا اور ایک سال کے برابر ہی وقت گزرے گا۔ عرض کیا: تو یارسول اللہ ہم نمازیں کیسے ادا کریں گے؟ تو رسولِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا، صحیح مسلم کی حدیث ہے، وقت کے اندازے سے نماز پڑھتے رہنا کہ تم اتنی دیر بعد ظہر پڑھتے تھے، ظہر کے اتنی دیر بعد عصر پڑھتے تھے، کیونکہ سورج کے طلوع و غروب کا نظام روک دیا جائے گا تو اس ایک دن میں اتنی ہی نمازیں آئیں گی جتنی کہ ایک سال میں آتی ہیں، پھر ایک مہینے میں اور پھر ایک ہفتے میں۔
تو دجال کے ضمن میں بہت اختصار کے ساتھ دجال سے زیادہ، دجالیت سے بچنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو، اپنی فیملی، کو اپنے دوستوں کو اپنے احباب کو دجالیت کے فتنے سے آگاہ کریں اس فتنے سے ہم نے بچنا ہےجو اس سے پہلے اس کی راہ ہموار کررہا ہے ۔
دجال ظاہر کہاں سے ہوگا؟ اگر وہ کسی جزیرے میں ہے اور زنجیروں میں جکڑا ہواہے اور اللہ کی نگرانی میں ہے فرشتے اس پر پہرہ دے رہے ہیں تو رسولِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دجال ایران کے صوبہ اصفہان کی بستی یہودیا سے ظاہر ہوگا اور وہاں سے وہ اعلان کرے گا قسطنطنیہ کی فتح کے بعد کہ میں دنیا میں ظاہر ہوگیا ہوں۔ ستّر ہزار یہودی اس کے ساتھ ہوں گے۔ اصفہان جو ہے یہ ایران کا ایک بڑا صوبہ ہےاور اس میں بڑی تعداد میں یہودی موجود ہیں تو چونکہ دجال نے وہاں سے نکلنا ہے، بڑا مرکز ہے یہودیوں کا، بڑا عبادت خانہ ہے اور ان کے اس عبادت خانے پر ایران کا پرچم نہیں لگتا، یہود کا پرچم لگتا ہے اور اس میں مکمل آزادی کے ساتھ یہودی پورے پروٹوکول کے ساتھ رہ رہے ہیں، جہاں سے دجال نے خروج کرنا ہے ۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
1 ’’اگر وہ لوگ باز نہ آئے جو منافق ہیں جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو شہر میں شرانگیز افواہیں پھیلاتے ہیں تو ہم ضرور ایسا کریں گے کہ تم ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگے، پھر وہ اس شہر میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکیں گے، البتہ تھوڑے دن۔‘‘ (سورۃ الاحزاب: ۶۰)
2 ’’اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحاب اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کرلیتے۔اور (مسلمانو) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے۔‘‘ (سورۃ النساء: ۸۳ )
3 ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں، حالانکہ اللہ کو اپنے نور کی تکمیل کے سوا ہر بات نامنظور ہے، چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگے۔‘‘ (سورۃ التوبۃ: ۳۲)
4 ’’اور یہ بات سمجھ لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔‘‘ (سورۃ الانفال: ۲۸)
5 ’’ہمارا تم سے اور اللہ کے سوا تم جن جن کی عبادت کرتے ہو، ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم صرف ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ۔‘‘(سورۃ الممتحنہ: ۴)



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



