’وہ دیکھو! وہ اچھی جگہ ہے…… اس درخت کے ساتھ کھڑے ہوئے میری فوٹو کھینچو‘، نور نے جویریہ کو اشارے سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’اچھا چلو……‘، وہ فوراً تیار ہو گئی۔
’نور! ہاجر! جویریہ!…… ہم لوگ پہاڑ پر چڑھنے لگے ہیں……‘، ابوبکر نے انہیں آواز دی، مگر وہ اس وقت اپنی سیلفیاں لینے میں مصروف تھیں۔ ابوبکر، عبادہ، سعد اور مصعب پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے بھی سیدھا راستہ چھوڑ کر جس جگہ سے چڑھنا شروع کیا تھا وہ ایک سیدھی، عمودی چڑھائی تھی، جہاں سہارے کے لیے پکڑنے کو کوئی جھاڑی بھی نام کو نہ تھی۔
’احمد! لڑکوں سے کہیں زیادہ اوپر نہ جائیں‘، اماّں نے فکرمندی سے ان چاروں کو دیکھتے ہوئے بابا جانی سے کہا۔ اِدھر انہوں نے یہ کہا، اُدھر تیزی سے اوپر کو چڑھتے ہوئے سعد کا پاؤں پھسلا۔
’یا اللہ خیر……!!‘۔
پہاڑ کا فرش صنوبر کے درختوں سے جھڑنے والے، سوئی کی طرح نوکیلے اور لمبے پتوں سے مکمل طور پہ ڈھکا ہوا تھا۔ سعد جو ڈھلوان کے بالکل کنارے پر کھڑا تھا،پاؤں پھسلنے سے کمر کے بل گر گیا تھا اور اب ان خشک پتوں پر تیزی سے پھسلتا چلا جا رہا تھا۔ بظاہر دیکھنے میں ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ایک لمبی سلائڈ لیتا ہوا نیچے کو جا رہا ہو، مگر ان سب کو پتہ تھا کہ نیچے ایک اندھی کھائی اس کی منتظر ہے، اور وہ سب ہی دم سادھے اسے نیچے کو پھسلتا دیکھ رہے تھے۔
’عبادہ!!…… مصعب!! سعد کو پکڑو!!‘، باباجانی زور سے چلّا رہے تھے، وہ اورمرتضیٰ صاحب دونوں ہی بھاگتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ رہے تھے، مصعب اور عبادہ بھی سعد کے پیچھے جانا چاہتے تھے لیکن وہ دونوں خود بھی ایسے مقام پر پھنسے ہوئے تھے کہ ایک غلط قدم انہیں بھی سعد کی طرح سیدھا اندھی کھائی کی سیر کرا دیتا۔ وہ سوائے بے بسی سے سعد کو دیکھنے کے کچھ بھی نہ کر پا رہے تھے۔ پھر نجانے کیسے سعد کو خود ہی اپنے آپ کو سنبھالنے کا ہوش آیا اور اس نے ارد گرد کسی چیز کا سہارا حاصل کر نے کے لیے بازو پھیلائے۔ خوش قسمتی سے وہ اگلے ہی لمحے پہاڑ کی زمین سے باہر کو نکلے ہوئے ایک نوکیلے پتھر کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے بمشکل تمام پاؤں میں پہنے جوگرز زمین میں دھنسا کر خود کو بریک لگائی اور بازؤوں کے زور پر خود کواوپر کی جانب کھینچا۔ ایک لمحہ کو اس کے پاؤں پھسلے، وہ محض اپنے بازؤوں کے زور پر مضبوطی سے پتھر کو پکڑے ہوئے تھا، مگر چند ثانیے بعد ہی وہ اپنے آپ کواس پتھر کے اوپر کھینچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ پتھر پر جم کر بیٹھا اپنی چوٹوں کا معائنہ کر رہا تھا۔ ان سب کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔
’سعد! وہیں رکو!…… میں آ رہا ہوں‘، عبادہ نے اونچی آواز میں سعد سے کہا مگر سعد نے نفی میں سر ہلا دیا۔
’آپ مت آئیں، میں خود ہی آتا ہوں احتیاط سے……‘۔
’مصعب! عبادہ!…… تم لوگ اب نیچے ہی اتر آؤ تو اچھا ہے‘، مرتضیٰ صاحب نے آواز دی۔
٭٭٭٭٭
’سعد! بچے مت بنو……! دکھاؤ اپنی کہنی!‘، نور نے ناراضگی سے سعد کو کہاجو اسے اپنے زخم کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دے رہا تھا۔ رات ہو چکی تھی، چاند کی بھی ابتدائی تاریخیں تھیں اس لیےہلکی ہلکی روشنی کے باوجود اندھیرے کا راج تھا۔ وہ سب اپنے ہَٹ سے ذرا دور واقع درختوں کے ایک جھنڈ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آگے گھنا جنگل تھا، جبکہ درختوں کا یہ جھنڈ جنگل کے بالکل آخری سرے پر واقع تھا۔ اس کے آگے کھلا میدان تھا جس میں وہ ہَٹ بنا ہوا تھا جو انہوں نے چند روز کے لیے کرائے پر لیا تھا۔ دور سے ہٹ کی کھڑکیوں سے جھانکتی، سفید روشنی نظر آ رہی تھی۔
جھنڈ کے بیچوں بیچ خالی جگہ پر انہوں نے ارد گرد سے سوکھی لکڑیاں ایک ڈھیر کی صورت میں جمع کر کے آگ جلائی تھی۔ گرمیاں ہونے کے باوجود یہاں موسم بہت سرد تھا، مگر آگ کی تپش سے سردی کی شدت میں کمی آ گئی تھی۔ اس جلتے الاؤ کے ارد گرد وہ سب بیٹھے تھے۔ امّاں، جویریہ، امینہ خالہ اور ہاجر، نیم دائرے کی شکل میں ایک جانب بیٹھے تھے جبکہ عبادہ، ابوبکر اور مرتضیٰ صاحب الاؤ کے دوسری جانب، ان کے مقابل بیٹھے تھے۔ ایک کونے میں نور اور مصعب، سعد کو زخموں پر مرہم لگوانے کے لیے راضی کر رہے تھے۔ اس کے بازو اور ٹانگیں بری طرح چھِل گئی تھیں مگر درد کی وجہ سے وہ کسی کو ہاتھ بھی نہ لگانے دے رہا تھا۔
’ایسے لگ رہا ہے جیسے ہم ہالی ووڈ کی کسی مووی (فلم)کا حصّہ ہوں…… یہ جنگل میں بون فائر……اندھیرا ……پر اسراریت…… اب بس اگر ہمارے پاس مارشمیلوز بھی ہوتے تو تصویر مکمل ہو جاتی……مزے سے بھون کر کھاتے…‘، ہاجر بولی۔
’یہ لو……تم تصویر مکمل کر لو…‘، باباجانی نے مسکراتے ہوئے اپنے کوٹ کی جیب سے مارشمیلوز کا پیکٹ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
’اوہ سچی بابا جانی!! آپ کو کیسے خیال آیا مارشمیلوز کا……؟ مجھے اتنے عرصے سے شوق تھا، مارشمیلوز بھون کر کھانے کا!!‘، ہاجر خوشی سے چہچہائی۔ اس کی خوشی سے بھرپور آواز جنگل کے سناٹے میں بہت بلند محسوس ہوئی۔
’آہستہ بولو بیٹا‘، امینہ خالہ نے گھبرا کر ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا، اور اپنے گرد گرم شال مزید مضبوطی سے لپیٹ لی۔ انہیں رات کے اندھیرے اور جنگل کے سناٹے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
’مگر مسئلہ یہ ہے کہ انہیں بھونے گا کون؟ مجھے تو بھوننا نہیں آتا……… ابوبکر بھیّا! آپ کو مارشمیلوزبھوننے آتے ہیں کیا؟ ‘، ہاجرپیکٹ میں سے گلابی مارشمیلوز نکالتے ہوئے ابوبکر کی طرف مڑ کر بولی۔
’ہوں…… آتے تو ہیں، اور میں تمہیں بھون کر بھی دے دوں گا۔ مگر ایک بات دھیان سے سنو…… ہم مسلمانوں کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ یہ بون فائرز کے گرد بیٹھ کر قصّے کہانیاں سنانا، آگ پر مارشمیلوز بھون کر کھانا……یہ انگریزوں کی تہذیب کا حصّہ ہے……ان کی تفریح کے طریقے ہیں‘، ابوبکر نرمی سے سمجھاتے ہوئے بولا۔
’ارے! یہ اچانک تہذیب اور ثقافت کہاں سےآ گئی بیچ میں؟‘، امینہ خالہ نے تعجب سے پوچھا، ’یہ تو محض انجوائےمنٹ کے طریقے ہیں، ان کے جملہ حقوق کب سے قوموں کے نام محفوظ ہو گئے؟‘۔
’خالہ! تہذیب اور ثقافت ہمارےطور طریقوں ہی کا تو مرکب ہوتی ہیں۔مثال کے طور پر جاپانی قوم دنیا کی جنگجو قوموں میں سے ایک مانی جاتی ہے، ان کے ہاں مارشل آرٹس ، جوڈو کراٹے وغیرہ ہی تفریح سمجھے جاتے ہیں، اور تفریح سمیت دیگر سماجی اور معاشرتی رویے ہی مل کر انہیں ایک جنگجو قوم کا تشخص عطا کرتےہیں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ تفریح ہو یا تہوار، ہم ہر چیز کے لیے دوسری قوموں کی طرف دیکھتے ہیں۔ ان باتوں سے ہماری ذہنی مرعوبیت کا پتہ چلتا ہے…… ہم آج بھی اپنے انگریز آقا سے اتنے ہی مرعوب اور متاثر ہیں جتنا کہ آزادی سے پہلے تھے……یوں ہم آج بھی ذہنی طور پر اس کے غلام ہی ہیں۔ لاشعوری طور پر ہی سہی…… مگر جو چیز گورے کو پسند ہے……وہی ہمیں بھی پسند ہے…… اور جو چیز اس کو نا پسند……وہ ہمیں بھی نا پسند…… آخر تفریح کے لیے ہمارے پاس اپنے کوئی طریقے نہیں؟…… پسند نا پسند کے ہمارے اپنے کوئی معیار نہیں……؟‘، ابوبکر جذباتی انداز میں بولا۔
’افوہ……بھیّا………!!‘، ہاجر ہلکی سی آواز میں بڑبڑائی۔
’ہوں………! ہونا تو یہ چاہیے کہ ہماری تفریح اور خوشی کا طریقہ وہی ہو جو ہمارے ربّ کو پسند ہے……آخر اسی نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے اور اسی کی طرف ہم نے پلٹ کر جانا ہے……تو زندگی کے ہر معاملے……خوشی اور غم…… ہر چیز میں اسی کی پسند نا پسند مد نظر ہونی چاہیے‘، عبادہ، جو بہت غور سے ابوبکر کی بات سن رہا تھا، سنجیدگی سے بولا۔
’بالکل!! یہی میں بھی کہنا چاہ رہا تھا…… جو کام ہمارے رب کو پسند ہوں وہی ہماری تفریح اور خوشی بن جانے چاہییں!‘، ابوبکر عبادہ کی تائید حاصل کر کے جوش سے بولا۔
’یہ تم دونوں کی رائے ہے…… مگر میں ایسا نہیں سمجھتا‘، باباجانی جو ایک پتھر سے ٹیک لگائے ان کی باتیں سن رہے تھے، سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے بولے۔’آج کی جدید دنیا میں جب قومیں ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئی ہیں اور تیز ترین رابطوں کے ذریعے آپس میں میل جول اور ربط اس قدر بڑھ گیا ہے…… اس میں قومیں آپس میں تہذیبی اور ثقافتی لین دین بھی کرتی ہیں……دوسری قوموں کی عادتیں اپناتی بھی ہیں اور اپنے فرسودہ رسم و رواج ترک بھی کرتی ہیں…… بلکہ میں تو کہوں گا کہ یہی ترقی کا راز ہے۔ اس میں یہ باتیں کہ بس اپنے طور طریقوں سے ہی چمٹے رہو اور دوسری قوموں کی کوئی عادت یا بات اپنے اندر نہ آنے دو……تو میں تو کہوں گا کہ یہ انہی تنگ نظر اور تنگ دل مولویوں کی باتیں ہیں جو ڈیڑھ دو صدیاں قبل یہ کہتے تھے کہ ریل گاڑی شیطان کی ایجاد ہے……اسے اپنے ملک میں مت آنے دو!‘۔
’باباجانی! آپ نے وہ حدیث تو سنی ہو گی جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ انسان جس قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے تو پھر وہ انہی میں شمار ہوتا ہے……‘،
’وہ دینی مشابہت کے بارے میں ہے ابوبکر…یعنی عبادات میں دوسری قوموں کی پیروی کرنا…… دین کو بیچ میں مت لاؤ……!‘، احمد صاحب اس کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔
’نہیں باباجانی! کسی دوسری قوم کی دینی مشابہت اختیار کرنا تو انسان کو کفر تک پہنچا دیتا ہے……! علما کہتے ہیں کہ کسی بھی معاملے، چیز، حلیے یا صورت وغیرہ میں ایسی مشابہت جس کو دیکھ کر پہلا خیال کسی کافر قوم کے بارے میں آئے، صریحاً حرام ہے……‘۔
’بیٹا یہ مولوی لوگ عوام کے دلوں میں دوسرے مذاہب کی نفرت بٹھانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہیں……یہ باور کرانے کے لیے کہ ہم پوری دنیا سے افضل ہیں اور باقی پوری دنیا نفرت کے لائق ہے۔ اور یہ سب اسلام کے نام پر کرتے ہیں حالانکہ یہ باتیں تو اسلام کی تعلیمات کے عین مخالف ہیں……!‘۔
’باباجانی! پہلے ایک بات تو بتائیں………‘، مصعب جو سعد کے ساتھ کونے میں بیٹھا تھا، وہ بھی قریب آ کر ان کی گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے بولا،’آپ مولویوں کے اتنے خلاف کیوں ہیں……؟‘۔
’نہیں!…… میں کیوں خلاف ہوں گا……؟‘، اس کے اچانک سوال پر احمد صاحب گڑبڑا کر بولے، سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی، مولویوں سے ان کی چڑ سے وہ سب ہی واقف تھے۔’ میں صرف اس تنگ ذہنیت کے خلاف ہوں جو ان مولویوں کی ہوتی ہے۔ اسلام کے ایسے ٹھیکےدار بن جاتے ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کو تو دین کی کوئی بات کرنے ہی نہیں دیتے،یہ کہہ کر کہ تمہیں دین کا کیا پتہ؟ اور خود اپنی مرضی سے جیسے چاہتے ہیں دین کی تشریح کرتے ہیں‘۔
’باباجانی! آ پ کی یہ بات ٹھیک نہیں ہے‘، ابوبکر اپنا لہجہ مزید دھیما کر کے نرمی سے بولا۔ وہ باپ سےاختلاف تو کر رہا تھا مگر بے ادبی نہیں کرنا چاہتا تھا۔’دیکھیں جس علم کا جو شخص ماہر ہوتا ہے، اس علم کے بارے میں اسی سے پوچھا جاتا ہے۔ جیسے میٹا فزکس یا راکٹ سائنس کے حوالے سے کوئی سوال ہو تو ہم سائنس دانوں سے پوچھتے ہیں، مذہبی علما سے نہیں، مگر جب دین کے حوالے سے کوئی بات ہو تو پھر علما کے بجائے عام مسلمانوں سے ……جنہیں دین کی ابتدائی معلومات بھی ڈھنگ سے نہیں آتیں……کیسے پوچھ سکتے ہیں؟ اگر کوئی شخص دینی معاملے میں رائے دینا چاہے گا تو اسے یہی کہا جائے گا ناں کہ پہلے دین کاعلم حاصل کرو، پھر بات کرنا۔ پھر جب وہ دینی علوم میں ماہر ہو جائے تو دلائل کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرے اور اگر دیگر علما پر کوئی اعتراض ہو تو کرے، مگر علم کے بغیر کسی کو نکتہ چینی کرنے کا کیا حق ہے؟!‘۔
’ہاں مگر……پھر تو وہ خود بھی مولوی ہی بن جائے گا‘، مصعب نے بیچ میں شرارت سے لقمہ دیا۔
’دیکھیں باباجانی، آپ مولویوں سے اتنا الرجک ہیں مگر آج تک ہم تک جتنا بھی دین پہنچا ہے وہ ان مولویوں کی محنت سے ہی پہنچا ہے۔ آپ کو یاد ہے آپ کو کلمہ کس نے سکھایا؟ نماز کس نے یاد کروائی؟‘، ابوبکر مصعب کو نظر انداز کرتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔ باباجانی کے چہرے پر ایک خجل سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔’ہوں ……صحیح کہہ رہے ہو تم……‘، انہوں نے ہلکا سا سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ’اب آتے ہیں آپ کی اس بات کی طرف کہ علما ہمیں سب سے افضل اور دیگر دنیا کو حقیر اور قابلِ نفرت باور کراتے ہیں……‘۔
’باباجانی! کیا ہم مسلمان نہیں؟ ایک اللہ کو ماننے والے……ایک اللہ کے فرماں بردار……؟ہم اللہ کو کائنات کا مالک و خالق مانتے ہیں جبکہ باقی دنیا لاکھوں کروڑوں خداؤں کو مانتی ہے۔ کوئی بندر کو، کوئی سانپ کو…… کوئی گائے کو…… کوئی اپنے جیسے انسانوں کو…… کوئی روپے پیسے کو۔ مسلمان صرف ایک اللہ کا فرمانبردار ہوتا ہے جبکہ دیگر قوموں اور مذاہب کے ماننے والے اللہ کے سوا ہر چیز کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ پھر آپ ہی بتائیں کیا مسلمان دیگر انسانوں سے افضل نہیں؟ کیونکہ وہ اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اس کے احکام کی تعمیل کرتا ہے؟‘۔
’دوسری بات یہ کہ… باباجانی! کفار اللہ تعالی کے باغی اور نافرمان ہیں۔ اپنے ربّ کے باغیوں کو برا کہناغلط ہے کیا؟…… کیا اپنے ربّ کے دشمنوں سے انسان کو محبت ہونی چاہیے یا نفرت؟ انسان تو اپنے باپ کے دشمن سے بھی محبت نہیں کرتا بلکہ نفرت اور دشمنی کا معاملہ رکھتا ہے، تو یہاں تو باپ کا نہیں بلکہ رب کا معاملہ ہے……آپ ہی بتائیں کیا ہم ایسے شخص سے محبت کر سکتے ہیں جس سے ہمارا رب نفرت کرتا ہو؟ …… جس سے وہ ناراض ہو اس سے ہم راضی ہو سکتے ہیں؟ بلکہ یہ تو ہمارا دینی فریضہ ہے، ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے کہ ہم بھی اپنے دلوں میں ان سے بغض، عداوت اور نفرت کے ہی جذبات رکھیں۔…… اور جو شخص ایسا نہ کرے، اللہ کے دشمنوں سے نفرت کے بجائے محبت کرے……اس کے تو ایمان پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے……وہ تو پھر انہی میں شمار ہونے لگتا ہے……اس مضمون پر تو قرآن پاک میں بے شمار آیات وارد ہوئی ہیں……‘، ابوبکر سانس لینے کو رکا۔سب ہی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے، اس کی معلومات اور اصطلاحات کے استعمال پر وہ سب حیران تھے۔ احمد صاحب کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ وہ امریکہ میں انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا ہےیا مذہبی مناظروں کی۔ وہ خود کو بالکل لاجواب محسوس کر رہے تھے۔ صرف عبادہ تھا جو ہونٹوں پر ہلکی سی محظوظ کن مسکراہٹ لیے ابوبکر کی جانب دیکھ رہا تھا۔
’ہمارے ہاں تو ماں باپ کی ناراضگیوں کی وجہ سے اولاد پر اپنے خونی رشتوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنے پر پابندی لگ جاتی ہے۔ صرف اس لیے کہ ہمارا ان سے کوئی معمولی سا جھگڑا ہو گیا ہے۔ اور اگر کسی سے ناراضگی اس حد تک پہنچ جائے کہ نفرت ہی ہو جائے تو پھر تو اس کا نام تک سنا نہیں جاتا …… آپ خود سوچیں……کیا ہم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ کوئی ایسا شخص جس سے آپ کو سخت نفرت ہو، اور وہ بھی ہر وقت آپ کے خلاف محاذ کھولے رکھے…… اور آپ کا بچہ ہر چیز میں اس شخص کی نقالی کرے؟…… جیسے وہ بولے، وہ بھی ویسے ہی بولنے کی کوشش کرے……جو وہ کھائے، آپ کا بچہ بھی وہی کھانا پسند کرے…… جیسا لباس وہ پہنے، آپ کا بچہ بھی ویسے ہی کپڑے پہننے میں فخر محسوس کرے………اگر ایسا ہو جائے تو یقیناً نتیجہ یہی ہو گا کہ ہم اپنے بچے کو ہی تھپڑ مار کر کہیں گے کہ جاؤ! اسی کے گھر میں رہ لو جا کر……!‘، غیر محسوس انداز میں باباجانی کا سر اثبات میں ہل گیا، وہ قائل ہو رہے تھے۔
’تو اللہ تعالی کو بھی کفار کی نافرمانیوں، ان کے کفر و شرک…… ان کی سرکشی، ان کی اللہ کے دین سے نفرت……اللہ کے بندوں پر ان کا ظلم……ان سب باتوں کی وجہ سے اللہ کو ان سے نفرت ہے! اور اس کے برعکس…… اپنے فرماں بردار اور نیک بندوں سے محبت ہے۔ ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور عادتوں پر بھی اللہ کی رحمت جوش میں آ جاتی ہے۔ مثلاًجب حضرت ہاجرہؑ نے ننھے اسماعیلؑ کی پیاس بجھانے کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے سات چکر لگا ڈالے…… تو اللہ تعالیٰ کو اپنی اس بندی کی یہ ادا اتنی بھائی کہ قیامت تک ان کی اس حرکت کی نقالی……ہر حج اور عمرہ کرنے والے پر فرض کر دی……!‘۔ وہ چند لمحوں کے لیے رکا، اس کے رکتے ہی جھنڈ میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ سردی محسوس کرتے ہوئے وہ آگ کے مزید قریب ہو گیا۔ ایسا سنجیدہ موضوع ان کے درمیان پہلی بار چھڑا تھا، مگر کسی کو بھی بوریت یا بیزاری کا احساس نہیں ہو رہا تھا، الٹا سب نہایت دلچسپی سے اس کی باتیں سن رہے تھے۔ احمد صاحب منہ سے تو کبھی بھی تسلیم نہ کرتے، مگر اس وقت وہ اپنے دل میں بیٹے کی علمی صلاحیت سے حد درجہ متاثر ہو رہے تھے۔
’ہم کہتے ہیں کہ یہ تو صرف تفریح ہے!…… مگر کبھی کبھار تفریح ہی انسان کو جہنم کے نچلے حصّوں میں پہنچا دیتی ہے۔ اب کہنے والے تو شراب، جوئے اور موسیقی کو بھی تفریح ہی کہتے ہیں! ایک حدیث کے الفاظ ہیں: ’المرء مع من احب……‘، آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کسی حدیث سے صحابہ کرام ؓ کو اتنی خوشی نہ ہوئی تھی جتنی اس حدیث سے…… جانتے ہیں کیوں؟‘، وہ سوالیہ نگاہوں سے ایک ایک کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
سب کو خاموش دیکھ کر عبادہ آہستہ سے بولا،’اس لیے کہ صحابہ کرام ؓ کو دنیا میں سب سے زیاد محبت نبی اکرم ﷺ سے ہی تھی۔ اور اس حدیث کی بدولت انہیں آخرت میں نبی کریم ﷺ کی ابدی رفاقت کی امید تھی!‘۔
’بالکل! اور یہ بات تو مسلم ہے کہ انسان کو جس سے محبت ہو وہ اس کے ہر طریقے کی پیروی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی باتوں اور اس کے انداز کی نقل کرتا ہے، ہر چیز میں محبوب کو فالو کرتا ہے……‘، ابوبکر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’ہاں جیسے بچہ ماں باپ کی ہربات کی نقل کرتا ہے……؟‘، اچانک خیال آنے پر امّاں بولیں۔
’جی……! اہلِ دل کہتے ہیں کہ یہ دراصل محبت کا فطری تقاضہ ہے۔ انسان کا جی چاہتا ہے کہ اپنی ذات کو بالکل اپنے محبوب کے مطابق ڈھال لے۔ وہ ایک نظم ہے جو مجھے بہت پسند ہے……
سنا تھا ہم نے لوگوں سے
محبت چیز ہے ایسی……
چھپائے چھپ نہیں سکتی
یہ آنکھوں میں مچلتی ہے
یہ چہروں پر دمکتی ہے
یہ لہجوں میں چھلکتی ہے
دلوں تک کو گُھلاتی ہے……
لہو ایندھن بناتی ہے……‘
وہ ایک جذب کے عالم میں پڑھ رہا تھا۔ جبکہ باقی سب نہایت انہماک سے سن رہے تھے۔ کسی کی گہری گہری کھڑکھڑاتی سانسوں پر ابوبکر نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ اندھیرے کی وجہ سے کچھ بھی نظر نہ آیا۔ ابھی وہ پوچھنے ہی والا تھا کہ یہ کس کی آواز ہے کہ ہلکی سی غراہٹ پر سب ہی نے آواز کی سمت دیکھا۔ اسی لمحے نور ……جو سعد کے ساتھ ایک کونے میں بیٹھی تھی……کی گھٹی گھٹی چیخ کی آواز سنائی دی۔’امّ……امّاں……!!‘۔اس سے چند گز کے فاصلے پر ہی ایک کالے رنگ کا، لمبے لمبے بالوں والا ریچھ کھڑا تھا اور خونخوار نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
’میرے خدا……!!‘ ، جھنڈ میں بیک وقت دو تین نسوانی چیخوں کی آوازیں گونجیں۔ امینہ بیگم تیزی سے اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اپنے ساتھ اپنے دائیں بائیں بیٹھی جویریہ اور ہاجر کے ہاتھ پکڑ کر انہیں بھی اپنے ساتھ کھینچ لیا۔ باباجانی اور مرتضیٰ صاحب بھی اچھل کر کھڑے ہو گئے تھے ۔ نور اپنی جگہ پر سکتے کے عالم میں بیٹھی تھی۔ سعد بھی ریچھ کو دیکھ چکا تھا، اس نے جلدی سے نور کا بازو پکڑ کر پیچھے کی جانب کھینچا، مگر اپنے چھلے ہوئے بازؤوں اور ٹانگوں کی وجہ سے اس میں بالکل پھرتی نہ تھی۔ اس کی اچانک حرکت کی وجہ سے ریچھ اپنی جگہ سے ہلا اور ان پر حملہ آور ہوا ہی چاہتا تھاکہ جلتی ہوئی لکڑی کا ایک بڑا سا ٹکڑااس کے منہ سے ٹکرا کر نیچے گرا۔ جلتی ہوئی لکڑی اس کی ناک پر موجود کھال کو جھلسا گئی تھی، وہ تکلیف سے غرّایا مگر مزید بپھر گیا۔ پھر بھی اس کے لمحہ بھر کے توقف پر ہی مصعب نے تیزی سے لپک کر نور اور سعد کو پیچھے کھینچا اور فریحہ بیگم کی طرف دھکیل دیا۔
’آپ لوگ ہَٹ کی طرف بھاگیں!!…… کوئی مدد ملے تو اس طرف بھیجیں…… جائیں!! جلدی!! ……‘، تیزی سے بولتا ہوا وہ بھی الاؤ میں سے جلتی ہوئی لکڑی اٹھانے لگا، احمد صاحب اور مرتضیٰ صاحب پہلے ہی ہاتھوں میں جلتی لکڑیاں تھامے، ریچھ کو ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر وہ ڈرنے کے بجائے مزید بپھر رہا تھا۔ اس کے رکنے کی وجہ شاید یہی تھی کہ اتنے سارے چہروں میں اسے سمجھ نہ آ رہا تھا کہ کس سمت حملہ کرے۔
’ٹھاہ ……!!!‘، فائر کی آواز پر آخرکار ریچھ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹا۔ اسے پیچھے ہٹتا دیکھ کر عبادہ نے اس کے سر کا نشانہ لیتے ہوئے گولی چلائی۔ اس کا نشانہ ہمیشہ سے بہت اچھا تھا۔ اگلے ہی پل ریچھ مڑا اور ایک جست لگا کر غائب ہو گیا۔
’اتنی……اتنی دیر سے تمہیں خیال آیا فائر کرنے کا……؟!!‘، مصعب نے پھولی ہوئی سانس درست کرتے ہوئے بمشکل کہا۔
’یہ ائیر گَن ہے……ریچھ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ میں نے صرف یہ سوچ کر فائر کر دیا کہ ہو سکتا ہے وہ آواز سے ہی خوف زدہ ہو جائے‘، عبادہ نے بندوق نیچے کرتے ہوئے جواب دیا۔
’چلو شکر ہے خیال تو آیا…… اور آئیڈیا کام بھی آ گیا۔ اب میرے خیال میں فوراً ہَٹ کی طرف چلنا چاہیے، اس سے پہلے کہ ریچھ کو کوئی اور خیال آئے‘، احمد صاحب تیزی سے بولے۔
’پتہ نہیں سب لوگ ٹھیک بھی ہیں یا نہیں……‘، مرتضیٰ صاحب فکرمندی سے بولے اور پھر وہ سب بھی ہَٹ کی جانب چل دیے۔ تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ دو مقامی افراد مل گئے جو فائرنگ کی آواز سن کر دیکھنے نکلے تھے۔’صاحب یہاں مغرب کے بعد ہَٹس سے باہر نکلنا منع ہے……آپ لوگ جنگل میں جا کر کیوں بیٹھ گئے……؟‘۔ وہ لوگ انہیں ہَٹس کے دروازے تک چھوڑ کر رخصت ہو گئے۔ اندر خواتین ابھی تک خوف سے کانپ رہی تھیں۔ احمد صاحب ، مرتضیٰ صاحب اور مصعب کے ہاتھ گرم گرم لکڑی پکڑنے سے جگہ جگہ سے جل گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد نیند بھی سب کی آنکھوں سے اڑ گئی تھی۔
پروگرام تو ان کا ابھی ہفتہ بھر مزید رہنے کا تھا، مگر پہلے سعد کے گرنے اور پھر ریچھ والے حادثے کے بعد سب نے اگلے ہی دن واپسی میں عافیت سمجھی، اور صبح صبح بوریا بستر سمیٹ کر اسلام آباد روانہ ہو گئے۔
٭٭٭٭٭
عید کی چھٹیاں ختم ہوئیں تو سب پرانی روٹین پر واپس آ گئے۔ صبح سکول، کالج، آفس جانا۔ شام کو لڑکے اپنے مشاغل میں مصروف ہو جاتے، یا گراؤنڈ میں دیگر لڑکوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے یا گپ شپ وغیرہ، دیگر مصروفیات ڈھونڈ لیتے۔ نور اور ہاجر بالعموم شام کو ایک چکر موحد چچا کے گھر کا لگا لیتیں جبکہ رات کو کھانے کے بعد تینوں گھروں کے افراد ، یا کم از کم بڑے تو ضرور ہی تایاجان کی طرف اکٹھے ہو جاتے اور کچھ دیر گپ شپ میں گزارتے۔
آج نور اور ہاجر موحد چچا کے گھر آئیں تو وہ سب کہیں جانے کے لیے تیار کھڑے تھے۔مومنہ اپنا عبایا اور سکارف پہنے، جھنجھلائے ہوئے انداز میں مسفرہ سے کچھ کہہ رہی تھی جو گاڑی کے اندر بیٹھی تھی۔ اسی لمحے گھر کے دروازے سے نکلتے ہوئے منال کی نظر ان دونوں پر پڑی تو اس نے دور سے ہی انہیں آواز دی۔’وہاں کیا کھڑی ہو؟……ادھر آ جاؤ ناں!‘۔
وہ قریب آئیں تو دیکھا کہ عائشہ چچی بھی گاڑی میں ہی بیٹھی تھیں، شاید بس اب موحد چچا کا ہی انتظار تھا۔ وہ گاڑی کے اندر سے ہی آہستہ آواز میں مومنہ کو کچھ سمجھا رہی تھیں، جو گاڑی کا درواز ہ پکڑے جھنجھلائی ہوئی کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر ناگواری کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سارے منظر نامے میں صرف منال ہی خوش نظر آ رہی تھی، بلکہ اس کے لیے تو اپنی مسکراہٹ چھپانا مشکل ہو رہا تھا۔
’مومنہ کو ابّا سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جا رہے ہیں‘، وہ سرگوشی کے سے انداز میں ان دونوں سے بولی۔ مگر اس کی سرگوشی بھی اتنی بلند تھی کہ مومنہ نے مڑ کر ان کی جانب دیکھا ۔بظاہر تو اس نے غصّے سے منال کو گھورا تھا مگر ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی نور کو لگا، جیسے مومنہ بڑی بے بسی اور دکھ کی کیفیت کا شکار ہو۔
’چلو پھر ہم چلتے ہیں……رات کو تایاجان کی طرف ملاقات ہو گی‘، ہاجر بولی۔ مومنہ بھی اب رخ پھیر کر گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ وہ دونوں عائشہ چچی کو سلام کر کے واپس مڑ گئیں۔
٭٭٭٭٭
عبادہ کی روانگی کے دن قریب آ رہے تھے۔ تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ فلائٹ کے ٹکٹ بھی آ چکے تھے۔ چار دن بعد اس کی برطانیہ روانگی تھی۔ آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کا جوش و جذبہ اور خوشی اپنی جگہ، لیکن اب اس کی متوقع جدائی کا سوچ کر سب ہی اداس ہو رہے تھے۔یوں بھی گھر میں افراد ہی کتنے تھے، جویریہ کو جب بھی خیال آتا کہ اکلوتا بھائی اتنی دور جانے والا ہے کہ اب ایک طویل عرصہ تک اس سے ملاقات نہ ہو پائے گی، تو اس کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب ہو جاتیں۔ کتنی دفعہ وہ بہانے بہانے سے غسل خانے میں جا کر چپکے چپکے رو کر دل ہلکا کر چکی تھی۔ مگر پھر بھی عبادہ کی خوش اور مطمئن شکل دیکھ کر ہر دفعہ ہی آنسو نئے سرے سے امڈنے کو تیار ہوتے۔
آخر وہ دن بھی آ گیا کہ مستقبل کے کتنے ہی سہانے خوابوں کا عکس آنکھوں میں لیے، عبادہ ان کی تعبیر پانے کے لیے عازمِ سفر ہوا۔ امینہ بیگم مسلسل زیرِ لب کچھ پڑھ پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھیں۔ ابوبکر فریحہ بیگم کو بھی اس سے ملوانے کے لیے لے آیا تھا، انہوں نے اس کا ماتھا چوما اور بہت سی دعاؤں اور ہدایتوں کے ساتھ اسے رخصت کیا۔ ابوبکر اور مرتضیٰ صاحب، دونوں اسے ائیر پورٹ چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ، سب سے آخر میں وہ جویریہ سے ملا۔
’جیّا!……‘، اس نے جویریہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ بے اختیار اس کے کندھے پر سر رکھ کے رو پڑی۔ ’ارے……! تم تو رونا شروع ہو گئیں……!! اتنا کمزور دل ہے تمہارا جیّا!‘، اس نے نرمی سے بہن کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔’تمہیں تو سب سے مضبوط ہونا چاہیے، ……آخر اب تم نے ہی سنبھالنا ہے سب کو……ماما بابا کا خیال رکھنا ہے……… رکھو گی ناں؟‘۔
جیّا نے چہرہ صاف کرتے ہوئے بمشکل اثبات میں سر ہلایا۔ ’سنو…… میں جا رہا ہوں……‘، اس نے آواز ہلکی کرتے ہوئے آہستگی سے کہا۔ اس کے انداز میں کچھ تھا جسے محسوس کر کے جویریہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ عبادہ آنکھوں میں سنجیدگی لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
’میں جا رہا ہوں جیّا……سب کا خیال رکھنا……ماما……بابا……اور اپنا بھی……ان کو پریشان نہ ہونے دینا………اور میرے لیے بھی دعا کرنا، اللہ تعالی مجھے میرے مقصد میں کامیاب کریں‘، اس کے لہجے کی گھمبیرتا محسوس کر کے جویریہ پریشان ہو گئی تھی۔ وہ جا رہا تھا، یہ تو وہ جانتی تھی، لیکن کہاں جا رہا تھا، اس بارے میں وہ اچانک ہی شک و شبہ کا شکار ہو گئی تھی۔ کسی انجانے خدشے کے پیشِ نظر اس نے کچھ پوچھنے کے لیے منہ کھولا، مگر اس کا سوال بھانپتے ہوئے عبادہ نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔
’شش……… میرے راز کی حفاظت تو کرو گی ناں……؟ ‘، اس نے مان بھرے لہجے میں اس سے پوچھا، اور پھر بڑے بھائی کے سے مشفقانہ انداز میں پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ جویریہ کی آنکھوں سے ایک بار پھر خاموش آنسو بہنے لگے۔ ’……فی امان اللہ!……‘۔
اس کی فلائٹ کا وقت نو بجے تھا۔ ابوبکر کی تیز ترین ڈرائیونگ کے باوجود رات کے آٹھ بج کر سترہ منٹ ہو رہے تھے، جب ان کی گاڑی اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے احاطے میں داخل ہوئی۔ فاصلہ تو اتنا نہیں تھا مگر ہر سڑک پر بے پناہ رَش تھا جو ابوبکر کو شدیدکوفت میں مبتلاکر رہا تھا۔ پھر دس قسم کے بیرئیر پار کر کے جب بالآخر ائیر پورٹ میں داخل ہوئے تو باوردی پہرےدار نے انہیں اپنی سواری لابی میں اتارتے ہوئے گاڑی سیدھا دوسرے دروازے سے باہر لے جانے کی ہدایت جاری کر دی، کیونکہ ائیر پورٹ کی نئی سکیورٹی پالیسی کے تحت ائیر پورٹ کے اندر گاڑی کھڑی کرنا منع تھا۔ رکاوٹوں کی وجہ سے ائیر پورٹ سے دو میل دور تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں۔ یہ حالات دیکھ کر مرتضیٰ صاحب نے ان دونوں کو اتر کر اندر جانے کا اشارہ کیا، جبکہ وہ خود بس جلدی جلدی عبادہ سے الوداعی ملاقات کر کے گاڑی کا سٹیرنگ وہیل سنبھالتے ہوئے ، گاڑی بیرونی پھاٹک کی جانب لے گئے۔
’ابوبکر! میرے جانے کے بعد گھر والوں کا کیا ہو گا؟‘، لابی میں پہنچ کر عبادہ نے فکرمندی سے پوچھا۔ ابوبکر نے ایک حیران نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور پھر ہلکا سا ہنس دیا۔
’اس بات کی فکر تمہیں اب ہو رہی ہے؟‘۔
’فکر تو نہیں……بس اپنے اطمینان کے لیے پوچھ رہا تھا……جانتا ہوں تمہارے سپرد کر کے جا رہا ہوں……تم سنبھال لو گے‘۔
’بس پھر بے فکر ہو کر جاؤ!……یہ تو نہیں کہتاکہ کوئی مسئلہ ہو گا ہی نہیں…… یقیناً ہو گا، بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ طوفان ہی آ جائے گا…… ‘، ابوبکر گہری نظروں سے عبادہ کی جانب دیکھتا ہوا بولا۔
’ہاں………خیر! اللہ بہتر کرے گا۔ اور…… یہ بتاؤ ……تمہاری کب تک امید رکھوں……؟‘، اب کہ عبادہ نے ابوبکر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سوال کیا۔
’تم اپنی پرواز کے لیے بال و پَر درست کرو……یقین کرو، منزل کا تعین ہو جائے تو تم مجھے خود سے پیچھے نہیں پاؤ گے‘، ابوبکر نے مضبوط لہجے میں اسے جواب دیا۔ عبادہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔
’فی امان اللہ……!‘، اس نے اپنا چھوٹا سا سفری بیگ زمین سے اٹھا کر کندھے پر ڈالا، اور ابوبکر کے ہاتھ سے اپنا ٹرالی بیگ لے کر اپنی جانب گھسیٹا۔
’فی امان اللہ!‘، ابوبکر محبت سے اس سے بغلگیر ہو گیا۔
پانچ منٹ بعد ابوبکر ائیر پورٹ سے نکل کر مرتضیٰ صاحب کی گاڑی کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ انہیں بھی گاڑی کھڑی کرنے کے لیے کافی دور جا کر جگہ ملی تھی۔ آس پاس کہیں گاڑی نظر نہ آئی تو اس نے جیب سے موبائل نکال کرمرتضیٰ صاحب کو کال ملائی۔ ان سے گاڑی کی لوکیشن پوچھ کر وہ اس سمت چلنا شروع ہو گیا۔
٭٭٭٭٭
پورے نو بجے فیض آباد اڈّے پر ٹیکسی نے اسے اتارا۔ ٹیکسی ڈرائیور کو کرایہ ادا کر کے وہ اپنا چھوٹا سا سفری بیگ اٹھا کر چلنا شروع ہو گیا تھا۔ محتاط نظریں متلاشی انداز میں ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں۔ کونے میں کھڑے ایک چھابڑی والے سے اس نے آدھا کلو تازہ بھنی ہوئی مونگ پھلی خریدی، اور پھر سڑک کے کنارے کھڑی ایک گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ مونگ پھلی بھننے کاانتظار کرتے ہوئے وہ دیکھ چکا تھا کہ یہی اس کی مطلوبہ گاڑی ہے۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا وہ اس کی طرف بڑھا اور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ اس کے بیٹھتے ہی گاڑی چل پڑی تھی۔
’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیسے ہیں بھائی جان؟‘، گاڑی مین سڑک پر چڑھاتے ہوئے گاڑی چلانے والے نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’اللہ کا شکر ہے، الحمدللہ……!‘،
’کیسا محسوس کر رہے ہیں؟‘، گاڑی چلانے والے نے دوسرا سوال کیا۔
’خوشی بھی ہے اور ……کچھ پریشانی بھی……گھر والوں کی طرف سے‘، عبادہ نے جواب دیا۔
’آپ کے والدین کو معلوم ہے؟‘
’نہیں……وہ تو دین کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تو جہاد کو کیا سمجھیں گے‘، عبادہ تاسف سے بولا۔
’فکر مت کریں……اللہ تعالیٰ راہیں کھول دیتے ہیں، دلوں کی بھی اور ہدایت کی بھی……‘، عبادہ نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ کچھ دیر گاڑی میں خاموشی چھائی رہی، وہ دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔ کافی دیر کی خاموشی کے بعد عبادہ نے ڈرائیور کو پکارا،’عطا بھائی!……میں آگے کب روانہ ہوں گا؟‘۔
’جس قدر جلدی ممکن ہو سکا……کوشش تو یہی ہے‘، انہوں نے جواب دیا، ساتھ ہی اگلا سوال بھی کر دیا۔’ ابھی تو آپ واپس لوٹیں گے ناں؟ یہی پلان تھا ناں آپ کا؟‘۔
’ارادہ تو یہی تھا کہ ابھی پہلے امرائے جہاد سے چند سوالات کر لوں، کچھ باتیں ہیں جو سمجھ نہیں آتیں……وہ سمجھ لوں۔ مگر……سوچتا ہوں کہ اگر میرا دل مطمئن ہو گیا، ……تو پھر میں مستقلاً وہیں رہ جاؤں گا! ان شاء اللہ……بس اللہ تعالی سے ہدایت طلب کرتا ہوں کہ سیدھا راستہ سجھا دیں……‘۔
’مگر…… بھائی اگر آپ کے گھر والوں نے آپ کے وہاں رہنےکی مخالفت کی تو……؟‘۔ وہ اس پر ایک نظر ڈال کر سنجیدگی سے بولے۔
’تو……؟تو کیا……؟ بھائی یہاں ہم دنیا کی سپر پاورز سے ٹکر لینے نکلے ہیں!…… تو کیا گھر کی ذرا سی مخالفت نہیں برداشت کر سکتے؟‘، عبادہ مسکراد یا۔
’ہوں……اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان کو مزید پختہ کرے اور آپ کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے ……‘، انہوں نے بھی مسکراتے ہوئے سر ہلا دیا۔
گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔رات کے اندھیرے میں مبہم مناظر تیزی سے کھڑکی کے اس پار دوڑتے نظر آ رہے تھے۔ عبادہ ، سوچوں میں گم، کھڑکی سے باہر جھانک رہا تھا۔ منزل سامنے ہی کہیں تھی……مگر تاحال نظروں سے پوشیدہ۔ (جاری ہے ، ان شاء اللہ)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



