خطوط کا انسانی زندگی، زبان و ادب اور تاریخ پر گہرا اثر ہے۔یہ سلسلہ ہائے خطوط اپنے انداز میں جدا اور نرالے ہیں۔ ان کو لکھنے والے القاعدہ برِّ صغیر کی لجنۂ مالیہ کے ایک رکن، عالم و مجاہد بزرگ مولانا قاری ابو حفصہ عبد الحلیم ہیں، جنہیں میادین جہاد ’قاری عبد العزیز‘ کےنام سے جانتے ہیں۔قاری صاحب سفید داڑھی کے ساتھ کبر سنی میں مصروفِ جہاد رہے اور سنہ ۲۰۱۵ء میں ایک صلیبی امریکی چھاپے کے نتیجے میں، قندھار میں مقامِ شہادت پر فائز ہو گئے، رحمہ اللہ رحمۃ ً واسعۃ۔ قاری صاحب نے میدانِ جہاد سے وقتاً فوقتاً اپنے بہت سے محبین و متعلقین (بشمول اولاد و خاندان) کو خطوط لکھے اور آپ رحمہ اللہ نے خود ہی ان کو مرتب بھی فرمایا۔ ادارہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ ان خطوط کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ اللہ پاک ان خطوط کولکھنے والے، پڑھنے والوں اور شائع کرنے والوں کے لیے توشۂ آخرت بنائے، آمین۔ (ادارہ)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وکفیٰ وسلامٌ علی عبادہ الذین اصطفیٰ
میں آپ کو (قید و بند کے) امتحان میں آپ کی کامیابی پر اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ رب العالمین سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کی کامیابی پر آپ کے بچوں ،گھروالوں ، والدین ، بھائی بہنوں اور دوست احباب کی آنکھیں ٹھنڈی کرے اور آپ کے دین و ایمان میں نکھار پیدا کرے اور سب سے بڑھ کر آپ کوحاسدین کے حسد اور شیاطین کی نظرِ سے محفوظ فرمائے آمین ! ثم آمین!! دل بہت چاہتاہے کہ آپ سے ایک بار ملاقات ہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتا ہوں کہ وہ اپنی مہربانی سے کوئی سبیل پیدا کرے۔ آپ کی طرف سے بھیجے ہوئے تمام تحفے تحائف عین عید الفطر کے دن مجھے موصول ہوئے، اگر اس کے ساتھ آپ کے حال احوال پر مشتمل خط بھی مل جاتا تو عید کی خوشیاں دوبالا ہوجاتیں۔
میرے پیارے بھائی!اللہ تعالیٰ آپ کودنیا و آخرت میں سرخرو کرے۔میں قرطاس ابیض پہ کیا درج کروں، دل کے نہاں خانے میں بہت ساری امیدیں اوربہت ساری باتیں چھپائی ہوئی ہیں۔ یہ ساری امیدیں اورباتیں اس معمولی پرچی میں لکھنے کے لیے الفاظ بھی نہیں، جگہ بھی نہیں اور وقت بھی نہیں!
یہ بات قابلِ غور ہے کہ وہی لوگ دنیا وآخرت میں کامیاب ہیں جو دنیامیں زندگی گزارتے ہوئے ہر معاملے میں اعلیٰ و ارفع مقاصد پیشِ نظر رکھتے ہیں اور انہی مقاصد کے حصول کے لیے تگ و دو کرتے ہیں ۔ انہی دو طرح کے لوگوں سے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَاوَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا1کہ ’’جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اس نے کامیابی حاصل کی۔ اور جس نے اُسے (دنیاوی حقیر چیزوں کے حصول میں) اُلجھا دیا وہ ناکام ہوگیا ‘‘۔ میری دعا ہے کہ آپ کا یہ امتحان آخری امتحان (آزمائش) ثابت ہو اورآپ کے پیشِ نظر زندگی کے بلند مقاصد ہوں ۔
میرے پیارے بھائی! امتحان کے بعد اب آپ نے کیا سوچاہے ؟ کیا دنیاوی دھندے میں لگنا ہے یا زندگی کے بلند مقاصد کے حصول کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنا ہے؟ مجھے امیدِ واثق ہے کہ آپ میری توقع کے عین مطابق ہی سوچ رہے ہوں گے ۔میری بھی اولین خواہش یہی ہے کہ آپ زندگی کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے عملی میدان کا انتخاب کریں اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرے بغیر اس راستے کا انتخاب کریں ۔
اصل مسئلہ ایمان کو محفوظ کرنا ہے کہ ایمان ہی ایک مومن کا اصل سرمایہ ہے۔یہ وہ وقت ہے جس کے بارے میں نبی کریم (ﷺ) نے اپنی پیش گوئیوں میں بتایا :
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ(ﷺ): یُوْشِکُ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، یَتَّبِعُ بِھَا شَعَفَ الجِبَالِ وَمَوَاقِعِ الْقَطَرِ یَفِرُّ بِدِیْنِہٖ مِنَ الْفِتَنِ۔ (بخاری،عن ابی سعید الخدریؓ، باب التعرب فی الفتنۃ)
’’ وہ دن دور نہیں کہ مسلمان کا بہترین مال چند بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑوں کی چوٹیوں یا بارانی علاقوں میں جائے گا (تواس طرح اس کا جانا ) دین کو لے کر فتنوں سے بھاگنے کے مترادف ہوگا ‘‘۔
صحابہ کرام میں بہت سے حضرات تاجر تھے، بعض زمینداری کرتے تھے، دیگر بھی کسی نہ کسی پیشے سے منسلک تھے،مگر ان ہستیوں نے اعلیٰ مقاصد کے حصو ل کے لیے د نیاکی تما م تر آسائشوں کی قر بانیاں دیں، یہا ں تک کہ اپنا گھر بار، رشتے ناتے اوروطن ، سب کچھ چھو ڑ کر ہجرت کی اور ہجرت کے بعد بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے بلکہ دین کی سر بلندی کے لیے تن من دھن ایک کر دیا ، تبھی اللہ تعالیٰ نے ان کی شا ن میں فر ما یا : رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ2 ’’اللہ ان سے خوش اور وہ اللہ سے خوش‘‘ ۔
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میری عمر کا کچھ حصہ سیر و سیاحت میں گزرا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ایک ایک آدمی کے پاس سیکڑوں بکریاں ہیں، وہ اسی میں خوش ہے، اُسے نہ کوئی غم ہے ،نہ کوئی فکر ہے اور نہ ہی اسے اللہ تعالیٰ کے ڈر کے علاوہ کوئی ڈر ہے۔ہاں! اس کاایمان بہت مضبوط ہے۔ وہ کہتا ہے : یارو ! تم شہری بابو ہو ، تم لوگوں کا ایمان اللہ پر کیسے مضبوط ہوگاجبکہ تم شہر کی کثافتوں میں رہتے ہو اور روزانہ فتنوں کا شکار ہوتے ہو؟تم شہر میں بڑی بڑی عمارتیں دیکھتے ہو اور فلاں فلاں انجینئر کی تعریف سے زبان تر کرتے ہو ،تمہیں بڑی بڑی گاڑیاں ،ہوائی جہاز نظر آتے ہیں توتم فلاں فلاں ملکوں کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہو،اسی طرح جب تم لوگ بیمار ہوتے ہو تو بڑے بڑے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہو، اگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفایاب ہوتے ہو تو وہاں بھی تمہیں اللہ تعالیٰ نظر نہیں آتا ،وہاں پر بھی ڈاکٹر صاحب کا کمال ہی گردانتے ہو۔ جب کہ ہم کو یہاں بڑے بڑے پہاڑ، نالے اور چوٹیاں نظر آتی ہیں تو ہمارا دھیان فورًااللہ جل جلالہ کی طرف جاتا ہے اور ہم پکار اُٹھتے ہیں کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 3۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں اہلِ بصیرت کی یہی صفت بیان فرمائی ہے۔
ایک طرف پہاڑوں میں رہنے والوں کی بےفکری اور ایمان کی یہ کیفیت، دوسری طرف شہروں میں رہنے والوں کا یہ حال کہ نگاہوں کو چکاچوند کر دینے والے بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے کروڑ پتی آدمی کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں ہونے کے باوجود اس کی رات کی نیند حرام، وہ بیسیوں بیماریوں کا مرکب، اگر اس کے پاس ایک مہمان آجائے تو اس کی جان نکل جاتی ہے اور اسے جلد سے جلد فارغ کرنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اس سے پوچھا جاتا ہے کہ گرم پیوگے یا ٹھنڈا؟ جبکہ ان دیہاتیوں کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس کو ئی اجنبی مسافر آجاتا ہے تو اگر ان کے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی وہ اس سے ضرور کہیں گے کہ کھانا کھالو۔ ایک مرتبہ ایک دو دوستوں کے ساتھ ایک غریب بستی سے ہمارا گزر ہوا اور ہم روزے سے تھے۔افطار کا وقت نکل چکا تھا، اندھیرا پھیل رہا تھا کہ اسی دوران ہمیں گاؤں کا ایک آدمی ملا، اس سے ہم نے پوچھا کہ کیا ہمیں پانی مل سکتاہے؟ اس نے ہماری طرف دیکھا اور وہ سمجھ گیا کہ یہ لوگ روزے سے ہیں، وہ فورًا آس پاس کے گھروں میں گیا۔ اس کے بعد جس کے پاس جو کچھ بچا کچھا تھا وہ سب لے آئے ۔کسی کے پاس ایک آدھ رو ٹی تھی وہ اسی کو لے آیا ،کسی کے پاس تھوڑا ساسالن تھا وہ اسی کو لے کر آیا، تو کسی کے پاس صرف چائے بچی تھی وہ اسی کو لے آیا۔
اہل ایمان کے لیے یہ دنیا قید خانہ ہے : اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْکَافِرِ4 ’’دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے ‘‘۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا دنیا والوں ہی کے لیے ہے اور آخرت آخرت والوں کے لیے ہے ۔بیچ والوں کے لیے نہ یہ ہے اور نہ وہ ہے ، کیونکہ وہ یہاں نہ مسلمان بن کر رہے اور نہ کافر۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا : مُّذَبْذبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ لَا اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ و لَااِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ5 ’’ بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں، نہ ان کی طرف (ہوتے ہیں) نہ اُن کی طرف‘‘۔یہ لوگ یہاں کفار و مرتدین کی ہاں میں ہاں ملا کر ذلت سمیٹ رہے ہیں، اس کے باوجود اپنے رویے میں تبدیلی لانے کے بجائے اُلٹا اللہ تعالیٰ کے کلام کی خودساختہ توضیح کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو اپنے اِردگرد جمع کر کے کاروبار دین چمکا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نے ہمیں دعا سکھائی ہے جس میں حضور ( ﷺ)نے ہمیں دنیا و آخرت دونوں کے حصول کی تعلیم دی کہ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّار، ’’اے ہمارے رب !ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرمانا اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا‘‘۔
یہ دعانبی کریم (ﷺ) کی محبوب دعاؤں میں سے ایک محبوب دعا ہے اور اس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس دعا میں حَسَنَۃً کا مطلب حضور نبی کریم (ﷺ) کو پتہ نہیں تھاحالانکہ آپ (ﷺ) ہی نے امت کو یہ دعا سکھائی اور خود بھی کثرت سے پڑھی ہے؟ جب ہم نبی کریم (ﷺ) کی عملی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ان کی زندگی کو دنیا جہاں سے الگ تھلگ پاتے ہیں۔ وہ دنیا کے پیچھے کبھی نہیں بھاگے بلکہ ان کے شب و روز کا یہ عالم تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہجرت کے بعد مدینہ آکر نبی کریم (ﷺ) نے مسلسل تین دن تک گیہوں کی روٹی کبھی نہیں کھائی6 ۔ آپ(ﷺ) کے گھر میں بعض اوقات مہینہ مہینہ بھر چولہا جلانے کی نوبت نہ آتی تھی ،کھجور اور پانی پر گزارا ہوتا تھا ۔آپ اپنے لیے دعا مانگتے تھے کہ اے میرے رب ! مجھے ایک دن کھانے کو ملے اور ایک دن بھوکا رہوں اور بھوک میں تیرے سامنے گڑگڑاؤں اور تجھے یاد کروں اور جس دن کھاؤں تو تیرا شکرادا کروں‘‘۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’ مجھے اس دنیا سے کیا کام ؟ میں تو اُس مسافر کی طرح ہوں جو راستے میں چلتے چلتے کسی درخت کے سائے میں آرام کر لے اور آگے بڑھ جائے ‘‘۔7
کیا یہ سب کچھ نبی کریم (ﷺ) نے کسی مجبوری میں اختیار فرمایا تھا ؟ ہرگز نہیں۔ جبکہ آپ (ﷺ) کو یہ پیشکش بھی کی گئی تھی کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کے لیے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائےلیکن آپ(ﷺ) نے یہ پیشکش قبول نہیں فرمائی ۔ آپ (ﷺ) کا یہ عملی نمونہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں تھا بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ہے جو آپ (ﷺ) سے محبت رکھتا ہے۔ جہاں تک دنیاوآخرت ساتھ لے کرچلنے ، ہمہ تن اُسی کے لیے کوشاں رہنے اور اللہ تعالیٰ سے اس کے حصول کے لیے دعا کرتے رہنے کی بات ہے تو اگر چہ یہ صورت بھی جائز ہے مگریہ بندۂ مومن کے لیے انتہائی مشکل کام ہے( الّا ما رحم ربی) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم (ﷺ) کے عملی نمونے کی پیروی کر نے اور اس پر صبر و ثبات کے ساتھ جمے رہنے کی تو فیق عنایت فرمائے آمین!
اہلِ ایمان سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے دنیا میں عملِ صالح کے ساتھ اُسی کے ہو کر رہیں گے ان کی دنیا تو بہتر ہوگی ہی ا ور آخرت تو ہے ہی متقین و مخبتین کے لیے جیسا کہ درجِ ذیل آیت سے واضح ہے۔ ارشادِ ربانی ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّلِحٰت وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّھِم اُولٰئِکَ اَصْحٰبُ الجَنَّۃِ ھُمْ فِیھَا خٰلِدُوْنَ (سورۃ ہود : ۲۳)
’’بےشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہوکر رہے، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘
دنیا میں رزق کا معاملہ ہو یا اچھی زندگی کی بات ہو، اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں کو تقو یٰ و پرہیزگاری اور عملِ صالح کے ساتھ ہی منسلک کر رکھا ہے؛ جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :
وَ مَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًا وَ یَرْزُقُہٗ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَیَ اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہُ (الطلاق: ۲، ۳)
’’جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا (اللہ کا تقوی اختیار کرے گا ) اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اُسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر ا س کا گمان بھی نہ جاتا ہو ۔ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔‘‘
دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَلَیُبَدِّ لَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِخَوْفِھِمْ اَمْنًا (سورۃ النور: ۵۵)
’’اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے، اور ان کی (موجودہ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
مَنْ عَمِلَ صَالِحًامِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّۃُ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِ یَنَّھُمْ اَجْرَھُمْ بَاَحْسَنِ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (سورۃ النحل: ۹۷)
’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا،خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں) ایسے لوگوں کو ان کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔‘‘
ان سب باتوں سے میرا مدعا ہرگز یہ نہیں کہ میں بڑا ناصح ہو گیا ہوں اور آپ کو دنیا سے بےزار کرنا چاہتاہوں۔میرا مدعا صرف یہ ہے کہ ہمارا جو بھی قدم اُٹھے، صحیح سمت اُٹھے اوربہت سوچ و فکر کے ساتھ اُٹھے۔ آپ کے ساتھ میرا ایک خاص تعلق ہے جو مضبوط ایمانی بنیاد رکھتاہے جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کے خیر خواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ کرے کہ ہمارے قدم متزلزل ہوں اور ہم کوئی مصیبت اُٹھائیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور دین کی صحیح راہ پرجمائے رکھے آمین!
سب بچوں کو میری طرف سے بہت بہت دعا اور پیار ہو ۔ یہ سب ننھے منے اب بڑے ہورہے ہوں گے ۔اللہ تعالیٰ ان سب کو آپ سب کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین! سب احباب اور آپ کے والدین کو میرا سلام عرض ہو ۔ ہمیں آپ کی دختران کی شادی کی خبر سن کر بڑی خوشی ہوئی، ان کو ہماری طرف سے مبارک ہو اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں کو خوش گوار بنائے آمین!
آخر میں ہم ان تمام شیطان نما کالے بھیڑیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں جو ہمارے دین کے راستے میں گھات لگائے بیٹھے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری تمام خطاؤں سے در گزر کرے اور تمام کوتاہیوں کو معاف کرے اور ہم پر رحم کرے آمین !ثم آمین!!
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَ لَاتُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰنَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ (سورۃ البقرۃ: ۲۸۶)
’’ اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے چوک ہوجائے تو اس پر نہ پکڑئیو ، اے ہمارے رب !اور ہم پروہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ، اے ہمارے رب! اور وہ بوجھ نہ ڈال جس کے ہم متحمل نہیں ،ہم سے درگزر فرما، ہمیں معاف فرما ،اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ، پس کافرقوموں کے مقابلے ہماری نصرت فرما۔‘‘
ہمارے لیے بھی دعاؤں کا ضرور اہتمام کریں۔
والسلام علیکم،
آپ کا خیر اندیش ،آپ کا بھائی
وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرٰحِمِیْنَ
1 سورۃ الشمس: ۹، ۱۰
2 سورۃ المجادلۃ: ۲۲
3 ترجمہ: ’’ ہمارے پروردگار ! آپ نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا ‘‘۔ (سورۃ آل عمران: ۱۹۱)
4 مسلم ، ترمذی ،ابن ماجہ ، عن ابی ہریرہ
5 سورۃ النساء :۱۴۳
6 مَاشَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزِ بِرٍّ مَأْدُوْمَ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ حَتّٰی لَحِقَ اللہَ (بخاری)
7 مَا لِیْ وَمَا لِلدُّ نْیَا مَا اَ نَا فِی الدُّ نْیَا اِلَّا کَرَاکِبٍ سَنَظَلّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ ثُمَّ رَاحَ وَ تَرَکَھَا (ترمذی)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



