یہاں درج فاضل لكهاريوں کے تمام افکارسے ’ادارہ نوائے غزوۂ ہند‘ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
مسلماں كا زوال |مفتی کفایت اللہ صاحب نے لكها
مسلمانوں کے زوال کی وجہ عبادات میں کمی نہیں بلکہ دنیاوی معاملات میں بے ایمانی اور اسلام کو عبادات تک محدود کرنا ہے۔
قادمون یا اقصی! | شیخ حامد کمال الدین صاحب نے لکھا
#بیت_المقدس کو حضرت عمرؓ کے بعد مسلمانوں نے دو بار فتح کیا (امام مہدی کے بغیر!!!) ۔ ایک بار صلاح الدین ایوبیؒ کی قیادت میں (جو کہ نہایت مشہور ہے)، دوسری بار رکن الدین بیبرس ؒ کی زیر سرکردگی(جو کہ زیادہ مشہور نہیں)۔
تیسری بار بھی ’’ایسے ہی‘‘فتح کرلیں تو بڑی بات نہیں، اور یہی قوی تر ہے ان شاء اللہ!
لاتوں کے بھوت……| فیض اللہ خان نے لکھا
انیس سال پہلے جب آپ لاؤ لشکر کے ساتھ افغانستان پہ چڑھائی کرنے آرہے تھے تو امارت اسلامیہ نے کہا تھا بات کرلیتے ہیں لیکن طاقت کا بھی الگ ہی زعم ہوتا ہے تو انہیں خاک نشیں، وحشی، جاہل، اجڈ قرار دے کر جنگ کو ترجیح دی ، آج انہی سے بات کر رہے ہیں عزت دے رہے ہیں۔
جنہیں گوانتاناموبے کے پنجروں میں رکھا گیا وہی مذاکراتی وفد کا حصہ تھے۔ امریکہ نے اپنی تاریخ کی مہنگی ترین جنگ لڑی۔ شہری و فوجی قتل کرائے۔ کروڑوں انسانوں کو بےگھر کیا بشری حقوق پامال ہوئے کئی ممالک کھنڈر ہو گئے …… (تب جا کر بات سمجھ میں آئی)!
یاد دہانی | ڈاکٹر رضوان اسد خان نے لکھا
اسلام تلوار کے زور پر پھیلا؟
جی بالکل…… بطور نظام……نہ کہ بطور ایمان!
بالکل ویسے ہی جیسے آج کل امریکہ اپنے دین لبرل ازم اور ڈیموکریسی کو بموں کے زور پر پھیلا رہا ہے۔1
جارج بش نے ۲۰۰۴ء میں کہا تھا کہ ’’آزادی‘‘خدا کی طرف سے اس کرۂ ارض پر بسنے والے ہر مرد و عورت کے لیے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ اس ’’آزادی‘‘کو پھیلانے میں مدد کریں……!!!
اب یہاں ’’آزادی‘‘سے جو آزادی مراد ہے، اگرچہ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں، لیکن پھر بھی بتائے دیتے ہیں کہ اس سے مراد اصل میں ’’اسلام‘‘سے آزادی ہے……!!!
یاعمر !عدلت فامنت فنمت | زبیر منصوری نے لکھا
وہ سینکڑوں میل کا طویل سفر طے کر کے اُس بستی میں پہنچے تھے !ان کے لباس اور گھوڑے بتاتے تھے کہ وہ کسی بڑے بادشاہ کے بھیجے ہوئے سفیر ہیں اور تحفے بتاتے تھے کہ ان کا بادشاہ اس سے مرعوب تھا جس کے پاس وہ بھیجے گئے تھے۔
اُس کھجوروں والی سرزمین پر پہنچ کر انہوں نے ایک صحرا نشین سے پوچھا ’تمہارے بادشاہ کا محل کس طرف ہے؟‘۔’بادشاہ؟‘’محل؟‘اس کے لیے یہ دونوں ہی لفظ اجنبی تھے!
مگر مسافروں کو اجنبی جان کر اس نے اشارہ کیا۔ اُدھر چلے جاؤ وہیں خلیفہ کا گھر ہے ۔ وہ قریب پہنچے تو اس کچے اور دربان سے محروم کھلے دروازے والے گھر کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔پتہ چلا بیت المال کے کچھ اونٹ صحرا میں کہیں اِدھر اُدھر ہو گئے ہیں، خلیفہ انہیں تلاش کرنے نکلا ہے اُدھر ہی کہیں ڈھونڈ لو۔
خطۂ زمین کا سب سے طاقتور انسان۔لاکھوں میل زمین اور دسیوں ملکوں کا سکندر اعظم سے بڑا فاتح۔ دنیا کو کئی نئے سسٹمز (systems)دینے والا انسان۔عمر……!(اللہ جس سے راضی ہوا)۔
بیت المال کے اونٹ……تنہا……تپتاصحرا…… سفیر جس کیفیت سے گزرے اس کے لیے حیرانگی چھوٹا لفظ تھا!
تلاش کو نکلا۔
صحرا نوردی شروع کی تو دیکھا دُوووور ایک شخص ایک درخت کے سائے میں لیٹا ہوا ہے اور دُوور دُووور تک کوئی دوسرا بندہ بشر نہیں ،قریب ہوئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے اینٹ کو تکیہ بنائے اس عرب و عجم کے ’شہنشاہ‘ کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا ہے اور وہ سکون سے پیوند لگے کپڑے پہنے سویا ہوا ہے۔’’مدینہ کی سپر پاور ریاست ‘‘کا وہ حکمران نہ جانے کتنی دیر سے اونٹوں کو تلاش کرتے کرتے تھک جو گیا ہو گا……!
وہ سفیر بے اختیار بول اُٹھے:’’یاعمر !عدلت فامنت فنمت……‘‘
’’عمر تم نے عدل کیا اسی لیے محفوظ و مامون ہواور سکون کی نیند سو رہے ہو، ہمارے بادشاہ ظلم کرتے ہیں اس لیے انہیں سخت پہروں میں بھی نیند نہیں آتی!‘‘
٭٭٭٭٭
1 فاضل لکھاری کا مقصد ’عسکریت‘ کی طرف اشارہ ہے ورنہ تمام عالَم شاہد ہے کہ آج دینِ لبرل ازم و ڈیموکریسی محض ’عسکریت‘ (جو اخلاق کے بنا ہو تو ظلم و جبر کہلاتی ہے) کے ذریعے نہیں بلکہ ظلم و عدوان کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے اور اسلام ’عسکریت‘ یعنی جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے پھیلا، وہ جہاد جس کا لائحہ و قانون اور ضابطۂ اخلاق خود اللہ ربّ العالمین، الرحمٰن و الرحیم کا عطا کردہ ہے۔ (ادارہ)


![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.site/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



