نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home آخرت

علامات قیامت ۸

آخری بات

by مولانا مسعود کوثر
in ستمبر 2020, آخرت
0

قیامت سے پہلے کچھ حالات و معاملات ایسے برپا ہونے ہیں جن سے اہلِ ایمان کی جنت و جہنم وابستہ ہے۔ مخبرِ صادق ، نبیٔ آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبار ک کا مفہوم ہے کہ ’آخری زمانے میں دنیا دو خیموں میں بٹ جائے گی، ایک خیمہ اہلِ ایمان کا ہوگا جس میں نفاق نہ ہو گا اور ایک خیمہ اہلِ نفاق کا ہو گا جس میں ایمان نہ ہو گا‘۔ مولانا مسعود کوثر صاحب مدّ ظلّہٗ کے یہ دروس اسی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہیں اور ان میں اہلِ ایمان کو لائحۂ فکر و عمل فراہم کرنے کا سامان ہے۔ مولانا موصوف نے یہ دروس ایک عوامی مجلس میں ارشاد فرمائے تھے، جہاں برادرِ عزیز حافظ شہزاد (محب اللہ)شہید رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے، برادر حافظ شہزاد شہید نے ہی بڑے اہتمام سے ان دروس کو ریکارڈ کیا تھا۔ بحمد اللہ، یہ دروس قسط وار، مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ میں نشر کیے جا رہے ہیں۔(ادارہ)


نحمده و نصلى علیٰ رسوله الكريم اما بعد

فأعوذ باالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمٰن الرحيم

آخری بات جو ہے وہ بہت توجہ کے ساتھ سن لیجیے کہ ہم ان فتنوں میں کیا کر سکتے ہیں، میں اور آپ کیا کریں؟ ان باتوں کو پڑھ کے رکھ دیں؟ان کو سمجھ لیں؟آپ کی اور میری ذمہ داری آج کے ان فتنوں کے زمانے میں کیا بنتی ہے؟احادیث کو پڑھیں، بہت اچھی بات ہے؛احادیث کو سمجھیں، بہت عمدہ؛احادیث کو خود پڑھیں، آگے پہنچائیں، بہت ہی اچھا، لیکن ہماری ذمہ داری اس سے بھی آگے کی ہے اور ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ دیکھیے تکوینی طور پر اللہ نے جو فیصلے کیے ہیں وہ ہو کے رہنا ہیں اسلام نے غالب آنا ہے، انسان اگر اس مطلب و مقصد کے لیے میدان میں نہیں اترے گا تو اللہ اور قوم لے آئے گا، وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ۔ اگر ہم دین کی حفاظت نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں سے اپنے گھر کی حفاظت کا کام لیا تھا؛ اللہ تبارک و تعالیٰ کسی اور مخلوق سے کام لے لیں گے ۔دیکھا یہ جائے گا کہ آپ نے اور میں نے ایمان اور کلمۂ ایمان ،اخلاص اور رسول اقدس ﷺ کی محبت کے دل میں ہوتے ہوئے دین کے لیے کیا کیا ہے؟ دیکھا یہ جائے گا کہ آپ نے اور میں نے اپنی جوانیاں ،اپنی صلاحیتیں، اپنا دماغ ،اپنی مصروفیات کس طرف لگائیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں بڑے مواقع عطا کیے ہیں، اتنے بڑے مواقع، اتنے بڑے کہ صرف الفاظ نہیں بلکہ حقیقتاً شاید فتنوں کے زمانہ میں آپ کے اور میرے علاوہ کسی امت کو اللہ نے وہ نعمتیں عطا نہیں کی ہوں گی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایمان والوں سے قرآن ِ پاک میں تین غلبوں کے وعدے کیے ہیں۔ غور سے سننے والی بات ہے کہ ہم آپ کو تین غلبے دیں گے، یہ اللہ کا وعدہ ہے، قرآن شریف میں وعدہ ہے اور ایک آیت ایک ہی وعدے کے لیے آئی ہے ۔اسی آیت میں اللہ نے وعدہ کیا ہے اور تین وعدےہیں تو تین ہی آیات ہیں، نہ چوتھی آیت ہے نہ چوتھا وعدہ ہے ۔

پہلا وعدہ رسول اقدسﷺسے یہ کیا تھا کہ آپ مسلمانوں سے کہیں کہ حق پر قائم رہیں، ہجرت کے بعد جہاد کریں، ہم ان کو دنیا میں بہترین ،مضبوط خلافت عطا کریں گے۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ…1 ، تو رسول اقدس ﷺ صلح حدیبیہ سے واپس آرہے تھے کہ سورۃ الفتح نازل ہوئی اور اللہ نے پہلے غلبہ کا وعدہ کیا ، لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ، آگے ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا2 ، کہ ہم اپنے رسول ﷺ سے وعدہ کرتے ہیں کہ جس دین حق کو اور ہدایت کو دے کر ہم نے ان کو بھیجا ہے، کیوں دے کے بھیجا ہے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ تاکہ دین اسلام دنیا کے تمام دینوں پہ غالب آ جائے اس کے پہلے غلبے کا ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کو غالب کر دیں گے ۔یہ پہلا غلبہ ہے اسلام کا جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں پورا ہوا۔جب مکہ فتح ہوا رمضان المبارک سنہ آٹھ ہجری میں رسول اقدسﷺ نے مکہ مکرمہ کو فتح کرکے جزیرۃ العرب میں اسلامی ریاست کا اعلان کر دیا اور خلافت قائم ہو گئی، رسول اقدسﷺ نبی بھی تھے ریاست قائم ہو گئی اور آپ ﷺ اس علاقے کے بادشاہ مقرر ہوئے۔حضور علیہ السلام ہی خلیفہ تھے،حضور علیہ السلام ہی بادشاہ تھے، حضور علیہ السلام ہی حاکم تھے، نبی کریم ﷺ ہی فیصل اور چیف جسٹس تھے اور نبی کریم ﷺ ہی امیر لشکر تھے۔تو نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی میں پہلے غلبے کا وعدہ پوراہوا۔آیت کون سی؟ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ ۔

دوسرا وعدہ اللہ ذوالجلال نے سورۂ توبہ میں، دسویں پارے میں کیا کہ ہم آپ کو دنیا کی بڑی اقوام پر غالب کریں گے ۔اس وقت دنیا میں دو سپر پاور تھیں؛ روم اور فارس؛ ایک کے حاکم کو قیصر کہتے تھے اور ایک کو کسریٰ کہتے تھے۔ قیصر و کسریٰ تباہ ہوئے اور ایران و فارس اور روم پر مسلمان غالب آئے ۔اللہ نے وعدہ کیا سورۂ توبہ میں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو ہم مغلوب کر دیں گے۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ؛یہ لوگ کیا کرتے ہیں اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ؛ اللہ کے علاوہ انہوں نے غیروں کو خدا بنا رکھا ہے۔ آگے يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ؛ آگے یہی آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ3نبی کریمﷺ نے مکہ فتح ہوجانے کےبعد عرب میں کوئی جنگ نہیں لڑی۔ کیوں ؟ کیونکہ عرب تو سارا فتح ہوگیا۔نبی کریم ﷺنے کفر پر اگلے غلبے کے لیے، کہ دنیا کی دو سپر پاورز کو شکست دینی ہے، دنیا کی تہذیب یافتہ ،متمدن اقوام کو اسلام کے در پہ جھکانا ہے، نبی کریم ﷺ نے آٹھ ہجری سے لے کر وفات تک، حیاتِ مبارکہ کے تین سال میں تین بڑی ضربیں لگائیں دنیائے کفر کو ۔ایک ہے غزوۂ تبوک جو سن نو ہجری میں لڑا، جو دو ماہ کا طویل سفر گرمی میں طے کر کے رسول اقدسﷺ روم کی سرحد تک پہنچے اور جا کر دنیائے عیسائیت کو للکارا کہ آؤ! مسلمانوں کو سرحد پر تنگ کرنے کے بجائے اسلام کا راستہ روکنے کے بجائے میدان میں آؤ! غزوۂ تبوک میں وہ مسلمانوں کے سامنے نہیں آئے ۔ صلح کی کچھ شرائط طے کیں، معافی مانگی، تو رسول اقدسﷺواپس آگئے۔ لیکن اس پہلے غلبے کے بعد اسلام کے کلی غلبے کی بنیادحضور علیہ السلام نے سن نو ہجری میں غزوۂ تبوک میں رکھ دی تھی۔ غزوۂ تبوک عرب میں نہیں ہوا، عیسائیوں کے خلاف ہوا۔اس سے جب حضور علیہ السلام واپس آئے تو آپ کی عمر۶۱ برس سے زیادہ ہو چکی تھی اور اپنی عادت شریفہ کے مطابق سب سے پہلے نبی کریم ﷺ اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کے گھر آئے ، قریب ہی گھر تھا۔ دروازہ بجایا حضرت فاطمہؓ سامنے آئیں تو بجائے ملنے کی رک گئیں اور رک کر حضور علیہ السلام کے چہرۂ اقدس کو دیکھا اور زار و قطار رونے لگیں۔ تو رسولِ اقدس ﷺ نے کہا کہ فاطمہ! تم کیوں روتی ہو ؟ نبی کریم ﷺ نے یہ سوال کیا تو حضرت فاطمہؓ نے جواب دیا کہ ابا جان ! آپ کی جدوجہد اور آپ کی دین کے لیے مشقت، ۶۱ برس کی عمر میں اس ڈھلتی ہوئی عمر میں اتنا طویل سفر، آپ کےچہرے پر گرد و غبار کے اثرات ہیں، اتنا طویل سفر۔ جب میں اتنی (چھوٹی)سی تھی تو آپ کو دیکھتی تھی، مکہ میں آپ پر ظلم و ستم ہوا،یہاں مدینہ میں چین نہیں ملا، اب کون سا دن آئے گا کہ جب میرے ابا جان کو گھر میں چین ملے گا؟آپ بھی کبھی آرام کریں گے؟ تو نبی کریم ﷺ کی حالت کو، آپ کی جدوجہد کو ، آپ کی مشقت کو آپ کی محنت کو دیکھ کر حضرت فاطمہؓ بہت روئیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان کو جوجواب ارشاد فرمایا وہ آپ کے لیے اور میرے لیے نمونۂ عمل ہے۔ وہ جواب ہمارے رستے کا تعین کرتا ہے کہ ہمیں کس طرف جانا ہے۔نبی کریم ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’ اے فاطمہ ! روؤ نہیں، ایک دن اس کائنات میں، روئے زمین پر ایسا آنے والا ہے کہ کوئی کچا یا پکا گھر باقی نہیں بچے گا مگر وہاں تک تیرے باپ کا کلمہ اور دین پہنچ کر رہے گا ، کوئی عزت کے ساتھ تیرے باپ کا دین قبول کر لے گا تو اللہ اسے عزت دے گا اور جو تیرے باپ کے دین سے ٹکرائے گا تو اللہ اس کو ذلیل کر دے گا‘‘۔میں تو اس دین کی بنیاد رکھ رہا ہوں، آنے والی نسلوں تک کلمۂ اسلام پہنچا رہا ہوں، جو رکاوٹ بن رہے ہیں اللہ کے حکم کے مطابق ان کو جہاد کے ذریعے دور کر رہاہوں ۔

دوسری مثال، نبی کریم ﷺ مرض الوفات میں ہیں، بخار آتا ہے اور رسول اکرم ﷺ بے ہوش ہو جاتے ہیں ، پانی ڈالتے ہیں، پانی پیتے ہیں ، ہوش آجاتا ہے۔ بلا رہے ہیں اسامہ بن زیدؓ کدھر ہیں؟ ان کو امیر لشکر بنا کر روم کے خلاف چڑھائی کرنے کے لیے لشکر دے کر روانہ کیا اور وہ رک رہے ہیں اور وہ وقت دیکھ رہے ہیں،حضور علیہ السلام کی طبیعت دیکھ رہے ہیں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں میرا انتظار نہیں کرو میں ٹھیک ہوں۔ یہ مدینہ کی بستی سے لشکر باہر نکلا، ان کو خبر پہنچی کہ رسولِ اقدس ﷺ کا وصال ہوگیا ہے۔ یہ وہاں سے واپس آئے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مرض الوفات میں بھی غلبۂ اسلام کے لیے اور اس جہاد کو باقی رکھنے کے لیے اسلام کی بقا کے لیے لشکر روانہ کیا ہے اور اسی غلبے کے لیے روانہ کیا ہے اور مرض الوفات میں حضور علیہ السلام نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر دنیا میں امن چاہتے ہو اور عرب کو اسلام کا مرکز دیکھنا چاہتے ہو توجزیرۃ العرب سے یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دو۔ جزیرۃ العرب میں جب تک عیسائی اور یہودی موجود ہیں تو اسلام کے خلاف سازش کرنے سے یہ لوگ کبھی بھی باز نہیں آئیں گے ۔یہ حضور علیہ السلام کے جتنے اعلان تھے یہ اسلام کے دوسرے غلبے کی بنیاد تھے جو حضرت عمرؓ کے دور میں مکمل ہوئے۔ یہود و نصاریٰ جزیرۃ العرب سے نکالے گئے اور حضرت عمرؓ نے قیصر وکسریٰ پہ وار کیا۔ مسلمان فوجیں قیصر و کسریٰ کے محلات میں گئیں، ان کے بیڈ رومز میں صحابہؓ نے گھوڑے جا کے باندھےاور ان کے دالانوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اذانیں دیں ،اسلام کا جھنڈا لہرایا، اسلام کو وہاں غالب اور نافذ اور فاتح کیا اور یہ دوسرے غلبے کا وعدہ جو اللہ نے سورۂ توبہ میں کیا تھاوہ پورا ہو گیا۔

پھر بیچ میں ہزار بارہ سو سال کا ایک لمبا فاصلہ ہے۔ اللہ نے رسول اقدسﷺ سے اسلام کے تیسرے غلبے کا وعدہ کیا ہے کہ تیسراغلبہ ہو کے رہے گا اور وہ جو تیسرا غلبہ ہے وہ جزیرۃ العرب میں نہیں صرف متمدن اقوام میں نہیں ،صرف کسی سپر پاور کی شکست نہیں وہ اسلام کا پورا غلبہ ہے، جو رسول اقدس ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جواب دیا تھا کہ اسلام دنیا کے ہر کچے اور پکے گھر میں پہنچ کر رہے گا، کوئی اسلام کو مان لے اسلام قبول کر لے تو عزت پائے گا ورنہ اسلام کے سامنے اس کو گردن جھکانا ہی پڑے گی، اس کو جزیہ اور ٹیکس دے کر رہنا پڑے گا۔ اتھارٹی، ریاست و خلافت و حکومت اسلام کی قائم ہو گی اور وہ صورت ابھی اسلام میں آئی نہیں ہے اس کی طرف ہم جا رہے ہیں اور چوتھا دور ختم ہو رہا ہے (جو پہلے دروس میں ذکر ہوا یعنی نبوت، خلافت، ملوکیت،آمریت اور پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ)اور ہم پانچویں دور میں داخل ہو رہے ہیں جو حضرت مہدی اور حضرت عیسی ؑ کا زمانہ ہے، وہ اسلام کے کلی غلبے کا زمانہ ہے اور تیسرا وعدہ سورۂ صف میں ہے إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ؛اللہ بہت محبت کرتا ہے ان لوگوں سے جو اللہ کے رستے میں صفیں بنا کر جہاد کرتے ہیں اور جہاد کے ذریعے اسلام کو غالب کرنے کی فکر میں ہیں ۔حضرت موسیٰؑ کی قوم کا، یہودیوں کا تذکرہ آگیا ان کا نام لے کر؛ وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ…، وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ…؛ عیسیٰ ؑ اپنی نبوت کا اعلان کر رہے ہیں کہ میری مدد کرو۔ اور نہیں اپنا نام ہی نہیں لیا کہا کہ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ لیکن آج میں تمہیں جو بات کررہا ہوں، کون کہہ رہے ہیں؟ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہہ رہے ہیں کہ یا بنی اسرائیل !اور بات کیا کر رہے ہیں: وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُم بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰ إِلَى الْإِسْلَامِ۝ رسول اللہ ﷺ کی بشارت ہے، آگے اللہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اسلام جس کی بشارت ہے ہم پوری دنیا میں اسلام کو نافذ اور غالب کرنے والے ہیں، قومِ موسیٰ پر بھی اور قومِ عیسیٰ پر بھی، جس کی بشارت عیسیٰ و موسیٰ نے دی ہے يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ پھر تیسری دفعہ آرہا ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۝4 اللہ اپنے اس نور کو مکمل کر کے رہے گا اور یہ نور مکمل ہوگا اور پورا مکمل ہوگا؛ اگر کافروں کو ناپسند ہے تو ہوا کرے، مشرکوں کو ناپسند ہے تو ہو، اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا۔یہ اسلام کا کلی غلبہ ہے اسلام پوری دنیا میں غالب آئے گا۔ یہ تین غلبے ہیں اور تین وعدے ہیں۔ نہ چوتھا غلبہ ہے اور نہ قرآن میں (غلبۂ دین کے حوالے سے) چوتھی آیت ہے۔

آپ کے لیے اور میرے لیے یہ اتنا بڑا موقع ہے کہ آپ اور میں اس زمانے میں سانس لے رہے ہیں جو اسلام کے کلی غلبے میں حصہ ڈال رہا ہے ۔ہمارا ایک قدم دین کے لیے ،ہماری ایک بات دین کے لیے ،ہمارا دین کے رستے میں چل کےجانا ،ہمارا کفر کے غرور کو توڑنےکے لیے میدان میں اترنا ،ہمارا دیا ہوا ایک روپیہ ،ہمارا اٹھایا ہوا ایک قدم وہ کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ڈالے گا اسلام کے کلی غلبے کے لیے، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ غلبہ تو ہو جانا ہے تکوینی طور پر اللہ نے طے کر دیا ہے رسول اقدسﷺ نے خبر دے دی۔ گویا کہ سامنے دیکھ رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ آپ اور میں اس میں کتنا حصہ ڈالیں؟یہ ایک بڑا موقع ہے۔

دوسرا بڑا موقع جو شاید ،شاید دنیا کے کسی اور خطے کے مسلمانوں کو مہیا نہ ہو وہ ہے ہمارا پاکستان میں رہنا ،جہاں مدارس کا نظام ،جہاں علما بتانے والے ،جہاں افراد جو ہیں وہ موجود ہیں اور جہاں کفر کے غرور کو توڑنے کا موقع موجود ہے۔نبی کریم ﷺ نے خراسان کی بات کی جو آپ کو حضرت مہدیؓ کے ضمن میں بتائی کہ حضرت مہدیؓ کے حامیوں میں سب سے بڑے حمایتی کون؟ اہل خراسان یا اہل افغانستان ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو دین کی عظمت کے لیے چنا ہے اور حضرت مہدیؓ کو سب سے بڑی جو طاقت میسر ہوگی وہ اہل خراسان کا ہونا ہے ۔اور یہ وہ لوگ ہیں اول تا آخر جن کو اللہ ذوالجلال نے اسلام کے دفاع کے لیے اور کفر کے غرور کو توڑنے کے لیے چنا ہے۔جس کا حدیث میں تذکرہ ہو، ہمارے علاقے کا نام ،ہماری بستی کا نام حدیث میں آ جائے تو ہم کتنے خوش ہوں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے ان لوگوں کو چن لیا ہے جنہوں نے ہر آنے والے کافر کے غرور کو خاک میں ملایا ہے ۔برطانیہ آیا وہ پہاڑوں میں دم توڑ گیا ،اس کے بعد روس آیا وہ منہ کی کھا کے واپس گیا اور اب صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیائے کفر اڑتالیس سے زیادہ ممالک جو ہیں، پوری دنیا مل کر ان پر حملہ آور ہے لیکن اللہ اپنی مدد و نصرت وہاں دکھا رہے ہیں۔ اس ضمن میں ایک حدیث معجم البلدان میں علامہ حموی ؒ نے نقل کی ہے، وہ اس خطے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے میرے خیال میں کافی ہے۔ حضرت شریک ابن عبد اللہ ؓسے روایت ہے کہ ’’خراسان کو بستی نہ سمجھنا ،اس کو ایک شہر یا ملک نہ سمجھنا، خراسان اللہ تبارک و تعالیٰ کا ترکش ہے زمین میں بھیجا ہوا،جب کوئی دنیا میں مغرور اُٹھ کر اپنی خدائی کا دعویٰ کرتا ہے، اللہ یہاں سے اس پر تیر برساتا ہے ‘‘۔جب کوئی دنیا میں اٹھ کر خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور غرور کرتا ہے اللہ اپنے اس ترکش سے تیر برساتا ہے اور اللہ اس کے غرور کو خاک میں ملاتا ہے۔ اس لیے یہ بہترین موقع ہے ہر حوالے سے ۔

ہمیشہ دو نیتیں ضرور رکھیے: اپنے آپ کو رسول اقدس ﷺ کی محبت اورسنتوں سے مزین کرکے اپنے آپ کو جہاد کے لیے تیار رکھیے کہ اس دنیا میں جہاں بھی، جب بھی اسلام غالب آیا ہے وہ ہمیشہ جہاد کے ذریعے غالب آیا ہے ، نہ مذاکرات کے ذریعے ،نہ ڈائیلاگ کے ذریعے ،نہ کسی اور محنت کے ذریعے آیا ہے۔ اسلام کا ہر شعبہ محفوظ ہے تو اس کے پیچھے حصار اور اس کی حفاظت جہاد کے ذریعے ہے ۔جہاد اسلام کے دفاع کا نام ہے ۔جہاد اسلام کی عزت کا نام ہے۔ نبی کریم ﷺکی احادیث گواہ ہیں، حضور علیہ السلام کی جہادی زندگی گواہ ہے ،حضور علیہ السلام کی تلواریں گواہ ہیں ، گھر میں جب رسول اقدسﷺ کی وفات ہوئی حضور علیہ السلام کو حجرۂ اقدس میں رکھا گیا تو دیا جلانے کے لیے تیل مستعار لینا پڑا پڑوسیوں سے، دیا جب جلایا گیا تو رسول اکرم ﷺ کی دیوار پر نو تلواریں لٹک رہی ہیں اور امت کو دعوت دے رہی ہیں کہ تمہاری بقا اور اسلام کا دفاع جو ہے وہ اس جہاد میں ہے۔حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: اللہ نے میری روزی میرے نیزے کے نیچے رکھی ہے اورمسلمان کے لیے سب سے بہترین مال (مال ِ تجارت بھی نہیں بلکہ سب سے حلال مال) مالِ غنیمت ہے۔ اور رسول اقدس ﷺ نے اعلان کیا تھا کہ کافر کو مارواور مال ِ غنیمت لے آؤ، جو اس کو مار کے آئے گا وہ اس کے لیے ہے ۔تو یہ تو بہترین کمائی کا ذریعہ ہے اور حلال میں سے بھی سب سے بہترین حلال جو اللہ کو پسند ہے وہ مال غنیمت ہے تو ہم نے تو اس کا ایک نعرہ بھی بنایا ہوا ہے : کمائے گی دنیا اور کھائیں گےہم،ان شاء اللہ! مسلمان اگر اپنے ایمان پر قائم رہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا اور آخرت کی ساری نعمتیں ان کے لیے رکھی ہے ، اللہ نے فرمایا کہ مت سمجھو کہ ہم نے دنیا اس کافر کے لیے بنائی ہے ۔کون کہتا ہے کہ اللہ نے زیب و زینت کی چیزیں، دنیا کی خوبصورتی کی چیزیں کافر کے لیے بنائی ہیں؟کون کہتا ہےکہ یہ ایمان والوں کے لیے حرام ہیں؟ قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ هِيَ لِلَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا خَالِصَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ۝(سورۃ الاعراف:۳۲)

کہو کہ آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو ؟ کہو کہ : جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، یہ نعمتیں جو دنیوی زندگی میں ملی ہوئی ہیں، قیامت کے دن خالص انہی کے لیے ہوں گی۔

توجہاد کی نیت جو ہے وہ ہر حال میں رکھیے۔ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :

’’جو اس حال میں مرا اور اللہ کے ہاں گیا کہ نہ اس نے جہاد کیا اور نہ اس نے جہاد کی نیت کی تو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا (ایمان پر نہیں مرا) ۔‘‘

اور جس نے جہاد کی نیت سے گھوڑا بھی پالا تو قیامت کے دن جہاں اس کی نماز تولی جائے گی اس کا صدقہ اور اس کی زکوٰۃ تولی جائے گی، اس کا حج و عمرہ تولا جائے گا اسی حسنات کے پلڑے میں اسی نامۂ اعمال میں اسی ترازو میں اس گھوڑے کی گھاس، اس کی لید اس کا پیشاب بھی تولا جائے گا اور اس کے نامۂ اعمال میں رکھا جائے گا۔اس کا کھانا اس کا پینا اس کی لید اس کا پیشاب یہ چاروں چیزیں ترازو میں رکھی جائیں گی کہ ان کو نامۂ عمل میں نیکیوں کے ساتھ تولا جائے۔ تو ایک نیت جہاد کی ہمیشہ رکھیے اور دوسری نیت جہاد میں آپ کسی بھی انداز میں شریک ہوں اس کی نیت ضرور رکھیں ۔

دوسری بات وہی جو اس سے پہلے عرض کی ہے کہ اسلام کے خلاف، مسلمانوں کے خلاف ،جہاد کرنے والوں کے خلا ف جتنا پراپیگنڈا ہے اس سے متاثر مت ہوں ۔اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ یہ ہے کہ امن و خوف کی صورت حال میں تم اہل ایمان سے رجوع کرو، اہل تحقیق سے رجوع کرو اور کسی بھی پراپیگنڈے سے متاثر ہونے کے بجائے اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کو دیکھو۔ آخر میں ایک آیت پڑھ کر پھردعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُم؛ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رشتوں کی لمبی لائن گنوائی؛ کہہ دیجیے! تمہارے باپ ،تمہارے بیٹے ،تمہارے بھائی ،تمہاری بیویاں وَعَشِيرَتُكُمْ تمہارا خاندان وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وہ مال جس کو تم کما کما کے رکھتے ہو وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَاوہ خوبصورت محل جو تمہیں بہت محبوب ہیں،اپنے گھر جن کو تم بہت شوق سے بناتے ہو أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ تمہیں اللہ سے اللہ کے رسول سے اور جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں، اگر تمہیں زیادہ محبوب ہیں تو سن لو فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ پھر انتظار کرو اللہ کا عذاب تم پر اترا ہی چاہتا ہے ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو دین کی فکر کی توفیق نصیب فرمائےاور اسلام کا کلی غلبہ جو ہے وہ کس طرح آئے گا؟ ذریعہ اس کا صرف اور صرف قتال، صرف اور صرف جہاد ، صرف اور صرف مسلمان کا مضبوط ہونا ،مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق ہے اور اس کے ذریعہ جو خلافت قائم ہو گی وہی تمام مسائل کا حل ہے ۔یاد رکھیے! یہ فقہی مسئلہ ہے کہ ہر مسلمان پر خلافت کا قیام فرض ہے۔ انفرادی طور پر تگ و دو میں لگا رہے، کوشش میں لگا رہے۔ اس وقت تمام امتِ مسلمہ اجتماعی طور پر اس گناہ کی مرتکب ہے ،ہم سب گناہ گار ہیں اور اس پر ہم اللہ سے استغفار کرتے ہیں کہ ہمارے اپنے درمیان اتحاد و اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے اور جہاد کا رستہ چھوڑنے کی وجہ سے ہمارے سروں سےخلافت الٰہیہ،جو اللہ کے سائے کا نام ہے کہ خلیفہ اللہ کا سایہ ہوتا ہے زمین پر ، وہ ہم سے اٹھا ہے تو ہم تمام مسائل کا شکار ہیں؛ معیشت بھی ،معاشرت بھی ،خلافت بھی ،عادات بھی ، عبادات بھی ہر چیز ہم سے اسی وجہ سے چھین لی گئی کہ ہم اس گناہ کے مرتکب ہیں اور ہم استغفار کے ساتھ جب تک اس تگ و دو میں لگیں گے نہیں کسی بھی حوالے سے، جب تک ہم خلافت کے قیام کے لیے کسی نہ کسی کوشش میں لگیں گے نہیں ہم اس گناہ سے بری نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا اس کی فکر کرنی چاہیے کہ ہم کسی نہ کسی حوالے سے اقامت دین و خلافت اسلامیہ اور خلافت الٰہیہ کے قیام کے لیے ہم کسی طرح کی محنت میں کسی تحریک میں ہم شامل ہوں اللہ تبارک و تعالیٰ دین کے لیے ہماری جوانیوں کو ہماری صلاحیتوں کو ،ہماری عقلوں کو،ہمارے شعور کو، ہمارے جذبات کو قبول فرمائے۔

و آخر دعوانا ان الحمدللہ ربّ العالمین

تمت بالخیر


1 وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا ۭ وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ ترجمہ: ’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ (بس) وہ میری عبادت کریں، میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد بھی ناشکری کریں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔‘‘ (سورۃ النور: ۵۵)

2 سورۃ الفتح: ۲۸

3 هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۔ ترجمہ: ’’ وہ اللہ ہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا ہے، تاکہ اسے ہر دوسرے دین پر غالب کردے، چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی ناپسند ہو۔ ‘‘ (سورۃ التوبہ: ۳۳)

4 سورۃ الصف: ۹

Previous Post

شہدائے گیارہ ستمبر کا تعارف…… شیخ اسامہ بن لادن ﷬کی زبانی

Next Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | ستمبر 2020

Related Posts

موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | بتتیسواں درس

25 مئی 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | اکتیسواں درس

1 مئی 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | تیسواں درس

8 مارچ 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | انتیسواں درس

15 فروری 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | اٹھائیسواں درس

20 جنوری 2026
موت وما بعد الموت | چوبیسواں درس
آخرت

موت وما بعد الموت | ستائیسواں درس

4 نومبر 2025
Next Post

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوندزادہ نصرہ اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | ستمبر 2020

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version